Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 08)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 08)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
رامین نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہی فیکٹری والا لڑکا کھڑا تھا۔
چہرے پر سن گلاسز لگائے۔
بال سلیقے سے خوبصورت سٹائل سے سیٹ کیے ہوئے۔
وائٹ شرٹ،اور بلیک جینز پہنے۔
رامین کو دیکھ کر وہ مسکرا دیا۔اور ہاتھ ہلایا۔
رامین جلدی سے پیچھے ہٹی۔
اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
وہ ڈر گئی۔
اگر کسی نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو۔
یہ احساس ہی رامین کے لیے بہت خوفناک تھا۔
رامین نے بچے کی طرف دیکھا۔
اور گفٹ اس کی طرف بڑھایا۔
بیٹا یہ آپ واپس لے جاو۔
اور ان انکل کو دے دو۔
ان سے کہو مجھے نہی چاہیے یہ۔
بچہ رامین کی بات سنتے ہی فوراً وہاں سے بھاگ گیا۔
رامین سمجھ نہ سکی۔اب کیا کرے۔
اندر جاتی تو اماں گفٹ دیکھ لیتی۔
اماں کو کیا جواب دوں گی میں۔
اور اگر باہر جاتی تو کوئی محلے والا دیکھ لیتا۔
اور پھر پورے محلے میں بات پھیل جاتی۔
کہ صدیق احمد کی بیٹی کو ایک لڑکا گفٹ دینے آیا تھا۔
ابا کی بدنامی۔۔۔نہہہی میں ایسا نہی ہونے دوں گی۔
رامین نے خود کو سنبھالا۔
اور گفٹ ڈوپٹے کے نیچے چھپا لیا۔
اور اندر کی طرف بڑھی۔
دروازہ بند کر کے پلٹی ہی تھی کہ اماں بول پڑیں۔
کون تھا رامین۔۔۔اتنی دیر سے کس سے باتیں کر رہی تھی تم۔۔؟؟
ککککوئی نہی اماں۔۔۔ایک آںٹی تھیں۔
وہ شیمپو بیچنے آئی تھیں۔
مجھے بار بار شیمپو خریدنے پر آمادہ کر رہی تھیں۔
میں نے نہی لیا۔
آپ تو جانتی ہی ہیں۔
یہ چیزیں اصلی نہی ہوتیں۔
نکلی سامان بیچ کر یہ کمپنیاں دوسروں کا نقصان کرتی ہیں۔
صرف اپنے بینک اکاونٹ کرنے کے لیے۔
بیچارے ورکرز کو تھوڑی سی کمیشن کا لالچ دے کر۔
دن بھر تھکنے کے لیے بھیج دیتے ہیں یہ لوگ۔
اللہ ہی پوچھے ایسے لوگوں کو۔اماں بس اتنا بول کر کام میں مصروف ہو گئیں۔
رامین کا چہرہ پسینے سے شرابور ہو چکا تھا ڈر کی سے۔
اس نے شکر ادا کیا۔
اماں کی نظر نہی پڑی اس کے ڈوپٹے کے نیچے والے ہاتھ پر۔
رامین وہاں سے اٹھ کر اوپر کمرے میں چلی آئی۔
اور وہ گفٹ جلدی سے الماری میں رکھ دیا۔
کھڑکی سے زرا سا پردہ ہٹایا۔
تو وہ حیران رہ گئی۔
وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔
رامین کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
یہ ابھی تک یہی ہے۔
کیا چاہتا ہے یہ۔
رامین ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اس نے رامین کی طرف دیکھا۔
مسکرا کر بائیک کی طرف بڑھ گیا۔
بائیک سٹارٹ کی۔
اور ایک نظر پلٹ کر رامین پر ڈالتے ہوئے بائیک آگے بڑھا دی۔
رامین نے جلدی سے پردہ آگے کیا۔
اور اپنا سانس بحال کرنے لگی۔
یہ بائیک کہیں دیکھی ہے میں نے۔
رامین اپنے ذہن پر زور ڈال کر یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
کہ کہاں دیکھی ہے اس نے یہ بائیک۔
مگر اسے کچھ یاد نہی آ سکا۔
وہ نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
بچوں نے شور مچا رکھا تھا۔
رامین بچوں کو پڑھانے لگی۔
مگر اس کا ذہن وہیں اسی بائیک پر اٹکا ہوا تھا۔
اس گفٹ باکس میں کیا ہے۔
رامین بہت پریشان ہو چکی تھی۔
سمجھ نہی پا رہی تھی کہ کیا کرے۔
اسے گھر کا کیسے پتہ چلا۔
کہیں اس نے میرا پیچھا تو نہی کیا۔
اففففف لگتا ہے میں پاگل ہو جاوں گی۔
پہلے وہ نقاب پوش کم تھا۔اور اسد۔۔
اب یہ بھی آ گیا۔
بس اسی کی کمی تھی۔
رامین جھنجلاتے ہوئے بچوں کو پڑھانے لگی۔
پھر اسے کپڑے بھی سلائی کرنے تھے۔
________________________
صلہ وہیں احتسام کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی آنسو بہاتی رہی۔
آخر ایسی بھی کیا بے رخی۔
کیوں میرے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہو تم۔
صلہ دروازہ کے پاس کھڑی آنسو بہاتے ایسے سوچ رہی تھی۔
جیسے احتسام سامنے ہو۔
چند پل بند دروازے کو دیکھتی رہی۔
اور پھر واپسی کے لیے پلٹ گئی۔
واپس مڑی تو سامنے رانیہ کھڑی تھی۔
کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہیں؟؟
رانیہ جلدی سے صلہ کی طرف بڑھی۔
کچھ نہی میں ٹھیک ہوں۔
شاید آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے۔
آنکھوں سے پانی نکل رہا ہے اور کچھ نہی۔
صلہ مسکراتے ہوئے بولی۔
رانیہ بھی پھیکا سا مسکرا دی۔
بھائی سے ملاقات ہوئی آپ کی؟؟
رانیہ احتسام کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے بولی۔
احتسام نے دروازہ بند کیا ہے۔
شاید بزی ہو گا۔
میں پھر کسی دن مل لوں گی۔
میں ڈسٹرب نہی کرنا چاہتی اس کو۔
صلہ نے جھوٹ بولا۔
نہہی بھائی ڈسٹرب نہی ہو گے۔
میں دروازہ ناک کرتی ہوں۔
رانیہ دروازے کی طرف بڑھی۔
صلہ جلدی سے اس کے سامنے آ گئی۔
نننہہیی رانیہ میں پھر کبھی مل لوں گی۔
احتسام ابھی آیا ہے آفس سے۔
تھکا ہو گا۔
اس کو آرام کرنے دو۔
میں پھر کبھی مل لوں گی۔
ابھی مجھے جانا ہے گھر۔
گھر والے انتظار کر رہے ہو گے میرا۔
بہت دیر ہو چکی ہے پہلے ہی۔
صلہ فون پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولی۔
آو مجھے چھوڑ دو دروازے تک۔
رانیہ سر ہلاتے ہوئے صلہ کے ساتھ چل پڑی۔
اتنا تو وہ جان گئی تھی کہ دونوں کے درمیان تعلقات اچھے نہی ہیں۔
صلہ رو رہی تھی۔
ضرور صلہ احتسام بھائی کے کمرے میں گئی ہو گی۔
اور احتسام بھائی نے ڈانٹ دیا ہو گا۔
اسی لیے رو رہی تھی۔
کوئی تو بات ہے ان دونوں کے درمیان۔
جو یہ دونوں مجھ سے چھپا رہے ہیں۔
صلہ تو کہہ رہی تھی کہ احتسام بھائی اور وہ جانتے ہیں ایک دوسرے کو۔
ساتھ پڑھتے رہے ہیں۔
تو پھر ایسا کیا ہوا ان دونوں کے درمیان۔
جو احتسام بھائی بہت نفرت کرتے ہیں صلہ سے۔
اس دن بھی جب میں نے صلہ کا ذکر کیا بھائی سے تو وہ بہت غصہ ہو گئے تھے۔
لیکن میں پتہ لگا کر رہوں گی۔
رانیہ نے خود سے ہی وعدہ کیا۔
تھینکس رانیہ تم نے میری بہت ہیلپ کی۔
صلہ رانیہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی۔
رانیہ مسکرا دی۔
اس میں تھینکس والی کون سی بات ہے۔
آپ میری بھی تو دوست ہیں۔
اس سے پہلے جب ہم ملے تھے۔
تب میں نہی جانتی تھی۔کہ آپ احتسام بھائی کو جانتی ہیں۔
بھائی سے ملاقات نہی ہو سکی آپ کی۔
خیر اب تو آپ آتی رہیں گی ناں۔
بھائی سے پھر کبھی ملاقات ہو جائے گی۔
ہاں ضرور۔۔۔۔صلہ سوچوں میں ڈوبی بولی۔
چلتی ہوں۔خدا حافظ۔
صلہ گیٹ کھولتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
اور رانیہ دروازہ بند کرنے کے بعد اندر واپس آ گئی۔
رانیہ اندر آئی تو احتسام اسے سیڑھیوں کے پاس کھڑا نظر آیا۔
رانیہ ڈر گئی۔احتسام کی حالت دیکھ کر۔
بھائی کیا ہوا آپ کو۔۔۔؟؟
آپ کی آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہیں۔؟؟
احتسام نے ہاتھ کے اشارے سے رانیہ کو چپ ہونے کو کہا۔
رانیہ میرے کمرے میں آو۔۔بس اتنا بول کر اوپر چلا گیا۔
رانیہ جانتی تھی وہ یہی پوچھیں گے۔کہ صلہ یہاں کیسے آئی۔
رانیہ احتسام کے کمرے میں گئی۔تو وہ کھڑکی کے پاس سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
دروازہ بند کرو۔مڑے بغیر ہی بولا۔
رانیہ نے جلدی سے دروازہ بند کیا۔
رانیہ نے دروازہ بند کیا۔تو احتسام اس کی طرف پلٹا۔
یہ لڑکی یہاں کیسے آئی رانیہ؟؟
رانیہ کچھ نہی بولی۔بس چپ چاپ کھڑی اپنے ہاتھوں کو دیکھے جا رہی تھی۔
رانیہ۔۔کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے۔۔۔؟؟
اب کی بار احتسام کی آواز زرا اونچی تھی۔
رانیہ غصے سے واقف تھی۔احتسام کے۔
اسی لیے اب اسے بتانا ہی پڑنا تھا۔
بھائی وہ صلہ ہے۔
دوپہر کو ہمارے گھر کے سامنے اس کی گاڑی خراب ہو گئی تھی۔
اس نے ہمارے گھر کی بیل بجائی۔
تو امی نے دروازہ کھولا۔
اس نے کچھ دیر بیٹھنے کی اجازت چاہی۔
تب ہی میں بھی وہاں آ گئی۔
میں نے امی سے کہہ دیا کہ میں جانتی ہوں ان کو۔
تو میرے کہنے پر امی اسے اندر لے آئیں۔
آپ کی تصویر جب دیکھی اس نے تو بولی کہ یہ تو میرے کلاس فیلو تھے۔
ان کی تصویر یہاں کیسے۔
تمہارے کیا لگتے ہیں۔یہ رانیہ۔
میں نے پوچھ لیا آپ کب سے جانتی ہیں احتسام بھائی کو۔
تو وہ مسکرا دی۔اور بولی ہم دونوں ساتھ پڑھتے رہے ہیں۔
وہ آپ سے ملنا چاہتی تھی۔جب آپ آفس سے آئے تھے۔
تب وہ اوپر آئی تھی۔آپ سے ملنے۔
مگر آپ کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔
تو وہ واپس چلی گئی۔
ان کی گاڑی تو بہت دیر پہلے ٹھیک ہو چکی تھی۔
آپ ہی کا انتظار کر رہی تھی وہ۔
اور آپ کا دروازہ بند تھا۔
آپ دسٹرب نہ ہو۔
اسی لیے ملے بغیر ہی واپس چلی گئی۔
بس اتنی سی بات تھی بھائی۔رانیہ خاموش ہو گئی۔احتسام کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔
رانیہ ایک بات میری اچھی طرح سمجھ لو آج۔
میں اس لڑکی کو نہی جانتا۔
ساتھ پڑھتے تھے۔سو تھے۔
یونیورسٹی کے بعد سارے فرینڈز سے رابطہ ختم کر دیا میں نے۔
اب میں کسی کو نہی جانتا۔
میری اپنی زندگی میں بہت مصروفیات ہیں۔
دوستوں کے لیے ٹائم نہی ہے میرے پاس۔
میں تمہارے ساتھ سختی سے نہی پیش آنا چاہتا۔اسی لیے پیار سے سمجھا رہا ہوں۔
آئیندہ وہ لڑکی مجھے یہاں نظر نہ آئے۔
اب تم جا سکتی ہوں۔
جی بھائی۔مگر وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔آپ کس شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اس کے بارے میں۔
احتسام نے اسے گھورا۔تو وہ کمرے سے نکل گئی۔
ہاں سہی کہا۔وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔مگر میں ہی اس کے لائق نہی تھا۔
احتسام کو کہیں دور سے اپنی آواز سنائی دی۔
_______________________
رامین کے ابا گھر آئے تو آج وہ پہلے کی نسبت پریشان لگ رہے تھے۔
اور ان کی پریشانی رامین اچھی طرح جانتی تھی۔
مالک مکان پھر سے کرایہ وصول کرنے آنے والا تھا۔
اور ابا کو ایڈوانس نہی مل رہا ہو گا۔
رامین کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں چلی گئی۔
رامین کے جانے کے بعد رامین کی اماں ابا دونوں باتوں میں مصروف ہو گئے۔
رامین کے ابا جانتے ہیں۔
آج محلے میں کیا ہوا۔۔؟؟
کیا ہوا وہ پریشانی سے بولے۔۔؟؟
رانی کے لیے بہت بڑے گھر کا رشتہ آیا ہے۔
بہت امیر لوگ ہیں وہ۔
گاڑی میں آئے تھے۔رانی کا ہاتھ مانگنے۔
اور ان کی گاڑی اتنی بڑی تھی کہ کیا بتاوں۔
پوری گلی کا راستہ رکا ہوا تھا۔اس گاڑی کی وجہ سے۔
رانی کی تو قسمت ہی کھل گئی۔
ہاں سہی کہہ رہی ہو۔اللہ ایسی قسمت سب کو دے۔
ہماری رانیہ کی بھی شادی کسی بڑے گھر میں ہو۔اس کے شوہر کے پاس بھی بڑی گاڑی ہو۔بڑا گھر ہو۔
وہ دونوں خیالوں کی دنیا میں گم ہو گئے۔
رامین اوپر چھت پر کھڑی سب سن رہی تھی۔مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
سب کی قسمت ایک جیسی تھوڑی ہوتی ہے۔
اماں ابا کو بھی پتہ نہی کیا ہو گیا۔
سب کو اپنے نصیب کا ملتا ہے۔
کسی کو زیادہ تو کسی کو کم۔
مگر ہم انسان تو بس پیسے کی تمنا کرتے ہیں۔
اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اللہ جس حال میں بھی رکھے۔
رامین وضو کر کے آئی۔
الماری میں سے جائے نماز نکالی۔تو اس کی نظر اس گفٹ ہر پڑی۔
رامین نے وہ گفٹ ابھی تک نہی کھولا تھا۔
اور نہ ہی وہ کھولنا چاہتی تھی۔
رامین نے الماری بند کر دی۔
یہ گفٹ میں صبح واپس کر دوں گی۔
اگلے دن رامین جب سکول سے آئی تو جلدی سے کھانا لے کر چل پڑی۔
وہ آج پہلے ہی لیٹ ہو چکی تھی سکول سے۔
جلدی میں اسے گفٹ لے کر جانا یاد ہی نہی رہا۔
آج بھی رامین سارے راستے ان دو لڑکوں کو تلاش کرتی گئی۔
تا کہ ان سے پرنس کے بارے میں معلومات لے سکے۔
مگر وہ دونوں آج بھی کہی نظر نہ آئے اسے۔
رامین فیکٹری پہنچی تو دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔
حسبِ عادت رحیم چچا کو سلام کیا۔
اور کھانا ان کی طرف بڑھا دیا۔
تب ہی ان کے پاس پڑا فون بجا۔
انہوں نے جلدی سے فون اٹھا لیا۔جی سر۔
جی سر۔۔۔۔بس اتنا کہہ کر فون بند کر دیا۔
رامین ابھی تک کھانے کا شاپر لیے کھڑی تھی۔رحیم چچا فون میں مصروف ہو گئے تھے۔
رامین بیٹا۔صاحب جی نے بلایا ہے تمہیں۔
وہ سامنے جو کمرہ ہے نہ شیشے کے دروازے والا۔
وہاں چلی جاو۔
رحیم چچا نے جیسے بم پھوڑا رامین کے سر پر۔
لیکن مجھے کیوں بلایا انہوں نے۔۔۔؟؟؟
رامین گھبراتے ہوئے بولی۔
کچھ نہی کہتے بیٹا۔وہ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تم سے۔
تم چلی جاو۔ورنہ وہ خود باہر آ جائیں گے۔اور مجھ پر غصہ کریں گے۔
رامین سر ہلاتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
پھر اسے یاد آیا وہ گفٹ۔
گفٹ تو میں گھر بھول گئی۔اگر ساتھ لے آتی تو ابھی واپس کر دیتی اس کو۔
رامین نے دروازہ ناک کیا۔
کم ان۔۔ایک مسحور کن آواز رامین کے کانوں میں پڑی۔
رامین کمرے میں داخل ہو گئی۔
کمرے میں داخل ہوئی تو اسے ٹھنڈک کا احساس ہوا۔
یہ کمرہ تو بہت ٹھنڈا ہے۔
رامین آگے بڑھی تو وہ بلیک پینٹ کوٹ پہنے کرسی کا رخ دیوار کی طرف موڑے بیٹھا تھا۔
بیٹھیں۔۔۔وہ مڑے بغیر ہی بولا۔
رامین ڈرتے ڈرتے کرسی پر بیٹھ گئی۔
وہ رامین کی طرف پلٹا۔آنکھوں میں سن گلاسز لگائے ہوئے۔
______________________
رامین کو حیرت ہوئی۔کمرے میں بیٹھ کر بھی سن گلاسز۔۔؟
عجیب انسان ہے۔
رامین اس کے بات کرنے کا انتظار کر رہی تھی۔
مگر وہ مسلسل رامین کو تکے جا رہا تھا۔
بول کچھ بھی نہی رہا تھا۔
آپ نے مجھے کیوں بلایا۔۔۔؟
آخر کار رامین نے خاموشی توڑی۔
رامین کی بات کا جواب دینے کی بجائے وہ مسکرا دیا۔
جیسے اسے رامین سے اس سوال کی توقع نہ ہو۔
معزرت چاہتا ہوں میں نے اس طرح بلایا آپ کو۔
آخر کار وہ بول ہی پڑا۔
آپ روز یہاں آتی ہیں۔کیوں؟؟
رامین جی بھر کر بدمزہ ہوئی اس کے اس سوال پر۔
میں یہاں اپنے والد صاحب کے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔
رامین تلخی بھرے انداز میں بولی۔
کیوں آپ کے گھر میں کوئی اور نہی ہے۔
میرا مطلب آپ کا بھائی۔۔۔یا کزن وغیرہ۔
نہی۔۔۔میرا بھائی نہی ہے۔
اگر بھائی ہوتا تو ابا اس عمر میں نوکری نہی کر رہے ہوتے۔
رامین کی آواز درد بھری تھی۔
اور کزن بھی نہی ہے کوئی یہاں۔
کیونکہ رشتہ دار سب گاوں میں رہتے ہیں۔
بس اسی لیے مجھے خود آنا پڑتا ہے۔
رامین نے بات ختم کی۔
آپ ایسا بھی تو کر سکتی ہیں۔کہ ان کو کھانا صبح ہی دے دیں۔
جب وہ فیکٹری آتے ہیں۔
رامین کو حیرت ہوئی اس کے اس سوال پر۔
اسے میرے یہاں آنے سے مسلہ ہے۔
یا پھر کھانے سے۔
کتنے عجیب سوال پوچھ رہا ہے۔
رامین آہستہ آواز میں بڑبڑائی۔
کچھ کہا آپ نے۔۔۔مجھے ٹھیک سے سنائی نہی دیا۔زرا اونچی آواز میں بولیں۔
نننہیی۔۔۔رامین گھبرا گئی۔
کہیں اس نے میری بڑبڑاہٹ سن تو نہی لی۔
دراصل بات یہ ہے کہ ابا بیمار رہتے ہیں۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان کو تازہ کھانا کھلایا جائے۔
تو اسی لیے میں ان کے لیے روز دوپہر کو تازہ کھانا لے کر آتی ہوں۔
اگر آپ کی تشویش مکمل ہو گئی ہو تو میں چلتی ہوں۔
میرِی اماں انتظار کر رہی ہیں۔
اگر دیر سے گھر پہنچی تو وہ پریشان ہو جائیں گی۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید سوال پوچھتا۔
رامین جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
رک جائیں۔۔۔ابھی میں نے جانے کو نہی کہا آپ کو۔
رامین کو اٹھتے دیکھ وہ جلدی سے بولا۔
رامین کے باہر کی طرف بڑھتے قدم رک گئے۔
وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی۔
گفٹ کیوں نہی کھولا آپ نے۔۔۔؟؟؟
وہ دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر تھوڑا آگے کو جھکا۔
جس بات سے رامین بھاگنا چاہ رہی تھی۔
وہی بات اس نے کر ڈالی۔
مجھے نہی چاہیے وہ گفٹ۔
کل میں آپ کو واپس لا دوں گی۔
آج مجھے یاد نہی رہا۔
رامین نظریں جھکائے بول رہی تھی۔
رامین کی بات پر وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔
واپس کرسی پر بیٹھ گیا۔
گفٹ تو آپ کو کھولنا پڑے گا۔
کچھ سپیشل ہے اس گفٹ میں۔
اس گفٹ کا کیا کرنا ہے۔
یہ تو آپ کو گفٹ کھولنے پر ہی پتہ چلا گا۔
رامین نے اس کی طرف دیکھا۔
وہ مسکرا دیا۔رامین کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو۔
