Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 23,24)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 23,24)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
اظہر کی مدہوش سی آواز رامین کے کان میں پڑی۔
رامین کا چہرے پر پسینہ آنے لگا۔
اظہر مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹا’اور سائیڈ ٹیبل سے ایک باکس نکالا۔
اس میں سے ایک خوبصورت بریسلٹ نکال کر رامین کے ہاتھ میں باندھ دیا۔
اور نرمی سے رامین کے ہاتھ کو ہونٹوں سے چھوا۔
رامین نے جلدی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
اظہر مسکراتے ہوئے رامین کے چہرے پر جھک گیا۔
رامین چاہ کر بھی اسے روک نا سکی’اور خود کو اظہر کے سپرد کر دیا۔
زندگی نے ایک نیا موڑ لے لیا تھا’زندگی میں ہر طرف بس خوشیاں ہی خوشیاں چھا گئی۔
رامین نے اپنے اخلاق سے اظہر کے مام،ڈیڈ کا دل جیت لیا تھا۔
وہ دونوں بھی رامین کا خیال اپنی بیٹی کی طرح رکھنے لگی۔
اور اظہر کی محبت بھی دن بدن رامین کے لیے بڑھتی جا رہی تھی۔
رامین اپنے گھر بھی چلی جاتی ہفتے میں ایک دو بار۔
اظہر اس کے ساتھ ہی رہتا سایہ بن کر’رامین کے دل میں اپنا مقام قائم کر ہی لیا تھا اس نے۔
مگر رامین کے دل کے کسی کونے میں پرنس نام کا دیا ابھی بھی کہی جل رہا تھا۔
پرنس نے دوبارہ کبھی رامین سے رابطہ کرنے کی کوشش نہہی کی۔
اور نا ہی اسد یا ثوبیہ نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔
بس وہ کہتے ہیں نا لاحاصل کی طلب انسان کو مرتے دم تک رہتی ہے۔
جو چیز انسان کو نا ملے’اسی کی طلب رہتی ہے انسان کو۔
ایسا ہی کچھ رامین کے ساتھ ہو رہا تھا’وہ جب کبھی اپنے گھر جاتی۔
تو کمرے میں اندھیرا کیے’کھڑکی کے پاس بیٹھ کر پرنس کی یاد میں گھنٹوں آنسو بہاتی۔
وہ پرنس کو کبھی نہی بھلا پائی’اسے آج بھی ایسا لگتا تھا کہ شاید پرنس اس کھڑکی سے اندر آ جائے۔
مگر ایسا نہی ہوا’ضروری نہی کہ جو ہم چاہیں ہمیشہ وہی ہو۔
کئی دفعہ اس نے سوچا کہ ثوبیہ سے ملنے جائے’اس سے پوچھے پرنس کے بارے میں۔
مگر اظہر کے ڈر سے جا ہی نا سکی’وہ جانتا تھا کہ پرنس کا رشتہ ثوبیہ کے گھر والے ہی لے کر آئے تھے۔
بس اس لیے کہ اس کو شک نا ہو جائے’رامین یہ قدم اٹھانے سے ڈرتی تھی۔
وہ اس رشتے کو آخری سانس تک نبھانا چاہتی تھی’صرف اور صرف اپنے ماں باپ کی خاطر۔
لا حاصل کی طلب میں وہ اپنے شوہر سے بے وفائی کر رہی تھی۔
مگر اس بات کا احساس ہی نہی ہوا اسے کبھی۔
دن اسی طرح گزرتے گئے۔
رامین اپنی زندگی میں مصروف ہو گئی۔اپنے ماں،باپ کی خاطر وہ اس رشتے کو نبھانے لگی۔
_______________
رامین کی کہانی بس یہیں تک تھی’پرنس کون تھا۔
یہ راز ایک راز ہی رہ گیا۔
کچھ کہانیاں کبھی پوری نہی ہوتیں’ہمیشہ ادھوری رہ جاتی ہیں۔
ایسا ہی کچھ ہوا تھا پرنس کے ساتھ’اس کی کہانی بس یہیں تک تھی۔
______________
احتسام اور صلہ دونوں ہی خاموش بیٹھے تھے۔شاید دونوں ہی بات کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہے تھے۔
نیا رشتہ جڑنے سے احساس بھی بدل چکے تھے۔
صلہ ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھی تھی’پھر اچانک صلہ اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی۔
تب ہی احتسام تیزی سے اس کے سامنے آ رکا۔
صلہ چونک کر پیچھے ہٹی۔
کہاں جا رہی ہو مسز؟
احتسام چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔
صلہ شرماتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔
مجھے پانی پینے جانا ہے’آپ پیچھے ہٹیں راستہ دیں مجھے۔
صلہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی۔
جبکہ احتسام اس کے دہکتے گال دیکھ کر مسکرا دیا۔
کیا ہوا صلہ گھبرا کیوں رہی ہو؟
احتسام شرارت بھرے انداز میں بولا۔
نننہی تو میں کہاں گھبرا رہی ہوں’وہ مجھے تو بس پیاس لگی ہے۔
احتسام نے صلہ کا ہاتھ تھاما’اور اسے صوفے پر بٹھا دیا۔
خود بھی صوفے پر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
صلہ تم خوش ہو نا اس نکاح سے؟
صلہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا۔
صلہ بس احتسام کی طرف دیکھتی رہی کچھ نہی بولی۔
کیا ہوا صلہ تم خوش نہی ہو کیا’تم بھی تو یہی چاہتی تھی ناں؟
تو پھر اب اس خاموشی کا کیا مطلب سمجھوں میں’جب صلہ نے کوئی جواب نا دیا تو احتسام پریشان ہوتے ہوئے بولا۔
صلہ نے آنسو بہانے شروع کر دئیے۔
اب تو احتسام سچ میں پریشان ہو گیا’اس نے تو امی سے کہا تھا صلہ سے پوچھنے کے لیے۔
تو کیا امی نے صلہ سے اجازت نہی لی اس نکاح کے لیے’احتسام کا سر چکرا گیا۔
تب ہی اچانک صلہ احتسام کے گلے لگ گئی’اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچے آنسو بہانے لگی۔
احتسام نے حیرت سے صلہ کو دیکھا۔
مسکراتے ہوئے صلہ کے گرد اپنے بازو پھیلا دئیے۔
صلہ کیوں رو رہی ہو’کچھ بتاو تو سہی اب میں پریشان ہو رہا ہوں یار۔
احتسام صلہ کے سر پر تھوڑی ٹکاتے ہوئے بولا۔
صلہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی ناں وہ ہو تو گئی۔
ابھی نکاح ہوا ہے بس’شادی ہم دھوم دھام سے کریں گے۔
جب تم کہوں گی تب!
احتسام نے نرمی سے صلہ کو خود سے الگ کیا’اور اس کے آنسو صاف کیے۔
صلہ کی ناک رو رو کر سرخ ہو چکی تھی’احتسام نے آہستہ سے اس کی ناک دبائی۔
صلہ نے خفگی سے احتسام کی طرف دیکھا۔
احتسام مسکرا دیا۔
اب بتا بھی دو کیوں رو رہی ہو؟
بلکل پاگل ہو تم’
“پاس آتا ہوں تو بھی روتی ہو’دور جاتا ہوں تو بھی روتی ہو”
آخر چاہتی کیا ہو؟
ایک بار ہی بتا دو’احتسام نے پھر سے صلہ کی ناک دبائی۔
صلہ حیران ہوئی احتسام کے اس بدلتے روپ کو دیکھ کر۔
صلہ پہلے تو خفگی سے دیکھنے لگی احتسام کو”پھر ساتھ ہی مسکرا کر پھر سے احتسام کے گلے لگ گئی۔
احتسام نے مسکراتے ہوئے اس کے گرد بازو پھیلا دئیے۔
“میں بہت خوش ہوں اس نکاح سے’مجھے ابھی تک یقین نہی ہو رہا کہ میرے نام کے ساتھ آپ کا نام جڑ چکا ہے،،
“یہ آنسو تو خوشی کے آنسو ہیں’خدا اس طرح بھی مہربان ہو سکتا ہے،،
میں نے سوچا نہی تھا’
جب پہلی بار آپ کو دیکھا تھا پارک میں’اس دن سچے دل سے ایک دُعا کی تھی۔
وہ دعا یہ تھی کہ آپ میرا نصیب بن جائیں۔
مگر آپ کے رویوں نے میری اس خواہش کا دم توڑ دیا۔
مگر پھر وقت یوں بدلا کہ پتہ ہی نہی چلا۔
کاش ماما،بابا بھی میرے ساتھ ہوتے’وہ دیکھتے کہ ان کی بیٹی کا نصیب کتنا اچھا ہے۔
صلہ پھر سے آنسو بہانے لگی’احتسام نے دھیرے سے اس کے سر کو تھپکا۔
صلہ جانتی ہو زندگی میں ہمیشہ وہ نہی ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔
ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے’کون کہاں کب کس کا نصیب بن جائے۔
یہ سب قسمت کے کھیل ہیں’
تمہاری دُعا قبول ہوئی’کیونکہ تم نے سچے دل سے مجھے اللہ سے مانگا تھا۔
سچے خلوص سے مانگی گئی دعائیں قبول ہوتی ہیں’یہ آج ثابت ہو گیا۔
جو ہونا تھا ہو چکا’اب زندگی کو نئے سرے سے شروع کرو۔
جو بُرا وقت گزر گیا’اسے بھول جاو!
آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو’میرے بارے میں،اپنے بارے میں سوچو۔
میں ہوں اب تمہارے ساتھ’کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے تمہیں۔
“اب تم میری زمہ داری ہو،
تمہیں تحفظ دینا اب میری زمہ داری ہے۔
چلو اب جلدی سے سامان پیک کر لو اپنا’اپنے گھر جانے کی تیاری کرو۔
احتسام مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے’ضروری بات کرنی ہے۔
صلہ ابھی بولی ہی تھی کہ دروازہ ناک ہوا’صلہ جلدی سے پیچھے ہٹی۔
احتسام نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو رانیہ کھڑی مسکرا رہی تھی۔
روشنی بھی اس کے پیچھے کھڑی تھی۔
وہ بھائی ہمیں بھابی کا سامان پیک کرنا ہے’آپ باہر انتظار کر لیں۔
رانیہ کا انداز شرارت بھرا تھا۔
اچھا آو۔۔۔احتسام مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹا۔
ایک نظر مسکراتی ہوئی صلہ پر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
آہم_آہم۔۔رانیہ نے صلہ کو کمرے میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
صلہ نے رانیہ کی کمر میں ہلکی سی تھپکی لگائی’تنگ مت کرو مجھے۔
صلہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی’رانیہ اور روشنی دونوں مسکرا دیں۔
اور صلہ کی الماری کی طرف بڑھ گئیں۔
صلہ باہر آ کر احتسام کی امی کے پاس بیٹھ گئی’انہوں نے پیار سے صلہ کو گلے لگا لیا۔
احتسام فون پر کسی سے بات کر رہا تھا’واپس پلٹا تو صلہ کو امی کے ساتھ بیٹھے دیکھ مسکرا دیا۔
اللہ کرے امی کے دل میں صلہ کے لیے محبت کبھی کم نا ہو’آمین
احتسام نے صدقِ دل سے دعا مانگی۔
احتسام کے پھوپھا جی اور تایا جی اپنے گھر واپس جا چکے تھے۔
کل سنڈے تھا’اور سب کو انوائٹ کیا گیا کل احتسام کی امی نے اپنے گھر۔
تا کہ سب مل لیں صلہ سے’اور شادی کی تیاری کے بارے میں ڈسکس کر سکیں۔
احتسام مسکراتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔
میں زرا دیکھوں ان لڑکیوں کو پیکنگ کہاں تک پہنچی ان کی۔
احتسام کی امی مسکراتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
احتسام آپ سے ضروری بات کرنی ہے’صلہ احتسام کی امی کے جاتے ہی احتسام کے پاس جا بیٹھی۔
احتسام فون سائیڈ پر رکھ کر صلہ کی طرف متوجہ ہوا۔
جی حکم کریں جناب!
احتسام سینے پر ہاتھ باندھے سر خم کرتے ہوئے متوجہ ہوا۔
صلہ مسکرا دی’احتسام مجھے آپ سے روشنی کے بارے میں بات کرنی ہے۔
کیا وہ بھی ہمارے ساتھ جائے گی؟
احتسام کو صلہ کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
“یہ کیسا سوال ہے صلہ؟
روشنی تمہاری چھوٹی بہن ہے صلہ’ظاہری سی بات ہے ہم اسے اکیلا تو نہی چھوڑ کر جا سکتے ناں”
احتسام کی بات سُن کر صلہ مسکرا دی’تھینکس احتسام کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولی۔
میڈم ہم کمرے میں نہی ہیں’برائے مہربانی میرا ہاتھ چھوڑ دیں۔
احتسام صلہ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
صلہ شرماتے ہوئے جلدی سے پیچھے ہٹی’اور اٹھ کر کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
احتسام مسکراتے ہوئے اس جھلی سے لڑکی کو کمرے میں جاتے دیکھ رہا تھا۔
پیکنگ ہوئی تو احتسام نے سارے بیگز اٹھا کر گیراج میں رکھ دئیے۔
صلہ اچھی طرح دیکھ لو’کوئی چیز رہ تو نہی گئی۔
احتسام صلہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
نہی۔۔۔میرا کچھ رہا ہی نہی اب یہاں’ماما بابا ہی میرا کل اثاثہ تھے۔
صلہ کی آنکھوں سے آنسو روا ہو گئے۔
احتسام کی امی نے صلہ کو گلے سے لگا لیا’بیٹا ہم سب ہیں نا تمہارے ساتھ۔
اب یہ آنسو پونچھ ڈالو’صبر کرو میری بچی۔
یہی زندگی ہے’حقیقت کو تسلیم کرو۔
مظبوط بناو خود کو’
صلہ کو روتے دیکھ احتسام کے چہرے پر بھی اداسی چھا گئی۔
آخر کار وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
امی پہلے آپ سب کو چھوڑ آوں گھر’پھر یہ بیگز لے آوں گا۔
ایک ساتھ سب کا جانا مشکل ہے۔
میں لے جاتی ہوں سب کو گھر اپنی گاڑی میں آپ سامان لے کر آ جانا۔
صلہ نے احتسام کی پریشانی دور کر دی۔
ہاں یہ ٹھیک ہے!
میرے ذہن میں نہی رہا کہ محترمہ کے پاس اپنی گاڑی ہے۔
احتسام مسکراتے ہوئے بولا’تو باقی سب بھی مسکرا دئیے۔
صلہ مسکراتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
صلہ سب کو ساتھ لے کر احتسام کے گھر کی طرف بڑھ گئی۔
وہ گھر جو اس کا اپنا گھر ہے اب’احساس بدل چکے تھے۔
اس گھر کے ساتھ کتنی یادیں جڑی تھیں اس کی’مگر ایک نا ایک دن تو اسے یہ گھر چھوڑنا ہی تھا۔
دل میں تھوڑی اداسی تھی’مگر وہ خوش تھی۔
احتسام کا نام جو جڑ چکا تھا اس کے نام کے ساتھ۔
اب وہ بلکل محفوظ تھی۔
اب کسی کوٹھے پر نہی جانا پڑے گا اسے’
یہی تو وہ چاہتی تھی کہ کوئی اسے اپنا لے’اسے اس دلدل بھری زندگی سے نجات دلا دے۔
وہ ایک عزت دار عورت کی طرح زندگی گزارنا چاہتی تھی۔
بلکل ویسے ہی جیسے ایک عورت اپنے شوہر کے مظبوط تحفظ میں رہتی ہے۔
احتسام اس کے لیے ایک گھنا سایہ ثابت ہوا تھا’زندگی پھر سے جی اٹھی۔
صلہ گھر پہنچ کر اندر کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ احتسام کی امی نے اس روک دیا۔
ابھی نہی’جب احتسام آ جائے تب ہی تم اندر آ سکتی ہو۔
صلہ گھبرا گئی’کیوں آنٹی کیا ہوا؟
صلہ گھبراتے ہوئے بولی’
نہی نہی بیٹا پریشانی والی کوئی بات نہی’
میں چاہتی ہوں تم دونوں ایک ساتھ گھر میں داخل ہو۔
احتسام بس آتا ہی ہو گا’رانیہ اور روشنی اندر کی طرف بڑھ گئیں جلدی سے۔
صلہ اور احتسام کی امی وہی کھڑیں احتسام کا انتظار کرنے لگیں۔
تھوڑِی دیر بعد ہی احتسام کی گاڑی گھر کے باہر آ رکی۔
احتسام پریشان سا گاڑی سے باہر نکلا۔
کیا ہوا آپ دونوں باہر کیوں رکی ہیں’اندر کیوں نہی جا رہی۔
احتسام پریشانی سے دونوں کو دیکھنے لگا۔
میں نے روکا ہے صلہ کو یہاں’میں چاہتی ہوں تم دونوں ایک ساتھ گھر میں قدم رکھو۔
اوہ۔۔۔امی میں تو ڈر ہی گیا تھا۔
احتسام دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
انہوں نے آگے بڑھ کر احتسام کے ہاتھ پر صلہ کا ہاتھ رکھ دیا۔
اب آ سکتے ہو تم دونوں اندر’وہ مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھیں۔
احتسام نے صلہ کا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا۔
ایک نظر صلہ پر ڈالی اس نے’صلہ مسکراتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔
چلیں مسز’احتسام نے مسکراتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے۔
صلہ بھی مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی اندر کی طرف بڑھی۔
جیسے ہی وہ دونوں گیٹ سے اندر داخل ہوئے’ان پر گلاب کی پتیاں نچھاور کیں رانیہ نے۔
اور روشنی پکچرز بنانے لگی’
یہ پھول رانیہ نے ابھی ابھی کیاریوں سے توڑے تھے۔
احتسام اور صلہ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا دئیے۔
ویلکم بھابی’رانیہ پھول نچھاور کرتے ہوئے بول رہی تھی۔
یہ لمحہ صلہ کو اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ لگا۔
اس کا ہاتھ اب بھی احتسام کے ہاتھ میں تھا’دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
آئی لو یو’احتسام نے صلہ کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی۔
صلہ نے شرما کر ایک ہاتھ چہرے پر رکھ لیا’اور مسکرا دی۔
احتسام کا صلہ کی طرف جھکنا’اور صلہ کا شرما کر چہرے پر ہاتھ رکھ کر مسکرانا۔
یہ سب کیمرے میں محفوظ ہو چکا تھا’
احتسام اندر ٹی وی لاونج میں پہنچا تو رانیہ نے صلہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
بس بھائی آپ کی انٹری ختم ہوئی’اب جا کر گاڑیاں پارک کریں۔
صلہ اور احتسام دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
اور دونوں مسکرا دئیے’احتسام نے آگے بڑھ کر رانیہ کا کان کھینچا۔
باز نہی آنے والی تم’
رانیہ چلانے لگی’چھوڑیں بھائی یہ ظلم ہے۔
احتسام نے ہنستے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔
اور صلہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
آئیں بھابی آپ کو آپ کا کمرہ دکھا دوں’رانیہ صلہ کو بازو سے کھینچتے ہوئے اوپر لے گئی۔
احتسام کے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے صلہ کو لیے اندر داخل ہوئی۔
کمرے کے سارے پردے’شیٹس،صوفے،دیواریں،یہاں تک کہ فرنیچر بھی سب کا رنگ سفید تھا۔
صلہ حیرانگی سے ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی’ہر چیز سے نفاست جھلک رہی تھی۔
بھابی یہ کمرہ اب آپ کا بھی ہے لیکن ابھی کچھ دن مزید انتظار کرنا پڑے گا آپ کو اس کمرے میں آنے کے لیے۔
رانیہ کی بات پر صلہ مسکرائے بنا نہ رہ سکی’
اچھا بھابی بیٹھیں میں کھانا لگا لوں امی کے ساتھ پھر آتی ہوں۔
رانیہ مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
سامنے دیوار پر لگی احتسام کی تصویر جاذبِ نظر لگ رہی تھی۔
صلہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی تصویر کی جانب بڑھی’ تصویر کو چھو کر دیکھنے لگی۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ بنا پلکیں جھپکائے تصویر کو دیکھنے میں مگن تھی۔
اچانک اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا’وہ پلٹی تو سامنے احتسام کھڑا تھا۔
صلہ مسکرا کر دوبارہ تصویر کی طرف متوجہ ہو گئی۔
Episode 24
احتسام مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔
صلہ کو احتسام کی نظریں کنفیوزڈ کر رہی تھی۔
وہ جان بوجھ کر تصویر پر نظریں گاڑھے کھڑی تھی۔
ویسے مجھ سے اچھی تو یہ میری تصویر ہے’کم ازکم اس کی طرف دیکھ تو رہی ہو تم۔
میں کب سے یہاں کھڑا ہوں’مجال ہے جو ایک نظر بھی مجھ پر ڈالی ہو۔
احتسام ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بولا۔
صلہ مسکرا دی’ویسے ایک بات پر میں بہت حیران ہوں۔
صلہ احتسام کی تصویر کو چھوتے ہوئے بولی۔
احتسام چونکا!
کس بات پر’جلدی سے ہاتھ چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہوا۔
یہی کہ پہلے تو آپ مجھ سے بات کرنا بھی پسند نہی کرتے تھے۔
اب اچانک سے محبت کا اظہار بھی کر دیا’چند گھنٹوں میں محبت بھی ہو گئی آپ کو مجھ سے۔
ویسے یہ بات کچھ ہضم نہی ہوئی مجھے۔
احتسام نے اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا’اور صلہ کو بازو سے کھنچتے ہوئے اپنے قریب کیا۔
“وہ اس لیے کہ اب تمہارا حق ہے کہ میں تم سے اظہارِ محبت کروں’
کیونکہ اب ہمارے درمیان ایک جائز رشتہ ہے،،
“ایک دوسرے سے اظہارِ محبت ہمارا حق ہے’
“محبت کا اظہار جائز رشتے کو مظبوط بناتا ہے،،
تب ہمارے درمیان کوئی رشتہ نہی تھا’لیکن اب ہم میاں بیوی ہیں۔
“تمہارا مجھ پر پورا حق ہے’اور میرا تم پر،،
آ گئی سمجھ؟
جی۔۔۔صلہ نے مختصر جواب دیا’
تو پھر کرو اظہار مجھ سے محبت کا’احتسام مسکراتے ہوئے بولا۔
صلہ نے چونک کر احتسام کی طرف دیکھا’اور اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔
احتسام مسکراتے ہوئے صلہ کا ہاتھ ہونٹوں تک لے گیا۔
صلہ شرما کر سر جھکا گئی’
رانیہ۔۔۔صلہ ڈرتے ہوئے بولی’
احتسام نے جلدی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا’اور پلٹا۔
مگر رانیہ کہی بھی نہی تھی’
صلہ فوراً وہاں سے دوڑ لگا گئی۔
احتسام بھی مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
ڈنر کرنے کے بعد رانیہ نے صلہ کو اس کا کمرہ دکھا دیا۔
رانیہ نے صلہ اور روشنی کو سارا گھر دکھا دیا’سوائے ایک کمرے کے۔
یہ کس کا کمرہ ہے’ یہ کمرہ کیوں نہی دکھایا تم نے روشنی احتسام کے کمرے کے ساتھ والے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
وہ اس لیے کہ یہ کمرہ بند ہے’اس کی چابی بھائی کے پاس ہے۔
ان کے علاوہ اس کمرے میں کوئی نہی جا سکتا’
کیوں؟
ایسا کیا ہے اس کمرے میں’صلہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
پتہ نہی!
صلہ نے کندھے اچکا دئیے۔
آپ خود ہی کیوں نہی پوچھ لیتی بھائی سے’رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
چلیں آپ دونوں آرام کر لیں اب’صبح سب نے آنا ہے۔ایسے میں آرام کرنے کا وقت نہی ملے گا آپ کو۔
رانیہ نے اپنا کمرہ صلہ اور روشنی کو دے دیا’اور خود امی کے کمرے میں چلی گئی۔
اگلے دن گھر میں خوب تیاریاں چل رہی تھیں’صلہ کچن میں گئی۔
لیکن احتسام کی امی نے اسے باہر بھیج دیا’
صلہ نے آج گرے کلر کا ڈیزائینر سوٹ پہن رکھا تھا’رانیہ نے زبردستی اس کا لائٹ سا میک اپ کر دیا۔
وہ حیران رہ گئی جب سیڑھیوں سے نیچے آتے احتسام کو دیکھا۔
احتسام نے بھی گرے کلر میں شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔
احتسام مسکراتے ہوئے صلہ کے ساتھ والے صوفے پر آ بیٹھا۔
اسلام و علیکم!
احتسام نے مسکراتے ہوئے سلام کیا’
وعلیکم اسلام’صلہ نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
یہ کیا۔۔؟
کچن سے نکلتی رانیہ کی آواز پر دونوں چونکے!
آپ دونوں نے سیم کلر پہن رکھے ہیں واہ۔۔۔رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
ہاں بائے چانس!
احتسام مسکراتے ہوئے بولا۔
نہی نہی۔۔بائے چانس نہی پلاننگ سے ہوتا ہے ایسا’رانیہ صلہ کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔
رانیہ تم خود جاو گی یہاں سے یا پھر میں بھیجوں تمہیں’احتسام نے دھمکی لگائی۔
رانیہ کو یاد آ گیا’اس کا کان ابھی بھی درد ہو رہا تھا۔
نہی نہی بھائی میں جا رہی ہوں’رانیہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھ گئی۔
احتسام کی دھمکی کام کر گئی۔
احتسام اور صلہ دونوں مسکرا دئیے۔
اچھی لگ رہی ہو’احتسام صلہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
صلہ نے یہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔
وہ تیزی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔
احتسام کے قہقے کی آواز صلہ کے کانوں میں پڑی۔
دوپہر تک تایا ابو کی فیملی اور پھوپھو کی فیملی پہنچ گئیں گھر۔
احتسام اور صلہ کو مبارک باد دی سب نے’اور صلہ کو بہت پسند کیا سب نے۔
ہانیہ بھی بہت خوش ہوئی صلہ کو بھابی کے روپ میں دیکھ کر۔
اگلے مہینے کی ڈیٹ فکس کر دی گئی شادی کی۔
_______________
سب نے صلہ کی خوب تعریفیں کی۔
اب وہ ان کے گھر کی عزت جو بن چکی ہے۔
وہ کون ہے’کہاں سے آئی ہے۔
اس کا خاندان کہاں ہے’کسی نے کوئی سوال نہی کیا۔
سب کو یہ اطمینان تھا کہ احتسام کے ساتھ پڑھتی تھی۔
احتسام نہی جانتا امی نے چاچو اور پھوپھو سے کیا کہا’اس نے تو بس امی کو کہا کہ آپ بس چاچو اور پھوپھا جی کو بلا لیں۔
انہوں نے بھی کوئی خاص انفارمیشن نہی مانگی’البتہ حیران ضرور ہوئے تھے۔
گڑیا کو صلہ بہت پسند آئی’اور روشنی کو تو سب نے لاڈلی ہی بنا ڈالا۔
سب کا پیار اور توجہ حاصل کر کے روشنی بہت خوش ہوئی۔
زوہیب کی شرارتیں ویسے کی ویسی ہی تھی رانیہ کے ساتھ۔
رانیہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد زوہیب کو ایک عدد گھوری نواز دیتی۔
مگر زوہیب پر اس کی گھوریوں کا کوئی اثر نہی پڑ رہا تھا۔
وہ کسی نا کسی بہانے سے رانیہ کو تنگ کر رہا تھا۔
صلہ بس چپ چاپ بیٹھی ان دونوں کی حرکتیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
مرد حضرات سب ڈرائینگ روم میں بیٹھے گپیں لڑا رہے تھے’سوائے زوہیب کے۔
اور خواتین ٹی وی لاونج میں جمع تھیں۔
گڑیا نے صلہ کے کان میں سرگوشی کی’ان دونوں کی شادی ہونے والی ہے’
ابھی تک یہ دونوں”چوہے،بلی کی طرح لڑتے ہیں۔
پتہ نہی شادی کے بعد ان کا کیا ہو گا۔
گڑِیا کی بات پر صلہ محض مسکرا سکی’
ویسے چچی جان میں تو کہتی ہو کہ اب رانیہ کو بھی رخصت کرنے کی تیاری کر لیں آپ’
گڑِیا کی بات پر زوہیب اور رانیہ نے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
زوہیب مسکراتے ہوئے فون کان سے لگائے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔
رانیہ بھی روشنی کو ساتھ لیے کچن میں گھس گئی۔
صحیح کہا نا امی میں نے؟
گڑیا اپنی ساس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
چچی جان کے پاس تو اب صلہ آ گئی ہے۔
بلکہ اکیلی صلہ نہی’دو بیٹیاں آ گئی ہیں آپ کی’صلہ اور روشنی۔
اب رانیہ کو ہمیں دے دیں آپ’ویسے بھی میرا دیور بیچارا سوکھ رہا ہے شادی کے انتظار میں۔
گڑیا کی بات پر سب نے ایک ساتھ قہقہ لگایا۔
ہاں بھئی سوچتی ہوں کچھ’کرتی ہوں بات احتسام سے۔
یونہی دیر رات تک سب گپیں لڑاتے رہے’لنچ،ڈنر سب نے یہی کیا آج۔
آخر کار گیارہ بجے سب اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دئیے۔
صلہ ابھی تھکی ہاری اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گئی۔
احتسام شاید کہی بار گیا ہوا تھا۔
روشنی صلہ کے کان کھاتے کھاتے آخر کار تھک کر سو گئی۔
صلہ کو نیند نہی آ رہی تھی’عجیب سی بے چینی نے گھیر رکھا تھا اسے۔
اسے اپنے ماما،بابا کی کمی محسوس ہو رہی تھی شدت سے۔
آنکھوں سے آنسو پھر سے جھلک آئے تھے۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی آنسو بہاتی رہی۔
تب ہی اچانک اس کے کانوں میں احتسام کی آواز پڑی۔
صلہ’احتسام نے آہستہ سے اسے پکارا۔
صلہ پلٹی تو احتسام دروازے کے پاس کھڑا تھا’ہاتھ کے اشارے سے صلہ کو باہر بلایا۔
صلہ جلدی سے آنسو پونچھ کر کمرے کی لائٹ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔
احتسام اسے چھت کی طرف جاتی سیڑھیوں پر کھڑا نظر آ گیا۔
صلہ بھی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی’احتسام نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
صلہ نے مسکراتے ہوئے احتسام کا ہاتھ تھام لیا’اور دونوں چھت کی طرف بڑھ گئے۔
چھت پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
‘احتسام صلہ کو ساتھ لیے لے چھت پر رکھے جھولے کی طرف بڑھ گیا۔
دونوں جھولے پر بیٹھ گئے۔
چاند کی چاندنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔
تیز ہوا سے صلہ کے بال اڑ کر بار بار اس کے چہرے کو چھو رہے تھے۔
وہ بار بار اپنے بال کانوں کے پیچھے سمیٹ رہی تھی۔
احتسام کو یہ منظر بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔
“کاش ٹہر جائے یہ رات’
تیری زلفوں کے سائے میں’
یہ ہوائیں بھی تیری دیوانی سی لگتی ہیں’
جو گزرتی ہیں یہ تجھے چھو کر۔
تو یہ منظر ان آنکھوں کو پیارا لگے،،
احتسام مدھم لہجے میں بولتا صلہ کے دل کی دھڑکن بڑھا گیا۔
صلہ نے مسکراتے ہوئے احتسام کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
کیوں بلایا ہے آپ نے مجھے؟
اگر کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا’صلہ احتسام کے کندھے پر سر ٹکائے بولی۔
صلہ کا ہاتھ ابھی بھی احتسام کی گرفت میں تھا۔
احتسام مسکرا دیا’کوئی دیکھ بھی لے گا تو کچھ نہی کہے گا۔
بس یہی سوچے گا کہ احتسام اپنی بیوی کے ساتھ ہے۔
کون کیا سوچے گا اس کی پرواہ نہی ہے مجھے’میں اپنی بیوی کے ساتھ ہوں۔
ہر بات کا جواب ہوتا ہے آپ کے پاس صلہ مسکراتے ہوئے بولی۔
ہاں یہ تو ہے’احتسام بھی مسکرا دیا۔
صلہ اصل میں مجھے ایک ضروری بات کرنی تھی تم سے۔
دراصل بات یہ ہے کہ میں وہ جاب چھوڑ چکا ہوں۔
اس وقت میں جاب لیس ہوں۔
لیکن گھر میں یہ بات کسی کو نہی پتہ۔
میں یہ بات صرف تم سے شئیر کر رہا ہوں۔
تم بھی یہ بات اپنے تک ہی رکھنا۔
دو تین کمپنیز میں اپلائے کیا ہے میں نے’جلدی مل جائے گی جاب مجھے۔
لیکن ایک مسئلہ ہے’کل مجھے باس کی طرف سے ایک لیٹر آیا تھا’جس میں یہ لکھا تھا کہ میں ان کے آفس سے جاب نہی چھوڑ سکتا۔
کیونکہ میں نے پانچ لاکھ کا لان لیا ہوا ہے۔
اور کمپنی رولز کے مطابق جب تک میں اپنا لان ادا نا کر دوں۔
میں اس کمپنی کو نہی چھوڑ سکتا۔
اگر میں نے ایسا کیا تو پولیس کیس بن سکتا ہے۔
اسی وجہ سے پریشان ہوں میں’سمجھ نہی آ رہا کیا کروں۔
احتسام نے اپنی پریشانی صلہ کے ساتھ شئیر کر کے دل کا بوجھ ہلکا کیا۔
آپ کی پریشانی کا حل ہے میرے پاس’صلہ احتسام کے کندھے سے سر اٹھاتے ہوئے بولی۔
وہ کیا؟
احتسام نے حیرانگی سے صلہ کی طرف دیکھا۔
وہ یہ کہ جو پیسے باس نے آپ کو دئیے تھے’وہ میرے پیسے تھے۔
اور اس بات کا ثبوت ہے میرے پاس’کل صبح ہم آفس جائیں گے۔
اور سارا معاملہ کلئیر کر دیں گے۔
ثبوت مطلب؟
میں کچھ سمجھا نہی’اور وہ پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟
احتسام نظریں چرا گیا’مطلب اس نے کوٹھے کی کمائی سے اپنی بہن کی شادی کی۔
ڈونٹ وری!
آپ جیسا سمجھ رہے ہیں ویسا نہی ہے۔
وہ پیسے بابا نے مجھے جمع کروائے تھے’ان کی محنت کی کمائی کے پیسے تھے وہ’
وہ ہر مہینے بیس ہزار دیتے تھے مجھے’میری شادی کے لیے پیسے جوڑ رہے تھے وہ۔
صلہ اداس ہو گئی’میری شادی تو پتہ نہی کب ہوتی’یا پھر شاید ہوتی ہی نا۔
تو میں نے سوچا کیوں نا آپ کی تھوڑی مدد ہی کر دوں۔
اس دن جب میں آپ کے گھر آئی تھی’تو آپ کی اور آنٹی کی ساری باتیں سن لی تھیں میں نے۔
اسی دن میں نے سوچ لیا کہ کسی طرح یہ پیسے آپ تک پہچانے ہو گے۔
پھر میں نے آپ کے آفس جانے کا سوچا’
آپ کو یاد ہو شاید جس دن آپ کو باس نے لان دینے کی اجازت دی تھی۔
اس دن صبح آپ کے آفس میں ایک برقعہ پوش عورت آئی تھی۔
احتسام نے ذہن پر زور ڈالا’ہاں مجھے یاد ہے۔
احتسام چونکا!
تو کیا وہ تم تھی؟
جی۔۔۔صلہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
احتسام کو یہ لڑکی مزید حیرتوں میں دھکیلتی جا رہی تھی۔
اتفاق سے آپ کے باس کو میں بہت بار دیکھ چکی تھی کوٹھے پر۔
اور انہوں نے بھی مجھے پہچاننے میں دیر نہی لگائی۔
میں نے ان کے سامنے پانچ لاکھ کا چیک رکھ دیا۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے چیک تھام لیا’اور بدلے میں کوٹھے پر آنے کی فرمائش کر ڈالی۔
لیکن مجھے یہ نہی پتہ تھا کہ وہ آپ کو بھی ساتھ لے آئے گا۔
جب میں نےآپ کو وہاں دیکھا تو ایسے لگا جیسے وہاں آپ کے سوا اور کوئی ہے ہی نہی۔
مجھے آپ کی الجھن اور دکھ بھری آنکھوں کا سامنا کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔
میرے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔
ایسا لگ رہا تھا’جیسے سب ختم ہو گیا ہو۔
ساری خواہشیں دم توڑ چکی تھیں۔
اور اس دن پہلی بار میں نے شراب کو ہاتھ لگایا۔
درد کی شدت برداشت سے باہر ہو چکی تھی’اب اس درد کو کم کرنے کے لیے کوئی دوا تو چاہیے تھی ناں۔
آپ وہاں سے چل پڑے’مجھے لگا میری زندگی ختم ہو رہی ہے۔
میری سانس ابھی رُک جائے گی۔
مگر جیسے ہی آپ نے میری طرف پلٹ کر دیکھا’تو ایسے لگا جیسے زندگی پھر سے جی اٹھی ہو۔
دل میں امید کی ایک نئی کرن جاگی۔
صلہ احتسام کے کندھے پر سر رکھے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھی۔
احتسام نے صلہ کے گرد اپنے بازو پھیلا دئیے’
“میں تمہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا تھا’نرمی سے صلہ کے ماتھے کو چھوا۔
جو ہونا تھا وہ ہو چکا’سب بھول جاو۔
اب زندگی میں بس خوشیاں ہی تمہاری منتظر ہیں۔
“میں وعدہ کرتا ہوں اپنی آخری سانس تک تمہارا سانس نبھاوں گا،،
صلہ سر احتسام کے سینے پر رکھ کر آنکھیں بند کر گئی۔
کچھ دیر تک دونوں یونہی بیٹھے رہے’احتسام نے صلہ کو پکارا مگر صلہ کچھ نہی بولی۔
احتسام نے صلہ کا گال تھپتپایا تو وہ سو چکی تھی۔
احتسام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔احتسام نے صلہ کو بازوں میں اٹھایا اور نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
کمرے کا دروازہ کھولا’اور بنا لائٹ آن کیے کمرے میں داخل ہو گیا۔
صلہ کو بیڈ پر لٹا کر اس پر چادر اوڑھا دی۔
صلہ کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر مسکراتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کیے باہر نکل گیا۔
صلہ گہری نیند میں تھی’ایسے لگ رہا تھا جیسے کئی راتوں سے سو نا سکی ہوں۔
آج جیسے سکون سا مل گیا ہو اسے’احتسام مسکراتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گیا۔
صبح صلہ کی آنکھ کھلی تو خود کو بستر پر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
اسے یاد آیا کہ وہ رات کو احتسام کے پاس تھی’شاید وہیں سو گئی تھی۔
تو پھر میں کمرے میں کیسے آئی’سوچ کر ہی صلہ کے گال چمک اٹھے۔
وہ اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی’روشنی بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ گئی۔
صلہ نے نماز پڑھ کر خدا کا شکر ادا کیا۔
اللہ کی بہت شکر گزار تھی وہ کہ اللہ نے اسے احتسام کی صورت میں محبت کرنے والا شوہر عطا کیا۔
روشنی نے بھی نماز پڑھی’اور دل سے صلہ کی خوشیوں کی دعا مانگی۔
روشنی نے نماز پڑھ لی تو دونوں کمرے سے باہر نکل گئیں۔
رانیہ امی کے ساتھ کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھی۔
روشنی اور صلہ دونوں سلام کرتے ہوئے کچن میں داخل ہوئیں۔
احتسام کی امی نے باری باری دونوں کا ماتھا چوما۔
احتسام بھی ابھی ابھی مسجد سے واپس آیا’سب کی کچن سے آتی آوازیں سن کر کچن میں ہی آ گیا۔
وائٹ شلوار قمیض پہنے’وہ مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔
اسلام و علیکم!
مسکراتے ہوئے سب کو مشترکہ سلام کیا۔جب کہ نظریں صلہ پر ہی جمی تھیں۔
صلہ شرما کر نظریں جھکا گئی’رات والی اپنی حرکت سوچ کر وہ احتسام سے نظریں نہی ملا پا رہی تھی۔
احتسام مسکراتے ہوئے کچن سے باہر آ گیا۔
پھر واپس پلٹا’
صلہ میرے کپڑے نکال دو آفس کے لیے پلیز!
احتسام کی بات پر صلہ نے چونک کر سب کی طرف دیکھا۔
ہاں بیٹا جاو نکال دو کپڑے احتسام کو’احتسام کی امی مسکراتے ہوئے بولیں۔
پہلے تو آپ اپنے کپڑے خود ہی نکال لیتے تھے بھائی!
بھابی کو آئے ابھی ایک رات ہی ہوئی ہو’اور امی دیکھ رہی ہیں آپ۔
ابھی سے بھائی نے حُکم چلانے شروع کر دئیے بھابی پر’رانیہ کہاں چپ رہنے والی تھی۔
تم چپ رہو’اور آملیٹ پر دھیان دو جل رہا ہے۔
امی نے رانیہ کو ڈانٹا تو احتسام ہنسنے لگا۔
رانیہ نے غصے سے احتسام کی طرف دیکھا۔
احتسام صلہ کو ساتھ لیے کچن سے باہر نکل گیا۔
روشنی رانیہ کی مدد کروانے لگی’بہت منع کیا رانیہ نے اسے مگر روشنی پر کوئی اثر نہی پڑا۔
صلہ نے احتسام کے کپڑے نکال دئیے’وہ ایک کر کے ساری شرٹس احتسام کو دکھا رہی تھی۔
احتسام سر نفی میں ہلا دیتا’وہ جان بوجھ کر صلہ کو تنگ کر رہا تھا۔
صلہ نے حیرانگی سے احتسام کی طرف دیکھا۔
احتسام میں ساری شرٹس نکال چکی ہوں’
تو میں کیا کروں’جو شرٹ مجھے چاہیے وہ تو نہی دکھائی تم نے۔
ڈھونڈ کر دو مجھے احتسام ڈھٹائی سے بیڈ پر لیٹ گیا۔
دوسرے کمرے کی چابی دیں مجھے’شاید اس کمرے کی الماری میں رکھی ہو آپ کی شرٹ۔
صلہ کی بات پر احتسام چونک کر اٹھ بیٹھا’کونسا کمرہ؟
