Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 17)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 17)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
مزید دو دن خاموشی سے سرک گئے۔
اگر آپ اپنی امی کے گھر جانا چاہتی ہیں تو میں چھوڑ آتا ہوں تھوڑے دن رہ آئیں۔یہ بات محض ابقار مبین نے اسکی آواز سننے کے لیے کہی تھی
کیوں میری موجودگی اپکو پرانی یادیں تازہ کرنے میں دقت پیش آرہی ہے ۔جب منہ کھولا تو طنز ہی نکلا جس پر چند لمحے ابقار لب بھینچ گیا
وہ اب محض ماضی کا ایک قصہ ہے جسے میں یاد کرنا چاہتا ہی نہیں ہوں رہی بات اپکو نا بتانے کی تو اس بات کے لیے میں شرمندہ ہوں میں نے ماما سے کہا تھا کہ جب تک آپ میرے ماضی کے بابت اپکو نہیں بتائیں گیں میں شادی نہیں کروں گا لیکن وہ ماں تھیں بیٹے کی خوشیوں کے لیے خود غرض بن گئی تھیں لیکن اب جو اپنے فیصلہ کرنا چاہتی ہیں کر لیں میں پورا ساتھ دونگا آپکا اگر آپ علیحدگی۔۔۔۔اس بات حصیفہ نے کاٹ دی
میں آپکا ماضی جاننا چاہتیں ہوں۔اس نے سپاٹ لہجے میں کہا
اس میں سوائے تلخیوں کے اور کچھ نہیں اور میں اسے بیان نہیں کرنا چاہتا۔اس نے کرب سے کہا
لیکن میں سننا چاہتی ہوں بھلے اپکو کتنی بھی تکلیف کیوں نہ ہو۔ اس لہجے میں سفاکی پیدا کی (کیونکہ انشاللہ آج کے بعد آپکے دل میں کوئی تلخی نہیں رہے گی اور اپکو تکلیف بھی نہیں پہنچے گی)آخری جملا اپنے دل میں ادا کیا۔
یعنی آپ چاہتیں ہیں جیسے اپکو تکلیف پہنچی مجھے بھی ہو پھر ٹھیک ہے۔اس نے تلخی سے مسکرا کر کہا
__&&$#
سات سال قبل
بیٹا کیا فضول ضد لگا رکھی ہے بہترین یونیورسٹیاں تو یہاں بھی بہت ساری موجود ہیں پھر اپکو اتنی دور جانے کی کیا ضرورت ہے۔حلیمہ بیگم نے تنگ آکر کہا
ماما اگر وہ جانا چاہتا ہے تو جانے دیں نہ۔ملک شیک کا آپ لیتی زنیرہ بی بی نے بھائی کے حق میں آواز اٹھائی
بی بی آپ نے تو اپنے گھر چلے جانا ہے ایک سال بعد اور میرے کوئی چھ چار بچے نہیں ہیں کہ اسے بھیج دوں تو تسلی ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔حلیمہ بیگم نے اسے گھور کر کہا
بابا ماما کو سمجھائیں نہ دو ڈھائی سال کی تو بات ہے اور پھر وہاں جاؤں گا تو مجھے کتنے ایسے طریقے ہیں جو سیکھنے کو ملیں گیں جس سے ہم اپنی چھوٹی سی کمپنی کو آگے بڑھا سکتے ہیں مختلف طریقوں کے استعمال سے۔اس نے جانے کا عذر پیش کیا
بیٹا وہاں جانے کے لیے کافی پیسوں کی ضرورت ہوگی اور ابھی میری کوئی اتنی سیونگس بھی نہیں جو میں یہ خرچ پورے کر سکوں۔مبین صاحب نے پریشانی سے کہا
بابا میں نے کچھ سائٹس چیک کیں تھیں جو اس یونیورسٹی کے شاگرد ہوتے ہیں انہیں جاب بھی دی جاتیں ہیں تاکہ وہ اپنے خرچ کے لیے کما سکیں۔ابقار نے اس پریشانی کا حل ہی بتایا
پر بیٹا دو سال کی فیس کوئی کم تو نہ ہوگی۔حلیمہ بیگم نے کہا
ماما لندن میں پڑھائی اتنی مہنگی نہیں ہے میں جب جاؤں گا تو اللہ ساری مسئلے خود پورے کر دے گا آپ بس مجھے جانے دیں۔اسکی ضد تھی کہ باہر جا کر ہی اپنا ایم بی اے کمپلیٹ کرے گا
جی ماما جانے دیں اسے۔زنیرہ نے پھر بولی۔
اور مزید ایک دن کی بحث کے بعد زنیرہ اور ابقار نے اپنے ماں باپ کو منا لیا اور ابقار لندن کی زمین پر قدم رکھ چکا ہو۔_
__#$$__$
آج اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اسے پر لگ گئے ہوں اسکی زندگی کا سب بڑا خواب پورا ہو چکا تھا۔
آج ابقار مبین کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا
اندھے ہو دیکھ نہیں چل سکتے یو فول۔جو وجود ابھی بے دھیانی میں ابقار سے ٹکرا گیا تھا اسنے انگریزی بدتمیزی لہجے میں کہا
دیکھ کر آپ نہیں چل رہیں تھیں اور مجھے فول کہہ رہی ہیں۔ابقار نے رہے ہوئے لہجے میں کہا
لگتا ہے نئے ہو تبھی مجھ سے ایسے بات کر رہے ہو۔اس لڑکی نے اسکا جائزہ لیتے ہوئے کہا
یس نیو تو ہوں لیکن کیا آپ کوئی کوئن ہیں جو آپ سے بہت احترام سے بات کرتا۔اس نے ناک چڑھا کر کہا
یہ تمھیں کچھ دنوں میں پتا چل جائے گا تم کس بیچ کے ہو؟اس نے پوچھا
میں ایم بی اے کے فرسٹ بیچ میں ہوں۔اسنے ادھر ادھر نگاہیں دوڑاتے ہوئے کہا
ہم اچھا تو آؤ میں تمھیں تمھاری کلاس دیکھاتی ہوں۔اس نے اسے اوفر کی
جی نہیں شکریہ میں خود ڈھونڈ لوں گا۔کہہ کر وہ آگے بڑھا
وہ لڑکی اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی۔
_#&&#
کچھ دنوں کے بعد ابقار کو پتا چل گیا تھا کہ لیزا اس یونیورسٹی کی کافی خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی اور کہنے تو مسلمان تھی لیکن ادا ایک بھی مسلمان والی کوئی بات نہ تھی خیر دن بڑھتے گئے اور ابقار جو اسے ناگوار نظروں سے دیکھتا تھا اسکا دوست بن گیا تھا صرف ایک وجہ سے ۔
آج وہ جلدی کلاس میں آگیا تھا اور ابھی تک پروفیسر کلاس میں نہ آئے تھے وہ صبح کچھ کھا کر بھی نہیں آیا تھا تو کچھ کھانے کا سوچ کر وہ اپنا بیگ رکھ کر کینٹین کی طرف چل دیا
واپس آیا تو کلاس سٹارٹ ہو رہی تھی وہ آیا اور اپنی جگہ پر بیٹھ گیا
ابھی کلاس شروع ہوئے دیر ہی ہوئی تھی کہ ایک لڑکی نے شور مچایا
کیا ہوا ہے کیوں کلاس کو ڈسٹرب کر رہی ہو۔سر نے غصے سے کہا
سر میرے بیگ میں پیسے رکھے ہوئے تھے لیکن ابھی میں نے بیگ دیکھا تو اس میں سے غائب ہیں۔اس لڑکی نے روہانسی ہو کر کہا
____________
ایسے کیسے آپکے پیسے کہیں جا سکتے ہیں دھیان سے اپنے بیگ میں چیک کریں۔اس نے کہا
سر میں نے دو بار اپنا بیگ اچھے سے چیک کیا ہے لیکن نہیں مل رہا سر میرے پاس صرف وہی پیسے تھے خرچ کرنے کے لیے سر آپ ایک دفہ سب کے بیگ کی چیکنگ کرائیں ۔وہ لڑکی رو دینے کو تھی
