Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Sakoon e Rooh (Episode 16)

Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan

دونوں کے جانے میں بس اب 4 دن رہ گئے تھے وہ دانی بھائی اور انکی فیملی نے انہیں بہت سی مشہور جگہیں بھی گھومائی تتھیں۔اج کا دن حصیفہ کے لیے شاید سب سے بڑا خوشی کا دن اسے لگ رہا تھا شاید یہ وہ لمحہ ہے کہ اب وہ اپنے مالک کے سجدہ شکر سر نہیں اٹھا پائے گی۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ نماز اور اسکے بعد شکرانے کے نفل پڑھ کر فارغ ہوئی تھی ابقار باہر گیا ہوا تھا کچھ جگہوں کا وزٹ کرنے یہاں بھی اسے اپنا کام بھولتا نہیں تھا بزنس کو کیسے آگے بڑھانا ہے اس سے متعلق بہت سیمنار اٹینڈ کرتا تھا

+$+$+$+@

ابھی وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لے رہی تھی ٹی پنک انگرکھا اسٹائل گھٹنوں سے نیچے آتی فراک جس کی آستینیں مینی سے نیچے تھی اور کلائیوں کو مینا کی چوٹیوں سے ڈھاکا گیا تھا اس پر بلیک چوری دار پاجامہ اور بلیک اور ٹی پنک کلر کے کمبنش کا شفون ڈوپٹہ۔

چہرہ کسی بھی زیبائش سے فلحال عاری تھا

لیکن پھر اس نے نیچرل کلر کی لپ گلوز لگائی پھر کاجل اٹھا کر آنکھوں میں بھرا گلے میں لاکٹ ڈالا جو ابقار یہاں آنے سے پہلے اسے گفٹ کیا تھا وہ بھی حلیمہ بیگم کے کہنے پر لیکن وہ پہن نہیں سکی تھی۔ابھی تیار ہو کر وہ اپنا جائزہ ہی لے رہی تھی کہ نوک کر کہ زنیرہ داخل ہوئی۔

حصیفہ کہیں جا رہے ہو کیا آپ لوگ۔اس نے اسکی تیاری کا جائزہ لیتے ہوئے کہا

ن۔۔نہیں آپی بس ایسی تیار ہو گئی آبی آنے والے ہونگیں اسی سوچا تھوڑا حلیہ درست کر لوں۔اس نے تھوڑا گھبرا کر جواب دیا

آبی اور تم خوش ہونا آبی کچھ کہتا تو نہیں ہے۔کافی ٹائم سے زنیرہ یہ بات پوچھنا چاہتی تھی لیکن جھجھک کے مارے پوچھ نہیں پائی کہ حصیفہ کو بھی برا نہ لگ جائے۔

جی جی زینی سب ٹھیک ہے آپ فکر نہ کریں۔اس نے زینی کے ہاتھ تھامے

اللہ آپ دونوں کو ہمیشہ خوش و آباد رکھے اچھا میں آپ کو کھانے کے لیے بلانے آئی تھی۔جس مقصد کے لیے وہ آئی تھی اس نے کہا

زینی مجھے ابھی بھوک نہیں لگی اچھا مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے جانے سے پہلے آبی کہہ رہے تھے جانے کا لیکن وہ جا کر کوئی مشورہ نہیں دیتے اور پھر مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا کیا آپ میرے ساتھ چلو گی۔پہلے اس نے منہ بسور کر کہا پھر پوچھا

ہاں ہاں کیوں نہیں جب بھی جانا ہو تو مجھے بتا دینا میں تو شاپنگ کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہوں۔اس نے ہنس کر کہا

چلیں ٹھیک ہے۔اس نے سر ہلایا

$-#–#-$–#@

آپ آگئے میں کتنی دیر سے آپکا انتظار کر رہی ہوں۔وہ پرجوش ہوتے ہوئے اس کے قریب آئی جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا

کیوں خیریت آپ نے کہیں جانا تھا کیا۔ابقار نے اسکا جائزہ لیتے ہوئے کہا

نہیں میرے پاس آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے۔حصیفہ نے اس کے سینے پر اپنے ہاتھ رکھے۔۔

اچھا کیا کسی خزانے کا نقشہ ہاتھ لگ گیا آپکے ۔ابقار نے بازو کا گھیرا بنایا اسکے گرد

ہاں کچھ ایسا ہی سمجھ لیں۔اس ہلکا سا شرما کر کہا

اچھا جی پھر دکھائیں جلدی سے تاکہ ہم اسے ڈھونڈ نے چلتے ہیں۔اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا شرارت سے کہا

اچھا نا ایسا کچھ نہیں ہے اس سے بھی زیادہ اچھا سرپرائز ہے۔اس نے منمنا کر کہا

ہاہاہاہا۔۔اب بتا بھی دیں کیوں سسپینس پھیلا رہی ہیں۔اس نے کہا

آ۔۔ آپ بابا بننے والے ہیں۔اس نے ابقار کے سینے پر سر رکھ آہستہ آہستہ الفاظ ادا کیا

ابقار جس کا گھیرا مظبوط تھا اک دم ڈھیلا پڑا اور اس نے حصیفہ کو خود سے الگ کیا

کیا ہوا آپ کو خوشی نہیں ہوئی کیا پتا ہے آج قریبی کلینک میں بلی گئی تھی جب مجھے یہ نیوز ملی تو میں نے اپکو بہت مس کیا تھا۔وہ اپنی ہی کہتی جا رہی تھی لیکن سامنے کھڑا ابقار “آپ بابا بننے والے ہیں”جملے میں اٹک کر رہ گیا

کیا ہوا گیا آبی اپکو کیا خوش نہیں ہوئے آپ کہ کوئی اپکو بابا اور مجھے ماما کہنے والا ہوگا۔اس نے انچھبے سے اسے دیکھا جس کے تاثرات تاریک تھے۔

ابقار۔۔۔اس نے سوچ میں ڈوبے کو جھنجھوڑا

ہمممم۔۔۔۔وہ ایک دم خیالوں کی دنیا سے باہر آیا ۔

کیا ہوا ہے اپکو۔اس نے عجیب لہجے میں پوچھا یہی بات اس کے تاثر دیکھ اس نے اخذ کی کہ آبی شاید ابھی اس کے لیے تیار نہیں تھا

کچھ نہیں میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے اگر اپکو تکلیف نہ ہوتو ایک کپ کافی کمرے میں دیں جائیں میں تھوڑی دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔اس نے سپاٹ لہجے میں کہا

جی بہتر۔اس نے تاثرات دیکھ کر اس نے پھر کچھ کہنے اور سننے کا نہیں سوچا ۔

$+$+$++$+$

کیا آپ اس تبدیلی پر خوش ہیں۔اس کا لہجہ ابھی بھی سپاٹ ہی تھا۔وہ جو سیدھی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی اس کے عجیب سوال پر چونکی۔

کیا مطلب ہے آپکا یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمت جسے دے وہ عورت خود کو خوش نصیب محسوس کرے اور آپ پوچھ رہیں ہیں میں خوش ہوں یا نہیں جانتے ہیں جب مجھے اس بات کی خبر ہوئی تو کتنی ہی دیر میری آنکھوں سے آنسوں نہیں روکے میں جتنا اس پاک پروردگار کا شکر ادا کروں کم ہے میں نے اتنی عورتوں کو دیکھا جو اولاد کی نعمت سے محروم اور ایسا لگتا جیسا یہ خوشی سب کچھ ہے ان کے لیے تو جس کو یہ نعمت حاصل ہوگئی یہ وہ عورت تو خود کو آسمان پر محسوس کرتی ہے جیسے کہ میں۔حصیفہ کو ابقار سے اس سوال کی توقع نہ تھی اس لیے اس کے سوال پر بولتی چلی گئی

میں صرف ایک سوال کیا تھا اور اپنے لیکچر دے ڈالا ۔اس نے چڑ کر کہا

خوش تو اصل میں آپ نہیں ہیں کیونکہ ابھی آپ اس زمہ داری کے لیے تیار نہیں یا یہ کہنا بہتر رہے گا کہ بچہ اپکو چاہیئے ہی نہیں۔اس نے غصے سے گھور کر چبا چبا کر کہا

آپ سے کس نے کہا میں خوش نہیں ہوں اور یہ میرے بھی وجود کا حصہ ہے آپ سے زیادہ اس پر میرا حق اس لیے نہ خوش ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا میں نے آپ کے بتانے پر ردعمل عمل نہیں دیا اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں بچہ ہی نہیں چاہتا۔اس نے ہلکے سے غراہٹ والے انداز میں کہا

جس طرح یہ خبر سن آپکے چہرے کے تاثرات جو سپاٹ ہوئے تھے نہ اس کو دیکھ میری جگہ کوئی بھی انسان ہوتا یہ اخذ کرتا۔اس نے بنا کسی لحاظ کہ طنزیہ انداز میں کہا

ہاں میں تھوڑا شاک تھا اور مجھے اپنی خوشی کا اظہار ڈھول پیٹ کر کرنے کی عادی نہیں ہے کہ ایک ایک پکڑ پکڑ کہ بتاؤں کہ میں باپ بننے والا ہوں۔اس نے دانت پیس کر کہا

کچھ خوشیاں ایسی ہوتیں جن کا اظہار کرنا بہت

معنی رکھتا ہے جو ایسے موقعوں پر آپ کے جیسا اظہار کرتے ہیں یہ کوئی خوشی کا اظہار کرنا نہیں ہوتا۔اس نے چڑے انداز میں کہا

اچھا اب مجھے کوئی بحث جو جیسا سمجھتا ہے سمجھتا رہے میں جانتا ہوں میری کیسی فیلنگز ہیں۔اس نے ناک سے مکھی اڑانے والا کام کیا

جی بہتر آپ سے تو بحث کرنا ہی فضول ہے کیوں کہ آپ مانتے تو کسی کی ہیں نہیں۔کھیسایا کر کہتی لیٹ گئی۔

ہنہہ۔وہ بھی ہنکارا بھرتا لیٹ گیا۔

آدھے گھنٹے سونے کی انتھک کوشش کرنے بعد ابقار صاحب جھنجھلا کے اٹھ بیٹھے

کیا ہوا اب کونسے خواب میں جن دیکھ لیے۔اس کے جھنجھلا کر اٹھنے پر حصیفہ کی بھی آنکھ کھل گئی

وہ کیوں سو رہی ہیں۔اس نے چڑ کر کہا

تو کیا چھت پر جا کر سو عجیب سوال کر رہے ہیں؟وہ زچ ہو گئی۔

میرا مطلب ہے آج سونے کے لیے میرا کندھا استعمال نہیں کیا اپنے۔اپنے دل کی خواہش تھی تھوپ اس پر رہا تھا ہنہہ۔

ہاں کیوں کہ میں آپ سے ناراض ہوں۔اس نے جھٹ منہ پھلایا

تو میں کونسا یہاں اپکو منا رہا ہوں۔لیٹ کر کروٹ اسکے جانب کی اور ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ تھام کر خود کی طرف کھینچا اور وہ جو تیار نہیں تھی اسکے سینے آ لگی

___________

کیا بدتمیزی ہے چھوڑیں مجھے۔پتا نہیں کیوں لیکن وہ چڑ گئی۔

ابھی بدتمیزی کی کب ہے کر کہ دکھاؤں اگر آپ کہیں تو۔شرارت سے سرگوشی کی جس پر وہ سرخ ہو گئی

جی نہیں زیادہ پھیلیں مت۔اس نے منہ بنایا

اچھا جی ایک راز کی بات بتاوں۔اس نے راز داری سے کہا

وہ کیا؟اس نے ابرو آچکا کر کہا

مجھے عادت ہوگئی ہے۔اس نے اس گرد بازو حائل کیے۔

کس چیز کی اس نے آنکھیں موندے لیں ابقار کے کپڑوں سے اٹھتی خوشبو کو لمبی سانس لے کر محسوس کیا ۔۔

اپکو خود میں قید کر سونے کی۔اس ہلکے سرگوشی اب اسکی بھی آنکھیں بند تھیں۔

مجھے بھی۔اس ہلکا سا مسکرا اسکے سینے پر اپنا ہاتھ دھرا ۔

#-#–$-$-$-$-$

نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے اتنا بڑا سچ ۔اسے اپنا سانس گھٹتا محسوس ہو رہا تھا

تم نے ہر چیز اپنے آنکھوں سے دیکھی پھر تم کیسے جھٹلا سکتی ہو اس حقیقت کو جس سے تم محبت کرتی وہ پہلے سے کسی اور کی محبت کا اسیر ہے اور تم محض اسکی ضرورت اور شاید عادت۔اس عکس سامنے کھڑا اس پر افسوس کر رہا تھا

نہیں ایسا نہیں وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں انکے ہر عمل سے یہ ظاہر ہوتا ت۔۔۔تم جھوٹ کہہ رہی ہو و۔۔۔وہ صرف میرے ہیں ۔اس نے انگلی خود کی طرف کی

ہاں جو بظاہر تو تمھارا ہے لیکن اندرونی طور پر دو حصوں میں بٹا انسان ہے۔

ت۔۔۔تم چپ کرو۔اس نے انگلی کے اشارے سے منع کیا

آج حصیفہ کو لگ رہا تھا کہ کسی نے اسے گہری کھائی میں دھکا دے دیا ہو۔وہ کتنی بھی صبر والی ہر بات کو نظر انداز والی کیوں نہ تھی لیکن کچھ حقیقتیں انسان کو توڑ دیتی ہیں عورت کتنی بھی اعلی ظرف کیوں نہ ہو لیکن اپنا شوہر اسے کسی اور کی محبت میں اسیر ہوا سہن نہیں ہوتا

اور آج حصیفہ ابقار سے بھی یہ بات سہن نہیں ہوئی یا ہو جاتی اگر شادی سے پہلے اسے ابقار کے ماضی کا پتا ہوتا ۔

-$–$-$

حصیفہ آپکی طبعیت تو ٹھیک ہیں نہ ایسے کیوں بیٹھیں۔ابقار دو دن بعد کی ٹکٹ بک کرانے گیا تھا ابھی کمرے میں داخل ہوا تو حصیفہ کو سر تھامے دیکھ کر فورا گھبرا کر اس کے قریب جا کر اسکے کندھے تھام لیے ۔

ا۔۔۔اپ پہلے ہی۔حصیفہ ایک دم جھٹکے سے اٹھی اس پہلے وہ اپنی بات کہتی ابقار کے بازوں میں جھول گئی ۔

ص۔۔صفا کیا ہوا اپکو صفا اٹھیں آنکھیں۔ابقار کے چہرے کی تو ہوائیاں ہی اڑ گئی کیونکہ اسکا سوزش آنکھیں رونے کا پتا دے رہی تھیں

اس نے جلدی سے اسے اپنے بازؤں میں اٹھایا اور نیچے کی طرف بھاگا

کہاں جا رہے ہو ابقار بیٹا۔پیچھے سے دانی کی تائی کی آواز آئی۔

م۔۔میں حصیفہ کو ہوسپٹل لے جا رہا ہوں یہ اچانک بے ہوش ہو گئیں ہیں۔اس نے گھبراہٹ بھری آواز میں کہا

ارے بیٹا ایسے کیسے بے ہوش ہو گئی کہیں اسکا بیپی تو لو نہیں ہو گیا اور اس حال میں یہ سب اچھا نہیں تم و جلدی اسے ہسپتال لے کر۔وہ بھی ایک پریشان ہوئیں۔

اس وقت ہال میں اتفاق سے صرف تائی ہی موجود تھیں زینی سکینہ کے ساتھ مارکیٹ گئی ہوئی تھی اور چچی اور دانی کی امی پڑوس میں کسی کی عیادت کرنے گئیں تھیں جبکہ جو بچیاں تھیں وہ پڑھنے گئی ہوئی تھیں اور دادی امی کمرے میں آرام کر رہی تھیں

#–#-#

ہسپتال آنے کے ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے کسی بات سے شاک لگا ہے جس کی وجہ سے اسکا بی پی ہائی ہوگیا ہے جو اس وقت اسکے قعطعی ٹھیک نہیں اللہ کا کرم ہی تھا جو اسکا بے بی محفوظ تھا ۔

اور ابقار تو اسی سوچ میں ڈوب گیا کہ ایسی کونسی بات ہے جو اتنی خطرناک ثابت ہوئی تھی۔ابھی دواں کے زیر اثر رکھا گیا تھا

آبی یہ سب کیسے ہوا۔زینی کو جیسے ہی اطلاع ملی وہ فورا ہسپتال پہنچ گئی۔

پتا نہیں زینی میں کمرے گیا وہ پہلے سے سر تھامے بیٹھی تھی میں قریب گیا وہ اٹھی ہی تھی کہ بے ہوش ہو گئیں۔۔اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔۔

ڈاکٹر نے کیا بتایا پھر۔اس نے تفتیش سے پوچھا

کہہ رہی ہیں کسی بات کا شاک لگا ہے جس سے بی پی کافی ہائی ہو گیا تھا آخر ایسا کیا تھا جو اتنا خطرناک ثابت ہوا ۔مسلسل سوچ سوچ کر اسکا دماغ ماؤف ہو چکا تھا

اور زنیرہ کے ارد گرد کسی انہونی کی گھنٹیاں بجنے لگیں تھیں۔

آبی ک۔۔کہیں اسے تمھارے ماضی کا تو پتا نہیں چل گیا ۔زیںی نے ڈرتے ڈرتے اپنا خدشہ ظاہر کیا

ک۔کیا مطلب شادی سے پہلے تو ماما نے سب بتا دیا تھا نہ تو اب ایسا کیا پتا چلا ۔اس نے چونک کر اس سے پوچھا

و۔۔وہ آبی ماما نے اس بارے میں انہیں کچھ نہیں بتایا ۔اس نے آہستہ ڈرتے ہوئے کہا

یہ کیا بکواس کر رہی ہو زینی ۔وہ ایک دم دھاڑا ۔

ا۔ابی ہم کہیں چل کر آرام سے بات کرتے ہیں سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔اس نے اطراف میں نگاہ دوڑا کر کہا

آرام سے تم لوگوں کی اس غلطی سے آج میری بیوی اور بچے کی جان خطرے میں آگئی اور تم مجھ سے آرام کرنے کا کہہ رہی ہو واہ زنیرہ دانیال واہ۔اس نے اب ہلکی آواز میں غرا کا کہا

دیکھو آبی وہ وقت کی ضرورت تھی اس ہمیں صرف اتنا یاد تھا کہ وہ تمھارے لیے بہتر انتخاب ہے بس اسی لیے ہم نے یہ بات نہ بتائی اور ہمیں یہی لگا کہ وہ تمھارے ماضی کا قصہ ہے اب اسے کیا پتا چلنا۔وہ اسے ویٹنگ ایریا کی طرف لے آئی اب وہ دونوں چیئر پر بیٹھ گئے تھے۔

واہ بہت خوب کہی لوگ اپنا تو ماضی بھول جاتے لیکن دوسرے کا ماضی کبھی نہیں۔ بھولتے اور جب وہ ماضی تلخ ہو نہ تو وہ یاداشت کے فہرست کے اول نمبر پر رہتا ہے اب تم نے سوچا ہم کیسے انکا سامنا کریں گے۔وہ شاید اب بے بسی کی انتہا پر ہی تھا۔

آبی یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اب وہ ماضی کا ایک قصہ ہے جسکا حال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور تم نرمی سے حصیفہ کو سب سمجھاؤ اور بتاؤ گے تو سمجھ جائے گی وہ آج میں جینے والی انسان ہے آج تم ق

فقط اسکے ہو اور وہ تمھاری اب کوئی دنیاوی انسان تم دونوں میں نہیں اسکتا۔زنیرہ نے سمجھانا چاہا غلطی تو واقعی ہو گئی تھی لیکن وہ ابھی بھی سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر ایسا کون ہے جس نے یہ سب کیا ہے

سنے آپکی وائف کو ہوش آگیا ہے آپ چاہیں تو ان سے مل سکتے ہیں۔ایک نرس نے آکر پیشہ ورانہ انداز میں کہا

انہیں ڈسچارج کب تک مل جائے گا۔سوال زنیرہ نے کیا

ابھی ڈاکٹر مکمل چیک اپ کرلیں پھر اپکو بتا دیں گیں ۔اس نے کہا اور زنیرہ نے سر ہلایا

ایک کام کرو دانی بھائی کو بولو مجھے کل کوئی بھی کراچی کی فلائٹ چاہیے ہر حال میں میں مزید نہیں رک سکتا میں تو یہ سوچ رہا اب کیسے سامنا کروں گا۔اس نے سر تھام رکھا تھا

ابقار ابھی اسکی ایسی کنڈیشن نہیں ہے۔اس نے بے بسی سے کہا

میں جتنا کہہ رہا ہوں کرو ورنہ میں خود ہی کام کر لوگا۔کہہ کر اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا کہ اسے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔

#+#+#++@+@$

آج وہ دونوں کراچی واپس آگئے تھے ابقار اور حصیفہ کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی شاید اس نے خاموشی اختیار کر لی تھی

کیا ہوا بیٹا ابی اتنا سنجیدہ کیوں لگ رہا ہے کیا کوئی بات ہوئی ہے اور تم دونوں نے تو کل آنا تھا نہ۔ابقار جو سلام کرنے بعد سیدھا اپنے کمرے کی جانب پڑھ گیا اور چہرے پر گہری سنجیدگی تھی حلیمہ بیگم کو کچھ انہونی کا اندیشہ ہوا۔

نہیں ماما ایسی کوئی بات نہیں وہ بس سفر کی تھکان اور کل سے میری بھی زرا طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو ناراض ہو گئے کہ خیال کیوں نہیں رکھتیں آپ پریشان نہ ہوں ٹھیک ہو جائیں گے۔حصیفہ نے مسکرا کہ انکا ہاتھ تھام کو کہا مسکراہٹ میں بہت پھیکا پن تھا

بیٹا وہ بھی ٹھیک کہہ رہا ہے اب تمھیں اپنا نہیں اس ننھی جان کا بھی خیال رکھنا ہے۔اس سر پر ہاتھ پھیر کر کہا

چلو تم لوگ آرام کر لو میں زرا کھانے کا دیکھ لوں تم لوگ اچانک آگئے تو میں کچھ بنایا ہی نہیں تھا ورنہ سوچا تھا تم دونوں کی پسند کا کھانا بنا لوں گیں۔انہوں نے اسے کہا

ماما آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں میں ہوں نہ اب تو میں بنا لوں گیں اتنے دنوں سے آپ خودی کام کر رہی ہوں گی۔اس نے فکر مندی سے کہا

میری جان اب آپکے آرام کے دن ہیں اور نخرے اٹھواںے کے کھانے کا کیا ہے ہم تو کوک رکھ لیں بس میری بیٹی خود کا خوب خیال رکھے سچ مجھے کتنا ارمان تھا اپنے پوتے پوتیوں کا اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے میری سن لی اللہ پاک میرے بچوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔انہوں صدق دل اور محبت سے کہا

اچھا ماما میں انہیں دیکھ لوں پھر آتی ہوں امی بھی کہہ رہی تھیں آجاؤ تو فون کر لینا۔اس نے اور پھر اپنے کمرے کی طرف چل دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *