Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Na Jani (Episode 22)

Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi 

امی سے کہوں گا’نکاح سے پہلے ایک بار صلہ کی رضا مندی جان لیں۔

ہاں یہ ٹھیک رہے گا’بات کرتا ہوں امی سے۔

کچھ دیر بعد احتسام کے چاچو اور پھوپھا جی بھی آ گئے۔

ان کو کوئی اعتراض نہی ہوا اس نکاح سے’

ان کے آنے کے بعد سب لوگ صلہ کے گھر چل پڑے۔

وہان پہنچے وہ لوگ تو’وہ آدمی ابھی بھی باہر کرسیوں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

احتسام کو آتے دیکھا تو اس کی طرف بڑھے’اور باقی سب کو سلام کیا۔

بہت اچھا فیصلہ کیا بیٹا’اور آپ لوگوں نے اپنے بیٹے کا ساتھ دے کر بہت بڑی نیکی کمائی ہے۔

ان میں سے ایک آدمی نکاح خواں کو لینے چلا گیا’جبکہ باقی سب لوگ گھر میں چلے گئے۔

روشنی تو حیران ہو گئی اچانک اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر۔

رانیہ جلدی سے صلہ کے کمرے کی طرف بڑھی۔

جا کر صلہ کے گلے لگ گئی’آج میں بہت خوش ہوں’مسکراتے ہوئے بولی۔

صلہ حیران ہوئی رانیہ کی بات پر’کیوں کیا ہوا؟

آج ہم آپ کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جانے آئے ہیں۔

احتسام بھائی کی دلہن بنا کر’اوہ مائی گاڈ۔۔میں کیسے بتاوں آپ کو میں کتنی خوش ہوں۔

احتسام کے نام پر صلہ چونکی!

تب ہی احتسام کی امی کمرے میں داخل ہوئیں صلہ کا ماتھا چومتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئی۔

میں اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہوں تمہیں’اپنے احتسام کی دلہن بنانا چاہتی ہوں۔

احتسام چاہتا تھا کہ ایک بار تم سے پوچھ لوں’بیٹا اس نکاح سے کوئی اعتراض تو نہی تمہیں؟

صلہ سر جھکائے آنسو بہانے لگی’اور سر نفی میں ہلا دیا۔

احتسام کی امی نے صلہ کو گلے سے لگا لیا’اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔

صلہ کو رانیہ کو امی کے کہنے پر ایک بڑی چادر اوڑھا دی۔

ایک طوائف کے سر پر آج عزت کی چادر اوڑھا دی گئی۔

یہ وہی چادر تھی جو احتسام نے ہاسپٹل میں اس کے سر پر اوڑھائی تھی۔

صلہ نے چادر کو مظبوطی سے تھام لیا’جیسے ڈر ہو کہ کہیں کوئی ہوا کا جھونکا اڑا نا لے جائے اس چادر کو۔

کچھ دیر بعد سب لوگ کمرے میں داخل ہوئے نکاح خواں کے ساتھ’سوائے احتسام کے۔

نکاح پڑھایا گیا’صلہ نے بہتے آنسووں کے ساتھ نکاح قبول کیا۔

یہ آنسو خوشی کے تھے یا غم کے’وہ نہی سمجھ پا رہی تھی۔

کانپتے ہاتھوں سے صلہ نے نکاح نامے پر سائن کر دئیے۔

احتسام کا نام نکاح نامے پر چمکتا ہوا نظر آیا اسے’آنکھیں بند کر کے وہ اس لمحے کو محسوس کرنے لگی۔

کچھ خواب ایسے بھی پورے ہوتے ہیں’اس نے سوچا نہی تھا۔

نکاح کے بعد دعا ہوئی’اور سب نے مبارک باد دیتے ہوئے صلہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کمرے سے باہر نکل گئے’سوائے رانیہ کے۔

اب میں آپ کو بھابی بلا سکتی ہوں نا؟

رانِیہ خوشی سے پاگل ہو رہی تھی’

صلہ نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔

تبھی رانیہ کی نظر دروازے پر کھڑے احتسام پر پڑی۔

بھائی اندر آئیں نا’وہاں کیوں کھڑے ہیں۔

رانیہ احتسام کو بازو سے کھینچتے ہوئے اندر لے آئی’اور صلہ کے ساتھ بٹھا دیا۔

یہاں بیٹھیں بھابی کے پاس’رانیہ کے بھابی کہنے پر احتسام نے چونک کر رانیہ کی طرف دیکھا۔

رانیہ نے کندھے اچکا دئیے’کیا؟

اب تو میں بھابی کہہ سکتی ہوں’ابھی ابھی میرے بھائی سے نکاح ہوا ہے ان کا’رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔

آپ دونوں بیٹھیں میں امی کو دیکھ کر آتی ہوں۔

رانیہ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔

___________

رامین بے دلی سے اٹھ کر نیچے کی طرف بڑھ گئی۔اماں اسی کا انتظار کر رہی تھیں’

آو رامین بیٹھو’ناشتہ لاوں تمہارے لیے۔

نہی اماں میں خود لے لوں گی’آپ بیٹھ جائیں آرام سے۔

رات سے تھکی ہوئی ہیں’اپنا خیال بلکل نہی رکھتی آپ۔

آپ میرے بعد کیا کریں گی’کیسے کریں گی سارے کام۔

رامین اداس ہو چکی تھی’

کچھ نہی ہوتا رامین سب ہو جائے گا’بس میری ایک ہی دُعا ہے۔

“اللہ میری بیٹی کو خوش رکھے”

بیٹاں اپنے گھر میں سُکھی ہو تو ماں باپ بھی سکھی رہتے ہیں۔

ماں ہونے کے ناطے بس اتنا کہوں گی’اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرنا ہمیشہ۔

اس کا کہا کبھی مت ٹالنا’ہمیشہ اپنے شوہر پر یقین رکھنا۔

عورت کا محافظ اس کا شوہر ہی ہوتا ہے۔

اور عورت سے سچی محبت بس اس کا شوہر ہی کر سکتا ہے’

اپنے ساس،سسر کا ایسے ہی سمجھنا جیسے ہمیں اپنا سمجھتی ہو۔

ان کی کوئی بیٹی نہی ہے’مگر تم ان کو بہو کے ساتھ ساتھ بیٹی بھی بن کر دکھانا۔

ان کی خدمت کرنا’بلکل ویسے ہی جیسے اپنے ماں،باپ کی کرتی ہو۔

ساس اتنی بُری نہی ہوتی جتنا برا معاشرے میں اسے ظاہر کیا جاتا ہے’

وہ بھی انسان ہی ہوتی ہے’اس کے دل میں جگہ بنانی پڑتی ہے۔

اپنے اخلاق اور خدمت سے اپنی ساس کے دل میں اپنا مقام پیدا کرنا پڑتا ہے۔

“جو لڑکیاں ساس کو بس ساس سمجھ کر ہی بہووں والا رویہ رکھتی ہیں’

وہ آہستہ آہستہ شوہر کے دل سے بھی اُتر جاتی ہیں’چاہے وہ جتنا مرضی آپ کو چاہنے والا ہو۔

سچے دل اور لگن سے اگر ساس کو ماں سمجھ کر خدمت کی جائے’تو عورت سسرال میں بھی بیٹی بن کر راج کرتی ہے۔

اور شوہر کے دل میں بھی ملکہ بن کر راج کرتی ہے”

یہ کچھ باتیں تھیں جو میری ماں نے مجھے سکھائی تھیں۔

تا کہ میں کل کو اپنی بیٹی کو بتا سکوں’اور آج وہ وقت آ گیا۔

بیٹیاں بھی بیٹوں سے کم نہی ہوتیں’وہ ماں باپ کا سر فخر سے بلند کر سکتی ہیں۔

سسرال میں اپنے اخلاقیات کے دم پر۔

میں دُعا کروں گی اللہ میری بیٹی کو زندگی کی ساری خوشیاں عطا کرے۔

اور ہمیشہ اپنے شوہر کی فرمانبردار رکھے آمین۔

ناشتہ لے کر آتی ہوں میں’کھا لو جلدی سے پھر گاڑی آنے والی ہے پارلر جانا ہے تمہیں۔

جی اماں’رامین بس اتنا ہی بول سکی۔

ناشتہ کرنے کے بعد رامین اپنے کمرے میں چلی گئی’فون بج رہا تھا۔

اظہر کا فون تھا’رامین نے فون کان سے لگا لیا۔

اسلام و علیکم!

وعلیکم اسلام’کر لیا ناشتہ؟

اظہر کی مدھم سی آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔

جی’کر لیا۔رامین نے مختصر جواب دیا۔

ہممم’ٹھیک ہے پھر میں گاڑی بھیج دیتا ہوں۔

پارلر چلی جاو’اور جلدی سے دلہن بن کر آ جاو۔

اظہر جزبات سے بھر پور لہجے میں بولا۔

جی’بھیج دیں۔

رامین نے بس مختصر سا جواب دیا۔

اظہر بس آہ بھر کر رہ گیا’یہ لڑکی میرے جزبات کب سمجھے گی۔

میں نے رومینس جھاڑا ہے’اور یہ بس جی کہہ رہی ہے۔اففف

اظہر سر تھام کر رہ گیا’اچھا میں بھیجتا ہوں گاڑی۔

اپنا فون پاس ہی رکھنا’جب پارلر پہنچ جاو تو مجھے کال کر دینا۔

اظہر جانتا تھا کہ وہ کال نہی کرے گی’مگر پھر بھی اس نے کہنا ضروری سمجھا۔

جی ٹھیک ہے’رامین نے مختصر بات کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔

اظہر بس فون کو دیکھتا رہ گیا’رامین نے اس ایک ہفتے کی دوران کبھی خود کال نہی کی اسے۔

اظہر نے پھر بھی ہار نہی مانی’وہ خود اسے کال کرتا رہتا تھا بار بار۔

رامین کا رویہ بس نارمل ہی رہتا تھا ہمیشہ۔

اظہر جانتا تھا سب کچھ نوٹ کرتا تھا’مگر کچھ بولتا نہی تھا۔

وہ کسی بھی صورت رامین کو کھونا نہی چاہتا تھا بس۔

وہ یہ سوچ کر چپ ہو جاتا تھا کہ ابھی رامین اس سے دور ہے اسی لیے۔

جب پاس آ جائے گی تو اسے اپنی محبت سے اپنا بنا لے گا۔

کچھ وقت لگے گا اسے مجھے سمجھنے میں’وقت گزرنے کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

آہستہ آہستہ اس کے دل میں جگہ بنا لے گا۔

اور اب وہ پل نزدیک آ رہے تھے’مگر رامین کا رویہ اب بھی ویسا ہی تھا۔

رامین گاڑی کی آواز پر نیچے بڑھی’اپنا بیگ اٹھایا اور چادر اوڑھی۔

اماں کی اجازت سے باہر کی طرف بڑھی’

گاڑی میں بیٹھی ہی تھی کہ اظہر کا فون آگیا۔

اس نے یہی پوچھنے کے لیے فون کیا تھا کہ گاڑی پہنچ گئی یا نہی۔

رامین نے اسے بتا دیا کہ وہ گاڑی میں بیٹھ گئی ہے’جا رہی ہے پارلر۔

تو اس نے فون بند کر دیا۔

رامین پارلر پہنچ گئی تو پھر سے اظہر کی کال آ گئی۔

اب اس نے یہ پوچھنے کے لیے فون کیا کہ پارلر پہنچ گئی ہو؟

رامین جھنجلا چکی تھی’جی جی میں پہنچ گئی ہوں۔

رامین ایک ایک لفظ چباتے ہوئے ہوئے بولی’اور فون بند کر دیا۔

پارلر والی مسکرا دی’بہت کئیرنگ ہیں آپ کے ہسبینڈ۔

مسکراتے ہوئے بولی۔

جی’رامین بھی تھوڑا سا مسکرا دی۔

قسمت والی ہوتی ہیں ایسی بیویاں جن کو ایسے شوہر ملتے ہیں۔

اور تم ان خوش قسمت لڑکیوں میں سے ایک ہو’ورنہ آج کل کے مرد تو عورت کو پاوں کی جوتی سمجھتے ہیں۔

پڑھے لکھے مرد بھی جاہل مردوں کی برابری کرنے لگے ہیں اب تو۔

خیر اللہ پاک تمہیں خوش رکھے’میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔

آو تیار کرو’ورنہ اگر پانچ منٹ بھی لیٹ ہو گئے نا تو آپ کے ہسبینڈ کی کالز آنا شروع ہو جانی ہیں۔

وہ جلدی سے بات بدلتے ہوئے بولی’رامین کو اس کا لہجہ تھوڑا غمگین سا لگا۔

رامین کا دل چاہا کہ اس سے پوچھ لے’مگر پھر خاموش ہو گئی۔

دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی اسے پسند نہی۔

اظہر بھی مسکراتے ہوئے تیار ہونے چل پڑا۔

کچھ دیر بعد وہ شیشے کے سامنے تیار کھڑا مسکرا رہا تھا۔

وائٹ شروانی میں وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔

ایک آخری نظر اپنی تیاری پر ڈالی’بال سیٹ کیے۔

اور خود پر پرفیوم چھڑکا’مسکراتے ہوئے ٹیبل سے اپنے گلاسز اٹھائے اور آنکھوں پر لگا کر مسکرا دیا۔

تیار ہو جاو مسز ملک ان آنکھوں میں ڈوبنے کے لیے’ایک بار ان آنکھوں میں کھو گئی تو ان آنکھوں کے جادو سے بچ نہی پاو گی۔

تب ہی اظہر کی ماما کمرے میں داخل ہوئیں۔

ماشااللہ۔۔۔اللہ میرے بیٹے کو نظرِبد سے بچائے آمین۔

ڈونٹ وری مام!

یہ کالا چشمہ اسی لیے تو لگایا ہے’اظہر مسکراتے ہوئے بولا۔

ہممم۔۔سمارٹ بوائے۔

وہ اظہر کے کندھے پر تھپکی لگاتے ہوئے بولیں۔

اظہر مسکرا دیا۔

بس آدھے گھنٹے تک نکلتے ہیں’بارات ہال میں جب پہنچ جائے گی تب میں رامین کو لے آوں گی۔

اوکے مام’اظہر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

کچھ دیر بعد بارات ہال پہنچ گئی’سارے مہمان ہال میں پہنچ گئے۔

اظہر سٹیج پر بیٹھ گیا’اس کی نظریں رامین کا انتظار کر رہی تھیں۔

آنکھوں پر گلاسز نہی تھے اب’

مسز ملک نے اظہر کی بے چینی دیکھی تو مسکرا دیں’جا رہی ہوں لینے تمہاری دلہن کو۔

اوکے اظہر مسکراتے ہوئے بولا’

مسز ملک پارلر پہنچی تو پارلر والی رامین کے میک اپ کو آخری ٹچ دے رہی تھی۔

بیوٹی فل!

مسز ملک مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئیں’

رامین کے پاس آ کر رامین کی نظر اتارنے لگیں’

رامین مسکرا دی’

چلیں بیٹا’اظہر انتظار کر رہا ہے۔

رامین مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

دونوں گاڑی میں بیٹھ کر ہال کے لیے روانہ ہو گئیں۔

دونوں ہال پہنچیں تو سب کی نظریں رامین کی طرف مڑیں۔

کیمرہ مین نے کیمرے کا رُخ رامین کی طرف موڑ دیا۔

رامین ایک ہاتھ سے میکسی سنبھالتی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی سٹیج کی طرف بڑھی۔

جیسے ہی رامین سٹیج کے قریب پہنچی۔

اظہر نے ہاتھ رامین کی طرف بڑھایا’رامین کا دل چاہا کہ نظریں اٹھا کر اظہر کی طرف دیکھے۔

مگر ایسا نہی کر سکی’اس نے اپنا مہندی سے سجا ہاتھ اظہر کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

اور سٹیج کے زینے طے کرتے ہوئے اظہر کے ساتھ جا رُکی۔

رامین کے اماں،ابا بھی سٹیج پر آ گئے۔دونوں نے باری باری رامین کو گلے سے لگایا۔

ملک صاحب نے بھی رامین کے سر پر ہاتھ رکھا’اور اظہر کو گلے لگا کر مبارک باد دی۔

خوش ہو برخوردار!

ملک صاحب آہستہ سے اظہر کے کان میں بولے۔

جی ڈیڈ۔۔۔تھینک یو’اظہر بھی مسکراتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں بولا۔

ملک صاحب اظہر کا کندھے تھپکتے ہوئے نیچے اتر گئے۔

مسز ملک نے رامین کو بٹھا دیا’اظہر بھی جلدی سے بیٹھ گیا۔

رامین بس نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔

اور اپنے ساتھ بیٹھے اس وجود کی آوازیں اس کو دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھیں۔

اظہر مدھم لہجے میں مسکراتے ہوئے سب کو جواب دے رہا تھا۔

اگر کوئی سوال رامین سے بھی پوچھا جاتا’تو اس کا جواب بھی وہ خود دے رہا تھا۔

رامین حیران تھی’وہ جانتا تھا رامین کنفیوزڈ ہو رہی ہے۔

مسز ملک مسکرا دیں’

سب رشتہ دار باری باری آ کر مبارک باد دیتے گئے۔

دیکھتے ہی دیکھتے رخصتی کا وقت سر پر آ پہنچا۔

رخصتی کا وقت ہر لڑکی کے لیے بہت نازک ہوتا ہے’رامین اپنے اماں ابا کے گلے لگ کر آنسو بہاتی رہی۔

رامین کے ابا نے اس کا ہاتھ اظہر کے ہاتھ میں دیا’اور اظہر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

رامین ماں،باپ کی دعاوں میں رخصت ہو کر اپنے شوہر کے محل میں آ بیٹھی۔

گلاب کے پھولوں سے سجا کمرہ’کمرے میں دئیوں اور کینڈلز کی مدھم سی روشنی۔

رامین کو ایسا لگا جیسے وہ کسی محل کی رانی ہو’بیڈ پر دلہن بنی بیٹھی وہ کسی ملکہ سے کم نہی لگ رہی تھی۔

پرنس کے نام کا درد اب بھی کہی اٹھا تھا سینے میں’رامین نے آنکھیں ظبط سے بھینچ لیں۔

اسی پل کمرے کا دروازہ کھلا اور اظہر کمرے میں داخل ہوا۔

رامین نظریں جھکائے بیٹھی رہی’اسے ڈر تھا کہ کہی اظہر اس کے چہرے پر چھائی پرنس کی یاد کے آثار نا پڑھ لے کہیں۔

اظہر پھولوں کو سائیڈ پر کرتے ہوئے رامین کے پاس آ بیٹھا۔

رامین اپنی جگہ سے نہی ہلی’اس نے سر مزید . جھکا لیا۔

دونوں کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہے’رامین اپنے دونوں ہاتھ آپس میں مسل رہی تھی۔

اظہر کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔

رامین بہت کنففیوزڈ ہو رہی تھی’اظہر نے اس کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا۔

رامین کو جیسے کرنٹ لگا’وہ جلدی سے تھوڑا پیچھے ہٹی۔

اظہرمسکراتے ہوئے رامین کے مزید قریب ہوا’رامین کی حالت سے بہت محفوظ ہو رہا تھا وہ۔

رامین بیڈ سے جا لگی’اظہر نے قہقہ لگایا۔

“اب یہاں سے مزید آگے کہاں جاو گی’مسکراتے ہوئے بولا۔

آآآپ مجھے تنگ مت کریں’رامین ہکلاتے ہوئے بولی۔

کروں گا تنگ میرا حق بنتا ہے تنگ کرنے کا’اظہر مدھم لہجے میں بولا۔

اب دیکھ بھی لو میری طرف یار’صبح سے تیار ہو کر پھر رہا ہو۔

اپنی بیوی کے لیے تیار ہوا ہوں’اور بیوی کو شرمانے سے فرصت ہی نہی۔

اظہر نے ناراض ہونے کی ایکٹنگ کی۔

رامین نے نظریں اٹھا کر اظہر کی طرف دیکھا’رامین کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔

وہ آج بھی آنکھوں پر گلاسز لگائے بیٹھا تھا’

رامین مسکرا دی’آپ نے آج بھی گلاسز پہن رکھے ہیں۔

رامین مسکراتے ہوئے بولی۔

اظہر مسکرا دیا’ہاں کیوں کہ اسی پل کے لیے تو چھپا کر رکھی تھی یہ آنکھیں۔

اب میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی اپنے پورے ہوش و حواس میں پورے حق کے ساتھ ان آنکھوں سے یہ گلاسز اتارے۔

اظہر رامین کے مزید قریب ہوا سر جھکایا’اور رامین کو اشارہ کیا آنکھوں سے گلاسز اتارنے کا۔

رامین نے ہاتھ بڑھا کر گلاسز اتار دئیے۔

اظہر نے بند آنکھیں کھول کر رامین کی طرف دیکھا۔

رامین کی مسکراہٹ ایک دم سمٹی۔

وہ بنا پلکے جھپکائے اظہر کو دیکھنے لگی’اس کی آنکھیں۔

رامین نے اپنی زندگی میں اتنی خوبصورت آنکھیں کبھی نہی دیکھی تھیں۔

اظہر کی سبز آنکھوں میں رامین کھو سی گئی’اظہر کی اتنی قربت اور اس کی آنکھیں رامین کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔

اظہر نے رامین کے سامنے چٹکی بجائی’اور آگے بڑھ کر کان میں سرگوشی کی۔

“کہاں تھا نا کھو جاوں گی ان آنکھوں میں’دیکھا کھو گئی نا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *