Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 21)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 21)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
چہرے سے مسکراہٹ ختم ہوئی’سکڑتی آنکھوں میں ہنسی کی جگہ نفرت نے لے لی۔
تمہیں کوئی حق نہی میرا چہرہ دیکھنے کا’
تم بے وفا ہو”
” رامین تم بے وفا ہو’نفرت کرتا ہوں میں تم سے”
رامین کا ہاتھ چھوڑ کر وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔
رامین بے بس سی اسے دور جاتے دیکھ رہی تھی۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اندھیرے میں کہیں غائب ہو گیا۔
رامین کی آنکھ کھل گئی’وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔
پرنس۔۔۔اس کے لبوں سے یہ نام آزاد ہوا۔
وہ پھر سے رونے لگی’
چہرہ پسینے اور آنسووں سے تر ہو چکا تھا۔
تب ہی اس کی نظر فون پر پڑی’فون کی رِنگ ٹون بج رہی تھی!
رِنگ ٹون مسلسل بج رہی تھی’رامین نے نمبر دیکھا تو اظہر کا تھا۔
رامین نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور خود کو ریلیکس کرتے ہوئے کال پِک کر لی۔
رامین کہاں بزی ہو؟
کب سے فون کر رہا ہوں’اظہر پریشانی سے بولا۔
وہ رات کو دیر تک جاگتی رہی’صبح آنکھ لگ گئی نماز پڑھنے کے بعد۔
پتہ ہی نہی چلا’
فون کی آواز پر آنکھ کھلی میری ابھی’
رامین نے بہانہ بنانا چاہا’
تمہاری آواز کو کیا ہوا ہے’تم روئی ہو رامین؟
اظہر کے سوال پر رامین چونکی!
ننہی تو’وہ کولڈ ڈرنک پی لی تھی کل شاید اسی وجہ سے گلہ خراب ہو گیا۔
اوہو۔۔۔تم اپنا بلکل خیال نہی رکھتی ہو رامین’
اب ٹائم دیکھو کیا ہو رہا ہے’تم اب اٹھی ہو مطلب تم نے ناشتہ بھی نہی کیا ابھی تک؟
ویِری سیڈ!
اٹھو جلدی سے فریش ہو کر ناشتہ کرو’
پھر گاڑی بھیج رہا ہوں میں’پارلر جانا ہے تمہیں۔
مام کب سے فون کر رہی تھیں تمہیں’وہ پہنچ جائیں گی۔
‘تم گاڑی میں چلی جانا’مام وہاں آ جائیں گی۔
گھبرانے کی ضرورت نہی ہے’ماما تھوڑی لیٹ ہو سکتی ہیں۔
ڈرائیور باہر ہی ویٹ کرے گا’ماما تمہیں ساتھ لے کر ہال پہنچیں گی۔
جی ٹھیک ہے’رامین نے مختصر جواب دے کر فون بند کر دیا۔
________________________
قل خوانی کے ختم کے بعد سب محلے والے اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دئیے۔
احتسام کی فیملی ابھی یہیں پر تھی۔
احتسام کی امی’صلہ اور اس کی ماما کو تسلیاں دیتے ہوئے گھر واپس آ گئیں۔
احتسام ان کو واپس گھر چھوڑ کر دوبارہ صلہ کے گھر کی طرف نکل پڑا۔
وہ صلہ سے بات کرنا چاہتا تھا’مگر مہمانوں کی وجہ سے اس کی بات ہی نہی ہو پائی۔
اور پھر رانیہ کی وجہ سے بھی محتاط ہو چکا تھا وہ’
صلہ کی ماما سو رہی دوائیوں کے زیرِاثر’روشنی ان کے کمرے میں ہی تھی۔
احتسام ایک نظر ان کے کمرے میں ڈالتے ہوئے صلہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
وہ کمرے میں اندھیرا کیے کھڑکی کے پاس کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔
اس کے ہاتھ میں فون جگمگا رہا تھا’
کمرے کی لائٹ آن ہونے پر وہ نہی چونکی!
