Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 01)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 01)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
اس دنیائے فانی میں ہر طرح کے لوگ ہیں کچھ کی اللہ سے لو بہت گہری ہے تو کہیں لوگ گناہوں میں غوطہ زن ہیں کچھ لوگ نمازیں پڑھ کہ بھی مضبوط ایمان کے حامل نہیں کہ جب شیطان اپنے راستہ پر چلائے تو چل پڑتے ہیں۔کچھ دل کے دکھائے ہوئے ہیں تو کسی کو دنیا جہاں کی خوشیاں حاصل ہیں۔
_________________
اٹھ جاؤ یار منتہہ نماز قضا ہو رہی ہے پتا ہے نماز قضا کرنا کتنا گناہ ہے۔وہ اپنے پیاری بہن کو اٹھانے کی جدو جہد میں لگی وی تھی اور بہن بھی ایک ڈھیٹ اٹھ کر ہی نہیں دے رہی تھی
آپی یار سونے دیں ویسے ہی رات کو دیر سے سوئی تھی۔اس نے نیند میں کہا
یہ سب اس موبائل کی وجہ سے ساری ساری رات تمھارا اس سے دل نہیں بھرتا اس وجہ سے یہ آنکھیں اتنی کمزور ہو گئی ہیں اٹھو جلدی ،شرافت سے ورنہ مر کہ اٹھاؤں گیں میں۔اس نے اسے ڈپٹ کہ کہا
حصیفہ آپی بھئی کیا ہے اپکو ہر وقت میرے موبائل بیچ میں مت لایا کریں۔ منتہہ نے منہ بنا کہ کہا
تم بھی نماز کے بیچ میں اپنی کاہلی کو مت لایا کرو میں آپکے پیارے کو بیچ میں نہیں لاؤں گیں آپ اٹھو شاباش۔حصیفہ کے کہنے پر وہ اڑے تیڑے منہ بناتی واشروم میں چلی گئی۔
اور حصیفہ ناشتہ بنانے کے غرض سے کچن میں چل دی
&#&&#-#-#-#-#-@-@-@-@-@-@@
ابقار اٹھ جاؤ بیٹا دن نکل آیا ہے کب اٹھو گے آوفس بھی جانا ہے۔حلیمہ بیگم نے اپنے لاڈلے بیٹے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
ماما میں تو نیند سے کب کا جاگ چکا ہوں یا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ نیند اک عرصہ ہوا مجھ سے اکتا گئی ہے۔اس نے اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا
بیٹا تم پھر روئے تم کیوں نہیں بھول جاتے ماضی کی باتوں کو جسے جانا ہوتا وہ چلا جاتا ہے اور ویسے بھی کسی کہ جانے سے زندگی نہیں رک سکتی۔انہیں اپنے بیٹے کی حالت معلوم تھی وہ ہر بار اسے سمجھاتی تھیں لیکن وہ تھا کہ سمجھتا ہی نہیں تھا
ماما کیسے بھول جاؤں اپنے والدین کے بعد جن دو لوگوں پر آنکھیں بند کر کہ یقین کیا انہوں نے ہی میرا یقین کرچی کرچی کر دیا کہ اب مجھے ہر غیر انسان دھوکہ باز لگتا ہے۔اس نے کرب سے کہا
اچھا چھوڑو ان باتوں کو میں ناشتہ بنانے جا رہی ہوں تم جلدی نیچے آجاؤ آپکے پاپا بھی انتظار کر رہیں اپکا۔وہ اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھتی تو کٹ کہ رہ جاتی تھی اس لیے ہر بار بات موضوع ہی بدل دیتیں
جی آپ جائیں میں فریش ہو کر آتا ہو۔ اس نے پھیکی مسکان کے ساتھ کہا
@$$_&&—_$###$_-+)-_$$##
وہ ناشتہ دستر خوان پر لگا رہی تھی جب سب آکے بیٹھ گئے۔اور منتہہ ابھی بھی موبائل میں مصروف تھی جس پر زیبا بیگم کو بھی غصہ آتا تھا
کبھی بہن کی مدد بھی کرا لیا کرو ہر وقت اس کرم جلے کہ ساتھ چپکی رہتی ہو۔مجال ہے جو نظر ہٹ جائے اس کمبخت سے بولا بھی زمان صاحب کو نہ دلاو موبائل مگر نا جی نا بیوی کی کبھی سنی ہے جو اب سنتے۔انہوں نے اسکی کمر پر دھپ رسید کرتے ہوئے کہا
ارے امی رہنے میں خود ہی کر لوں گیں۔ ابھی بچی ہے سیکھ جائے گی۔حفیصہ نے مسکرا کہ کہا
تمھاری اسی سائیڈ کی وجہ سے یہ اتنی ہڈ حرام ہے۔انہوں نے ناراضگی سے کہا
ارے زیبا بیگم کیوں صبح صبح چلا کر اپنا بی پی شوٹ کر رہی ہو۔زمان صاحب نے بیوی کو ٹھنڈا کرنے کہ غرض سے کہا
آپ تو چپ ہی رہیں آپکے ہی لاڈ پیار کا نتیجہ ایک یہ ہے دنیا جہاں کام چور ایک حصیفہ ہے سارا دن میری بچی اپنا بھی کام کرے اور تم لوگوں کی خدمت میں بھی لگی رہے مجال ہے جو کبھی آف کر دے اور ایک یہ ہے جو اگر دن میں کوئی کام کر لے تو دو دن تک انکی ہڈیوں کا درد نہیں جاتا۔انکی تقریر شروع ہو گئی تھی وہ روز ایسی تقریریں کرتی تھی لیکن مجال ہے جو منتہہ بی بی کے کان پر جوع رینگ جائے
ارے امی چھوڑیں اسے آپ ناشتہ انجوائے کریں حصیفہ اتنے مزے کے آلو کے پراٹھے بنائے ہیں کہ دیکھ کہ منی پانی آرہا ہے۔حماد بھائی نے اماں کا دھیان ہٹانا چاہا جس پر حصیفہ مسکرا دی
امی آج میری عالمہ کی کلاس ہے تو مجھے تھوڑی دیر ہو جائے آپ زیادہ ٹیشن مت لیجئے گا اور آپ جلدی سے ناشتہ کریں تاکہ میں اپکو دوائی دے کہ جاؤں
۔اس نے جلدی جلدی سب کہا
ٹھیک ہے۔
________________
زمان صاحب اور زیبا بیگم کی تین اولادیں تھیں سب سے بڑا بیٹا حماد پھر حصیفہ اور سب سے چھوٹی منتہہ انکا گھرانہ میڈل کلاس سے تھا حماد اپنی سٹڈی کمپلیٹ کر کہ آوفس میں اچھی پوسٹ پر جاب کر رہا تھا اور منتہہ میٹرک کے امتحان دے ابھی فارغ ہوئی
جبکہ حصیفہ کو شروع سے ہی اسلام سے بہت گہرا لگاؤ تھا اس لیے اب انٹر کے بعد وہ عالمہ کا کورس کر رہی حصیفہ اپنے گھر میں سب سے کم گو اور خوش مزاج بندی تھی۔اپنے ماں باپ دل بھی اس نے اعاطت سے جیت رکھا تھا اسے دنیاوی چیزوں سے کوئی لگاؤ نہ تھا لیکن جب کوئی اس کے گھر میں نماز یا اللہ کہ کسی کام میں بھی کاہلی کرتا اسکے ساتھ سخت ہو جا تی تھی
@&#&#&#&#&#&#&#&#&#-#-#-#–#
دوسری طرف مبین صاحب اور حلیمہ بیگم کی دو اولادیں تھی بڑی بیٹی زونیرہ اور چھوٹا بیٹا ابقار۔مبین صاحب کا اپنا خود چھوٹا سا امپورٹ اور ایکسپورٹ کا کاروبار تھا جو وہ بڑی محنت سے آگے بڑھا رہے تھے۔ابقار ہمیشہ سے بہت محبت کرنے والا شوخ مزاج کا مالک تھا اور ہر کسی کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا اسکی شخصیت کا خاصہ تھا لیکن کہتے ہیں کبھی کبھی انسان زندگی ایسے دکھ مل جاتے ہیں جو اسے اندر تک توڑ رکھ دیتے ہیں
____________
آج حصیفہ کے مدرسے میں بڑی عالمہ درس دے رہی تھیں آج کا موضوع تھا کہ۔
کونسی ایسی باتیں اور ہمارا عمل ہے جو گناہ کا ذریعہ بن جاتی ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں یہ صغیرہ گناہ بھی ہے۔
اگر کوئی عورت کوئی ایسی زینت کرے جس سے غیر محرم متوجہ ہوں اور ہمیں غیر نظروں سے دیکھیں تو ہمارے لیے گناہ ہے۔
اس سلسلے کے متعلق حدیث مبارک ہے۔
“حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
تم میں بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کے لیے زینت کرے تاکہ شوہر انہیں دیکھ کر سکون حاصل کریں اور بدترین عورت وہ ہے جو اوروں کے لیے زینت کرے۔”
اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔جب عورتیں کسی بھی قسم کی زیبائش کر کہ باہر جاتی ہیں جسے آج کل زمانہ فیشن کہتا ہے اور اسی فیشن کے زریعہ عورتیں حوس زدہ مردوں کی حوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ اس لیے ہم مسلمان عورتوں کو اپنے آپ کو ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ہم کسی بھی غلیظ نگاہ کا شکار نہ ہوں سکیں۔انہون نے نرم لہجے میں کہا۔
دوسری طرف جب ہم کسی کے لیے برا کرتے ہیں اور برا سوچتے ہیں وہ ہمارے صغیرہ گناہ ہے۔
اللہ نے فرمایا ہے کہ اگرتم کسی کے حق میں کچھ اچھا یا برا سوچیں اور کریں گیں تو وہ پہلے تمھارے حق میں قبول کیا جائے گا۔
یعنی اگر ہم کسی کے لیے برا سوچیں گیں تو ہمارے ساتھ پہلے واقع ہوگا اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر کسی کے لیے اپنی سوچ مخلص رکھیں۔
جیسے ہم جو بوتے ہے وہیں ہمیں حاصل ہوتا ایسے ہی اگر ہم نیکی کا بین بوئیں گیں تو آگے جاکر ہمیں ان نیکیوں کا پھل حاصل ہوگا۔
بے شک اللہ تعالیٰ انصاف اور رحم کرنے والا ہے”
-#-#-#-$-$-#-#-#-#-#+#+@+@+@+@+@+@+
ابقار ہمیں ایک بہت اچھی انٹرنیشنل کمپنی سے اوفر آہی ہے وہ ہماری پروڈکٹ باہر ممالک میں بھی ایک آؤٹ کرنا چاہتے ہیں۔مبین صاحب نے ناشتہ کرتے ہوئے ابقار سے کہا۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے بابا اگر آپ مطمئن ہیں تو ہم انکے ساتھ ایک میٹنگ کرکہ ڈیل فائنل کر دیتے ہیں۔اس نے نیپکین سے منہ صاف کرتے ہوئے کہا۔
بیٹا میں تو مطمئن ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک بار وہاں جا کر ویزٹ کر او تاکہ پھر ہم کوئی آگے کام کریں۔انہوں نے کہا۔
جی بابا ٹھیک ہے میں کر آؤں گا ویزٹ آپ بے فکر رہیں۔اس نے مبین صاحب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا۔
تم ہو جبھی تو مجھے کوئی فکر نہیں مجھے ۔علوم ہے میرا بیٹا سب بہت اچھے سے سنبھال لیتا ہے۔انہوں نے مضبوط لہجے میں کہا۔
شکریہ بابا آپکا یہی اعتماد ہے جو میں ہر کام دل لگا کر کر لیتا ہوں۔اس نے مسکرا کے کہا۔
(مبین صاحب اور حلیمہ بیگم کو اپنے بیٹے پر بہت فخر تھا لیکن ابقار جو پہلے بہت خوش مزاج تھا اب صرف سنجیدگی اسکی شخصیت کا خاصہ رہ گئی تھی اگر وہ کبھی مسکرا بھی دیتا تو صرف اپنے ماں باپ کے لیے)
زونیرہ اگلے ہفتے آرہی ہے اسکا فون آیا تھا اور کہہ رہی تھی ہم سب اسے رصیف کرنے جائیں۔حلیمہ بیگم نے کرسی پر بیٹھ کر کہا۔
اچھا جی یعنی ہم پیناڈول ایکسٹرا کا ایک فل پیک منگوا لیں۔ابقار نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
ابقار تم بھی نہ میرے ںواسا نواسی اتنا بھی تنگ کرتے جو تم ایسا کہو۔حلیمہ بیگم نے منہ بنا کر کہا۔
ارے میری پیاری ماما میں تو مذاق کر رہا تھا میں تو خود اتنا خوش ہوں اپنی بہن کے آنے سے اور شاہمیر دیا کی وجہ سے تو گھر میں رونق لگ جاتی ہے اور آپکی بھی تنہائی دور ہوجاتی ہے۔اس نے اپنی ماما کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
اگر یہ ماں بیٹا کا پیار پورا ہوگیا ہو تو آوفس چلیں لیٹ ہو رہے ہیں۔مبین صاحب نے ٹیبل سے اٹھتے ہوئے کہا۔
اپ کیوں جیلس ہو رہے ہیں ماما اپکو بھی تو اتنا پیار کرتی ہیں۔ابقار نے آنکھ دبا کر کہا۔
ابقارررر۔مبین صاحب نے گھورا۔
اچھا اچھا سوری چلیں بھئی آوفس۔اس نے کان پکڑ کہا اور کھڑا ہوا۔
پھر دونوں آوفس چلے گئے۔
+#+#++#+#+#!#!#!#!#!#!#!#!#!#!@!@!@!@
کلاس کے بعد حصیفہ اور اسکی دوست کوریڈور میں بیٹھے ہوئے تھے اکثر کلاس کے بعد عورتیں یہیں بیٹھ جاتی تھیں یہ مدرسہ کافی بڑے رقبے پر بنا ہوا تھا اور ہزاروں کی تعداد لڑکیاں اور عورتیں دین کی تعلیمات حاصل کر رہی تھیں۔
کیا ہوا نمرہ آج اتنی اداس کیوں ہو اور کلاس بھی ٹھیک طرح اٹینڈ نہیں کی۔حصیفہ نے اپنی پیاری سی اداس بیٹھی دوست سے پوچھا۔
حصیفہ میرے لیے ایک رشتہ آیا ل
کھاتا پیتا گھرانہ ہے۔نمرہ نے گہرا سانس لے کرکہا۔
یہ تو اچھی بات ہے پھر تم اداس کیوں ہو؟؟.اس نے خوش ہو کر کہا۔
یار جب مجھے اس لڑکے کے سامنے بیٹھایا تو وہ مجھے بہت غلط نظروں سے دیکھ رہا تھا اور مجھے تب سے ہی خوف آرہا ہے۔اس نے ساری بات بتائی۔
اچھا پہلی بات تو یہ کہ تم اسکے سامنے گئی ہی کیوں وہ تمھارا محرم تو نہیں تھا جو تمھیں انکے سامنے بیٹھا دیا گیا۔اور ویسے بھی غلط نظروں کے لوگ حوس زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور شادی بس بہانا ہوتی دراصل بات صرف اپنے فطرط جزبات کو تسکین دینا ہے۔حصیفہ نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا
حصیفہ تم بتاؤ میں کیا کروں مجھے ایسے انسان سے شادی نہیں کرنی جو مجھے ایسی نظروں سے دیکھتا ہے۔اس نے رو کر کہا۔
اچھا اچھا تم تو نہیں انشاللہ اللہ سب بہتر کرے گا بس تم اللہ پر بھروسہ رکھو اللہ کبھی ایسی چیز نہیں دے گا جو تمھارے حق میں بری ہو۔حصیفہ نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
حصیفہ تم بہت اچھی ہو پتا ہے جب بھی میں تم سے کچھ شیئر کرتی ہوں بہت اچھا لگتا ہے۔نمرہ نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کہا۔
ارے میری جان میں اچھی نہیں ہوں بس میں تمھاری دوست ہوں اسلیے تمہیں زیادہ ہی اچھی لگتی ہوں اچھا چلو اب امی بھی میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔
وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔
حصیفہ ایسے ہی تھی ہر کسی کو اپنا دوست بنالیتی اور ہر کوئی مسلہ اس سے باآسانی شیئر کر لیتا
+@)@)#)#)#)#)#!#!!#!@!#!#!#!#!#!!#!##!!#
وہ ایک خوبصورت باغ کا منظر تھا وہ اور اسکی شریکِ حیات ایک دوسرے ہاتھ تھامے چل رہے تھے پھر وہ رکے اس نے اپنی شریکِ حیات کی آنکھوں میں دیکھا جو مسکرا رہی تھیں اس کی صرف آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں بلیک ابایا اور چہرہ کو نقاب سے ڈھانپا گیا تھا۔اور بھی آنکھیں بھی گھنیری پلکیں سیاہ چمکدار کالے ڈورے جس میں بور کی چمک تھی جو دیکھتا آنکھوں سے ہی سکون حاصل کر لیتا اسے بھی اس پری کی آنکھیں بہت پسند تھی۔وہ ان آنکھوں کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھا رہا تھا کہ وہ دور ہوتی گئی بہت دور اور اسے پکارتا رہا۔
پری ۔۔۔۔۔پری مجھے چھوڑ کے مت جاؤ پری مجھے چھوڑ کر مت جاو۔وہ ایک دم اٹھا
یا اللہ یہ کیسا خواب تھا اور کون تھی وہ آخر اس خواب سے میرا پیچھا چھوٹ کیوں نہیں جاتا۔چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہوا بڑبڑایا۔
اسے یہ خوب پچھلے ایک سال سے نظر آرہا تھا وہ ہمیشہ اس پری کی آنکھیں چھونے کا دل چاہتا اور وہ ہمیشہ اس سے دور چلی جاتی۔
