Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 29)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 29)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
تڑپتے رہو اس کی یادوں میں’
اسد غصے سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اس وقت اسد میرے پاس ہی تھا’جب اس کے فون پر تمہاری کال آئی۔
میں اسد کے گھر میں تھا اس وقت’گھر والے پریشان نا ہو جائیں اسی لیے اسد کے گھر پر ٹہرا رہا میں۔
اسد نے سپیکر آن کر رکھا تھا۔
جب تم نے اسد سے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے سر نفی میں ہلا دیا۔
اسد نے تم سے جو کچھ کہا غصے میں کہا تھا’دراصل وہ مجھے سنا رہا تھا سب کچھ۔
کہ شاید میں آگے بڑھ کر فون تھام لوں’اور تم سے کہہ دوں رامین میں زندہ ہوں۔
اسد خاموش ہو چکا تھا’تبھی اچانک فون بند ہو گیا۔
اور اسد میری کلاس لینے لگا’
خوش ہو اب؟
ہو گیا دل کو سکون’رامین کو دکھ پہنچا کر۔
وہ بولتے بولتے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اور میرے دل و دماغ میں بس تمہاری اداس سی آواز گونج رہی تھی،،
“رامین مجھے معاف کر دو!
اپنے شریف چور کو معاف کر دو’بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے’
وہ رامین کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا’
“اب کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے؟
رامین بے بسی کی انتہا پر تھی۔
آپ تو مجھے بے وفا سمجھتے ہیں’
نفرت کرتے ہیں مجھ سے!
تو پھر اب واپس کیوں آئے ہیں آپ؟
اور آپ میرے شریف چور نہی ہیں’اگر میرے ہوتے تو میرا ساتھ کبھی نہی چھوڑتے۔
آپ خود غرض ہیں بس!
محبت یہ نہی ہوتی کہ محبوب کی خوشی کی خاطر اس کو اکیلا چھوڑ دیا جائے۔
محبت تو یہ ہوتی ہے کہ دور رہ کر بھی دل کا حال جان لیا جائے۔
تو کیا تھی آپ کی محبت’جو آپ نے کیا وہ خود غرضی تھی آپ کی۔
اگر آپ میرا ساتھ نا چھوڑتے تو میں کوٹھے کی زینت نا بنتی۔
ایک سہارا ہوتا میرے ساتھ’
مگر آپ مجھے تنہا چھوڑ چلے گئے۔
میں کن حالات سے گزری اس کا اندازہ نہی ہے آپ کو۔
اماں،ابا مجھے چھوڑ کر چلے گئے’اور ان حالات میں مجھے سنبھالنے والے احتسام ہیں۔
اب آپ یہاں سے چلے جائیں’میں نہی چاہتی احتسام مجھ سے بدگمان ہو۔
آپ چلے جائیں میری زندگی سے،،
“میں جانتا ہوں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے رامین’
مگر میں معافی بھی تو مانگ رہا ہوں۔
مجھے معاف کر دو!
رامین رُخ موڑے کھڑی رہی’
میں نے معاف کیا آپ کو۔۔۔!!
اب آپ پلیز جائیں یہاں سے!
رامین اس کی طرف دیکھے بنا ہی بولی’
کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر رامین پلٹی۔
احتسام۔۔۔!
اس نے ایک نظر دروازے کے پاس کھڑے احتسام پر ڈالی اور دوسری نظر اپنے پاس کھڑے پرنس پر۔
رامین کے پیروں تلے جیسے زمین ہی نہی رہی’اس کا سر چکرانے لگا۔
ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنے لگے’
_______________
رامین بے بسی سے پرنس کی طرف دیکھنے لگی’مگر اس پر کوئی اثر نہی پڑا۔
وہ اپنی جگہ پر ہی کھڑا رہا۔
کمرے کی لائٹ جلی’
رامین نے ظبط سے آنکھیں بند کر لیں۔
اس سے آگے وہ نہی دیکھ سکتی تھی’
احتسام کا سامنا نہی کر سکتی تھی۔
چند پل یونہی آنکھیں بند کیے کھڑی رہی’مگر پھر کمرے کی خاموشی محسوس کی۔
تو آخر کار رامین نے آنکھیں کھول ہی دیں۔
سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر اس کا سر چکرانے لگا۔
وہ اسد تھا”
“اسد پرنس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا’
اسد تم یہاں؟
رامین حیرت سے دونوں کو دیکھنے لگی’
میرا مطلب آپ دونوں یہاں کیسے آئے ہیں۔
میرا سر چکرا رہا ہے’میں پاگل ہو جاوں گی۔
رامین اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے ناں؟
اسد پرنس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا’
رامین نے حیران کن نظروں سے اسد کی طرف دیکھا۔
میں تو شادی کی مبارک باد دینے آیا تھا تم۔۔۔
پرنس نے اسد کے پاوں پر اپنا پاوں رکھا۔
اسد کی نظر پرنس کے نقاب پر پڑی۔
افففف۔۔۔یہ لڑکا نہی سدھرنے والا’
تو ابھی تک چہرہ نہی دکھایا تم نے رامین کو’اسد ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولا۔
دکھا دوں گا میں تم کھسکو یہاں سے’
بہت بڑے کمینے ہو تم’اسد مسکراتے ہوئے پرنس کے کان میں بولا۔
ہاں جانتا ہوں میں’جس کا دوست اتنا بڑا کمینہ ہو وہ خود بھی تو کمینہ ہی ہو گا’
چلو کھسکو اب یہاں سے’اسد کو بازو سے کھینچتے ہوئے دروازے تک لے آیا۔
ہاں اپنا کام ختم ہوا تو اب کھسکو یہاں سے’ویسے انٹری کیسی تھی میری؟
اسد کالر جھاڑتے ہوئے بولا۔
اچھی تھی بلکہ زبردست تھی’تمہارا کام بس اتنا ہی تھا۔
جاو اب یہاں سے’
پرنس نے اسد کو کمرے سے باہر سے باہر دھکا دیا۔
واہ کیا خوب دوستی نبھائی ہے’اسد مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔
پھر واپس پلٹا’بیسٹ آف لک!
پرنس نے دروازہ بند کر دیا۔
رامین بس چپ چاپ ان دونوں کی حرکتیں دیکھ رہی تھی۔
ان کی کسی بات کی سمجھ نہی آ رہی تھی رامین کو وہ ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہہ رہے تھے۔
“کیا ہو رہا ہے یہ سب؟
مجھے کچھ بتائیں گے آپ یا نہی؟
اسد کو بھی ساتھ لے کر آئے ہیں آپ’اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟
آپ کو ڈر نہی لگتا؟
نہی۔۔۔وہ پھر سے رامین کی طرف بڑھا’
نہی لگتا مجھے ڈر!
“محبت میں طاقت ہی ایسی ہوتی ہے”
“محبت سارے ڈر نکال دیتی ہے دلوں سے’خیال رہتا ہے تو بس محبوب کا۔
“جیسے مجھے تمہارا۔
پرنس کی بات پر رامین نے غصیلی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
ان سب باتوں کا اب کوئی مطلب نہی’آپ جا سکتے ہیں یہاں سے۔
میری شادی ہو چکی ہے’
چلے جائیں میری زندگی سے،،
یہی بات میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو’پرنس نے رامین کا رخ اپنی طرف موڑا۔
چھوڑیں مجھے!
ہاتھ مت لگائیں مجھے’
رامین نے اپنے بازو سے پرنس کا ہاتھ ہٹایا اور تھوڑے فاصلے پر جا رکی۔
پرنس نے حیرت سے رامین کی طرف دیکھا۔
آپ کو کوئی حق نہی ہے مجھے ہاتھ لگانے کا’
کوئی حق نہی آپ کو میرے پاس آنے کا’
کوئِی حق نہی آپ کو میرے کمرے میں آنے کا’
کوئی حق نہی آپ کو!
رامین روتے ہوئے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے فرش پر بیٹھ گئی۔
کمرے میں لائٹ بند ہو گئی’باہر تیز ہوا چل رہی تھی۔
کھڑکی سے چھن چھن چمکتی چاند کی روشنی کمرے میں داخل ہونے لگی۔
کوئی حق نہی آپ کو بار بار میری زندگی میں دخل اندازی کرنے کا۔
رامین کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔
پرنس چلتا ہوا رامین تک آیا’گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“مجھے پورا حق ہے تمہاری زندگی میں دخل کرنے کا’
مجھے پورا حق ہے اس کمرے میں آنے کا اور مجھے پورا حق ہے تمہیں چھونے کا”
پرنس کی بات پر رامین نے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔
“مذاق لگ رہا ہے آپ کو یہ سب کچھ’آخر چاہتے کیا ہیں آپ مجھ سے؟
رامین چلائی۔۔۔!!
“ابھی تک نہی سمجھی تم!
کیا چاہتا ہوں میں’اب تک تو سمجھ جانا چاہیے تھا’
اُفففففف۔۔۔۔پرنس کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے’
اس نے رامین کو بازو تھامتے ہوئے اسے اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔
رامین اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی مگر ناکام رہی۔
پرنس نے رامین کا بازو چھوڑ دیا اور ہاتھ اپنے نقاب کی طرف بڑھایا۔
رامین اپنا بازو سہلاتے ہوئے پرنس کی طرف دیکھنے لگی’
“”پرنس کے چہرے سے نقاب ہٹا””
رامین گرتے گرتے بچی!
اس نے خود کو سنبھالنے کے لیے دیوار کا سہارا لیا۔
اگر رامین کا دیوار کا سہارا نا لیتی تو شاید گر جاتی۔
وہ مسکراتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔
رامین کو بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے قریب کیا’اور اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے۔
رامین گُم سُم سی بس اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
چاند کی روشنی میں یہ چمکتا،مسکراتا چہرہ’رامین کے دل کی دھڑکن بڑھ چکی تھی۔
احتسام۔۔۔۔!!
آپ پرنس؟
رامین بہ مشکل بس اتنا ہی بول سکی۔
“جی میں ہی ہوں تمہارا پرنس”
“تمہارا شریف چور”
احتسام نے سر سے کیپ اتارتے ہوئے رامین کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکرایا۔
رامین کو لگا شاید وہ خواب دیکھ رہی ہے’اس نے ہاتھ بڑھا کر احتسام کے چہرے کو چھوا۔
یہ سچ میں احتسام ہیں’رامین حیرت کُن نظروں سے احتسام کو دیکھی جا رہی تھی۔
رامین کا سر چکرایا اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
وہ احتسام کے بازووں میں ہی گر گئی’
رامین۔۔۔!
احتسام پریشانی سے رامین کے گال تھپتپانے لگا۔
رامین آنکھیں کھولو!
احتسام کے چہرے پر پسینے آنے لگے’رامین کا چہرہ ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔
احتسام نے جلدی سے رامین کو بیڈ پر لے آیا۔اس کے ہاتھ پیر رگڑنے لگا۔
مگر رامین کو ہوش نہی آیا۔
کمرے میں پانی نہی تھا۔
احتسام جلدی سے باہر کی طرف دوڑا۔
پانی کا گلاس لے کر تیزی سے کمرے کی طرف بڑھا۔
پانی کے چھینٹے پڑے تو رامین نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھول دیں۔
احتسام کی جان میں جان آئی!
رامین!
مجھے ڈرا دیا تم نے’احتسام کا سانس پھول چکا تھا۔
رامین اٹھ کر بیٹھ گئی۔
رامین۔۔احتسام نے رامین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
رامین نے احتسام کا ہاتھ جھٹک دیا اور بیڈ سے نیچے اتر کر دروازے کی طرف بڑھی۔
احتسام تیزی سے اس کے سامنے آ رکا۔
کہاں جا رہی ہو رامین؟
مجھے جانا ہے یہاں سے’آپ راستے سے ہٹ جائیں احتسام۔۔۔؛
پرنس۔۔۔سمجھ میں نہی آ رہا آپ کو احتسام بولو یا پرنس۔
احتسام دروازے سے ٹیک لگائے دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے رامین کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“اس کمرے میں رامین کا پرنس ہوں میں’اس کمرے سے باہر صلہ کا احتسام ہوں”
ابھی ہم کمرے میں ہیں تو اس لحاظ سے تم مجھے پرنس ہی بولو گی۔
“مجھے کچھ بھی نہی بولنا آپ کو آپ ہٹیں میرے راستے سے’مجھے جانا ہے۔
مجھے نہی رہنا دو چہروں والے انسان کے ساتھ”
“چہرے بھلے ہی دو ہیں’مگر دل تو ایک ہی ہے۔
اور اس دل میں بسنے والی تم ہی ہو۔
“میری پہلی اور آخری محبت’رامین صدیق احمد”
“یہ کیسی محبت ہے آپ کی احتسام؟
پرنس۔۔۔احتسام نے اس ٹوکا’
ہاں ہاں ٹھیک ہے مسٹر پرنس!
رامین ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولی۔
آپ مجھے اس دن ہی پہچان گئے تھے جب میں آپ کو پارک میں ملی تھی’
لیکن میں آپ کو نہی پہچان سکی’کیوں؟
اور ایک بات’آج آپ کی آنکھیں پہلے والی نہی ہیں۔
یہ پرنس والی آنکھیں ہیں’احتسام کی آنکھیں الگ تھیں۔
اب یہ تو تمہیں پتہ ہو رامین شاید تمہاری محبت سچی نہی تھی’احتسام مسکراتے ہوئے بولا’
رامین نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا’
احتسام مسکرا دیا’
مزاق کر رہا تھا۔
“جانتا ہوں ہماری محبت سچی تھی”
“محبت اگر سچی نا ہوتی تو آج ہم اس مقام پر نا ہوتے۔
اور رہی بات آنکھوں کی تو آو میں کچھ دکھاتا ہوں تمہیں۔
رامین کا بازو تھامتے ہوئے اسے ڈریسنگ تک لے گیا۔
دراز میں سے لینز باکس نکال کر رامین کے سامنے رکھ دیے۔
جس دن پارک میں ہماری ملاقات ہوئی میں تیزی سے وہاں سے چل پڑا۔
اس لیے کہ تم میری آنکھوں سے پہچان نا لو محھے’
تین سال بعد تمہیں سامنے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔
اور تمہارا حلیہ!
مجھے افسوس ہوا’تمہیں ٹریکنگ سوٹ میں دیکھ کر۔
کہاں وہ خود کو چادر میں چھپا کر رکھنے والی رامین صدیق احمد”
اور کہاں یہ ٹریکنگ سوٹ میں ملبوس مسز اظہر!
اظہر کے لیے میرے دل میں چھپی نفرت پھر سے جاگی۔
کیا سے کیا بنا دیا اس نے تمہیں’
میرے دل میں تمہارا وہ معصوم سا چہرہ ابھرا’جب تم زمین پر بیٹھی تھی۔
اور وہ دونوں لڑکوں نے تمہارے سر سے چادر اتاری تھی۔
جب میں نے تمہیں چادر اوڑھائی تو تم نے ایک بار بھی مڑ کر پیچھے نہی دیکھا۔
یہ بھی نہی دیکھا کہ چادر اوڑھانے والا کون ہے۔
تمہارا معصوم سا چہرہ میری آنکھوں میں بس چکا تھا۔
دل میں چھپی محبت پھر سے جاگی آئی’جس وجود سے میں دور بھاگتا آ رہا تھا۔
آج وہ وجود میرے سامنے تھا’
اپنی آنکھوں کی حیرت میں تم پر واضح نہی کرنا چاہتا تھا’دل ڈر چکا تھا۔
اگر تم مجھے پہچان لیتی تو پتہ نہی کیا ہو گا۔
تم کچھ دیر پارک کے باہر رکی’اور پھر اپنے گھر کی طرف بڑھ گئی۔
میں وہاں نہی رکا’جلدی سے وہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔
مگر میرا وجود میرا ساتھ نہی دے رہا تھا’دل چاہ رہا تھا کہ ابھی تمہیں سب کچھ بتا دوں۔
“بتا دوں تمہیں کہ میں پرنس ہوں رامین”
مگر نہی کر سکا میں یہ’یہ سوچ کر کہ تم اپنی زندگی میں خوش ہو اظہر کے ساتھ۔
مگر اظہر نے جو کچھ میرے ساتھ کیا اس کے بعد مجھے خود کو اور اپنی فیملی کی حفاظت بھی کرنی تھی۔
میں نے تمہارے گھر سے کچھ فاصلے والے گھر سے ایک آنٹی سے اظہر کے بارے میں معلومات اکھٹی کیں۔
میں نے اس انداز میں ان سے پوچھا کہ ان کو شک ہی نہی ہوا مجھ پر۔
پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ گھر صلہ کا ہے’جو اپنی چھوٹی بہن اور پیرنٹس کے ساتھ یہاں رہتی ہے۔
مجھے حیرانگی ہوئی’رامین نے اپنا نام صلہ کیوں رکھ لیا۔
پھر میں سمجھا شاید یہ گھر اظہر نے خرید کر دیا ہو تمہارے اماں ابا کے لیے۔
اور ہو سکتا ہے تم چند دن ان سے ملنے آئی ہو۔
پھر چھوٹی بہن؟
تمہاری تو کوئی بہن نہی تھی’میں الجھنوں میں الجھ چکا تھا۔
اسی لیے اگلے ہی دن میں نے یہ لینز خریدے اور اس دن سے آنکھوں میں لینز لگائے بغیر باہر نہی نکلا کبھی۔
ایک رات تم نے میری گاڑی کا پیچھا کیا’میں نے جان بوجھ کر گاڑی گھر سے آگے بڑھا دی۔
تا کہ تمہیں یہ لگے کہ یہ گھر میرا نہی ہے’لیکن تم میرا پیچھا کرتی رہی۔
اور پھر مجبوراً گاڑی روکنی پڑی۔
تمہیں سمجھایا’مگر تم پر کسی بات کا کوئی اثر نہی پڑا۔
پھر تم گھر تک پہنچ گئی’مجھے شدید غصہ آیا’تم شادی شدہ ہوتے ہوئے میرا پیچھا کر رہی تھی۔
اگر اظہر کو پتہ چل جاتا اس بارے میں تو پتہ نہی کیا سلوک کرتا وہ تمہارے ساتھ’
مجھے بس یہی فکر کھائی جا رہی تھی۔
یہ بات مجھے بلکل اچھی نہی لگی’
اس کے بعد جو تم کیا وہ تو حد سے بڑھ کر تھا’
تم نے میری اور امی کی ساری باتیں سن لی تھیں۔اور پھر تم نے مجھے ہانیہ کی شادی کے لیے پیسے دینے کی آفر کی’اور بدلے میں نکاح کی شرط رکھی۔
اس دن میرا دماغ آوٹ آف کنٹرول ہو گیا’میں نے غصے سے تمہیں کمرے سے باہر نکال دیا۔
ایسا کیسے کہہ سکتی تھی تم شادی شدہ ہو کر نکاح کی بات کر رہی تھی۔
اس کے بعد تم نے کبھی ملنے کی کوشش نہی کی’البتہ پھر بات فون تک آ گئی۔
تم روز کال کرتی۔۔صرف میری آواز سننے کے لیے’
ایک دن آخر کار مجھے سمجھ آ ہی گئی رانیہ کے کہنے پر کہ یہ کال تمہاری ہے۔
اور یہ بات سچ ثابت ہوئی’تم نے کہا کہ تمہیں کوئی طاقت کھینچ لاتی ہے میری طرف۔
تم چاہ کر بھی مجھ سے دور نہی جا پا رہی تھی۔
میرے دل میں نا جانے کیوں تمہارے لیے نرمی پیدا ہونے لگی۔
میں کیسا بتاتا تمہیں کہ یہ میری محبت کی طاقت ہے جو تمہیں میری جانب کھینچ لاتی ہے۔
مگر میں نہی کہہ سکا’کیسے کہتا تم سے۔
مجھے لگا شاید تم پہچان چکی ہو مجھے اور یہ سب اس لیے کر رہی ہو تا کہ میں خود سچائی بتا دوں تمہیں۔
فون بند کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ کل تم سے ملاقات کروں گا’اور تمہیں سارا سچ بتا دوں گا کہ میں ہی پرنس ہوں۔
مگر اگلے دن جو ہوا میں کبھی سوچ بھی نہی سکتا تھا۔
باس نے مجھ سے کہا کہ ایک پارٹی پر جانا ہے۔
انہوں نے مجھے پانچ لاکھ قرض جو دے دیا تھا’میں ان کے احسانات تلے دبا ان کو انکار نہ کر سکا۔
مگر مجھے حیرت ہوئی پارٹی کے نام پر وہ مجھے کوٹھے پر لے گئے۔
میں اس ماحول سے لا تعلق چپ چاپ ایک کونے میں فون میں مصروف بیٹھا رہا۔
مگر پھر باس کی نخوست بھری آواز میرے کانوں میں پڑی’
میں نے فون سے نظریں ہٹا کر سامنے دیکھا!
سامنے کا منظر دیکھ کر میری روح تک کانپ گئی۔
رامین صدیق احمد پاوں میں گھنگھرو باندھے ناچ رہی تھی۔
