Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 11)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 11)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
تیری یاد کے گہرے سمندر میں
تیرا سیاہ عکس ابھرتا ہے
خزاں کے خشک موسم میں
میری آنکھ نم کرتا ہے۔
تیری بے وفائی کے دھاگوں میں
ہم ہر ایک کو پروتے ہیں
ہمیں ہر مخلص شخص بھی
اب بے اعتبار لگتا ہے
از خود
شادی کو تین ہفتے گزر گئے تھے لیکن ابقار مبین کی زندگی ویسی ہی چل رہی تھی آوفس گھر پھر گھر میں آوفس کا کام اور پھر سو جانا۔اور حصیفہ سے تو بس لہے دیئے بات ہوتی اور ابقار کا یہ رویہ اسے بہت پریشان کر رہا تھا۔پہلے پہر اسنے یہی اندازہ لگایا کہ وہ بہت سنجیدہ ہے لیکن پھر اسے اپنے اور اسکے درمیان رشتے کا احساس ہوتا تو اسے کچھ باتیں پریشان کرنے لگ جاتی۔
#$_&–
بیٹا آپکی شادی کو ایک مہینہ ہونے کو اور آپ دونوں کہیں باہر گھومنے نہیں گئے۔حصیفہ اور حلیمہ بیگم دوپہر کے کھانے کے بعد لاونج میں بیٹھی ہوئی ٹی دیکھ رہی تھیں
ماما اتنی جگہ تو دعوتوں پر گئے ہیں۔اس نے حیرت سے دیکھا۔
بیٹا کسی کے گھر دعوت پر جانا اور بات ہے اور اکیلے کہیں گھومنے پھرنے جانا الگ بات۔حلیمہ بیگم نے تاسف سے سر ہلا کر کہا۔
ماما مجھے کہیں گھومنے پھرنے کا شوق ہی نہیں ہے اور اگر کہیں اکیلے گھومنے جاؤ تو مزہ کہاں آتا ہے ساری فیملی ہو تو مزہ بھی آئے۔اس نے مسکرا کر کہا۔
بیٹا آپ کی ابھی شادی ہوئی ہے کہیں نہیں تو تھوڑی شاپنگ کی کر لو جا کر اگر کچھ لانا ہے تو لیا آؤ گھر میں بھی بور ہوجاتی ہو گی۔انہوں نے اسکی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
نہیں ماما میں بور بالکل نہیں ہوتی کیونکہ میرے ساتھ آپ ہوتی ہیں تو ٹائم ہی پتا نہیں چلتا آپکے ساتھ ۔اس نے انکے کندھے پر ہارکھا۔
مجھے پتا ہے میری بیٹی اپنے گھر میں بہت دل لگتا ہے لیکن یہی دن ہوتے ہیں جو نئی نئی چیزوں کو انجوائے کیا جاتا ہے پھر تو گھر اور بچوں میں لگ جاو۔انہوں نے کہا۔
اچھاا ماما چلیں ہم پھر پارک چلیں گے جب بابا اور وہ آجائیں گے اوکے۔اس نے ہاں کردی
حصیفہ نے ان تین ہفتوں میں کبھی ظاہر نہیں ہونے دیا کہ ابقار کے ساتھ اسکے تعلق اتنے خوش گوار نہیں ہیں۔
ہم نہیں جائیں گے آپ اور آبی آج ڈنر پر چلے جاؤ اسی بہانے باہر کی تازگی ہوا کھانے کا موقع مل جائے گا۔
پر ماما۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا۔
پر ور کچھ نہیں میں نے کہہ دیا بس کہہ دیا جاؤ اب ابی کو بھی فون کر کہ بول دو یا میں کروں۔انہوں نے بات ہی ختم کر دی۔
نہیں نہیں ماما میں کہہ دوں گی ان سے ۔اس جھٹ منع کر دیا۔پتا نہیں ابقار کیسا ری ایکٹ کرے۔
اچھا ٹھیک ہے چلو تھوڑا آرام کر لو میں بھی زرا کمر سیدھی کر لوں۔انہوں نے اسکے کندھے تھپتھپائے
#@@____$
کمرے میں آئی تو لیٹنے کے بجائے قرآن لے کر بیٹھ گئی کہ اگر لیٹی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ عصر کی نماز کے لیے دیر ہو جائے۔
$$___
عصر کی نماز سے فارغ ہوئی تھی کہ ابقار کمرے میں داخل ہوا۔
اسلام و علیکم۔اس نے جھٹ سلام کیا۔
وعلیکم السلام۔اسے ایک نظر دیکھ کر ٹائی کا ڈھیلی کی اور بیڈ پر دراز ہو گیا۔
آج جلدی آگئے طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اپکی۔اس کے قریب آکر پوچھا جو لیٹا پیشانی مسل رہا تھا۔ابقار چونکہ مغرب کے بعد آتا تھا اس نے سوال کیا۔
ہاں بس تھوڑا سا سر میں درد ہے۔اس نے ہلکے سے جواب دیا۔
اچھا آپ ایسا کریں فریش ہو جائیں میں چائے لے آتی ہوں۔اس نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔حصیفہ تو اس نے نارملی ہی بات کرتی تھی۔
(آبی کیا ہے مجھے شاپنگ جانا ہے اٹھو فوراً یہ ڈرامے مت کرو۔کسی نے بیزاری سے کہا۔
میری جان میں ڈرامے کیوں کروں گا میرے واقعی سر میں بہت درد ہورہا پھر کسی دن چلیں گے نہ۔اس نے پیار سے کہا۔
ابقار تم یہی کرتے ہو ایسا لگتا ہے سارے کام تم ہی کرتے ہو جو ہر وقت تھکے ہی رہتے ہو۔چڑے لہجے میں کہا گیا۔
تو ظاہر ہے میرا آوفس ہے تو کام بھی میں ہی کروں گا اور اتنا تو ٹائم دیتا ہوں تمہیں ہفتے میں چار پر تو شاپنگ اور ڈنر پر جاتے ہیں پھر بھی تم یہ کہہ رہی ہو۔اواز میں تھوڑی حیرت تھی۔)
ابقار آپ ابھی فریش نہیں ہوئے سر میں زیادہ درد ہو رہا ہے۔وہ جو آنکھیں بند کر کہ کہیں اور ہی تھا فکر مند آواز پر چونکا
نہیں میں ٹھیک ہوں اور میں کافی پیتا ہوں چائے نہیں۔اس نے نے
جتایا۔
جی مجھے معلوم ہے اس لیے میں کافی ہی لائی ہوں اور جہاں تک اپکو یاد ہو روز کافی میں ہی دیتی ہوں اپکو۔اس نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔
ہمم رکھ دیں سائڈ ٹیبل پر اور اگر کچھ کھانے کے لیے ہے تو لے آئیں۔کہتا ہوا اٹھا اور واشروم کی طرف چل دیا۔
عجیب ہیں یہ بھی ۔وہ سر ہلا کر رہ گئی۔
@-#-$-+!
رات کو جب تھوڑا آرام کرنے بعد ابقار باہر آیا تو ٹراؤزر اور شرٹ میں تھا آنکھیں سوئی سوئی سی۔
بیٹا آپ تیار نہیں ہوئے۔مبین صاحب نے اسے اس حلیہ میں دیکھ کر پوچھا۔
کیوں بابا کہیں جانا ہے کیا۔اس نے چونک کر پوچھا
آپکی ماما بتا رہی تھیں آج آپ اور حصیفہ بیٹی ڈنر کرنے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتائے۔
نہیں تو بابا ہم تو کہیں نہیں جا رہے۔اس نے انکی بات کی نفی کی۔
کیوں بیٹا کیا حصیفہ نے آپ سے کچھ نہیں کہا۔لاونج میں داخل ہوتیں حلیمہ بیگم نے حیرانی سے پوچھا۔
یار ماما مجھے بتائیں تو آخر بات کیا ہے کیا نہیں بتایا گیا مجھے۔اس نے جھنجھلا کر پوچھا۔
بیٹا آج میں نے حصیفہ سے کہا تھا کہ تم اور آبی کہیں گھومنے آؤ اور باہر ڈنر کر لینا میں اس سے کہا تھا اپکو بتا دے فون کر کہ۔انہوں بات بتائی۔
حصیفہ۔حلیمہ نے اسے آواز لگائی۔
جی ماما۔وہ فورا ہی آگئی ۔
بیٹا آپ نے آبی کو نہیں کہا تھا ڈنر کا۔انہوں نے پوچھا۔
وہ ماما میں فون کرنا بھول گئی اور جب یہ گھر آئے تو انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور میں کھانا تو بنا چکی تھی اس لیے انہیں پریشان نہیں کیا۔اس نے فوراً سب بول دیا اب کیا کہتی۔
کیا ہوا ابی آج آوفس سے بھی جلدی آگئے تھے ۔انہوں فکر مندی سے پوچھا
نہیں ماما بس سر درد تھا ابھی تھوڑی دیر سویا ہوں تو اب ٹھیک ہوں آپ پریشان مت ہوں۔اس نے حلیمہ بیگم کے کاندھوں پر بازو پھیلا کر کہا۔
الحمدللہ چلو کوئی بات کل چلے جانا ضرور۔انہوں نے کہا۔
پھر تھوڑی دیر بعد کھانا کر سب اپنے کمروں میں چلے گئے
#$_&_##
سنیں۔وہ جو سنگھار میز کے سامنے کھڑا اپنے بال سنوار رہا تھا اسے کہا۔
ہمم بولیں۔مصروف سا انداز۔
وہ امی کا فون آیا تھا کہہ رہی تھیں کہ میں ایک دو دن کے لیے روکنے آجاؤں تو کیا میں چلی جاوں۔اس نے آرام سے ہوچھا۔
نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی ابھی اپکو اس گھر سے آئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں جو اپکو ایک دو دن کے لیے رکنے جانا ہے اور ماما کے پاس کوئی نہیں ہوگا ویسے بھی انکی اجکل طبیعت خراب رہتی ہے۔ انتہائی روکھے لہجے میں جواب آیا تھا۔
جی بہتر ناشتہ ٹھنڈا ہو جائے گا جلدی آجائیں۔ ہلکے سے کہہ کر رکی نہیں چلی گئی۔
ابقار کیا ہو جاتا ہے تجھے ہر انسان کو ایک ترازو میں تولنے چھوڑ دو۔خود کو ملامت کی۔
__&–+
سارے کاموں کے بعد دونوں فارغ تھیں۔
ماما ابھی تو کوئی کام بھی نہیں ہے کیوں نہ ہم درس میں چلتے ہیں۔اس نے کہا۔
ہاں چلو بیٹا پھر واپسی پر تھوڑی شاپنگ بھی کے لیں گھر کا کچھ سامان لے آؤں۔وہ فورا راضی ہو گئیں
جی ٹھیک پہلے تھوڑا آرام کر لیں آپ پھر چلتے ہیں۔اس نے کہا۔
اچھا سہی۔
#$__
واپسی پر انہیں ابقار نے پک کر لیا تھا۔
رات کو کھانے کی ڈنر کے بعد دونوں اولڈ نیو کپل اپنے کمروں میں چلے گئے۔
سنیں۔اس لیپ ٹاپ پر تیزی سے ہاتھ چلاتے ابقار سے کہا جس نے سنا نہیں۔
ابقار میں اپکو بلا رہی ہوں۔اس نے اب قدرے اونچا کہا۔
ہمم بولیں۔وہی کام والا انداز۔
آپ اتنے سنجیدہ کیوں ہیں۔یہ سوال غیر متوقع تھا۔لمحے بھر کو حصیفہ کو دیکھا پھر۔
کیونکہ یہ میری طبیعت کا خاصہ ہے۔کہہ کر پھر شروع ہو گیا۔
لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ آپکی طبیعت کا خاصہ ہے مجھے لگتا ہے یہ ایک خول ہے جو اپنے خود پر چڑھایا ہوا ہے۔پر سوچ لہجے میں کہا۔
کیوں کیا اپکو پر شوخ مرد پسند ہیں۔لہجہ عجیب تھا
مردوں کا نہیں معلوم لیکن آپ مجھے سنجیدہ باکل اچھے نہیں لگتے اس نے بھی سنجیدگی سے کہا۔
تو میں کیا کروں اگر اپکو میں ایسا نہیں پسند۔اس نے جھنجھلا کر کہا۔
ایسا کریں یہ سارے کام سائیڈ پر کریں
ہر وقت کام تھکتے نہیں ہیں کام نہ ہو گیا بلا ہوگئی جو آپ خود سے چمٹا کر رکھتے ہیں۔اس نے منہ بنا کر کہا۔
اور میں ایسا کیوں کروں گا۔اس نے انچبھے سے پوچھا
کیوں کہ میں کہہ رہی ہوں اب سو جائیں تھوڑا دماغ کو آرام دیں۔اس نے مسکرا کر کہا۔حیرت انگیز بات وہ لیٹ گیا سمیٹ کر سب۔
سنیں۔اندھیرا میں آواز گونجی
اب کیا ہے۔بیزاری سے کہا۔
اپنا بازو کھولیں۔اس نے آرام سے کہا۔
جی۔اس نے حیرت سے دیکھا
میں یقیناً اردو ہی بول رہی ہوں بازو کھولیں نہ۔اس نے سر ہلا کر کہا۔
اس نے کھول دیا
جزاک اللہ۔بڑی دیدا دلیری سے اسکے بازو پر اپنا سر رکھ دیا۔
یہ کیا کر رہی ہیں اپ۔اس نے حیران ہوتے پوچھے۔
کیا مطلب کیا کر رہی ہوں سو رہی ہوں۔اس نے انجان بن کر کہا۔
ایسے سوئیں گی۔اس نے پوچھا۔
ظاہر ہے اپنے شوہر کے کندھے پر سر رکھا ہے کسی غیر کے تو نہیں اب آپ زیادہ باتیں مت کریں سوجائیں شب خیر۔اپنی کہہ کر اس نے آنکھیں بند کرلیں۔کچھ دیر سن رہنے کے بعد ابقار نے بھی اسے اپنے حصار میں لے آنکھیں بند کر لیں ایک مسکراہٹ حصیفہ لبوں کا احاطہ کر گئی۔
کب تک ایسی چلتا سب۔ کسی ایک نے تو پہل کرنی ہے
________
تیری پلکوں کو چھو کر
اپنے لبوں کو معتبر کر لوں
تیری ہنسی کی جھنکار سے
اپنے دل کی دھڑکن میں شور کر لوں
تیری زلفوں میں چھپ کر
خود کر تیرا اسیر کر لوں
تو چل میرے سنگ اس طرح سے
میں صدیوں کا سفر لمحوں میں طے کر لوں
________
آج حصیفہ کا بہت دل کر رہا تھا کہ وہ گھر جا کر سب سے مل آئے لیکن ابقار کی اس دن کی ڈانٹ کی وجہ سے ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی وہ خود سے گھر فون بھی نہیں کر رہی تھی کہ اگر فون کروں گی تو منتہہ گھر آنے کی ضد کرے گی۔ابھی سب رات کا کھانا کھا رہے تھے جب مبین صاحب بولے۔
بیٹا دانی کا فون آیا تھا ہم سبکو آنے کی دعوت دی ہے۔انہوں منہ روٹی کا نوالہ رکھ کر کہا
اچھا پھر آپ نے کیا کہا۔اس نے نظر اٹھا کر اپنے بابا کو دیکھا۔
بیٹا میں نے کہا میں اور آپکی ماما تو نہیں آ پائے گے لیکن حصیفہ بیٹی اور آپ دونوں ضرور جائیں گے۔انہوں نے آرام سے کہا۔
لیکن بابا ہم کیسے جا سکتے ہیں آوفس میں اتنے کام ہیں آپ کیسے ہینڈل کریں گے۔نہ جانے جواز پیش کیے گئے۔
بیٹا آپ دونوں کی ابھی شادی ہوئی ہے اور پھر کہیں گھومنے بھی نہیں گئے تم دونوں۔اس بار حلیمہ بیگم نے جواز رد کیا۔
لیکن ماما۔کچھ کہنا چاہا
بیٹا انہوں نے اتنے خلوص سے دعوت دی ہے اور وہ آپکی بہن کا سسرال ہے نہیں جائیں گے تو انہیں برے لگے گا اور کام کی آپ فکر نا کرو میں وہاں اکیلا نہیں ہوں اور بھی لوگ ہیں اور دونوں کونسا ایک مہینہ کے لیے جا رہے ہو ایک دو ہفتے میں گھوم پھر کر آجانا ہے۔انہوں نے رسان سے سمجھایا
لیکن بابا پھر ماما اکیلی ہو جائیں گی آپ آوفس چلے جاؤ گے اور ہم دونوں چلے گئے تو۔اب کے نہ جانے کا جواز حصیفہ کی طرف سے آیا کیوں کہ اسکو ابقار کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ اسکے جانے کا کوئی موڈ نہیں
نہیں بیٹا میں بالکل اکیلی نہیں ہوں گی البتہ تو میں دوپہر میں سو ہی جاتی ہوں اور اگر اکیلی ہوئی بھی تو درس کے لیے چلی جاؤں گی اور مبین صاحب شام تک اجاتے ہیں اس آپ دونوں بے فکر ہو کر جاؤ۔بات ہی ختم کر دی گئی۔
ماما بابا آپ دونوں سیدھا طرح سے کہہ دیں کہ بھئی ہماری جان چھوڑو اور ہمیں کچھ دنوں کے لیے اکیلا رہنے دو۔ابقار نے منہ بنا کر لہجے میں شرارت تھی
کا یہی سمجھ لو لیکن آپ دونوں جا رہے ہو چار دن بعد کی فلائٹ ہے۔انہوں نے اسکی بات کی تائید کی پھر آگاہ بھی کر دیا۔
یعنی آپ ہمارے جانے کا پورا انتظام کر چکے کیں۔ابقار نے حیرت سے کہا۔
جی بالکل کیوں کہ مجھے علم تھا کہ اگر یہ کام آپ پر چھوڑا گیا تو کبھی نہیں جانا آپ نے۔انہوں نے مسکرا کر کہا۔
یہ ٹھیک ہے۔اس نے پھر منہ بنا کر کہا۔
حصیفہ بیٹا آپ بھی اپنی امی کے گھر ہو آؤ شادی کے بعد تو آپ بالکل نہیں گئی۔اور اگر کوئی شاپنگ کرنی ہے تو وہ بھی کر لینا۔انہوں حصیفہ سے کہا جو اب کھانے کے بعد برتن سمیت رہی تھی۔
نہیں ماما مجھے تو کوئی شاپنگ نہیں کرنی لیکن ہم اگر جا رہے ہیں تو آپ ان کے لیے کچھ تحفے لینے ہونگے نہ۔اس نے کہا گھر والی بات گول کر گئی
جی بیٹا لیکن وہاں اب ٹھنڈا موسم ہوگا تو گرم سوٹ کی ضرورت ہوگی ایسا کرو آبی کے ساتھ چلی جاؤ اور جو بھی اپکو انکے لیے لینا ہو لے آنا۔انہوں نے اس کو دیکھ کر کہا۔
لیکن ماما مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آئے گا آپ اور ابقار چلے جائیں نہ۔اس نے گھبرا کر کہا۔
ارے بیٹا مجھے آپکی پسند کا کچھ نہیں پتا اور اگر آپ خود سے انکے لیے تحفے لو گی تو زیادہ اچھا رہے گا اسی بہانے اوٹنگ بھی ہو جائے گی آپ دونوں کی۔انہوں نے انکار کو رد کر دیا
جی ٹھیک ہے۔وہ سر ہلا کر رہ گئی۔
