Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan NovelR50661 Tu Sakoon e Rooh (Episode 10)
Rate this Novel
Tu Sakoon e Rooh (Episode 10)
Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan
منتہہ اگر تم 1 منٹ میں باہر نہیں آئی نہ تو ہم یہی چھوڑ چلیں جائے گے پھر کرتی رہنا اپنا ہاتھ سنگھار۔زبیدہ بیگم نے رہ کر کہا۔
آگئی اماں کیوں اننا غصہ کر رہی ہیں نقاب لگا رہی تھی۔۔وہ جلدی سے باہر آئی۔
اچھاا اب چلو جلدی تمھارے ابو رکشہ لے آئے ہیں چلو جلدی ۔انہوں نے کہا اور آگے چل دیں۔
اماں میں نہیں جا رہی رکشہ میں ۔اس نے منہ بنا کر کہا
تو کیا آپ کے کار کا آڈر دوں جو اپکو لے کر جائے۔اماں نے لتاڑا
اماں آج تو اوبر یا کریم کر لیتے۔اس نے کہا۔
اے بی بی زیادہ ڈرامے نہیں کرو جانا ہے تو چلو ورنہ رہو اپنی گاڑی کے انتظار میں۔اماں نے چڑ کر کہا اور گیٹ کے باہر چل دیں۔
چارو ناچار وہ بھی چل دی۔
&&____
سنیں مجھے کچھ کہنا ہے۔اس نے ابقار کو مخاطب کیا جو شاید آوفس کے لیے تیار ہو رہا تھا۔۔
جی بولیں ۔اس نے مصروف سے انداز میں کہا۔
و۔وہ م۔میں باہر کیسے جاؤں۔اس نے پوچھا۔
کیا مطلب کیسے جاؤں ظاہر سی بات ہے اپنے پاؤں پر چل کر جائیں گی۔اس نے اسکے عجیب سوال پر طنز کیا۔
وہ چپ رہی سمجھ نہیں پا رہی تھی کیسے کہے اپنی بات کہیں ابی کو برا نہ لگ جائے
آپ پردہ کرتی ہیں میں جانتا ہوں اس لیے آپ زیادہ پریشان نہ ہوں دانیال بھائی صبح کی فلائٹ سے واپس چلیں گئے ہیں اپنے کچھ ضروری کام کی وجہ سے اس لیے آپ بے فکر ہو کر باہر جا سکتی ہیں۔اس نے اسکی پریشانی سمجھتے ہوئے کہا۔
جی۔اس نے حیرت سے اسے دیکھ کر سر ہلایا۔
آپ بے فکر رہیں میں اپکو کبھی پردے سے روکوں گا نہیں۔اس نے کہا۔
آپ ناشتہ میں کیا لیتے ہیں۔اس نے پوچھا
وہ پورا کا پورا گھوما۔
کیا کہا آپ نے۔وہ سمجھا جیسے اسنے کچھ غلط سنا۔
ن۔ناشتہ کیا کریں گے آپ اور سب کا بھی بتا دیں کیا کرتے ہیں میں بنالوں گی۔اس نے تھوڑا گھبراتے ہوئے کہا
جہاں تک مجھے یاد ہے نئی دلہن ایسے اٹھ کر کام کرنے نہیں اٹھ جاتی اور وہ بھی پہلے دن ہی۔اس نے سوچ کر کہا۔
جی شاید کیوں کہ وہ اپنے اپکو نیا ہی سمجھتی ہوں گی لیکن میں یہاں مہمان نہیں ہوں یہ میرا گھر اور اسکی ذمہ داریاں بھی مجھ پر عائد ہیں اور اب جب میں آگئی ہوں تو ماما کو کام کرتا دیکھ کر مجھے اچھا نہیں لگے گا۔اس نے آہستہ سے اپنی بات کہی۔
ہمم۔اور وہ سر ہلا کر رہ گیا اس نے بہت کم ایسی لڑکیوں کو دیکھا تھا۔
جو اپکو بنانا ہو بنا لیں یہاں کوئی خاص اہتمام نہیں ہوتا۔وہ کہہ کر باہر نکل گا۔
#$__&&_$
وہ ناشتہ بنانے کی جا رہی تھی جب زبیدہ بیگم زمان صاحب اور منتہہ ناشتہ لے کر آگئے۔
حصیفہ دیکھو کون آیا ہے۔وہ جو کچن کی طرف جا رہی تھی حلیمہ بیگم کی آواز پر مڑی
اسلام و علیکم۔منتہہ جلدی سے اسکے گلے ملی۔
وعلیکم السلام کیسے ہیں آپ لوگ اسے خوش گوار حیرت ہوئی۔
ہم الحمدللہ ٹھیک ہیں آپ سناؤ اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو آپ سے ملنے آئے ہیں۔منتہہ نے اسکی حیرت بھانپتے ہوئے کہا۔
اچھاا جی میرے بنا آپکا دل نہیں لگا ابھی تو ایک دن بھی نہیں ہوا۔حصیفہ نے چھیڑا۔
نہیں جی ایسی کوئی بات نہیں ہے ہمیں حلیمہ آنٹی نے کہا تھا کہ ہم آجائیں آپ سے بھی مل لیں گے۔اس نے منہ بنا کر کہا۔
اچھا چلیں اندر باقی باتیں آرام سے بیٹھ کر کر لیں گے۔حلیمہ بیگم نے کہا
آپ لوگ چل کر بیٹھیں میں ناشتہ لگاتی ہوں۔حلیمہ بیگم نے کہا۔
ارے ماما آپ امی کے ساتھ بیٹھیں میں اور منتہہ لگا لیں ناشتہ۔ حصیفہ نے فوراً مسکرا کر کہا۔
ارے بیٹا ایسے کیسے نئی دلہن ہو آپ جب تک دلہن میٹھا نہیں بنا لیتی وہ کام کو ہاتھ نہیں لگاتی۔حلیمہ بیگم نے منع کیا۔
ارے حلیمہ انٹی آپی کو عادت ہے کام کی انکا ہاتھ نہیں رک سکتا کام سے اس لیے آپ پریشان نہ ہوں ہم دونوں ناشتہ لگا لیتے ہیں۔منتہہ نے فوراً کہا۔
اچھا چلو ٹھیک ہے۔کہہ کر وہ اور زبیدہ بیگم اندر چلی گئیں۔
زمان صاحب مبین صاحب کے ساتھ پہلے ہی چلے گئے تھے
#$$@@@$$
ناشتہ لگ گیا تھا بٹ ابقار نہیں آیا۔
ابقار بیٹا نہیں کریں گے ناشتہ۔زمان صاحب نے اسکی غیر موجودگی پر پوچھا۔
وہ ابو انہیں کوئی کام آگیا تھا انہیں آوفس جانا پڑھ گیا۔حصیفہ نے فوراً توجہی دی۔
یہ لڑکا بھی نہ ایک دن گھر میں نہیں بیٹھا جاتا میں نے منع بھی کیا پھر بھی چلا گیا۔حلیمہ بیگم نے تھوڑے غصے سے کہا۔
ارے کوئی بات نہیں کام ہے اسے تو دیکھنا ہی پڑتا ہے نہ رات پر ولیمہ پر مل لیں گے۔زبیدہ بیگم نے کہا۔
حصیفہ آپی آپ تیار نہیں ہوئیں۔منتہہ نے اسے اب غور سے دیکھا تھا شاید تبھی بولی۔
کیوں میں اپکو تیار نہیں لگ رہی۔اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
ارے آپی لپسٹک اور کاجل ہی لگا لیتیں ابھی ایک دن بھی نہیں ہوا آپ کی شادی کو۔اس نے اسکی عقل پر ماتم کیا۔
اچھا میری آپا جان لگا لوں گیں۔اس نے مسکرا کر کہا۔
بیٹا آپ جا کر تیار ہو جاؤ پھر آپ نے جانا بھی ہے۔حلیمہ بیگم نے اسے متوجہ کیا۔
کہاں جانا ہے ماما اس نے نا سمجھی سے کہا۔
بیٹا شادی کے دوسرے دن لڑکی اپنے گھر جاتی ہے۔انہوں نے کہا
جی اچھاا ماما لیکن۔۔۔اس نے تو ابی سے پوچھا نہیں تھا تو کیسے جا سکتی تھی کہیں اسے برا نہ لگے۔
ارے بیٹا آپ چلی جاؤ میں ابی کو بتا دوں گی۔انہوں نے اسکی پریشانی سمجھ کر کہا۔
پھر ناشتے کہ بعد وہ انتطار کرتی رہی اسے اچھا نہیں لگ رہا ابھی ایک دن ہی تو ہوا تھا
___________
وہ زبیدہ آپا کے ساتھ گھر آگئی تھی لیکن مسلسل یہی سوچ رہی تھی کہ کہیں ابقار کو برا نہ لگا ہو اس کا یوں بنا بتائے آنا ویسے تو یہ صرف رسم تھی۔
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی۔کہ منتہہ کمرے میں داخل ہوئی۔
کیا سوچ رہی آپی۔اس نے اسکے آگے چٹکی بجاتے ہوئے اسے سوچ سے نکالا۔
کچھ نہیں تم بتاؤ کب آئے گا فارم کا ریزلٹ؟اس نے سوچ کو پرے رکھ کر مسکرا کر کہا۔
یار میں شادی کے دوران بالکل بھول گئی تھی اب انشاللہ کروں گی تو آپ کو بتاؤں گی۔اس نے بستر پر دراز ہوتے ہوئے کہا۔
اچھاا اور کھانے میں کیا بنانا ہے اج۔لے بھئی کوئی کہے گا کہ سسرال سے آئی ہے
آپی آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے اب ہم کیوں آپ سے کام کروائیں گے۔اس نے حیرت سے پوچھا۔
کیا مطلب ہے ۔اس نے ابرو آچکا کر کہا۔
ارے یار آپی اب آپکی شادی ہو گئی ہے اب جہاں کے کام اپکو کرنے ہیں رہیں کہ کریں یہاں اب بس مہمان ہیں اپ۔اس نے سر پر ہاتھ کہا۔
میں کہیں مہمان نہیں ہوں اور آپکی اطلاع کے لیے بتا دوں میں کل ہی اسی گھر سے گئی اور اس سے پہلے بھی کام کرتی رہی ہوں حالانکہ تب بھی مجھے یہاں سے رخصت ہونا تھا تب تو یہ بات نہیں آئی آپکے اتنے سے دماغ میں۔حصیفہ نے ہنس کر کہا۔
یار آپی پہلے کی بات اور تھی اب آپ حکم کرو آپ کیا کھاؤ میں اور امی دیکھ لیں گے کھانے کا۔اس نے بات ہی ختم کر دی۔
یار کیوں اماں کو پریشان کر رہی ہو اچھاا آخری بار بنا لیتی ہوں پھر تم خود کر لیا کرنا۔اس نے مزید بولنا چاہا۔
یار آپی اماں میرا قیمہ بنا دیں گیں اور ابھی آپ بالکل ہی نئی ہو۔یار پلیز مجھ پر رحم کھاؤ۔اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے۔اس نے منہ بنا کر مان لیا۔
ویسے آپی آپکے سسرال میں سب کیسے ہیں اور ابقار بھائی سے پہلی ملاقات کیسی رہی۔اس نے تجسس سے پوچھا۔
سب ہی اچھے ہیں اور جب تک آپ کسی کے ساتھ رہ نہ لو اسکی اچھائی اور برائی کا معلوم نہیں ہوتا اور ویسے بھی جب اللہ نے میرا اس گھر میں نصیب جوڑا ہے تو وہ سب کو میرے حق میں بہتر رکھے گا۔اس نے مسکرا کہا۔
ہممم اور بھائی اپکو رات لینے آئیں گے تو کیا بناؤں۔اس نے پوچھا۔
مجھے نہیں پتا امی سے پوچھ لو تب میں بھی آتی ہوں نماز پڑھ کر۔اس نے کہا اور اٹھ گئی۔
چلیں ٹھیک ہے۔منتہہ نے بھی کہہ کر باہر کی جانب قدم بڑھا دیے۔
&@&@&@&
آبی بیٹا جا کر حصیفہ کو لے آؤ وہ اپکا انتظار کر رہی ہوگی۔حلیمہ بیگم کمرے داخل ہوئیں تو وہ حسب معمول اپنے کام میں مصروف تھا۔
کہاں سے۔؟اس نے مصروف سے انداز میں کہا۔
انکے میکے سے بتایا تو تھا اپکو کہ وہ اپنے گھر گئی ہیں۔حلیمہ بیگم نے بیٹے کو دیکھ کر کہا۔
تو رہنے دیں آجائیں گی کل۔اس نے کہا کہ پیڈ پر مسلسل انگلیاں چل رہی تھیں۔
آبی کیوں مجھے شرمندہ کرانا چاہتے ہو وہ کل کی آئی بچی آپ کے ایسے رویہ سے کتنی ہرٹ ہوگی جانتے ہیں اپ۔اماں نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔
ماما آئے دن انہوں اپنی امی کے گھر جانا ہے تو کیا میں ہر روز وہاں کے چکر لگاؤں آپکی بہو کے لیے۔اس نے چڑ کر کہا۔
آبی مت بھولو بیوی ہے وہ تمھاری۔اماں نے تھوڑے غصے میں کہا۔
ہاں جسے آپکی خواہش نے بنایا ہے۔اس نے ایک نگاہ ماں کو دیکھ کر کہا۔
آبی یعنی وہ میری خواہش کی وجہ سے آئی اور آپ نے جو رضا مندی دی تھی۔حلیمہ بیگم تو چہرہ کر رہ گئیں انکا بیٹا ایسا تو نہیں تھا۔
ہاں میں مجبور تھا آپکی خواہش کے آگے۔اس نے لب بھینچے۔
بس آبی بہت ہوگیا اب وہ آپکی بیوی ہے یہ بات جتنی جلدی ہو تسلیم کرلو تو بہتر ہے میری تربیت پر کوئی ضرب میں برداشت نہیں کروں گی ۔امذں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
ماما میں اپنے معاملے میں بے بس ہوں۔اس نے آنکھیں میچ کر کہا۔
جاؤ جا کر لے کر آؤ حصیفہ کو ۔اماں نے بات ہی پلٹ دی۔
اس نے کچھ کہا نہیں اٹھ کر واشروم میں چلا گیا۔
یا اللہ حصیفہ کے لیے کے لیے میرے بیٹے کے دل میں جگہ پیدا کر دے مجھے اپنے اور انکے سامنے شرمندہ ہونے سے بچا لیں۔بے شک آپ دولوں کو پھیرنے والے ہو۔ حلیمہ بیگم نے دل میں صدق دل سے دعا کی۔
##___$$##
پھر وہ حصیفہ کو لینے چلا گیا گھرپر سب ہی موجود تھے سب ہی نے اسے بہت پروٹوکول دیا تھا اس نے کھانے کے لیے منع بھی کرا لیکن زمان صاحب کے دوبارہ کہنے پر منع نہیں کر سکا وہ عزت کرنے والا تو تھا جتنا بھی سنجیدہ صحیح پھر کھانے کی تھوڑی دیر بعد دونوں اجازت لے نکل گئے۔
واپسی پر گاڑی میں خاموشی تھی حصیفہ کو اس کے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے اسے کچھ برا لگا ہے۔
آپ ماشااللہ سے اسلام کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہیں تو یقیناً یہ بھی جانتی ہوں گی کہ شادی کے بعد کہیں بھی جاؤ شوہر کی اجازت لو۔ سرد انداز میں سیدھا طنز کیا گیا تھا۔
جی وہ میں نے امی اور ماما کو کہا تھا کہ میں آپ سے پوچھ لوں پھر چلی جاؤں گی پر آپ گھر پر نہیں تھے تو ماما نے کہا کہ وہ اپکو بتا دیں گی اگر اپکو برا لگا تو سوری۔اس نے شرمندگی سے کہا۔
آئندہ خیال رکھیئے گا۔پہلے اسکو ایک نظر دیکھا پھر کہا۔
پھر گہری خاموشی چھا گئی۔
$$___$$$
ولیمہ کی تقریب بھی سادگی سے گزر گئی تھی زنیرہ نے زبردستی کچھ تصویریں لے لیں تھیں دونوں کی تا کہ یاد گار کہ طور پر کچھ تو ہو۔
ولیمہ کے دو دن بعد آج زنیرہ واپس جا رہی تھی۔دانی بھائی ضروری کام کی وجہ سے ولیمہ میں شرکت نہیں کر سکے۔
ابھی ایک گھنٹے بعد اسکی فلائٹ تھی اور ہمیشہ کی طرح ڈھیروں شاپنگ کے ساتھ جا رہی تھی۔
زینی جتنا سامان تم لے کر جا رہی ہو نہ مجھے لگتا ہے چیکنگ کے دوران تمھارے کو تمھارے ساتھ ہی باہر پھینک دیں گے۔ابقار جو گاڑی میں اسکا سامان رکھنے گیا تھا بولا۔
کوئی اتنا سامان نہیں ہے اپنے سسرال والوں کے لیے اور بچوں کے لیے تھوڑا بہت لیا ہے تمہیں تو بس میری ہر چیز بہت زیادہ لگتی ہے۔اس نے چڑ کر کہا۔
خدا کا خوف کرو کیوں دانی بھائی کو کنگلا کرنے پر تلی ہو ابھی تو تم اتنی ڈھیروں شاپنگ کر کہ گئیں تھی۔ابی نے شرم دلانے چاہی۔
ہاں تو میں اپنے میاں کو کنگلا کر رہی ہوں تمہیں تو نہیں تو چپ رہو۔اس نے آنکھیں مٹا کر کہا۔
ہممم یہ بھی ہے اللہ بس رانی بھائی کی جیب مزید خالی ہونے سے بچائے۔اس نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
حصیفہ تم اس سے میرے سارے بدلے لینا اس کی ہر ہفتے جیب خالی کرایا کرنا۔زنیرہ نے حصیفہ کو کہا جو دونوں کی نوک جھوک دیکھ رہی تھی۔
اچھاا جی۔اس نے ۔سکرا کر سر ہلا دیا۔
دیکھو صیفا یہ تمہیں تنگ کرے نہ تو ماما کو بتانا بس اگر ماما کو نہ کہہ پاؤ تو مجھے کہنا پھر اچھی طرح کلاس لوں گی اس کی۔اس آنکھیں سکیڑ کر کہا۔
او بھئی فلائٹ کا ٹائم ہو جائے گا کہیں ایسا نہ ہو فانی بھائی آپ کی کلاس لیں۔ابقار نے فورا بات گھمائی۔
اچھاا چلو۔پھر سب سے مل کر وہ چلی گئی۔
&&&&___
ابھی حصیفہ عشاء کی نماز سے فارغ ہوئی تھی اور ابقار آکر پہلے لیٹ گیا تھا۔
ابھی وہ بستر پر آکر ہی بیٹھی تھی کہ ابقار کی بات پر چونکی۔
اللہ اچھے بندوں کو جلدی اور برے لوگوں کو دیر سے کیوں بلاتا ہے اپنے پاس۔
شاید اس لیے کہ جو اسکے قریب ہوتے ہیں انہیں بخشش مل جاتی ہے اور جو برے ہوتے ہیں اسے وہ موقع دیتا ہے سنورنے کا۔اس نے آہستہ کہا۔
کیا مطلب۔اس نے چونک اسکی طرف دیکھا۔
مطلب یہ اللہ ہم سے بہت محبت کرتا ہے اس لیے اللہ چاہتا ہے کہ اسکا بندہ جب اسکے پاس جائے تو گناہوں میں لے پت نا ہو۔وہ اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرے نیمیان کرنے کی کوشش کرے تاکہ اسے اللہ کے سامنے زیادہ شرمندہ نہ ہونا پڑے لیکن انسان کی سوچ میں یہ بات آتی ہی نہیں اور وہ بس مرنے کا طلب گار ہونے لگتا ہے حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ اللہ زندگی دینے اور لینے والا ہے۔ہمیں چاہیے ہمیں جتنی زندگی مہلت کے طور پر مل رہی ہے اس میں ہدایت پا کر نیکیوں کا راستہ اختیار کریں اور دوسروں کو بھی اس راستے پر چلنے کی تلقین کریں۔اس نے اسکی طرف دیکھا جو اسے بہت غور سے سن رہا تھا۔
ہممم۔کہہ کر سیدھا ہوا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