بند رہنے دو یہ لائٹ’ان روشنیوں سے کوئی فرق نہی پڑتا۔
اب زندگی میں جو اندھیرے چھا گئے ہیں۔
“ان روشنیوں سے زندگی میں چھائے اندھیرے ختم نہی ہو سکتے’
وہ احتسام کی آہٹ پہچان چکی تھی’بنا پلٹے بولی۔
احتسام دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کے پاس پہنچا’
“زندگی میں چھائے اندھیروں کو دور بھی کیا جا سکتا ہے۔
روشنی کی نئی کرنیں نئی امید پیدا کرتی ہیں’
کسی ایک کے چلے جانے سے زندگی رُک نہی جاتی صلہ’
جانتا ہوں تمہارا نقصان بہت بڑا ہے’مگر اپنے ساتھ جڑے رشتوں کے بارے میں تو سوچو۔
ان کا بھی نقصان ہوا ہے’مگر ان کی امیدیں تم سے جڑی ہیں۔
اپنی ماما کا اور روشنی کا سوچو!
ان کا تمہارے سوا کون ہے اس دنیا میں’
“رونے سے کچھ حاصل نہی ہوتا’بس تکلیف ہی ہوتی ہے۔
خود کو مظبوط بناو’اتنے غم ڈٹ کر سہہ جانے والی لڑکی اب کیسے کمزور پڑ سکتی ہے۔
“یہی اللہ کی مرضی تھی۔
“ہر انسان اتنا ہی جیتا ہے جتنا اس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔
قسمت کے لکھے سے زیادہ کوئی ایک منٹ بھی نہی جی سکتا۔
“یہ زندگی تو اللہ کی امانت ہے”
ہمیں اسی کے پاس واپس جانا ہے’بس کسی کا جلدی جانا طے ہے۔
اور کسی کا دیر سے جانا طے ہے’
صلہ کے فون کی رِنگ ٹون پھر سے بجی!
صلہ نے فون سائیڈ پر رکھ دیا کال کاٹ کر۔
مگر فون کرنے والا بہت ڈھیٹ تھا’صلہ کے بار بار فون کاٹنے پر بھی اس پر کوئی اثر نہی پڑا تھا۔
کس کا فون ہے’اٹھا کیوں نہی رہی؟
احتسام صلہ کے بار بار فون کاٹنے پر بول پڑا۔
کسی کا نہی!
صلہ نے سر نفی میں ہلا دیا۔
احتسام نے صلہ کے ہاتھ سے فون پکڑا’سامنے روبینہ بائی کا نام جگمگا رہا تھا۔
صلہ نظریں جھکا گئی’
احتسام کی آنکھیں غصے سے سکڑیں۔
اس نے کال اٹھا کر فون کان سے لگا لیا’
کیا ہوا میری رانی چھوکرا مل گیا تو بھول گئی ہمیں۔
روبینہ بائی کی نخوست بھری آواز احتسام کے کانوں میں پڑی۔
تو حُکم تو کر رانی’ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت امیر چھوکروں کی لائن لگا دوں گی تیرے لیے۔
چھوڑ اس کو اور واپس آ جا’
مہمان انتظار کر رہے ہیں’
“وہ چھوکرا تیری ماں کا علاج نہی کروا سکے گا’اور اپنے باپ کا سوچ اس کی دوائیوں کا خرچہ کہاں سے اٹھائے گی تو!
اور مکان کا کرایہ’اگر دو ماہ کرایہ ادا نا کیا تو نے’تو مالک مکان تیرا بوری بستر اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دے گا۔
اسی لیے سمجھا رہی ہوں واپس آ جا’ابھی بھی وقت ہے۔
بعد میں میرے سامنے ہاتھ مت پھیلانا’میں کوئی مدد نہی کروں گی پھر تیری!
کچھ نہی رکھا اس پیار محبت میں’کچھ دن تک اس کے سر سے محبت کا بھوت اتر جائے گا۔
پھر چھوڑ دے گا وہ تجھے تنہا!
احتسام نے ظبط سے مٹھیاں بھینچی!
بس۔۔۔!
وہ چلایا’خبردار جو اب صلہ کے بارے میں ایک اور لفظ بھی منہ سے نکالا’تو مجھ سے بُرا کوئی نہی ہو گا۔
صلہ اب کوٹھے پر نہی آئے گی’
“ابھی میں زندہ ہوں!
جب تک میں زندہ ہوں’صلہ کو اس دلدل میں واپس نہی جانے دوں گا۔
آپ جیسی عورتیں معصوم لڑکیوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر انہیں گناہوں کے اس دلدل میں دھکیل جاتی ہیں۔
مگر اب اور نہی!
صلہ کی ضروریات میں پوری کر سکتا ہوں’
صلہ اب میری زمہ داری ہے’
دوبارہ یہاں فون کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت’ورنہ انجام کی زمہ دار آپ خود ہو گی۔
اور آپ کی انفارمیشن کے لیے بتا دوں’صلہ کے بابا کا انتقال ہو چکا ہے۔
اوہ۔۔۔یہ تو بہت بُرا ہوا’
“اللہ صبر دے صلہ کو’
ویسے تو نے ٹھیک نہی کیا چھوکرے!
خیر اگر ساتھ نبھانے کا سوچ ہی لیا ہے تو آخری سانس تک سانس نبھانا۔
بس اتنا کہتے ہوئے روبینہ بائی نے فون بند کر دیا۔
صلہ بس حیران سی کھڑی احتسام کو دیکھ رہی تھی۔
احتسام نے فون سائیڈ پر رکھ دیا۔
اور صلہ کے سامنے آ رُکا’
اگر یہ دوبارہ فون کریں تو مجھے بتا دینا!
“میرے ہوتے ہوئے کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی تمہیں’
“میں تمہارے ساتھ ہو’
سو جاو اب تم’میں کل شام کو آوں گا۔
“اپنا خیال رکھنا!
احتسام صلہ کو حیران کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اگلی صبح احتسام آفس گیا اور باس کے کمرے میں داخل ہوا۔
ارے واہ بھئی کہاں گُم ہو گئے تھے تم؟
لڑکی مل گئی تو یہ بھی بھول گئے کہ دفتر جانا ہے۔
لگتا ہے اب ہوش آیا ہے تمہیں!
باس نخوست سے مسکراتے ہوئے بولا!
ویسے کیا لگتی ہے وہ لڑکی تمہاری!
تمہارے لیے اتنی بڑی قربانی دی اس نے’پانچ لاکھ کی رقم کا انتظام چند منٹوں میں کر دیا اس نے۔
احتسام بس مٹھیاں بھینچے ظبط کیے سُن رہا تھا۔
بہت اچھا بدلہ لیا میں نے اس سے’ویسے تو کبھی بات بھی نہی کرتی تھی مجھ سے۔
جب کبھی اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو ناکامی ہاتھ لگتی۔
اور تم!
باس غصے سے اٹھ کھڑا ہوا!
تمہاری خاطر وہ میرے آفس تک آ گئی’ایک معمولی سے ایمپلائے کے لیے۔
اور میں اتنی بڑی کمپنی کا مالک’مجھے ٹھکرایا اس نے’
جب اس نے تمہارے لیے مجھے چیک سائن کر کے دیا’اور یہ بات تم سے چھپانے کو بولی۔
اُسی دن میں سمجھ گیا کہ تمہارا اس سے کوئی خاص رشتہ ہے۔
میں نے بدلے میں اس سے کوٹھے پر آنے کی ڈیل کی’اور اس نے ہاں کر دی۔
پھر میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر گیا’کیونکہ تم اس کی سچائی سے انجان تھے۔
اور دیکھو’اس دن میں نے اس کو ہارتے ہوئے دیکھا۔
بہت سکون محسوس ہوا اس دن مجھے’اس کو تمہارے لیے تڑپتا دیکھ کر۔
میرا بدلہ پورا ہوا!
ویسے ناچتی بہت کمال ہے وہ!
جاوں گا دوبارہ جلدی کوٹھے پر’اس کی ٹوٹی ہوئی اکڑ دیکھنے’
اگر چاہو تو تمہیں بھی ساتھ لے چلوں گا’وہ نخوست بھری ہنسی سجائے آنکھ دباتے ہوئے بولا۔
اب تم بتاو کیوں آئے ہو یہاں؟
باس اپنی بات ختم کرتے ہوئے واپس کرسی پر بیٹھ گیا۔
احتسام نے ظبط سے مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں’وہ تیزی سے باس کی طرف بڑھا۔
اور گریبان سے کھینچتے ہوئے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
میری ہونے والی بیوی ہے وہ’احتسام چلایا۔
خبردار!
خبردار’جو دوبارہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا سوچا بھی آنکھیں نوچ لوں گا میں۔
بس اتنا کہتے ہوئے اسے چھوڑ کر آفس سے باہر نکل گیا۔
ریزائِننگ لیٹر مینجر کے پاس پھینکتے ہوئے وہاں سے نکل آیا۔
باس کو غصہ نہی آیا’بلکہ وہ تو انجوائے کر رہا تھا احتسام کی حالت کو۔
احتسام دوبارہ آفس نہی گیا’گھر پر اس نے یہ بتایا کہ ہانیہ کی شادی کے لیے چھٹیاں لی ہیں۔
مینِجر کی کال آئی تھی اسے’احتسام تم نے پانچ لاکھ کا قرضہ لیا ہے۔
تم اس طرح جاب چھوڑ کر نہی جا سکتے’تم پر پولیس کیس بن سکتا ہے۔
مگر احتسام پر کسی بات کا اثر نہی ہوا’
ہانیہ کی شادی کی تیاریوں میں بہت مصروف ہو چکا تھا وہ۔
صلہ سے ملنے چلا جاتا تھا کبھی کبھی’یا پھر فون پر بات کر لیتا تھا۔
ہانیہ کی شادی پر انوائٹ کیا اس نے صلہ کو مگر وہ امی کی طبیعت کا بہانہ بنا کر نہی گئی۔
احتسام کی امی خود گئی ان کے گھر ان کو انوائٹ کرنے’وقت مناسب تو نہی تھا۔
مگر اب کچھ کر نہی سکتے تھے’احتسام کی پھوپھو کہاں ڈیٹ بڑھانے والی تھیں شادی کی۔
احتسام کا دل تو نہی چاہ رہا تھا صلہ کو اس حال میں اکیلا چھوڑنے کا مگر کیا کرتا۔
ساری تیاریاں اسے ہی تو کرنی تھیں’آخر کار شادی کا دن بھی آن پہنچا۔
ہانیہ کی رخصتی خیریت سے ہو گئی’وہ پیا گھر سدھا گئی۔
اب رانیہ اور امی گھر ہوتے’احتسام دن بھر کہی باہر چلا جاتا۔
اور شام کو واپس گھر آ جاتا’گھر والوں کو یہی ظاہر ہوتا کہ وہ آفس گیا ہے۔
مگر آخر کب تک یہ بات چھپائے گا وہ گھر والوں سے۔
صلہ کے بابا کو گزرے ایک مہینہ ہونے والا تھا۔
احتسام ابھی سونے کے لیے لیٹا ہی تھا کہ فون بجنا شروع ہو گیا۔
صلہ کی کال تھی’احتسام نے جلدی سے کال اٹینڈ کی۔
بھائی آپ جلدی سے آ جائیں صلہ آپی کی ماما کو کچھ ہو گیا ہے۔
صلہ آپی بہت رو رہی ہیں’روشنی روتے ہوئے بول رہی تھی۔
میں آ رہا ہوں روشنی تم فکر مت کرو!
احتسام فون بند کرتے ہوئے تیزی سے باہر کی طرف دوڑا۔
بائیک نکال کر جلدی سے صلہ کے گھر پہنچا’
صلہ بیڈ پر بیٹھی اپنی ماما کا ہاتھ تھامے رو رہی تھی۔
احتسام کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی۔
احتسام جلدی سے آگے بڑھا’ان کی نبض چیک کی’نبض تھم چکی تھی۔
دل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی’ان کا ٹھنڈا ہاتھ احتسام کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
صلہ پر ایک اور قیامت ٹوٹی تھی’اس کی ماما بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
احتسام نے جلدی سے امی کو فون کر کے یہاں بلایا۔
وہ رانیہ کو ساتھ لیے یہاں آ گئیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے سارے محلے میں یہ خبر پھیل گئی۔
ابھی باپ کو گزرے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ماں بھی رخصت ہو گئی۔
بے چاری جوان بچیاں یتیم ہو گئیں’محلے کی عورتیں میت کے اردگر بیٹھی افسوس کا اظہار کر رہی تھیں۔
احتسام کو آج پھر سے سب کچھ سنبھالنا تھا۔
صلہ اب رو نہی رہی تھی’وہ تو بس بت بنی اپنی ماما کو دیکھی جا رہی تھی۔
روشنی نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا اپنا’
آخر کار اگلی صبح میت کو اپنی آخری منزل کی طرف روانہ کر دیا گیا۔
صلہ بس صدمے کی حالت میں بیٹھی اپنی ماما کو جاتا دیکھ رہی تھی۔
وہ نا تو کچھ بول رہی تھی’اور نا ہی رو رہی تھی۔
آخر کار وہ وہی فرش پر ڈھے سی گئی۔
بہت دیر تک اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی۔
مگر وہ ہوش میں نہی آ سکی’
احتسام جیسے ہی گھر واپس آیا جلدی سے صلہ کو لے کر ہاسپٹل پہنچا۔
رانیہ اور امی روشنی کے پاس ہی تھیں۔
ہاسپٹل پہنچا تو صلہ کو ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا۔
ان کو کوئی گہرا صدمہ پہنچا ہے’اس حالت میں ان کا بے ہوش ہونا خطرے سے خالی نہی ہے۔
اگر ان کو چوبیس گھنٹوں تک ہوش آ گیا تو ٹھیک ورنہ یہ کومہ میں بھی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر بس اتنا بول کر وہاں سے چلا گیا’جبکہ احتسام وہی کھڑا رہ گیا۔
کومہ کے نام پر اس کا دل کانپ اٹھا۔
وہ وہی بینچ پر بیٹھ گیا۔
نہی صلہ’تم ایسے مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتی۔
احتسام ڈاکٹر کی اجازت سے صلہ کے پاس جا بیٹھا۔
اس کا ہاتھ تھامے کتنے ہی پل اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
بکھرے بال،پیلی رنگت،آنکھوں پر گہرے حلقے احتسام کا دل تڑپ اٹھا۔
صلہ اٹھ جاو پلیز!
میری خاطر اٹھ جاو’مجھے چھوڑ کر مت جاو۔
ایک اور صدمہ برداشت نہی کر سکوں گا میں’تم مجھے اکیلا چھوڑ کر نہی جا سکتی۔
احتسام کتنے ہی پل اس کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہا۔
نرس نے اسے باہر جانے کو کہا’تو بے دلی سے صلہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے واپس چلا گیا۔
رانیہ بار بار احتسام کو فون کر کے صلہ کا حال پوچھ رہی تھی۔
صبح سے دوپہر ہو چکی تھی’مگر صلہ ابھی تک ہوش و حواس سے بیگانی پڑی تھی۔
آخر کار شام کو صلہ کو ہوش آ ہی گیا’وہ ہوش میں آ تو گئی تھی۔
مگر اس کا رویہ بیگانہ سا تھا’وہ ہوش میں آ کر بھی ہوش میں نہی تھی۔
صلہ کو ہوش آیا تو ڈاکٹر نے گھر جانے کو کہہ دیا۔
وہ نا تو رو رہی تھی’اور نا ہی کوئی بات کر رہی تھی۔
احتسام ڈرائیونگ کرتے ہوئے بار اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
احتسام نے گاڑی سائیڈ پر پارک کی۔
صلہ’اس نے پکارا۔
مگر صلہ نے کوئی جواب نہی دیا۔
احتسام نے اسے کندھے سے ہلایا’تو صلہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔
صلہ تمہاری ماما نہی رہی’تم رو کیوں نہی رہی۔
ہوش میں آو صلہ’احتسام نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا۔
نہی میری ماما کہی نہی گئی’تم جھوٹ بول رہے ہو۔
وہ میرے ساتھ ہیں’
صلہ تم ایسے کیوں بی ہیو کر رہی ہو جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔
ایسے کرنے سے کیا ہو گا’تمہاری ماما اب اس دنیا میں نہی ہیں۔
اس سچائی کو مان لو۔
نہی۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو’صلہ احتسام کو گریبان سے کھنچتے ہوئے بولی۔
میری ماما زندہ ہیں سمجھے تم’وہ احتسام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
آہستہ آہستہ اس کی گرفت ڈھیلی پڑی’اور وہ احتسام کے سینے پر سر رکھ کر آنسو بہانے لگی۔
میری ماما مجھے چھوڑ کر چلی گئیں’بابا بھی چلے گئے۔
میں اکیلی رہ گئی احتسام’
احتسام نے آہستہ سے صلہ کو خود سے الگ گیا’اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے۔
اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
نہی صلہ تم اکیلی نہی ہو’
“میں ہوں نا تمہارے ساتھ”
“میں وعدہ کرتا ہوں’تمہیں کبھی اکیلا نہی چھوڑوں گا۔
حالات چاہے جیسے بھی ہو’کچھ بھی ہو جائے میں تمہارا ساتھ نہی چھوڑوں گا۔
احتسام نے اپنے آپ سے بھی اور صلہ سے بھی ایک وعدہ کر لیا آج’
چند دن گزر گئے’احتسام امی کو اور رانیہ کو روز صلہ کے پاس چھوڑ دیتا اور شام کو واپس لے جاتا۔
ایک شام احتسام صلہ کے گھر کے باہر پہنچا تو محلے کے چند مرد اس کے گرد گھیرا بنائے کھڑے ہو گئے۔
احتسام نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا۔
کیا رشتہ ہے تمہارا اس گھر سے’ایک آدمی احتسام کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
مطلب؟
احتسام چونکا!
مطلب یہ کہ گھر میں دو جوان لڑکیاں ہیں’اور ان کے سر پر اب کسی محرم کا سایہ نہی ہے۔
ایسے میں تمہارا یہاں آنا جانا ٹھیک نہی ہے۔
محلے دار ہونے کے ناطے ہمارا فرض بنتا ہے ان بچیوں کا خیال رکھنا۔
سب باری باری بولتے گئے’اور احتسام حیران نظروں سے ان کی طرف دیکھتا گیا۔
میں نکاح کرنا چاہتا ہوں صلہ سے ابھی!
کیا آپ لوگ اس نکاح کے گواہ بنیں گے؟
احتسام کی بات پر سب نے حیران نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
ٹھیک ہے’ تم اپنے کسی بڑے کو لے آو ساتھ۔
ہمیں کوئی مسئلہ نہی’بلکہ ہمارے لیے تو بہت بڑی سعادت ہو گی۔
احتسام وہاں سے واپس چلا گیا’
گھر جا کر امی کو ساری صورتحال بتائی۔
وہ بہت خوش ہوئیں اپنے بیٹے کے اس قدم پر۔
ٹھیک ہے احتسام میں تمہارے چاچو اور پھوپھا کو بلوا لیتی ہو۔
ان کا ہمارے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے’ان کے بغیر ہم ایسا کوئی قدم نہی اٹھا سکتے۔
“میں نہی چاہتی کوئی میرے بیٹے کے کردار پر انگلی اٹھائے۔
رانیہ تو خوشی سے پاگل ہو رہی تھی’
بھائی ہم کب جائیں گے بھابی کو لینے’وہ بہت خوش ہو گی ناں؟
رانیہ کے سوال پر احتسام سوچ میں پڑ گیا’کیاجھے صلہ سے اس کی رضا مندی پوچھنی چاہیے؟
نہی۔۔ابھی میں وہاں نہی جا سکتا’اور فون پر ایسی بات کر نہی سکتا۔
