Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Sakoon e Rooh (Episode 03)

Tu Sakoon e Rooh by Hoorain Khan

آج کل دنوں میں برکت ہی نہیں رہی اور برکتیں بھی ہماری ہی وجہ سے ختم ہوئیں ہے کیونکہ جب ٹائم نہیں گزرتا تو ہم کہتے ہیں کہ منحوس ٹائم نہیں گزرتا اور اب دن کے کام ختم نہیں ہوتے اور دن گزر جاتا ہے ابھی کچھ ٹائم ہو رہا ہوتا ہے تھوڑی دیر بعد دیکھو تو گھنٹا گزر جاتا ہے۔

کافی ٹائم کے بعد آج ابقار نے آوفس سے چھٹی لی تھی ورنہ وہ انڈے کو بھی آوفس میں ہوتا تھا اور اس بات پر نا اسے کبھی مبین صاحب نے منع کیا نا ہی حلیمہ بیگم نے کیونکہ وہ جانتے تھے اگر وہ فری ہوا تو پھر منفی اور تکلیف زدہ سوچوں میں نہ پڑے۔خیر ویسے بھی زنیرہ آئی ہوئی تھی اور اسکی دو پیارے پیارے بچے جو ماموں کی بھی جان تھے۔اور اپنی مصروفیت کی وجہ سے وہ انہیں ٹائم بھی نہیں دے پایا تھا۔اج مبین صاحب بھی شام میں آگئے تھے اور ابھی سب چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

___________________

ماما فراز بھائی کو کہہ کر ان لوگوں کو یہیں شفٹ کر لیتے ہیں اس طرح بچے بھی قریب ہونگے آجایا کریں گے اور گھر میں بھی رونق لگی رہے گی۔ابقار نے چائے کا کا گھونٹ بھر کر کہ کہا۔

رہنے دو بھائی میں وہاں بہت پر سکون ہوں میرا بھرا پورا سسرال وہاں اگر تمھیں یہاں رونق جمع کرنی ہی ہے تو اپنے بیوی بچوں اور بچوں سے کرنا۔زنیرہ نے موقع جان کر فورا کہا۔جس پر ابقار لمحے بھر کو تھما۔کتنے ہی تکلیف دہ لمحے آنکھوں کے سامنے گزرے لیکن اسکے چہرے پر کوئی تاثر نہ ایا۔

نہیں مجھے کوئی ضرورت نہیں شادی کی تم سب ہو میرے لیے بہت ہے میری زندگی میں کسی اور ضرورت نہیں ہے۔اس نے ہلکی سی ۔سکراہٹ کے ساتھ کہا۔

لیکن ابقار…..”ابھی زنیرہ کچھ کہتی کہ شاہمی اور دیا اگئے۔

ماموں آج آپ ہمیں پارک کے کر چلیں نہ ہم جب سے آئے ہیں کہیں نہیں گئے۔دیا نے ابقار کے ساتھ لگ کر لاڈ سے کہا۔

کیوں نہیں میری جان بلکل چلتے ہیں اور ایسا کریں گیں ڈنر بھی آج باہر کریں گیں۔اس نے دونوں بچوں کو کو آپ نے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔

پر بیٹا باہر کا جنک فوڈ بچوں کے لیے ٹھیک نہیں ہے بچے بیمار ہو جائے گیں میں گھر میں کچھ بنا لوں گی۔حلیمہ بیگم نے فورا انکار کیا باہر ڈنر سے۔

ارے میری پیاری ماما کچھ نہیں ہوتا اور ویسے بھی آپ روز ہی تو گھر میں بناتی ہیں اور اگر باہر کے کھانے اتنے خراب ہوتے تو اتنے سارے ریسٹورنٹ بند ہو جائیں ماما۔اس نے خفگی سے کہا۔

اچھا اچھا چلو لیکن صرف آج اوکے۔انہوں نے وارن ہی کیا۔

ہاہاہا جی جی ماما بلکل۔اس نے ہنس کر فرما برداری سے سر ہلایا۔

چلیں نا ماموں ہم تینوں فٹ بال کھیلتے ہیں مزہ آئے گا۔شاہمی نے جوش سے کہا۔

اچھا جی چلو پھر کھیلتے۔کہتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور بچوں کے ساتھ چل دیا۔

اور بیٹا اپنے واپس کب جانا ہے۔حلیمہ بیگم نے پوچھا۔

ماما کیا ہو گیا اپکو ابھی تو آئی ہوں آرام سے جاؤں گی دو تین ہفتے بعد۔پہلے خفگی بود میں آرام سے کہا۔

کیا دو تین ہفتے بیٹا بیٹیاں شادی کے بعد جتنا خوش رہیں ماں باپ کے لیے سکون کا باعث اور تم ہی کہہ رہی تھیں تمھاری خالہ ساس کی بیٹی کی شادی ہے اور تم تو بڑی بہو بڑھ بڑھ کر ہر چیز میں آگے رہا کرو۔حلیمہ نے سنجیدگی سے کہا۔

وہ ایسی ہی تھیں اپنی بیٹی کو اپنے گھر کا ہی رکھنا چاہتی تھیں کیونکہ ان کی نظر میں بیٹی جب اپنے سسرال چلی جائے تو وہی اسکا گھر ہے اور سسرال والوں کو اپنا بنانے میں لڑکی کی بھلائی ہے اور ماں باپ کی دعائیں ہی تھیں کہ زنیرہ کو بہت اچھا اور محبت کرنے والا سسرال دیا تھا کہ وہ شکر کرتے نہیں تھکتی تھی۔ دانیال بھی بیٹے سے کم نہیں تھا۔جتنی محبت احترام ملتا تھا اس سے کہیں زیادہ وہ دیتا بھی تھا۔

___________________________

ارے حلیمہ بیگم ایسی ہی کہہ رہی اپکو تو پتا ہے ہماری زینہ کا اپنے سسرال میں ہی دل لگتا ہے وہ تو ہماری تنہائی کا احساس کر کہ آجاتی ہے ورنہ تو بیچاری ہماری بیٹی یہاں بور ہو جاتی ہے ابھی دیکھیے گا ایک ہفتے نہیں گزرے گا کہ جانے کے لیے بولیں گیں میڈم۔مبین صاحب نے فورا بولا۔

سچ میں بابا آپ لوگوں کی دعاؤں کی وجہ سے مجھے بہت اچھا سسرال ملا ہے مجھے۔لڑکیاں جوائنٹ فیملی سے گھبراتی ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ سب نہ ہوتے تو مجھے تو تنہائی کاٹتی رہتی۔اس نے سچے دل سے کہا۔

جیتے رہو میرا بچہ اللہ تمھیں ہمیشہ ایسا ہی رکھے۔دونوں اماں ابا نے صدق دل سے دعا دی۔

______________________

آج حصیفہ کی شام کی کلاس تھی اس لیے وہ تیار ہو رہی تھی اور اسکی تیاری اسکے برکھے اور ہجاب اور نقاب کے علاوہ کچھ نہیں تھا سادگی میں بھی چہرہ پرنور تھا اور یہ سب اس لیے کیونکہ وہ پردہ کرتی تھی اور ویسے بھی اپنے اپکو نامحرموں سے چھپانے والی اور پردہ کرنے والی تو اسلام کی شہزادیاں ہیں۔

_________________________

منتہہ ایسا کرو آج تم میرے ساتھ چلو ویسے بھی آج صرف درس کی ہی کلاس ہے اور تھوڑی دیر تم اس سے بھی دور رہو گی۔حصیفہ نے دوپٹے میں پن لگاتے ہوئے کہا۔

نہیں بھئی آپی میں نہیں جا رہی کہیں بھی آپ کو دیر ہوجاتی ہے۔اس نے صاف انکار کر دیا۔

میں تمھیں باہر کھانا کھلانے نہیں لے جا رہی درس کے لیے اللہ کا ذکر سننے کے لیے لے کر جا رہی ہوں جو ایک عبادت بھی ہے۔اس نے اسکے پاس بیٹھ کر ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔

عبادت یہ کیسے ہوئی عبادت۔اس نے سوال کیا۔

نماز پڑھنا ہی صرف عبادت نہیں اللہ کے ذکر کو سننا بھی عبادت ہماری اسلام میں ہر نیکی عبادت ہی تو ہے اگر کسی نیک کام لیے جتنے قدم اٹھائیں گیں وہ بھی عبادت کسی کے بھلائی کا رویہ اپنائیں گے وہ بھی ہمارے اللہ نے ہمارے دین میں قدم قدم پر نیکیاں رکھیں ہیں جسے عبادت بھی کہتے ہیں اور یہ چھوٹی چھوٹی عبادتیں ہمارے لیے بڑے اجر کا ذریعہ بنتی ہیں۔۔اس نے آرام سے تفصیل سمجھائی۔

چلیں آپ میرا بھی ابایا نکال دیں میں منہ دھو کر ائی۔کہتے ساتھ وہ فورا اٹھی اور واش بیسن کی طرف چلی گئی اور پیچھے سے حصیفہ مسکرا دی۔

پھر دونوں تیار ہو کر زیبا بیگم کو اللہ حافظ کہہ کر نکل گئیں۔

________________________

اسلام و علیکم کیسے ہیں آپ سب۔بڑی باجی نے اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ کر سب پر سلامتی بھیجی۔

وعلیکم السلام الحمدللہ۔سب یک زبان ہو کر جواب دیا۔

بہتر چلیں پھر آج کا درس شروع کرتے ہیں آج جو عنوان ہے وہ بہت ہی دلچسپ ہے امید ہے اپکو کچھ ضرور سیکھنے کو ملے گا۔انہوں نے مسکرا کہ کہا۔

حالانکہ انکا ہر بیان دلچسپ ہی ہوتا تھا وہ بہت اچھے سے سبکو سمجھا دیتیں اور یقینا سبکو سمجھ بھی آتا اور عمل کرتے ہوں گیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

“اللہ نے جہاں ہمارے لیے قدم قدم پر نیکیاں لکھی ہیں وہیں وہ نیکیاں ہم گناہ میں بدل دیتے ہیں۔کہہ کر انہوں نے سب کو ایک نظر دیکھا سب کی آنکھوں میں سوال تھا کیسے۔

دیکھیں اگر ہم کسی کی انسان کی راہ سے پتھر ہٹائیں گے تو وہ نیکی۔لیکن اگر ہم وہی پتھر اسکے راستے میں رکھ دیں گیں جس سے اسے نقصان ہو وہ گناہ۔

اسی طرح کوئی اللہ کی راہ میں لکھ رہا ہے جس سے انسان کی سوچوں کے گرہیں کھلیں اور وہ اللہ کی طرف راغب ہو وہ نیکی ہوگی اگر وہی انسان کچھ برا لکھے جس سے انسان کے ایمان میں کمی ہو اور اسکے دماغ میں غلط خیالات آئے وہ گناہ ہوگا۔

اسی طرح اگر آپ کسی کو احسن طریقہ سے اسے اچھی بات بیان کریں تو نیکی اور اگر وہ بات دل آزاری کرکہ منوائی جائے وہ گناہ کیونکہ ہمارے اسلام میں دل آزاری سے منع فرمایا گیا ہے۔

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے احسن طریقہ سے اسلام پھیلایا کتنی نرمی اور خلوص سے اللہ کا پیغام پہنچایا کہ جو لوگ کل تک جہالت میں پور پور ڈوبے ہوئے تھے دائرہ اسلام میں آ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تنقید سے کام نہیں لیا جو کوئی غلط کام کرتا اسے سلیقے سے سمجھاتے کہ وہ انسان فورا وہ کام چھوڑ دیتا تھا پھر ہم کون ہوتے ہیں کسی پر طنز اور تنقید کر کہ دل آزاری کرنے والے۔

اسی طرح شجر کاری بھی نیکی ہے اگر کہیں ہم پودا لگائیں اور نشونما پا کر اللہ کی مخلوق کو سایہ فراہم کرے تو اللہ بھی خوش اور اسکی مخلوق بھی خوش لیکن اگر یہی پیڑ پودے اپنے کاموں کے لیے کاٹ دئیے جائیں غلط ہے کیا پودوں میں جان نہیں ہوتی وہ تو اللہ کی پیدا کردہ مخلوق ہیں آج کل پیڑ پودے کاٹے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری زمین پر ڈائریکٹ سورج کی شعاعیں پڑھ رہی ہیں جو زمینی مخلوق کو تکلیف دیتی ہے۔

اسی طرح آپ اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں یا نماز کے لیے قدم اٹھا رہے ہیں اور ایک دو کو بھی ساتھ لے لیا تو وہ نیکی اسی طرح آپ خود تو نیکی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن دوسرے کو روک دیں کہ تو مت کر یہ بھی گناہ ہی ہے کیونکہ اللہ کی راہ میں کوئی نیکی کرنے سے روکنا بھلائی ہو سکتی ہے بھلا۔

آج کل ہم بس گناہ ہی کیے جا رہے ہیں جہاں ہمارے لیے قدم قدم پر نیکیاں رکھی گئی ہیں وہی ہم ان نیکیوں کو گناہ میں تبدیل کر رہیں ہیں۔اپ لوگ جانتے ہیں شیطان کے گھر روز سب جمع ہوتے ہیں اور شیطان پوچھتا ہے کس نے کیا گناہ کیا تو سب بڑے فخر سے ہمارے کردہ گناہوں کا انعام لے رہے ہوتے ہیں اور ہمیں کیا ملے گی سزا جنہم۔

جبکہ اللہ ہماری نیکیوں کا انعام ہمیں ہی دیگا کسی اور کو نہیں اللہ نے تو اپنے فرشتوں کو بھی ہماری نیکیاں بڑھانے کے حکم۔دیا ہے کہ جب ہم کوئی نیکی کرتے ہیں اللہ اس سے دگنا انعام ہمیں دے گا۔

تو کیا بہتر نہیں کہ ہم نیکیاں کر کے اللہ کا انعام حاصل جو بے شک بہت خوبصورت ہے۔

سب مسکرا دئیے۔

____________

حصیفہ کے مدرسہ میں میلاد کی محفل کا اہتمام کرنے کا ارادہ تھا اور اسی سلسلے میں پمپ پلیٹس بھی بانٹے گئے تھے اور اس میں حصیفہ اور اسکی پوری کلاس بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی ابھی وہ مدرسے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔

امی کچھ ہی دنوں میں ہمارے مدرسے میں میلاد ہے جس کی تیاریاں ہو رہی ہیں اس لیے مجھے آج بھی دیر ہو جائے گی آپ فکر مت کیجیے گا۔اس نے مصروف سے انداز میں زبیدہ بیگم کو کہا۔

اچھا بیٹا ٹھیک ہے پر کوشش کرنا اندھیرا ہونے سے پہلے آجاؤ آج کل حالات بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں۔انہوں نے مسکرا کہ کہا۔

جی امی میں انشاللہ جلدی آنے کی کوشش کروں گی اور میں نے کھانا بنا لیا ہے روٹیاں آکر بنالوں گی۔اس نے اسکارف کو پن اپ کرتے ہوئے کہا۔

میں بنا لوں گی روٹیاں ابھی اتنی بوڑھی نہیں ہوئی تم بے فکر ہو کر جاؤ۔انہوں نے منہ بنا کر کہا۔

ارے میں پیاری اماں میں نے کب آپ بوڑھی ہو گئی ہیں ہم بیٹیاں بڑی ہو گئی ہیں تو آپ کو اب کام کرنے کی کیا ضرورت۔اس نے پیار سے اماں کے گلے میں بازو ڈال کر کہا۔

اچھا اب ذیادہ مکھن لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ذبیدہ بیگم نے اس کے گال تھپکی دے کر اسے پیچھے کیا۔

واہ واہ یہاں پیار کی برسات ہو رہی امی آپ مجھے بھی کبھی ایسے ہی پیار کر لیا کریں۔کمرے میں داخل ہوتی منتہہ نے منہ بنا کر کہا۔

پہلے اپنے کام اچھے کر لو تم اور اس اپنے ہوتے سوتے کو سائیڈ پر رکھ دو تبھی تو پیار کروں تم سے بھی۔اماں پھر سٹارٹ ہو گئی تھیں۔

اچھا امی میں نکل رہی ہوں نمرہ کو بھی لینا ہے۔ حصیفہ کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔

آپی میں بھی چلوں گی آپکے ساتھ مجھے اچھا لگا تھا اس دن جا کر۔منتہہ نے کہا

ہاں ہاں بلکل چلو جاؤ جلدی سے عبایا پہنے کو آؤ۔اس نے مسکرا کے کہا۔

ابھی آتی ہوں پانچ منٹ میں۔کہتے ہی فورا چلی گئی۔

اچھا ہے تمھارے ساتھ جائے گی تو کچھ تو عقل میں آئے گا۔اماں نے مسکرا کہ کہا۔

ارے امی ابھی بچی ہے انشاللہ ٹھیک ہو جائے گی آپ پریشان نہ ہوں۔اس نے اماں کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کہ کہا۔

پھر تھوڑی ہی دیر میں منتہہ کے تانے کے بعد دونوں زبیدہ بیگم کو اللہ حافظ کہہ کر نکل گئیں۔

___________________________

زنیرہ کے آنے کی وجہ سے اب ابقار اور مبین صاحب جلدی گھر آجایا کرتے تھے اور شام کی چائے بھی ساتھ ہو جایا کرتی تھی ۔ابھی بھی مبین صاحب اور ابقار ٹی وی لاونج میں بیٹھے ٹیوی دیکھ رہے تھے۔

یار ڈیڈ ہٹائیں یہ نیوز ہر جگہ بس الیکشن کی باتیں ہو رہی ہیں۔ابقار نے اکتا کر کہا۔

بیٹا آج کل الیکشن کا ٹائم ہے تو وہی باتیں ہوں گی نہ۔مبین صاحب نے ہنس کر کہا۔

پتا نہیں پاکستان کو کب بہتر رہنما ملے گا جیسے 70 سال پہلے ملا تھا آج کل تو سب بس لوٹنے اور کھانے والے ہی ہیں۔کمرے میں داخل ہوتی زنیرہ نے تاسف بھرے لہجے میں کہا۔

بیٹا یہ ایسے رہنما ہم خود بناتے ہیں اور یہاں ہم رہنما کو ہی سارا الزام نہیں دے سکتے کیونکہ ہم خود ایک دوسرے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔انہوں نے افسوس سے کہا۔

وہ کیسے بابا۔زنیرہ نے پوچھا۔

بیٹا جب کوئی حکمران کوئی ذیادتی کرتا ہے ہمارے ساتھ تو اسکا بدلا ہم اپنی جیسی عام عوام سے لیتے ہیں وہ ایسے اگر حکومت نے ٹیکس تھوڑا بڑھایا ہے اشیاء پر ہم پھر دوگنا سامنے والے سے وصول کریں گے۔اگر ہمارے حکمران جھوٹے ہیں تو کیا ہم بہت سچے ہیں میرا بچہ جیسی عوام ہو گی ویسے ہی حکمران ملے گے۔

لیکن بابا پہلے کے حکمران بھی سچے تھے نہ۔ابقار نے فوراً کہا۔

بیٹا پہلے کی قوم بھی اچھی تھی ایک دوسرے کے لیے دل میں خلوص رکھتی تھی اگر حکمران کوئی اچھا کام کرتا تو بڑھ چڑھ خود اس کام میں شامل ہوتے تھے پر آج کل کی قوم محظ حکمران کو برا کہتی ہے کچھ کام ہمیں خود سے بھی کرنے پڑھتے ہیں کیوں کہ پہلا قدم ہی شرط جب ہم ہی اپنے ملک کو ترقی دینے کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے تو ہم حکمران سے بھی یہ امید کیسے رکھ سکتے جب ہم کسی سے کچھ امید کرتے ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بھی ویسا ہی کام کریں۔

جی بابا یہ تو ٹھیک کہا اپنے۔زنیرہ نے سمجھداری سے سرہلا کر کہا۔

بیٹا ہم دعائیں تو کرتے ہیں کہ ہمیں ایک اچھا حکمران ملے لیکن ہم خود اچھا بننے کی کوشش کرتے جب ہم اپنوں کے ساتھ مخلص نہیں ہونگے تو ہم کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ کوئی ہمارے ساتھ مخلص ہوگا۔انہوں نے مسکرا کے کہا۔

بالکل ہمیں اپنی بھلائی کے لیے پہلے خود اقدام کرنے ہوں گے دوسروں کے لیے اپنے دل میں خلوص پیدا کرنا ہوگا تبھی ہمارے ملک کو ترقی حاصل ہوگی۔ ابقار نے پر سوچ انداز میں کہا

اگر باتیں ہو گئی ہوں تو ڈائننگ ٹیبل پر آجائیں ہاتھ دھو کر میں کھانا لگا رہی ہوں۔حلیمہ بیگم نے کچن سے آواز لگائی۔

لو بھئی آپکی ماما کی آواز آگئی چلو کھانا کھانے۔انہوں نے ہنس کر کہا۔

پھر تھوڑی دیر بعد سب نے خوشگواری ماحول میں کھانا کھایا۔

__________________________

پری تم مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گی نا کبھی تمھیں پتا ہے میں بہت اکیلا ہو جاتا ہوں۔وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنی پری کی گود میں سر رکھ کر کہہ رہا تھا۔

میں تو بنائی ہی آپکے لیے گئی ہوں تو کیسے آپ سے دور جا سکتی ہوں۔پری نے مسکراتی آواز میں کہا۔

پری اور اسکے درمیان آج باتیں ہو رہی تھیں اور اپنے شریکِ حیات کو اپنے دل حال حال سنا رہا تھا۔

پری مجھے تمھاری یہ آنکھیں بہت پسند ہیں ان میں دیکھتا ہوں تو بہت سکون ملتا ہے میں انہیں چھونا چاہتا ہوں پر میں نہیں چھوںگا۔اس نے کہا۔

کیوں کیا ہوا۔پری نے سوال کیا۔

میں جب بھی تمھاری آنکھیں چھونے کی کوشش کرتا ہوں تم مجھ سے دور چلی جاتی ہو اور میں پھر اکیلا رہ جاتا ہوں۔اس نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔

اچھا اب چھولیں میں نہیں جاؤں گی اپکو چھور کر۔پھر مسکراتی آواز میں جواب دیا۔

پھر اس پرنس نے اپنا ہاتھ اسکی آنکھوں کی طرف بڑھائے لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ چھونے سے پہلے دور ہو گئی۔

پری پری میں نے کہا تھا کہ تم دور چلی جاؤں پری پری پلیز واپس آجاؤ میں نہیں ہاتھ لگاؤں گا پریییییییی۔اس نے تڑپتے ہوئے کہا۔

ابھی بہت وقت تھا پرنس اور پری کو ملنے میں اور پرنس کو جب پری ملے گی تو شاید وہ اپنے تمام غم بھی بھول جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *