Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 02)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 02)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
آج ہی وہ امریکہ سے میٹنگ کر کے واپس آیا تھا اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کامیاب ہوا تھا۔ابھی وہ ائیر پورٹ سے گھر جا رہا تھا کراچی کی ٹریفک سے تو ہر کوئی پریشان رہتا ہے جہاں کہیں ٹائم پر پہنچنا ہو اس ٹریفک کی وجہ سے دیر ہو جاتی ہے اور اوپر سے گرمی بھی شدید قسم کی ہوتی ہے۔ابھی ایسا ہی ہوا تھا۔وہ ٹریفک میں پھنس گیا تھا۔
ایک تو یہاں کی ٹریفک کا کوئی حال نہیں دماغ خراب کر رکھا ہے۔اس نے جھنجھلا کر اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا۔
ابھی وہ ادھر ادھر نظریں دوڑا رہا تھا کہ اچانک ایک جگہ اس کی نظر ٹہر سی گئی۔وہی سیاہ نور سے بھرپور آنکھیں وہ کتنی دیر تک ایسی ہی رہا پھر ہوش آنے پر آنکھیں بند کر کہ دوبارہ کھولیں تو وہ دو سیاہ انکھوں والی پری وہاں نہیں تھی۔
کیا ہو گیا ہے مجھے وہ صرف ایک خواب اور کچھ میری لائف اب کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔اس سر تھام کر کہا۔
پھر ٹریفک کھول گئی اور اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
)#+#+#+$+$++$+$-$–$+$$++$+$
ابھی حصیفہ اور نمرہ تجوید کی کلاس لے کر فارغ ہوئی تھی درس کی کلاس سٹارٹ ہونے میں تھوڑا ٹائم تھااس لئے دونوں مدرسے کے پارک میں بیٹھیں تھیں اور آج نمرہ بہت خوش لگ رہی تھی۔
کیا بات بڑی خوش لگ رہی ہو میری جان۔حصیفہ نے شرارت سے کہا۔
ہاں یار میں بہت خوش ہوں پتا ہے امی ابو نے اس رشتے سے انکار کر دیا اب مجھے بہت اچھا فیل ہو رہا ہے۔اس نے خوشی سے کہا۔
اللہ کا شکر میں نے کہا تھا نہ کہ اللہ سب بہتر کرے گا تم فضول میں پریشان ہو رہی تھیں۔اس نے مسکرا کر کہ اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
ہاں اللہ کا لاکھ بار بھی شکر ادا کیا جائے تو کم ہے حصیفہ میں نے امی کو ساری بات بتا دی تھی امی کو بھی وہ کچھ ٹھیک نہیں لگا تھا اس لیے امی نے ابو سے بات کی اور انہوں نے منع کر دیا انہیں فون کر۔نمرہ نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔
اچھا اب چلو میری جان اب تم خوش رہو اور چلو کلاس بھی سٹارٹ ہونے والی ہے۔
ہاں چلو۔پھر وہ دونوں اٹھ کر کلاس کی طرف چلی گئیں۔
+@+@+@@++@+@+@+@+@+@
زنیرہ بھی کراچی آگئی تھی۔اور اسکے دو کیوٹ بچے بھی۔اور گھر میں تو جیسے رونق لگ گئی تھی۔اور آج ابقار کی بھی واپسی ہو گئی تھی۔
اسلام و علیکم ایوری ون۔ابقار ۔ے با آوازے بلند سبکو سلام کیا۔
وعلیکم السلام آگئے صاحب۔زنیرہ منہ بنا کر اسکے گلے لگی۔
ہاں گیا چلا جاؤ کیا۔اس نے زنیرہ کی ناک کھینچی
اتنا بھی وقت نہیں ہے کہ بہن کو فون کر کے پوچھ لیتے کہ ٹھیک طرح پہنچ گئی ہو یا نہیں۔زنیرہ نے شکوہ کیا۔
مجھے پتا تھا تم خیریت سے پہنچ گئی ہوگی اگر تم خیریت سے نہ تو تم نے ائیر لائن والوں کو سکون نہیں رہنے دینا تھا۔اس نے شرارت سے کہا۔
ہاہاہاہا ویری فنی انہہ۔زنیرہ نے منہ بنا کر کہا۔
اچھا اچھا اب لڑنا بند کرو۔حلیمہ بیگم نے کہا۔
اور بھئی میرے دونوں جگرز کہاں ہیں اور تنا سناٹا کیوں ہے گھر میں۔اس نر تعجب سے پوچھا
کیونکہ جب بھی زنیرہ آتی تھی خاموشی کم ہی پائی جاتی تھی۔
وہ دونوں ابھی سوئے ہیں تھوڑی دیر پہلے ہی بہت پوچھ رہے تھے تمھارا کہ کب ماموں آئے گے۔حلیمہ بیگم نے کہا۔
حلیمہ بیگم بہت بھوک لگ رہی کھانے لگا دیں باتیں بعد میں کر لیجیے گا آپ لوگ۔مبین صاحب نے ان کی باتوں سے تنگ آکر کہا۔
جی جی ابھی لگاتی ہوں اور ابقار تم بھی فریش ہو جاؤ کھانا کھا کر آرام کر لے نہ۔انہوں نے اسکے سر میں ہاتھ پھیر کر کہا۔
اوکے ماما ابھی ایا۔کہ کر اٹھ گیا۔
اور زنیرہ آٹھ کیچن میں چل دی اپنی امی کے پاس۔
ماما آپ نے ابقار کی شادی کا کیا سوچا۔اس نے پرسوچ انداز میں کہا۔
میں نے سوچا ہے اسکی شادی کا پر وہ نہیں سوچنا چاہتا میں جب بھی اس متعلق بات کرتی ہوں وہ ہمیشہ نظر انداز کر جاتا اصل بات تو یہ ہے کہ ابھی تک ماضی میں ہی اٹکا ہوا۔انہوں نے اداس لہجے میں کہا۔
ماما کب تک وہ ماضی کے میں پننوں میں الجھا رہے جسے جانا تھا وہ جا چکے ہیں اور اب اسے بھی آگے بڑھنے کا پورا حق حاصل ہے اور اب تو یہ گھر بھی کتنا سونا سونا ہو گیا ہے اور ابقار اسکی تو پرانی ہنسی اور شرارتیں کہیں گم ہو کر رہ گئی ہیں۔اسنے بھی اداس لہجے میں کہا۔
میں ماں ہوں بہت اچھی طرح جانتی ہوں اسکی مسکراہٹ میں کتنا پھیکا پن ہے ابھی بھی صرف ہماری وجہ سے اپنے آپ کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتا ہے پتا ہے زینو وہ آج بھی پوری پوری رات نہیں سوتا اؤر کبھی کبھی تو اسے یہ روشنیاں بھی چبنے لگتی ہیں میرا دل کٹ کر رہ جاتا ہے اسکی یہ حالت دیکھ کر لیکن پھربھی اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کتنا تنہا ہے اندر سے۔کہتے کہتے انکی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کہ گرا۔
ماما۔۔۔ماما آپ روئے نہیں انشاللہ سب بہتر ہو جائے گا اللہ ہمارے ابقار کو بہت ساری خوشیاں دے گا اور دیکھنا اسے بہت اچھی شریک حیات ملے گی اور میں بات کروں گی اس سے۔اس نے ماں کو ساتھ لگا کر تسلی آموز لہجے میں کہا۔
بس اللہ اب میرے بچے کی زندگی میں خوشیاں لے آئے آمین۔انہوں دل سے دعا دی۔
@+@+#+#++#+#+#+#+#+#++#+#+#+@@@
آج درس کی کلاس میں نا محرم محبتوں پر بیان دیا جا رہا تھا۔
آج کل کی نا محرم محبتیں وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہی ہیں اور انکے اکثر انجام گناہ کی صورت نکل رہے ہیں۔
ہمارے اسلام میں کچھ پابندیاں عائد کی گئی جن سے ہم اکثر تنگ آجاتے ہیں حالانکہ وہ ہمارے بہتری کے لیے ہیں
ہمارے اسلام میں نامحرموں سے خود کو محفوظ رکھنے کا کہا گیا۔کیونکہ جب دو نا محرم اکیلے ہوتے ہیں تو انکے بیچ شیطان ہر وقت موجود ہوتا ہے اور پھر وہ محبتوں کو حوس میں تبدیل کر دیتا جس سے زنا جیسا گناہ ہمارے معاشرے میں عام ہو رہا ہے۔
آج کل کے ماں باپ کا بھی اس میں بہت بڑا ہاتھ اس لیے کہ وہ اپنے بچوں پر زیادہ ہی بھروسہ کر لیتے ہیں اور پھر انہیں آزادی دے کر پورا موقع دیتے ہیں اپنی لائف جینے کا اور پھر نظر بھی نہیں رکھتے۔اج کل اگر بچہ ماں باپ کے سامنے بھی کسی لڑکی یا لڑکے کا بے تکلفی سے ذکر کر رہا ہوتا ہے تو ماں باپ بچے ہیں دوست ہیں کہ کر قصہ ہی ختم کر دیتے ہیں۔
اور یہی دوستیاں آگے جا کر انکا نام بدنامی میں روشن کر دیتی ہیں۔بڑی باجی تاسف سے کہا۔
اور آج کل لڑکے پاس لڑکی یا کسی لڑکی کے پاس لڑکا یعنی آج کل کی زبان میں کہا جائے تو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ نہ ہو تو اپنا آپ انہیں خالی خالی لگتا ہے جیسے انکے اندر کوئی اندرونی اعضاء ختم ہو رہے ہوں۔
آج کل بے حیائی بہت عام ہوگئی آج کل لڑکا لڑکی کی دوستی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا اور اپنے انہیں کاموں کی وجہ سے لڑکیاں کسی کی حوس کا نشانہ بن جاتی ہیں اور لڑکے بھی انہیں یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ کتنوں کے ساتھ تمھارا ایسا ہی رشتہ قائم ہوگا۔
اور پھر ایسی لڑکیوں مقدر موت بن جاتی ہے ہمارے کی آج کل پیدا ہونے والی تلخ حقیقتوں میں سے ایک زنا بھی تلخ حقیقت ہے جو انہیں نا محرم محبتوں کی وجہ سے پیدا ہمارے شیروں میں جگہ جگہ ٹرسٹ ہوم بنے ہوئے جہاں آئے دن کوئی نہ کوئی آکر ننھی معصوم جانوں کو چھوڑ جاتا ہے۔ان میں کتنی معصوم جانیں گناہ کی داستانیں ہیں جنہیں چھپانے کے لیے لوگ رات تاریکی میں وہاں چھوڑ کر چلے جاتے ورنہ کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔
اور اس زنا سے بہت اذیت ناک بیماری بھی جنم لے رہی جو کہ ایڈس کہا جاتا اور یہ بیماری کسی دیمک سے کم نہیں جو کہ انسان کو روز انتہائی اذیت سے ختم کر رہی ہے۔
اس لیے ہمارے اسلام محرم سے محبت سے پیغام دیا گیا۔کیونکہ محرم محبت سکون ہے اور پتا ہے آپ سبکو ایسا کیوں ہے کیوں کہ یہ ہم لوگ دین سے بہت دور ہیں۔جب اسلام کے دائرہ میں آتے ہیں تو بہت سے ایسے عہد ہیں جو لے کر بھول جاتے اور اسکا ہماری تباہی ہے۔
انہوں نے ٹہرے مگر نرم لہجے میں بیان کیا۔
بڑی باجی کا بیان سب بہت انہماک سے سن رہے ہوتے ہیں۔ ابھی مکمل خاموشی تھی۔سب انہیں بہت دھیان سے سن رہے تھے اور بے شک اللہ کے یا کسی صحیح بات کو سب بہت دھیان سے سنتے ہیں کیوں نکہ وہ سچ ہوتا ہے۔
سچی محبت کرنے والا سب سے پہلے آپکی عزت کرتا اور اپکو بغیر کسی رشتے کے اکیلے میں ملنے نہیں بلاتے اور پھر آپکے ساتھ ایک پاکیزہ رشتہ جوڑ اپکو اپنی دسترس میں لیتا ہے۔اور محرم رشتوں میں ہی سکون ہے۔
___________
زندگی کا پہیہ معمول کے مطابق چل رہا تھا لیکن اسکی زندگی اج بھی اس ایک لمحے میں اٹک کر رہ گئی جس لمحے میں اسکی ذات سے جڑے دو انسانوں نے اسکی روح کو زخمی کر دیا تھا دن کی روشنی میں مضبوط دکھنے والا انسان رات کی تاریکی میں کسی معصوم بچے کی طرح تڑپ تڑپ کر روتا تھا اور یہ آنسو اسکے دل پر گرتے تھے آنکھوں سے نہیں بہتے تھے آنکھوں سے آنسوں بہنے کا سلسلہ تو ایک عرصہ ہوا ختم ہوچکا تھا اور جو اسکے آنسوں اسکے دل پر گرتے تھے ان کی وجہ سے روح کے زخموں سے خون رسنے لگتا تھا۔اور یہ اندر ہی اندر سارے احساسات و جذبات کو بھی منجمد کر رہا تھا۔
@++@+@+@+@+@+
کیوں کیا تم نے آخر میرے ساتھ ایسا کیا مل گیا تمھیں مجھے برباد کر کہ مجھے دھوکہ دے کر۔اس وقت بھی وہ وہی سوال کر رہا تھا جو وہ اس انسان سے روز کرتا جسے شاید اس کی تڑپ کا احساس ہی نہیں۔
کونسی کمی رہ گئی تھی میری محبت میری قربت میں میرے اعتبار میں میرے مان میں جو تمھارا مجھ سے دل بھر گیا ت۔۔تم تو مجھ سے محبت کرتی تھی نہ پھ۔۔پھر پھر کیوں مجھے تڑپنے کے لیے چھوڑ گئیں۔اس نے اپنے بال اپنی مٹھیوں میں جکڑ لیے اور زور سے سر پیچھے دیوار پر مارا۔
میرا دل بھر گیا تھا تم سے مجھے تم سے کبھی محبت تھی ہی نہیں تم ہی تھے جو میرے پاگل تھے۔سامنے کھڑا عکس استہزایہہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے کہہ رہا تھا۔
صحیح کہا میں ہی پاگل تھا جو اندھا ہوگیا تھا تمھاری محبت اور صرف تمھاری وجہ مجھے دوستی جیسی خوبصورت رشتے سے بھی نفرت ہوگئی ختم کر گئی تم سب ختم کر گئیں جاؤ دفاع ہو جاؤ یہاں سے میرے دماغ سے اور سکون دے دو مجھے خود سے نجات دے دو۔اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے واس کو کھینچ کر سامنے کھڑے عکس کو مرمارا اور وہ عکس غائب ہوگیا۔
روز یہ عکس اسکے سامنے اسکی محبت کا مذاق اڑاتا تھا۔
#))#)#+#!#!#!#!#!#!#!!#!#!#؟#؟@؟@؟@؟؟@
آج حصیفہ کی چھٹی تھی ہفتہ اور اتوار اسکی چھٹی ہوا کرتی تھی۔اور اسکے یہ دو دن مصروفیت میں ہی نکل جاتے تھے حصیفہ سے تھوڑے عرصے پہلے محلے کے چھوٹے بچوں کو مدرسہ اور ٹیوشن پڑھانا شروع کیا تھا۔اور یہ مشورہ زیبا بیگم کا تھا انکا اصل مقصد منتہہ سے کام کرانا تھا ورنہ وہ کام چور بی بی ہر کام حصیفہ کے ذمہ لگا دیتی تھیں۔
@))@)@)@))#))#)#)#)#!
زمان صاحب کی ایک جنرل سٹور تھا۔اور وہ اکثر دوپہر کا کھانے گھر ہی آتے تھے۔ابھی بھی دوپہر کا کھانا کھایا جا رہا تھا۔
زمان صاحب اب بڑی بیٹی خیر سے شادی کے لائق ہو گئی ہے کل کلا کو کہیں اچھے گھر سے رشتہ آگیا تو شادی بھی ہونی ہے کچھ سوچا ہے اس بارے میں یا نہیں۔زیبا بیگم نے فکریہ لہجے میں کہا۔
زیبا بیگم تم فکر نا کرو میں نے اپنے تینوں بچوں کے لیے پیسا جمع رکھا ہے اور آگے جو اللہ انکے نصیب میں رکھا ہوگا کے جائے گیں۔انہوں مطمئن لہجے میں کہا۔
اللہ بس ہمارے بچوں کے نصیب اچھے کرے آمین۔زمان صاحب نے صدق دل سے دعا کی۔
منتہہ رکھ اسے اور کھانا کھا لے کہیں جا رہا تیرا یہ کرم جلا کتنی بار کہا ہے کھانے کھاتے ٹائم اس سے مت کھیلا کر لیکن تمھاری سمجھ سے باہر ہے بات اگر اب میں نے اسے تیرے کھانے ٹائم دیکھا آگ میں جھونک دوں گیں اس کو۔زیبا بیگم کی توپوں کا رخ ہوا منتہہ کی طرف جو کہ موبائل زیادہ مصروف تھی اور کھانا کم کھا رہی تھی۔
امی کیا ہے کھا تو رہی ہوں کھانا اور کیسے کھاؤں اپ تو ہر وقت مجھے ہی کہتی رہتی ہیں۔اس نے منہ بسور کہ کہا اسکے اپنے لاڈلے کے بارے میں اماں کے خیالات برے لگتے تھے۔
دیکھ رہو اسکی زبان کیسے قینچی کی طرح چل رہی ہے اسی دن کی وجہ سے میں کہتی تھی یہ بلا اس کے ہاتھ میں مت دو اب دیکھ لو اس کی زبان۔زیبا بیگم تو بگڑ ہی گئیں۔
حالانکہ بیچاری منتہہ نے ایسا بھی کچھ نہیں کہا تھا۔
امی میں کب چلائی زبان۔منتہہ نے بوکھلا کر کہا۔
نہیں پھول برسارہی تھیں تم۔اماں نے گھور کر کہا۔
ابھی منتہہ کچھ کہتی کہ باہر دروازہ بجنے کی آواز ائی۔
جا اٹھ کر کھول۔انہوں نے منتہہ سے کہا۔
میں کھول دیتی ہوں تم بیٹھو۔منتہہ جو کیچن سے آرہی تھی منتہہ کو منع کر کہ گیٹ کھونے چلی گئی۔
اسلام و علیکم خالہ کیسی ہیں آپ۔حصیفہ نے ایک ادھیڑ عمر خاتون کو سلام کیا۔
وعلیکم السلام بیٹا جیتی رہو میں اللہ کا شکر ٹھیک ہوں تم کیسی ہوں۔انہوں اندر آکر اسکے سر پر ہاتھ رکھ کہا
الحمدللہ میں بھی ٹھیک ہوں کافی ٹائم بعد آئی ہیں آپ طبعیت تو ٹھیک تھی نہ آپکی۔اس نے انکے کافی دن بعد آنے پر استفسار کیا۔
ہاں بیٹا بس نائلہ اور نائمہ آئی ہوئی تھیں رکنے اور آج کل جوڑوں میں بھی درد رہتا اس لیے آ نہیں پائی۔انہوں نے صحن میں پڑے تخت پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
ایسا کرو تم اپنی ماں کو یہی بھیج دو۔انہوں نے کہا۔
جی اچھا بھیجتی ہوں۔
کون تھا بیٹا۔زیبا بیگم نے اسکے اندر آنے پر پوچھا۔
امی محلے والی ذیدہ خالہ آئی ہیں باہر تخت پر بیٹھی ہیں اپکو بلا رہی ہیں۔اس نے تفصیل دی۔
اچھا میں آرہی ہوں کافی بعد آئی ہے ذیدہ۔وہ کہتی ہوئی اٹھی اور صحن کی طرف چل دیں
اور منتہہ تم یار کچن میں کھانے کے برتن ہوگیں دھو لینا کیونکہ ابھی بچے آنے والے ہونگے مدرسے کے میں زرا وضو کر کہ نماز پڑھ لوں۔حصیفہ نے کھانا کھاتی منتہہ سے کہا۔
جی آپی میں دھو لوں گی اپ جائیں۔اس نے مسکرا کے کہا۔
@+#++#+#+#+#!#!$!#!+#+@+@+@+@
اور ذیدہ کیسی ہو۔زیبا بیگم نے انکے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا۔
میں ٹھیک ہوں تم سناؤ میں نا آئی تو تم نے بھی خبر نہ لی۔یہ شکوہ محبت بھرا تھا۔
ذیدہ بیگم اور زیبا بیگم کافی ٹائم سے سہلیاں تھیں۔
کیا بتاوں بس حصیفہ مدرسے چلی جاتی ہے پھر آکر بچوں کو پڑھانے میں لگ جاتی ہے اور پھر دونوں اکیلی ہوجاتی ہیں اس وجہ سے آنا نہیں ہوتا۔انہوں نے وجہ بیان کی۔
ہاں آج کل لڑکیوں کو اکیلا چھوڑنا بھی ٹھیک نہیں آج کل ماحول ہی اتنا خراب ہو گیا ہے کہ ماں باپ بچوں کو اکیلے چھوڑتے ہوئے بھی دس بار سوچیں۔انہوں نے تائید ہی کی۔
اور کب ارادہ ہے بچوں کی شادیوں کا اب تو حماد بھی خیر اچھی جگہ کام کر رہا ہے۔انہوں نے پوچھا۔
ہاں بس اب شادی کا ہی سوچ رہے ہیں میرا تو حماد اور حصیفہ کی ساتھ کرنے کا ارادہ ہے بس اب اللہ کرے حصیفہ کا کوئی نیک رشتہ اجائے۔انہوں نے سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔
منتہہ خالہ کے لیے چائے اور نمکو کے او۔انہوں نے وہیں سے بیٹھے ہوئے آواز لگا دی۔
جییییی امی کا رہی ہوں۔اس نے بھی کچن سے ہانک لگائی۔
تمھیں پتا چلا پچھلے محلے کی کسی گھر کی چھوٹی بچی کی لاش کھچرے سے ملی ہے ذیادتی کر کہ بیچاری معصوم بچی کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور بچی بھی صرف چھ سال کی تھی۔انہوں افسوس بھرے لہجے میں کہا۔
یہ حوس کے بچاری اپنی بجھانے کے لیے معصوم بچیوں کی نسوانیت تباہی کر دیتے اللہ جہنم رسید کرے ایسے ضمیر مرے لوگوں کو۔انہوں نے رنجیدہ لہجے میں کہا
اماں یہ بچیاں حوس کا نشانہ ہماری خود کی غیر زمہ داری سے بنتی ہیں۔حصیفہ نے صحن میں آتے ہوئے کہا کیوں کہ ابھی بچے نہیں آئے تھے۔
وہ کیسے بیٹا جی۔ذیدہ بیگم نے حیرت سے پوچھا۔
آپ جانتی ہیں اللہ نے اپنے بعد ماں باپ اور بھائیوں کو ہمارا محافظ بنا کر بھیجا ہے جو ہماری حفاظت کرے ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے اندر ابھی سے سمجھ داری پیدا کریں انہیں صحیح اور غلط کی پہچان کرائیں آج کل دور وہ نہیں کہ سب چھپا کر رکھا جائے بلکہ آج کل بچے ہر برے اور صحیح اور برے سمجھ ہونی چاہیے ایسے ہی کہ کون تمھیں غلط نیت چھو رہا اور کون نہیں۔وہ تھوڑی دیر رکی۔
اکثر ہم چھوٹی بچیوں کو باہر چیز لینے اکیلے یا کسی بہن یا بھائی کے ساتھ بھیج دیتے ہیں راستے کوئی مل جاتا ہے اور چیز کا لالچ دیتا ہے اگر بچہ نا بھی جائے تو بہن بھائی کہتے جاؤ وہ تمھیں چیز دیں گیں۔اور پھر بچی کو بری طرح پیار کرتے ہیں یعنی وہ بھائی اور بہن کے سامنے بھی اپنی حوس آہستہ آہستہ پوری کر رہا ہوتا ہے۔اور پھر یہ چل پڑتا ہے اور پھر جب انہیں کوئی موقع مل جاتا ہے تو وہ اسی بچی کو اپنی حوس کا نشانہ بنا کر قتل کر کہ پھینک دیتا ہے تاکہ اس کا اصل چہرہ سامنے نہ آئے لیکن اللہ بہت غفورو رحیم ہے ظلم کرنے والوں کو بخشتا نہیں ہے۔
لیکن ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔اور جب بچے باہر جائیں تو ان پر چاروں قل اور آیتہ الکرسی پڑھ کر پھونک کر اللہ کی حفاظت کا حصار باند دیں تاکہ ہم کسی شیطانی نگاہ میں نہ اسکیں۔اس آرام سے اپنی بات سمجھائی ۔
ہاں بلکل ٹھیک کہا یہ ہماری ہی کوہتائیاں جو ہمیں یہ دن دکھاتی ہیں۔انہوں اسکی بات سر ہلا کر کہا۔
