Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Sakoon e Rooh (Episode 08)

Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan

زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی تھی زندگی میں جو تکلیفیں ملیں وہ کاتب تقدیر نے لکھیں تھی کیونکہ وہ انسان کو سمجھاتا ہے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں جو کہ ہماری بہتری کے لیے ہی ہوتا ہے۔زندگی میں تکلیفیں ہونے کے با وجود سنبھل کر اور سیدھے راستہ پر چلتے رہنا ہی اصل امتحان ہے جو کہ شاید ہی ہم اس امتحان میں کامیاب ہو سکیں۔

__&&&__$_

حلیمہ بیگم کو زنیرہ نے حصیفہ کا پتا دے دیا تھا انہوں نے مبین صاحب کو اس بارے میں بتا کر مشورہ کر لیا تھا اب انہیں ایک بار اور ابقار سے پوچھنا تھا جس نے اپنے اپکو اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا۔رات کے کھانے کے بعد ابقار اپنے روم میں جانے کے چہل قدمی نے غرض سے باہر لان میں آگیا

لان بہت ہی خوبصورت ہے۔کنارے پر بہت خوبصورت سی کیاری بنائی گئی تھی جس میں مختلف خوبصورت پھولوں کے پودے لگے ہوئے ہیں جن کی خوشبو کو ہوا چھیڑتی ہے تو وہ کھلکھلا کے پورے ماحول میں اپنی مہک کی س

جلترنگ بکھیر دیتی ہیں۔جو احساسات پر طاری ہو کر انسان کو خواب ناک ماحول میںے جاتے ہیں۔

لیکن جن کے احساسات ہی جامد ہوں تو ہوا بھی محض انکے جسم کو چھو کر اپنی قدر کھو دیتی ہے۔اور ابقار کے بھی سارے احساسات جامد تھے۔دل کے باغ میں ہر احساس اور جزبات کا پھول مرجھا چکا تھا۔

ابھی بھی وہ اپنی سوچوں میں گم ہی تھا جب پیچھے سے حلیمہ بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ پکارا۔

ابقار بیٹا آپکی کافی۔انہوں نے کہا۔

جو اسنے جزاک اللہ کہہ کر تھام لیا ۔

کیا سوچ رہے ہو بیٹا؟۔انہوں نے پوچھا

کچھ نہیں ماما میں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ میری سوچیں مجھے تکلیف دیتی ہیں اور پھر میری وجہ سے آپ لوگ تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اس لیے یہ تکلیف والا کام ہی چھوڑ دیا۔اس نے سانس کھینچ کر کہا۔

بیٹا اگر تکلیف کے لمحے کسی سے بانٹ لیے جائیں تو دل میں تھوڑا سکون پیدا ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا۔

نہیں ماما میں نے اب آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں آپ سب ٹھیک کہتے کسی کے چلے جانے سے زندگی نہیں رکتی چلتی رہتی وقت اسی طرح گزرتا رہتا ہے جیسے پہلے گزرتا تھا اب بس اب میں خود اذیت میں نہیں رکھنا چاہتا۔اس نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد جواب دیا۔

میں نے آپکے لیے لڑکی پسند کی ہے اس سنڈے میں اور آپکے پاپا اس کے گھر آپکا رشتہ لے کر جانا چاہتے ہیں اگر تمھیں اعتراض نہ ہو تو.انہوں نے بات بدل کر کہا۔

نہیں ماما مجھے کوئی اعتراض نہیں اور اب میں کوئی فیصلہ خود سے کرنا ہی نہیں چاہتا۔اس نے ہامی بھری۔

لیکن کیا ماما میں اسکے ساتھ انصاف کر سکوں گا کیونکہ میرے اندر کے سارے احساسات جامد ہو چکے ہیں۔اس نے سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھا

بیٹا احساس منجمد ہونے اور مر جانے میں فرق ہوتے ہیں اور جب کائی آپکی زندگی میں داخل ہوتا ہے نہ تو اپنا مقام خود ہی حاصل کر لیتا بس میں اتنا کہوں گی کہ اگر وہ اپکا ہاتھ تھامنے کے لیے پہل کرے تو بلا جھجھک تھام لینا کیونکہ جو ہمسفر ہاتھ تھامنے کے لیے خود آگے بڑھتا ہے وہ پھر کبھی اپکو تنہا نہیں چھوڑتا۔انہوں نے نرم لہجے میں کہا

ماما مجھے لگتا ہے میرے ارد گرد کانٹے ہیں اگر کوئی میرے قریب آئے گا تو وہ کانٹے میرے قریب آنے والے کو زخمی کر دیں گے۔اس نے درد بھرے لہجے میں کہا۔

بیٹا زندگی کبھی ایک ڈگر پر نہیں رہتی کچھ لوگ ہماری زندگی میں سبق بن کر داخل ہوتے ہیں تو کچھ سکون بن کر جو لوگ سبق بن کر داخل ہوتے ہیں انہیں کہ ذریعہ ہمیں اچھے برے لوگوں کی سمجھ آتی ہے تکلیف اور خوشی کا پتا چلتا ہے۔انہوں نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کہا۔

ہاں شاید۔اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔

شاید نہیں یقینن چلو اب تم یہ کافی ختم کر لو پھر سوجانا۔انہوں نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا اور چلی گئیں

_____$$$

حصیفہ کاموں سے فارغ ہو کر مدرسے چلی گئی تھی مدرسہ کے حصے کو اسکول بنا دیا گیا تھا جہاں یتیم اور مسکینوں اور جو صائب حیثیت نہیں ہیں ان بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی اسکول کی ابتداء کچھ مہینے پہلے ہی کی گئی تھی سکول دوپہر اور صبح دونوں ٹائم تھا تو حصیفہ کام سے فارغ ہو کر چلی جائے کرتی تھی۔

ابھی بھی وہ کلاس ہوئی جب بچوں نے فورا اٹھ کر ہم آواز ہو کر سلام کیا۔

وعلیکم کیسے ہو آپ سب۔اس نے مسکرا کے پوچھا۔

سب نے الحمدللہ کہا۔

کل جو سب کو میں نے ٹیسٹ دیا تھا وہ سب یاد کر کہ آئے ہیں نہ۔اس نے نرمی سے پوچھا۔

آدھے بچوں نے بلند آواز میں کہا اور کچھ خاموش رہے۔

آپ لوگوں نے کیوں یاد نہیں کیا ٹیسٹ ۔اس نے خاموش بچوں سے پوچھا۔

کچھ نہیں بولا بس خاموش رہے۔

ٹیسٹ مشکل تھا کیا۔اس نے نرمی سے پوچھا۔

نہیں مس مشکل تو نہیں تھا۔بچوں نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔

پھر کیوں یاد کیا بیٹا جی آپ نے۔اس نے مسکرا کہ کہا۔

مس ہم آپ سے جھوٹ نہیں بولیں گے ہم کھیلنے چلے گئے تھے۔انہوں نے سر جھکا کر جواب دیا

اچھا کوئی بات نہیں کل یاد کر کہ آنا اوکے۔اس نے مسکرا کہ کہا۔

اور یہ لاسٹ ٹائم ہے بعد میں اپکو پنشمنٹ دوں گی اگر یاد نہ کیا۔اس نے وارن کیا۔

جی مس۔سب نے سر ہلایا

مس مجھے آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے۔لاسٹ بینچ پر بیٹھے بچے نے کھڑے ہو کر کہا

جی مرتضی پوچھیں۔اس نے مسکرا کہ کہا

مس جب اللہ سارے کام خود سے کر سکتے ہیں تو وہ ہمیں زریعہ کیوں بناتے ہیں.مرتضی نے پر سوچ لہجے میں کہا۔

