Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 09)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 09)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
کچھ دنوں بعد ہی زمان صاحب سے مبین صاحب کو فون کر کہ اپنا مثبت جواب دے دیا تھا۔لیکن ابقار نے پھر نیا مسئلہ کھڑا کیا تھا۔
ماما آپ بات کو سمجھ کیوں نہیں رہیں میں کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا پلیز آپ انہیں میرے پاسٹ کے بارے میں آگاہ کریں اگر انہیں تب بھی کوئی پروبلم نہیں تو میں یہ شادی کروں گا۔اس نے حتمی انداز میں کہا۔
جس بات کا حال میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے اسے کیوں سامنے لا کر مستقبل کے رشتوں کو خراب کرنا چاہتے ہو۔انہوں بے بسی سے کہا
ماما آپ ایسا کہہ رہی ہیں میرا ماضی ہے وہ جو ایک عرصہ میری زندگی سے جڑا رہا جسکی چھاپ میرے دل پر نقش ابھی تک ہے اور اسے آپ ایسے انسان سے چھپانے کا کہہ رہی ہیں جس کے ساتھ میرے دن رات گزریں گے ایک نہ ایک دن تو اسے سب معلوم ہوگا نہ تو پھر ابھی سے انہیں معلوم ہونا چاہیے۔اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
بیٹا آپ کیوں نہیں چاہتے کہ ہم آپ کی خوشیاں دیکھیں۔کیوں آپ ہمیشہ ایسا مسئلہ کھڑا کر دیتے ہیں جسکے حل میں ہماری خوشیاں نہیں۔انہوں شکوہ کن انداز میں کہا۔
ماما ایسی بات نہیں ہے بس میں چاہتا ہوں کہ جو بھی میری زندگی میں اب آئے وہ ماضی سے آشنا ہو مجھے بھی آپ سب کی خوشیاں بہت عزیز ہیں لیکن میں آنے والے کی خوشیاں کیوں برباد کروں۔اس نے درد بھرے لہجے میں کہا۔
اور اگر انہوں نے انکار کر دیا تو۔انہوں نے آہستہ سے کہا۔
ماما اگر اللہ نے اسے میرے لیے منتخب کر ہی لیا ہے تو کبھی انکار نہیں کریں گے لیکن انہیں حقیقت بتانا ہمارا فرض ہے۔اس نے کہا۔
ہممم ٹھیک ہے۔دل میں کچھ سوچ کر وہ چپ ہو گئیں۔
&&&__###$
شادی میں صرف پندرہ دن باقی تھے حصیفہ کو ویسے بھی شوروغل پسند نہیں تھا اسکا کہنا تھا کہ شادی جتنی سادگی سے کی جائے بہتر ہے یہ گانے بجانے سے کانوں میں درد الگ ہوتا ہے اور اس پڑوس کے لوگ بھی پریشان ہوتے ہیں۔اس لیے گھر میں کوئی گانے بھی نہیں گائے جا رہے تھے۔
اماں زنیرہ آپی آئی ہیں۔منتہہ نے زبیدہ بیگم کو کہا جو اپنے کمرے میں میں مایوں کے دوپٹے میں گوٹا لگا رہی تھیں۔
اچھا آرہی ہوں تم جا کر چائے ناشتہ انتظام کرو۔اس کو ہدایت دیتیں وہ اٹھ کر چلدیں۔
اور وہ جی اماں کہہ کر رہ گئی
#$$___
اسلام و علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ۔زبیدہ بیگم کر آتے ہی زنیرہ نے آٹھ کرسلام کیا۔
وعلیکم السلام جیتی رہو۔انہوں نے مسکرا کر اسے گلے لگایا اور دعا دی۔
آنٹی ماما نے یہ شادی کا جوڑا بھیجا ہے اور یہ جیولری ماما خود آتیں لیکن شادی کی مصروفیات کی تھکن کی وجہ سے ماما کی طبیعت خراب ہو گئی اس لیے نہیں اسکیں۔اس نے کہہ کر حلیمہ بیگم کی نہ آنے کی توجیہ پیش کی ایسا نہ ہو کہ زبیدہ بیگم برا مان جائیں۔
