Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Sakoon e Rooh (Episode 04)

Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan

زنیرہ کے جانے میں ایک ہفتہ ہی رہ گیا تھا اور وہ جب بھی آتی تھی ڈھیروں شاپنگ کر کہ جاتی تھی لیکن اپنے میاں جی کے پیسوں سے۔خیر وہ آج اسکا شاپنگ کرنے کا ارادہ تھا اس لیے صبح سے حلیمہ بیگم کے پیچھے لگی ہوئی تھی کہ وہ چلیں۔اور حلیمہ بیگم اسکی شاپنگ سے واقف تھیں۔

ماما پلیز چلیں نہ میں جب سے آئی ہوں ابھی تک شاپنگ پر بھی نہیں گئی اور آپ تو جانتی ہیں میں یہاں سے ہی زیادہ شاپنگ کرتی ہوں۔وہ کب سے اپنی اماں کو راضی کرنے کی کوشش میں تھی۔

میں ہر گز تمھارے ساتھ نہیں جاؤں گی تم دو گھنٹے بھی بازار میں گھومو گی تب بھی تم نے کچھ نہیں لینا اور ایسی ہی آجاؤ گی اور ہر دکان پر جا کر کہو گی کہ ماما مجھے تو نہیں آرہا آپ ہی دیکھ لیں۔انہوں نے صاف انکار کیا اور آخر اسکا ہر بار کا جملہ کہا۔

نہیں کروں گی نہ ماما اب دیکھیں نہ مجھے شادی کی بھی تھوڑی شاپنگ کرنی اور کچھ اچھا سا گفٹ بھی دیکھ لوں گی دانیال کے لیے انکی برتھ ڈے بھی آرہی ہے۔یہ ایک نیا ہربا تھا اماں کو راضی کرنے کا۔

اچھا ٹھیک ہے چلو لیکن اگر کچھ نہج خریدہ نہ تم نے تو کبھی نہیں جاؤں گی۔انہوں نے وارن کیا۔

اووو ماما یو آر گریٹ آئی لو یو۔زنیرہ نے انہیں ساتھ لگا کر لاڈ سے کہا۔

اچھا اب جا کر تیار اگر جانا ہے تو پھر تمھارے ڈیڈ اور ابقار آجائے گے۔انہوں نے کہا اور کام میں لگ گئیں۔

ماما یہ کس چیز کا پمپ پلٹ ہے۔اس نے ٹیبل پر پڑے پمپ پلیٹ کو اٹھا کر پوچھا۔

جہاں تم نے اپنا قرآن ختم کیا تھا اسی مدرسے میں محفل نعت کا احتمام کیا جا رہا ہے اسی کے پمپ پلیٹ بٹے ہیں۔انہوں نے گوشت بھنے ہوئے جواب دیا ۔

ٹھیک ہم دونوں چلیں گے پھر ویسے بھی کتنا ٹائم ہو گیا مدرسے کو دیکھے ہوئے بہت اچھے تھے وہاں کے سارے اساتذہ ابھی یاد ہے مجھے وہ دورانیہ۔اس نے مسکرا کہ کہا۔

ہاں بالکل چلے گیں بہت اچھی محفل ہوگی کھانا میں پہلے ہی بنا لوں گی پھر فکر نہیں رہے گی۔انہوں نے ہامی بھر لی۔

اچھا امی میں پھر ریڈیو ہو جاتی ہوں تب تک آپ اپنے کام نپٹا لیں۔کہہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف چلدی۔

__________________________

آپی آپکے مدرسے میں میلاد ہے تو چلیں نہ ہم سوٹ لینے چلتے ہیں۔منتہہ نے کپڑے طے کرتی حصیفہ سے کہا۔

کیوں بھئی اور میں نے کونسا وہاں عبایا اتار دینا ہے پہنی ہی رہوں۔اس نے ہنس کے کہا۔

اچھا نا تو پھر نیو عبایا ہی لے لیں مجھے بھی کچھ شاپنگ کرنی ہے اور میرا عبایا اور سکارف پرانا ہو گیا ہے مجھے وہ بھی لینا ہے۔اس نے آرام سے کہا۔

منا میں نہیں جا رہی تمھارے ساتھ اور تمھیں تو معلوم ہی ہے مجھے بازار وزارت جانا کتنا برا لگتا ایک ہجوم توبہ۔اس نے انتہائی بیزاری سے کہا

اپی آپ تو بس رہنے ہی دیں ایسا کریں ایک پنجرہ تیار کر لیں اور اسی میں رہ لیں یہ دنیا اور اسی میں رہنا انہیں انسانوں س

کے ساتھ اگر یہ نا ہوں دنیا ہی نہ ہو۔منتہہ نے چیڑ کر کہا۔

جو بھی کہہ لو میں نہیں جا رہی اگر تم نے جانا ہی ہے شام میں حماد بھائی آئے گے انکے ساتھ جانا اور میرے بھی برکھا تم ہی لے آنا۔سمجھو بات ہی ختم کر دی گئی اور اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔

اور منتہہ اڑے تیڑے منہ بنا کر دوبارہ موبائل میں لگ گئی۔

__________________________

وہ اوفس سے نکلا تو نماز ظہر کا وقت ہو گیا تھا اور قریب میں ہی مسجد تھی اس لیے وہ اپنی گاڑی پارک کر کہ مسجد میں نماز کے لیے بلا گیا۔

با جماعت نماز ادا کرنے کے بعد وہ کافی ٹائم تک یوں ہی بیٹھا رہا پھر االلہ کی بارگاہ میں اپنے ہاتھ اٹھا دیئے۔

یا اللہ یا میرے پروردگار میں جانتا ہوں میں بہت گناہ گار ہوں لیکن..لیکن تو تو بہت رحیم کریم ہے نہ میرے مالک دلوں میں سکون پیدا کرنے والا ہے میرے دل میں بھی سکون پیدا کر دے میرے مالک مجھے سکون میسر نہیں مجھے قلبی سکون عطا کر دے میرے کو اس بے وفا کی یادوں سے آزاد کر دے میرے مالک میں مانتا ہوں میں تیرا بہت ںا فرمان بندہ اور میں نے اپنے ماں باپ کا بھی دل دکھایا تھا ی۔۔یہ بے سکونی میرے گناہوں کی سزا ہے لیکن تو تو توبہ قبول کرنے والوں میں سے ہے

نہ تو مجھے معاف کر دے اور مجھے سکون عطا کر دے۔وہ مالک دو جہاں سے اپنے دل میں مخاطب تھا اللہ کی ذات بہت رحم کرنے والی تو کیسے اس دل نہ سنتا اللہ نے تو بہت بہتر اس کے اور ہم سب کے لیے چنا ہے بس اسکا وقت تھوڑا دور کیوں کہ ہر جو اپنے وقت پر ہو بہتر ہوتا ہے۔

منہ پر ہاتھ پھیر کر وہ اٹھا اور مسجد سے باہر نکلتا چلا گیا۔سکون تو آگیا تھا۔

__________________

چونکہ مدرسے میں تعلیم مفت اور اور بہترین دی جاتی تھی اس لیے کافی تعداد میں لڑکیاں دینی تعلیم حاصل کر رہی تھیں جہاں کے اساتذہ بھی بہت زیادہ اچھے اور احسن طریقہ اسلام کی تعلیمات اپنے شاگردوں کو بتاتے تھے یہاں کا ماحول بہت دوستانہ تھا یہاں آرام سے اگر کسی کو کچھ پوچھنا ہوتا تو بآسانی پوچھ لیتا اور ممکن بنا تھا اخلاق سے یہاں سب سے زیادہ ہر بات میں اخلاق کو بہتر بنانے کی تلقین کی جاتی تھی۔ کیوں کہ اخلاق ہی تو ہے جو اپکو پستی سے برتری کی طرف لاتا ہے اور برتری سے پستی کی۔ آپکا اخلاق ہی آپکے خاندان کا تعارف کراتا ہے.

________________________

آج حصیفہ کو آنے میں دیر ہو گئی تھی اور نمرہ کب سے مدرسے کے کوریڈور میں میں اسکی منتظر تھی اتنے میں دور سے منتہہ دیکھائی دی۔اور وہ دونوں بہنیں چلتی ہوئی نمرہ کے قریب اگئیں۔

اسلام و علیکم کیسی ہو آپ دونوں۔نمرہ نے ان کے قریب آنے کا کہا

الحمدللہ ہم ٹھیک ہیں تم سناؤ یہاں بیٹھی ہو خیریت۔حصیفہ نے جواب دے کر پوچھا۔

ہاں مجھے تمھیں کچھ بہت اچھا بتانا ہے۔اس نے تھوڑا شرماتے ہوئے کہا۔

تم شرما کر تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تمھارے نکاح کی تاریک طے ہوگئی ہو۔حصیفہ نے ہنستے ہوئے چھیڑا۔

ہاں تمھیں کیسے پتا۔ نمرہ نے حیرانی سے پوچھا۔

کیا سچ واؤ بہت بہت مبارک ہو نمرہ آپی اپکو۔منتہہ تو بہت خوش ہوئی۔

خیر مبارک۔اس شرما کہ کہا۔

ویسے کتنی بے وفا ہو تم بتایا ہی نہیں ایک میسج ہی کر دیتی۔حصیفہ نے شکوہ کیا۔

یار سب اتنی جلدی ہوا اور مجھے تو کل ہی بتایا ثانی آپی(نمرہ کی بڑی بہن) نے بتایا ہمارے گھر ایک آنٹی اور انکے ساتھ ایک بزرگ آنٹی ائی تھیں میں جب چائے لے کر گئی تو مجھے بہت غور غور سے دیکھ رہی تھیں اور مجھ سے باتیں کرنا شروع ہو گئیں۔میں بھی سمجھی ہوں گی امی کی کوئی دوست اس لیے میں نے بھی باتیں کر لی ایک دو بعد میں انکا فون آیا تو آپی نے کہا تمھارا رشتہ طے ہو گیا اور دو ہفتے بعد نکاح میں تو بہت پریشان ہو گئی پھر امی نے بتایا وہ جو آنٹی ائی تھیں مجھے اپنے بیٹے کے لیے پسند کر کہ چلی گئی ہیں۔اس نے آرام سے تفصیل بتائی۔

ہممم اچھاااا پھر ان اور بھائی نے دیکھ بھال تو کر لی ہے نہ۔اس نے پر سوچ لہجے میں کہا۔

ہاں ہاں بھائی اور ابو دونوں نے کافی پتا کرایا ہے اور بھائی کہہ رہے تھے کہ وہاں بھائی کہ کچھ دوست بھی رہتے انہیں بھی کہا ہے میں نے دیکھنے کو۔اس نے مسکرا کے کہا۔

چلو یہ تو بہت اچھی بات ہے اللہ تمھارے نصیب بہترین کرے آمین۔ حصیفہ نے صدق دل سے دی کی۔

اور آج کل منتہہ جی بہت آرہی ہیں خیریت تو ہے۔نمرہ نے منتہہ سے پوچھا۔

ہاں بسس یہاں آکر اور درس سن کر بہت اچھا لگتا ہے اور مجھے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو بھی ملتا ہے اور امی کی ڈانٹ سے بچ جاتی ہوں۔اخر میں اسنے شرارت سے کہا۔

اچھا اب کیا ساری باتیں ابھی ہی کر لو گے تم دونوں چلو درس کا ٹائم ہو رہا ہے۔حصیفہ نے دی سے کہا اور آگے بڑھ گئی۔

___________________________

اسلام و علیکم تینوں با آواز بلند سلام کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور اپنی مطلوبہ نشست پر جا کر بیٹھ گئیں۔

جی تو آج کا ہم اپنا عنوان بیان کرنا شروع کرتے ہیں۔بڑی عالمہ نے کہا۔

آج کا موضوع ہے” تعلیم و تربیت”

آج کل ہمارے پاس تعلیم تو ہے پر اچھی تربیت نہیں تعلیم و تربیت محظ بچے کی نہیں والدین کی بھی ہوتی کیوں کہ جب بچہ نشونما پا رہا ہوتا ہے تو ماں باپ بھی تربیت کے دور سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ایک ایک لفظ ٹہر کر بولا گیا۔

اج کل بچہ کسی ایک جگہ سے تربیت حاصل نہیں کر رہا بلکہ وہ ہر اس جگہ سے تربیت حاصل کر رہا ہے جہاں جہاں وہ اپنا وقت گزار رہا ہے۔ماں باپ بچوں کو تعلیم دلوا کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ وہ تربیت بھی اچھی پا لے گا۔اصل میں ایسا نہیں ہے سکولوں میں مدرسوں میں بھی بہت سے بچے ہیں جو ایک دوسرے دیکھ وہی کام کرتے ہے بھلے وہ ٹھیک ہو یا غلط۔

اور بچے کی تربیت سب سے زیادہ گھر سے ہی ہوتی ہے۔اور تربیت کا اصل مرحلہ ہی پیدائش سے شروع ہو جاتا ہے۔لیکن ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی۔وہ ٹہریں۔

