Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 14,15)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 14,15)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
تیری سیاہ کانچ کے سمندر میں
کھو کر ہم اپنا آپ بہاتے ہیں
آبی پلیز کیا کر رہے ہیں آپ کوئی اجائے گا۔وہی روایتی سا جملہ۔
آپکے لیے عرض ہے کہ یہاں کوئی نہیں آرہا اور اگر آیا بھی تو پہلے دروازہ ناک کرے گا اور دروازہ لاک بھی ہے۔اس نے اس کے سر سے سر ٹکرایا
خیریت ہے آج کیا اپنے رومانس کی ایپ ڈاؤن لوڈ کر وائی ہے جو اتنے رومانوی حرکتیں کر رہے ہیں۔اس نے گھور کر کہا
آپ ہی کو شکایت تھی کہ میں اپکو ٹائم دیتا وہی تو دے رہا ہوں۔پھر جھکا اور اسکی ناک سے ناک مس کی ۔
ویسے ہمیں یہاں آئے تین دن ہو گئے ہیں اور ہم ابھی تک کہیں گئے ہی گھومنے ۔اس نے درمیان میں فاضلہ بناتے ہوئے کہا
اپکو تو گھومنے کا شوق ہی ہے تو ابھی اپکو گھومنے کی کیا سوجی۔اس نے آنکھیں گھما کر کہا
تو وہاں تو ہم رہتے ہیں پھر کبھی گھوم لیں گے لیکن میں نے یہاں کی چند مشہور جگہوں کے نام بہت سنے ہیں جیسے داتا دربار بادشاہی مسجد اور یہاں کا چڑیا گھر بھی اور یہاں آئیں تو گھومنا تو چاہیے ہیں نا۔اس نے آنکھیں پٹپائیں۔
یہ کیوں نہیں کہتی کہ آپکا میرے ساتھ اکیلے ٹائم گزارنے کا دل چاہتا رہا ہے۔اس نے مار کر کہا۔
بندہ خوش رہے لیکن خوش فہمی میں نہیں ابھی زنیرہ کہہ رہی تھیں کہ ہم ویکینڈ پر جائیں گے گھومنے ۔اس ناک سے مصنوعی مکھی اڑا کر کہا
ہمم اچھا خیر میرے لیے ایک کپ کافی بنا دیں۔اسے سردی سی محسوس ہوئی تو بولا
ہاں اب سردی لگ رہی ہے اپکو کس نے کہا کہ ہر وقت پانی کا بلا بنے رہنے کو ارے بندہ دو ٹائم نہا یہ کیا کہیں سے بھی آؤ اور فریش ہونے کے بجائے نہا لو۔اس نے بھی آنکھیں سکیڑ کر کہا
اچھا باقی کا بعد میں لڑ لینا پہلے کافی لے آئیں اور مجھے سردی نہیں لگ رہی کافی کی طلب ہو رہی ہے۔وہ بھی ابقار تھا کیسے اپنی سردی واضح ہونے دیتا نارمل انداز میں کہتا ہوا بیڈ دراز ہو گیا۔
میں آپ سے لڑتی نہیں ہوں آپکی بھلائی کے لیے کہتی ہوں آپ کو تو قدر ہی نہیں۔اس نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا اور منہ پھلائے کہا
حصیفہ لڑتی ہی ہیں سب کے سامنے تو آپکی یہ زبان کھلتی نہیں اور مجھ سے لڑنے میں آگے آگے آجاتی ہیں جیسا پککا دشمن میں ہی ہوں اپکا۔اس نے گھورا۔
ہنہہ آپ سے تو کچھ کہنا ہی فضول ہی ہیں۔منہ چڑھاتی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
اور ابقار اسکے میں چڑانے پر مسکرا اٹھا کچھ دنوں ابقار مبین کی دنیا بدل رہی تھی احساس جو کہیں منجمد ہو گئے تھے پگھلنے لگے تھے جو اسنے محبت کی تھی وہ تو اسے بیچ راہ میں چھوڑ گئی تھی جہاں اسے اندھیرے کے سوا کچھ نہ دکھائی دیتا تھا لیکن اب اسے اپنی راہوں میں روشنی محسوس ہونے لگیں ایسا نہیں تھا کہ اسے حصیفہ سے گہری محبت ہو گئی تھی لیکن یہ مرحلہ زور و شورو سے پروان چڑھنے لگا تھا اور اسکی کئ حد تک وجہ حصیفہ کی کہی باتیں تھی اب دیکھتے ہیں کہ اللہ نے ان کے نصیبوں میں کیا لکھا ہے
$&&_###
مبین صاحب مجھے ایک بات بہت پریشان کر رہی ہے۔حلیمہ بیگم نے پریشان لہجے میں انہیں مخاطب کیا جو آنکھوں پر چشمہ چڑھائے کسی کتاب کی ورق گردانی کر رہے تھے۔
کونسی بات۔انہوں نے نظر اٹھا کہ انہیں دیکھا
وہ ہ ہم نے وہاں آبی اور حصیفہ کو بھیج تو دیا ہے لیکن اگر کسی آبی کے ماضی کے بارے میں کوئی بات کی تو۔انہوں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
تو اپنے انہیں سب بتایا ہوا تو ہے نہ حصیفہ بیٹی سمجھدار ہیں جب انہیں پہلے کوئی اعتراض نہیں تھا تو اب بھی وہ سنبھال لیں گیں۔انہوں نے ایک نظر پریشان بیوی کو دیکھا ۔
۔وہ۔وہ میں نے آبی کے ماضی کے بارے میں حصیفہ کے گھر والوں کو کچھ نہیں بتایا۔انہوں گھبرا کر اٹک اٹک کر بتایا
انہوں نے حیرت سے انہیں دیکھا
یعنی آپ نے ان سے سچ چھپا کر شادی کی کیوں؟؟بے یقینی سی بے یقینی تھی
کیسے بتاتی آپ تو جانتے ہیں کہ آج کل کوئی بھی اپنی کنواری بیٹی ایک مطلق شدہ آدمی سے نہیں دیتا اور حصیفہ ایک بہت اچھی لڑکی ہے جسے میں اپنی بہو بنانا چاہتی تھی کیوں کہ مجھے امید ہے کہ وہ میرے بیٹے کو اندھیروں سے دور ہونے میں مدد گار ثابت ہوگی اور مجھ میں مزید ہمت نہیں تھی اپنے بیٹے کو یوں تنہا دیکھنے کی روز اسے رات کی تاریکی میں اسکا تڑپنا وہ صرف ہمیں دکھانے کے خوش رہتا تھا اندر سے وہیں کا وہیں ہے۔انہوں نے بے بسی اور درد بھرے لہجے میں کہا ماں تھیں نہ جانتی تھیں
تو آپ نے آبی کی زندگی کا ایک ایسا حصہ چپھایا جو کسی سے بھی پوشیدہ نہیں جو آج نہیں تو کل انکے سامنے ضرور آئے اپکو لگتا ہے کہ تب وہ اس گھر میں ٹہرے گی۔انہوں شکوہ کناں نظروں سے انہیں دیکھا کیوں کہ وہ نہیں سمجھتے تھے کہ انکی شریک حیات اپنے بیٹے کی خوشیوں کے لیے خود غرض بن جائیں گی۔
ہاں ضرور کیوں آپ بھی تو کہتے ہیں کہ وہ بہت سمجھدار ہے اور اب ماضی کی کوئی بات بھی حال کا حصہ نہیں رہی۔انہوں نے مضبوط لہجے میں کہا
ماضی کی کبھی ختم نہیں ہوتا کبھی نہ کبھی اپنی جھلکیاں حال میں ضرور دکھاتا ہے۔انہوں تاسف سے حلیمہ بیگم کو دیکھ کر کہا
پر وہ خاموش رہیں فکر تو اب انہیں بھی ہونے لگی تھی اپنی غلطی کی
__#_#_#&
حصیفہ آنکھیں کھولیں پلیز کیا ہوا گیا ہے اپکو۔اس نے اسے جھنجھوڑا جو بے سدھ پڑی تھی اور ہونٹ ہلکے نیلے ہو رہے تھے ۔
زنیرہ دیکھو نہ یار یہ کچھ بول کیوں نہیں رہیں ہیں۔وہ عجیب ہو رہا تھا
آبی کچھ نہیں ہوگا اسے زیادہ سردی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ڈاکٹر دیکھ گئی ہیں نہ اب تم اسکے پاس بیٹھو میں سوپ بھیجتی ہوں۔وک اسکا کندھا تھپتھپا کر چلی گئی
پلیز اللہ تعالیٰ انہیں ہوش اجائے ۔وہ اسکا ہاتھ تھامے کہہ رہا تھا ۔
آج صبح جب وہ اٹھا تو حصیفہ تب بھی سو رہی تھی وہ چونکا ضرور کیوں کہ یہاں آنے کے بعد بھی حصیفہ کی وہی روٹین تھی ۔
لیکن ساری ضروریات سے فارغ ہو کر جب کمرے میں داخل ہوا حصیفہ تب بھی اسی پوزیشن میں تھی اسے تفتیش ہوئی ۔وہ اسکے قریب گیا اور کمبل ہٹایا
دو تین بار ہلانے ہر بھی وہ نہیں تو اسے مزید پریشانی نے آ گھیرا کیوں کہ وہ ٹھنڈی پڑی تھی اور ہونٹ بھی نیلے ہو رہے تھے اسکے بعد پریشانی کے عالم میں زنیرہ کو بلایا اور پھر ڈاکٹر گھر میں ٹریٹمنٹ دے کر چلی گئی
ابقار کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی قیمتی متاع اسکے ہاتھ سے جا رہی ہوں اسکی حیات کو پھر اندھیروں میں گھسیٹا جا رہا ہو۔
پا۔پانی۔حصیفہ ہوش میں آرہی تھی اور پیاز کی شدت سے اسے ہوش آنے لگے۔
پ۔پری آپ ٹھیک ہیں۔وہ فوراً اسکے اوپر جھکا کیوں سارا دھیان ہی اسی پر تھا
پپ۔پانی۔اس نے پھر نقاہت سے کہا
یہ لیں پانی پی لیں ۔اسنے فورا سے پانی کا گلاس آدھا بھر کر اسکے لبوں سے لگایا۔
آپ ٹھیک ہیں اب۔اس نے فکر مندانہ لہجے میں پوچھا
جی بہتر ہوں۔اس نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
آپ آرام کریں میں آپکے لیے سوپ لاتا ہوں زینی نے بنا لیا ہوگا وہ جلدی سے اٹھا باہر چل دیا
نقاہت ابھی تھی لیکن اسکی ول پاور اچھی تھی جسکی وجہ سے زیادہ مسئلہ نہیں ہوا اور گھر میں ٹریٹمنٹ ہو گیا
آپ خود کیوں اٹھ کر بیٹھ گئیں ہیں۔وہ سوپ لے کر ک۔رے میں داخل ہوا تو اسے گھور کر کہا جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔
اب میں بہتر محسوس کر رہی ہوں اور مجھے بھوک محسوس ہو رہی ہیں اب سوپ لے آئیں تو دیں بھی دیں ۔اس نے مسکرا کر معصومیت سے کہا
جی وہ تو تھوڑی دیر پہلے لگ رہا تھا کہ آپ کتنی ٹھیک ہیں اگر اپکو اتنی ہی ٹھنڈ لگ رہی تھی تو اے سی بند کر دیتیں۔اس کے قریب بیٹھ کر سوپ بھرا چمچ اسکے منہ کی طرف بڑھایا
اگر بند کر دیتی تو اپکو بے چینی ہوتی کیونکہ اپکو کمرہ ٹھنڈا رکھ سونے کی عادت ہے اگر کبھی میں وہاں بھی اے سی اوف کرتی تھی اپکو گرمی لگنے لگتی ہے اسی لیے میں نے بند نہیں کیا۔اس نے سوپ ہوئے عذر پیش کیا
یعنی میری وجہ سے بھلے آپ اس دنیا سے کوچ کر جائیں ۔اس نے حیرانی اسے دیکھا
جب جسے کوچ کرنا ہے وہ کر جاتا ہے بھلے بیمار ہو یا نہیں ۔اس نے سوپ پیتے ہوئے کہا
اچھا اب زیادہ باتیں نہیں کریں اور آرام کریں تب تک میں آتا ہوں ایک کام ہے مجھے۔اس نے پیالا سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اٹھا
ہاں یہاں بیمار ہے اور انہیں ابھی بھی کاموں سے فرصت نہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے بڑی فکر جتا رہے تھے ہنہہ۔اس نے بڑبڑا کر کہا جو ابقار نے سن لیا
کہا نہ کام سے جا رہا ایک گھنٹے میں واپس آجاؤں گا اب زیادہ بولیں نہیں اور خاموشی سے سو جائیں۔اس نے چڑ کر کہا
اچھا تو جائیں میں نے تھوڑی روکا ہے اور ویسے بھی نماز کا ٹائم ہو رہا ہے مجھے نماز پڑھنی ہے۔اس نے منہ بنا کر کہا
اس حالات میں بھی اپکو نماز پڑھنی ہے۔اس نے ابرو آچکا کر کہا
نماز کسی حالت میں معاف نہیں چاہے انسان معذور ہی کیوں نہ ہو اور اب میں بہتر ہوں تو نماز ادا کر سکتی ہوں۔اس نے کمبل ہٹایا اور اٹھ کھڑی ہوئی
جیسی آپکی مرضی گیزر ضرور آن کر لینا کہیں ایسا نہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے کھڑی ہو جائیں۔اس نے ہدایت کی
اور پھر چلا گیا۔
____________
محبت بہت خوبصورت جذبہ ہے اور اسے پاک رکھنا ہمارا فرض ہے یہ وہ پودا جس کی شاخیں اگر دل پر اپنی گرفت مضبوط کر لیں تو نفرت جیسا جراثیم آپکے دل کو بیمار نہیں کر سکتا یہ بڑھتے بڑھتے ایک تناور درخت بن جاتا ہے جس میں مان عزت اہمیت جیسے مختلف پھل ہوتے ہیں اور نکاح تو ہے اللہ کا سب سے پسندیدہ رشتہ جس میں وہ محبت پیدا کرتا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفات ہے۔
#_&&$#
اسلام و علیکم ماما کیسی ہیں ماما آپ۔حصیفہ نے مسکراتی آواز سے سکرین پر موجود حلیمہ بیگم سے پوچھا
میں اللہ کا کرم ٹھیک ہوں بس میری بیٹی کے بغیر گھر سونا سونا ہو گیا ہے۔انہوں محبت سے کہا
میں بھی اپکو بہت مس کر رہی ہوں اگر آپ پریشان ہو رہی ہیں اکیلے تو ہم آجاتے ہیں۔اس نے فکرمندی سے کہا
ارے نہیں میرا بیٹا آپ لوگ آرام سے گھوموں پھرو ویسے بھی آپکے بابا تو جلدی واپس آجاتے ہیں اسی میں اکیلی کم ہی ہوتی ہوں اور آج درس پر بھی چلی جاتی ہوں۔انہوں نفی میں سر ہلا کر کہا
ماما میں بھی یہیں بیٹھا ہوں ساری باتیں اپنی بہو سے کر لیں گی یا انہیں پر محبت برسائیں گی ۔ابقار کی جلی بھنی آواز آئی جو کہ حصیفہ کے برابر میں ہی بیٹھا تھا
تم سے تو بات ہوتی ہی ہے اپنی بہو سے تو میں تین دن بعد بات کرتی ہوں اور ویسے بھی گھر میں رہ کر بھی تم گھر میں تو ہوتے نہیں ہو اسی لیے مجھے تم سے ذیادہ عزیز ہو گئی ہے۔انہوں نے منہ بنا کر کہا
بہت افسوس کی بات ہے ممی چند دن میں بیٹے کو پرایا کر دیا صرف اپنی نئی بیٹی کی وجہ سے۔اس نے افسوس سے سر ہلایا
اب زیادہ ڈرامے مت کرو میری بیٹی کو کہیں گھمانے بھی لے کر گئے ہو یا ابھی تک صرف گھر ہی گھما رہے ہو۔انہوں ۔شکوک لہجے میں پوچھا
آپکی بہو کا کہیں جانے کا دل نہیں کرتا اسی لیے جہاں گھومنا ہوتا ہے میں خود ہی گھوم کر اجاتا ہوں۔اس نے مسکراہٹ دبا کر جھوٹ کہا
نہیں ماما یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں میں نے کہا ہے ہم گھومنے چلتے ہیں لیکن انہیں یہاں بھی کام سے فرصت نہیں ملتی۔اس نے ابقار کو گھورا
ابقار میں یہ کیا کہہ رہی ہیں حصیفہ بیٹی۔اسی وقت مبین صاحب کی آمد ہوئی جو کہ شاید ابھی ہی آوفس سے آئے تھے
بابا یہ تو ایسی کہہ رہی ہیں ہم سب نے ویکنڈ پر گھومنے کا پروگرام بنایا ہے تو بس کل سب گھومنے جائیں گے یہاں ایک اچھا سا فارم ہاؤس ہے وہاں جا رہے ہیں ۔اس نے گڑبڑا کر جلدی سے پلان بتایا ۔
تو بیٹا آپ لوگ اکیلے بھی کہیں گھومنے جایا کرو اب ضروری تو نہیں ہر جگہ جانے کے لیے سب کا جانا لازمی ہے۔مبین صاحب نے جیسے اسکی عقل پر ماتم کیا
بابا ان کے ساتھ اکیلے جانے بہتر ہے بندہ فیملی کے ساتھ جائے یہ تو بس ڈانٹیں گے کہیں بھی لے جائیں۔اس نے منہ بنا کر کہا (
ان دو مہینوں میں حلیمہ بیگم اور مبین صاحب سے اسے بہت انسیت ہو گئی تھی اور کیوں نہ ہوتی انہوں اسے ماں باپ کی بے حد محبت اور مان دیا تھا اور وہ بالکل ان کے ساتھ بیٹی کی طرح رہتی تھی ابقار کی تو زبان میں فقل لگا رہتا تھا رات کو کان میں بیٹھے بھی ابقار بس چائے اور کافی لے کر بیٹھ جاتا اور وہ ان دونوں سے ہی کوئی نہ کوئی بات کرتی رہتی )
ابقار اگر میری بیٹی کو تم نے ڈانٹا تو میں بہت برا پیش آؤں گا آپ سے۔انہوں نے مصنوعی غصے سے کہہ کر وارن کیا
بابا آپکی یہ بہو مجھے ڈانتیں ہیں اور بیچارا معصوم سا انسان ان کی سنتا ہوں۔اس نے معصوم شکل بنا کر کہا
جی جیسے بدلے میں تو آپ منہ میں ٹافی ڈال لیتے ہیں۔اس نے آنکھیں سکیڑ کر گھورا ابقار کو
دیکھ رہی ہیں ماما ابھی بھی کیسے خونخوار بلیوں کی طرح گھور رہی ہیں۔اس نے ڈر کر کہا
اچھا اب زیادہ ڈرامے نا کرو اور ہماری بیٹی کو بالکل تنگ مت کرنا اور جہاں بھی گھومنے جاؤ تصوریں ضرور بنوانا ہم نے دیکھنی ہے اب اپنا خیال کرنا پھر بات ہوگی۔حلیمہ نے پہلے تنبیہ کی پھر باتوں کا اختتام کر دیا
#____##
دیکھ رہے تھے آپ آبی کے چہرے کا سکون جو کہیں کھو سا گیا تھا۔انہوں نے سکرین اوف کر کہ انہیں دیکھا
جی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ لیکن بیگم سچ چھپتا نہیں ہے اور ابھی تو ابقار کو یہ نہیں معلوم کہ اپنے حصیفہ کو یا اس کے گھر والوں اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا وہ کتنا خدا ہوگا اس بات پر اگر اسے معلوم ہوا تو۔انہوں پر سوچ لہجے میں کہا
اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ ساتھ رکھے اب مجھے میں اپنے آبی کو غم میں دیکھنے کا حوالہ نہیں ہے۔انہوں درد بھرے لہجے میں کہا
آپ نے کھانا بنا لیا کیا۔انہیں اداس ہوتا دیکھ کر مبین صاحب نے بات بدلی
نہیں ابھی بناؤں گیں بتائیں آج کیا بناؤں مجھے تو سمجھ نہیں آرہا تھا۔انہوں نے کہا
چلیں پھر آج باہر کھانا کھانے چلتے ہیں ویسے بھی بہت دن ہوگئے اوٹنگ نہیں ہوئی ہماری۔انہوں نے واشروم کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا
اس عمر میں ہم باہر گھومتے اچھے لگیں گے۔انہوں ہنس کر کہا
بیگم نہ آپ بوڑھی ہوئیں ہیں نہ ہمارے جذبات اور ویسے بھی آپ ہماری بیوی ہیں اور بیوی کے ساتھ گھومنے کے لیے عمر نہیں دیکھی جاتی چلیں جب تک میں فریش ہو جاؤں اپکو جو تیاری کرنی ہے کر لیں۔کہتے ہوئے واشروم میں بند ہو گئے۔
-#+#+$
اللہ تعالیٰ آپ کا لاکھ لاکھ بار بھی اگر میں آپکی ہر نعمتوں کا شکر کروں نہ تو بھی کم ہیں کیوں کہ جہاں میں تیری نعمت پر شکر ادا کروں وہیں تو دوسری نعمتیں مجھ جیسی حقیر بندی کی جھولیوں میں ڈال دیتا اور مجھے مزید شکر کی توفیق دیتا ہے کیونکہ تجھے اپنے بندے کا شکر پسند ہے تیرا اس پر بھی شکر ہے اللہ نے مجھے شکر کرنے والوں میں رکھا۔وہ بنا پلک جھپکے برابر میں تھوڑے فاصلے پر لیٹا سکون سے سو رہا تھا اور وہ اپنے شوہر کو دیکھ کر اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کر رہی تھی
یا اللہ یہ شخص کھڑوس ہو کر بھی مجھے بہت عزیز ہو گیا ہے جس سے دوری روح کا کھینچاو کے مترادف سا لگتا ہے۔ہاتھ بڑھایا اور جو بال سمٹے ہوئے تھے اس کے ماتھے پر پھیلا دئے۔وہ تھوڑا کسمسایا ماتھے پر تین بل ابھرے۔
یہ بندہ سوتے ہوئے بھی غصے میں رہتا ہے۔دل میں سوچا پھر مسکرا دی
کیا ہوا آپ سوئیں نہیں آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔مسلسل آنکھوں کی تپش محسوس کر کہ پٹ سے آنکھیں کھولیں تو وہ ایک دم سیدھی ہوئی۔
جی میں بالکل ٹھیک ہوں بس نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا اپنے شوہر کو غور سے دیکھوں جو صرف سوتے ہوئے معصوم لگتے ہیں۔اس نے ٹیک لگاتے ہوئے شرارت سے آنکھیں پٹپٹائیں
معصوم لوگ معصوم ہی لگتے ہیں جبکہ لڑاکو لوگ سوتے میں بھی لڑاکو لگتے ہیں۔اس منہ بنا کر گھورا۔
جی شکریہ آپکی صحبت میں ہم لڑاکو ہو گئے۔حصیفہ نے آنکھیں گھمائیں (حالانکہ آبی تو اتنا بولتا نہیں تھا)
اچھا اب سوجائیں مجھے بھی نیند آرہی ہے کہتی ہوئی لیٹ گئی۔وہ بھی لیٹ گیا دونوں کا چہرہ آمنے سامنے تھ(
( حصیفہ کی آنکھیں بند تھیں جبکہ ابقار اس کے نقوش دیکھ رہا تھا سنوالا رنگ درمانی گھنی پلکیں جو سیاہ کانچ اپنی اوٹ میں چھپائیں ہوئیں تھیں۔ج
چہرے کا شیپ نا زیادہ گول تھا نہ زیادہ لمبا درمیانی ہونٹ جو کہ گلابی تھے ہلکے سے اس سے تھوڑا نیچے جائیں تو چھوٹا سا تل ہے جو اتنا خاص توجہ مرکز نہیں تھا اور ابقار کی توجہ کا مرکز تو دو سیاہ موتی ہیں جنہیں ان پر گرے پردوں نے سیپ کی صورت اپنے اندر محفوظ کیا ہوا ہے۔)
کیا میں واقعی بہت پیاری ہوں جو آپکا دل نہیں بھر رہا دیکھ دیکھ کر۔اس نے بند انکھوں سے کہا۔
جی۔اس نے حیرانی سے اسے دیکھا
جی ابھی تو اپکو نیند آرہی تھی اب ایکسرے میں لگے ہیں میرے ۔اس نے مسکرا کہا۔
جی نہیں ایسا کچھ نہیں کر رہا تھا میں و۔وہ میری نیند ڈسٹرب ہوگئی تو کچھ دیر میں سو گا۔اس نے گڑبڑا کر کہا۔
اچھا مان لیتی ہوں۔کہتی ہوئی اسکے تھوڑے قریب ہوئی اور اسکے ماتھے پر منشتر بالوں کو لبوں سے چھوا یہ ایک خواہش ہی تھی جو تکمیل ہوئی
ویسے اپکو تو رومانس کی ایپ کی ضرورت نہیں اوپر سے انسٹال کرا کر آئی ہیں۔ابقار نے مسکراہٹ دبا کر کہا
پتا ہے مجھے آپکے ماتھے یہ بکھرے بال بہت اچھے لگتے ہیں یا آپ پر واقعی سوٹ کرتے ہیں اور ویسے بھی آپ میرے شوہر ہیں میرے محرم ہیں روح کا رشتہ ہے ہمارا اور ماتھے کو بوسہ دینا عزت و احترام کی علامت ہے اور محبت کے خزانوں میں بہترین نظرانہ بھی۔اس نے آبی کے گال پر ہاتھ رکھا
اور مجھے پتا ہے کیا پسند ہے آپ میں۔اس نے سوالیہ انداز میں کہا
کیا؟ابرو آچکا کر کہا
یہ۔کہہ کر لبوں سے اسکی آنکھوں چھوا۔اور پیچھے ہوا اب حصیفہ سے اپنی پلکیں اٹھانا دشوار ہوگیا تو وہ ابقار کے سینے میں منہ چھپا گئی۔
ابھی تو بڑی بڑی باتیں کر رہی تھیں۔ابقار نے ہنستے ہوئے کہا
میں نے آپ سے زیادہ پھیلنے کو نہیں کہا اب سوجائیں پھر صبح اٹھنا ہے۔سر سینے پر رکھے ہوئے ہی کہا
پھر آبی نے بھی خود پر کنٹرول کر کہ اسے اپنے حصار میں لیا اور چند منٹوں بعد ہی دونوں نیند کی آغوش میں اتر گئے۔
Episode 15
اور بھئی سب تیاری ہوگئی۔شافع بھائی نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا
جی سب تیاری مکمل ہے بس سامان سارا گاڑی میں رکھ دیں ۔سکینہ نے کہا
سبکی تیاریاں ہو چکی تھیں چونکہ فیملی صرف تین تھیں اسی لیے گھر کے سب افراد جا رہے تھے۔
سامان گاڑی میں رکھوانے کے بعد باقی سب بھی گاڑی میں بیٹھ اور اللہ کا نام لے سفر پر روانہ ہوئے۔
#$___&
یہ فارم ہاؤس ایک بڑے رقبے پر بنایا گیا تھے جہاں فیملیز آرام سے سٹے کر سکتی تھیں اور سب کے لیے ہی کمرے موجود تھے چونکہ فارم ہاؤس گھر سے کافی دور تھا اور یہ لوگ صبح ہی اٹھ گئے تھے تاکہ پورا دن آرام سے انجوائے کریں لیکن سفر کی تھکان سب کو ہو گئی تھی اتفاق سے یہاں بھی دو ڈائینگ ٹیبلز موجود تھیں لیکن چونکہ سب تھکے ہوئے تھے اسی پہلے آرام کے غرض سے کمروں میں روانہ ہوئے اور کھانا بھی وہیں کھانا ارادا کر کہ جسے جو کھانا تھا اپنے کمرے میں لے گیا
_____$$##__
دانی کتنا ٹائم بعد ہم آئیں ہیں نہ یہاں وہ بھی سب کے ساتھ ورنہ تو آپ کام میں اتنے بزی رہتے ہیں کسی اوٹنگ کا ٹائم ہی نہیں ملتا۔زنیرہ نے کھانا پلیٹ میں نکالتے ہوئے کہا
یار بس کیا کروں اب جب میں اور شافع ہیں سنبھلنے کے لیے سب تو ہم بڑوں کو کچھ نہیں کرنے دیتے بس اسی لیے لیکن سوری جان میں انشاللہ ٹائم ضرور نکال لیا کرو گا سب نہیں تو ہم اور بچے چلا کریں گے ۔اس نے زنیرہ کے ہاتھ تھامے ۔
اچھا جی چلیں فلحال کھانا کھا لیں پھر مجھے تھوڑی دیر سونا ہے۔اس نے کھانا ٹیبل پر پھیلے ہی چن دیا تھا
بچے کہاں ہیں کمرے میں نہیں آئے ابھی تک۔بچوں کی غیر موجودگی کو دیکھ کر پوچھا
وہ ذابیہ(تائی کی بیٹی) کے ساتھ اسی کے کمرے میں چلے گئے۔اس نے بریانی سے بھرا چمچہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
اچھا کہہ کر کھانا شروع کیا بچو۔ کے کھانے کی تو ٹینشن تھی نہیں کہ کوئی نہ کوئی انہیں ضرور کھلا دے گا ۔۔۔۔
_-_-_&_++&
جڑے دل کے رابطے جب سے
روشن ہوئیں راہیں تب سے
تیری زندگی کا ہوا رہنما جب سے
میری حیات کی ہر تشنگی مٹی تب سے
$+$+$-___
پورا دن بہت خوش گوار گزرا سب خیر و عافیت گھر اگئے۔
#+$++_
جی جی سب بہتر طریقے سے ہونا چاہیے زیادہ ہیوی کچھ نہیں ہونا چاہیے لائٹ سا ارینجمنٹ ہونا چاہیے۔وہ فون پر کسی کو ہدایت دیتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔
کیا ہوا جس چیز کی ارینجمنٹ کرا کررہے ہیں۔حصیفہ سنگھار میز کے سامنے کھڑی تھی اور اب کاجل لگا رہی تھی۔
ایک بہت پیاری سی لڑکی پسند اگئی ہے اسی کے ساتھ ڈیٹ پر جانے ارینجمنٹ کروا رہا ہوں۔اس نے سنجیدہ چہرہ بناتے ہوئے کہا
اوہ اچھا ویسے کون ہے وہ معصوم سی جو آپکے کھڑوس چہرے پر مان گئی ڈیٹ کے لیے۔اس نے صاف مذاق اڑایا
جی آپ تو بس جیلس ہی ہوں گی ااپکو کیا پتا کتنی لڑکیاں اس شکل پر مرتی تھیں۔ابقار نے منہ بنا کر کہا
جی یقینن خوابوں میں۔اس نے معصوم سی شکل بنا کر کہا
اچھا ابھی میرا کوئی موڈ نہیں لڑنے کا رات میں تیار ہو جانا آپ نو بجے تک ہمیں ایک ڈنر پر جانا ہے۔اس نے کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتے ہوئے آگاہ کیا۔
اچھا تو کس ٹائپ کا ڈریس پہنوں ویسے پہنے تو میں عبایا ہی ہے۔اس نے پوچھتے ہوئے پھر اپنی ہی بات کہی۔
نہیں ہو سکتا ہے وہاں اپکو عبایا پہننے کی ضرورت نہ ہو تو اچھے سے ڈریس اپ ہو جانا.کہتا ہوا اب بیڈ پر بیٹھ چکا تھا ۔
آپکے لیے کوںسے کپڑے نکالوں۔الماری کی طرف گئی تو پوچھا
جو آپکی مرضی ہو نکال دیں۔دو انگلیوں سے ماتھا مسلتے ہوئے کہا
کیا ہوا آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔اس نے فکر مندی سے پوچھا
نہیں بس سر میں درد ہو رہا ہے۔انکھیں موندے جواب دیا
اٹھیں ذرا۔تھوڑی دیر کے بعد حصیفہ کی پھر آواز آئی تو اس نے مندی مندی آنکھیں ل
کھولیں ۔
کیوں ۔اس نے ابرو آچکا کر کہا
اٹھیں نہ ایک تو سوال بہت کرتے ہیں آپ یہ تیل لگاؤں گی تھوڑی مالش کروں گی تو بہتر محسوس کریں گے۔اس نے ہیئر اوئل کی بوتل سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔
میں نہیں لگ وا رہا کوئی تیل ویل بال کے ساتھ پورا منہ بھی چکنا چکنا ہو جاتا ہے۔اس نے فورا منع کیا
میں نے آپ سے پوچھا نہیں ہے آپ اٹھ کر بیٹھے یہ جو ہر وقت اپکا سڑا ہوا منہ بنا رہتا ہے نہ یہ دماغ کی خشکی سے ہوتا ہے تیل جو ہے وہ بالوں کی غذا ہے اگر انہیں تیل نہ دیا جائے جو وہ گھاس پھوس میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔زبردستی اسے بٹھایا اور خود اس کے پیچھے بیٹھ گئی تھوڑا اونچا ہو کر بیٹھی
کتنے روکھے روکھے بالوں ہو رہے ہیں۔پہلے تیل ہاتھوں پر ملا انگلیاں اسکے بالوں میں ڈالیں اور ہلکے ہلکے انگلیاں چلانے لگی۔اور اس نے بے اختیار آنکھیں بند کر دیں جیسے سکون ملا ہوا۔
کیا ہوا تھوڑا سکون ملا۔تھوڑی دیر بعد پوچھا
جی کیا آپ پہلے کبھی مالش کا کرتی تھیں۔اس نے شرارت سے پوچھا نہیں
ہاں اپنے گھر میں سب کے سر میں مالش میں کرتی ہوں امی تو کہتی ہیں مجھے بہت اچھی مالش آتی ہے کہ بندہ مالش کے دوران کی ہی نیند کی وادی میں اتر جائے۔اماں کو یاد کرتے ہوئے کہا۔
اچھا جی آپکا دل رکھنے کے لیے کہتی ہوں گی۔اس مسکرا کر کہا لیکن حصیفہ کو نظر نہیں ائی۔
ہاں ہو سکتا ہے خیر آپکی مالش ہو گئی ہے اب آپ تھوڑی دیر سو جائیں پھر میں اپکو اٹھا دوں گی اور اگر اپکو کافی لینی ہے تو بتا دیں میں بنا لاتی ہوں۔کہتی ہوئی اٹھی اور واشروم کی طرف بڑھی اور ہاتھ دھو کر آئی اور پوچھا
نہیں بس تھوڑی دیر سو گا اور پلیز اگر آپ باہر جا رہی ہیں تو لائٹ اوف کر کہ جانا۔کہہ کر کروٹ کر لے لیٹ گیا
/*–***–
ویسے بی اماں حلیمہ کی یہ بہو کتنی اچھی ہے ایک وہ تھی نک چڑی اور بد تمیز۔شاید یہ دانیال کی چچی کی آواز تھی
ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے حلیمہ بیٹی بھی کہاں خوش تھیں بس بیٹے کی خوشی کے لیے سب کر رہی تھیں۔اماں بی افسوس سے کہا
حصیفہ بیٹی کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ہم سے پہلی بار ملی ہے کافی ملنسار بچی ہے ماشاءاللہ سے۔دانی کی امی نے دل سے تعریف کی
خیر اب تو آبی بیٹا بھی بہت خوش رہتا ہے اللہ پاک ہمیشہ ان کی جوڑی سلامت رکھیں آمین۔اماں جی نے دل سے دعا کی۔
اور پیچھے کھڑی حصیفہ الجھن میں پڑھ گئی
کس کی بات کر رہے ہیں یہ لوگ کیا آبی کے کوئی بھائی بھی ہیں۔ابھی وہ اور کچھ مزید سوچتی کہ پیچھے سے ذابیہ کی آواز آئی
ارے بھابھی آپ یہاں کیوں کھڑی ہو گئیں کچھ چاہیئے تھا اپکو۔اس نے حصیفہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
ارے نہیں وہ ابقار سو گئے ہیں تو میں سوچا میں سب کے ساتھ جا کر بیٹھ جاؤں اوپر تو بور ہوتی رہوں گی۔اس نے مسکرا نفی میں سر ہلایا
چلیں میں چائے بنانے جا رہی تھی سب کے لیے آپ پیئیں گی۔اس نے آگے قدم بڑھائے
چلو آج میں بناتی ہوں چائے کافی ٹائم ہوا میں نے خود کے ہاتھ کی چائے نہیں پی۔اس نے کہا اور اسی کے ساتھ کچن میں داخل ہوئی۔
لیکن بھابھی آپ کیسے امی دادی ڈانٹے گی کہ میں نے آپسے کام کروایا ۔اس نے جھٹ منع کیا
ارے کچھ نہیں ہوتا اور میں کسی کو بتاؤں گی نہیں باہر تم لیجانا چائے۔کہتے ہوئے چائے کا پانی رکھا
پھر چائے بن کے بعد ذابیہ ہی چائے باہر لے کر گئی۔
-*/**/*
اس نے کمرے قدم رکھا تو ایک دم مبہوت رہ گئی کمرے کو بہت خوبصورتی سجایا گیا تھا گلاب کے پھول فرنٹ وال دل کی شکل میں لگے ہوئے تھے جس پر سنہری گلاب کی پتیوں سے ہیپی برتھڈے لکھا ہوا تھا ماحول میں ائیر فریشنر کی بہت کی پیاری خوشبو رقصاں تھیں کمرے کے بیچ و بیچ ایک درمیانی گول ٹیبل رکھی ہوئی تھی اور شاید وہاں کیک نما کوئی چیز تھی صحیح سے پتا یوں نہیں لگا کیوں کہ اس کے ارد گرد سنہری رنگ کے جالی کے پردے گولائی میں پڑے تھے ۔
ہیپی برتھڈے جنگجو وائفی۔وہ آگے بڑھتی جب پیچھے سے سر گوشی ہوئی اور اسکی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
جزاک اللہ پر اپکو کیسے پتا۔وہ مڑی اور پیچھے کھڑے ابقار کو حیرانی سے دیکھا
دو دن پہلے منتہہ کا آیا تھا آپکے نمبر پر لیکن آپ کمرے میں نہیں تھیں تو بس باتوں باتوں میں ہی اس نے بتایا کہ آپکی برتھڈے آرہی ہے سو میں نے ارینجمنٹ کر لی۔اس نے مسکرا کر کہا
ہائے اللہ ویسے آپ اتنے بھی کھڑوس نہیں جتنا مجھے لگتے ہیں۔اس نے ناک سے مکھی اڑائی
جی شکریہ چلیں اب کیک کاٹتے ہیں جو کب سے آپکی راہ دیکھ کر رہا ہے۔ہاتھ تھامے ٹیبل کی طرف چل دیا
کیک کاٹنے کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو کیک کھلایا اور حصیفہ جی نے ابقار کے گالوں پر کیک لگا دیا
برتھڈے میرا نہیں ہے جو آپ میرے منہ پر کیک لگا رہی ہیں۔اس نے گھور کر کہا
آپ اور میں الگ تھوڑی ہیں اسی لیے برتھڈے آپکی ہو یا میری ایک ہی بات ہے۔اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
اچھا چلیں ہاتھ تھام کر باہر لے آیا ۔
اب کہاں چلنا ہے۔اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا
میرے ساتھ کپل ڈانس کریں گیں۔اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر کہا
کیا ہوا گیا ہے آج اپکو مسٹر اور ڈانس کرنا بری بات ہے۔اس نے آنکھیں سکیڑ کر کہا
ہاں لیکن شوہر کے ساتھ کرنا گناہ نہیں ہے تو بتائیں کریں گیں۔اس نے ہاتھ بڑھائے ہی رکھا
اچھا چلیں ٹھیک ہے۔اس نے ہاتھ تھام لیا
بیک گراؤنڈ میں بہت پیارا گانا کمرے میں گونجنے لگا
حصیفہ کا ہاتھ آبی کے کندھے پر جبکہ ایک ہاتھ آبی نے تھام رکھا تھا اور ابھی کا ایک ہاتھ کمر کے گرد تھا
دل سے سن پیا یہ دل کی داستان
جو لفظوں میں نہیں ہوں بیان۔
ایک سٹیپ وہ آگے آتی تو وہ پیچھے جاتا
اب جیسا بھی راستہ ٹوٹے گا نہ واسطہ
نا رہے گا فاصلہ درمیان ۔
اب اس نے حصیفہ کو گول گھمایا۔
اس نے آج سی گرین کلر کی جارجٹ کی فراک پہنی ہوئی تھی جو کہ ٹخنوں سے نیچے تھی اور وائٹ چوڑی دار پاجامہ اور سی گرین جالی کا دوپٹہ جو کہ حجاب کی طرح باندھ لیا تھا اس نے اس پر ہلکا سا میک اپ وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔جبکہ ابقار وائٹ کلر کا کوٹن کا شلوار کمیض پہنا ہوا تھا
نینو نے باندھی کیسی ڈور رے
نینو کیسی ڈور رے
منصف ہی میرا میرا چور رے۔
اب کے ایک جھٹکے سے اپنے طرف کھینچا تو تو حصیفہ نے بے اختیار دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ دیا اور اب ابقار کے بازو اسکی کمر کے گرد حائل تھے
دل پہ چلے نہ کوئی زور ہو
دل پہ چلے نہ کوئی زور رے
کھینچا چلا جائے تیری اور رے
اس کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کر دی ۔
تجھے تیرا درش دکھا دے ماہی
مجھے میرا عکس دکھا دے مماہ
تجھ سے جڑی ہیں سب کہانیاں
پھر اسکی آنکھیں چوم لیں
اب اسے پھر گول گھمایا اب کی بار اسے پشت سے اپنے حصار میں لیا۔
اور تھوڑا آگے کو جھک کر اسکے گال سے گال مس کیا
چاہے سو گردشیں ہوں پر کوئی بیر نہیں
ہم دنیا سے لڑ لیں گے پر تیرے بغیر نہیں
دونوں آنکھیں موندے ایک دوسرے کو اور ماحول کو محسوس کر رہے تھے
دل سے سن پیا یہ دل کی داستان
جو لفظوں میں نہیں ہو بیان
اور پھر اسکی طرف رخ کر کہ ابقار کے سینے پر سر رکھ دیا اور ابقار نے بھی اسے اپنے مضبوط حصار میں قید کر لیا کہ یہاں اسے اب کوئی تلخی نہیں یاد رہی ماضی کی۔
___________
سورج کی نارنجی شعائیں دھیرے دھیرے پورے سیاہ آسمان کی چادر کو اپنی روشنیوں سے سیراب کر رہی تھیں اور اس وقت ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا ماحول بڑا لطف دینے والا بنا رہیں تھیں
جانتے ہیں مجھے صبح صبح ایسے چہل قدمی کرنی کی کتنی خواہش تھی۔اس نے مسرت سے قدم بڑھاتے ہوئے کہا
ہمم اچھا تو پھر جب میں صبح واک پر جاتا ہوں تب کیوں نہیں گئیں آپ۔اس نے ہاتھ ٹراؤزر کی جیب میں ڈالے ماتھے پر بال منتشر ہی تھے
کیونکہ آپ فجر کی نماز کے لیے جو جاتے ہیں وہیں سے پھر جاگنگ پر چلے جاتے ہیں اور ویسے آپ کو اگر برا لگتا تو میں اداس ہو جاتی۔اس نے معصوم شکل بنا کر کہا
تو یہ خواہش شادی سے پہلے کیوں پوری نہیں ہوئی آپکی ۔اس نے کن انکھیوں سے اسکی طرف دیکھا
ایک تو ہمارے گھر میں لان نہیں تھا اور کوئی فجر کے بعد نہیں نکلتا تھا بس اسی لیے لیکن اب شادی کے بعد لان میں اکثر واک کر لیتی ہوں جب ماما سو رہی ہوتی ہیں۔ بازو سینے پر لپیٹے ہلکے براؤن گھنے بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے اور بازو کے گرد لپٹی ہوئی تھی اسکے ساتھ ہم قدم تھی۔
ہمم اچھا ویسے آپکی لائف میں اب تک کیا چینج آیا ۔اب وہ رک کر اسکے سامنے آگیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
بہت زیادہ چینج آگیا بلکہ اب مجھے لگتا ہے وہ زندگی زیادہ بہتر تھی صبح اٹھنا پھر منتہہ کو اٹھانا ایک مشکل کام۔یاد کر کہ وہ لمحے وہ ہنسی
اچھا ایسا کیا تھا مشکل اس میں وہ تو مجھے بہت معصوم لگتی ہے۔اس نے اسکی ہنسی کو آنکھوں کے ذریعے آنکھوں میں اتارا
معصوم۔سن کر ہلکا سا پھر ہنسی
جانتے ہیں صبح اٹھتے ہوئے کتنے ڈرامے کرتی تھیں میڈم میٹرک تک امی میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے کبھی بخار ہو رہا ہے اور مزے کی بات کہ جب وہ بخار کا کہتی تھی اسے بخار ہوتا بھی تھا حالانکہ اس سے ایک رات پہلے وہ بالکل ٹھیک ہوتی تھی۔لہجہ تعجب بھرا تھا
ہو سکتا ہے وہ کوئی طریقہ استعمال کرتی ہو۔اس پر سوچ انداز میں کہا
ایسا کونسا طریقہ جس سے بخار ہو۔اس نے حیرانی سے دیکھا
کبھی اپکو اسکی جگہ سے کوئی ایسی چیز ملی ہے جس سے اپکو تعجب ہو کہ یہ یہاں کیسے ائی۔شاید ابقار مبین کو بات کرنا اچھا لگ رہا تبھی وہ ایک غیر معمولی بات طول دے رہا تھا
ہاںںںںںں۔یاد آیا مجھے ایک بار اسکی سائیڈ سے پیاز ملی تھی پر اس سے کیا ہوتا ہوگا۔اس کی پیشانی پر لکیریں ابھریں
میری جان اگر پیاز کو آپ رات بغل میں دبائے رکھے تو اسکا بیکٹیریا آپکی باڈی کا ٹیمپریچر گرم کر دیتا ہے۔اس نے مسکرا اسے دیکھا
یا اللہ اس لڑکی کا کتنا دماغ چلتا میں بھی سوچوں کہ اسے راتوں راتوں بخار کیسے ہو جاتا تھا۔اس اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا
ویسے آپکی شادی سے پہلے اچھی تھی یا میرے آنے سے خوشگوار ہو گئی۔اس شرارت سے کہا
ہاں واقعی آپکے آنے بعد زندگی اندھیروں سے اجالوں میں بدل گئی ہے جہاں کبھی خود سے بیزاریت محسوس ہوتی تھی اب اپنی زات میں رنگ بھرتے نظر آتے ہیں آپکے چند دن کا ساتھ مجھے نئی زندگی سے متعارف کرا گیا ہے۔یہ بات وہ بس دل میں کہہ سکا لیکن اسکے چہرے وہ کو بغور تکا
کیا ہوا کہاں کھو گئے ہیں۔حصیفہ نے اسکے آگے چٹکی بجائی۔
ہممم۔پہلے میرے کان آرام میں رہتے تھے لیکن اب وہ جب آپ چپ ہوتی ہیں تو اپنے آرام پر سجدہ شکر کرتے ہیں۔اس نے مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی سے کہا
آپ جیسا جذبات سے عاری بندہ یہی کہہ سکتا ہے آپ تو خوش نصیب ہیں جس سے میں اتنی باتیں کرتی ہوں اور پتا ہے مجھے بھی نہیں معلوم مجھے اتنا بولنا کیسے آگیا لیکن دیکھیے گا جب میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جا۔۔۔۔کچھ الفاظ منہ میں ہی تھے ابقار نے اسے اپنی گرفت میں لے اس کے الفاظوں کو اسکے منہ ہی دبا دیا اپنا ہاتھ رکھ کر
شششششش۔کتنا زیادہ بولتی ہیں اور جب بولتی ہیں تو سوچتی ہی نہیں ہیں۔اسکی بات ابقار کو اچھی نہیں لگی تھی اسکی باتیں ہی تو تھیں جو اسے زندہ ہونے کا احساس دلاتی تھیں اور جب وہ اس سے لڑتی ہے تو کبھی کبھی وہ جان بوجھ کر بات کو طول دیتا ہے۔
ارے آپ اتنی فکر نہ کریں اتنی جلدی تو آپکی جان نہیں بخشوں گیں۔اس نے ہاتھ ہلکا سا اسکے سینے پر مارا
تو میں کونسا اس چیز کا خواہش مند ہوں آپ سے جان چھڑوانا اب میرے بس میں کہاں۔اس کو دیکھ کر ایک بار پھر سوچا اور بے اختیار کی اسکے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کر گیا
اا۔۔۔ابی اب ٹھنڈ لگ رہی ہے ہم اندر چلتے ہیں۔کہتے ہوئے اس کی گرفت سے خود کر چھڑایا اور بھاگنے کی طرح سے تیز تیز قدم بڑھاتی گھر کے داخلہ دروازے سے اندر چلی گئی۔
یا اللہ اب مجھ پر اپنا کرم کرنا کہ میرا اعتبار نہ ٹوٹے۔وہ آسمان کی جانب چہرہ کر کہ بڑبڑایا
اور چند منٹ آسمان کو تکنے کے بعد خود بھی اندر کی جانب پڑھ گیا
