Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Sakoon e Rooh (Episode 18)

Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan

ہاں میں بالکل ہوش میں ہوں مجھے یہ مصیبت نہیں پانی نہ مجھے بچے پسند ہیں اسی لیے میں نے ابورشن کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس نے تحمل سے کہا

تم ایسا کچھ نہیں کرو گی اگر میرے بچے کو تم نے ایک بھی نقصان پہچانے کا سوچا میں تمھیں ژندہ نہیں چھوڑوں گا۔وہ کیسے اس کے ہاتھوں اپنی اولاد کا نقصان ہوتے دیتا

ابقار مبین میں نے تم سے شادی اسی لیے نہیں کی تھی کہ میں اپنی سارے کام چھوڑ کر تمھیں یا تمھارے بچے سنبھالوں گی میں اس بچے کو نہیں رکھ سکتی تم نے جو کرنا ہے کر لو ۔اس نے نخوت سے ککا اس بات پر ابقار کا ہاتھ اٹھا تھا اور لیزا کے منہ پر اپنے نشان چھوڑ گیا تھا اس کے بعد تو گھر میں ایک ہنگامہ برپا ہوا تھا لیکن ابقار اپنی زندگی کو جہنم بنانا نہیں چاہتا تھا اسی لیے اس نے لیزا کو بہت منایا اور وہ ایک شرط پر مانی تھی کہ اسے ایک الگ گھر چاہیے۔اخر ابقار نے اسکی یہ شرط مان لی۔لیکن ابھی مزید امتحان باقی تھے

ماما میں آج کل بہت مصروف ہوں اسی لیے لیزا کا خیال ٹھیک سے نہیں رکھ پا رہا کیا آپ میری غیر موجودگی میں اسکا خیال رکھے گی۔وہ آج اپنے گھر آیا تھا

ہاں میرا بچہ کیوں نہیں اور ویسے بھی ابھی اسکو خیال کی ضرورت ہے تم فکر نہیں کرو میں کل سے چلی جایا کروں گی۔انہوں نے محبت سے کہا

شکریہ ماما آپ بہت اچھی ہیں میں بہت شرمندہ ہوں کہ میں ایسے آپ سے دور چلا گیا لیکن میں کیا کرتا ماما لیزا نے مجھے کہا تھا کہ اگر میں اسکی یہ شرط پوری نہیں کر دیتا وہ ابارشن کرا دے گی۔اس نے شرمندگی اور بے بسی سے کہا

کوئی بات نہیں میری جان ماں باپ اولاد سے کبھی جدا نہیں ہوتی آج نہیں تو کل سب سیٹ ہو جائے گا ہمارے بچے خوش رہیں اور ہمیں کیا چاہیے۔انہوں نے محبت سے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔

اچھا ماما اب میں چلتا انشاللہ پھر آؤں گا آج مجھے لیزا کو چیک کے لیے لے کر جانا ہے۔اس نے انکے ہاتھ چومے اور اٹھ کھڑا ہوا۔

اچھا بیٹا خیریت سے جاؤ اور ہمیشہ خوش رہو۔انہوں نے دل سے دعا تھی جو شاید قبولیت کا درجہ اختیار نہ کر پائیں تھیں

_-_-_-#+

پھر اگلے ہی روز سے حلیمہ بیگم اسکا خیال رکھنے کے لیے آنے لگیں تھیں لیکن لیزا کو یہ بھی برداشت نہیں ہوتا تھا کہ وہ ہر اسے احتیاط کا لیکچر دیتی تھیں اور اسے کہیں جانے بھی نہیں دیتیں تھیں جس سے وہ انتہا سے زیادہ خار کھاتی اسے لگتا وہ ایک پنجرے میں قید ہو گئی ہے اور اسکی ساری آزادیاں سلب ہو گئیں ہیں وہ اسکی دوائیوں اور غذا ہر طرح سے خیال رکھتیں تھیں پریگنینسی کو پانچ مہینے ہو گئے تھے کہ ایک دن اس کے پیٹ میں شدید درد اٹھا تھا حلیمہ بیگم کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔

ہ۔ہیلو ابقار بیٹا جلدی گھر آؤ لیزا کی طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے جلدی پہنچو ۔انہوں نے پریشانی اور گھبراہٹ بھرے لہجے میں کہا

ا۔اچھا ماما آپ اسے دیکھیں تب تک میں آتا ہوں۔وہ بھی ایک دم پریشان ہو گیا تھا

پھر وہ لوگ اسے جلد سے جلد ہسپتال لے گئے لیکن اس دن ابقار کی خوشیوں کو گرہن لگ گیا ۔

سوری ہم آپکے بے بی کو نہیں بچا سکے لیکن آپکی وائف خطرے سے باہر ہیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے آپ میرے کیبن میں آئیں ۔انہوں نے سن کھڑے ابقار کو کہا

کتنا خوش تھا وہ کہ کوئی اسے بابا کہے گا وہ اسکا بچپن جئیے گا اسکے لیے ساری خوشیاں وقف کر دے گا لیکن خواہشیں پوری نہیں ہو پاتیں۔

پھر جو ڈاکٹر نے کہا اسے اپنا آپ سناٹوں میں محسوس ہوا

آپکی وائف کا مسکیرج ابارشن پلز کھانے سے ہوئیں پچھلے دو مہینوں سے مسلسل یہ پلز انکے استعمال میں تھیں۔اس سے زیادہ اس سے سنا نہیں گیا وہ باہر آگیا۔ لیزا کو لے کر گھر پر آگئے تھے البتہ حلیمہ بیگم تھوڑی دیر رک کر چلی گئیں۔

کیوں کیا تم نے ایسا کیوں مارا تم نے میرے بچے کو میں نے تمھاری ہر بات مانی اور تم نے مجھ سے میری یہ خوشی چھین لی آخر کیوں لیزا۔اس نے لیزا کو شدید غم و غصے میں جھنجھوڑ ڈالا

آج ہسپتال سے آئے دوسرا دن تھا

کیا کیا ہے میں نے جو تم اپنی جہالت پر اتر آئے ہو۔اس نے بھی چیختے ہوئے خود کو چھڑوایا

تمھیں یہ بچہ کبھی چاہیے ہی نہیں تھا اس لیے تم نے خاموشی اختیار کر لیا اپنی شرط تو تم منوا ہی لی تھی اس لیے تم ابارشن پلز لینا شروع کر دیں تمھیں زرا خوف نہ آیا کہ تم خود کے وجود کے حصہ کو قتل کر دیا۔ابقار نے اپنی انگلیاں اپنے بالوں میں پھنسا لیں

ک۔کیا بکواس کر رہے ہو بھلا میں ایسا کیوں کروں گی اور ویسے بھی تمھاری اطلاع کے لیے بتا دوں کہ مجھے روز میڈیسن تمھاری ماما ہی کھلاتی تھیں۔اس نے اسے گھور کر کہا

کیا مطلب ہے تمھارا کہ میری ماما نے تمھیں وہ دوائی کھلائی ہے ت۔تم ہوش میں تو ہو۔اسکی بات سن کر وہ تیش میں دھاڑا

میں نے ایسا کچھ نہیں کہا جس بات کا تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو اسکا جواب دیا ہے ۔وہ جواباً چیخی۔

تمھارے کہنے کا مقصد تو یہی تھا نہ۔اس نے اسے گھورا

ہاں ہو سکتا ہے انہوں نے کیا ہو وہ تو ویسے ہی اس شادی سے خوش نہیں تھیں تمھاری وجہ سے مجبوراً انہوں نے مجبوراً مجھے بہو تسلیم کرنا پڑا اور اب تو میں ماں بننے والی تھی میری اہمیت مزید تمھاری زندگی میں زیادہ ہو گئی جو شاید انہیں اچھا نہیں لگا تبھی شاید انہوں نے یہ کام کیا ہو۔اس نے تحمل سے مکاری لہجے میں کہا

اور یہ مکاری ابقار مبین سمجھ نہیں پایا تھا اور اسکی باتوں میں آگیا ۔دوسرے دن وہ حلیمہ بیگم پر چڑھ دوڑا تھا اور ان پر اپنے بچے کے قتل کے الزام لگا گیا وہ لمحہ حلیمہ بیگم کے لیے قیامت سے کم ثابت نا ہوا تھا انہیں شدید ہارٹ اٹیک آیا تھا

بھلا کوئی ماں کیسے یہ باتیں برداشت کرسکتی ہے اصل سے تو سود پیارا ہوتا ہے اور انہوں نے تو ہمیشہ اپنے بچوں کی خوشیوں کی دعائیں مانگیں ہیں وہی اولاد انہیں ااسکی خوشیوں کا قاتل ٹہرا گئی۔مبین صاحب بھی ایک دم ڈھے گئے جب ہسپتال لے کر پہنچے تو مبین صاحب نے سختی سے اسے کہا تھا کہ آئندہ اگر اپنی شکل دکھائی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا اور اگر میری بیوی کو کچھ بھی ہوا تو میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔اور پھر ابقار کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے نکل گیا۔لیکن گھر پر اسکے لیے ایک اور دھچکا تیار تھا

ہاں یار میں بیزار آگئی ہوں اس زندگی سے اور اب میرا اس ابقار سے دل بھی بھر گیا ہے۔لیزا کسی سے محو گفتگو تھی اور ابقار دروازے پر ہی رک گیا

میں تو شکر ادا کر رہی ہوں کہ میری اس عذاب سے جان چھوٹی پتا ہے جب میں وہ پلز لینا شروع کیں تو میں ڈر گئی تھی کیوں کہ اسکے یوز سے میری جان کو بھی خطرہ ہو سکتا تھا۔اس نے لہجے میں اطمینان تھا

نہیں یار اسے شک ہو گیا تھا لیکن میں بھی اپنے نام کی ایک تھی میں نے بھی ایسی چال چلی سارا الزام اسکی ماں پر ڈال دیا اب وہاں جنگ چل رہی ہوگی۔اس نے مکاری سے ہنستے ہوئے کہا

اور وہ بے یقینی کے عالم میں مٹھیاں بھینچ گیا

میں تمھیں ایک بات تو بتانا بھول ہی گئی مجھے نہ وہ لاریم فون کر کہ پریشان کر رہا ہے دھمکی بھی دی ہے اس نے۔اس نے پریشانی سے کہا

وہی جو بریک اپ سے پہلے اسکے اور میرے درمیان جو ہوا تھا اس نے تصوریں کھیچ والیں تھیں اب وہ مجھے بلیک میل کر رہا ہے کہ اسے ایک ایک لاکھ دوں ورنہ وہ ابقار کو میری تصوریں بھیج دوں گا۔اس کے لہجے میں واضح ٹینشن تھی

اور ابقار اسکے تو قدم لڑکھڑا گئے و۔وہ اب تک ایسی لڑکی ساتھ اپنی زندگی گزار رہا تھا وہ پہلے سے ہی برتی ہوئی تھی ۔یعنی ا۔ایک زانی عورت اس نے اپنی پاکیزہ محبت ایک میلی لڑکی پر لگائی۔

آگے پیچھے اسکے دھماکہ ہونے لگے تھے۔و۔وہ لڑکھڑا کر زمین پر بیٹھتا چلا گیا ۔

اس دن کے بعد سے ابقار مبین کی زندگی میں دور دور تک تاریکی پھیل گئی۔ابقار نے پورے ہوش و حواس میں لیزا کو طلاق دے دی تھی۔

&$&&$_

وہ خاموش ہو گیا کمرے میں دونوں کی محض سسکیاں گونج رہی تھیں

م۔میں نے تو اس سے سچی اور پاکیزہ محبت کی تھی نہ پ۔پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ہچکیوں کے درمیان رک رک کر کہا

اللہ نے تو قرآن میں بھی کہا ہے نہ کہ پاک مردوں کے لیے پاک عورت اور گندے مردوں کے لیے گندی عورت ۔ت۔تو میں نے کبھی کسی کو گندی نظر سے د۔دیکھا تک نہیں ت۔تو پھر مجھے ایک ایسی عورت کیوں دی جو پہلے سے برتی ہوئی تھی کیوں ۔وہ درد سے خیچا اس کے لہجے میں کئیں کانچ ٹوٹی کرچیوں کے چبنے کی تکلیف تھی اور یہ چبھن خاموش آنسوں بہاتی حصیفہ کو بھی اپنے اندر چبھتے محسوس ہوئے۔

ج۔جانتی ہیں مجھے خود سے گھن محسوس ہونے لگی تھی میں کئی گھنٹے پانی میں رہ کر خود کو ڑگرتا تھا ک۔کہ شاید میرے جسم سے لگی گندگی مٹ جائے مم۔میں نے خود اس کمرے تک قید کر لیا تھا تاکہ کوئی مجھے چھو نہ سکے اور اسکو مجھ میں لگی گھن نا لگ جائے۔وہ دیوانوں سا کہہ رہا تھا

اپ نے اپنی محبت پاکیزہ رکھی کب تھی۔اس کی نم آواز میں کہا وہ خاموش ہو گیا تھا

کیا مطلب۔اس نے انچبھے سے پوچھا

جانتے ہے جب ہم کسی نا محرم سے محبت کرتے ہیں تو اسے پاکیزہ رکھنا کتنا مشکل کام ہوتا آپکا نفس اپکو قدم قدم پر بہکاتا ہے اور پھر انسان یہ جنگ یار جاتا ہے پاکیزہ محبت تو وہ ہے کہ محبوب آپکے سامنے ہو اور آپ اسکو دل کی خواہش کے باوجود نظر اٹھا کر نہ دیکھنا کہ اگر آپ نے اسے دیکھا تو کہیں اسے آپکی محبت بھری نظر بھی اسے میلا نہ کر دے اور آپ تو اس سے آگے بڑھ گئے تھے اسے چھو لیا۔اس نے بے تاثر لہجے میں کہا۔

_________

جانتے ہیں اللہ نے نکاح کو پسند کیوں فرمایا ہے کیونکہ جب دو اجنبی لوگ محبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو انکی محبت نا پاک نہیں ہو پاتی وہ کہیں برائیوں سے بچ رہے ہوتے ہیں اس میں کوئی محبت بھرا لمس بھی گناہ تصور نہیں ہوتا اللہ نے ہمیں اپنے نفس پر قابو کرنے کے لیے بولا ہی اسی لیے ہے اگر آج ہم نے یہ جنگ لڑلی تو ہم انعام کے حق دار ٹہرائے جائینگے آج کل منگی کو لوگ نکاح کا درجہ دینے لگے ہیں ایک نا پائیدار رشتہ جس میں باتیں طوالت اختیار کر جاتی ہیں اور حدیں بھی اور یہ گناہ ہی ہے کیوں کہ اس میں اللہ اور رسول گواہ نہیں ہوتے انکی رضا شامل نہیں ہوتی وہ بس آپ اپنے نفس سے مجبور ہو کر گناہوں کے گڑھوں میں اپنا گڑھ تیار کر رہے ہوتے ہیں اور یہ بات تو صبیح اچھے جانتے ہیں کہ جب دو نامحرم تنہا ہوں تو انکے درمیان شیطان ہوتا ہے جو انہیں غلط کرنے پر اکساتا ہے۔وہ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بولی تھی

اور آپ بات کرتے ہیں کہ آپکے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔کیا آپ نے اپنے ماں باپ کا دل نہ دکھایا کل کی محبت کے خاطر آپ نے انھے چھوڑنے کی دھمکی دے دی آپ کے ضمیر نے زرا اپکو ملامت نہ کی کہ آپ نے انکا دل دکھایا جنہوں نے آپکی چھوٹی بڑی خواہشوں کو پورا کیا اللہ نے جنہیں آپکا رہنما بنا کر بھیجا تاکہ آپ کہیں برائی کو اچھا نہ سمجھ لیں اپنی پریشانیاں پرے رکھ کہ اپکو ہر پریشانی سے بچانے کی تگودو کرتے رہے اور آپکا اعتبار بھی اتنا کم تھا کہ اس لڑکی نہ کہا کہ تمھاری امی نے یہ کیا ہوگا اور چند دلیلیں دے دیں آپ نے آنکھیں بند کر کہ یقین کر لیا اور ماں کو قاتل ٹہرا آئے پھر کہتے ہیں آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔اس نے جیسے اسکی عقل پر ماتم کیا

یقینا آپکے ماں باپ نے اپکو معاف کر دیا ہو وہ بھول بھی چکے ہوں لیکن اللہ حساب لینا نہیں بھولتا انسان کے ساتھ کیے برے کی سزا ضرور دیتا ہے۔اس کے لہجے میں دکھ تھا ایسا نہیں تھا کہ اسے ابقار کے ماضی سے تکلیف نہ ہوئی تھی لیکن جب ابقار نے یہ کہا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا تو اسکا جواب دینا ضروری سمجھا وہ خاموش ہو گئی پھر تھوڑی دیر بعد کمرے سے چلی گئی۔

_&-#-#–#

پورا دن وہ کمرے میں پڑا رہا شاید اب سکون حاصل ہو گیا تھا انسان جب ایسے کو اپنا درد اللہ کے بعد سناتا ہے جسکو وہ اپنا غمخوار سمجھے تو دل میں کہیں ھمجو تھوڑی سی بے سکونی ہوتی ہے وہ بھی دور ہو جاتی ہے۔یہ وہ پوشیدہ باتیں تھیں جو ابقار نے اپنی سگی ماں کو بھی نہ بتائیں کتنے دن تک تو اسی جگہ پڑا رہا تھا جہاں اس نے اپنی خوشیوں کا اشیانہ بنانے کا خواب دیکھا تھا اور وہ آشیانہ کا خواب آگ لگ کر خاک ہو چکا تھا۔کتنے ماہ وہ اپنے ماں باپ سے نظریں نہ ملا پایا تھا اور یہ وہی ماں باپ تھے جنہیں وہ کل محبت کے رسوا کر گیا اور انہیں ماں باپ بنا کوئی سوال کیے اسکو تاریکی سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

_&#&&#

ماما۔وہ کمرے میں داخل ہوا۔

ارے میری جان وہاں کیوں کھڑے ہو اندر آؤ نہ۔وہ کچھ پرانے کپڑے نکالے بیٹھی تھیں جو بچوں کے معلوم ہوتی تھیں

آبی تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ یہ آنکھیں کیوں اتنی لال ہو رہی ہیں۔مبین صاحب نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا

ماما بابا میں بہت برا ہوں نہ۔وہ ان دونوں کے قریب آگیا اور بھرائی آواز میں بولا نظریں جھکی ہوئی تھیں

نہیں میری جان کیا ہوا ہے۔حلیمہ بیگم نے نے پریشانی اسے دیکھا

میں نے اپکو بہت تکلیف دی ہے نہ بہت دکھ دیے ہیں آپکی محبت داری محبت میں پیچھے کر دیا مجھے معاف کر دیں پلیز ماں بابا مجھے معاف کر دیں۔وہ کہتا کہتا پھوٹ پھوٹ کر رو دیا

بس میرا بچہ خاموش ہوجا ہمارا بیٹا بہت اچھا ہے۔حلیمہ بیگم نے اسے سینے سے لگا لیا سمجھ تو وہ گئیں تھیں اور مبین صاحب نے انہیں دیکھا

ا۔اپ دونوں نے مجھے معاف کر دیا نہ۔وہ بچوں کی طرح سے پوچھ رہا تھا

ہم آپ سے ناراض تھے ہی کب میرا بچہ اور ماں باپ تو اپنے بچوں کی ہر غلطی انکے غلطی کرنے کچھ پلوں بعد ہی بھلا دیتے ہیں۔مبین صاحب نے اسے تھپکا

آپ لوگ بہت اچھے ہیں۔اس نے محبت سے دونوں کو گلے لگا لیا۔

اچھا یہ دیکھو میں نے زینی اور تمھارے بچپن کے کپڑے نکالے ہیں۔انہوں نے اسے کپڑے دیکھائے کپڑے تین چار مہینے کے بچے کے تھے

اتنے سے تھے تم لوگ اور اب اتنے بڑے ہو گئے کہ خود ماں اور باپ بن گئے وقت گزر جاتا ہے پتا بھی نہیں چلتا۔انہوں نے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کہا

بالکل پہلے ہم ماں باپ تھے اب نانا نانی اور دادا دادی بن رہے ہیں۔انہوں نے ہنس کر کہا

ویسے ماما اپنے یہ کپڑے کیوں نکالے ہیں۔؟ اس نے پوچھا

بیٹا آپکی ماما کو عادت ہے جب انکے بچوں کے بچے ہوں تو یہ کپڑے نکال کر یاد کرنا کہ میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں۔ابقار صاحب نے شرارت سے کہا

اپ بھی نہ کچھ بھی بولتے ہیں یہ تو ماں کے لیے کہ اہم ترین لمحات کی یادیں ہوتی ہیں جب الادیں بڑی ہو جائیں تو وہ اکثر انہیں لمحات میں خود کو محسوس کرتی ہیں۔انہوں نے ممتا بھرے لہجے میں کہا۔

ماما آج میں یہی سو جاؤں۔ابقار کا دماغ خراب ہو گیا

نہیں جی آپ اپنی بیگم کے پاس جائیں انہیں آپکی زیادہ ضرورت ہے ہماری بیگم پر قبضہ کیوں کر رہے ہو بھائی۔ابقار صاحب نے مصنوعی رعب سے کہا

مبین صاحب آپ بھی بس ایسی ہی بولتے رہتے ہیں۔انہوں نے منہ بنا کر کہا

پھر تینوں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *