Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 27)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 27)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
ان کو پچھتاوا ہونے لگا اپنی غلطی پر’
دولت کی چمک دیکھ کر’اور دولت مند جوائی کی خواہش میں اپنی بیٹی کی زندگی برباد کر دی انہوں نے’
یہ بات ان دونوں کو اندر ہی اندر کھانے لگی۔
مجبوراً ایک بار پھر مجھے گھر سے باہر قدم نکالنا پڑا۔
نوکری کی تلاش میں ماری ماری پھرتی رہی’مگر میٹرک پاس کو کوئی نوکری دینے کو تیار نہی تھا۔
ثوبیہ کے گھر جانے کا سوچا میں نے ایک بار مگر ہمت ہی نہی کر پائی۔
پھر ایک دن امی نے مجھے بتایا کہ وہ لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں۔
ثوبیہ آئی تھی جانے سے پہلے’بہت اداس لگ رہی تھی۔
تھک ہار کر میں نے پھر سے کپڑے سلائی کرنے شروع کر دئیے۔
اماں کی طبیعت بگڑتی چلی گئی۔
آخر کار میں نے قرضہ لینے کا سوچا’اماں کے ٹیسٹ بہت ضروری ہو چکے تھے۔
آخر کار مجھے ایک عورت مل ہی گئی’جو آسان اقساط پر ضرورت مندوں کو قرضہ فراہم کرتی تھی۔
بہ مشکل اس نے مجھے بیس ہزار قرضہ دے ہی دیا’بہت منتوں اور سفارشوں کے ساتھ۔
پہلی فرصت میں ہی اماں کو لے کر ہاسپٹل پہنچی’ٹیسٹ کروائے۔
چند دن بعد ٹیسٹ کی جو رپورٹس آئیں وہ ابا اور میرے لیے کسی قیامت سے کم نہی تھیں۔
اماں کو برین ٹیومر ہو چکا تھا’
یہ بات ہم نے ان کو نہی بتائی’ڈاکٹر نے منع کر دیا تھا بتانےسے۔
ابھی بھی ان کا علاج ہو سکتا تھا’ڈاکٹرز نے ہمیں تسلی دی۔
مگر علاج کے لیے اتنی بڑی رقم کہاں سے آتی۔
آخر کار میں پھر سے اس قرضہ دینے والی عورت کے پاس پہنچی۔
اس نے اتنی بڑی رقم دینے سے انکار دیا’
میں مسلسل اس کے پاس جاتی’کہ شاید اس کا دل پھگل جائے۔
آخر ایک دن اس نے میری بات سن ہی لی’جب سب عورتیں چلی گئیں تو اس نے مجھے اندر بلایا۔
دیکھو لڑکی’تم جو مجھے کہہ رہی ہو’وہ تو نا ممکن ہے میرے لیے۔
البتہ ایک دوسرا راستہ ہے میرے پاس!
آپ بتائیں مجھے کیا کرنا ہو گا’مجھے اماں کے علاج کے لیے پیسے چاہیے بس۔
وہ دوسرا راستہ تھوڑا مشکل ہے’مگر اگر تم ہمت کرو تو کر سکتی ہو۔
میری ایک دوست ہے’کوٹھا چلاتی ہے وہ’تم خوبصورت ہو نازک سی۔
تم اس کے پاس کیوں نہی چلی جاتی’نوٹوں کی بارش کر دے گی تم پر’
آپ نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے’میں ایک شریف لڑکی ہوں۔
غریب ہوں مگر بے غیرت نہی!
میں وہاں سے اٹھ کر چل پڑی۔
پیچھے سے اس عورت کا قہقہ گونجا۔
بس نکل گئی ہوا’یہ زندگی اتنی آسان نہی جتنی تم سمجھ رہی ہو۔
باتوں سے ہی اپنی ماں کا علاج کروالینا’
آئی بڑی کچھ بھی کر لوں گی’
اس کے الفاظ زہر جیسے تھے۔
میں گھر آ کر پوری رات سو نا سکی’اس دن مجھے ایک شخص کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔
“پرنس’کہاں چلے گئے تم’ساری رات میں نے کھڑکی کے پاس بیٹھ کر گزار دی۔
بہت سوچنے کے بعد آخر کار میں ایک فیصلے پر پہنچی’
میں پھر سے اس عورت کے پاس جا پہنچی’
مجھے دیکھ کر وہ مسکرا دی’میں جانتی تھی تم ضرور آو گی۔
“یہ حقیقت کی دنیا ہے کسی فلم کا سین نہی’کہ اچانک سے کوئی جادو ہو گا۔
اور ساری پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔
یہ اصل دنیا ہے’خالی پیٹ تو نیند بھی نہی آتی۔
کہوں کا حکم ہے میرے لیے’وہ رجسٹر کھولتے ہوئے بولی۔
مجھے آپ کی بات منظور ہے’مگر میری بھی ایک شرط ہے۔
میں کوٹھے پر ناچ لوں گی’مگر جسم کا سوادا نہی کروں گی میں۔
میری بات سُن کر وہ مسکرا دی’چل ٹھیک ہے بات کرتی ہوں روبینہ سے’
اس طرح میں کوٹھے پر پہنچ گئی’اماں کے علاج کے لیے ایڈوانس پیسے لے لیے میں نے روبینہ بائی سے۔
اسی دوران میری ملاقات روشنی سے ہوئی’اس کو کہی سے کڈنیپ کر کے لایا گیا تھا۔
میں کسی طرح اسے وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔
اسے گھر لے آئی’اماں سے میں نے یہ کہہ دیا کہ مجھے راستے میں مل گئی تھی۔
کھو گئی ہے شاید’پولیس میں رپورٹ درج کروا دی ہے میں نے۔
جیسے ہی اس کے گھر والوں کا پتہ چل جائے پولیس ہمیں بتا دے گی۔
اماں،ابا نے میری بات پر یقین کر لیا۔
میں نے روشنی سے بہت بار پوچھنے کی کوشش کی کہ اس کا گھر کہاں ہے۔
کس شہر میں رہتی تھی وہ؟
مگر وہ کچھ بولتی ہی نہی تھی’بہت چپ چپ رہتی تھی۔
آخر کار ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے گھر واپس نہی جانا چاہتی۔
مجھے بہت حیرانگی ہوئی اس کی بات سُن کر۔
وہ رونے لگی’اس نے مجھے بتایا کہ اس کے ماما،بابا اس دنیا میں نہی ہیں اب’
اس کی چچی نے کیا ہے یہ سب کچھ’میں نے اسے دلاسا دیا۔
اس سے کہا کہ ہمیشہ کے لیے یہاں رہ سکتی ہے’
اور تب سے ہی وہ میرے ساتھ رہنے لگی۔
ایک سال گزر چکا تھا’مگر میرے دل کی دنیا ویسی ہی تھی۔
اظہر کی بے حسی،اور پرنس کی یادیں مجھے جینے نہی دیتی تھیں۔
کتنے ہی پل’کتنی ہی راتیں پرنس کی یاد میں گزار دیں میں نے’
کاش میں ایک بار اس سے مل سکتی’اس کو بتا سکتی کہ میں بے وفا نہی تھی۔
دل کو کسی صورت چین نہی ملتا تھا’پھر ایک دن میں نے وہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس گھر کو چھوڑ کر یہاں شفٹ ہو گئی۔
دو سال سے یہاں رہ رہی تھی’پھر میری آپ سے ملاقات ہوئی۔
زندگی کو پھر سے اُمید کی ایک نئی کرن ملی’آپ نے مجھے اس دلدل سے باہر نکال دیا۔
یہ میری زندگی کی کچھ پرانی یادیں تھیں’اس سے پہلے کے ہم اپنی نئی زندگی شروع کرتے۔
میں آپ کو سب کچھ بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی تھی۔
“کیا تم اب بھی پرنس سے محبت کرتی ہو رامین؟
احتسام اب جا کر بولا’
رامین کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی’احتسام کی سوالیہ نظریں رامین کے چہرے پر ہی جمی تھیں۔
“میں کوشش کروں گی اسے بھولنے کی’رامین بہ مشکل بس اتنا ہی بول پائی۔
احتسام وہاں سے اٹھ کر تیزی سے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
رامین وہی بیٹھی آنسو بہانے لگی۔
میں کیسے بھول جاوں اس کو’میری روح میں بس چکا ہے وہ۔
اور جسم سے روح مر کر ہی جدا ہو سکتی ہے’
___________
کیا بنے گا اس لڑکی کا![]()
کوئی سمجھائے رامین کو کہ پرنس اب اس دنیا میں نہی ہے’
اگر پرنس کو نہی بھول سکتی تھی’تو پھر احتسام کے ساتھ شادی کیوں کر رہی ہے![]()
بیچارے پرنس کا دل کیوں توڑا![]()
__________
رامین وہی بیٹھی آنسو بہاتی رہی’احتسام واپس نہی آیا۔
آخر کار رامین اٹھ کر نیچے کی طرف بڑھ گئی’احتسام کے کمرے پر ایک نظر ڈالی’کمرے کا دروازہ بند تھا۔
وہ تیزی سے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے میں جا کر لیٹ گئی’آنسو بہاتے بہاتے سو گئی۔
احتسام کی حالت بھی رامین سے کم نہی تھی۔
وہ کمرے میں جا کر سکتے کی حالت میں بیڈ پر لیٹ گیا۔
نیند کہاں آنے والی تھی اب اسے’سر میں شدید درد اٹھ رہا تھا۔
تیزی سے اٹھا اور دراز سے نیند کی گولی نکال کر کھا لی۔
آج بہت دن بعد پھر سے نیند کی گولی کھا لی اس نے’درد برداشت نہی ہو رہا تھا اس سے۔
وہ درد جو صلہ نے دیا اسے۔۔۔وہ ابھی بھی پرنس سے محبت کرتی تھی۔
یہ بات اس سے برداشت نہی ہو پا رہی تھی۔
آخر کار کچھ دیر بعد اسے نیند آ ہی گئی۔
اگلے دن رامین پورا دن اپنے کمرے سے باہر ہی نہی نکلی۔
احتسام کی نظروں کا سامنا کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا اس کو۔
سمجھ نہی آ رہی تھی کیا کرے’احتسام صبح سے کمرے میں بھی نہی آیا۔
آخر کار رانیہ اسے لے کر پارلر چلی گئی’باہر بھی اسے احتسام نظر نہی آیا۔
رامین کو لگا شاید میں نے بہت بڑی غلطی کر دی احتسام کو سب کچھ بتا کر۔
نہی۔۔۔میں نے کوئی غلطی نہی کی’اس نے سر نفی میں ہلا دیا۔
جھوٹ کی بنیاد پر میں نیا رشتہ قائم نہی کر سکتی تھی۔
رامین مہرون رنگ کے لہنگے میں دلہن بنی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
بارات ہال میں پہنچی تو رامین بھی رانیہ اور روشنی کے ساتھ زوہیب کی گاڑی میں ہال پہنچی۔
احتسام بھی مہرون شیروانی پہنے پورے سٹیج کی چمک بنا ہوا تھا۔
رانیہ اور روشنی کے ساتھ رامین چلتی ہوئی آئی۔
احتسام نے رامین کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا’
رامین نے احتسام کا ہاتھ تھام لیا اور سٹیج کی سیڑھیاں چرتی ہوئی سٹیج پر احتسام کے ساتھ جا رکی۔
جیسے ہی رامین سٹیج پر آئی’احتسام نے رامین کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
لہجے میں واضح اجنبیت تھی’
رامین کی آنکھوں سے آنسو بہنے کو تھے۔
بہ مشکل اس نے اپنی آنکھوں میں آتے آنسو روک لیے۔
احتسام نے ایک بار بھی رامین کی طرف نظر اٹھا کر نہی دیکھا۔
رامین کو اپنا آپ بہت بے معنی لگنے لگا۔
اسے لگا احتسام بس گھر والوں کی خاطر مسکرا رہا ہے۔
وہ دل سے راضی نہی ہے اس شادی کے لیے۔
تو کیا ایک بار پھر سے میں خالی ہاتھ رہ گئی’احتسام مجھ سے بدگمان ہو چکے ہیں۔
اب میرا احتسام کے سوا اور کوئی بھی نہی اس دنیا میں۔
“یا اللہ احتسام کے دل میں میرے لیے پہلے جیسی محبت پیدا کر دے’
میں احتسام کو کھونا نہی چاہتی،،
رامین آنکھوں میں آنسو لیے دل سے دعا کر رہی تھی۔
بھابی کیا ہوا آپ کو؟
رانیہ ابھی سٹیج پر آئی ہی تھی’رامین کے چہرے پر اداسی اور آنکھوں میں ڈگماتے آنسو دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔
کچھ نہی!
رامین گھبراتے ہوئے بولی’
شاید آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے’رامین جلدی سے ٹشو سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔
احتسام دونوں کی طرف متوجہ ہوا’رامین کو آنسو صاف کرتے دیکھ لیا اس نے۔
مگر جلدی ہی رُخ موڑ گیا’
رامین نے احتسام کی اجنبیت بہت اچھی طرح محسوس کی۔
اچھا بھابی آپ کھڑی کیوں ہیں’تھک جائیں گی۔
بیٹھ جائیں پلیز!
رانیہ نے زبردستی رامین کو بٹھا دیا۔
بھائی آپ بھی بیٹھ جائیں’رانیہ نے احتسام کو وہی کھڑے دیکھا تو بول پڑی۔
احتسام مسکراتے ہوئے بیٹھ گیا۔
رامین بت بنی بیٹھی رہی’جب کوئی آتا تو پھیکا سا مسکرا دیتی۔
احتسام کی بھی یہی حالت تھی’وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔
رخصتی کا وقت ہوا’رامین کے اماں،ابا تو اس کے ساتھ تھے نہی۔
کیسی رخصتی تھی یہ’رامین کی آنکھیں جھلک پڑیں۔
احتسام کے تایا ابو اور تائی اماں نے آگے بڑھ کر رامین کے سر پر ہاتھ رکھا۔
ان کی اپنی تو کوئی بیٹی نہی تھی’انہوں نے رامین کو اپنی بیٹی سمجھ کر احتسام کے ساتھ رخصت کر دیا۔
بارات رخصت ہوئی تو سب مہمان اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔
رامین دلہن بنی احتسام کے کمرے میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔
یہ سب کیا ہو رہا تھا’کچھ سمجھ نہی پا رہی تھی۔
ایک طرف احتسام تھا’جو اس سے پوری طرح لا تعلق ہو چکا تھا۔
اور دوسری طرف اسے اپنے ماں،باپ کے بچھڑ جانے کا دکھ ستا رہا تھا۔
آخر کار کمرے کا دروازہ کھلا’
احتسام کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے اندر داخل ہوا۔
احتسام الماری کے پاس جا رُکا’الماری کھول کر کپڑے نکالنے لگا۔
وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے رامین کمرے میں ہو ہی ناں۔
رامین سے اب برداشت نہی ہو رہی تھی احتسام کی خاموشی۔
رامین بیڈ سے اٹھ کر احتسام کے پاس چلی گئی۔
احتسام نے جیسے ہی الماری کا دروازہ کھولا’سامنے اسے رامین آنسو بہاتی نظر آئی۔
احتسام نے ہاتھ رامین کی طرف بڑھایا’
رامین کو لگا جیسے احتسام اس کے آنسو صاف کرنے لگا ہے۔
مگر نہی’احتسام نے اسے بازو سے پکڑ کر راستے سے ہٹایا۔
احتسام۔۔۔رامین نے پکارا’
احتسام رکا مگر پلٹا نہی۔
رامین نے آگے بڑھ کر احتسام کا بازو تھام لیا’اور اس کے کندھے پر سر رکھ کر آنسو بہانے لگی۔
احتسام نے نرمی سے اپنے کندھے سے رامین کا سر ہٹایا اور رامین کی طرف پلٹا۔
کیا ہوا؟؟
احتسام نرمی سے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ سجائے بولا۔
رامین حیرت سے احتسام کو دیکھنے لگی’
آپ ناراض ہیں مجھ سے؟
رامین آنسو بہاتے ہوئے بولی۔
احتسام نے ہاتھ بڑھا کر رامین کے چہرے سے آنسو صاف کیے۔
“صلہ میں تم ناراض ہو سکتا ہوں بھلا’
میری زندگی ہو تم صلہ’تم سے ناراض ہونے کا میں سوچ بھی نہی سکتا،،
تو پھر آپ صبح سے مجھ سے بات کیوں نہی کر رہے’اجنبیوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔
رامین آنسو بہاتے ہوئے بولی’
احتسام نے مسکراتے ہوئے رامین کو اپنے قریب کیا’
“میاں بیوی اجنبی نہی ہوتے صلہ’
“میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں’
ایک دوسرے کے بغیر زندگی مکمل نہی ہوتی میاں بیوی کی۔
میری کمی محسوس ہوئی تمہیں میں یہی دیکھنا چاہتا تھا۔
میرا ایک دن بات نا کرنا برداشت نہی ہو سکا میری مسز سے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کہی نا کہی تمہارے دل میں میرے لیے جگہ ہے۔
ایک چھوٹا سا امتحان لیا تمہارا اور تم اس میں کامیاب ہوئی۔
“پرنس تم سے محبت کرتا تھا’اور تم اس کی محبت سے محبت کرتی تھی’
وہ ایک ماضی تھا’گزر گیا۔
جو وقت گزر جائے اسے بھولنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔
پرانی یادیں،گزرے لمحے تکلیف کے سوا کچھ نہی دیتے۔
ماضی کے جھروکوں میں ہم اپنا مستقبل بھی گنوا دیتے ہیں۔
پرنس نے پیچھے مڑ کر نہی دیکھا’کیونکہ وہ تمہیں خوش دیکھنا چاہتا تھا۔
تو کیا تم خوش رہی’نہی تم نے اپنی زندگی کو بس اس تک محدود کر لیا۔
اپنے دل و دماغ میں بس پرنس کو بسا لیا۔
اس جنگ میں رشتوں کو ہار گئی’
مگر اب یہ دل اور دماغ کی جنگ مزید نہی لڑنے دوں گا میں تمہیں۔
شاید پرنس جیسی محبت نہ کر سکوں میں لیکن کوشش کروں گا کہ کبھی تمہاری آنکھوں سے آنسو نہ بہنے دوں،،
ایک عام سا شخص ہوں میں’ محبت سے نا واقف ہوں میں۔
مگر اب میں محبت کرنا چاہتا ہوں’اپنی بیوی سے۔
اپنی شریکِ حیات رامین صدیق احمد سے’رامین احتسام سے’صلہ سے۔
مجھے محبت کرنی ہے رامین احتسام سے’تو کیا میری مسز میرا ساتھ دے گی اس سفر میں؟
احتسام نے رامین کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا’
رامین نے مسکراتے ہوئے احتسام کا ہاتھ تھام لیا۔
میں بھی وعدہ کرتی ہوں آپ سے’کہ دل سے یہ سفر نبھاوں گی۔
اگر کبھی میرے قدم لڑکھڑائے’تو آپ ہیں نا میرے ساتھ’
میں بھی اس دل اور دماغ کی جنگ کو ختم کرنا چاہتی ہوں اب’
تھک چکی ہوں میں اب ایک پرچھائی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے۔
اب ایک مقام پر ٹہر جانا چاہتی ہوں میں’
ایک منزل پر ٹہر جانا چاہتی ہوں میں’
اپنی منزل آپ کو بنانا چاہتی ہوں میں’آپ کے دل میں ٹہر جانا چاہتی ہوں میں۔
رئیلی۔۔۔احتسام نے رامین کی ناک دبائی’جو رو رو کر سرخ ہو چکی تھی۔
احتسام۔۔۔رامین چلائی۔
نا کیا کریں ایسا رامین ناراضگی سے بیڈ پر جا بیٹھی۔