ارے بیٹا کوئی بات نہیں میں سمجھتی ہوں شادیوں کے دنوں میں سب سے زیادہ ماں کی ہی زیادہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور تم بھی تو اپنے گھر کی بڑی ہی ہو تم لے آؤ یا وہ ایک ہی بات ہے۔انہوں نے مسکرا کر کہا۔
جی۔اور حصیفہ کہاں ہے مدرسے گئی ہوئی ہے کیا۔اس نے زبیدہ بیگم سے پوچھا۔
نہیں بیٹا گھر پر ہی ہے نماز پڑھ ہوگی تبھی نہیں آئی۔انہوں وجہ بتائی۔
اچھاا جی۔کہہ کر خاموش ہو گئی۔
اسلام وعلیکم ۔اندر داخل ہوتی حصیفہ نے کہا۔
وعلیکم السلام کیسی ہو بھابھی جی۔اس نے گلے لگتے ہوئے شرارت سے کہا۔
بھابھی نہیں صرف حصیفہ آپ میرے لیے آپ میری بڑی بہن ہیں اس لیے بھابھی نند نہیں بلکہ بہنیں ہیں ۔اس نے مسکرا کر کہا۔
اور آج مدرسے نہیں گئیں۔اس کے بیٹھتے ہوئے بولی
نہیں آج گھر پر امی کو کام تھا اس لیے نہیں گئی اور امی نے تاکید کی ہے کہ شادی کے دوران میں کہیں نہ جاؤں۔اس نے مسکرا کر کہا۔
اچھاا چلو تھوڑا ریسٹ ہو جائے گا ویسے ہی اتنی تھکن ہو جاتی ہے اور سب سے زیادہ دلہن ٹھیک جاتی ہے تمھیں پتا ہے میں اپنی شادی کی ساری شاپنگ خود کی تھی کیونکہ مجھے ویسے بھی بہت شوق تھا اور شادی کے قریبی دنوں میں حد سے زیادہ تھک گئی تھی اور آرام بھی نہیں ہو سکا تھا مہمان ہی اتنے آرہے تھے۔اس نے منہ بنا کر کہا۔
پھر زنیرہ کا باتوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور حصیفہ صرف سنتی رہی اور ہنستی رہی کسی سے بیزار ہونے کا مادہ تو حصیفہ میں ویسے بھی نہیں تھا۔
#$$_&
دن پر لگا کر اڑھ رہے تھے اور آج وہ دن آ پہنچا جس کا ہر لڑکی کو انتظار ہوتا ہے دل میں کئیں ارمان ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ ارمان کہ وہ اپنے عروسی لباس میں کیسی لگے گی۔
شادی عام شادیوں کی طرح بالکل دھوم دھڑکے سے نہیں ہو رہی تھی گھر کے قریب ایک حال بک کر لیا تھا۔شادی میں کم ہی لوگوں کو دعوت دی گئی تھی آس پڑوس کر اور اور خاص رشتے داروں کو مدعو کیا گیا تھا۔
حصیفہ کو گھر میں ہی آکر بیوٹیشن نے تیار کیا تھا اور حصیفہ نے بہت کم میک اپ کی اجازت دی تھی
حصیفہ کا رنگ سانولا تھا لیکن چہرے میں نور جیسی چمک تھی تھوڑے سے میک میں ہی اسکا روپ بہت نکلا تھا۔کہ کوئی ایک نظر دیکھے تو ماشاءاللہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔
ابھی لڑکے والوں کی آمد نہیں ہوئی تھی۔
حصیفہ کو لا کر ڈریسنگ روم میں بیٹھا دیا گیا تھا۔
گھٹنو تک آتی ریڈ اور بیلو کومبینیشن شرٹ جس پر سلور اور گولڈن نگوں کا کام کیا گیا تھا اس ہلکی سا میک اپ اور اسکا کھلتا ہوا روپ۔
ماشاءاللہ آپی آپ بہت اچھی لگ رہی ہو۔منتہہ نے کہا
منتہہ نے ابھی حصیفہ کو دیکھا تھا کیونکہ صبح سے وہ کاموں پر لگی ہوئی تھی کوئی کام رہ نا جائے جس سے امی اسے ڈانٹے پھر فارغ ہو کر پارلر چلی گئی تھی اپنی ضد پر لیکن میک اپ بہت ہلکا کرا آئی تھی۔
جزاک اللہ تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔کہہ کر آیت الکرسی پر اس پر دم بھی کر دیا کہ کوئی بری نظر نہ لگے۔اماں دادی۔
آپی آپ نے اتنا میک اپ بھی نہیں کیا پھر بھی آپ کے چہرے پر بہت چمک آئی ہے۔اس نے اسکے تھوڑھی پر ہاتھ رکھ کر کہا کمرے میں صرف دونوں ہی تھے۔
میری جان یہ چمک پردے سے آتی ہے کیونکہ ہماری خوبصورتی بھی ہمارے محرم کی امانت ہے اگر ہم اپنی خوبصورتی کسی غیر کو دیکھائیں گے تو پھر وہ امانت میں خیانت ہوگی اور خیانت تو اللہ کو بالکل پسند نہیں نا۔اس نے بول کر اسے دیکھا۔
منتہہ نے نفی میں سر ہلایا۔
جیسے ایک چیز ہر کسی کے پاس ہو اور آپ اسے مسلسل دیکھتے رہو تو اسکی چمک ختم ہو جاتی ہے اسی طرح جب ہم اپنا آپ غیر محرم کو دیکھائیں تو ہماری چمک بھی ختم ہوجائے گی۔
اور صرف اللہ کی عبادت میں لگے رہنا عین فرض نہیں ہے بلکے اس کے کہے پر عمل کر کہ دنیاوی برائی سے بچانا بھی ہماری عبادت ہے۔اس نے نرم لہجے میں اپنی بات سمجھائی۔
جی آپی آپ ٹھیک کہہ رہی ہو۔اس نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
دیکھو میری جان میں چاہتی ہوں کہ تم بھی پردہ نہ سہی لیکن خود کو غیر محرم کی نظر سے بچا کر رکھو اور جو ہماری زندگی کا اصل مقصد ہے اسے سمجھو۔اس نے مسکرا اسکے تھوڑھی پر ہاتھ رکھا۔
ہممم چلیں میں باہر دیکھ لوں۔کہہ کر اٹھ گئی۔
$$$$###____
بس بارات نکلنے کے لیے تیار تھی لیکن مین دلہا صاحب اپنے کمرے میں تھے۔
ابقار بیٹا آپ کیا اب تک تیار نہیں ہوئے۔کہتی ہوئی حلیمہ بیگم اندر داخل ہوئیں۔
سامنے دیکھا تو ہاتھوں میں سر گرائے بیٹھا تھا وہ فوراً اس تک پہنچی۔
کیا ہوا ابی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔انہوں نے فکر مندانہ لہجے میں بولیں۔
جی ماما میں ٹھیک ہوں۔اس نے سر اٹھا کر کہا آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
آبی بتاؤ میری جان کیا ہوا۔انہوں نے گھبرا کر کہا۔
پتا نہیں ماما بس ایسی سر میں درد ہو گیا تھا تو بیٹھ گیا۔اس نے نظر چرا کر کہا حالانکہ دل کا عالم کچھ اور ہی تھا۔
اپنی ماں سے جھوٹ نہیں بول سکتے آپ میں اچھی طرح سمجھتی ہوں لیکن آج سے آپکی نئی زندگی شروع ہونے جا رہی ہے اس لیے دماغ میں کائی منفی سوچ مت رکھو آنے والی خوشیوں کا کھلے دل سے استقبال کرو۔انہوں اسکے کندھے پر ہاتھ کر سمجھایا۔
وہ انہیں بس دیکھ کر رہ گیا دل و دماغ عجیب عالم برپا تھا۔
“&&_$__
آخر نکاح کا وقت بھی آہی گیا اور اس وقت ایک لڑکی کی حالت ہی عجیب ہوتی ہے جہاں زندگی کے نیا باب کھلنے کی خوشی تھی وہی اس گھر کو چھوڑنے کا دکھ جہاں زندگی کے پر سکون دن گزرے جہاں اماں کی لعن طعن اور نصیحتوں کے بعد کرداروں میں نکھار آتا ہے جہاں زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھنے کے بعد زندگی گزارنے کا سلیقہ آتا ہے جدھر خوشیوں کا ایک جہان آباد ہوتا ہے۔
جہاں اللہ نے زمین پر ہمارے لیے دو رہنما بیھجے ماں اور باپ ہی شکل میں جو ہمیں دنیا کی گرم ہواؤں سے بچا کر ہمیں محفوظ رکھتے ہیں۔
اور پھر جوانی کی سیڑھی چڑھتے ہی ماں باپ اپنے جگر کا گوشہ کسی اور کہ حوالہ کر دیتے ہیں یہ کہہ کر بیٹیاں امانت ہوتی ہیں۔
محمد ابقار بن محمد مبین حصیفہ بنت محمد زمان کو پچاس ہزار حق سکہ رائج الوقت موجد اور غیر موجد کے ساتھ آپکے نکاح میں دیا جاتا ہے کیا اپکو قبول ہے۔مولوی صاحب نے نکاح کے کلمات ادا کئے
جب ہمارا نکاح ہو گا نا میں جلدی جلدی قبول ہے کہ دوں گا۔کسی شوخ سی آواز کانوں میں گونجی۔
کیوں بھئی لڑکی نے حیرت سے پوچھا
کیوں کہ میں آپ سے تم پل کے لیے بھی دور نہیں چاہتا تمھارے ساتھ اپنی زندگی راہ گزر پر چلنا چاہتا ہوں تمھیں اپنا محرم بنانا چاہتا ہوں۔لڑکے کی آواز میں محبت ہی محبت گھلی تھی۔
ابقار جواب دو۔کسی نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ حال میں لوٹا۔
ج۔۔جی۔اس نے چونک سوالیہ نظروں سے سامنے کھڑے دانیال کو دیکھا
مولوی صاحب کو جواب دو۔انہوں نے سرگوشی میں کہا۔
مولوی صاحب نے اپنے کلمات پھر ادا کئے۔جس پر ابقار مبین نے قبول ہے کی مہر ثبت کر دی
جب سائن کا وقت آیا تو آنکھیں دھندلا سی گئی کیا کیا یاد نہ آئے۔
#&#&#&
پھر حصیفہ ایجاب وقبول کے کچھ دیر بعد کھانا بھی کھول دیا گیا اور اسکے بعد رخصتی کا شور اٹھ گیا۔
اور سب کی دعاؤں کے سائے تلے حصیفہ زمان نے حصیفہ ابقار بن کر زندگی کے نئے باب کی دہلیز پر قدم رکھ دیا۔
&&#&#-#
گھر آکر چند ایک رسمیں ہوئیں تھیں جن کے بعد حصیفہ کو ابقار کے کمرے میں لے جایا گیا تھا۔
حلیمہ بیگم اسکے پاس آئی تھیں۔
بیٹا آپ تھک گئی ہو گی ٹیک لگا کر بیٹھ جاؤ آرام سے۔انہوں نے کہا۔
نہیں آنٹی میں اپ پریشان نہ ہوں۔اس نے مسکرا کر منع کیا۔
میرا بچہ آج میں بھی آپکی ماما ہوں میں نے صرف بیٹی کہا نہیں اپنی بیٹی سمجھا بھی ہے میرے لیے جیسی زنیرہ ہے ویسے ہی آپ بھی ہو اس لیے اب سے نو آنٹی ٹھیک ہے۔انہوں نے اس چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں لے کر اس نے ماتھے پر بوسہ دیا
اور وہ بس مسکرا دی۔
میری جان آج سے میرا بیٹا آپکا ہوا اس کو کبھی بکھرنے نہیں دینا ۔انکے لہجے میں کچھ تھا۔
ماما آپ فکر مت کریں میں اپکو کبھی مایوس نہیں ہونے دوں گی۔اس نے کہا
پھر وہ چلی گئیں۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی وہ ایسی ہی بیٹھی رہی۔
ابقار نے اندر داخل ہوتے اپنے بیڈ پر موجود نفوس کو ایک نظر دیکھا اور بنا کچھ کہے کپڑے چینج کرنے چلا گیا۔
واپس اکر دراز سے ایک مخمل کی دنیا نکالی۔
یہ آپکی منہ دکھائی اور آپ بھی کافی تھک گئی ہوں گی وہ ڈریسنگ روم ہے جا کر چینج کر لیں۔کہتا بیڈ کی دوسری سائیڈ آکر لیٹ گیا۔
اور وہ جسے آئے ہوئے چند دو گھنٹے ہوئے تھے بس سن کر رہ گئی۔بولنا تو ویسے ہی نہیں سیکھا تھا اٹھی اور واش روم میں چل دیں۔چینج کر کہ آئی تو۔ابی سو چکا تھا
اس نے سر جھٹک دیا اور آکر دوسری سائیڈ پر لیٹ گئی۔
جانے اب کیا ہونا تھا۔
__________
نئی جگہ تھی سونے میں تھوڑا ٹائم لگا لیکن تھکن کی وجہ سے بھی نیند غالب ہو گئی۔ابھی فجر کی اذان ہو رہی تھی کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔
وہ اٹھی اور واشروم میں چلی گئی واپس آئی تو ابقار ویسے ہی سو رہا تھا۔
کیا انہیں جگاؤں۔اس نے سوچا۔
اٹھا دیتی ہوں کہیں ایسا نہ ہو پھر غصہ کریں۔ بڑبڑاتی اس کے سرہانے جا کھڑی ہوئی اب یہ سوچ رہی تھی کہ کیسے جگائے
سنیں اٹھ جائیں نماز کا وقت ہو گیا ہے۔اس نے کہا آواز ہلکی تھی جبکہ ابقار گہری نیند میں لگتا تھا۔
یہ تو اٹھ ہی نہیں رہے۔اس نے پریشانی سے سوچا۔
ابقار اٹھ جائیں نماز کا ٹائم ہو گیا ہے۔اب کے بار اسکا شانہ ہلایا تھوڑا زور سے۔up
کیا مسئلہ ہے کیوں اٹھا رہی ہو۔اس نے نیند خراب ہونے پر جھنجھلا کر کہا۔
و۔وہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اس لیے اٹھا رہی تھی۔اس نے تھوڑا گھبرا کر اپنی بات کہی۔
ہمم۔کہہ کر اٹھا اور واشروم کی طرف چل دیا ضروریات سے فارغ ہوکر وضو کر کہ باہر نکلا تو تو ابھی بھی ویسے ہی کھڑی تھی جیسے اسی کا انتظار کر رہی ہو
کیا ہوا کوئی پریشانی ہے
۔اس نے استفسار کیا۔
جی مجھے جائے نماز نہیں مل رہی۔اس نے پریشانی بتائی۔
ہمم۔کہہ کر الماری کی طرف گیا اور اوپر سے دو جائے نماز اٹھا لایا
یہ لیں۔اسکی طرف بڑھائی۔
آپ بھی گھر میں ہی پڑھتے ہیں۔اس نے پوچھا۔
نہیں جماعت کا وقت نکل گیا اس لیے یہی پڑھوں گا۔اس نے جائے نماز بچھاتے ہوئے کہا۔
جی بہتر۔کہہ کر اسکی جائے نماز کے پیچھے اپنی جائے نماز بچھائی۔
اور پھر دونوں نے ایک ساتھ نماز ادا کی۔
پھر نماز سے فارغ ہو کر وہ قرآن لے کر بیٹھ گئی۔
آپ نے سونا ہے تو لائٹ اوف کر لیں میں بالکونی میں جا کر پڑھ لوں گی۔وہ سمجھی وہ سوئے گا اس لیے فوراً اٹھی۔
نہیں میں جاگنگ پر جا رہا ہوں آپ آرام سے پڑھیں۔اس نے کہا پھر کپڑے چینج کر کہ باہر نکل گیا۔
اور وہ صوفہ پر بیٹھ کر قرآن پڑھنے لگی۔
#$$_$@
وہ جاگنگ سے واپس آیا تو وہ صوفہ سو رہی تھی ٹائم ابھی سات بجے کا تھا اور گھر والے آٹھ بجے یا نو بجے تک اٹھتے تھے۔
وہ بے اختیار چلتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
بڑی غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔سانولی رنگت پر چمک بہت تھی خم دار پلکیں۔عنابی لب ستواں ناک دوپٹہ پہرے کے گرد لپٹا ہوا تھا۔پتا نہیں کیوں لیکن ابقار کیا کہ وہ چھو کر اس چہرے کے ہر نقوش کو محسوس کرے۔لیکن تبھی کوئی سوچ غالب ہوئی اور چہرے پر تاریکی نے جگہ لے لی ایک جھٹکے میں پیچھے ہوا اور چینج کر کہ لیٹ گیا۔ لیکن نیند کہاں آنے والی تھیں پھر سوچوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا گیا اور یہ سوچ سب سے زیادہ پریشان کر رہی تھی کہ کیا وہ یہ رشتہ نبھانے قابل ہے کیا وہ اپنا پائے گا اسے یا کوئی خلا رہی گی۔۔۔۔
&&&__
حلیمہ بیگم نے زبیدہ بیگم کو ناشتہ لانے سے منع کر دیا تھا پر انہیں کہا تھا کہ وہ آجائیں حصیفہ تھوڑی کنفرم ٹیبل ہو جائے گی لیکن وہ بھی اماں تھیں اور بیٹی کے گھر جا رہی تو تھوڑا بہت انتظام کر لیا تھا ناشتے کو۔
ارے منتہہ کتنی دیر لگاؤ گی اور ویسے ہی اتنی دیر ہو گئی ہے وہ لوگ کیا کہیں کہ کیسے لوگ ہیں سویرے آنے بجائے دوپہر میں تشریف لا رہے ہیں۔اماں نے منتہہ کو آواز لگائی جو کمرے میں پتا نہیں کونسی تیاری کر رہی تھی۔
بس اماں آرہی ہوں تھوڑی دیر میں اور ویسے بھی ابھی 8 بجیں ہیں شادی کا گھر ہے اس لیے سب دیر سے اٹھیں گے۔ آپ فکر نہ کریں۔اس نے وہیں سے جواب دیا۔
