Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 18)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 18)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
رامین کے ابا بہت دیر بعد گھر واپس آئے۔وہ بہت پریشان لگ رہے تھے۔
ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار واضح تھے۔
رامین بھی پریشان ہو چکی تھی۔
آخر کون آیا تھا’ابا سے ملنے۔
جو ابا اتنی دیر بعد گھر واپس آئے ہیں۔
ضرور کوئی پریشانی والی بات ہے’جو ابا ہم سے چھپا رہے ہیں۔
کہی مالک مکان تو نہی آ گیا کرایہ مانگنے’رامین خود سے ہی اندازہ لگا رہی تھی۔
نہی اگر وہ ہوتا تو بہت شور مچاتا۔
ضرور کوئی اور ہو گا’کہیں ملک صاحب تو نہی آئے تھے۔
یا پھر اظہر’کوِئی ایسی بات نا کہہ دی ہو انہوں نے جس سے ابا پریشان ہو گئے۔
رامین نے پوچھا مگر انہوں نے کچھ نہی بتایا۔
رامین نے زیادہ اسرار نہی کیا۔
وہ جانتی تھی ابا نہی بتانا چاہتے۔
وہ طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے کمرے میں چلے گئے۔
رامین بس بے بسی سے ان کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
چند دنوں میں زندگی کیا سے کیا بن گئی۔
وہ ہوا جو کبھی سوچا بھی نہی تھا۔
پہلے پرنس آیا زندگی میں’اس کے لیے محبت جاگی ہی تھی ابھی دل میں۔
کہ ملک اظہر آ گیا زندگی میں۔
اور وہ بھی پورے حقوق کے ساتھ۔
جس کا انکار ممکن نہی۔
کچھ لوگ پیسے کی طاقت پر کچھ بھی خرید سکتے ہیں۔
کسی سے اس کی محبت بھی چھین سکتے ہیں۔
اور کسی سے اس کے جینے کا حق’اس کی خوشیاں بھی چھین لیتے ہیں۔
دوسروں کو غلام بنانا شان ہوتی ہے ایسے لوگوں کی۔
ایسا ہی کچھ رامین کے ساتھ ہوا تھا۔
اظہر نے پرنس سے اس کی محبت کو چھین کر خود کو ثابت کر دیا۔
ثابت کر دیا اس نے کہ پیسے کے دم پر’غریب پر پیسے کا رعب جھاڑ کر سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔
غریب ماں،باپ تو بس اتنی بات پر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔
کہ ان کی بیٹی اچھی زندگی گزارے گی۔
دولت کی رہل پہل ہو گی’گاڑیاں،گھر سب کچھ قدموں میں ہو گا۔
بس یہی کمزوری رامین کے گھر والوں کی تھی۔
اظہر نے ان کی کمزوری پر وار کیا۔
مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر’چند لمحوں میں رامین کو اپنی غلام بنا لیا۔
اظہر جیت گیا’مگر محبت کیسے جیت پائے گا۔
“محبت روح سے ہوتی ہے’روح ہی ساتھ نا دے۔”
“”تو کیا فائدہ ایسی محبت کا”
“محبت میں جیت ہار نہی ہوتی”
“محبت تو قربانی مانگتی ہے”
“”محبت تو یہ کہ محبت کی محبت سے بھی محبت کی جائے””
“کیا فائدہ ایسی محبت کا جس میں قربانی ہی نہ ہو”
“محبت نام ہے قربانی کا”
“کہاں ملی ہے یہ محبت کسی کو”
“یہ جان لیتی ہے’اور جان مانگتی ہے”
“دلوں کی یہ دشمن ہے”
“خون دلوں کا یہ پیتی ہے”
“جو ہو جائے ایک بار”
“تو کہاں جینے دیتی ہے”
“لاکھوں ملے گے تجھ کو افسانے”
“محبت کے دیوانوں کے”
“یہ جان کی بازی مانگتی ہے”
“ٹکرے دلوں کے کرواتی ہے”
“یہ جو چُن لے کسی دل کو”
“تو قبر تک پہنچاتی ہے”
“یہ کہاں کسی کو ملتی ہے”
“یہ نصیب بنتی ہے’قسمت والوں کا”
“محبت نام ہے قربانی کا”
رامین سر جھٹکتے ہوئے وہی بیٹھ گئی اماں کے پاس
کھانا کھانے کے بعد بچوں کا انتظار کرنے لگی۔
بچے آئے تو ان کو پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔
ارے یہ کیا بات ہوئی’رامین کی اماں نے اسے بچوں کو پڑھاتے دیکھا تو ہنس دیں۔
اب ان بچوں کو فارغ کر دو تم’ایک ہفتے بعد شادی ہے تمہاری۔
اور تم بچوں کو پڑھانے بیٹھ گئی ہو۔
رامین کو حیرانگی ہوئی اماں کی بات پر۔
“یہ کیا بات ہوئی بھلا اماں؟
میں ان بچوں کو کیوں پڑھانا چھوڑ دوں۔
جب تک یہاں ہوں’تب تک تو پڑھانے دیں۔
نہی نہی رامین اب بس کر دو تم۔
نکاح ہو چکا ہے تمہارا بیٹا۔
اب تمہارے سسرال والوں کا آنا جانا لگا رہے گا۔
اب اگر انہوں نے دیکھ لیا’تمہیں بچوں کو پڑھاتے ہوئے۔
تو شاید ان کو یہ بات ناگوار گزرے۔
وہ امیر لوگ ہیں’وہ کبھی گوارہ نہی کریں گے۔
کہ ان کی اکلوتی بہو نوکری کرے۔
کہہ دو کل ثوبیہ کو بھی فون کر کے۔
کل سے تم سکول نہی جانے والی۔
نکاح ہو چکا ہے تمہارا’اب تم کسی کی امانت ہو ہمارے پاس۔
کل بلا کر کہہ دوں گی ان بچوں کے گھر والوں سے بھی کہ کسی اور ٹیوشن بھیج دیں اب انکو۔
تم جاو جا کر آرام کرو ان کو چھٹی دے دو۔
اماں کیا ہو گیا ہے آپ کو؟
مجھے خرید تھوڑی نا لیا ہے انہوں نے جو مجھ پر اتنی پابندیاں لگائیں گے وہ لوگ۔
اور ان کو سب پتہ ہی ہو گا کہ میں نوکری کرتی ہوں سکول میں’اور بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہوں۔
ہمارے گھر کے سارے حالات سے واقف ہیں وہ لوگ اچھی طرح۔
ہم جیسے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں ہم’کیوں ہم ان کے لیے خود کو بدلیں۔
نہی رامین اس میں خریدنے والی کوئی بات نہی’میری بات کا غلط مطلب سمجھ لیا تم نے۔
میں تو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اب تم رامین صدیق احمد نہی رہی۔
تم رامین اظہر بن چکی ہو۔
تمہاری زندگی بدل چکی ہے۔
ان لوگوں کا حق بن چکا ہے تم پر۔
ان کے گھر کی اکلوتی بہو ہو تم۔
اور سب سے زیادہ حق تمہارے شوہر کا ہے تم پر اب۔
ہم سے بھی زیادہ’اور یہ اسی کا حکم ہے۔
تم جتنے دن اس گھر میں ہو میں چاہتی ہوں ہم زیادہ وقت گزارے ایک دوسرے کے ساتھ۔
چند دنوں بعد تم اپنے سسرال چلی جاو گی۔
ہزاروں زمہ داریاں آ جائیں گی تمہارے سر۔
پھر کہاں آو گی جلدی ملنے’اماں ،ابا کی یاد بھی آئے گی تمہیں یا نہی۔
رامین کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے’وہ اماں سے لپٹ گئی۔
ایسا کیوں کہہ رہی ہیں اماں’میں کہی نہی جانے والی آپ کو چھوڑ کر۔
“چھوڑ کر تو جانا ہی پڑے گا’ہاں البتہ ملوانے لاتا رہوں گا میں”
ایک جانی پہچانی سی آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔
وہ اماں سے الگ ہوئی’تو وہ سیڑھیوں کے پاس کھڑا مسکرا رہا تھا۔
آنکھوں پر گلاسز لگائے’کالا سوٹ پہنے وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔
ہونٹوں پر دل پھینک مسکراہٹ سجائے’وہ رامین کو ہی دیکھ رہا تھا۔
رامین نے ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی۔
اسے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں نفرت بھر آئی۔
رامین کی اماں مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھیں۔
آو بیٹا اندر آو وہاں کیوں کھڑے ہو۔
وہ بولیں تو وہ مسکراتے ہوئے بچوں کے پاس جا بیٹھا۔
اماں کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
بچوں آپ سب سے ایک ضروری بات کرنی ہے’اس کی مدھم سی آواز رامین کو اپنے حواسوں پر چھاتی ہوئی محسوس ہوئی۔
آپ کی یہ جو ٹیچر ہیں نا’رامین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
جی’۔۔۔بچے بلند آواز میں ایک ساتھ بولے۔
“یہ اب میری ٹیچر ہیں’آپ لوگ اپنی کوئی اور ٹیچر ڈھونڈ لیں۔
آج سے آپ سب کو چھٹی’اب آپ سب جاو اپنے اہنے گھر۔
میرے دس گننے تک سارے بچے یہاں سے بھاگ جائیں۔
اگر کوئی بچہ مجھے نظر آیا تو اس کی خیر نہی’وہ مسکراتے ہوئے گنتی شروع کر چکا تھا۔
ایک،
دو،
تین،
چار’دیکھتے ہی دیکھتے سارے بچے بھاگ گئے۔
رامین حیران پریشان سی دور کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
اس کی حرکتیں بچوں والی تھیں’ایک پل کے لیے رامین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
مگر اگلے ہی پل وہ مسکراہٹ سمٹ گئی۔
وہ پلٹ کر رامین کی طرف آیا۔
کیسی ہے میری مسز؟
وہی گھمگیر سا لہجہ’رامین ایک پل کے لیے چونکی۔
وہ مسکرا دیا’
رامین وہاں سے چل پڑی اوپر کی طرف’مگر اظہر نے اس کا راستہ روک لیا۔
کہاں جا رہی ہو’میں تم سے ملنے آیا ہوں۔
اور تم دامن بچا کر بھاگ رہی ہو۔
وجہ جان سکتا ہوں میں۔
رامین نے خونخوار نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
اظہر مسکرا دیا’چلو میرے ساتھ کہی جانا ہے۔
حکم دینے والا انداز تھا اظہر کا۔
کیوں جاوں میں آپ کے ساتھ’میں آپ کی غلام نہی ہوں جب دل چاہے راستہ روک لیتے ہیں میرا۔
رامین جتنا بھی عہد کر لے دل سے کہ اظہر کو دل سے اپنا لے گی۔
مگر جیسے ہی اظہر اس کے سامنے آتا اس کے سارے عہد پر پانی پھر جاتا۔
اظہر حیران ہوا رامین کے جواب پر’مگر غصہ پی گیا۔
اور مسکرا دیا۔
وہ جانتا تھا اس نے بہت غلط کیا رامین کے ساتھ’اس کو تھوڑا وقت تو لگے گا اس رشتے کو قبول کرنے میں۔
اسی لیے وہ اب رامین کے ساتھ نرمی سے پیش آ رہا تھا’تا کہ اس کے دل میں اپنے لیے محبت پیدا کر سکے۔
وہ کیا ہے نا ڈئیر مسز آپ کو شادی کی شاپنگ پر لے کر جانا ہے۔
اور رہی بات غلامی کی تو غلام حاضر کا ہے آپکا۔
آپ کی نظروں نے غلام بنا رکھا ہے ہمیں۔
اور آپ فرما رہی ہیں کہ ہم نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔
رامین کچھ بولنے ہی والی تھی کہ اماں چائے لے آئیں۔
اظہر صوفے کی طرف بڑھ گیا’اور بڑے مزے سے چائے پینے لگا۔
اب چائے پیتے وقت بھی گلاسز نہی اتارے’عجیب انسان ہے۔
آخر ہے کیا اس کے گلاسز میں’رامین کو کوفت سی ہونے لگی۔
اگر آپ کو کوئی اعتراض نا ہو تو میں رامین کو شاپنگ پر لے جاوں۔
اظہر رامین کی اماں سے بہت عقیدت اور اپنائیت سے بھر پور لہجے میں بولا۔
کیوں نہی بیٹا’بیوی ہے تمہاری اس میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔
رامین کو جیسے صدمہ لگا’اماں ایسے کیسے بھیج سکتی ہیں مجھے اکیلا اس کے ساتھ۔
جاو رامین تیار ہو جاو جلدی سے’اماں بولیں تو رامین دانت پیستے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گئی۔
کچھ دیر بعد چادر اوڑھے اور اپنا بیگ اٹھائے نیچے آ گئی۔
رامین کو نیچے آتا دیکھ اظہر بھی اٹھ کھڑا ہوا’چلیں مسز مسکراتے ہوئے بولا۔
رامین اماں کی طرف بڑھ گئی’خدا حافظ اماں اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولیں۔
دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔
رامین نے گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اظہر سامنے آ گیا۔
آپ کا غلام حاضر ہے میڈم’سر خم کرتے ہوئے بولا۔
اور رامین کے لیے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
رامین چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
اظہر بھی مسکراتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔
اور مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
_________________________
احتسام گو وہ دن یاد آ گیا جب اس کے بابا اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
ایسے لگا تھا جیسے ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہو۔
سر سے چھت اڑ گئی ہو جیسے۔
وہ بھی ایسے ہی بیٹھا آنسو بہا رہا تھا’جیسے آج صلہ بہا رہی تھی۔
وہ بھی ایسے ہی ٹوٹ کر بکھر چکا تھا۔
مگر اسے خود کو سنبھالنا پڑا’ماں اور دونوں بہنوں کو سنبھالنا تھا اسے۔
اور آج بھی وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تا کہ صلہ کو سنبھال سکے۔
صلہ کے بابا کو آئی سی یو سے باہر لایا گیا تو صلہ ان کے پیچھے دوڑی۔
نہی ہٹا دو یہ سفید کپڑا میرے بابا کے چہرے سے کچھ نہی ہوا ان کو۔
وہ ٹھیک ہے’سو رہے ہیں بس۔
میرے بابا مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتے’وہ چلا رہی تھی۔
وہ ہوش میں نہی لگ رہی تھی۔
روشنی صلہ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔
مگر صلہ اس سے ہاتھ چھڑواتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔
احتسام نے آگے بڑھ کر صلہ کو بازو سے کھینچ کر روکا۔
صلہ رُک جاو’وہ جا چکے ہیں۔
سنبھالو خود کو پاگل ہو چکی ہو تم۔
نہی احتسام بابا زندہ ہیں’کچھ نہی ہوا ان کو۔
ڈاکٹرز کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
بابا مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتے۔
صلہ کی ماما کو روشنی ساتھ لیے آ رہی تھی۔جبکہ احتسام صلہ کا بازو تھامتے ہوئے اسے زبردستی گاڑِی کی طرف لے کر گیا۔
روشنی نے جلدی سے گاڑی کی چابیاں احتسام کی طرف بڑھائیں۔
احتسام نے صلہ کو گاڑی میں بٹھایا’روشنی اور صلہ کی ماما کو اس کے ساتھ بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔
اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
پہلے ان کی گاڑی پہنچی اور ساتھ ہی ایمبولینس بھی۔
صلہ گاڑی سے باہر بھاگتے ہوئے بابا کی طرف بڑھی۔
ان کی میت گھر پر آئی تو دیکھتے ہی دیکھتے محلے والے بھی جمع ہونا شروع ہو گئے۔
احتسام جلدی سے گھر پہنچا اور امی اور رانیہ،ہانیہ کو ساتھ لے آیا۔
صلہ اور اس کی ماما کو کسی سہارے کی ضرورت تھی۔
مگر یہاں ان کا کوئی رشتہ دار نہی ہے ‘احتسام نے صلہ کی ماما سے پوچھا تو انہوں نے یہی جواب دیا۔
احتسام کو یہی ٹھیک لگا پھر ان حالات میں۔
صلہ نے ان سب کو یہاں دیکھا تو رو رو اپنے دل کا حال بیان کرنے لگی۔
میرے بابا مجھے چھوڑ کر چلے گئے آنٹی’دیکھو تم دونوں۔
میرے بابا مجھ سے ناراض ہو کر چلے گئے۔
ان تینوں کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو چکے تھے۔
وہ کہتے ہیں نا”جس تن نوں لگدی’اوہی تن جانے”
جس پر یہ کیفیت گزری ہو وہ ان کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔
صلہ کی ماما بس گم سم سی بیٹھیں آنسو بہائے جا رہی تھیں۔
وہ کچھ نہی بول رہی تھیں۔
ہانیہ اور رانیہ دونوں صلہ کو سنبھالنے میں لگی تھیں۔
مگر وہ چپ نہی ہو رہی تھی۔
اس کی سسکیاں پورے گھر میں گونج رہی تھیں۔
مرد حضرات بھی جمع ہو چکے تھے۔
احتسام تدفین کے انتظامات میں لگا تھا۔
سب کچھ اسے ہی تو کرنا تھا۔
سارے انتظامات مکمل ہوئے تو میت کو آخری منزل تک پہنچانے کے لیے مرد حضرات گھر میں داخل ہوئے۔
کلمہ شہادت’
اللہ اکبر’
بس یہی آوازیں صلہ کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔
وہ چلا رہی تھی’مگر اس کی آواز گم ہو چکی تھی اس بھیڑ میں۔
وہ خود کو پانی میں ڈوبتی محسوس کر رہی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین پر گر گئی۔
ساری آوازیں بند ہو چکی تھیں’ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔
ایک آخری بات جو اس کی زبان پر تھی وہ یہ تھی۔
“میرے بابا مجھے چھوڑ کر چلے گئے”
_________________
“گھبرا کیوں رہی ہو مجھ سے؟
ایسے دور ہو کر بیٹھنے کا کیا مطلب سمجھوں اب میں۔
مجھ سے کس بات کا ڈر ہے تمہیں؟
میں تمہیں اس لیے ساتھ لے کر آیا ہوں۔تا کہ ہمارے درمیان کی دوریاں ختم کر سکوں۔
تم مجھے جان سکو!
میری عادتیں جاننے کی کوشش کرو۔
مجھے جاننے کی کوشش کرو۔
سب کچھ تمہارے لیے ہی تو کیا ہے۔
“تمہاری محبت میں’
تمہاری محبت ہی تو طاقت ہے میری’
جتنا جلدی ہو سکے ہمارے رشتے کو قبول کرنے کی کوشش کرو’
بس چند دن اور پھر تم ہمیشہ کے لیے میری زندگی میں شامل ہو جاو گی۔
شامل تو ہو چکی ہو ویسے میری زندگی میں’بس مجھے قبول نہی کر پا رہی تم۔
“اکیلے باہر ساتھ لانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو جان سکیں۔
اگر ایسے ہی مجھ سے بھاگتی رہی تو زندگی مشکل ہو جائے گی ہم دونوں کی۔
بے فکر ہو کر بیٹھو!
“شوہر ہوں تمہارا’کوئی غیر تو نہی۔
اظہر نے جب رامین کو چپ چاپ سمٹ کر بیٹھے دیکھا تو بنا بولے رہ نہ سکا۔
تم تو ایسے بیٹھی ہو جیسے مجھے جانتی ہی نہی’
“اب تو زندگی بھر کا ساتھ جڑ چکا ہے ہمارا”
“سہی کہا آپ نے!
میں واقعی نہی جانتی آپ کو ہمارے درمیان بس نکاح کا رشتہ ہے۔
‘ویسے تو اجنبی ہیں آپ میرے لیے”
رامین کی بات پر اظہر نے گاڑی کو بریک لگائی’کیا ہم اجنبی ہیں؟
‘اظہر کو جیسے صدمہ لگا!
“اس میں اتنا حیران ہونے والی کونسی بات ہے’ٹھیک ہی تو کہا ہے میں نے’
ہمارے درمیان اس دھوکے سے کیے گئے نکاح کے سوا اور کوئی رشتہ ہے کیا؟
دھوکا،جھوٹ،فریب یہ سب تو آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں۔
مگر اس بار آپ نے حد ہی کر دی’دھوکے سے نکاح ہی کر ڈالا’
میرے جزبات کو ٹھیس پہنچائی آپ نے’دھوکا دیا مجھے”
“کیسا دھوکا رامین؟
میں نے کوئی زبردستی نہی کی تمہارے ساتھ’بس نکاح ہی تو کیا ہے۔”
“زبردستی اسے ہی تو کہتے ہیں ملک اظہر صاحب!
بنا بتائے اچانک اگر آپ کی مرضی جانے بغیر آپ کو نکاح نامے پر سائن کرنے کو کہہ دیا جائے’
اسے زبردستی ہی تو کہتے ہیں’
میں نے یہ نکاح اپنے ماں،باپ کا مان رکھنے کے لیے کیا ہے بس!
اور اس رشتے کو اپنی آخری سانس تک نبھاوں گی’کیونکہ میرے ماں،باپ کی خوشیاں جڑی ہیں اس رشتے سے”
“رامین تم بدگمان ہو مجھ سے’بہت زیادہ غلط فہمیاں پیدا کر رکھی ہیں تم نے اپنے دل میں میرے بارے میں۔
مگر میں وعدہ کرتا ہوں!
‘بہت جلد تمہاری ساری بدگمانیاں دور کر دوں گا۔
تم بس کوشش کرو مجھ پر بھروسہ کرنے کی’
میں مانتا ہوں بہت غلط کیا میں نے تمہارے ساتھ’تم جو چاہے مجھے سزا دو۔
مگر مجھ سے بدگمان مت ہونا کبھی’
“بہت محبت کرتا ہوں میں تم سے’اپنی جان سے بھی زیادہ۔
