Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Na Jani (Episode 04)

Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi

کامیاب عورت” وہ ہوتی ہے جو خود کو معاشرے میں ثابت کرے۔مشکلات کا سامنہ کرے،رکاوٹوں کا ڈٹ کر سامنا کرے۔اور کبھی ہار نہ مانے۔

مگر ان میں سے ایک بھی خوبی مجھے نظر نہی آئی تم میں۔تم بہت ہی ڈرپوک لڑکی ہو۔جو محض دو لڑکوں کے راستہ روکنے پر گھبرا جاتی ہو۔اپنے نام جیسی تو بلکل بھی نہی ہو تم۔

رامین نے ایک دم نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔جو ابھی تک سر جھکائے بیٹھی تھی۔آپ کیسے جانتے ہیں یہ سب۔۔؟؟؟ الٹا اسی سے سوال کر بیٹھی۔

ہمممم۔۔۔وہ لمبی سانس لیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔کیونکہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں کل ان لڑکوں سے نجات دلائی تھی۔مسلسل کئی دنوں سے دیکھ رہا تھا میں یہ سب۔امید کر رہا تھا کہ تم کوئی ردِعمل ظاہر کرو گی۔بہادری دکھاوں گی۔منہ توڑوں گی ان دونوں کا۔مگر ایسا کچھ نہی ہو سکا۔

آج جب معاملہ اتنا بگڑا تو مجبوراً مجھے سامنے آنا پڑا۔۔۔”آخر اتنی ڈرپوک کیوں ہو تم” وہ دونوں ہاتھ کرسی پر جمائے رامین کی طرف غصے سے جھکا۔کیوں جواب نہی دیا ان لڑکوں کو۔

رامین ڈر کر پیچھے ہٹی۔اور آنسو بہانہ شروع ہو گئی۔سر جھکائے بس وہ بس آنسو بہائے جا رہی تھی۔رامین نے چہرہ اوپر اٹھایا۔وہ ابھی تک ایسے ہی دونوں ہاتھ کرسی پر جمائے اس کی طرف جھکا ہوا تھا۔

اس کی آنکھوں میں غصہ تھا یا کچھ اور رامین سمجھ نہ سکی۔وہ پھر سے نظریں جھکا کر آنسو بہانے لگی۔

وہ رامین کو مسلسل آنسو بہاتے دیکھ پیچھے ہٹ گیا۔یہ میرے سوال کا جواب نہی ہے۔آخر کب تم یونہی آنسو بہاتی رہو گی۔آنسو بہانے سے مسلے حل نہی ہوتے۔مشکلات سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔

اگر تم پہلے ہی دن ایک ایک تھپڑ دونوں کے منہ پر لگا دیتی تو وہ دوبارہ تمہارے راستے میں نہی آتے۔مگر تم نے ہمت نہی دکھائی۔۔میں پوچھتا ہوں آخر کیوں۔۔؟؟؟

وہ پھر سے دونوں ہاتھ کرسی پر جماتے ہوئے رامین کی طرف جھکا۔اس کا لہجہ بہت تلخ تھا۔

رامین نے دونوں ہاتھوں سے پوری قوت لگاتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلا۔۔وہ رامین سے اس حملے کی بلکل بھی توقع نہی کر رہا تھا۔ایک دم لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے ہٹا۔

مجھ میں بہت ہمت ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں میں بہت ڈرپوک ہوں۔نہی۔۔میں آپ کو غلط ثابت کروں گی۔اور خود کو “کامیاب عورت” بن کر دکھاوں گی۔آپ کا بہت شکریہ جو آج آپ نے میری مدد کی۔آپ کا احسان زندگی بھر یاد رکھوں گی میں۔لیکن ایک بات کا جواب دیں آپ مجھے۔یہ کونسا طریقہ ہے آپ کا بات کرنے کا۔

رات کو دو بجے آپ چوروں کی طرح میرے کمرے میں گھسے ہیں۔یہ کوئی شریفوں والا کام تو نہی کیا آپ نے۔

کیوں میں شریف انسان ہوں ہی نہی۔وہ مسکراتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔چور ہوں میں۔اور چوروں کی طرح ہی آوں گا نہ۔۔ وہ چلتا ہوا رامین کے پاس آ کر دونوں بازوں سینے پر باندھے آ کھڑا ہوا۔

نقاب کے پیچھے اس کی مسکراہٹ رامین محسوس کر سکتی تھی۔

چور۔۔بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔وہ ڈر کر تھوڑا پیچھے ہٹی۔

ہاں چور۔۔رامین کا الفاظ دہرائے اس نے۔رامین کو پیچھے ہٹتے دیکھ مسکرا دیا۔ابھی تو تم کہ رہی تھی کہ ڈروں گی نہی۔اور پھر سے ڈر رہی ہو۔

میں اتنا برا چور نہی ہوں۔مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔اب میں چلتا ہوں۔وہ لڑکے دوبارہ تنگ نہی کریں گے تمہے۔امید ہے تم کامیاب عورت بن کر دکھاوں گی۔بلکل اپنے نام کی طرح۔بس اتنا کہنا تھا کہ وہ کمرے کی لائٹ بند کرتے ہوئے کھڑکی کی طرف بڑھا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

رامین جلدی سے کھڑکی کی طرف بڑھی۔مگر وہ جا چکا تھا۔اس نے جلدی سے کھڑکی بند کی۔اور بیڈ پر آ بیٹھی۔۔عجیب انسان تھا۔زیرِ لب دہراتی وہ لیٹ گئی۔گرمی کی وجہ سے اس نے کمرے کی کھڑکی کھول رکھی تھی۔

یہ کھڑکی گلی کی طرف کھلتی تھی۔اور ساتھ ہی ایک چھوٹی سی بالکونی بنی ہوئی تھی۔رامین کی سمجھ میں نہی آیا کہ وہ کیسے اوپر آیا۔اور دوسری بات اس نے اپنا چہرہ کیوں چھپا رکھا تھا۔

کچھ دیر سوچتی رہی پھر سو گئی۔صبح اسے سکول جانا تھا۔تو وہ جاگ کر پہلے ہی دن لیٹ نہی ہونا چاہتی تھی۔اسی لیے سو گئی۔

__________________________

احتسام گھر آیا تو امی، رانیہ اور ہانیہ اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔احتسام اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔چینج کر کے آیا تو امی اور ہانیہ کھانا لگا رہی تھیں۔امی کھانا ہم لوگ باہر سے کھا لیں گے۔آپ کھانا مت لگائیں۔احتسام سیڑھیوں سے نیچے آتے ہوئے بولا۔

نہی بیٹا گھر کا کھانا ہی ٹھیک ہے۔باہر کا کھانا ٹھیک نہی ہوتا۔ایسے ہی طبیعت خراب ہو جائے گی۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔

احتسام بس ہلکا سا مسکرا دیا۔اور کھانا کھانے بیٹھ گیا۔وہ جانتا تھا امی ایسے اس لیے کہہ رہی تھیں کہ کہیں میرے پاس پیسے نہ کم پڑ جائیں۔کہیں بہنوں کی شاپنگ ادھوری نہ رہ جائے۔

احتسام نے اپنےاکاونٹ سے سیونگ کی ہوئی رقم نکلوا لی۔جو دس ہزار تھی۔کئی مہینوں سے جمع کر رہا تھا وہ۔تا کہ ہانیہ اور رانیہ کو شاپنگ کروا سکے۔

کھانا کھانے کے بعد احتسام نے گاڑی باہر نکالی اور سب شاپنگ کے لیے نکل پڑے۔گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ سب مال کی طرف بڑھ گئے۔

احتسام کاونٹر کے پاس رک گیا۔اور ان سے کہہ دیا جب شاپنگ کر لیں تو یہیں آ جائیں۔پیمنٹ کر دو گا میں۔وہ تینوں آگے بڑھ گئیں۔اور احتسام وہیں فون پر مصروف ہو گیا۔

کچھ دیر بعد وہ تینوں واپس آئیں تو احتسام نے پیمنٹ کر دی۔بس تین ہزار بل بنا۔احتسام نے واپس مڑ کر ان تینوں کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیں۔بھائی بس اتنی ہی شاپنگ کرنی تھیں ہمیں۔باقی شاپنگ عید پر کر لیں گے ہم۔۔رانیہ بولی۔

احتسام نے پیمنٹ کی۔اور وہ سب باہر کی طرف بڑھ گئے۔ڈرائیونگ کرتے ہوئے احتسام کا ذہن کہی اور ہی الجھا ہوا تھا۔شاید میں اپنی بہنوں کی ضروریات کبھی پوری نہی کر پاوں گا۔میری بہنیں ایک ایک چیز خریدنے سے پہلے یہ سوچتی ہیں کہ بھائی کے بجٹ میں آئے گی یا نہی۔یہ احساس بہت درد ناک تھا اس کے لیے۔

گاڑی اشارے پر رکی۔اچانک اس کی نظر اپنے دائیں طرف کھڑی گاڑی پر پڑی۔ظبط سے آنکھیں بھینچ گیا۔اور منہ پھیر لیا۔اشارہ کھلا تو اس نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔

اچانک اس کی نظر بیک ویو مرر پر پڑی تو دھنگ رہ گیا۔وہ گاڑی اس کی گاڑی کو فالو کر رہی تھی۔پہلے تو اس نے سوچا کہ شاید میرا وہم ہے۔اس نے جان بوجھ کر گاڑی دوسری طرف موڑ دی۔

وہ گاڑی بھی مڑ گئی۔اس نے پھر اپنی گاڑی آئسکریم پارلر کے پاس روک دی۔تو وہ گاڑی بھی رک گئی۔احتسام نے غصے سے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا۔کیا مسلہ ہے اس کے ساتھ۔وہ دل ہی دل میں بولا۔

کیا ہوا احتسام۔گاڑی کیوں روک دی بیٹا۔۔احتسام کی امی بولی تو وہ حوش میں آیا۔

کچھ نہی امی۔۔میں نے سوچا آئیسکریم کھلا دوں آپ لوگوں کو۔وہ گاڑی سے باہر نکل گیا۔اور ان کے لیے آئیسکریم لے آیا۔ان سب کو آئسکریم دی۔اور اپنی پیک کروا لایا۔وہ اس نے رانیہ کی طرف بڑھا دی۔

اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔اس نے بیک ویو مرر پر نظر ڈالی تو گاڑی ابھی بھی وہیں کھڑی تھی۔اس نے گاڑی گھر کی طرف بڑھا دی۔وہ گاڑی اب بھی اسے فالو کر رہی تھی۔

گھر پہنچ کر اس نے گاڑی گھر کے باہر روک دی۔امی آپ لوگ چلیں مجھے ایک ضروری کام تھا۔کچھ دیر تک آ جاوں گا۔وہ تینوں اندر چلی گئیں۔

احتسام نے گاڑی آگے بڑھا دی۔وہ گاڑی اب بھی اسے فالو کر رہی تھی وہ جھنجلا گیا۔اور گاڑی روک دی۔وہ گاڑی بھی رک گئی کچھ فاصلے پر۔احتسام گاڑی سے باہر نکلا۔اور اس گاڑی کی طرف بڑھا۔

گاڑی کے پاس پہنچا۔شیشہ ناک کیا۔اب اس گاڑی والے کے پاس شیشہ نیچا کرنے کے سوا کوئی حل نہی تھا۔گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا۔اور ایک مسکراتا چہرہ نظر آیا احتسام کو۔

احتسام غصے سے کھڑکی پر جھکا۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں آپ مجھے کیوں فالو کر رہی ہیں؟؟؟؟؟۔غصے سے سوال پوچھا گیا۔

صلہ مسکرا دی۔میں کیوں کروں گی آپ کو فالو۔شاید آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔میں تو آپ کو جانتی تک نہی۔ویسے اچھا لگا آپ سے دوسری دفعہ مل کر۔

مائی سیلف صلہ۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے احتسام کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

احتسام نے اس کا ہاتھ نہی تھاما۔لیکن مجھے بلکل بھی اچھا نہی لگا۔آپ سے مل کر۔آئیندہ مجھے فالو کرنے کی کوشش کی تو اچھا نہی ہو گا۔احتسام بس اتنا کہہ کر وہاں سے چل پڑا۔

صلہ جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی اور احتسام کی طرف بڑھی۔اتنا ایٹیٹیوڈ کس لیے دکھاتے ہو۔کیا ہو جائے گا اگر دو منٹ بات کر لو گے مجھ سے۔

اس کی آواز پر احتسام رکا۔مگر پلٹ نہی۔جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔صلہ وہیں کھڑی اس کی گاڑی کو دور جاتے دیکھتی رہی۔جب گاڑی نظروں سے اوجھل ہو گئی تو وہ بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔

سٹوپڈ۔۔۔مسکراتے ہوئے اپنے ماتھے پر ہلکے سے تھپکی لگاتے ہوئے بولی۔اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔دیکھتی ہوں کب تک دور بھاگتے ہو مجھ سے۔

_______________________

رامین جب صبح نماز پڑھنے کے بعد نیچے جانے لگی تو اس کی نظر دروازے کے پاس پڑے استری سٹینڈ پر پڑی۔اس کی گھڑی پڑی تھی۔اور ساتھ ایک پیپر پڑا تھا۔رامین کو یاد آیا کہ کل جب اس لڑکے نے چادر کھینچی تھی تو اس کی گھڑی بھی ساتھ اٹک کر گر گئی تھی۔

مگر اس وقت مجھے اپنا حوش نہی تھا۔تو گھڑی کا کہاں سے ہونا تھا۔خود ہی اپنی سوچ پر جھنجلا دی۔سہی کہا تھا اس نے میں اپنے نام جیسی بلکل بھی نہی ہوں۔

بہت ڈرپوک ہوں میں۔خود ہی اپنے آپ کو کوسنے لگی۔پھر نظر دوبارہ پڑی سامنے پڑے پیج پر تو اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔کھولا تو اوپر کچھ لکھا تھا۔رامین کرسی پر بیٹھ گئی۔تا کہ آرام سے پڑھ سکے۔

اسلام و علیکم!!

یہ گھڑی کل وہیں بھول گئی تھیں محترمہ۔بہت آوازیں دیں روکنے کی کوشش کی مگر رکی ہی نہیں۔۔اسی لیے سوچا خود جا کر دے آوں۔جانتا ہوں یہ سہی طریقہ نہی لگے گا محترمہ کو گھڑی پہچانے کا۔مگر میں اسی طریقے کا عادی ہوں۔

چور جو ہوں۔نہی نہی ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔میں چور ہوں لیکن شریف چور ہوں۔برا چور نہی ہوں۔معزرت کرنا میں ضروری نہی سمجھتا محترمہ۔معزرت تو آپ کو کرنی پڑے گی۔ایک تو میں نے آپ کی مدد کی۔اور میرا شکریہ ادا کرنے کی بجائے وہاں سے بھاگ آئیں۔یاد رکھنا محترمہ۔جلدی ملاقات ہو گی۔

خدا حافظ۔

اففففف۔۔کیسا عجیب انسان ہے یہ۔مدد بھی کرتا ہے اور تعریف بھی کروانا چاہتا ہے۔خود کو چور کہتا ہے۔اور وہ بھی “شریف چور”۔حد ہے ویسے چور بھی کبھی شریف ہوتے ہیں بھلا۔ہاں شاید۔۔سہی ہی کہہ رہا تھا وہ شریف چور ہی ہے۔غلط انسان تو نہی لگ رہا تھا ویسے۔

جب کبھی دوبارہ ملاقات ہوئی تو شکریہ ادا کر دوں گی۔میں اتنی احسان فراموش نہی ہوں۔جو شکریہ بھی نہ ادا کر سکوں۔وہ تو کل میں بہت گھبرا گئی تھی۔سمجھ میں نہی آیا کیا کروں۔

اسی لیے تیزی سے وہاں سے بھاگ آئی۔لیکن اس کا مطلب یہ نہی کہ میں احسان فراموش ہوں۔

خیر ملاقات ہو بھی گئی تو میں پہچانوں گی کیسے۔چہرہ تو چھپا رکھا تھا شریف چور نے۔رامین خود ہی اپنی کہی بات پر مسکرا دی۔چلیں جب ملیں گے۔تب کی تب دیکھی جائے گی۔

ابھی میں یہاں اپنا وقت کیوں ضائع کر رہی ہوں۔مجھے سکول جانا ہے۔رامین جلدی سے الماری کی طرف بڑھی۔اور گھڑی کے ساتھ ہی وہ پیج بھی تہہ لگا کر رکھ دیا۔اور الماری بند کرتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔

نیچے گئی تو اماں ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں۔رامین بھی ان کی ناشتہ بنانے میں مدد کرنے لگی۔ناشتہ کرنے کے بعد ابا فیکٹری کے لیے نکل گئے اور رامین اپنے کمرے میں چلی گئی۔سکول کے لیے تیار ہونے۔تیار ہو کر نیچے آئی تو ثوبیہ پہلے سے ہی موجود تھی۔

رامین کو نیچے آتے دیکھ ثوبیہ اٹھ کھڑی ہوئی۔جلدی کرو رامین ہم لیٹ نہ ہو جائیں کہی۔رامین اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔چلو چلتے ہیں میں تو کب سے تیار تھی۔تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔ثوبیہ مسکرا دی۔اور دونوں خدا حافظ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئیں۔

رامین باہر نکلی تو ثوبیہ کا بھائی بھی تھا سامان۔رامین نے اسے سلام کیا۔یہ ہمیں چھوڑنے جائے گا اور لے کر بھی آئے گا۔ثوبیہ مسکراتے ہوئے اپنے بھائی کے ساتھ آنے کی وجہ بتانے لگی۔یہ ہمارا باڈی گارڈ ہے۔ثوبیہ مسکراتے ہوئے بولی۔

اسد نے اسے گھورا تو اس کی ہنسی کو بریک لگی۔سہی تو کہا ہے میں نے اسد تم باڈی گارڈ ہو ہمارے۔ثوبیہ پھر سے بولی۔تو رامین بھی مسکرا دی۔بس کرو تم ثوبیہ اب چپ چاپ چلو۔ورنہ گھر جا کر اماں کو تمہاری شکایت لگا دوں گا۔کہ تم بازار میں باتیں کرتی ہوئی چل رہی تھی۔

رامین مسکرا دی۔جبکہ ثوبیہ تپ گئی۔جاو بتا دوں جا کر اماں کو۔جاسوسی کرنے آتے ہو میری۔اسد مسکرا دیا۔اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے۔وہ مسکراتے ہوئے بولا۔

دفع ہو جاو تم!!۔۔خبردار جو کل سے میرے ساتھ آئے تو۔کوئی ضرورت نہی میرے ساتھ آنے کی۔میں اور رامین خود ہی چلی جایا کریں گی اب۔تمہاری زمہ داری اب ختم۔ثوبیہ تپ چکی تھی اسد پر۔

زمہ داری ختم نہی ہوئی میری بلکہ اب تو بڑھ گئی ہے۔اسد رامین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔رامین جو مسکرا رہی رہی تھی۔ایک دم اس کی ہنسی کو بریک لگی۔وہ چہرہ دوسری طرف موڑ گئی۔سکول آ چکا تھا۔دونوں اندر کی طرف بڑھ گئیں۔

اسد وہی کھڑا رہا۔رامین نے مڑ کر ایک نظر اسد پر ڈالی۔وہ رامین کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔رامین کو کچھ عجیب سا لگا۔اسد کا اس کی طرف دیکھ کر کہنا کہ زمہ داری اب بڑھ گئی ہے۔اور مسکرانا۔رامین تیزی سے بنا مڑے اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی۔

____________________________

احتسام گھر آیا۔گاڑی گیراج میں پارک کی۔اندر آیا تو رانیہ اس کی طرف بڑھی۔بھائی آپ کی آئیسکریم میں کھا گئی۔رانیہ معصوم سی گھبرائی ہوئی شکل بنا کر بولی۔

احتسام مسکرا دیا۔کوئی بات نہی ویسے بھی میرا دل نہی کر رہا تھا کھانے کو۔احتسام بس اتنا کہہ کر مسکراتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔

“وہ لڑکی کون تھی بھائی”۔؟؟ رانیہ کے سوال پر احتسام کے اوپر کی طرف بڑھتے قدم رک گئے۔وہ تیزی سے پلٹا۔

“کون لڑکی”۔۔؟؟؟؟

رانیہ مسکرا دی۔بھائی وہی جو ہماری گاڑی کا پیچھا کر رہی تھی۔میں نے دیکھ لیا تھا۔آپ اسی سے ہی ملنے گئے تھے ناں۔وہ ہمارے گھر تک آ گئی تھی۔رانیہ بنا رکے بولی جا رہی تھی۔

احتسام کے سر پر حیرانگی کا پہاڑ گرا۔وہ سوچ بھی نہی سکتا تھا کہ رانیہ اسے فالو کر رہی تھی۔وہ تو اپنی ہی دھن میں گاڑی اِدھر اُدھر موڑے جا رہا تھا۔اسے کیا خبر تھی رانیہ سب کچھ نوٹ کر رہی تھی۔

ایسا کچھ نہی ہے رانیہ۔۔تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔میں کسی لڑکی کو نہی جانتا۔کوئی لڑکی ہماری گاڑی کو فالو نہی کر رہی تھی۔یہ سب تمہارے دماغ کا وہم ہے بس۔احتسام نے خود کو لاتعلق ظاہر کیا۔

نہی بھائی میں نے خود دیکھا تھا۔سگنکل پر آپ نے اس لڑکی کی طرف دیکھا تھا۔اس نے بھی آپ کی طرف دیکھا تھا۔مگر تب آپ اس کی طرف نہی دیکھ رہے تھے۔اس کے بعد وہ ہماری گاڑی کا پیچھا کرنے لگی۔

آپ نے گاڑی آئیسکریم پارلر کے پاس روکی تو اس نے بھی گاڑی روک دی۔پھر وہ آپ کو فالو کرتے ہوئے ہمارے گھر کے پاس رک گئی۔پھر آپ باہر گئے اس سے ملنے۔ویسے میں نے امی اور ہانیہ کو نہی بتایا کچھ بھی۔رانیہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی۔

رانیہ۔۔۔احتسام اس کی طرف بڑھا۔رانیہ نے جلدی سے اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی اور دروازہ بند کر دیا۔احتسام اوپر کی طرف بڑھنے لگا۔جب اسے پھر سے رانیہ کی آواز سنائی دی۔

“بھائی”۔۔۔۔رانیہ نے تھوڑا سا دروازہ کھولا۔اور وہی سے بولی۔

احتسام پلٹا۔۔اور ماتھے پر شکن ڈالتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

“بہت پیاری تھی وہ بھائی۔اگر آپ کہو تو بات کروں امی سے”۔۔رانیہ نے مسکراتے ہوئے جلدی سے دروازہ بند کر دیا۔احتسام کے بڑھتے قدم دیکھ چکی تھی وہ۔اس سے پہلے کہ اس کی شامت آتی۔جلدی سے دروازہ بند کر دیا اس نے۔

احتسام وہی سوچوں میں گم کھڑا رہا۔وہ مسکرا بھی نہی سکا۔کچھ دیر وہاں کھڑا رہا پھر اوپر کی طرف بڑھ گیا۔کمرے میں گیا۔نیند کی گولی نکالی دراز میں سے کھا کر پانی پی لیا۔اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔

نیند کی گولی اس کی عادت بن چکی تھی۔ڈپریشن کا مریض بن چکا تھا وہ۔اسے خود کو ریلیکس کرنے کا یہی طریقہ سہی لگتا تھا۔خود کو ازیت دینا اچھا لگتا تھا اسے۔خود کو بہت تھکا ہوا،ہارا ہوا محسوس کرتا ہے۔ذہنی ٹینشن سے خود کو نجات دلانے کا یہی طریقہ ڈھونڈا تھا اس نے۔

اگر یہ لڑکی مجھے دوبارہ نظر آئی تو اس کی جان لے لوں گا میں۔۔۔پاگل بنا کر رکھ دیا ہے اس نے مجھے۔اپنی زندگی میں جو مرضی کرے۔خوش رہے۔مگر اپنی زندگی میں دخل اندازی نہی کرنے دوں گا میں اسے۔۔۔احتسام سوچوں میں ڈوبا نیند کی وادی میں اتر گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *