Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 13)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 13)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
تو حسین راہ گزر :
تیرے ساتھ بتایا ہر لمحہ حیات ہے
کہ تو زندگی کی حسین راہ گزر ہے
تو شب روز کا مکمل خواب ہے
کہ تو زندگی کی حسین راہ گزر ہے
زندگی کی بنجر زمیں پر کھلتا گلاب ہے
کہ تو زندگی کی حسین راہ گزر ہے۔
میرے ہاتھ کی لکیروں میں تیری واضح لیکر ہے
کہ تو زندگی کی حسین راہ گزر ہے ہے
-$-$–$
ابھی وہ چیکنگ کہ بعد جہاز میں آکر بیٹھ چکے تھے ان دونوں کو چھوڑنے حلیمہ بیگم اور مبین صاحب دونوں آئے تھے۔ابھی انکی فلائٹ ٹیک اوف ہونے میں تھوڑا ٹائم تھا
سنیں۔وہ جو لگیج رکھ رہا تھا اس کی طرف متوجہ ہوا
جی بولیں ۔اب وہ رکھ کر سیٹ پر بیٹھ گیا
کیا ہمارا جانا ضروری ہے ہم ٹرین سے نہیں جا سکتے ؟لہجہ روہانسا تھا کیوں کہ کبھی اس نے نہ جہاز میں سفر کیا تھا نہ ہی ٹرین میں ٹرین تو چلو کوئی خوف ناک نہیں ہوتی لیکن جہاز وہ سیدھا ہوا میں اڑتا ہے
کیوں آپ کی طبیعت ٹھیک ہے۔ابقار نے فکر مند لہجے میں کہا۔
جی میں بالکل ٹھیک ہوں لیکن۔۔۔کہتے کہتے وہ چپ ہو گئی ۔
کیا اپکو ڈر لگ رہا ہے ؟؟اس نے مسکراہٹ دبا کر کہا صورتحال سمجھ آنے پر
جی بہت پہلے کبھی میں نے جہاز کا سفر نہیں کیا نا۔انتہائی معصومیت سے اعتراف کیا
ارے واہ اپکو ڈر لگ رہا ہے اور اپنے اس بات کا اعتراف بھی کر لیا؟اس نے تھوڑا حیران ہوتے ہوئے کہا اصل کام اسے باتوں میں لگانا تھا
ہاں جب ڈر لگ رہا ہے تو یہی کہوں گی نہ نا کہ یہ کہوں گی کہ نہیں مجھے ڈر نہیں لگ رہا میں تو ہر جہازوں میں ہی رہتی ہوں۔اس نے منہ بنا کر اب اپنے شوہر کو ہی بتائے گی نہ حد ہے یار۔
عموماً لڑکیاں ایسا نہیں کرتیں ڈر کر بھی ٹارزن بنی رہتی ہیں۔اس نے سراہا۔
آپ لڑکیوں کا بڑا تجربہ ہے ویسے جیسے ہر وقت لڑکیوں میں گھیرے رہتے ہیں ۔اس نے چڑ کر کہا
اب ایسا بھی نہیں ہے ۔اس نے گڑبڑا کر کہا
آبی یہ آپ گانے سنتے ہوئے سفر کریں گے۔وہ جو اسے جواب دے کر اب کانوں میں ہینڈ فری لگا رہا تھا حصیفہ نے اسے حیرانی سے دیکھا
تو اور کیا کروں تقریباً ایک یا آدھے گھنٹے کا سفر ہے بور نہیں ہونا میں نے ۔اس نے کہتے ساتھ پھر سانگز پلے کرنے لگا ۔
آپ مجھ سے باتیں کریں آپ اکیلے ڑ
ٹریول نہیں کر رہے جو ایسے فضول کاموں میں لگ کر اپنے سفر کا خراب کر رہے ہیں ۔اس نے ہاتھ بڑھا کر ابقار کے کانوں سے ہینڈ فری ہٹائی
کیا ہے یار۔اس نے جھنجھلا کر کہا
ہم سفر میں ہیں اسی ہمیں چاہیے کہ ہم سفر کے دوران اللہ کا نام لیں ورنہ اپنا دماغ اچھی سوچوں میں لگائیں کیا پتا ابھی ہم سفر کر رہے آگے زندگی ہے بھی یا نہیں۔اس اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔
تو سب ہی ایسا کرتے ہیں میں کر لوں گا تو کیا ہو جائے گا۔اس نے منہ بنا کر کہا
ایک ہم یہ خوب کہتے ہیں کہ دوسرا کر رہا ہے تو ہم کیوں نہ کریں ارے بھئی جو کوئی کیسا بھی کام کر رہا یہ اسکا فعل ہے لیکن ایک بار اسے اس بات سے ٹوکنا ہمارا فرض ہے لیکن اگر وہ نہیں سنتا تو اسکی قبر کا جواب اس نے دینا اور ہم بس برائی میں ہی کیوں کہتے ہیں کہ کوئی یہ کام کر رہا ہے تو ہم بھی کر لیں نیکی والے کاموں میں تو ہم نہیں کہتے کہ اس نے کسی کی راہ سے کانٹا ہٹایا ہم بھی ہٹا دیں اس نے کسی یتیم کی کفالت کی ہم بھی کر لیں اس نے باجماعت ادا کی ہم بھی کر لیں نہیں ہم کیوں کہیں گے تب ہمارا دل کوئی چاہتا ہے اسکے ساتھ نیکی کی فہرست میں شامل ہونا لیکن کوئی گناہ کے گڑھے میں گر رہا ہے اسکے ساتھ گرنا زیادہ پسند کریں گے۔اس نے آخری بات پر آنکھیں گھمائیں۔
ابقار خاموش ہی رہا شاید الفاظ تلاش کر رہا تھا
خیر میں یہ کہہ رہی تھی کہ ہماری زندگی کا کوئی علم نہیں اسی لیے ہمیں ہر لمحے چھوٹی چھوٹی نیکی جمع کرنی چاہیئے اگر ایسی سفر میں ہم برے کام میں مصروف ہیں ہمیں موت اجائے تو۔تو قبر میں پوچھا جائے آخری نیکی کیا کر آئے ہو تو کیا جواب کوئی جواب ہوگا ہمارے پاس پھر تو ہماری یاداشت کے پردے دھندلانے لگیں گے اور ہمارے پاس جواب میں کچھ نہ ہوگا کیوں کہ ہم اس گمان میں رہے کہ ایک بندہ یہ کر رہا ہے تو ہم نے وہی برائی کی اور اس چکر میں جو چھوٹی نیکیاں ہمارے ہاتھ میں آئیں وہ بھی گواہ بیٹھے ۔اس نے تاسف سے سر ہلایا
ہممم یہ تو سو فیصد درست کی آپ نے بات کہاں سے سیکھی ہیں اپنے ایسی باتیں۔اس نے تائید کرتے ہوئے پوچھا کیوں ابقار کو اسکی باتیں بہت متاثر کرتی تھیں۔
کچھ زندگی کے ساتھ ساتھ اللہ نے سیکھائیں کچھ عالمہ بننے کے دوران درس سے سیکھیں ۔بلا جھجک جواب آیا
ویسے ایک بات بتائیں یہ آپ مجھے آبی کیوں کہتی ہیں میں آپ سے بڑا ہوں اور آبی صرف مجھے میرے قریبی لوگ کہتے ہیں۔اس نے بات بدلی مزید شرمندہ نہیں ہونا چاہتا تھا بچارا
کیا مطلب میں آپکی بیوی ہوں اور آپکے سب سے قریب ہوں اسی لیے کسی بھی اچھے ناموں سے پکارنے کا حق رکھتی ہوں ۔اس اپنی بھنووں کو سکیڑ کر کہا
لیکن جو مجھ سے محبت کرتے وہی مجھے اس نام سے بلاتے ہیں ۔اس نے اسکے انداز میں مسکراہٹ دبائی۔
تو میں بھی آپ سے محبت کرتی ہوں نہ۔اس نے ابرو آچکا کر کہا
کیوں آپ مجھ سے محبت کیوں کرتی ہیں۔اس اعتراف پر ابقار عجیب ہو گیا سامنے بیٹھی اسکی بیوی کیسے کھلا اظہار محبت کر رہی ہے
کیوں کہ آپ میرے شوہر ہیں میرے محرم ہیں میرا لباس ہیں جسے روح اور جسم کو تحفظ محسوس ہوتا ہے۔ایک جملے پورا فسانہ آگیا
تو یعنی میں آپکا شوہر صرف آپکا شوہر ہوں اسی لیے آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں ورنہ نہیں کرتیں۔؟اس سوالیہ نظروں سے کہا۔
جی بالکل اپکو پتا ہے کیا میں جب 17 سال کی تھی اور شعوری زندگی میں قدم رکھا تو ہر نماز میں نے نامحرم کی محبت سے بچاؤ مانگا کیوں کہ اس میں سکون نہیں اور میرے دل اللہ نے میرے محرم کی محبت 17 سال کی عمر میں ہی ڈال دی تھی ۔اسی لیے میں آپ سے یعنی اپنے محرم سے کافی ٹائم سے محبت کرتی ہوں۔اس نے ایک جذب سے کہا
اچھا جی ۔کہنے کو کچھ نہ تھا
آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں نہ۔اس نے سوال بڑے تجسس سے کیا تھا لیکن سامنے والا ہل گیا
ہم۔دیکھیں آپکی باتوں میں فلائٹ ٹیک اوف ہوگئی اب تو اپکو ڈر نہیں لگ رہا نہ۔ابقار نے بات ہی بدل دی کیا جواب دیتا کیونکہ محبت تو وہ حصیفہ سے کرتا ہی نہیں تھا بقول اسکے کہ محبت سے اسکا بھروسہ اٹھ گیا تو وہ کیسے حصیفہ سچے جذبوں کا جواب دیگا کیا کبھی انصاف کر پائگا ؟
ہاں اب نہیں لگ رہا ڈر۔اس نے کہہ کر لب بھینچ لیے ۔جس انسان سے وہ محبت کرنے لگی اس کا ایسے اسکی بات کو نظر انداز کرنا اسے تھوڑا برا لگا
#+#+$+$+
خیر سے وہ لوگ لاہور لینڈ کر گئے رسیو کرنے دانیال اور زنیرہ ہی آئے تھے۔راستے میں ہلکی پھلکی باتیں ہو گئی تھیں۔
گاڑی ایک عالیشان بنگلے کے سامنے رکی جو کہ زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن باہر سے نفیس جدید طرز پر بنا ہوا تھا کیونکہ اس ایک بنگلے میں تین گھرانے موجود ایک دانیال کی فیملی دوسری تایا اور چاچا کی ۔باہر پورچ میں گاڑی رکی جس گاڑی میں وہ لوگ آئے تھے اسکے علاؤہ بھی گھر میں دو گاڑیاں موجود تھیں کیونکہ تایا اور چاچا کی بھی اپنی کار تھیں
خیر سب گاڑی سے اترے اور داخلی حصہ کی طرف چل دیے
گھر میں داخل ہوتے ہی ایک حال تھا جہاں تقریباً سارے افراد ہی موجود تھے
حصیفہ اور ابقار نے حال میں پہنچ کر سب کو مشترکہ سلام کیا ابقار مردوں سے ملنے لگا جبکہ حصیفہ گھر کی عورتوں سے ملی نقاب میں تو وہ تھی ہی۔
زنیرہ نے سب کا تعارف کرایا ۔
ارے بچوں باقی باتیں بعد میں کر لینا ابھی دونوں سفر سے تھکے ہوئے ہیں آرام تو کرنے دو انہیں۔دانیال کی دادی جو گھر کی بڑی تھیں اور سب کو سمیٹے ہوئے بھی تھیں
ہاں زینی اماں ٹھیک کہہ رہی ہیں جاؤ آپ ابقار اور حصیفہ بیٹی کو ان کے کمرے میں چھوڑ آؤ پھر کھانے کی آخری تیاری دیکھ لیں ۔دانیال کی تائی حسینہ بیگم نے کہا ۔
جی تائی جان ۔زنیرہ بھی اثبات میں دونوں کو چلنے کا کیا ان دونوں تھکن کی وجہ سے منع نہیں کیا ۔اور چل دیے
حصیفہ یہاں تمھیں کوئی پروبلم نہیں ہوگی اور بالکل جھجکنا مت اور ہاں یہاں سب کے اپنے اپنے پورشن ہیں تو اگر نکلنا چاہوں بغیر نقاب تو نکل آنا کیوں کہ یہاں دن میں کوئی ہوتا نہیں ہے تو تم آرام سے اپنا پردہ کر سکتی ہو۔زنیرہ چلتے چلتے اسے بولتی بھی جا رہی تھی ۔
اپنے پورشن میں پہنچ کر وہ ایک کمرے کے سامنے رکے اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے یہ کمرا بھی نفاست سے ترتیب ہوا تھا جہازی سائز بیڈ دو ڈور کی الماری ۔اس سے تھوڑے فاصلے پر سنگھار میز بیڈ کی بالکل سامنے والی دیوار پر ایل لی ڈی لگی ہوئی تھی۔ تھوڑا سائیڈ پر جائیں تو آئرن اسینڈ رکھا ہوا تھا کمرے میں اوف وائٹ اور سموکی کلر ہوا تھا ۔پردے بھی کچھ اسی طرح کے تھے ۔
کمرے میں پہنچ کر ہی حصیفہ نے نقاب ہٹا دیا تھا ۔
اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو یہاں انٹرکام بھی ہے کہہ دینا اور میں ابھی پانی وغیرہ بھیجتی ہوں لائبہ ہاتھ آرام کرو اب آپ دونوں ڈنر پر ملاقات ہوگی ۔کہتے ہوئے کمرے سے زنیرہ باہر نکل گئی ۔
دونوں پہلے فریش ہوئے اور پھر تھوڑی دیر آرام کرنے بعد حصیفہ اور ابقار نے آگے پیچھے نماز ادا کر لی جس سے آدھی تھکن اتر گئی تھی
اپکو سونا ہے تو سوجائیں۔ابقار نے حصیفہ سے کہا جو یہاں بھی نماز کے بعد قران لے کر بیٹھ گئی وجہ تھی اسکی عادت ۔
نہیں میں ٹھیک ہوں اور ویسے بھی اگر لیٹی تو آنکھ لگ جائے گی اسی پھر اٹھنا مشکل ہوگا اپکو سونا ہے تو سو جائیں۔مسکرا کر کہا۔
ٹھیک ہے اگر زنیرہ یا کوئی بھی بلانے آئے تو تھا دینا۔کہتا ہوا بیڈ پر دراز ہو گیا ۔
شام کی فلائٹ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ عشاء کی نماز تک پہنچ گئے تھے
کھانا بہت ہی خشگوار ماحول میں کھایا گیا گھر میں دو ڈائینگ ٹیبل موجود تھیں جو کہ ایک کچن میں دوسری باہر رکھی ہوئی ساری عورتوں نے کچن والی میں جبکہ مرد حضرات نے باہر کھانا کھایا۔کھانے کے بعد چائے وغیرہ پی کر سب ہی اپنے کمروں میں چلے گئے ۔
دونوں کو سفر کی تھکان تھی اسی لیے لیٹتے ہی نیند کی وادیوں میں اتر گئے۔
__________
دونوں کو آئے تین دن ہو گئے اور یہاں کا موسم کراچی کے مقابلے میں بہت ٹھنڈا تھا اور حصیفہ جسے یہ بات معلوم ہی نہیں تھی کیوں کہ کراچی سے باہر کبھی وہ گئی ہی نہیں تھی۔
خیر ابھی ساری خواتین ہال میں بیٹھیں شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں مرد حضرات رات آٹھ بجے تک آتے تھے اور ابقار بھی دانیال کے ساتھ اسکے آوفس چلا گیا تھا اسی لیے حصیفہ بھی آرام سے بیٹھی ہوئی تھی ۔
سکینہ بیٹی راحم کتنے مہینے کا ہو گیا ہے۔اماں جی دانیال کی دادی نے چائے کی سپ لیتے ہوئے بڑی تائی کی بہو کو مخاطب کیا
دادو امی دو مہینے کا ہو گیا ہے۔اس نے مسکرا کر جواب دیا
بیٹا اسکے عقیقہ کا کیا ارادہ ہے آپ لوگوں کا۔انہوں نے اسے دیکھ پوچھا پھر جو تائی امی کڑھائی کر رہی تھیں اسے دیکھا
دادی امی شافع کل ہی کہہ رہے تھے کہ آپ سب سے مشورہ کر کہ پھر ڈیٹ فکس کریں گے۔اس نے راحم کو تھپکا جو نیند میں کسمسایا تھا
اچھا ٹھیک ہے۔وہ کہہ کر تائی امی کی طرف متوجہ ہوئیں
دادی امی عقیقہ تو چھٹی کے بعد ہی ہونا چاہیئے تھا تو اتنی لیٹ کیوں۔حصیفہ نے پوچھا
بیٹا جی ہمارے گھر میں سب بچوں کا چھٹی پر ہی ہو گیا تھا لیکن راحم بیٹے کی طبیعت پیدائش کے بعد بہت خراب ہو گئی تھی تبھی نہیں کیا بس صدقہ وغیرہ جو کرنا تھا وہ کر دیا اور سکینہ بیٹی کے گھر والے بھی کراچی سعودی عرب میں رہتے ہیں تو اسی لیے بھی نہیں رکھا۔انہوں مصروف سے انداز میں کہا کیوں کہ وہ اب تائی کی کردہ کڑھائی پر غور کر رہی تھیں۔
اوہ اچھا ۔اس نے سر ہلا دیا
بیٹا آپ اپنے گھر والوں کے بارے میں بھی کچھ بتاؤ۔دانیال کی امی نے پوچھا
آنٹی میرے گھر امی ابو اور ہم تین بہن بھائی ہیں مجھ سے بڑے حماد بھائی اور مجھ سے چھوٹی منتہہ ابھی کالج میں پڑھ رہی ہے۔اس نے مسکرا کر جواب دیا
اسلام و علیکم۔اندر داخل ہوتے ابقار نے سب کو سلام کیا جس کا سب نے مشترکہ جواب دیا
جلدی آگئے بیٹا آپ ۔دادی امی نے پوچھا
جی دادی امی بس وہ دانی بھائی کسی میٹنگ کے لیے چلے گئے تھے اور مجھے بھی کچھ کام تھا تو وہ کر کہ گھر ہی آگیا ۔اس نے حصیفہ کے برابر میں جو جگہ خالی تھی وہاں برجمان ہوتے ہوئے جواب دیا
یہ کیوں نہیں کہتے ابقار بھائی کہ حصیفہ کے بغیر آپکا دل نہیں لگ رہا تھا تبھی بھاگے بھاگے آگئے ۔سکینہ بھابھی نے چھیڑا
نہیں بھابھی ایسی تو خیر کوئی بات نہیں ہے یہ گھر میں رہ کر بھی اتنا مجھے نہیں دیکھتے۔حصیفہ نے جھٹ نفی کی
اور کسے دیکھتا ہوں پھر اگر آپ کو نہیں دیکھتا تو۔ابقار نے ابرو آچکا کر کہا
اپنے آوفس کے ہی کاموں میں لگے رہتے ہیں اگر میں کچھ کہوں تو غصہ کرنے لگتے ہیں۔اس نے منہ بنا کر کہا
حصیفہ یہ سب بیویوں کی شکایت ہے یار دانی کا بھی یہی حال ہے ایک تو دیر سے آتے ہیں پھر اپنے کام لے بیٹھ جاتے ہیں انسان کوئی بات کرے تو ہاں ہوں کرتے رہتے ہیں۔حصیفہ کی بات کی تائید کرتے ہوئے زنیرہ نے دہائی دی
شرم کر لو کچھ دانی تمھاری اتنی سنتے ہیں اب بندے کے کان کھاؤ گی کیا ۔اس نے چڑاتے ہوئے کہا
ہاں تم تو چپ کرو خشک انسان مردوں کی سائیڈ آپ نہیں لیں گے تو اور کون لے گا اور جہاں ان کی زرا کوئی بری عادت بتانے لگو تو فوراً ایسے بنتے ہیں کہ ان جیسا معصوم تو پوری دنیا میں نہ ہو ۔زنیرہ نے بھی چڑ کر اچھی خاصی سنائیں
زینی بیٹا بس کرو بھائی آیا ہے جاؤ چائے بناو۔اماں جی اسکی چلتی زبان کو بریک لگایا
نہیں دادی امی ابھی لنچ اور چائے پی کر ہی آرہا ہوں بابا کے دوست مل گئے تھے تو وہ اپنے ساتھ لے گئے۔اس نے منع کرتے ہوئے کہا
چلیں آپ خواتین آرام سے باتیں کریں میں چلتا ہوں اوکے اللہ حافظ ۔کہتا ہوا اٹھا اور اپنے روم کی طرف چل دیا عورتوں میں زیادہ دیر بیٹھنا اسے بالکل پسند نہیں تھا۔
جاؤ بیٹا ابھی شوہر آیا ہے اسے کسی چیز کی ضرورت ہو جاؤ آپ بھی کمرے میں ۔زنیرہ کی تائی ساس نے حصیفہ سے کہا جو چائے کا آخری اپ لے رہی تھی۔
اسکے بعد وہ بھی کمرے کی طرف چل دی۔
__&&&__
کمرے میں داخل ہوئی تو ابقار کمرے میں موجود نہیں تھا اس نے بالکونی میں جھانک کر دیکھا وہاں بھی کوئی نہیں تھا دوبارہ کمرے میں آئی تو واشروم سے بال رگڑتا ہوا نکل رہا تھا
آپ کو اتنی ٹھنڈ میں بھی چین نہیں ہے ویسے ابھی صبح ہی تو نہا کر گئے ایسے اگر ہر باہر آکر نہاتے رہے تو بیمار ہو جائیں گے۔اس کو دیکھتے ہی وہ فر فر فکر مندی سے بولنے لگی
نہیں ہوتا میں بیمار بے فکر رہیں۔اس نے تولیہ اسٹینڈ پر ڈالی۔
کیوں آپکے اندر ہڈیوں کی جگہ فولاد فٹ ہے یا گوشت کی جگہ ببل جو اپکو کچھ نہیں ہوگا۔اس نے ابرو آچکا کر کہا
یہی سمجھ لیں ۔کہتا ہوا اسکی طرف قدم بڑھائے۔
ویسے کیا کہہ رہی تھیں آپ نیچے۔اس نے ایک دم اسکا ہاتھ کھینچ کر اپنے حصار میں لیا
کک۔کیا میں نے کیا کہا ۔وہ ایک دم پیش قدمی پر سٹپٹا گئی
کہ میں ہر وقت کاموں میں لگا رہتا اور اپکو وقت نہیں دیتا۔کہتا ہوا جھکا اور اسکے گال سے اپنا گال مس کیا
ت۔تو غلط کیا کہہ رہی تھی آپ اپنی فائلوں میں ہی مصروف رہتے ہیں ۔اس نے معصومیت سے کہا
تو آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ سے پیار بھری باتیں کروں۔اس نے بڑھا کر اس کا کیچڑ بالوں سے اتار دیا
اپ اور پیار بھری باتیں آپ بس کام سے بھری باتیں کر سکتے ہیں پیار بھری نہیں۔اس نے بھی مذاق اڑایا اور اب اسکے گردن کے گرد بازو حائل کیے۔
میں بہت کچھ کر سکتا اگر آپ کہیں تو کر دیکھاوں۔کان کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی ۔
ج۔جی نہیں می۔میں کچھ نہیں کہہ رہی اپکو کچھ چاہیے تو بولیں ورنہ میں جا رہی ہوں ن۔ابھی الفاظ ادا ہی کرنے والی تھی کہ ابقار نے جھک کر اسکی آنکھوں کو لبوں سے چھوا۔