اگر بچہ چھوٹا ہے اور کسی پر ہاتھ اٹھا رہے تو کم ایسے خوش کرتے ہیں جیسے کوئی فرسٹ پوزیشن حاصل کر لی ہو بچے نے۔پھر ہاتھ کے بعد وہ کوئی برا لفظ سیکھ جاتا ہے جو ہمیں اسکی توتلی زبان سے اچھا لگ رہا ہوتا ہے اور ہم ٹوکتے نہیں۔یہ وہ غلطیاں ہیں جو ہم اپنے بچوں میں کر رہے ہوتے لیکن آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ بچہ ہے بڑا ہو کر ٹھیک ہو جائے گا۔وہ واقعی یہ غلطیاں ہمیں بڑے معلوم ہو جاتی ہیں جب بچہ پوری طرح بگڑ چکا ہوتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو بہترین تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت بھی دیں کیوں کہ یہ صرف ملک کہ نہیں اسلام کا بھی مستقبل ہیں ہمیں چاہیے ہم بچوں کو دینی تعلیمات حاصل کرنے کا شعور پیدا کریں جس سے اسے اپنا اچھا برا معلوم ہو۔ آج کل کہ بچے دین سے کم اور دنیاوی چیزوں ذیادہ قریب ہے اور یہی چیز ہمیں پستی میں دکھیل رہی ہے۔

آگے جا کر اگر دین کی تعلیم پھیلانے والا کوئی نہ رہا تو یہ دنیا پھر جہالت کے اندھیرے میں پور پور ڈوب جائے گی شیطان کے کام مزید آسان تر ہوتے جائیں گے۔جبکہ ہمیں ایسا نہیں کرنا ہمیں بچوں کو بہترین تربیت اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ بہترین دینی تعلیم بھی دلوانی ہے جو کہ اسکے اور مسلمانوں کے مستقبل کو روشن کر سکے۔

ہمیں قیامت کے روز اللہ کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے کیوں نکہ اولاد بہت بڑی ازمائش ہے۔

ہمیں بچوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے خلوص پیدا کرنا چاہیے صرف اپنا نہیں سبکا احترام کرنے کی تلقین کرنی چاہیئے۔

اور دوسری بات آج کل شادی کے بعد لڑکیوں میں الگ رہنے کے رجحان میں کافی اضافی ہو رہا ہے اور اسکے پیچھے کچھ اماں کی تربیت اور کچھ انکے اونچے خیالات ہیں۔بے شک ہر لڑکی کے خواب ہوتے جو وہ پورا کرنا چاہتی ہیں لیکن کسی کا دل دکھا کر۔

ماں باپ جو اتنی محنت سے بچے کو پڑھاتے ہیں لکھتے کمانے کے قابل کر دیتے پھر وہی بچہ کسی کل کی آئی ہوئی کی وجہ ماں باپ کی ہر کی گئی محنت کو بھول جاتا ہے اور لڑکیاں بھی خوب لے جاتی ہیں اپنے ساتھ اگر ہم یہ سوچ لیں کہ کل کو ہماری بھی اولاد ہو گی اور اسے بھی ہم ایسے ہی پالیں لیکن پھر مکافات عمل ہوگا

اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ بے کیے کی سزا دنیا میں دیتا تو وہ ماں باپ کی تکلیف کی سزا کیسے نہ دے۔

اپنی سوچ کو بہترین بنائے سبکو اپنا سمجھیں گھر کو جنت عورت ہی بناتی ہے۔

_____________________

آج میلاد کی محفل تھی ساری تیاریاں ایک دن پہلے ہی ختم ہو چکی تھیں۔میلاد سہ پہر میں تھا تاکہ خواتین اور بچیاں بآسانی آکر اندھیرے سے پہلے اپنے گھر چلی جائیں۔اس لیے ابھی حصیفہ بھی تیار ہو رہی تھی آج زبیدہ بیگم نے بھی جانے کا ارادہ کیا تھا اور وہ بھی تیار تھیں ایک منتہہ جی تھیں جن سے سکارف نہیں بن پا رہا تھا۔

افففف کیا ہے یہ لگ ہی نہیں رہا۔منتہہ نے جھنجھلا کر کہا۔

کیا ہوا اتنی جھنجھلا کیوں رہی ہو۔؟کمرے میں داخل ہوتی حصیفہ نے پوچھا۔

کب سے یہ پن لگانے کی کوشش کرنا رہی ہوں لگ ہی رہی۔اس نے روہانسی ہو کر کہا۔

اچھا ادھر آؤ میں لگاتی ہوں تمھیں بھی تو فیشن کا سکارف باندھنا ہے یہ نہیں کہ سیدھا سیدھا پن اپ کر لو۔سکارف میں پن لگانے کے دوران کہا۔

اچھا نہ یار آپی چلیں اب دیر ہو رہی ہے۔اس نے آخری بار خود کو چہرے پر دیکھ کر کہا۔

پھر کچھ دیر بعد تینوں نکل گئیں۔

_______________________

تیار بھی ہو چکا اب زینہ کتنا ٹائم لگاتی ہو ماما کب سے کھڑی انتظار کر رہی ہیں۔ابقار نے زنیرہ کے کمرے میں آکر کہا

آرہی ہوں نہ بس دیا کو سکارف پہنا رہی تھی۔اس نے دیا کا سکارف سیٹ کر کہ اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔

ارے واہ ہماری چھوٹی پرنسس تو بہت کیوٹ لگ رہی ہے ماشاءاللہ۔اگے بڑھ کر ابقار نے دیا کو اٹھا لیا اور گال پر پیار کیا۔

اچھاااا اب چلو۔کہہ کر زنیرہ باہر نکل گئی۔

لیجئے آگئی آپکی منزل اتریں اب۔ابقار نے باہر نکل کر دروازہ کھولا۔

بیٹا میلاد ختم ہونے کے بعد ہم تمھیں فون کر دیں گے تم لینے آجانا ۔حلیمہ بیگم نے باہر نکلتے ہوئے کہا۔

جی جی ماما میں آجاؤں گا اب بس اس چڑیل سے ایک کال کر وا دیجیے گا۔اس نے ہنس کر کہا۔

اپنی شکل دیکھی ہے کبھی آئینے میں ڈریکولا کہیں کہ۔زینہ نے اسے گھورا۔

اچھا اچھا اب یہاں مت لڑو اچھا بیٹا اب آپ جاؤ۔بیگم نے فورا کہا۔

اوکے ماما اللہ حافظ۔ کہہ کر وہ مڑ ہی رہا تھا کہ وہی دو چمکتی دو سیاہ نور والی انکھیں۔پل بھر کو وہ ٹہر گیا۔پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔

یہ مجھے کیا ہو رہا ہے کیوں ہر جگہ بس وہ دو آنکھیں نظر آجاتی ہیں۔اس نے جھنجھلا کر سوچا۔

پھر وہ گاڑی میں بیٹھ کر نکل گیا۔

• ____________________________

میلاد کی تقریب کا آغاز ہو چکا تھا۔

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔

نعت مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس محفل میں آپ سبکو خوش آمدید

اسلام و علیکم۔

پھر سب سے پہلے حمد باری تعالیٰ پڑھیں گائی پھر باقاعدہ آغاز کر کہ نعت مقبولِ صلی اللہ علیہ وسلم پھڑھنا شروع سب نے اپنی اپنی پیاری اور میٹھی آوازوں میں پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان خوب سارا درود بھیجا گیا محفل بہت سحر انگیز تھی ہر عاشق رسول کی آنکھیں انکی تعریف پر پر نم تھی ۔کسی کو اپنے ارد گرد بیٹھے کا پتا نہیں تھا۔اب درس سے پہلے حصیفہ کو آنا تھا اب وہ سب سے آگے آکر بیٹھی تھوڑی نروس ہو گئی تھی پر اپنی آنکھیں بند کر کہ کلام

پہلے درود شریف پڑھا یک زبان ہو کر۔

آپ سب بھی میرا ساتھ دیجیے گا

زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا۔

محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا۔

زمیںںں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا

محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا۔

تھوڑا ٹہری اس کی آواز بھی سحر انگیز تھی

محبت کملی والے سے وہ جزبہ سنو لوگوں

یہ جس من میں سما جائے وہ من میلا نہیں ہوتا

محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا۔

نبی کے پاک لنگر پر جو پلتے ہیں کبھی انکییی

زباں میلی نہیں ہوتی سخن میلا نہیں ہوتا

“”””

محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

“”””’’’

میرے آقا کی الفت تو بدن کو جگمگاتی ہے۔

“””””

کبھی اہل محمد کا بدن میلا نہیں ہوتا۔

“”””

گلوں کو چوم لیتے ہیں سحر نم شبنمی قطرے۔

“”””

نبی کی نعت سن لے جو تو جمن میلا ہوتا

“”””

زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا

محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

پڑھتے پڑھتے آواز بھی نم ہوئی

ایسا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے محبوب کی تعریف بیان ہو رہی ہو اور اہل محمد کی آنکھیں نم نہ ہوں۔

بالکل نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔

پھر درس دیا گیا۔اج درس اللہ اور اسکے رسول کی محبت اور صبرو استقامت پر ہے۔

اللہ کی محبت کا تعلق پیارے رسول کی ۔حبت سے ہے۔اللہ سے محبت کا اظہار ہم اپنے نیک عمل سے کرتے ہیں۔

اللہ کی اطاعت کر کہ اسکے بندوں کے حقوق ادا کر کہ نماز قائم کر کہ دوسرے انسانوں کو بھی اللہ کی راہ میں لا کر۔

لیکن ایمان کی بنیاد میں اللہ کے ساتھ اسکے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت کرنا اور انکی اطاعت کرنا شامل ہے۔

ہمارا ایمان تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہمارے دل اللہ کے محبوب کی محبت نہ ہوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے پیغام لوگوں تک پہنچایا اور کتنے ہی لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا پیغام اپنے عمل سے بتایا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

“ایک شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسکے آس اولاد اور مال و جان سے ذیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”.

اگر ہم اللہ اور اسکے رسول کی چاہت میں پور پور ڈوب جائیں تو ہماری زندگیاں سہل ہو جائیں ہم جو بد قسمتی کے رونے روتے ہیں وہ کرنا بھول جائیں اللہ اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے۔اگر ہم یہ بات یقین کے ساتھ اپنے دل و دماغ میں بٹھالیں کہ “بے مشکل کے بعد آسانی ہے” تو ہم اللہ سے شکوے کرنا چھوڑ دیں گے۔

بات کو بیان کر کہ کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

میں بدقسمت نہیں ہوں

میں نے اپنا نصیب خود سیاہی سے رنگا ہے۔

اس بات کا یہی مقصد ہے کہ ہم ہر گز بد نصیب نہیں اتارے گئے اللہ کی محبت ہم سب کے لیے ایک سی ہے۔تو وہ کیسے ہمارے نصیب برے لکھ سکتا ہے۔یہ ہمارے گناہ ہیں جن کی سیاہی ی

ہمارے نصیب کا بھی سیاہ کر دیتی ہے۔

ہم اللہ کی محبت سے دور ہیں اللہ کو ایک مان لیا لیکن اس کے کہے پر ہمارا عمل بہت کم ہے کیا ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں جو کہ دنیا میں مست ہو کر اللہ کے احکامات کو بھولائے بیٹھے ہیں۔

اگر ہمارا بچہ ہماری ایک بات نہ مانے تو ہمیں کتنا غصہ آتا ہے۔اور جب وہ کچھ ہم سے مانگتا ہے تو ہم اکثر کہتے ہیں کہ آپ نے میری بات مانی تھی جو میں آپکی سنوں۔

اسی طرح کیا اللہ ہماری مانے جبکہ ہم اسکی کہی باتوں پر عمل نہیں کرتے۔

لیکن اللہ بہت رحیم و کریم اپنے بندوں کو نوازتا ہے بے حساب نوازتا ہے۔

اس لیے ہم پر بھی لازم ہے کے ہم اللہ کے کے احکامات پر عمل کریں اور اسکے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں

اور آخرت میں اللہ کے سامنے سرخرو ہوں۔

“یہ مختصر بیان کیا ہے امید ہے اپکو سمجھ آئے گیں باتیں ہمارا مقصد آپ لوگوں چند ان باتوں سے بھی روشناس کرانے کا ہے جن کا لاعلمی بھی دین سے دوری کا باعث ہے بے شک ہم دنیا میں اتارے گئے ہیں لیکن کسی مقصد کے تحت وہ مقصد ہمارا ہے اللہ کے احکامات پر عمل کرنا اور اپنے انہیں عمل کے ذریعہ ان لوگوں کو جو دین کی تعلیم اور روشنی سے دور ہیں انہیں روشناس کرانا ایسا نہیں ہے کہ آپ دین میں اتنا کھو جائیں کہ دنیا بھول اس میں رہے انسانوں کو بھول ہر چیز کو اعتدال میں لے کر چلیں اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔

اللہ ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق دے اور ہماری توبہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمین۔

سب نے بھی یک زبان آمین کہا۔

دوسرا عنوان جو کہ صبر اور استقامت ہے اس کو مختصر بیان کیا جائے گا جو کہ ہماری قابل طالبہ۔ماہنور بیان کریں گی۔یہ کہہ بڑی عالمہ اپنی نشست سے اٹھ گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *