Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 20)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 20)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
ان کے لہجے کی اپنائیت اور پیار دیکھ کر صلہ کی آنکھوں سے مزید آنسو جاری ہو گئے۔
احتسام کمرے سے باہر نکل گیا’اس سے برداشت نہی ہو رہا تھا صلہ کا رونا۔
احتسام کی امی نے زبردستی صلہ کو کھانا کھلا دیا۔
رانیہ نے پین کلر کھلائی صلہ کو اور ساتھ ہی ایک نیند کی گولی بھی۔
احتسام نے ہی کہا تھا اسے ایسا کرنے کو’کچھ دیر بعد ہی صلہ روتے روتے سو گئی۔
احتسام جانتا تھا صلہ ساری رات روتی رہے گی’اسی لیے اس نے ایسا کیا۔
صلہ کے سونے کے بعد احتسام رانیہ،امی اور ہانیہ کو گھر چھوڑنے چلا گیا۔
ان کو گھر چھوڑ کر صلہ کی گاڑی گیراج میں پارک کی۔
روشنی کو اپنا نمبر لکھ کر دیا’کہ اگر کوئی بھی مسئلہ ہو تو فوراً مجھے فون کر دینا۔
احتسام ایک نظر سوتی ہوئی صلہ پر ڈالتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
ہاسپٹل سے اپنی بائیک واپس لے کر گھر پہنچا۔
رانیہ احتسام کے لیے کھانا گرم کر کے کمرے میں لے آئی۔
بھائی کھانا کھا لیں’آپ نے صبح سے کچھ بھی نہی کھایا۔
کھانا ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی۔
نہی رانیہ واپس لے جاو مجھے بھوک نہی ہے’احتسام لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے مصروف سا بولا۔
صبح آفس انفارم نہی کر سکا’نا ہی کسی کی کال آئی ہے صبح سے۔
شاید کوئی میل آئی ہو’احتسام سوچتے ہوئے لیپ ٹاپ آن کرنے لگا۔
صبح تو نہی جا سکوں گا آفس’ہاں مگر پرسوں جاتے ہی ریزائن کر دوں گا۔
میں اب یہاں جاب نہی کر سکوں گا۔
جو ہو گا’دیکھا جائے گا۔
سارا انباکس چیک کر لیا’کوئی میل نہی آئی۔
لیپ ٹاپ بند کر بیٹھ گیا۔
رانیہ ابھی تک وہیں کھڑی ہوئی تھی۔
احتسام کی نظر رانیہ پر پڑی تو چونک گیا۔
تم گئی نہی ابھی تک!
یہ کھانا لے جاو بھوک نہی ہے مجھے’
رانیہ چلتی ہوئی احتسام کے پاس جا رکی۔
بھائی آپ کیسے جانتے ہیں صلہ کو’آپ تو کہہ رہے تھے کہ جانتے ہی نہی صلہ کو؟
تو پھر صلہ کے دکھ میں دکھی کیوں ہیں آپ؟
ایسا کچھ تو ہے جو آپ چھپا رہے ہیں ہم سب سے’
اس سے پہلے تو آپ نے کبھی ذکر نہی کیا صلہ کے بارے میں۔
وہ تو کہہ رہی تھی کہ آپ دونوں کلاس فیلوز تھے۔کسی بات پر ناراض ہیں آپ اس سے۔
تو پھر اچانک آپ کی ناراضگی ختم کیسے ہو گئی اتنی جلدی’
رانیہ سوال پر سوال کرتی جا رہی تھی۔
احتسام حیرانگی سے رانیہ کی طرف دیکھ رہا تھا’اسے رانیہ سے ان سب سوالوں کی توقع نہی تھی۔
رانیہ ان سب سوالوں کا مقصد؟
احتسام نظریں چراتا ہوا الماری کی طرف بڑھ گیا۔
بھائی مقصد تو کچھ بھی نہی ہے’میں تو بس اتنا ہی کہنا چاہتی ہوں کہ آپ دونوں ایک ساتھ اچھے لگتے ہیں۔
صلہ مجھے بھابی کے روپ میں بہت اچھی لگے گی’اگر آپ بات نہی کر سکتے امی سے’
تو میں بات کر لوں گی’مجھے یقین ہے امی انکار نہی کریں گی۔
ان کو صلہ بہت اچھی لگی ہے’وہ بہت دکھی ہیں اس کے لیے۔
صلہ کے بابا اب نہی رہے’وہ دونوں اکیلی رہ گئیں ہیں۔
ان کو سہارے کی ضرورت ہے’
ہم بھی کب تک جائیں گے ان کے گھر’اور آپ اگر بار بار ان کے گھر جائیں گے۔
تو محلے والے انگلیاں اٹھائیں گے۔
اسی لیے میں سوچ رہی ہوں کہ صلہ کے بابا کے چالیسویں کے بعد امی سے بات کرنے کو کہوں کہ وہ صلہ کی ماما سے آپ کے بارے میں بات کریں۔
احتسام الماری کھولے ہاتھ روکے’شاکڈ سا رانیہ کی باتیں سُن رہا تھا۔
رانیہ تم پاگل ہو گئی ہو کیا’کیسی باتیں کر رہی ہو۔
صلہ مجھ سے شادی نہی کرے گی’اور میں بھی ابھی شادی نہی کر سکتا جب تک تم دونوں بہنوں کو رخصت نا کر لوں۔
جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہی ہے’ہم دونوں بس دوست ہیں۔
اور کچھ نہی!
تم یہ فضول باتیں مت سوچا کرو’
کتنی بار منع کیا ہے میں نے تمہیں۔۔احتسام کا لہجہ تھوڑا سخت ہو گیا۔
بھائی آپ چاہے مجھے ڈانٹ لیں’جو مرضی کہہ لیں۔
مگر میں سچ جان چکی ہوں’
آپ کا صلہ کے لیے فکر کرنا’یہ سب یونہی نہی ہے۔
آپ کی آنکھوں میں صلہ کے لیے محبت دیکھ چکی ہوں میں۔
بہتر ہو گا کہ آپ امی سے خود بات کر لیں’ورنہ میں امی کو سب کچھ بتا دوں گی۔
رانیہ غصے سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
احتسام وہیں سر تھام کر بیٹھ گیا’کیسے سمحھاوں تمہیں رانیہ۔
“میں صلہ کے قابل نہی ہوں’وہ بہت اچھی لڑکی ہے مگر میں نے بہت غلط سمجھ لیا اسے۔
اب کیسے سامنا کروں میں اسکا’کیسے بات کروں اس سے۔
اگر اس نے انکار کر دیا تو!
احتسام نے ساری رات انہی سوچوں میں گزار دی۔
صبح ناشتہ کرنے کے بعد پھر سے سب صلہ کے گھر چلے گئے۔
صلہ کو اور اس کی ماما کو زبردستی ناشتہ کروایا احتسام کی امی نے۔
صلہ کی امی خود حیران تھیں’احتسام کے گھر والوں کا رویہ اور اپنائیت دیکھ کر۔
ان لوگوں کا کوئی خونی رشتہ نہی ہے ہم سے پھر بھی ہمارا اتنا خیال رکھ رہے ہیں۔
کبھی کبھی اپنوں سے زیادہ غیر لوگ اپنائیت کا احساس دلا جاتے ہیں۔
غم کتنا بھی بڑا کیوں نا ہو’اگر کوئی آپ کو تسلی دینا والا ہو۔
جو آپ کا ساتھ دے’تو آپ کا غم کافی حد تک کم ہو ہی جاتا ہے۔
“خوشیاں بانٹنے سے ختم نہی ہو جاتیں’مگر غم بانٹنے سے کم ضرور ہو جاتا ہے۔
__________
رامین بھاری قدموں کے ساتھ اس کے پاس پہنچی۔
پرنس!
اس نے دبی دبی سی آواز میں پرنس کا نام پکارا۔
پرنس اس کی طرف پلٹا’چاند کی روشنی میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
چہرے پر آج بھی نقاب تھا’سر پر کیپ تھی۔
“کس کے نام کی مہندی سجا رکھی ہے ہاتھوں میں’وہ رامین کے ہاتھوں میں چمکتی مہندی کو دیکھتے ہوئے بولا۔
آواز میں گہرا درد تھا’
پرنس۔۔۔وہ میرا کوئی قصور نہی!
رامین ہکلاتے ہوئے بولی۔
اماں،ابا کی مرضی سے ہوا یہ سب!
اور تم!
“تمہاری کوئی مرضی شامل نہی تھی اس میں’پرنس کی آواز میں کچھ کھونے کا غم تھا۔
میں کچھ نہی کر سکی’
رامین سر جھکائے بولی۔
“شادی بہت بہت مبارک ہو تمہیں’
چلتا ہوں’خوش رہو میری دعا ہے’
اتنی جلدی!
رامین پرنس کا ہاتھ تھام چکی تھی’کچھ دیر اور رُک جائیں۔
ابھی تو آئے ہیں۔
پرنس نے ایک نظر رامین کے مہندی اور گجروں سے سجے ہاتھ میں لپٹے اپنے ہاتھ پر ڈالی۔
اور ایک نظر رامین کے چہرے پر’رامین کی نظروں میں التجا تھی۔
اس نے نرمی سے رامین کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ کیا’
رامین کی آنکھوں سے آنسو برسنے لگے’کبھی یہ شخص اسے اپنا سا لگتا تھا۔
مگر آج اس شخص کی آنکھوں میں اجنبیت کے آثار نظر آ رہے تھے رامین کو۔
“اگر میں کہوں کہ تم رُک جاو!
تو رُک جاو گی’
رامین چونکی پرنس کے سوال پر’مطلب وہ بے ساختہ بولی؟
مطلب یہ کہ میرے ساتھ چلو ہمیشہ کے لیے’سب کچھ چھوڑ کر۔
کر سکو گی ایسا میرے لیے’وہ محبت کا امتحان لے رہا تھا۔
نکاح ہو چکا ہے پرنس!
رامین ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی۔
جانتا ہوں!
نکاح ہو چکا ہے تمہارا’ملک اظہر سے’
میں یہ نکاح ختم بھی کروا سکتا ہوں!
اگر تم میرا ساتھ دو’
چلو میرے ساتھ’وہ رامین کا ہاتھ تھام کر دروازے کی طرف بڑھا۔
کہاں۔۔۔رامین گھبرا گئی؟
نیچے۔۔۔بتا دو اپنے اماں،ابا کو سب کچھ ‘
ان کو بتا دو کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو’یہ شادی نہی کرنا چاہتی۔
رامین نے سر نفی میں ہلا دیا’اور پرنس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
نہی میں ایسا نہی کر سکتی’
ان کو دُکھ نہی دے سکتی میں’
پرنس نے اپنے خالی ہاتھ پر نظر ڈالی’جس ہاتھ میں چند لمحے پہلے رامین کا ہاتھ تھا۔
تو کیا تم مجھ سے محبت نہی کرتی رامین؟
پرنس کا لہجہ بہت ٹوٹا سا لگا رامین کو۔
رامین خاموش رہی’کچھ نا بولی۔
کچھ دیر تک وہ رامین کے بولنے کا انتظار کرتا رہا’
جب رامین کچھ نہی بولی تو کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔
کچھ سوچتے ہوئے پلٹا’
“تمہاری خاموشی نے سب بتا دیا مجھے’تمہیں مجھ سے محبت نہی تھی رامین۔
“محبت تو میں نے کی تھی’تو سزا بھی تو مجھے ہی ملنی تھی۔
“تم نے بے وفائی کی مجھ سے’بے وفا ہو تم’
رامین نے سر نفی میں ہلایا’نہی پرنس۔
بس!
پرنس نے ہاتھ کے اشارے سے رامین کو مزید بولنے سے منع کر دیا۔
اب کچھ کہنے کی ضرورت نہی’سب ختم ہو چکا ہے۔
“میں کوشش کروں گا کہ دوبارہ کبھی تمہارے راستے میں نا آوں۔
میں بس اتنا کہوں گی کہ میں بے وفا نہی ہوں’
کیا جانے سے پہلے میری ایک خواہش پوری کر سکتے ہو’رامین کی آواز میں ایک مان سا تھا۔
کیا خواہش’وہ بنا پلٹے بولا۔
جانے سے پہلے ایک بار آپ کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں میں’
وہ پلٹ کر رامین کی طرف بڑھا’
کبھی نہی!
یہ چہرہ تم کبھی نہی دیکھ سکو گی!
وہ پھر سے کھڑکی کی طرف بڑھ گیا’
میں خواہش کروں گی’مرنے سے پہلے ایک بار یہ چہرہ دیکھ سکوں۔
رامین کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رک گئے’وہ پلٹ کر رامین کی طرف آیا۔
پسٹل نکال کر رامین کے سر پر رکھ دیا’ چاہوں تو تمہاری یہ خواہش ابھی پوری کر دوں۔
مگر نہی میں ایسا نہی کر سکوں گا’جانتی ہو کیوں؟
کیونکہ تم بے وفا ہو رامین!
تمہیں کوئی حق نہی ہے میرا چہرہ دیکھنے کا’
رامین مسکرا دی!
کر دیں میری یہ خواہش ابھی پوری’اگر آپ کو لگتا ہے میں بے وفا ہوں۔
اگر تم بے وفا نا ہوتی تو کبھی یہ نکاح نہی کرتی’پسٹل واپس جیب میں رکھتے ہوئے بولا۔
“میری مجبوری تھی’اماں،ابا کی عزت کا سوال تھا’رامین نے فوراً جواب دیا۔
“اور میری محبت!
“میری محبت کا کیا رامین؟
“محبت ماں باپ کی عزت سے بڑھ کر نہی ہوتی”
رامین نے بہت سوچ سمجھ کر جواب دیا۔
اگر ماں باپ اولاد کے ساتھ زبردستی کریں’بیٹی کا ہاتھ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دیں جو دولتمند ہو۔
صرف دولت کی خواہش میں بنا جانچ پڑتال کے اپنی بیٹی کا ہاتھ کسی کے بھی ہاتھ میں رکھ دیں تو؟
کیا تب بھی تمہارا جواب یہی ہو گا؟
پرنس نے رامین کو سوچ میں ڈال دیا’
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں’رامین سوچوں میں ڈوبی بولی۔
رامین میں یہ کہنا چاہتا ہوں بس کہ تم رُک جاو۔
انکار کر دو اس شادی سے’میں تمہاری زندگی برباد ہوتے ہوئے نہی دیکھ سکتا۔
“ہر چمکتی چیز سونا نہی ہوتی”
بلکل اسی طرح ملک اظہر جو نظر آ رہا ہے درحقیقت وہ ویسا ہے نہی’
رامین میری بات مان لو’پلیز میرے ساتھ چلو۔
ملک اظہر بہت خطرناک انسان ہے’تم سمجھ کیوں نہی رہی۔
رامین جھنجلا چکی تھی’ایک طرف اظہر اسے کہہ رہا تھا کہ پرنس سہی انسان نہی ہے’غنڈہ ہے۔
اور دوسری طرف پرنس ہے’اس کا کہنا ہے کہ اظہر سہی انسان نہی ہے۔
کس پر یقین کرے اور کس پر نا کرے’رامین کچھ نہی سمجھ پا رہی تھی۔
دونوں ہی مجھ سے محبت کے دعوٰے دار ہیں۔
لیکن جو بھی ہو اظہر میرے شوہر ہیں اب!
مجھے ان کا ساتھ دینا چاہیے’
“میرے شوہر کے بارے میں ایسی کوئی بھی بات برداشت نہی کروں گی میں۔
مسٹر پرنس!
آپ آئیندہ کچھ بھی بولنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیجیے گا’کہ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
یہ میرے ماں باپ کا فیصلہ ہے’اور ماں باپ اپنی اولاد کے لیے کبھی کوئی غلط فیصلہ نہی کر سکتے۔
پرنس چونکا رامین کے اس اجنبی روئیے پر!
آپ یہاں سے جا سکتے ہیں اب’رامین رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے بولی۔
پرنس نے رامین کو بازو سے کھینچتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔
اور گن نکال کر رامین کے سر پر رکھ دی۔
“ابھی ختم کر دوں گا میں تمہیں بھی اور خود کو بھی۔
رامین نے ظبط سے آنکھیں بند کر لیں’اس کا بازو ابھی بھی پرنس کی گرفت میں تھا۔
رامین کے چہرے کی معصومیت’اس کی مہندی کی بھینی بھینی سی خوشبو اسے پاگل کر رہی تھی۔
اس نے ایک جھٹکے میں رامین کا بازو چھوڑا’رامین لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ پر جا گری۔
مار دیں مجھے’چلا دیں گولی۔
یہی آپ کی اصلیت ہے’مارنا اور مرنا یہ سب تو کھیل ہے آپ کے لیے۔
سہی کہا تھا اظہر نے!
آپ ایک غنڈے ہیں’
میں ہی یقین نہی کر رہی تھی ان کی بات کا’
مگر اب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا’
میں شکر ادا کرتی ہوں اللہ کا’
اللہ نے بچا لیا مجھے!
آپ جیسے آوارہ اور غنڈے انسان سے’
جب دل چاہا’جس پر مرضی گولی چلا دی۔
جب دل چاہا کسی کو لوٹ لیا’
یہی ہے نا آپ کی زندگی؟
رامین تلخ لہجے میں بولتی گئی۔
پرنس جہاں کھڑا تھا’وہیں کھڑا رہ گیا۔
ملک اظہر رامین کے دل میں اس کے لیے اتنی نفرت بھر چکا تھا ‘
رامین کے ذہر گھولتے الفاظ’پرنس کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔
کیا یہ وہی رامین ہے؟
“اس کو مجھ سے زیادہ ملک اظہر پر یقین ہے’
وہ رامین کی طرف بڑھا’
ہاں یہی ہے میری زندگی!
آوارہ ہوں میں’
غنڈہ بھی ہوں ‘
اور چور بھی ہوں۔۔۔ایک لمحے کے لیے وہ رُکا۔
رامین کو لگا کہ ابھی وہ کہے گا’میں شریف چور ہوں۔
مگر ایسا نہی کہا اس نے’کچھ ٹوٹا تھا۔
پرنس کی آواز میں درد تھا’ہاں وہ پرنس کا دل تھا۔
جو ابھی ٹوٹا ہے’
گولیاں بھی چلاتا ہوں میں مگر’
وہ ایک پل کے لیے رُکا’ رامین کی آنکھوں میں دیکھا۔
مگر میں بے وفا نہی ہوں”
“میری دُعا ہے تم سدا خوش رہو”
میں گزار لوں گا زندگی تمہاری یادوں کے سہارے’
“جب موت آئے گی نا مجھے تب بھی میری آنکھوں کے سامنے جو چہرہ ہو گا وہ تمہارا ہو گا۔
“میری آخری سانس پر بھی تمہارا نام ہو گا’
“میرا دل تمہارے نام پر ہی دھڑکے گا’
“میری ہر سانس میں تمہارا ہی نام ہو گا رامین’
چلتا ہوں!
وہ کھڑکی کی طرف بڑھا’چند پل رُکا۔
مگر پلٹا نہی’
مجھے تم سے نفرت ہے رامین’
بس اتنا ہی بولا’اور کھڑکی سے باہر نکل گیا۔
رامین تیزی سے کھڑکی کی طرف بڑھی’مگر وہ جا چکا تھا۔
رامین کا چہرہ آنسووں سے تر ہو چکا تھا’وہ وہی کھڑکی کے ساتھ بیٹھ کر سر گھٹنوں میں رکھ کر آنسو بہانےگی۔
“میں بے وفا نہی ہو پرنس!
“میں چاہتی ہوں کہ آپ نفرت کریں مجھ سے۔
نفرت کریں گے تو بھلا سکیں گے مجھے شاید’
مگر محبت کرتے رہے’تو برباد ہو جائیں گے۔
مجھے پورا یقین ہے آپ پر’آپ کی محبت پر۔
مجھے یقین ہے کہ آپ آوارہ نہی ہیں’نہی ہیں آپ غنڈے۔
“آپ شریف چور ہیں بس’
رامین سر گھٹنوں پر گرائے آنسو بہاتے ہوئے بول رہی تھی۔
آج کی رات منا لے جتنا منانا ہے ماتم اے دل!
کل سے نا تو یہ رات ہو گی اور نا ہی غم منانے والے!
ساری رات کھڑکی کے پاس بیٹھے گزار دی رامین نے’
صبح فجر کی نماز پڑھ کر بیڈ پر جا لیٹی!
سر بری طرح چکرا رہا تھا’آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں۔
مگر دل کا غم تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہی لے رہا تھا۔
آج رامین کی شادی کا دن تھا’اور اسے اپنے سارے غم’ساری یادیں اسی کمرے میں دفن کر کے جانی تھیں۔
اظہر کو دل سے اپنانا ہے اسے’مگر اس کے دل میں تو پرنس کا قبضہ ہے۔
اس دل کو نکالنا پڑے گا’پرنس کی یادوں کے سمندر سے۔
رامین پرنس کی یادوں کے سمندر میں کھو سی گئی۔
دور کسی ویرانے میں رات کے اندھیرے میں کسی نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
وہ آنکھیں رامین اچھی طرح پہچان سکتی تھی’چہرے پر نقاب نہی تھا۔
مگر آنکھوں کے سوا سارا چہرہ دھندلا سا تھا۔
“میں ہی ہوں تمہارا پرنس’تمہارا شریف چور’
پرنس مسکراتے ہوئے بولا’
یہ آواز رامین کو پاگل کر رہی تھی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر ان آنکھوں کو چھونا چاہا’مگر اس کا ہاتھ روک دیا گیا۔
