Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Na Jani (Episode 13)

Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi 

وہ اپنے آفس میں داخل ہوا’کچھ دیر کمرے میں ٹہلتا رہا۔

آخر تھک کر بیٹھ گیا۔

سمجھ نہی آ رہا کچھ بھی کیسے بات کرو ڈیڈ سے۔

اپنی اور رامین کی شادی کی۔

پتہ نہی کیسا ری ایکشن ہو ان کا۔

جو بھی ہو مجھے بات تو کرنی ہی ہے۔

مجھے ہمت کرنی پڑے گی۔

کہی ایسا نا ہو کہ دیر ہو جائے۔

پھر ساری عمر پچھتاتا رہوں میں۔

رامین اچھی لڑکی ہے’اور معصوم بھی۔

بلکل پرفیکٹ ہے میرے لیے۔

اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

وہ انہی سوچوں میں گُم بیٹھا تھا’تب ہی دروازہ ناک ہوا۔

کم ان۔۔۔اس نے جواب دیا۔

رحیم اندر آیا۔

صاحب جی یہ آپ کا سامان ہے’رامین بیٹی دے کر گئی ہے۔

انہوں نے وہ شاپر ٹیبل پر رکھ دیا۔

ٹھیک ہے آپ جائیں میں دیکھ لیتا ہوں۔شکریہ

رحیم آفس سے باہر نکل گیا۔

اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

جانتا تھا اس میں کیا ہے۔

شاپر کی طرف ہاتھ بڑھا کر اپنا فون باہر نکالا۔

یہ فون تو بس ایک بہانہ تھا۔

دراصل میں تو تم سے جڑے رہنا چاہتا تھا۔

سوچا تھا تم یہ فون ٹھیک نہی کروا سکو گی جلدی’تو بار اسی بہانے سے ملاقات کر سکوں گا۔

“مگر اس پرنس نے سب بگاڑ دیا”

اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی’جو بھی ہو تم نپٹ لوں گا میں تم سے۔

ڈیڈ سے بات ابھی کرنی ہو گی مجھے۔

کوئی رسک نہی لینا چاہتا۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئی فیصلہ کر لے’مجھے فیصلہ کرنا پڑے گا۔

وہ اپنا فون اٹھاتے ہوئے اپنے آفس سے باہر نکل گیا۔

اور دروازہ ناک کیے بغیر آفس میں داخل ہو گیا۔

کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔

ڈیڈ کیسے ہیں آپ؟

مختصر سا سوال پوچھا گیا۔

ہممم ٹھیک ہوں۔تم کیسے ہو۔

کب بڑے ہو گے تم’کتنی بار سمجھایا ہے تمہیں جب کسی کے کمرے میں جاو’دروازہ ناک کر کے جایا کرو۔

مگر تم ٹہرے اپنی مرضی کے مالک’کہاں سنتے ہو میری باتیں۔

ان کا لہجہ افسردہ سا تھا۔

ڈیڈ آپ دروازے کی بات دروازے تک ہی رہنے دیں تو اچھا ہے۔

مزید پھیلاو نا پھیلائے آپ۔۔پلیز

اس کی آواز میں بے رخی سی تھی۔

اور یہ کسی کا دروازہ نہی آپ کے کمرے کا دروازہ ہے۔

میرا جب دل چاہے گا’بنا ناک کیے آوں گا میں’اس نے گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھ دئیے۔

وہ پھیکا سا مسکرا دئیے’خیریت تو ہے آجکل گلاسز نہی اتارتے آنکھوں سے۔

جی ڈیڈ۔۔۔آپ تو جانتے ہی ہے کتنی لڑکیاں دیوانی ہیں ان آنکھوں کی۔

اگر آپ کے بیٹے کو نظر لگ گئی تو’اسی لیے میں رسک نہی لیتا۔

گلاسز آنکھوں پر سجائے رکھتا ہوں۔

اس کی بات پر ان کا قہقہ گونجا’ہاں یہ تو ہے۔

اچھا کتنے پیسے چاہیے؟

وہ کام کی بات پر آئے۔

ڈیڈ کیا میں صرف پیسوں کے لیے آتا ہوں آپ کے پاس۔

مجھے پیسے نہی چاہیے’بلکہ کچھ اور چاہیے آپ سے۔

اُمید ہے آپ مجھے خالی ہاتھ نہی موڑیں گے۔

حکم کریں جناب!

آج سے پہلے کبھی کوئی بات’کوئی فرمائش ٹالی ہے میں نے جناب کی۔

بولو کیا چاہیے۔ملک اظہر کے بیٹے ہو تم’اور ملک اظہر کے ہوتے ہوئے تمہاری کوئی خواہش ادھوری نہی رہے گی۔

بولو!

ڈیڈ مجھے صدیق احمد کی بیٹی سے شادی کرنی ہے۔

واٹ۔۔۔۔وہ حیران ہوئے۔

اگر یہ مزاق تھا’تو مجھے زرا پسند نہی آیا۔

وہ ہنستے ہوئے بولے۔

نہی ڈیڈ۔۔یہ مذاق نہی ہے’میں واقعی صدیق احمد کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔

تم جانتے بھی ہو کیا کہہ رہے ہو؟

ملک صاحب کو اپنے بیٹے کی دماغی حالت پر شک ہوا۔

جی ڈیڈ۔۔میں جانتا ہوں’میں کیا کہہ رہا ہوں۔

آپ نے ابھی ابھی کہا ہے کہ آپ کے ہوتے ہوئے میری کوئی خواہش ادھوری نہی رہے گی۔

مجھے یقین ہے کہ آپ میری یہ خواہش بھی پوری کر سکتے ہیں۔

وہ پر امید ہو کر بولا۔

تم جس لڑکی سے بھی شادی کرنا چاہو کر لو’مگر وہ ہمارے سٹینڈرڈ کی ہو۔

یہ رشتہ مجھے منظور نہی’لوگ کیا سوچے گا۔

ملک اظہر نے اپنے بیٹے کی شادی اپنی فیکٹری کے چپڑاسی کی بیٹی سے کر دی۔

لوگ کیا کہیں گے’یہ میں نہی جانتا ڈیڈ۔

“میں بس اتنا جانتا ہوں’کہ میں اس لڑکی سے محبت کرتا ہوں”

اور اسی سے شادی کروں گا۔

آپ کو منظور ہو یا نا ہو’وہ اپنے گلاسز اٹھاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔

رکو تو سہی یار’مجھے منظور ہے یہ رشتہ۔

واپس آو۔

ملک صاحب کی آواز پر وہ پلٹا’اور واپس کرسی پر آ بیٹھا۔

آپ سچ کہہ رہے ہیں نا ڈیڈ؟

اس نے تصدیق کرنا چاہی۔

ہاں بھئی سچ کہہ رہا ہوں۔

اب یہ بتاو’کب جانا ہے پھر ہمیں اپنی بیٹی کا ہاتھ مانگنے۔

ملک صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔

آج ہی جانا ہو گا ڈیڈ’مام کو کیسے منانا ہے یہ آپ پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔

آپ مام کو لے شام کو تیار رہیں۔پھر چلتے ہیں ہم۔

سب سے مشکل کام مجھے دے دیا تم نے’خود ہی بات کر لو اپنی ماں سے۔

میرے ساتھ پتہ نہی کیا سلوک کرے وہ یہ سب سن کر۔

آپ کی بیوی ہے آپ ہی سنبھالیے ڈیڈ’مجھے دور رکھیں آپ اس معاملے سے۔

ابھی میں چلتا ہوں’شام کو جلدی تیار رہنا پھر آپ۔

گلاسز اٹھاتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔

اس کے باہر جاتے ہی ملک صاحب نے مینیجر کو کمرے میں بلایا۔

اور اس سے کہا کہ صدیق احمد کو ابھی اس نوکری سے فارغ کر دو۔

_______________________

رامین بچوں کے پاس بیٹھی ان کو پڑھا رہی تھی۔

تب ہی ابا پریشان سے گھر میں داخل ہوئے۔

ابا آپ اس وقت گھر’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟

رامین فکر مندی سے ان کی طرف بڑھی۔

ہاں بیٹا میری طبیعت تو ٹھیک ہے مگر۔

وہ بولنے سے رک گئے۔

مگر’کیا ہوا ابا۔

آپ کچھ بول کیوں نہی رہے۔

رامین پریشان ہو چکی تھی۔

رامین کی امی نے پانی کا گلاس ان کی طرف بڑھایا۔

انہوں نے پانی کا گلاس تھام لیا۔

مجھے نوکری سے نکال دیا مینیجر نے۔

اور وجہ بھی نہی بتائی۔

کہنے لگا تمہاری اس مہینے کی تنخواہ گھر پہنچ جائے گی۔

ایسا کیسے کر سکتے ہیں وہ ابا’آپ نے ان سے وجہ تو پوچھنی تھی۔

آخر کیوں نکالا ہے نوکری سے۔

میں بات کروں گی کل ان سے’ابا آپ فکر مت کریں۔

ایسے کیسے نکال سکتے ہیں وہ آپ کو نوکری سے۔

نہی رامین تم رہنے دو’میں کل دوبارہ جاو گا بات کرنے۔

اگر مان گئے تو ٹھیک ہے’ورنہ دوسری نوکری ڈھونڈ لوں گا۔

ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ دروازہ ناک ہوا۔

رامین کے ابا دروازے کی طرف بڑھے۔

دروازہ کھولا تو سامنے رانی کی ماں کھڑی تھیں۔

اسلام و علیکم بھائی صاحب۔

وعلیکم اسلام آ جائیں اندر بھابی۔۔وہ مسکرا کر سلام کا جواب دیتے ہوئے سائیڈ پر ہٹ گئے۔

وہ سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔

آج ہم لوگ جا رہے ہیں یہاں سے’تو سوچا جانے سے پہلے مل لوں آپ سب سے۔

بہت اچھا وقت گزرا اس محلے میں آپ سب کے ساتھ۔

آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں’رامین کی اماں فکر مندی سے بولیں۔

میری رانی کی شادی طے ہو گئی ہے نا’بہت اچھے گھرانے میں۔

نکاح کر دیا ہے’اب شادی ہے اسی مہینے۔

میرا داماد بہت اچھا ہے۔

اس نے ہمیں نیا گھر تخفے میں دیا ہے۔

بہت امیر لوگ ہیں وہ۔

میری بیٹی راج کرے گی وہاں۔

ان کا گھر’گھر نہی محل ہے۔

ہم تو کبھی سوچ بھی نہی سکتے تھے کہ ہماری قسمت یوں کھل جائے گی۔

یہ رانی کی شادی کا کارڈ ہے’آپ سب آنا ضرور اب میں چلتی ہوں۔

خدا حافظ۔۔

وہ مسکراتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ گئیں۔

رامین بچوں کو پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔

اس کی سمجھ میں نہی آ رہا تھا’اچانک سے ابا کو نوکری سے کیوں نکال دیا انہوں نے۔

کوئی تو بات ہوئی ہو گی۔

کہی اس نے تو نہی’میں نے فون رحیم چچا کے ہاتھ بھجوایا۔

اس لیے تو نہی نکال دیا’ابا کو نوکری سے۔

عجیب ہی انسان ہے یہ’انسانیت تو بس نام کی ہی رہ گئی ہے دنیا میں۔

رامین کے ابا کمرے میں چلے گئے۔

ان کے دل میں بھی دولتمند داماد کی خواہش پیدا ہوئی۔

کاش ہماری قسمت بھی ایسے ہی کھل جائے۔

وہ سوچوں میں گُم ہو چکے تھے۔

بس ایک یہی حل تھا’ان کی پریشانیاں ختم ہونے کا۔

__________

رامین مغرب کی نماز پڑھ کر نیچے آ کر بیٹھ گئی۔اماں اور ابا کے پاس۔

ابا آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔

ہمارا رزق اللہ نے دینا ہے۔

ہمیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔

“خدا پتھر میں کیڑے کو بھی رزق عطا کرتا ہے”

ہم تو پھر انسان ہیں ابا۔

جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے نا’تو سو دروازے کھلتے ہیں۔

“مایوسی گناہ ہوتی ہے”

“اللہ بہت بے نیاز ہے”

“وہ اپنے بندوں کو اتنا ہی نوازتا ہے’جس کا بوجھ وہ اٹھا سکیں۔

سب کو اتنا ہی ملتا ہے جتنا قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔

کبھی کسی کو قسمت میں لکھے سے زیادہ نہی ملتا’اور نا ہی کسی کو کم۔

اب دیکھیں نہ ابا’ہمارے پاس دولت نہی ہے۔

ہم تین وقت کی روٹی کھا کر’خدا کا شکر ادا کر کے سو جاتے ہیں۔

ہم سکون سے سوتے ہیں۔

ہمیں چوروں کا خوف نہی ہوتا۔

کیونکہ ہم جانتے ہیں’ہمارے پاس ایسا کچھ ہے ہی نہی’جو چور ہمارے گھر ڈاکہ ڈالنے آئیں گے۔

ابا ہم باہر سڑک پر بے خوف چلتے ہیں۔

ہمیں یہ ڈر تو نہی ہوتا کہ کوئی ہمیں لوٹ لے گا۔

کوئی پیسے چھیننے کی خاطر ہمیں مار ڈالے گا۔

اب ہماری نسبت ایک امیر گھرانے کو دیکھ لیں۔

جن کی مہینے بھر کی کمائی لاکھوں،کڑوڑوں میں ہو۔

کیا اس گھر کے فرد اتنے سکون سے بیٹھ سکتے ہیں؟

سو سکتے ہیں’اتنی سکون کی نیند؟

کیا ہو گا اگر ان کے گھر کے باہر محافظ نا کھڑے ہو۔

کیا ہو گا اگر اس گھر کا کوئی بھی فرد خواہ وہ بڑا ہو،جوان ہو،یا پھر بچہ ہی کیوں نا ہو۔

اگر وہ محافظ کے بغیر گھر سے نگلے؟

تو وہ لوٹ لیا جائے گا’بچہ کو کڈنیپ کر لیا جائے گا’تاوان کی بھاری رقم مانگی جائے گی۔

مزاحمت کرنے پر جان جانے کا بھی خطرہ۔

مطلب اس ساری بات کا نچوڑ یہ ہے کہ ان کو ہر وقت دولت کے چھن جانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ان کی عورتیں،بچے،بوڑھے،جوان سب کو باہر جانے سے پہلے محافظ ساتھ رکھنا پڑے۔

کتنی تنگ زندگی ہے نہ یہ ابا’ان کے بچے آزادی سے باہر کھیل بھی نہی سکتے۔

کیا فائدہ ایسی تنگ سی زندگی کا۔

زندگی وہ ہوتی ہے جو آزادی سے جی جائے۔

زندگی کے سارے رنگوں کو محسوس کیا جائے۔

ہماری زندگی اچھی ہے نا ابا؟

ہمارے پاس دولت نہی ہے تو کیا ہوا۔

ہمارے پاس آزادی سے جینے کا حق ہے۔

ہمارے پاس سکون کی نیند ہے۔

ہمیں کسی دولت کے چھن جانے کا خطرہ نہی ہے۔

ہم آزاد ہیں۔

ہمیں اپنے ساتھ کسی محافظ کو رکھنے کی ضرورت نہی ہے۔

جانتے ہیں کیوں؟

کیونکہ۔۔۔

“ہمارے ساتھ اللہ ہے”

ہمارا محافظ،تو پھر ہمیں کس بات کی پریشانی ہے۔

صرف اس بات پر کہ ہمارے پاس دولت نہی ہے’نوکری چلی گئی۔

تو ہم مایوس ہو جاتے ہیں۔

یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کی رحمت کا سمندر بہت بڑا ہے۔

جسے جب چاہے اپنی رحمت سے نواز دے۔

ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے’حالات چاہے جیسے بھی ہو۔

اللہ کی رحمت سے مایوس نہی ہونا چاہیے۔

اللہ بہت بے نیاز ہے۔

غربت بھی ایک آزمائش ہوتی ہے اللہ کی طرف سے۔

جو اس آزمائش کو اللہ کا شکر ادا کرتے پار کر لے۔

اس کی دنیا اور آخرت سنور جاتی ہے۔

کیا ہمارے نبیوں پیغمبروں نے نہی دیکھی یہ غریبی۔

یہ آزمائیشیں ان پر بھی گزری ہیں۔

مگر وہ مایوس نہی ہوئے’ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا انہوں نے۔

اور اپنی دنیا اور آخرت سنوار لی انہوں نے۔

ہمارے پیارے نبیؐ ان کی بیٹی نے بھی دیکھی یہ غربت۔

وہ چاہتے تو کیا نہی ہو سکتا تھا۔اگر وہ دولت کی دعا کرتے تو ان کا نا ملتی یہ ہو نہی سکتا تھا۔

جن کے صدقے میں یہ دنیا بنائی گئی’ان کی یہ دعا پوری ہو سکتی تھی۔

مگر انہوں نے دولت کی نہی ایمان کی دعا مانگی۔

انہوں نے دولت کو نہی دین کو چُنا۔

ہر آزمائیش پر پورا اترے۔

اور جب ہمارے نبیوں پیغمبروں پر بھی یہ آزمائیشیں گزری ہیں۔

تو ہم تو پھر معمولی سے انسان ہیں۔

ہم کیوں گھبرا جاتے ہیں۔

اللہ کا وعدہ ہے ہم سے رزق عطا کرنے کا’تو پھر ہم کیوں پریشان ہوتے ہیں۔

بس اللہ پر بھروسہ رکھیں’سب ٹھیک ہو جائے گا۔

میں چلتی ہوں۔اذان ہونے والی ہے۔

نماز پڑھ کر آتی ہوں’رامین مسکراتے ہوئے اوپر کی طرف چل دی۔

جب کہ اس کے اماں ابا دونوں سوچوں میں ڈوب گئے۔

________________________

خوبصورت آرائیشوں سے سجا ہال۔

فرش پر خوبصورت قالین بچھے ہوئے۔

چھت پر خوبصورت بڑا سا فانوس۔

دیواروں کے ساتھ تکیے رکھے گئے۔

آنے والے مہمانوں کے لیے۔

مہمان نہی بلکہ تماشگین سہی رہے گا۔

یہ ایک کوٹھے کا منظر ہے۔

جہاں دن رات گھنگھرو کی چھن چھن بجتی ہے۔

ان گھنگروں کی چھن چھن سے کتنے دل خون کے آنسو روتے ہیں۔

کتنی ہی لاوارث لڑکیاں بٹھا دی جاتی ہیں’لا کر ان کوٹھوں پر۔

گھنگھروں کی چھن چھن پر ناچنے کے لیے۔

کتنی ہی معصوم لڑکیوں کی عزت کی بولی لگا دی جاتی ہے یہاں لا کر۔

کچھ وہ ہوتی جن کو یتیم خانوں سے کوٹھے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

وہ یتیم خانے جہاں لوگ یتیم بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں۔

یا پھر وہ بچے جن کو پیدا ہوتے ہی جھولے میں ڈال دیا جاتا ہے’زندگی بھر کے لیے۔

اور یہ وہ یتیم خانے ہیں’جہاں آپ کو بہت اچھا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔

بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔

مگر وہ کہاوت تو سنی ہو گی’کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہی ہوتی۔

ایسا ہی کچھ حال ان بچوں کا بھی ہوتا ہے۔ان کے کپڑوں پر نا جائیں۔

ان کی آنکھوں میں موجود درد کو محسوس کرنے کی کوشش کریں۔

یہ جیسے خوشخال آپ کو نظر آتے ہیں’حقیقت دراصل اس کے بلکل الٹ ہے۔

ان کو اچھے کپڑے دئیے جاتے ہیں’اچھا کھانا بھی دیا جاتا ہے۔

اور ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ بھی رکھا جاتا ہے۔

مگر تب تب جب ان بچوں پر کیمروں کی نظر پڑنی ہو۔

بس تب تک کے لیے ہی’ورنہ ان بچوں کی زندگی بھی کسی جہنم سے کم نہی ہوتی۔

معصوم بچیاں جن کا کوئی وارث نہی ہوتا’انہی یتیم خانوں سے کوٹھوں تک پہنچا دی جاتی ہیں۔

اور کسی کو کانوں کان خبر نہی ہوتی۔

انتظامیہ میں ہی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں۔جو ان بچیوں کی عزتِ نفس کو تباہ کر دیتے ہیں۔

اور کچھ بچیاں اغوا کر کے ان کوٹھوں پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔

ماں باپ سے ساری زندگی کے لیے دور کر دیا جاتا ہے ان کو۔

ان کے ہاتھوں سے کتابیں کھینچ کر کھنگھروں تھما دئیے جاتے ہیں۔

اور یہی بچیاں،معصوم کلیاں ایک دن طوائف بن جاتی ہیں۔

ان کی پہچان چھین لی جاتی ہے۔اور نئی پہچان کو طوائف کا نام دے دیا جاتا ہے۔

اور کچھ حالات سے مجبور’تنگ دستیوں کا شکار ہوتی ہیں جو اپنوں کی خاطر ان کوٹھوں میں آ بیٹھتی ہیں۔

طوائف کا ناچ تو سب کو نظر آ جاتا ہے’ان کو گالی بھی اسی نام سے دی جاتی ہے۔

مگر کوئی ان کی آنکھوں کا درد پڑھنے کی کوشش نہی کرتا۔

کوئی ان کا درد نہی سمجھتا۔

تماشگین آتے ہیں۔ناچ دیکھتے ہیں۔

حوس بھری نگاہوں سے نوچتے ہیں ان معصوموں کے دل کو۔

پیسے لوٹاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

ابھی ابھی تماشگین آنے شروع ہوئے تھے’اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہال بھر گیا تماشگینوں سے۔

طوائف کا ناچ بس شروع ہونے ہی والا ہے۔

سب تماشگینوں کی نظریں اسی طرف ہے جہاں سے طوائف اس ہال میں داخل ہونے والی ہے۔

ماتھے پر بندیا،بال پراندے میں باندھے,زیورات سے لدی،سر پر ڈوپٹا اٹکائے،لمبا گھیرے دار سبز فراق پہنے وہ طوائف ہال میں داخل ہوتی ہے۔

پاوں میں باندھے گھنگھروں کی چھن چھن پورے ہال میں پھیل رہی ہے۔

ہر طرف سے واہ واہ کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہے۔

وہ دایاں ہاتھ چہرے کے سامنے کرتی’جھکی نظروں سے سر خم کرتے ہوئے سب کو آداب کر رہی ہے۔

گانا شروع ہو گیا۔

سب تماشگین اس کے ناچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

گانا بجتے ہی وہ ہال کے درمیان میں آ جاتی ہے’اور گانے کے ساز پر ناچنا شروع کر دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *