Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Sakoon e Rooh (Episode 05)

Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan

اسلام وعلیکم۔ماہنور نے مسکرا کہ سلام کیا۔

جسکا سب نے جواب دیا۔

میں جو ٹوپک بیان کرنے جا رہی ہوں وہ صبر کا ہے جو آج کل ہم میں بہت کم رہ گیا ہے اور اسی وجہ سے ہم نقصان بھی اٹھا رہے ہیں۔

جب ہم کسی چیز کے طالب ہوتے ہیں اور وہ اللہ سے مانگتے ہیں لیکن وہ ہمیں نہیں ملتی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ ہماری دعائیں رد کر دیتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی ان دعاؤں کے قبول ہونے کا صحیح وقت نہیں اور ہمیں صبر کرنا ہے۔ اور جب ہماری دعائیں قبولیت پا لیں گی انشاللہ بہت احسن طریقہ ہمیں ملے گی۔

اور یہ صبر ہمیں نفس کے پر قابو کرنا بھی سیکھاتا ہے جس سے ہم بہت سے گناہوں سے بھی بچ جاتے ہیں۔

اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اور اللہ کو صابرین لوگ بہت پسند ہیں۔

اللہ نے قرآن مجید میں بھی فرمایا ہے کہ۔

بے شک انسان خسارے میں ہے کیونکہ وہ صبر نہیں کرتا اور کامیاب ہے وہ شخص جس نے صبر کیا اور حق پر ہو۔

اللہ نے صبر کرنے والوں کے لیے بہت برا انعام رکھا جو آخرت میں ہمیں ملے گا۔ وہ انعام بے شک بہت حسین ہے۔

اللہ جب آزمائش دے تو ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں ثابت قدم رکھے۔

اسکی کے ساتھ اپنی بات کا اختتام کرتی ہوں۔

امید ہے یہاں آکر بہت کچھ نہیں تو تھوڑا ضرور سیکھنے کو ملے گا۔

اس کے بعد ہیڈ اوف سٹاف نے چھوٹی سی تقریر کی۔

اسلام وعلیکم امید ہے سب خیریت سے ہونگے امید ہے آج کی محفل اپکو پسند آئے گی۔اور اگر کوئی بچی یا بچیاں عورتیں ایسی ہیں جو جو قرآن اور اسلام کی تعلیمات حاصل کرنا چاہتی ہیں تو ہمارے مدرسے میں آئے۔

پھر محفل کا اختتام ہو گیا۔زنیرہ نے ابقار کو کال کر دی تھی اور وہ تھوڑی دیر میں ہی آگیا تھا۔اب وہ گھر کی طرف روانہ ہوئے۔

ویسے کتنی زبردست محفل تھی نہ ماما قسم سے بہت مزہ آیا صحیح کہتے جہاں اللہ اور ہمارے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو رہا ہو وہاں اپنے آپ ہی لطف آنے لگتا ہے۔اس نے جذب سے کہا۔

حلیمہ بیگم مسکرائیں۔

اور ماما وہ آنٹی کتنی پیاری تھیں نہ جنہوں نے اینڈ میں نعت پڑھی کتنی پیاری تھی نہ انکی وائز اور انکی بلیک آئیز کتنی سٹار کی طرح چمک رہی تھی۔دیا نے چہک کہ کہا۔

جی بیٹا بہت کیوٹ تھیں وہ۔زنیرہ نے بھی حصیفہ کو دیکھا تھا کیونکہ وہ تھوڑے قریب بیٹھے ہوئے۔اس دیا کی بات کی تائید کی۔ابقار ایک دم چونکہ پھر سر جھٹک دیا۔

نا جانے زندگی کی گاڑی کہاں جا کر رکنے والی ہے

__________________

پیچھلے دنوں کے مقابلے میں آج موسم ابر آلود تھا اور دوپہر سے ہی ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی تھی آج اتفاق سے سبھی گھر پر موجود تھے اور ابھی سب ایک ساتھ لاونج میں بیٹھے تھے۔

کتنا حسین موسم ہو رہا ہے اگر اس موسم میں پکوڑے مل جائیں تو کیا ہی بات ہے۔حماد جو موبائل پر گیم کھیل رہا تھا مزے سے بولا

آپ نے تو میرے منہ کی بات چھین لی بھائی یار آپی آپ بنا لو نہ پکوڑے قسم سے بہت دل چاہ رہا ہے میرا بھی۔منتہہ نے بھی فورا بھائی کی ہاں میں ہاں ملائی۔

بس ہر چیز ان نوابوں کو بیٹھے بیٹھے دے دو ارے کبھی کچھ کام خود بھی کرنا سیکھو ہر میری بیٹی کو ستاتے رہتے ہیں۔ زبیدہ بیگم نے چڑ کر کہا۔

اماں کیا ہے یار اپکو کر لوں گی نا جب آپی کی شادی ہو جائے گی ابھی تو ہمیں انکی خدمتوں سے فیضیاب ہونے دیں۔اس نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔

شرم تو نہیں آرہی ہوگی بولتے ہوئے ارے ابھی سے سیکھے گی تبھی تو اس کے جانے کے بعد گھر سنبھالے گی ہر وقت بیٹھی رہتی ہے اور اس نوحے کے ساتھ اسکو چپکا کر رکھو اگر کوئی ن

مہمان اجائے تب بھی اسے سائیڈ پر نہیں رکھتی ایک دن اسکو میں آگ میں جھونک دینا ہے۔زبیدہ بیگم نون سٹوپ شروع ہو گئیں۔

ارے اماں چھوڑیں اسے اس نے کھانا بنایا تو ہم نے زندگی بچنا ہے یا نہیں اس کے چانسس بہت کم ہوں گے۔حماد سے چھڑاتے لہجے میں کہا۔

جی نہیں دیکھ نا میں بہت اچھا بناؤں گی کھانا اور سب سے زیادہ آپ ہی کھاتے وقت واہ واہ کرو گے ہنہ آئے بڑے۔منتہہ نے بھی منہ بنا کر کہا۔

بس زبان چلوالو مجال ہے کبھی ہل کر کوئی کام انجام دے دے اٹھ کر یہ لڑکی۔زبیدہ بیگم نے پھر غصے سے کہا۔

اماں یار جب آپی کی شادی ہو جائے گی تب کر لوں گی نہ۔ بیزار لہجے میں کہا گیا۔

تو ابھی سے سیکھنا پڑے گا نا میری جان سب کام تبھی تو کرنے آئیں گے۔ حصیفہ نے باتوں میں اپنا حصہ ڈالا اور مسکرا کہ کہا۔

اچھا نہ یار سیکھ لوں گی ابھی تو بنا لیں آپ۔اس بے بس سا منہ بنا کر حصیفہ سے کہا۔

اچھا تو تو مت بنا رہی ہوں پاگل۔وہ ہنستی ہوئی اٹھ گئ جاتے جاتے مڑی اور زبیدہ بیگم سے پوچھا

امی آج کے کھانے میں کیا بناؤں بتا دیں تا کہ میں تیاری کر لوں۔

اماں کافی ٹائم ہو گیا دال چاول نہیں بنے۔حماد نے فورا کہا۔

اچھا آج دال چاول ہی بنا لو۔اماں نے کہا اور وہ جی اچھا کہہ کر کچن میں چلدی۔

__________________”____________

زنیرہ کے واپس جانے میں بس ایک ہفتہ تھا اس وہ روز زنیرہ بیگم اور وہ مدرسہ جا رہے تھے درس سن نے کے لیے۔

ابھی بھی وہ جانے کے لیے نکل ہی رہیں تھیں جب ابقار گھر میں داخل ہوا۔

کہاں جا رہی ہیں بیوٹیفل لیڈیز۔اس نے شرارت سے کہا۔

تمھاری شادی کی شاپنگ کرنے چلو گے۔زنیرہ نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔

زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں ہیں ۔ابقار نے فوراً سنجیدگی سے کہا۔

لو میں کیا مذاق کر رہی ہوں پوچھ لو ماما سے ہے نا اس منہ بنا کر کہا۔

انشاللہ وہ بھی کرنے جائیں گے فلحال تو ہم درس میں جا رہے ہیں۔حلیمہ بیگم نے مسکرا کہ کہا

اچھا جی ٹھیک ہے کب تک آئے گیں آپ دونوں۔اس نے پوچھا۔

جلدی آجائیں گے اور تم آگئے ہو تو میں دیا اور شاہمیر کو گھر ہی چھوڑ کر جا رہی ہوں سنبھال لینا۔اس نے مزے بتا دیا۔

جی نہیں لے کر جاؤ ساتھ بہت تنگ کرتے ہیں دونوں۔اس نے فوراً منع کیا۔

کیسے مانوں ہو تم تھوڑی دیر میرے بچوں کو سنبھل نہیں سکتے ٹھیک ہے اب میں بھی نہیں آؤں۔زنیرہ تو باقاعدہ اموشنل ہو گئی۔

اچھا اچھا ڈرامہ مت کرو جاؤ آرام سے آنا۔اس نے منہ بنا کر کہا۔

چلیں ماما۔

پھر دونوں نلکل گئی۔

____________________________________________

دوپہر کا کھانا کھا کر سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔زمان صاحب اخبار پڑھ رہے تھے جبکہ ابھی زبیدہ بیگم نماز پڑھ کر کمر سیدھی کرنے کی غرض سے بیڈ پر لیٹی بیٹھی تھیں

زبیدہ مجھے مجھے تم سے ایک بات کہنا ہے۔زمان صاحب نے اخبار سائیڈ پر رکھ کر انہیں مخاطب کیا۔

جی بولے۔

میرے دوست ہیں جمال صاحب انہوں نے ہماری حصیفہ کے لیے اپنی بیٹی کا رشتہ مانگا ہے۔انہوں نے بات شروع کی۔

اچھا جی انہیں کیسے پتا ہماری حصیفہ کا۔انہوں نے تعجب سے پوچھا۔

انکی بیگم حصیفہ کے مدرسہ جاتی ہیں وہی دیکھا تھا انہوں نے اسے اور انہیں ہماری حصیفہ پسند آگئی تو انہوں نے ہی کہا۔انہون نے پوری بات بیان کی۔

ہمم تو کیا آپ نے لڑکے کو دیکھا ہوا ہے۔زبیدہ بیگم نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں ایک دو بار دیکھا ہے ماشاءاللہ سے اچھا ہے لیکن اگر ہم یہ رشتہ کریں گے تو اور چھان بین کرا لے گے۔انہوں نے سر ہلا کر کہا۔

ٹھیک ہے آپ دیکھ لے اگر رشتہ اچھا ہے تو ہم طے کر دیتے ہیں۔انہوں پر سوچ لہجے میں کہا۔

چلو دیکھ لیتے ہیں اور انہیں میں آنے کا بھی کہہ دیتا ہوں۔کہہ کر واپس اخبار کھول لیا۔

لیکن حصیفہ ابھی اپنا عالمہ کا کورس کر رہی ہے کیا وہ ہاں کر دے گی۔انہوں نے یاد آنے پر کہا۔

ہماری بچی بہت فرمابردار ہے اور ابھی کونسا رشتہ طے ہو گیا اگر رشتہ صحیح ہوگا تو طے کریں گے اور جب اسکا کورس ختم ہو جائے گا تب ہی کر دیںگے۔انہوں نے ۔مسکرا کے کہا

ہمممم۔

_________________________________

آج کل ٹیسٹ بھی چل رہے تھے مدرسہ میں روزانہ کسی نہ کسی طلبہ کو کسی ایک عنوان پر مختصر بیان دینا ہے

اور آج بھی ایک قابل طلبہ اپنا عنوان بیان کر رہی تھی۔

اسلام و علیکم میرا آج کا ٹوپک ہے حقوق العباد یعنی انسانوں کے حقوق جس پر آج کل ہمارا دھیان بہت کم ہو گیا ہے اور انہیں ہم اہمیت بھی بہت کم دیتے ہیں جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ اللہ حقوق العباد معاف نہیں کرتا۔

حقوق العباد میں اولاد کے پڑوسیوں کے رشتہ داروں کے میاں بیوی کے حقوق شامل ہیں۔

میں چند حقوق مختصر مختصر بیان کروں گی

سب سے پہلے پڑوسیوں کے حقوق ہمارے آس پاس جو گھر ہیں ہمارا پڑوس ہے پڑوسی سے ہمدردی رکھنا اس سے بہتر سلوک کرنا اسکو ہماری وجہ سے کوئی تکلیف اس بات کا خیال کرنا یہ سب پڑوسی کے حقوق ہیں ہمیں بس پڑوسیوں کی چاپلوسی نہیں بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا انکے گھر کے حالات ٹھیک کہیں وہ بیمار تو نہیں کہیں اس کے گھر میں فاقے تو نہیں ہو رہے۔

اپکو معلوم ہے لعنت ہے ایسے پڑوسی پر جو خود تو بہتر رہ رہا ہے لیکن اسکا پڑوسی ابتر ہے آپ اسکی مدد کرنے کی سکت رکھتے ہو لیکن اپنے مال سے کم نہ ہو جائے اس لیے آنکھیں پھر لیتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کریں برے وقت میں ہمدرد اور مدد گار بنیں۔

دوسری طرف اولاد کے حقوق اولاد کہ جب اولاد ہونے والی ہو تو ماں کا اپنی حیثیت کے مطابق خیال کرو۔جب بچہ چھ دن کا ہو تو اسکا عقیقہ کرو تاکہ اس سے ساری بلائیں دور ہو جائیں۔

اس کی بہترین تعلیم و تربیت کریں جس سے وہ جس سے اسکا مستقبل روشن ہو جو آپکے اور معاشرے کے لیے بہترین کردار ثابت ہو۔

ماں باپ کے حقوق۔اولاد کو چاہیے وہ ماں کا احترام کرے۔جب وہ بوڑھے ہوں انکے ساتھ حسن سلوک کرے۔انکے بعد انکے رشتہ داروں کا بھی احترام کرے جس طرح وہ کرتے ہے۔ماں باپ کے نام پر کوئی ایسا کام کیا جائے جو صدقہ جاریہ ہو۔ماں کا اگر کوئی قرض تھا جو وہ اپنی زندگی میں اتار نہ سکے وہ چکا دے۔اور ماں باپ کے بعد انکی مغفرت کے لیے دعا گو رہے۔

میاں بیوی کے حقوق: بیوی کو چاہیے وہ اپنے شوہر کے لیے زینت کرے جب شوہر گھر پر نہ ہو تو اسکے گھر اور گھر والوں کا خیال کرے اوروں کو اپنے گھر کی باتیں نہ بتائے۔کیوںکہ شوہر کی عدم موجودگی میں وہی اسکے گھر کی نگہبان ہے۔

اسی طرح شوہر کو اپنی بیوی کا اپنی اپنی حیثیت کے مطابق خیال رکھنا چاہیے۔اسے عزت اور مان دے۔اسلام میں چار شادیاں فرض ہیں لیکن بشرط یہ کہ وہ اتنی استطاعت رکھتا ہو کہ ہر بیوی کے ساتھ سلوک رکھے انہیں انکے سارے یکساں حقوق دے۔

اپکو معلوم ہے جب ہم ایک بھی حقوق العباد پورا کرتے ہیں تو اللہ ہمارے نامہ اعمال میں ڈھیروں نیکیاں ڈال دیتا ہے جنکا اس دنیا میں کوئی شمار نہیں کیونکہ جب ہم کسی حقوق کو پورا کریں تو اللہ کا بندہ خوش ہوتا اور پھر اللہ بھی ہم سے خوش ہوتا ہے آپ یہ مت سوچیں کہ کوئی اور یہ حقوق پورے نہیں کر رہا تو ہم بھی نہیں کریں گے آپ یہ سوچ کر ہر حق پورا کریں کہ کل آپ اپنے ساتھ خود کا نشانہ اعمال لے کر مالک دو جہاں کے سامنے پیش ہوں گے۔

میں اتنا اچھا تو بیان نہیں کر پائی لیکن امید ہے اپکو تھوڑا کچھ اچھا لگا ہوگا۔

_____________________________________________

کھانے کے بعد حلیمہ بیگم اور مبین صاحب تو اپنے کمرے میں چلے گئے تھے جبکہ زنیرہ اپنے اور ابقار کے لیے کافی بنا رہی تھی اور آج اسنے سوچ لیا تھا کہ آج ضرور وہ اسے شادی کے لیے منا لے گی۔کافی بنا کر وہ دستک دے اندر داخل ہوئی حسب معمول ابقار اپنے لیپ ٹاپ پر کام میں مصروف تھا۔

آبی کافی۔اس نے کہا۔

ہاں یہاں رکھ دو۔مصروف سے انداز میں کہا۔

ابقار مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ضروری۔اس نے ٹیبل پر مگ رکھتے ہوئے کہا۔

ہاں ہاں بولو۔پھر مصروف انداز

پہلے تم اسے سائیڈ پر رکھو اور توجہ سے میری بات سنو۔زنیرہ نے تھوڑا سختی سے کہا

اچھا میری ماں رکھ دیا اب بولو۔وہ لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھ کر اسکی طرف متوجہ ہوا۔

دیکھو آبی جو ماضی میں ہوا اسے بھول جاؤ اور زندگی میں آگے بڑھو زندگی کسی ایک جگہ پر رک نہیں جاتی جسے جانا ہوتا وہ چلا جاتا ہے۔اس نے بات شروع کی۔

میں سب کچھ بھول چکا ہوں اور آگے بھی بڑھ چکا ہوں اور خوش بھی ہوں اپنی زندگی۔اس نے مسکرا کر کہا۔جس مسکراہٹ میں پھیکا پن تھا۔

بظاہر جو تم ہمیں پریٹین کرتے ہو کہ تم کتنے خوش ہو اصل یہ محض ہمیں تسلی ہے کہ ہم اپنی لائف میں ٹھیک رہے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ تم ابھی بھی اسی ایک لمحے میں اٹکے ہوئے ہو۔وہ اٹھ کر ابقار کہ پاس بیٹھ گئی اور اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔

آبی ماما بابا بہت تکلیف میں ہیں تمھیں ایسے دیکھ کر تم نے اپنے اپکو انسان سے ایک مشین میں تبدیل کرلیا ہے جس کا کام ہر وقت کام کرتے رہنا ہے سارے احساسات جزبات مار رہے ہو تم اپنے اندر کے پتھر بن گئے ہو۔اس نے دکھ سے کہا۔

میں ٹھیک ہوں زینی تم لوگ ایسی پریشان ہو رہے ہو۔اس نے اسکی طرف دیکھ کر کہا۔

ماما چاہتی ہیں کہ وہ تمھاری شادی کر دیں تاکہ تم اپنی لائف میں سیٹل ہو جاو۔اصل بات پر آئی وہ۔

بٹ میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔اس نے سنجیدگی سے کہا

آبی بچے نہیں بنو ماما بابا کو بھی دیکھو ان کی بھی تو کوئی خوشی جو تم سے منصوب ہے وہ بھی تو تمھیں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔میں تو اپنے گھر کی کبھی آتی ہوں تو مما کی تنہائی بانٹ لیتی ہوں میں چلی جاؤں گی تو پھر وہی سونا گھر تم اور بابا اوپس چلے جاتے ہیں ماما کو بھی ضرورت ہے ایسے انسان کی جو آپ دونوں کی غیر موجودگی میں انکی تنہائی بانٹیں۔اور ضروری نہیں کہ ہر انسان ایک جیسا ہو اب ہو سکتا ہے تمھارے نصیب میں بہتری ہو۔پلیز سوچو اس بارے۔زنیرہ نے سمجھانے کی کوشش کی۔

ہمم شاید ٹھیک ہو تم چلو اب جا کر سو جاؤ۔اس مسکرا کے کہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *