Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Na Jani (Episode 25)

Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi 

احتسام گھبراتے ہوئے بولا’

یہ ساتھ والے کمرے کی بات کر رہی ہوں میں’یہ کمرہ بھی تو آپ کا ہے۔

تو ہو سکتا ہے وہاں پر ہو آپ کی شرٹ جو آپ ڈھونڈ رہے ہیں۔

نہہی وہاں کوئی شرٹ نہی ہے’میں تو بس ایسے ہی تنگ کر رہا تھا تمہیں۔

لاو ان میں سے کوئی بھی شرٹ دے دو مجھے’

صلہ نے احتسام کے لہجے میں گھبراہٹ اور اس کے چہرے کا بدلتا رنگ واضح محسوس کیا۔

لیکن احتسام کے سامنے اس نے ظاہر نہی کیا۔

مسکراتے ہوئے بلیو شرٹ اور بلیو جینز احتسام کی طرف بڑھا دی۔

احتسام کپڑے صلہ کے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

وہ صلہ سے نظریں نہی ملا پا رہا تھا۔

صلہ سمجھ گئی’کچھ تو ہے اس کمرے میں جو احتسام سب سے چھپا رہا ہے۔

صلہ ساری شرٹس دوبارہ الماری میں سیٹ کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔

احتسام تھوڑی دیر بعد تیار ہو کر نیچے آ گیا۔

مسکراتے ہوئے صلہ کی طرف دیکھا’صلہ بھی مسکرا دی۔

سب نے ایک ساتھ ناشتہ کیا’

صلہ میرے ساتھ چلنا ہو گا تمہیں’وہ امی دراصل صلہ نے جن سے مکان لے رکھا تھا۔

ان کی طرف کچھ پیسے رہتے ہیں صلہ کے’اور چابی بھی واپس کرنی ہے ان کو۔

تو ایسے میں صلہ کا ساتھ جانا بہت ضروری ہے۔

ہاں کوئی بات نہی’جاو صلہ بیٹا تیار ہو جاو۔

صلہ سر ہلاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے باہر آ گئی۔

صلہ آئی تو احتسام اس کو ساتھ لیے خدا حافظ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔

احتسام نے گاڑی باہر نکالی’اور صلہ کے پرانے گھر کی طرف موڑ دی۔

مالک مکان کو ساری صورتحال بتائی’اور ان کو چابی واپس کر دی گھر کی۔

کچھ مہینوں تک ایڈوانس واپس کرنے کا بول دیا مالک مکان نے۔

مالک مکان کا گھر کچھ فاصلے پر تھا صلہ کے گھر سے’

صلہ پرانے گھر کے پاس ہی کھڑی تھی’سوچوں میں ڈوبی۔

بہت سی یادیں جڑیں تھیں اس گھر سے مگر اب یہ گھر چھوڑنا’صلہ بہت دکھی ہو رہی تھی۔

احتسام کی نظر دور کھڑی صلہ پڑ پڑی’تو وہ مالک مکان کو خدا حافظ کہتے ہوئے صلہ کی طرف بڑا۔

چلیں’احتسام صلہ کے پاس آ رکا۔

صلہ احتسام کی طرف دیکھ کر مسکرا دی’اور دونوں گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔

احتسام نے گاڑی آفس کے باہر روک دی’اور صلہ کو ساتھ لیے آفس میں داخل ہوا۔

سب نے حیران کن نظروں سے احتسام اور صلہ کو ساتھ آتے ہوئے دیکھا۔

احتسام صلہ کو ساتھ لیے آفس میں داخل ہو گیا۔

سیکرٹری چلاتی رہی سر آپ ایسے اندر نہی جا سکتے۔

مگر احتسام نے اس کی ایک بات نہی سنی’اور آفس میں داخل ہو گیا۔

باس نے حیرانگی سے احتسام کی طرف دیکھا’اور پھر صلہ پر نظر پڑی تو ایک کڑوی مسکراہٹ اچھالی احتسام کی طرف۔

ارے ارے آئیں جناب تشریف رکھئیے!

باس نخوست سے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا دیا۔

ہم یہاں بیٹھنے نہی آئے’احتسام نے لیٹر باس کے سامنے ٹیبل پر پھینکا۔

یہ کیا بدتمیزی ہے احتسام؟

باس غصے سے چلایا’

یہی تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا بدتمیزی ہے یہ!

احتسام دونوں ہاتھ ٹیبل پر ٹکائے باس کی طرف جھکتے ہوئے بولا۔

یہ بدتمیزی نہی ہے مسٹر احتسام’تم نے معاہدہ کیا تھا میرے ساتھ پانچ لاکھ لان لیا ہے۔

اور کمپنی رولز کے مطابق جب تک تم پانچ لاکھ واپس نہی کر دیتے’تب تک ریزائن نہی کر سکتے۔

سہی کہا آپ نے یہ کمپنی رولز ہیں’مگر یہ رولز مجھ پر تب لاگو ہوتے ہیں۔

جب یہ پیسے مجھے کمپنی نے دئیے ہو’امید ہے میری بات آپ سمجھ گئے ہو گے سر!

احتسام کا اشارہ صلہ کی طرف تھا۔

اور باس نے احتسام کا اشارہ سمجھ لیا۔

وہ پیسے تمہیں کمپنی نے ہی دئیے تھے’باس ڈھٹائی سے بولا۔

صلہ نے اپنے فون احتسام کو دیا’احتسام نے آڈیو پلے کی۔

جی جی میں نے دے دیا ہے میڈم صلہ آپ کا دیا ہوا پانچ لاکھ احتسام کو۔

“شک تو نہی ہوا احتسام کو”

یہ صلہ کی آواز تھی۔

نہی نہی کوئی شک نہی ہوا احتسام کو آپ بے فکر ہو جائیں’یہ باس کی آواز تھی۔

اور کوئی کام میرے لائق؟

باس نخوست سے بولا’

مگر صلہ نے اس کی بات کا جواب دئیے بغیر ہی کال کاٹ دی۔

باس کے چہرے کے رنگ بدلے’

اب کیا خیال ہے آپ کا سر؟

احتسام مسکراتے ہوئے بولا۔

“سوچ سمجھ کر بولئے گا پولیس کیس بن سکتا ہے’اور یہ بھی سوچ لیں جب آپ کی فیملی کو پتہ چلے گا کہ آپ کوٹھوں پر جاتے ہیں۔

تو کیا بیتے گی ان پر،،

کیا چاہتے ہو تم؟

باس نہایت غصے میں بولا’

احتسام نے ریزائیننگ لیٹر باس کی طرف بڑھایا۔

اس پر سائن کر دیں’اور میری پچھلے منتھ کی سیلری کا چیک بنا دیں۔

احتسام صلہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا’بدلے میں صلہ بھی مسکرا دی۔

باس نے ایک نظر ان دونوں کے مسکراتے چہروں پر ڈالی۔

غصے سے پین اٹھا کر سائن کر دئیے’اور چیک پھاڑ کر اس پر بھی سائن کر کے احتسام کی طرف بڑھا دیا۔

احتسام نے مسکراتے ہوئے چیک تھام لیا’تھینک یو سر!

دونوں مسکراتے ہوئے آفس سے باہر نکل آئے۔

چلیں؟

احتسام گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا’

کہاں؟

صلہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا’

اپنے گھر۔۔۔اور کہاں احتسام نے مسکراتے ہوئے گاڑی گھر کی طرف بڑھا دی۔

صلہ مسکرا دی۔

احتسام مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔

میں یہ بات نکاح سے پہلے ہی آپ سے کرنا چاہتی تھی مگر موقع ہی نہی ملا۔

ہاں بتاو ناں’کیا بات کرنی ہے۔

احتسام وہ دراصل میں صلہ’

صلہ ابھی بولنے ہی لگی تھی کہ احتسام کا فون۔بجنے لگا۔

احتسام نے گاڑی سائیڈ پر روک دی’اور فون کان سے لگا لیا۔

فون پر بات کرتے ہوئے احتسام بہت خوش لگ رہا تھا۔

فون بند کر کے احتسام صلہ کی طرف مڑا۔

جاب انٹرویو کے لیے کال تھی’ابھی جانا ہے مجھے۔

میں گھر ڈراپ کر دوں تمہیں پھر چلتا ہوں۔

صلہ مسکرا دی’مبارک ہو۔

احتسام بھی مسکرا دیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔

تم بہت لکی ہو میرے لیے صلہ’

پچھلے ایک ماہ سے میں جاب کے لیے خوار ہو رہا تھا۔

اور دیکھو تمہارے میرے زندگی میں آنے سے جاب مل گئی مجھے۔

احتسام کی بات پر صلہ کھلکھلا کر ہنس دی’احتسام بھی مسکرا دیا۔

ایسے ہی ہنستی رہا کرو اچھی لگتی ہو’احتسام گھر کے باہر گاڑی پارک کرتے ہوئے بولا۔

گھر آ کر بات کرتا ہوں’احتسام صلہ کا گال تھپتپاتے ہوئے بولا۔

صلہ مسکراتے ہوئے گاڑی سے باہر نکل گئی۔

احتسام نے ہارن دیا تو رانیہ نے دروازہ کھول دیا۔

صلہ اندر چلی گئی’تو احتسام نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

احتسام کا انٹرویو بہت اچھا ہو گیا’جاب مل گئی اسے۔

اس کی زندگی بہت مصروف ہو گئی تھی۔اس جاب میں ٹائمنگ صبح نو سے رات دس بجے تک تھی۔

سیلری پیکیج اچھا تھا’بس یہی وجہ تھی احتسام نے اس جاب سے انکار نا کر سکا۔

گھر پہنچتے پہنچتے گیارہ بج جاتے احتسام کو’جب گھر آتا تب سب سو چکے ہوتے۔

صبح بھی بس مختصر سی بات ہوتی سب سے پھر سے وہی روٹین۔

دن اسی طرح گزرتے گئے’یہاں کہ احتسام اور صلہ کی مہندی کا دن آ گیا۔

احتسام وائٹ شلوار قمیض پہنے بہت اچھا لگ رہا تھا۔

صلہ نے بھی وائٹ شلوار قمیض اور ساتھ چنری لے رکھی تھی۔

پھولوں سے بنے زیورات اور ہلکا سا میک اپ’احتسام کو اپنی نظریں ہٹانا مشکل ہو رہا تھا صلہ کے چہرے سے۔

سب کی نظریں اس خوبصورت جوڑی پر ہی ٹکی تھیں۔

رانیہ اور زوہیب کا آج شام نکاح کر دیا گیا’رخصتی تین ماہ بعد رکھی گئی۔

اب تو زوہیب کو پورا حق مل چکا تھا رانیہ کو تنگ کرنے کا۔

رانیہ زوہیب سے چھپتی چھپاتی چھت پر جا بیٹھی’مہندی کا فنکشن ختم ہو چکا تھا۔

ابھی ابھی سب گھر پہنچے تھے تھکے ہارے۔

صلہ اپنے کمرے میں چلی گئی’بہت تھک چکی تھی وہ۔

کچھ دیر تک سب اپنے گھر واپس چلے گئے۔

رات کافی ہو چکی تھی’سب سو چکے تھے۔

صلہ احتسام کے کمرے کی طرف بڑھی’دروازہ ناک کیا۔

احتسام نے دروازہ کھولا تو سامنے صلہ کو دیکھ کر مسکرا دیا۔

بیوی کو کب سے ضرورت پڑنے لگی کہ شوہر کے کمرے میں آنے سے پہلے اجازت مانگنی پڑے۔

صلہ مسکرا دی’میں نے سوچا اگر آپ جاگ رہے ہوئے تو دروازہ کھول دیں گے۔

اور اگر سو رہے ہو گے تو نہی کھولیں گے۔

ویسے اتنی رات کو میرے کمرے میں آنے کی کیا ضرورت پڑ گئی جناب کو۔

احتسام دونوں بازو سینے پر باندھے بولا۔

مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ابھی!

ہاں ہاں آو اندر بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں’احتسام دروازے سے پیچھے ہٹا۔

نہی یہاں نہی’

صلہ جلدی سے بول پڑی’

کیوں۔۔۔؟

مجھ پر اعتبار نہی کیا’کوئی شک ہے؟

احتسام شرارت والے انداز میں بولا۔

صلہ مسکرا دی’ایسی کوئی بات نہی۔

ہم چھت پر چلتے ہیں۔

تو ٹھیک ہے چلتے ہیں’احتسام کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے صلہ کا ہاتھ تھامے اوپر کی طرف بڑھا۔

پوری چھت لائیٹوں سے جگمگا رہی تھی’احتسام مسکراتے ہوئے جھولے پر بیٹھ گیا۔

صلہ بھی مسکراتے اس کے پاس بیٹھ گئی’

ہاں جی!

تو اب بتائیں کیا بات کرنی ہے۔

صلہ نے اپنے تیز ہوتی دھڑکن کو محسوس کیا۔

آنکھیں بند کی۔

ایک لمبی سانس لی’اور بولنا شروع کیا۔

احتسام آپ یہ تو جانتے ہی ہیں کہ”” میرا اصل نام صلہ نہی رامین ہے””””

میرے نام سے تو واقف ہیں آپ’مگر میں رامین سے صلہ کیسے بنی یہ جاننا بہت ضروری ہے آپ کے لیے۔

میری زندگی کے ایسے بہت سے راز ہیں جن سے آپ واقف نہی ہیں۔

آج میں وہ سارے راز آپ کو بتانا چاہتی ہوں۔

________________

“آج سے تین سال پہلے میری شادی ہوئی بہت دھوم سے ایک بہت ہی امیر گھرانے میں۔

ملک اظہر کے ساتھ جو میری زندگی کا درد ناک حصہ تھا۔

میرا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا۔

مڈل کلاس بھی نہی’بہت غریب خاندان تھا ہمارا۔

ہمارا خاندان تین افراد پر مشتمل تھا۔

ابا،اماں اور میں ان کی اکلوتی بیٹی “رامین صدیق احمد”

یہ تھی ہماری چھوٹی سی فیملی’

تین کمروں والے کچے بنے کرایے کرایے کے گھر میں زندگی گزار رہے تھے ہم۔

گھر میں کمانے والے بس ابا ہی تھے۔

میٹرک کرنے کے بعد میں نے ابا سے سکول نوکری کی اجازت مانگی’مگر ابا نہی مانے۔

میں گھر میں اماں کے ساتھ کپڑے سلائی کرنے لگی’

مگر اماں کی طبیعت دن بدن بگڑتی چلی گئی۔

گھر کے اخراجات،اماں کی دوائیوں کا خرچہ،اور مکان کا کرایہ،بل وغیرہ۔

ابا کے لیے اکیلے یہ سب سنبھالنا مشکل ہوتا چلا گیا۔

ابا ایک فیکٹری میں جاب کرتے تھے’تنخواہ بہت کم تھی۔

اخراجات ہماری سوچ سے بھی زیادہ بڑھ کر تھے۔

فیکٹری سے بھی قرض لے لے کر ابا مقروض ہو چکے تھے۔

آخر کار ابا نے مجھے سکول میں نوکری کی اجازت دے دی۔

ابا کو دوپہر کا کھانا فیکٹری پہنچانا میری روز کی زمہ داری تھی۔

ایک دن میں ابا کے لیے کھانا لے کر پہنچی تو ملک اظہر سے میرا ٹکراو ہو گیا۔

اور یہی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہوئی مجھ سے۔

ملک اظہر کا فون ٹوٹ گیا’اور وہ میرے گھر تک پہنچ گیا۔

اس کا فون ٹھیک کروا کر اس کو واپس کر دیا۔

مگر نہی کہانی یہیں ختم نہی ہوئی’اصل حقیقت تو کچھ اور تھی۔

وہ میری زندگی میں دخل اندازی چاہتا تھا۔

مجھے نہی پتہ کب کیا ہوا’کیسے وہ ابا سے ملا۔

کب اپنے گھر والوں کو لے کر آ گیا۔

ایک دن میں سکول سے واپس آئی تو اماں نے میرے سر پر چادر اوڑھا کر بٹھا دیا۔

اور میرا نکاح ملک اظہر سے پڑھوا دیا گیا۔

مجھ سے میری مرضی کسی نے نہی پوچھی۔

اور میں نے بتا بھی نہی سکی’کیونکہ اچھی بیٹی وہی ہوتی ہے۔

جو ماں،باپ کے فیصلوں کو بنا چوں چراں کیے قبول کر لیں۔

میں بھی ان ہی بیٹیوں میں سے تھی’ماں باپ کی عزت کا سوال تھا۔

اور میری وجہ سے ان کی تربیت پر انگلی اٹھے’یہ نہی کر سکتی تھی میں۔

میں نے بنا کوئی سوال کیے چپ چاپ نکاح نامے پر سائن کر دئیے۔

سب اچھا ہی چل رہا تھا۔

ایک ہفتے بعد میری رخصتی تھی۔

رخصتی کے بعد میں اپنے سسرال چلی گئی۔

شروع شروع میں سب ٹھیک چلتا رہا۔

اظہر بہت خیال رکھتے میرا،

بہت محبت کرنے والے اور کئیرنگ شوہر ثابت ہوئے اظہر۔

بلکل ویسے ہی جیسا شوہر ہر لڑکی چاہتی ہے۔

ہینڈسم،امیر اور کئیرنگ پرسن’

اظہر بھی ایسے ہی تھے’

مگر بس چند ماہ تک!

شادی سے تین ماہ بعد ہی اظہر کی اصلیت سامنے آنا شروع ہو گئی۔

بات پر گھر میں جھگڑنا شروع ہو جاتے’کبھی ملازموں پر برس پڑتے تو کبھی اپنی مام سے جھگڑا۔

چھوٹی چھوٹی باتوں کو رائے کا پہاڑ بنا دیتے۔

لیکن میرے ساتھ ابھی تک کوئی لڑائی جھگڑا نہی ہوا تھا ان کا۔

مگر یہ میری غلط فہمی تھی’

ایک رات میں نے ان کو چھت پر شراب پیتے دیکھا’اور ان کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔

اس لڑکی کا بیہودہ لباس’اور ان دونوں کے درمیان قربت۔

وہ لمحے بہت درد ناک تھے میرے لیے’اور وہ رات قیامت بن کر گزری مجھ پر۔

محبت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والا بے وفا نکلا۔

وہ رات روتے ہوئے گزاری میں نے’

اس کے بعد ہر رات یہی ہوتا’وہ کبھی رات دیر سے آتے گھر۔

یا پھر کئی دفعہ تو پوری رات ہی گھر نہی آتے۔

جب میں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی چاہی تو مجھے یہ کہہ کر چپ کروا دیا گیا۔

“میں عورت ہوں’مجھے سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا،،

شوہر کی بے وفائی بھی!

میں نے اظہر کی ماما سے بات کی’تو وہ مسکرا دیں۔

اور مسکراتے ہوئے بولیں’یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔

ہماری سوسائٹی میں یہ سب عام ہے’شراب پینا،لڑکیوں سے تعلق رکھنا یہ سب کوئی بڑی بات تو نہی۔

تم بھی باہر نکلو گھر سے’فرینڈز بناو۔

تمہیں کوئی نہی ٹوکے گا’اگر اظہر نے کوئی دخل اندازی کی تو دو ٹوک جواب دے دینا اسے۔

کہہ دینا اس سے کہ جب تم دوست بنا سکتے ہو تو میں کیوں نہی۔

لیکن میں جانتی ہوں تم ایسا نہی کر سکتی’کیونکہ تمہاری پرورش ایسے ماحول میں نہی ہوئی۔

تم جس معاشرے میں پلی بڑھی ہو’وہاں عورتوں کو صبر کا درس دیا جاتا ہے۔

اسی لیے تم بھی صبر کرو’اور اگر نہی کر سکتی صبر تو اپنے حق کے لیے آواز اٹھاو۔

کیا ہو گا اس سے’اظہر تو نہی بدلے گا’

بلکہ تم اپنے لیے خود ہی پریشانیاں پیدا کر لو گی۔

تو بہتر یہی ہے کہ وہ جو کر رہا ہے اسے کرنے دو۔

اور تم صبر کے ساتھ اپنی زندگی گزارو’شاید ایک دن اظہر کو احساس ہو جائے اپنی غلطی کا۔

ہم عورتوں کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے سب کچھ’مردوں کو کوئی فرق نہی پڑتا۔

جب تم سے شادی کی بات کی اظہر نے’تو میں سمجھی شاید سچ میں محبت کرنے لگا ہے وہ تم سے۔

مگر نہی میری سوچ غلط تھی’اس نے تو بس کسی سے شرط لگا رکھی تھی۔

کہ رامین سے شادی کرے گا’وہ شرط جیت گیا۔

مگر محبت ہار گیا’بے نام محبت تھی اس کی۔

کس کے ساتھ شرط لگائی تھی اظہر نے’میں نے اظہر کی امی سے پوچھا۔

وہ چپ ہو گئیں’

گہری سوچ میں پڑ گئیں۔

تھا ایک بہت اچھا انسان’میرے بیٹے سے بڑھ کر تھا وہ۔

جس کی تم محبت تھی’

جس سے چھین کر تمہیں اپنی زندگی میں شامل کیا اظہر نے۔

میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی’بے ساختہ میرے منہ سے ایک نام آزاد ہوا۔

پرنس”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *