Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 12)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 12)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
اپکو اگر اپنی امی کے گھر جانا ہو تو کل تیار ہو جانا میں چھوڑ آؤنگا۔وہ جو ابھی عشاء کی نماز پڑھ اٹھی تھی اس کی بات پر چونکی۔
جی لیکن آپ نے ہی تو کہا کہ ماما میرے جانے سے اکیلی ہو جائے گیں اس نے ہلکے سے کہا۔
تو اب میں ہی کہہ رہا ہوں نہ اور آپ نے کونسا وہاں گھر بسانا ایک یا دو دن میں آجانا۔اسکی طرف دیکھ کر کہا۔
جی اچھا۔اس سر ہلایا۔
اور آپ نے شاپنگ پر کب جانا ہے۔اگلا سوال کیا گیا۔
مجھے شاپنگ کرنی نہیں آتی اور اگر کچھ لائی اور ان لوگوں اچھا نہیں لگا تو۔اس نے پریشانی بیان کی۔
تحفے کیسے ہیں کیسے نہیں یہ زیادہ وہاں دیکھا نہیں جاتا بلکہ کتنے خلوص سے دیا ہے یہ دیکھا جاتا ہے۔اس نے آنکھوں پر بازو رکھ کر کہا۔
ہاں لیکن تفحہ اگر اچھا ہو تو دل کو خوشی ہوتی ہے۔اس نے بالوں کی چوٹی کھولتے ہوئے کہا۔
اگر دل سے لیں گے تو انشا اللہ اچھا ہی لیں گے۔اس نے بازو ہٹا کر اسے دیکھا تو نظر اس کے بالوں پر ٹہر گئی۔
کیا ہوا۔حصیفہ نے اسے بالوں تکتا پایا تو کہا۔
آپ اپنے بال نہیں کرواتی کیا۔؟اس نے پوچھا۔
نہیں .مختصر جواب آیا۔
کیوں؟بے تکا سوال تھا۔
مجھے لمبے اچھے لگتے ہیں اگر اپکو نہیں پسند تو میں کٹوا لوں گی۔اس نے فورا کہا۔
(یار مت کٹواو نا بال مجھے لمبے بال اچھے لگتے ہیں۔منہ بنا کر کہا گیا۔
مجھ سے نہیں سنبھالے جاتے یہ اتنے بڑے بڑے جھالر اب تمھارے لیے میں اپنے شوق مار دوں۔چڑا ہوا لہجہ تھا۔
یار تم میرے لیے اتنا نہیں کر سکتی۔اس نے آس بھرے لہجے میں کہا
اب یہ تمھاری بے جا خواہشات پوری کروں حد ہے ۔بیزاری لہجہ
یہ بے جا خواہشات تو نہیں دیکھو ںا تمھارے بال لمبے کتنے اچھے لگتے ہیں۔بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔
پر مجھے نہیں پسند اور نہ میں انہیں بڑھائے رکھوں گی بات ختم۔حتمی انداز میں کہا گیا(
ابقار۔حصیفہ کے پکار نے پر وہ حال میں لوٹا۔
جی۔سوالیہ نظروں سے دیکھا
کیا اپکو چھوٹے بال پسند ہیں۔اس نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں آپکے بال بہت پیارے ہیں اور انہیں کٹوانا مت۔کہتے ہوئے حکم بھی صادر کیا
جی۔اس نے سر ہلا دیا
!”؛”؛؛”٫
گیلی سڑک پر وہ بھاگتا ہی جا رہا تھا چہرہ دیکھ کر ایسے لگتا تھا جیسا پیچھے پتا نہیں کیا خوفناک چیز دیکھ کر آیا ہو
اہہہ۔ایک دم راہ میں پتھر آگیا جو پیر میں ایسا لگتا تھا جیسے گھس گیا۔درد کی شدت تھی جو اسنے آنکھیں میچ لیں۔
آبی۔شناسا آواز میں بہت محبت سے پکارا گیا تھا۔
پری تم ۔اس نے آنکھیں کھول کر حیرانگی سے اسے دیکھا وہی چمکتی آنکھیں جسے چھونے کا اسے اشتیاق ہے وہی حجاب کے پیچھے چھپا ہوا چہرا جسے دیکھنے کی چاہ اسے شدت سے ہے
جی میں آپ یہاں ایسے کیوں بیٹھے ہیں ۔لہجے میں پریشانی تھی
ت۔تم کہاں چلی گئی تھیں میں نے تمہیں بہت تلاش کیا میں بہت رویا تمہاری تلاش میں۔اس نے شکوہ کناں نظروں سے دیکھا
میں تو آپکے آس پاس ہی تھی آپ دل سے تلاش تو کرتے۔وہی مسکراتی آنکھوں سے کہا۔
اب مت جانا سمجھی میں بہت ادھورا ہوں تمھارے بغیر۔اس نے تکلیف کے باوجود اسے اپنے اندر بھینچ لیا۔
نہیں جانا اب کہیں بھی کہیں نہیں جانا میرے پاس رہنا ہمیشہ۔گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔
ابقارررر اٹھیں آبی یا اللہ۔حصیفہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تو فوراً آنکھیں کھول دیں۔
آبی آپ ٹھیک تو ہیں۔اس نے اسے جھنجھوڑ دیا
پری۔اس نے آنکھیں کھول اسے دیکھا
جی۔حصیفہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
کچھ نہیں۔نفی میں سر ہلاتا اٹھ بیٹھا
پانی کی پی لیں تھوڑا سا۔سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں بھر کر دیا۔
ویسے بیوی کے ہوتے ہوئے غیر محرم لڑکیوں کو دیکھنا گناہ ہے۔اس نے منہ بنا کر کہا۔
جی آپ مجھے دیکھ لیا کریں خواب میں میں نہیں چاہتی کہ آپ اپنے خواب میں غیر محرم لڑکیوں کو دیکھیں اور گنہگار ہوں۔اس نے معصومیت سے کہا
کہاں سے لاتی ہیں یہ باتیں آپ ۔اس نے ابرو آچکا کر کہا۔
ڈائریکٹ دل سے۔اس نے مزے سے کہا۔
زیادہ دل سے مت بولا کریں تھوڑا آرام بھی دیا کریں اسے۔کہتا ہوا پھر لیٹ گیا۔
آپ کر لیا کریں پھر ایسی باتیں۔اس نے منہ بسور کر کہا
حصیفہ لائٹ بند کریں اور سوجائیں۔اس نے چڑ کا کہا۔
جی اچھا۔منہ بناتے ہوئے لائٹ بند کر کہ خود بھی دراز ہو گئی۔
آبی۔کمرے میں پھر اواز گونجی۔
جی۔۔۔۔لمبا کھینچا
لڑکی کون تھی کیا زیادہ پیاری تھی۔لہجے میں تجسس تھا
اگلی بار اگر خواب میں آئی تو آپ سے ضرور ملواؤں گا اب سو جائیں اور مجھے بھی سونے دیں۔ایک پل کو ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی لیکن اگلے ہی پل چڑی ہوئی آواز ائی۔
پھر اس نے کچھ نہ کہا
___________
تو میری زیست کا اہم جزو ہے
اور ہم اس سے ہی سرخرو ہیں
تیرا زندگی میں آنا معجزہ ہے ایسا
کہ ہمیں اپنی زندگی خاص لگنے لگی ہے
تیرا نظروں سے اوجھل ہونا سوہان روح ہے
کہ ہمیں تیری دید کی عادت ہو گئی ہے
تیرے لب خاموش ہوں تو جیسے ویران ہو جہاں
ک weہ تیری صدا سے میری زندگی آباد ہو گئی ہے
@#$$$____&
رات دھیرے دھیرے اپنی چادر پورے آسمان پر پھیلا رہی تھی کائنات کی ہر شے اپنے پاس ایک راز اور پیغام رکھتی ہے سورج غروب ہونے کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دیتا ہوا جا رہا تھا کہ کوئی شہ ہمیشہ نہیں رہتی ہر چیز کو زوال ہے سوائے اس پاک ذات کہ۔وہ پرندے جو دن کہ اجالے میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے تھے اب وہ بھی اپنے ساتھیوں کا ساتھ پا کر اپنی منزل کی طرف جا رہے تھے یہ بھی علامت ہے کہ اللہ کبھی کسی کو زیادہ بھٹکا کر نہیں رکھتا ہر مخلوق کو اسکی منزل مل جاتی ہے دیر ہو جانا بس ایک آزمائش ہے لیکن اللہ سب کو انکی منزلیں دکھا دیتا ہے ۔
##$__
ایک دن کے بعد ابقار آج حصیفہ کو لینے لیکن جس حساب سے وہ کھانے کے بعد بھی منتہی سے باتیں کرنے میں مصروف تھی اور اسکی باتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
اچھا انکل اب ہمیں چلنا چاہیئے رات بھی ہو رہی ہے ماما بابا انتظار کر رہے ہونگے چلیں حصیفہ۔اس نے ان اجازت کے بعد حصیفہ کو متوجہ کیا۔
ج۔۔جی چلیں میں اپنا سامان لے کر آتی ہوں ۔ بوجھل دل سے کہتے ہوئے اٹھی اور کمرے کی طرف چل دی دل تو بلکل نہیں چاہ رہا تھا جانے کو ایک مہینہ بعد اپنے گھر اپنے ماں باپ کے گھر آئی تھی
وہ واش روم کہاں ہے۔اس نے حماد سے پوچھا
وہ جس کمرے میں آپی گئی ہیں نہ وہیں چلے جائیں ۔حماد کے بجائے منتہی نے جواب دیا
وہ کمرے میں داخل ہوا تو حصیفہ اپنی کچھ چیزیں جو اسے امی نے دیں تھیں وہ بے دلی سے رکھ رہی تھی۔
کیا ہوا کچھ چاہیئے اپکو ۔اس نے اسے چونک کر دیکھا پھر پوچھا
ہمم ۔کہتے ہی واش روم کی اور قدم بڑھائے
ا۔۔اگر ا۔اپکی اجازت ہو تو کیا میں ایک دن اور رک جاؤں۔تھوڑا جھجھکتے اور دوڑتے ہوئے پوچھا
ایک دن کے لیے کیوں ساری زندگی کے لیے یہیں رک جائیں میں ماما کو کہہ دوں گا کہ آپکی پیاری بہو کا آنے کا دل نہیں چاہ اپنے گھر سے۔ہلکی آواز میں طنزیہ انداز میں کہا
م۔۔میرا وہ مطلب نہیں تھا وہ بس اتنے دنوں بعد آئی تھی اسی لیے کہہ دیا میں تیار ہوں چلیں ۔وہ تو ڈر ہی گئی اس نے ایسا تو کچھ نہیں کہا تھا۔
جی آپ باہر چلیں میں آرہا ہوں ۔گہری نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
اس کے وہ سب سے مل کر چلی گئی
##$__$$$#
ماما آپ اکیلے کیسے رہے گیں بابا بھی ان کی وجہ سے لیٹ آیا کریں گے ہم پھر کبھی چلیں جائیں گے نہ ۔حصیفہ نے چائے کا آپ لیتے ہوئے کہا
کل ان لوگوں کی شام کی فلائٹ تھی ساری پیکنگ مکمل تھی وہاں پندرہ دن کا قیام تھا جس پر ابقار بہت بگڑا تھا کہ میں اتنے دن کے لیے نہیں جاؤں گا لیکن پھر حلیمہ بیگم اور مبین صاحب تھوڑا ڈانٹ ڈپٹ کے بعد اسے راضی کر لیا
بیٹا آپ بے فکر رہو میں جلدی آجایا کروں گا۔انہوں نے اسے مسکرا کر کہا
ہاں ہمیں بالکل فکر نہیں ہے بابا ہمیں معلوم ہے کہ آپ ماما کہ ساتھ آرام سے ٹائم گزارنا چاہتے ہیں تبھی ہمیں بھگا رہے ہیں ۔ابقار نے کافی کا سپ لیتے ہوئے شرارت سے کہا
تو کیا ہوا بھئی ہم میاں بیوی ہیں اور آپ لوگ وہاں انجوائے کرنا ہم یہاں کریں گے کیوں بیگم۔ انہوں بھی مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے حلیمہ بیگم سے داد چاہی
کیا آپ بھی بہو اور بیٹے کے سامنے فضول باتیں لے بیٹھ گئے۔انہوں انہیں گھورا
ارے ماما شرمائیں تو مت بابا بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔حصیفہ نے ہنستے ہوئے کہا
دیکھا میری بیٹی کتنی سمجھدار ہے ۔انہوں نے بھی ہنس کر کہا
چلو بھئی اب رات ہو گئی ہے آپ دونوں بھی اپنے کمرے میں جاؤ پھر شام کی فلائٹ ہے تو یہاں سے بھی جلدی ہی نکلنا پڑے گا
بابا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ ہم ٹرین سے چلے جاتے بائے ایئر جانے میں بس آدھا ایک گھنٹہ لگے گا اور وہ مزہ بھی نہیں آئے گا سفر کا آتا ہے۔ حصیفہ نے کچھ سوچ کر کہا
ٹرین میں جانے میں مزہ تو شاید نا آئے لیکن آپ تنگ ضرور ہو جائیں گی کیوں کہ ٹرین میں اکثر کچھ عجیب لوگ بھی ہوتے ہیں اور پھر کبھی حالات کا بھی علم نہیں ہوتا کب خراب ہوں تو بائے ائیر جانا تھوڑا سیف رہتا ہے۔جواب مبین صاحب کے بجائے ابقار نے دیا تھا
ہمم ٹھیک کہہ رہا آبی اسی میں نے آپکی فلائٹ بک کرائی۔مبین صاحب نے آبی کی بات کی تائید کی ۔
پھر تھوڑی دیر اور بات کر کہ دونوں کپل اپنے اپنے روم میں چلے گئے۔
+$+$+$+$
روم میں آتے ہی ابقار تو اپنے من پسند کام میں لگ گیا جبکہ حصیفہ نماز پڑھنے کے وضو کرنے چلی گئی۔
ابقار کی نظر باربار بھٹک کر حصیفہ پر جا رہی تھی
کیا انہیں میری آنکھوں کی تپش بھی محسوس نہیں ہورہی)اس نے سوچا
حصیفہ بہت انہماک سے نماز ادا کر رہی تھی وہ نماز پڑھتے ٹائم دنیا جہاں سے بے خبر ہوتی تھی اور ابقار کے لاکھ گھور گھور کے دیکھنے پر بھی اسکی نماز میں خلل نہ ہوتا تھا جو اللہ سے اپنے رابطے مضبوط کر لیتے ہیں اور جب اللہ کی عبادت کر رہے ہوتے ہیں تو انہیں دنیا جہاں کی خبر کہاں رہتی ہے وہ تو بس اپنے مالک کو راضی کرنے میں جٹے ہوتے ہیں ۔
حصیفہ نے نماز کے بعد دعا مانگ کر ہاتھ پھیرا وہ دعا بھی بڑی لمبی کرتی تھی ۔اور جائے نماز تہے کر کہ ریک پر رکھ دی
ایک بات تو بتائیں ۔ابقار نے اسے مخاطب کیا جو اب دوپٹا چہرے کے گرد سے ڈھیلا کر کہ اسے ٹھیک کر رہی تھی۔
جی پوچھیں۔اس نے ابقار کی طرف دیکھا
ایسی کونسی لسٹ ہے جو روز اللہ سے دعاؤں میں مانگتی ہیں۔اسکا اشارہ اسکی لمبی دعائیں مانگنے پر تھا
مطلب میں سمجھی نہیں ۔حصیفہ نے اسے نا سمجھی سے دیکھا
مطلب یہ کہ آپ نماز کے بعد اتنی لمبی دعا کرتی ہیں ایسا کیا کیا مانگتیں ہیں ۔اس نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا
یہ میرے اور اللہ کے درمیان راز میں اپکو نہیں بتا سکتی لیکن نماز کے بعد لمبی دعا مانگنی چاہیے ۔اس نے مسکرا کر کہا
اچھااا۔ایک اور بات پوچھوں ۔اس نے پھر پوچھا
جی پوچھیں ۔اس نے سر ہلایا ۔
کیا اپکو نماز پڑھتے ہوئے کسی چیز کی خبر نہیں رہتی۔عجیب سوال تھا یا یہ کہنا بہتر ہے پوچھنے والے کو عجیب لگا۔
ہاں کیوں کہ میرا دل اور دماغ دونوں ہی نماز پڑھنے میں لگا ہوتا ہے کیونکہ اگر دھیان تھوڑا بھی بھٹکے تو آیت پڑھنے میں خلل ہوتا ہے اور کوئی آیت ہم سے غلط ادا ہو جائے تو پوری نماز غلط ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔اب وہ شیشے کے سامنے جا کر اپنے چٹیا کے بل کھول رہی تھی
کیا ہمیشہ سے آپ ایسے ہی مشغول ہو کر نماز ادا کرتی ہیں ۔ایک اور سوال
نہیں میں ہمیشہ سے ایسے نماز ادا نہیں کرتی تھی جب میں نے نماز پڑھنا ریگولر سٹارٹ کی تو نماز پڑھتے ہوئے سارے عجیب و غریب ج
خیال ڈھاوا بول دیتے تھے جس سے نماز پڑھنا مشکل ہو جاتا تھا ایسا لگتا تھا جیسے آیت پڑھنے میں غلطیاں ہو رہی ہیں اور اکثر تو ایسا ہوتا تھا کہ میں دوبارہ نیت باندھ لیا کرتی تھی۔اس نے مسکرا کر کہا اب آہستہ آہستہ سر میں
کنگا کر رہی تھی
پھر ایسا کیا ہوا پھر۔ابقار نے پھر تجسس سے پوچھا۔
دیکھیں یہ تو سب شیطان کرتا ہے ہمارے ساتھ لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ اسکے ہر ارادے کو ناکام بنائیں اور جب تک ہم یہ ارادہ نہ باندھ لیں کہ ہمیں شیطان کو اسکے ارادوں میں مات دے اللہ کو راضی کرنا ہے تو ہم تب تک ہم کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔اب وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ابقار کی طرف آئی جو کاوچ پر بیٹھا تھا اسکے برابر میں جگہ خالی تھی تو بڑے استحقاق سے وہاں بیٹھ گئی۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم نماز تو پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں پھر بھی سکون نہیں ملتا پتا ہے کیوں۔اس نے اسکی براؤن جانب میں جھانکا
کیوں ؟بے اختیار کہا
کیونکہ ہم صرف نماز فرض سمجھ پڑھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ہمیں نماز اللہ کو راضی کرنے کے اپنے گنہاہوں کی سچے دل معافی مانگنے کے لیے پڑھنی چاہیے پتا ہے کیا ہم نماز پڑھ لیتے ہیں چاہے کیسی بھی پڑھیں اور یہ کہہ دیتے ہیں اللہ قبول کرنے والا اور پھر اپنی نماز ہی ٹھیک کرنے کی تگ و دو نہیں کرتے اسی لیے ہم نماز پڑھ کر بھی سکون میں نہیں رہتے اور اللہ کو راضی بھی نہیں کر پاتے اسی لیے ہمیں اپنی زندگی میں سکون لانے کے ہر کام کو ٹھیک طرح کرنے کی تگ و دو کرنی ہیں تاکہ ہم شیطان کو اسکے ارادے میں ناکام کر سکیں ۔اور ہم قیامت کے دن سرخرو ہو سکیں اور ہماری تو قبر میں بھی نماز کے حوالے سے سوال کیا جائے کہ آیا ہم کس طرح نماز ادا کی فرض کے طور پر یا اللہ کو راضی کرنے کے لیے تو کیا ہم اس سوال کا جواب دیں پائیں گے۔بات کے اختتام پر ہاتھ بڑھا کر ابقار کے پیشانی پر بکھرے بال انگلیوں پوروں سے سمیٹے ۔
آپکے بال بہت اچھے سلکی سلکی ںرم نرم سے۔اس نے ہنس کر کہا
اور آپ بہت اچھی ہیں۔بے اختیار ہوکر اسکا چہرہ تھاما اور اپنی محبت کی شروعات کی پہلی مہر اسکے ماتھے پر ثبت کردی
شہزادہ کو اسکی پری مل گئی تھی جس سے اسکی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں بھر گئیں تھیں۔
اب یہ کہانی کونسا موڑ لے گی کیا یہ جوڑی ہمیشہ بنی رہے گی یا پھر شہزادے کی خوشیاں پھر مختصر ہیں۔