کیوں کہ اللہ ہم سے بہت محبت کرتا ہے۔اس نے مسکرا کر جواب دیا۔

مس وہ تو ہمیں پتا ہے بٹ اس بات اس سے کیا لنک ۔بچے نے پر سوچ انداز میں کہا۔

جب ہم کوئی نیک کام کرتے ہیں تو ہمیں اللہ اسکا اجر دیتا ہے یعنی ہمارے نامی اعمال میں نیکی ڈالتا ہے۔اسی طرح جب اللہ کوئی نیک کام ہمارے ذریعہ کراتا ہے اس مطلب ہے وہ ہماری نیکیوں میں اضافہ کرنا چاہتا ہے یہی تو اسکی ہم سے محبت کا طریقہ ہے کہ اللہ ہمیں اپنے کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے اور بدلے میں ہماری جھولیوں میں ڈھیر ساری نیکیاں ڈال دیتا ہے اللہ ہی تو ہے جو ہم سے قدم قدم پر نیکیاں کراتا ہے چاہے وہ کسی انسان کی مدد ہو یا کسی کی راہ سے پتھر ہٹانا ہو سلام میں پہل کرنا ہو یا کسی بھوکے کو کھانا کھلانا ہو پیاسے کو پانی پلانا ہو کسی کی ہمدردی کرنا ہو یہ سب وہ نیکیاں ہیں جو سننے اور کرنے میں چھوٹی لگتی ہیں لیکن انکا ثواب بہت زیادہ ہے۔اس نے آرام سے تفصیلی بات کی۔

اور اگر ہم یہ نیکیاں نا کریں مس پھر کیا ہوگا۔ایک بچے نے سوال کیا۔

پھر وہ نیکی ہم سے لے کر کسی اور اچھے انسان کو دے دی جائے گی میرے پیارے بچوں نیکیاں قدم قدم پر اللہ ہمیں دیتا ہے لیکن ہم اپنی بے عقلی سے اسے گواہ بیٹھتے ہیں اور آخرت میں ہم ایک نیکی کرنے کے لیے ترسے گیں جو ہمیں جہنم سے بچا لے لیکن اس وقت نیکیوں کا وقت گزر چکا ہوگا ہوگا تو بس ہمارا حساب نیکی اور گناہ کا اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا میں ہی چھوٹی چھوٹی نیکیاں اپنے نامی اعمال میں جمع کر سکیں اور جنت میں جا سکیں۔اس نے مسکرا کر کہا۔

جی مس اب ہم یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ضرور کیا کرے گے ہم بھی اللہ کو خوش کر سکیں۔اس بچے مزے سے کہا۔

بہت اچھی بات ہے اور نیکی کرو بھی اور دوسروں کو تلقین بھی کرو۔اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔

جی مسسسسسس۔سب نے یک زبان ہو کر کہا۔

چلو اب سب اپنی ریاضی کی کتابیں نکالو۔اس نے کہا۔

اوکے مس۔

##$__&&&_______

آج اتوار تھا اور آج ہی ابقار کا رشتہ لے کر جانے کی تیاری ہو رہی تھی زنیرہ بھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ آگئی تھی جسے مبین صاحب نے بلایا تھا کہ بھائی کا رشتہ لے کر جا رہے ہیں تو بہن اور بہنوئی کا ہونا لازمی ہے ساری تیاریاں مکمل تھیں اب بس انہیں نکلنا تھا۔

چلیں ماما سب ریڈی ہے اب نکلنا چاہیے ہمیں بھی۔اس نے سامنے کھڑی حلیمہ بیگم سے کہا۔

ابقار بیٹا آپ چلنا چاہو گے۔اںہوں نے ابقار سے پوچھا۔

نہیں ماما میں نہیں جا رہا آپ لوگ جائیں۔اس نے مسکرا کے کہا۔

ہائے سالے صاحب شرما رہے ہیں۔دانیال نے اسے چھیڑا

نہیں دانی بھائی میں شرما نہیں رہا آپ سب بڑے بوڑھوں میں میرا کیا کام۔اس نے مسکراہٹ دبا کہا۔

بوڑھے کسے کہا اپنی بہن سے پوچھو جو روز میری نظر اتارتے نہیں تھکتی۔انہوں نے فخریہ کہا۔

وہ کیا ہے نہ میری بہن آپ سے محبت بہت کرتی ہیں اس لیے اسے آپکا بڑھاپا نظر نہیں اتا۔اس نے پھر شرارت سے کہا۔

جی نہیں بوڑھے ہو گے تم میرے شوہر بہت ہینڈسم ہیں۔زنیرہ سے کہا برداشت ہونی تھی شوہر کی برائی اس لیے فوراً بو پڑی۔

شرم کر لو کچھ ہم سب کے سامنے ہی شروع ہو گئی ہو۔ابقار نے شرم دلانے چاہیئے۔

او بھائی تم تو چپ رہو جلو نہیں اب میری تعریف سے۔انہون ے کالر جھاڑا۔

اچھا اچھا اب بس جا کر واپس بھی آنا ہے۔مبین صاحب نے انہیں ٹائم کا احساس دلایا۔

پھر سب بیٹھ کر نکل گئے۔

___$$____

امی میں سوچ رہی تھی کہ ہم ٹی لاونج کے پردے بدل دیں پرانے پرانے سے لگ رہے ہیں۔

منتہہ جو زبیدہ بیگم کے ساتھ بیٹھی سبزی کٹوا رہی تھی بولی۔

ارے واہ تمھیں کیسے خیال آگیا بیبی زبیدہ بیگم نے حیرانی سے پوچھا

امی کبھی تو طعنہ مارے بغیر بات سن لیا کریں۔اس نے منہ بنا کر کہا۔

ہاں بھئی بدل لیتے ہیں چلنا بازار لے آئیں گے ۔انہون نے سر ہلا کر کہا۔

اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔

جا دیکھ کون آیا ہے۔انہوں کہا۔

جی جا رہی ہوں۔کہتی اٹھ چل دی۔

اوہ حلیمہ آنٹی آپ اسلام و علیکم۔اس نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔

اور اندر آنے کی جگہ دی۔

وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہو۔انہوں نے مسکرا کہ کہا

میں الحمدللہ آئیں نہ اندر چلیں۔اس نے اندر کی طرف اشارہ کر کہ بولا

میں بھی آجاؤں پیچھے سے زنیرہ آئی۔

ارے زنیرہ آپی آئیں نہ آپ تو ہمارے گھر آئی ہی نہیں حالانکہ آپکے پس گھر پتا بھی تھا۔اس نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے پوچھا۔

اب تو آگئی نہ دیر آئے درست ائے۔اس نے ہنس کر کہا

بیٹا امی ابو ہیں گھر پر۔انہوں نے پوچھا

جی جی گھر پر ہی ہیں آپ اندر تو چلیں وہ دونوں کو لے کر اندر چل دی۔

اسلام و علیکم۔دونوں نے اندر داخل ہوتے ہوئے زبیدہ بیگم کو سلام کیا

وعلیکم السلام آپ کون۔انہوں مسکرا کہ کہا

امی یہ ہیں حلیمہ آنٹی اور یہ زنیرہ آپی ہیں ہمارے مدرسے میں آتی تھیں۔اس نے تعارف کرایا۔

اچھاا آئیے بیٹھیں انہوں نے مسکرا کر انہیں بیٹھنے کا کہا۔

وہ میرے شوہر اور داماد باہر ہیں انہیں بلا لیں اندر؟۔انہوں نے پوچھا۔

جی بلا لیں۔انہوں کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا۔

حصیفہ ان سے مل کر جا چکی تھی۔

تھوڑی دیر بعد مبین صاحب اور دانی بھائی بھی اگئے۔

حماد اور زمان صاحب بھی آکر بیٹھ گئے۔

جی خیریت۔زمان صاحب نے کہا۔

بھائی صاحب ہم آپکی بیٹی حصیفہ کا رشتہ لے کر آئے ہیں اپنے بیٹے کے لیے۔مبین صاحب نے بغیر کسی تمہید کے کہا۔

پر ایسے اچانک ۔زمان صاحب نے چونک کر کہا۔

نہیں انکل جب سے میں نے حصیفہ کو مدرسے میں دیکھا اسی وقت وہ مجھے اپنے بھائی کے لیے پسند آگئی ہم اسی دوران رشتہ لانا چاہتے تھے لیکن جب منتہہ نے بتایا کہ حصیفہ کا رشتہ طے ہو گیا تو میں اور ماما خاموش ہو گئے لیکن شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور اس لیے اس نے پھر ہمیں ایک موقع دیا اس لیے ہم بنا کسی تاخیر کہ اگئے۔زنیرہ نے فوراً ساری تفصیل بتائی۔

بیٹا یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ نے ہماری بیٹی کے لیے آپ کے دل میں ڈالا لیکن ابھی کچھ ہی دن گزرے ہیں اسکا رشتہ ختم ہوئے اگر اتنی جلدی پھر کچھ ہوا تو لوگ باتیں نہ بنائیں۔زبیدہ نے پریشانی سے جواب دیا۔

بہن ہم سمجھتے ہیں سب اور لوگ تو کم ہی کسی کی خوشیوں میں خوش ہوتے ہیں اور اگر ہم یہی سوچتے رہیں کہ لوگ کیا کہے گے تو ہم کبھی بھی اپنی زندگی میں خوش نہیں رہ سکتے اللہ جو چاہتا ہے بہتر کرتا بس آپ یہ سوچیں اور ہم بہت امید لے آئے ہیں آپ کے پاس۔حلیمہ بیگم نے کہا۔

ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ انشاللہ ہم اپکو تھوڑے دن تک جواب دے دیں گے۔زمان صاحب نے مسکرا کر کہا۔

ارے آپ کچھ لے نہیں رہیں یہ بسکٹ لے لیں۔زبیدہ بیگم نے کہا۔

ابھی باتوں کے دوران ہی منتہہ شام کے ساری لوازمات رکھ کر گئی تھی

بس آپ ہمیں مایوس مت کرنا۔حلیمہ بیگم نے امید سے کہا۔

پھر تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد مبین صاحب اپنا اور دانی بھائی کا نمبر زمان صاحب کو دے گئے۔

__&____&_

ان کے جانے کی تھوڑی دیر بعد منتہہ حصیفہ اور اپنے مشترکہ کمرے میں داخل ہوئی اور آتے ہی حصیفہ کو گول گول گھما کر اسے پوری دنیا گھما دی۔

ارے کیا ہو گیا منتہہ کتنی زور سے گھمایا ہے سر چکر گیا۔وہ بیڈ پر بیٹھ گئی کہتی ہوئی۔

یار آپی حلیمہ آنٹی آپ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئی تھیں ہائے آپ کی شادی ہو گی اب میں بہت خوش ہوں۔اس نے جھومتے ہوئے کہا۔

کیا بولے جا رہی ہو۔اس نے حیرانی سے پوچھا

بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں انہوں اپکو مدرسے میں ہی پسند کر لیا تھا بٹ اپکے رشتے کی وجہ سے وہ رشتہ نہیں لائیں۔اس نے مسکرا کر بتایا۔

تو ماما بابا نے کیا کہا۔اس نے پریشانی سے پوچھا

اماں ابو کو بھی وہ لوگ اچھے لگے ہیں اور حلیمہ آنٹی اور زنیرہ آپی امی کو کہہ کر گئی ہیں کہ وہ اپنا جواب مثبت ہی دیں۔اس نے مسکرا کر کہا۔

اچھاااا۔اس نے سوچ میں ڈوبے ہوئے کہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *