Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 14)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 14)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
یہ کس کی ہے آہٹ۔
یہ کس کا ہے سایہ۔
ہوئی دل میں دستک۔
یہاں کون آیا۔
ہم پے یہ کس نے ہرا رنگ ڈالا۔
خوشی نے ہماری ہمیں۔۔مار ڈالا۔
گانا بج رہا تھا اور وہ ناچ رہی تھی۔
اچانک اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔
ایسا پہلے کبھی نہی ہوا تھا۔
سامنے موجود وجود کو دیکھتے ہی وہ لڑکھڑائی۔
اس کی نظروں کی تپش اس سے برداشت نہی ہو رہی تھی۔
وہ پھر سے لڑکھڑائی۔
مگر جلدی ہی خود کو سنبھالا۔
سامنے میز پر سجی بوتل اٹھائی’اور منہ سے لگا گئی۔
اب اس کے قدم نہی لڑکھڑائیں گے۔
وہ کمزور پڑ رہی تھی۔
سامنے موجود شخص کی نظروں میں ہزاروں شکوے تھے۔
درد تھا ان نظروں میں،
بے بسی تھی،
کچھ ٹوٹ سا گیا تھا،
اس شخص کا دل تھا شاید،
جس کے ٹوٹنے کی آواز اس طوائف نے سن لی تھی۔
اور آنسو بھی تھے جو اس شخص کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے تھے۔
وہ آنسو اس طوائف کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے۔
وہ ہوش میں نہی تھی۔
اس کی آنکھیں سرخ پڑ چکی تھیں۔
درد سے،ظبط سے،کسی کو کھو دینے کے غم سے۔
اب اس شخص سے مزید یہاں رکنا مشکل ہو رہا تھا۔اس نے باہر کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے۔
کہ گانا بدلا تھا۔اور اس کے قدم بھی رک گئے تھے۔
دل چرکھے دا چکر کٹیا۔
وچوں نکلی تند ہائے۔
تند سونے ہتھ یار سجن دے۔
دل اڈے وانگ پتنگ۔
دل بھریا وی نئیں۔
اکھاں رجھیاں وی نئی۔
کیویں دل نوں میں سمجھاواں۔
وقت رکدا نہی میں جیویں چاواں۔
توں تھوڑی دیر اور ٹہر جا سوہنیا۔
توں تھوڑی دیر ہور ٹہر جا۔
توں تھوڑی دیر ہور ٹہر جا ظالماں۔
توں تھوڑی دیر ہور ٹہر جا۔
اس کے قدم رک چکے تھے’وہ پلٹا تھا۔
وہ طوائف وہیں زمین پر گر سی گئی’اس کے پلٹنے پر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔
اور وہ ہوش سے بیگانی ہو گئی۔
وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
اسے بازوں میں اٹھاتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھا۔
ایک دوسری طوائف اسے راستہ بتا رہی تھی’اس طوائف کے کمرے کا۔
اسے کمرے میں فرش پر بچھے کارپٹ پر ہی لٹا دیا۔
اور خود اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔شرٹ کے بازو سے آنسو صاف کر ڈالے۔
بس اب اور نہی۔۔۔اب اور دکھ نہی دیکھنے دوں گا میں تمہیں۔
اس کے معصوم چہرے پر نظریں جمائے دل ہی دل میں عہد کر ڈالا۔
_______________________
رامین نماز پڑھ کر نیچے آئی تو حیران رہ گئی۔سامنے ثوبیہ کے امی،ابو بیٹھے تھے۔
رامین نے ان کو مسکراتے ہوئے سلام کیا۔
اس کی حیرانگی میں مزید اضافہ تب ہوا جب اس نے دروازے سے کسی کو اندر آتے دیکھا۔
وہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔
اس کے جسم میں جیسے جان ہی نا رہی ہو۔
اس کا مطلب جو میں نے سوچا تھا وہی سچ تھا۔
ہم یہاں رامین بیٹی کے رشتے کی بات کرنے آئے ہیں۔
ثوبیہ کی امی کی مدھم سی آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔
بس اتنا ہی سننا تھا کہ رامین جلدی سے اوپر بھاگ گئی۔
اسد ہی پرنس ہے۔
رامین کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
وہ خود کو سنبھال نہی پا رہی تھی۔
ایسے لگ رہا تھا’جیسے ابھی دل پھٹ جائے گا۔
سامنے سے اندر آتے ثوبیہ اور اسد نے حیرانگی سے رامین کو اوپر جاتے دیکھا۔
اور وہ دونوں سلام کرتے ہوئے امی،ابو کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔
________________
رامین پریشانی کے عالم میں کمرے میں اِدھر سے اُدھر ٹہل رہی تھی۔
اسد سے شادی’ایسا تو میں نے کبھی سوچا بھی نہی تھا۔
اگر امی ابو نے ہاں کر دی تو’کیا جواب دوں گی میں ان کو۔
ایسا نہی کہ وہ اچھا نہی ہے’وہ اچھا ہے۔
ہینڈسم ہے’پڑھا لکھا سمجھدار لڑکا ہے۔
مگر میں نے کبھی اس کے بارے میں ایسا کوئی تصور کیا ہی نہی۔
“میں کیسے قبول کر پاوں گی اس رشتے کو۔”
اور اگر اسد مجھے پسند کرتا بھی تھا’تو اسے ایسے منہ چھپانے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی مجھ سے۔
پرنس بن کر۔۔۔وہ سب کیا تھا’کیوں کیا اسد نے ایسا؟
رامین انہی سوچوں میں گُم تھی’کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔
اسد اور ثوبیہ دروازے کے باہر کھڑے تھے۔
رامین ڈوپٹا ٹھیک کرتے ہوئے ان کی طرف بڑھی’آو نا اندر دروازہ ناک کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
رامین مسکراتے ہوئے بولی۔
وہ دونوں اندر آ گئے۔
رامین نے اسد کی طرف نہی دیکھا’وہ بلاوجہ جھجک رہی تھی اسد سے۔
ثوبیہ رامین کے ساتھ بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔
جبکہ اسد کرسی پر بیٹھ گیا’ٹانگ پر ٹانگ جمائے۔
رامین نے چونک کر اسد کی طرف دیکھا’اس کے بیٹھنے کا سٹائل بلکل پرنس جیسا تھا۔
اب تو رامین کو یقین ہو گیا’کہ اسد ہی پرنس ہے۔
اسد نے رامین کی طرف نہی دیکھا’وہ فون میں مصروف ہو چکا تھا۔
تم اوپر کیوں چلی آئی ہمیں دیکھ کر’ثوبیہ خفگی سے بولی؟
نہی۔۔تم دونوں کو دیکھ کر نہی’میں نے دیکھا ہی نہی تم دونوں کو۔
اگر دیکھا ہوتا تو رُک جاتی’رامین نے جھوٹ بولا۔
اچھا چھوڑو یہ سب’تم جانتی ہو ہم آج کیوں ہے سب تمہارے گھر؟
ثوبیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
نہی۔۔۔رامین جانتی تو تھی’مگر جان بوجھ کر انجان بن گئی۔
اور سر نفی میں ہلا دیا۔
ہم اس لیے آئے ہیں کہ تمہیں اپنی بھابی بنانا جاہتی ہوں میں۔
رامین کو لگا جیسے ثوبیہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا ہو۔
اسد کے سامنے وہ ایسی بات کیسے کر سکتی ہے’رامین کو حیرانگی ہوئی۔
میں چائے لے کر آتی ہوں’رامین نے بہانہ بنا کر وہاں سے نکلنا چاہا۔
لیکن ثوبیہ نے اسے بازو سے کھینچتے ہوئے واپس بٹھا دیا۔
بیٹھ جاو تم آرام سے یہاں’چائے ہم بعد میں پی لیں گے۔
وہ دراصل اسد تم سے ضروری بات کرنا چاہتا ہے۔
اسی لیے ہم آئے ہیں اوپر۔
میں باہر ہوں’اسد بتا دو جلدی سے رامین کو سب کچھ۔
جب بات کر لو’تو باہر آ جانا۔
پھر چلتے ہیں ہم نیچے’ثوبیہ اسد سے کہتے ہوئے جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
رامین پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹا’اسد اس کے پاس آ رکا۔
رامین۔۔۔اس نے پکارا۔
اور رامین جو حیران سی بیٹھی تھی’ایک دم پھٹ پڑی۔
بس کر دو اسد’اب اور کیا رہ گیا ہے بتانے کو’سب جان گئی ہوں میں۔
تم ہی پرنس ہو’میں جانتی ہوں۔
اب اور کیا بتانا باقی رہ گیا ہے’کچھ بتانے کی ضرورت نہی ہے۔
مجھے اس شادی سے کوئی اعتراض نہی ہے’بس اتنا بتا دو مجھے کہ تم نے یہ سب کیوں کیا؟
کیوں چہرے پر نقاب پہنا’مجھے بے وقوف بنایا’اصلی نام کی بجائےاپنا نام پرنس بتایا۔
رامین بنا سوچے سمجھے زمین پر نظریں گاڑے بولی جا رہی تھی۔
اسد ہکا بکا سا کھڑا بس رامین کو دیکھی جا رہا تھا۔
جب رامین بول بول کر تھک گئی’تو چپ ہو گئی۔
اسد کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔
کیونکہ تم ہو بے وقوف رامین’اسد کی آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔
کس نے کہہ دیا تم سے کہ میں پرنس ہوں’
اسد کی ہنسی چھوٹ پڑی۔
رامین کو حیرانگی ہوئی اسد کے ہنسنے پر۔
بس کر دو اسد’وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
اسد کی ہنسی کو بریک لگی۔
رامین کی نظر جب اسد کی آنکھوں پر پڑی تو وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔
نہی۔۔۔تم پرنس نہی ہو’بے ساختہ وہ بول اٹھی۔
یہی تو میں بھی کہہ رہا ہوں کہ میں پرنس نہی ہوں۔
اسد رامین کی بات کے جواب میں بولا۔
شکر ہے یہ بات سمجھ آ گئی تمہیں رامین۔
ورنہ پتہ نہی کیسے یقین دلاتا میں تمہے۔
ویسے تمہیں کیسے لگا کہ میں پرنس ہوں’اسد مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔
وہ اس دن وہ فون’اورآج تمہارا بیٹھنے کا سٹائل۔۔انکل آنٹی کا یہ کہنا’کہ ہم رامین کے رشتے کے لیے آئے ہیں۔
اور بھی بہت سی باتیں،بہت سے واقعات گزر چکے ہیں۔
جن کی وجہ سے میں اس غلط فہمی کا شکار ہو چکی تھی۔
میں سمجھی تم ہی پرنس ہو’رامین شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔
اچھا۔۔تو اب کیسے پتہ چلا کہ میں پرنس نہی ہوں’اسد مسکراتے ہوئے بولا۔
تمہاری آنکھوں سے’
پرنس کی پہچان اس کی آنکھیں ہی ہیں میرے لیے۔
میں اگر پہلے ہی تمہاری آنکھیں دیکھ لیتی تو تمہیں پرنس نہی سمجھتی۔
آئی ایم سوری’رامین سر جھکائے بولی۔
ہممم۔۔۔پرنس میرا دوست کم بھائی زیادہ ہے۔
بچپن کے دوست ہیں ہم’پہلے وہ ادھر ہی رہتے تھا۔
جب ہم میٹرک میں تھے’تب وہ لوگ یہاں سے کہی اور چلے گئے۔
لیکن ہماری دوستی بہت گہری تھی’پکی والی اسد مسکرایا۔
اسی لیے ہم نے ایک دوسرے سے ملنا نہی چھوڑا۔سکول کے بعد کالج،پھر یونیورسٹی ہم ساتھ ساتھ ہی پڑھے ہیں۔
مجھے نہی پتہ اس نے تمہیں کب اور کہاں دیکھا۔
لیکن ایک دن جب میں تمہیں اور ثوبیہ کو سکول سے لے کر واپس جا رہا تھا۔
اس دن تمہیں تمہارے گھر چھوڑنے کے بعد اس نے مجھے بتایا تمہارے بارے میں۔
مجھے حیرانگی ہوئی’لیکن جب پرنس نے بتایا کہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے تو مجھے تسلی ہوئی۔
اور میں نے اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔
میں نے کئی بار تمہیں بتانے کی کوشش کی’باتوں باتوں میں۔
سوچا شاید تم مجھ سے شئیر کر دو’پرنس کے بارے میں کچھ۔
مگر تم نے کبھی کوئی بات ہی نہی کی۔
خیر چھوڑو یہ سب’یہ تو پرانی باتیں ہیں۔
آج جو نئی بات ہے وہ یہ ہے کہ’پرنس نے تمہارے لیے پرپوزل بھیجا ہے۔
میرے امی،ابو کے ذریعے’وہ چاہتا ہے کہ پہلے وہ بات کر لیں انکل،آنٹی سے پھر وہ اپنے پیرنٹس کو بھیجے گا۔
دراصل کوئی سیریس پرابلم چل رہی ہے اس کے گھر میں۔
وہ کسی وجہ سے آ نہی سکا ابھی’کوئی سیریس معاملہ ہے۔
ورنہ وہ خود ہی آنے والا تھا’اپنی فیملی کے ساتھ۔
فی الوقت اس نے ہمیں بھیجا ہے۔
امی،ابو کو بھیجا ہے اس نے’ایک بار یہ لوگ بات پکی کر جائیں۔
پھر وہ بھی آئے گا’اپنی فیملی کے ساتھ۔
تو کیسا لگا یہ سرپرائز؟
اب دعا کرو کہ انکل،آنٹی مان جائیں۔
اور میں یہ خوشخبری پرنس کو دوں۔
بہت بے تاب ہو رہا ہے وہ’میسیج پر میسیج کر رہا ہے۔
کیا ہوا؟
کیا بنا؟
سب خیریت تو ہے نا؟
رامین کے امی،ابو نے کیا جواب دیا؟
کتنے ہی میسیج کر چکا ہے’جب سے آیا ہوں میں۔
اور یہ دیکھو’اب کال بھی آ گئی جناب کی۔
اسد نے فون رامین کی طرف بڑھایا۔
رامین نے سوالیہ نظروں سے اسد کی طرف دیکھا۔
بات کر لو اس سے’یہ پکڑو فون میں باہر جا رہا ہوں۔
جب بات کر لو تو باہر آ جانا۔
اسد زبردستی رامین کو فون تھما کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
رامین نے ڈرتے ڈرتے کال ریسیو کی’اور فون کان سے لگا لیا۔
کیا مسلہ ہے تمہیں اسد’رپلائی کیوں نہی کر رہے’پرنس کو جھنجلائی سی آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔
اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی’یہ آواز ہزاروں آوازوں میں بھی پہچان سکتی تھی وہ۔
میں رامین ہوں’رامین جلدی سے بولی۔
رامین!
پرنس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔
کیسی ہو؟
مختصر سا سوال پوچھا گیا۔
میں ٹھیک ہوں’آپ کیسے ہیں؟
تم ٹھیک ہو’تو میں بھی ٹھیک ہوں’پرنس کی مدھم سی آواز گونجی رامین کے کانوں میں۔
تو اسد نے بتایا دیا سب کچھ میرے بارے میں؟
کیا جواب دیا پھر انکل،آنٹی نے’پرنس کی آواز میں بے تابی سی تھی۔
پتہ نہی’ان کا جواب کیا ہے۔میں ابھی کچھ نہی کہہ سکتی۔رامین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
کیا لگتا ہے تمہیں کیا جواب ہو گا ان کا’پرنس نے ایک اور سوال پوچھا۔
یہ تو اللہ ہی جانتا ہے’رامین نے مختصر سا جواب دیا۔
اگر ان کا جواب ہاں ہوا تو’پرنس نے پھر سوال کر ڈالا۔
جیسے میرے اللہ کی مرضی’اگر ان کا جواب ہاں ہوا تو میں بھی قبول کر لوں گی اس رشتے کو۔
اور اگر ان کا جواب نا میں ہوا تو’پرنس کی آواز میں گہری سنجیدگی تھی۔
دونوں طرف خاموشی چھا گئی’گہری خاموشی۔
بولو رامین چپ کیوں ہو گئی’پرنس کی آواز نے اس خاموشی کو توڑا۔
“اگر اللہ نے قسمت میں ملنا لکھا ہوا’تو ضرور ملیں گے ہم۔”
رامین بس اتنا ہی بول سکی’پرنس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
پھر سے دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔
مجھے آپ کو ایک ضروری بات بتانی ہے’اس خاموشی کو رامین کی آواز نے توڑا۔
کہو’میں سُن رہا ہوں’پرنس نے جواب دیا۔
رامین نے سوچا یہی سہی وقت ہے’پرنس کو اس فیکٹری کے مالک کے بیٹے کے بارے میں بتا دینا چاہیے۔
وہ دراصل بات یہ ہے کہ’رامین بس اتنا ہی بول پائی۔
پرنس کی پریشانی سے بھری آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔
رامین میں ابھی بات نہی کر سکتا’جلدی ملنے آوں گا۔
مجھ پر بھروسہ رکھنا’خدا حافظ۔
دوسری طرف سے کال کٹ چکی تھی۔
رامین وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی’پریشان ہو چکی تھی وہ پرنس کے لیے۔
اچانک فون جو بند کر دیا اس نے۔
ابھی وہ سوچوں میں گُم بیٹھی ہی تھی’کہ ثوبیہ اور اسد کمرے میں داخل ہوئے۔
رامین نے فون اسد کی طرف بڑھا دیا۔
اب ہم لوگ چلتے ہیں’اماں،ابا انتظار کر رہے ہو گے۔
رامین میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں’بھائی بہت اچھے ہیں۔
بہت خوش رکھیں گے ثوبیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
رامین بھی ہلکا سا مسکرا دی۔
انشااللہ’بہت خوش رکھے گا میرا دوست،تمہاری دوست کو۔
اسد بھی مسکراتے ہوئے بولا’تو وہ دونوں بھی مسکرا دیں۔
اچھا ہم لوگ چلتے ہیں’ثوبیہ اور اسد کمرے سے باہر نکل گئے۔
جبکہ رامین وہیں بیٹھی رہ گئی’سوچوں میں گُم۔
رامین کے ابا نے سوچنے کے لیے وقت مانگ لیا تھا’وہ پریشان تھے اپنے حالات کی وجہ سے۔
ابھی وہ اس سیچوایشن میں نہی تھے’کہ ان کو کوئی تسلی بخش جواب دیتے۔
_____________________
وہ طوائف بے ہوش پڑی تھی’اور وہ وہیں اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔
اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔
مگر وہ اب جلدی ہوش میں آنے والی نہی تھی۔
یہ نشہ تھا’اتنی جلدی تو نہی اترے گا۔
یہ طوائف کوئی اور نہی صلہ ہے’اور اس کے پاس بیٹھا آنسو بہاتا شخص احتسام ہے۔
احتسام کو یہاں لے کر آنے والا کوئی اور نہی’احتسام کا باس تھا۔
جو احتسام کو کسی بزنس پارٹی کا کہتے ہوئے’اس کوٹھے پر لے آیا تھا۔
احتسام نے وہاں سے جانا چاہا’مگر باس کے احسانات تلے جو دبا تھا۔
انکار نہ کر سکا’اور مجبوراً اسے یہاں رُکنا ہی پڑا۔
وہ مصروف سا بیٹھا تھا’ایک سائیڈ پر فون پر نظریں جمائے۔
اسے وحشت سی ہو رہی تھی اس ماحول سے’پہلے کبھی وہ کوٹھے پر نہی آیا تھا۔
وہ فون پر نظریں جھکائے بیٹھا تھا’تبھی باس نے اس کے پاس آ بیٹھے۔
ارے بھئی دیکھو تو سہی کیا کمال چیز ہے’تمہارا تو دیکھنا بنتا بھی ہے۔
تم پر احسان ہے اس لڑکی کا’وہ جو پانچ لاکھ تمہیں ملا ہے نا قرضے میں۔
اسی کی بدولت ہی تو ملا ہے’ڈیل کی تھی اس نے میرے ساتھ۔
میں تمہیں پانچ لاکھ دے دوں’اور بدلے میں اس کا مجرا دیکھ لوں’باس بے باقی سے قہقہ لگاتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔
احتسام ویسے ہی بیٹھا رہا’اس کا وجود ساکت ہو چکا تھا۔
اس نے نظریں اٹھا کر سامنے ناچتی لڑکی کی طرف دیکھا تھا’اور جہاں تھا وہیں ساکن ہو کر رہ گیا۔
“صلہ”
اس کے لبوں سے یہ نام نکلا۔
صلہ کی نظر بھی اسی وقت احتسام پر پڑی’وہ لڑکھڑائی تھی۔
اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا’سامنے احتسام کو بیٹھے دیکھ کر۔
احتسام کی آنکھوں میں نفرت تھی،یا غصہ صلہ کچھ نہی سمجھ پائی۔
سمجھ پائی تو بس اتنا’کہ ایک شخص جس کی محبت میں وہ گرفتار ہو چکی ہے۔
“وہ شخص کھو دیا میں نے”
صلہ کو اپنے دل سے آواز آئی۔
اس نے ایک نظر سامنے بیٹھے نخوست سے مسکراتے احتسام کے باس پر ڈالی۔
صلہ کی آنکھوں میں نفرت اور غصے کی چنگاریاں ابھر آئیں۔
اس نے سامنے پڑے میز سے شراب کی بوتل اٹھا کر ہونٹوں سے لگا لی۔
تا کہ دل ٹوٹنے کا درد کچھ کم ہو سکے’مگر یی درد اتنی جلدی ختم ہونے والا نہی تھا۔
وہ احتسام کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی’اسے ایسے لگ رہا تھا۔
جیسے وہ اس کوٹھے سے نہی’بلکہ اس کی زندگی سے دور جا رہا ہے۔
اور اس کی روح کو بھی ساتھ لے کر جا رہا ہے۔
صلہ وہیں فرش پر گر گئی’اسے واپس جاتے دیکھ رہی تھی۔
اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں،آنسو جاری تھے۔
وہ رکا تھا’پلٹا تھا’بس یہی وہ لمحہ تھا جب صلہ کو خود میں سکون اترتا محسوس ہوا۔
وہ مسکراتے ہوئے آنکھیں موند کر حوش و حواس سے بے خبر ہو گئی۔
احتسام وہی بیٹھا تھا’وہ یہاں سے چاہ کر بھی جا نہی پایا تھا۔
ایک عورت بھاری بھرکم عورت’ساڑھی پہنے’زیورات سے لدی ہوئی’مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔
آج تک کسی کی ہمت نہی ہوئی’ کہ ہماری اجازت کے بغیر ہمارے کوٹھے کی کسی بھی لڑکی کو ہاتھ لگا سکے۔
