Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Last updated: 4 May 2026
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 01)Tu Sakoon e Rooh (Episode 02)Tu Sakoon e Rooh (Episode 03)Tu Sakoon e Rooh (Episode 04)Tu Sakoon e Rooh (Episode 05)Tu Sakoon e Rooh (Episode 06)Tu Sakoon e Rooh (Episode 07)Tu Sakoon e Rooh (Episode 08)Tu Sakoon e Rooh (Episode 09)Tu Sakoon e Rooh (Episode 10)Tu Sakoon e Rooh (Episode 11)Tu Sakoon e Rooh (Episode 12)Tu Sakoon e Rooh (Episode 13)Tu Sakoon e Rooh (Episode 14,15)Tu Sakoon e Rooh (Episode 16)Tu Sakoon e Rooh (Episode 17)Tu Sakoon e Rooh (Episode 18)Tu Sakoon e Rooh (Last Episode)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
زندگی کا پہیہ معمول کے مطابق چل رہا تھا لیکن اسکی زندگی اج بھی اس ایک لمحے میں اٹک کر رہ گئی جس لمحے میں اسکی ذات سے جڑے دو انسانوں نے اسکی روح کو زخمی کر دیا تھا دن کی روشنی میں مضبوط دکھنے والا انسان رات کی تاریکی میں کسی معصوم بچے کی طرح تڑپ تڑپ کر روتا تھا اور یہ آنسو اسکے دل پر گرتے تھے آنکھوں سے نہیں بہتے تھے آنکھوں سے آنسوں بہنے کا سلسلہ تو ایک عرصہ ہوا ختم ہوچکا تھا اور جو اسکے آنسوں اسکے دل پر گرتے تھے ان کی وجہ سے روح کے زخموں سے خون رسنے لگتا تھا۔اور یہ اندر ہی اندر سارے احساسات و جذبات کو بھی منجمد کر رہا تھا۔
کیوں کیا تم نے آخر میرے ساتھ ایسا کیا مل گیا تمھیں مجھے برباد کر کہ مجھے دھوکہ دے کر۔اس وقت بھی وہ وہی سوال کر رہا تھا جو وہ اس انسان سے روز کرتا جسے شاید اس کی تڑپ کا احساس ہی نہیں۔
کونسی کمی رہ گئی تھی میری محبت میری قربت میں میرے اعتبار میں میرے مان میں جو تمھارا مجھ سے دل بھر گیا ت۔۔تم تو مجھ سے محبت کرتی تھی نہ پھ۔۔پھر پھر کیوں مجھے تڑپنے کے لیے چھوڑ گئیں۔اس نے اپنے بال اپنی مٹھیوں میں جکڑ لیے اور زور سے سر پیچھے دیوار پر مارا۔
میرا دل بھر گیا تھا تم سے مجھے تم سے کبھی محبت تھی ہی نہیں تم ہی تھے جو میرے پاگل تھے۔سامنے کھڑا عکس استہزایہہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے کہہ رہا تھا۔
صحیح کہا میں ہی پاگل تھا جو اندھا ہوگیا تھا تمھاری محبت اور صرف تمھاری وجہ مجھے دوستی جیسی خوبصورت رشتے سے بھی نفرت ہوگئی ختم کر گئی تم سب ختم کر گئیں جاؤ دفاع ہو جاؤ یہاں سے میرے دماغ سے اور سکون دے دو مجھے خود سے نجات دے دو۔اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے واس کو کھینچ کر سامنے کھڑے عکس کو مرمارا اور وہ عکس غائب ہوگیا۔
روز یہ عکس اسکے سامنے اسکی محبت کا مذاق اڑاتا تھا۔
آج حصیفہ کی چھٹی تھی ہفتہ اور اتوار اسکی چھٹی ہوا کرتی تھی۔اور اسکے یہ دو دن مصروفیت میں ہی نکل جاتے تھے حصیفہ سے تھوڑے عرصے پہلے محلے کے چھوٹے بچوں کو مدرسہ اور ٹیوشن پڑھانا شروع کیا تھا۔اور یہ مشورہ زیبا بیگم کا تھا انکا اصل مقصد منتہہ سے کام کرانا تھا ورنہ وہ کام چور بی بی ہر کام حصیفہ کے ذمہ لگا دیتی تھیں۔
زمان صاحب کی ایک جنرل سٹور تھا۔اور وہ اکثر دوپہر کا کھانے گھر ہی آتے تھے۔ابھی بھی دوپہر کا کھانا کھایا جا رہا تھا۔
زمان صاحب اب بڑی بیٹی خیر سے شادی کے لائق ہو گئی ہے کل کلا کو کہیں اچھے گھر سے رشتہ آگیا تو شادی بھی ہونی ہے کچھ سوچا ہے اس بارے میں یا نہیں۔زیبا بیگم نے فکریہ لہجے میں کہا۔
زیبا بیگم تم فکر نا کرو میں نے اپنے تینوں بچوں کے لیے پیسا جمع رکھا ہے اور آگے جو اللہ انکے نصیب میں رکھا ہوگا کے جائے گیں۔انہوں مطمئن لہجے میں کہا۔
اللہ بس ہمارے بچوں کے نصیب اچھے کرے آمین۔زمان صاحب نے صدق دل سے دعا کی۔
منتہہ رکھ اسے اور کھانا کھا لے کہیں جا رہا تیرا یہ کرم جلا کتنی بار کہا ہے کھانے کھاتے ٹائم اس سے مت کھیلا کر لیکن تمھاری سمجھ سے باہر ہے بات اگر اب میں نے اسے تیرے کھانے ٹائم دیکھا آگ میں جھونک دوں گیں اس کو۔زیبا بیگم کی توپوں کا رخ ہوا منتہہ کی طرف جو کہ موبائل زیادہ مصروف تھی اور کھانا کم کھا رہی تھی۔
امی کیا ہے کھا تو رہی ہوں کھانا اور کیسے کھاؤں اپ تو ہر وقت مجھے ہی کہتی رہتی ہیں۔اس نے منہ بسور کہ کہا اسکے اپنے لاڈلے کے بارے میں اماں کے خیالات برے لگتے تھے۔
دیکھ رہو اسکی زبان کیسے قینچی کی طرح چل رہی ہے اسی دن کی وجہ سے میں کہتی تھی یہ بلا اس کے ہاتھ میں مت دو اب دیکھ لو اس کی زبان۔زیبا بیگم تو بگڑ ہی گئیں۔
حالانکہ بیچاری منتہہ نے ایسا بھی کچھ نہیں کہا تھا۔
امی میں کب چلائی زبان۔منتہہ نے بوکھلا کر کہا۔
نہیں پھول برسارہی تھیں تم۔اماں نے گھور کر کہا۔
ابھی منتہہ کچھ کہتی کہ باہر دروازہ بجنے کی آواز ائی۔
جا اٹھ کر کھول۔انہوں نے منتہہ سے کہا۔
میں کھول دیتی ہوں تم بیٹھو۔منتہہ جو کیچن سے آرہی تھی منتہہ کو منع کر کہ گیٹ کھونے چلی گئی۔
اسلام و علیکم خالہ کیسی ہیں آپ۔حصیفہ نے ایک ادھیڑ عمر خاتون کو سلام کیا۔
وعلیکم السلام بیٹا جیتی رہو میں اللہ کا شکر ٹھیک ہوں تم کیسی ہوں۔انہوں اندر آکر اسکے سر پر ہاتھ رکھ کہا
الحمدللہ میں بھی ٹھیک ہوں کافی ٹائم بعد آئی ہیں آپ طبعیت تو ٹھیک تھی نہ آپکی۔اس نے انکے کافی دن بعد آنے پر استفسار کیا۔
ہاں بیٹا بس نائلہ اور نائمہ آئی ہوئی تھیں رکنے اور آج کل جوڑوں میں بھی درد رہتا اس لیے آ نہیں پائی۔انہوں نے صحن میں پڑے تخت پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
ایسا کرو تم اپنی ماں کو یہی بھیج دو۔انہوں نے کہا۔
جی اچھا بھیجتی ہوں۔
کون تھا بیٹا۔زیبا بیگم نے اسکے اندر آنے پر پوچھا۔
امی محلے والی ذیدہ خالہ آئی ہیں باہر تخت پر بیٹھی ہیں اپکو بلا رہی ہیں۔اس نے تفصیل دی۔
اچھا میں آرہی ہوں کافی بعد آئی ہے ذیدہ۔وہ کہتی ہوئی اٹھی اور صحن کی طرف چل دیں
اور منتہہ تم یار کچن میں کھانے کے برتن ہوگیں دھو لینا کیونکہ ابھی بچے آنے والے ہونگے مدرسے کے میں زرا وضو کر کہ نماز پڑھ لوں۔حصیفہ نے کھانا کھاتی منتہہ سے کہا۔
جی آپی میں دھو لوں گی اپ جائیں۔اس نے مسکرا کے کہا۔