جس نے بھی یہ شرارت کی ہے شرافت سے انہیں بیگ واپس کریں ان کا ورنہ اگر چیکنگ کرنے پر کسی کے پاس سے نکلا تو تین سال کے لیے یونیورسٹی سے بین کر دیا جائے گا۔انہوں نے مشکوک نظروں سے سب کو گھور کر کہا
سر ہمارے پاس نہیں ہے آپ چیکنگ کرا سکتے ہیں۔پیچھے بیٹھے ایک لڑکے نے کہا
آپ جائیں سب کی چیکنگ کریں ۔پروفیسر نے اسے اجازت دی
سب کے بیگ چیک ہو چکے لیکن کسی کے پاس سے نہیں ملا لیکن اب صرف لیزا اور ابقار کے بیگ کی چیکنگ رہ گئی تھی
سر یہ رہا میرا والٹ۔ اس نے سر کو والٹ دکھایا جو کہ بد قسمتی سے ابقار کے بیگ سے ملا تھا
کھڑے ہوجائیں ابقار مبین یہ کیا حرکت تھی ..انہوں نے گرج دار آواز میں کہا
سر یہ میں نے نہیں کیا اور میں چور نہیں ہوں جو انکا والٹ لوں یقینا یہ کسی اور کا کام ہے۔ابقار نے شاک سی کیفیت میں صفائی دی
کیوں کوئی پاگل ہے یا کوئی آپکا دشمن ہے جو ایسا کرے ابھی اسی وقت پرنسپل کے کیبن چلے آپکی اس حرکت کی وجہ سے اپکو تین سال کے لیے بین کر دیا جائے گا ۔انہوں نے اسے گھور کہا
سر ابقار سہی کہہ رہے ہیں انکے ساتھ کسی نے سازش کی ہے۔یہ لیزا تھی جو معاملہ بگڑتے دیکھ بول پڑی
آپ کیسے علم کے یہ کسی اور کام ہے اور کوئی کس بنا پر کرے گا یہ کام۔پروفیسر اس کی جانب مڑے
سر پیچھلے دنوں میکس کے گروپ کے ساتھ ابقار کی لڑائی ہوگئی تھی کیوں کہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے تھے اس وقت میکس کچھ نہیں کر پایا تبھی اس نے بدلا لینے کے لیے یہ کام کیا ہے۔لیزا نے ساری روداد سنائی۔
ن۔نن نہیں سر یہ جھوٹ کہہ رہی ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔میکس تو فورا گڑبڑا گیا (وہی لڑکا جس چیکنگ کرنے کا کہا )
آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے اس بات یا آپ ایسی ہی کہہ رہی ہیں۔انہوں نے اسے دیکھا
جی سر میرے پاس ثبوت ہے۔اس نے اپنے موبائل میں موجود ایک وڈیو اون کر کہ دکھائی جس میں میکس اور اسکے ساتھ ایک اور لڑکا تھا جس نے لائرا(بیگ والی لڑکی)کے بیگ سے والٹ نکالا اور ابقار کے بیگ میں رکھ دیا اور بعد میں قہقہ لگایا
نہیں سر یہ میں نے نہیں کیا۔میکس کی گردان ابھی بھی جاری تھی ۔
سوری ابقار آپ اپنی سیٹ پر بیٹھ سکتے ہیں اور میکس اپکو اب چھ مہینوں کے لیے نکال دیا جائے گا ۔اس سے معذرت کر کہ پروفیسر نے اسے جھاڑا پھر اسے لے کر چلے گئے
وہ دن تھا جس دن ابقار دل میں لیزا کو لے اچھائی پیدا ہو گئی۔
&#&#–#
وقت بڑھتا گیا اور انکا دوستی کا رشتہ بھی لیزا کا تعلق ایک اچھے کھاتے پیتے اور آزاد خیال گھرانہ سے تعلق تھا جہاں کسی بھی بات کی روک ٹوک بالکل کی نہ جاتی تھی اس ایک سال میں کافی بار ابقار اور لیزا کے مختلف دوست وہاں رہتے جس میں چار لڑکے اور تین لڑکیاں موجود تھی ابقار کو لیزا کا ان لڑکوں سے ملنا اچھا نہیں لگتا تھا کیوں کہ اس نے یہ ماحول کبھی دیکھا ہی نہیں تھا اور اب تو لیزا کو لے کر اسکے جذبات بھی بدلنے لگے تھے ہاں ابقار مبین کو اس سے پیار ہو گیا تھا اور اب وہ اپنے جذبات سے لیزا کو آگاہ کرنا چاہتا تھا۔
آبی ہم کافی ٹائم سے کہیں باہر گھومنے نہیں گئے نہ کیوں نا آج ہم باہر چلیں۔لیزا نے ابقار کو فون کیا تھا
ہمم یار میں تھوڑا آوفس کے کام میں مصروف ہوں آج پھر کبھی چلے گے۔اس نے مصروف سے انداز میں کہا کیوں کہ وہ کچھ گائک چیک کر رہا تھا
آبی یار تم یہ اپنے کام بعد میں مکمل کر لینا میں گھر پر بور ہو رہی ہوں اور باقی سب بھی مصروف ہیں ورنہ میں انکے ساتھ چلی جاتی ۔اس نے چڑے انداز میں کہا
اچھا بابا چلتے ہیں تم اپنا موڈ اوف مت کرو جہاں جانا ہے وہ جگہ اور ٹائم ڈسائیڈ کر لو پھر مجھے مسیج کر دینا ۔اس نے مانتے ہوئے کہا
تم بہت اچھے ہو آبی میں سب ڈسائیڈ کر کہ تمھیں ٹیکسٹ کر دوں گی بائے۔کہتے ہی کھٹاک سے فون بند کر دیا
+$+$+$+$
آج جب انہیں اکیلے میں ٹائم مل ہی گیا تھا تو ابقار نے سوچا تھا کہ اسے وہ آپنے دل کی بات بتا دے گا
اور آبی کیسا ہے وہاں جا کر تو تو بھول ہی گیا ہے مجھے۔ابقار جانے کے لیے کپڑے دیکھ رہا تھا جب دامیر کا فون آیا (ابقار کا دوست)
نہیں میری جان میں تجھے کیسے بھول سکتا ہوں بس آج پڑھائی میں۔ تھوڑا مصروف ہوں اور پھر ایک جاب بھی کر رہا ہوں تو بس ٹائم ہی نہیں نکل پاتا۔اس نے مسکرا کر کہا
اچھا تجھے ایک گڈ نیوز دینی تھی۔اس نے جوش سے کہا
تیری ابھی شادی تو ہوئی نہیں یہ گڈ نیوز کہاں سے اگئی۔ابقاد نے شرارت سے کہا
بے ہودہ انسان فرنگیوں کے دیس میں جا کر تو بھی آزاد ہو گیا ہے۔اس نے مصنوعی تاسف سے کہا
ابے افسوس بعد میں کر لینا پہلے گڈ نیوز تو بتا دے۔اس نے کہا
یار میرے آنے کا انتظام ہو گیا ہے اب میں بہت جلد تیرے پاس آجاؤں گا ۔اس نے خوشی سے کہا
ارے واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے میرے پاس بھی تیرے لیے ایک سرپرائز ہے۔؟اس نے بتایا
جلدی سے بول کیا۔اس نے تجسس بھرے لہجے میں کہا
یار مجھے پیار ہو گیا ہے ۔اس نے دھیرے سے دھماکہ کیا
کیا تو وہاں پڑھنے گیا تھا یا گوریاں پٹانے۔اس نے چلا کر کہا
او زیادہ ڈرامے نہ کر اور آج میں اسے بتانے والا ہوں اپنی فیلنگز کا تو دعا کر وہ مان جائے۔اس نے پریشان ہوتے کہا
یار مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کہوں اس نے ہاں کر بھی دی تو انکل آنٹی مان جائیں گے کیا۔اس نے پریشانی سے کہا
یار وہ بہت اچھی ہے ماما بابا مان جائیں گے انہوں ہمیں ہماری پسند کا حق دیا ہے۔اس نے اسکی بات کو ہوا میں ہی اڑا دیا
اچھا چل ابھی میں نے جانا ہے بعد میں بات کرتا ہوں چائے.
-#-#+#+
لیزا میں آج تم سے بہت ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔وہ دونوں اس وقت سڑک کی فوتھ پات پر چل رہے تھے ابقار نے بلیو شرٹ اور اوپر بلیک کوٹ لیا ہوا تھا کیوں کہ وہاں رات میں ٹھنڈا موسم ہوتا تھا اور جینس۔جبکہ لیزا کے ٹائٹ پینٹ پر ریڈ شرٹ پہنی ہوئی تھی جو اسکے پیٹ کو بھی صحیح سے کور نہیں کر رہی تھی۔
ہاں بولو۔اس نے سر ہلایا
لیزا ویل یو میری می میں نہیں جانتا کب کہاں کیسے لیکن یہ دوستی میرے لیے اب محبت کا فرجہ اختیار کر گئی ہے تو کیا تم میری اس زندگی کی ہمسفر بنو گی ۔اسکی اجازت پر وہ دیوانہ جھٹ پروپوز کرنے کے سٹائل میں بیٹھ گیا
ہممم نہیں۔وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر نفی میں سر ہلایا
کیوں کیا تم کسی اور کو پسند کرتی ہو؟اس نے ڈر سے پوچھا
ہاں میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔اس نے سنجیدگی سے کہا
اوہ اچھا کوئی بات نہیں سوری تمھیں برا لگا تو بس جو میرے دل میں تھا میں کہہ دیا گیا۔اس نے لب بھینچ لیے اندر کچھ بری طرح ٹوٹا تھا
ویسے تم جسے پسند کرتی ہو؟اس نے نا چاہتے ہوئے بھی پوچھا
تمھیں؟اس نے ایک جھٹکے سے ابقار کو گلے لگایا اور سرگوشی میں کہا
کتنے ہی پل وہ سن کھڑا رہا وہ سمجھا اس نے غلط سنا ہے۔
ک۔۔کیا کہا تم نے پھر سے کہنا ۔اس نے حیرت سے اسے دیکھا
ہاں ابقار مبین آئی لو یو۔کہہ کر وہ بے اختیار ہنستی چلی گئی کیوں نے وہ ہونق بنا اسے دیکھ رہا تھا۔۔
ت۔تو تم مذاق کر رہی تھیں۔اس نے منہ بنا کر کہا
ہاہا ہاں یار اپنی شکل تو دیکھو۔اس نے ہنس کر کہا
اے خبردار ایسا مذاق کیا تو۔اس نے لیزا کو ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا ۔
تمھیں پتا ہے میرے اندر توڑ پھوڑ شروع ہو گئی تھی۔اس کے چہرے پر ڈر کے آثار تھے ۔
پھر وہ دونوں ان لمحوں میں قید ہونے لگے اور قدرت نے افسوس سے اسے دیکھا
#(#(#(—
خیر دامیر بھی کچھ دن میں وہیں آگیا اور اس نے بھی ابقار کی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا ۔ابقار نے اسے جب لیزا سے ملوایا تو اسے لیزا ایک آنکھ نا بھائی اور سونے پر سہاگا یہ کہ اس نے لیزا کی بہت ایسی حرکات نوٹ کیں جو کہ ایک شریف لڑکی تو ہر گز نہیں ہونی تھیں
اس نے ابقار کو سمجھانا چاہا جس پر آبی اور اسکا جھگڑا ہو گیا
ابی میں تجھے کہہ رہا ہوں وہ اچھی لڑکی نہیں تیری غیر موجودگی میں وہ اس داریم کے ساتھ رہتی ہے۔اس نے انکی کلاس میں پڑھتے ایک لڑکا کہا
یار وہ اسکا دوست ہے اور وہ لڑکیاں ہیں انکے ساتھ جاتی ہیں تجھے غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔ابقار کو بری تو لگی بات پر ضبط سے کہا
یار میں کیوں تجھ سے جھوٹ بولو گا دیکھ آبی یہ سب ختم کر دے انکل آنٹی کبھی نہیں مانے گے اس سب کے لیے۔اس نے پریشانی سے کہا
دراصل بات کیا ہے پتا ہے تجھ سے وہ اچھی طرح مل نہیں نہ تو تو جل گیا ہے کہ مجھ سے وہ پیار کرنے لگی۔اس نے الٹا ہی کہا
میں اور تجھ سے جموں گا تو دوست ہے میرا میں ہمیشہ تیرا اچھا ہی چاہوں لیکن تیرے آنکھوں پر تو مس لیزا کے پیار کی کالی پٹی بندھی ہے جب اترے گی نہ تو تو پچھتائے گا۔دامیر کو اسکی بات بری لگی تھی کہتا ہوا باہر نکل گیا
$-$–#
خیر دن گزرنے لگے ابقار کا اب لاسٹ سمسٹر تھا اور وہ جلد سے جلد لیزا کے لیے گھر میں بات کرنا چاہتا تھا ایک اس نے مبین صاحب اور حلیمہ بیگم کو اپنی پسند کا بتایا تو پہلے وہ شاک رہ گئے کیونکہ آبی نے انہیں اس کی تصویر بھی دکھائی تھی انہیں اپنے بچے کی پسند پر افسوس ہونے لگا انہوں نے جب اسکے رہن سہن پر سوال اٹھائے تو اس نے یہ کہہ کر یہ سوال ختم کیا کہ”یہاں جیسا ماحول ہے وہ ویسے ہی رہتی جب وہ ہمارے ساتھ رہنے لگے گی تو ہمارے رہن سہن میں ڈھل جائے گی۔”کافی بحث کے بات اماں ابا نے ہار مان لی ۔کیونکہ ابقار نے کہا تھا “کہ آپ لوگ اگر نہیں مان رہے تو میں اور لیزا یہی کورٹ میرج کر کہ رہ لیں گے اور کیا پتا میں دوبارہ آپکے پاس آؤں یا نہیں”اس وقت دونوں ماں باپ ٹوٹ سے گئے جس اولاد کو اتنی محبت سے پالا تھا وہ انہیں ہی دھمکا رہی تھی ۔
_+$++$
ابقار اور لیزا کی شادی ہوگئی زندگی اپنے ڈگر پر ہی چل رہی تھی ابقار کے لاکھ کہنے کے باوجود بھی لیزا نے اپنا لائف سٹائل نہیں بدلا تھا وہ اب بھی کافی مورڈن گھرانے کی لڑکیوں کو اپنا دوست بنایا جو اسی کی طرح تھیں اب تو دیر دیر سے گھر آتی تھی۔ابقار نے اس بات پر اسے ٹوکا تھا جس پر لیزا نے غصہ سے کہا تھا’دیکھا میں نے تم سے کہا تھا کہ تم پاکستانی مردے اپنی بیویوں کے لیے چھوٹی سوچ رکھتے ہو انہیں قید کر کہ رکھنا چاہتے ہو پر میں تمھاری اس میں کبھی نہیں آؤں گی”اس پر بھی لمبی بحث ہوئی پھر ابقار نے کچھ کہنا ہی چھوڑ دیا۔دامیر سے ابقار کی دوستی پھر سے ہو گئی تھی جو کہ لیزا کو کھلنے لگی تھی کیونکہ جب ابقار سے دامیر نے لیزا کے بارے میں وہ کہا تھا وہ سن چکی لیکن اگر اب کی بار اس نے کچھ کہا اور ابقار نے یقین کر لیا تو بس یہی سوچ اسے پریشان کر رہی تھی پھر اپنا شیطانی دماغ چلا کر اس نے اس دوستی کا قصہ ختم کرا دیا ایک دن ابقار اپنا موبائل گھر پر ہی بھول گیا تو موقع کا فائدہ اٹھا کر اسنے دامیر مسیج کیا ابقار کے موبائل کہ کچھ آوفس کا کام ہے تو آجا مل کر دیکھ لیتے ہیں(دامیر نے کچھ پیسے انکی کمپنی میں انویسٹ کئے تھے)جس کی وجہ سے اگر وہ کچھ بھی کرتا تھا دامیر سے مشورہ لیتا تھا خیر تو دامیر جب پہنچا تو لیزا کو اکیلے پایا وہ جانے لگا تو پیچھے سے گیٹ بند کر دیا اسکے بعد جب ابقار گھر پہنچا تو وہاں کی حالات دیکھ کر سن ہوگیا تھا پھر لیزا نے دامیر پر زبردستی کا الزام لگا کر اپنا کام مکمل کر لیا تھا لیکن یہ سچ بھی کب تک چھپنا تھا۔شادی کو چار مہینے ہو گئے تھے تب لیزا نے ابقار کو بتایا کہ وہ پریگنینٹ ہے اور ابقار یہ خبر سن کر جھوم اٹھا لیکن لیزا کی انگلی بات کرتے ہی اس کی خوشی ہوا ہو گئی
یہ کیا بکواس کر رہی ہو لیزا ہوش میں تو ہو تم؟ابقار نے غصہ سے داھاڑ کر کہا
