Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 10)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 10)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
رامین کی بات پر وہ مسکرا دیا۔
جناب نے یاد کیا تو حاضر ہونا پڑا مجھے۔
سینے پر ہاتھ رکھے سر خم کرتے ہوئے بولا۔
ویسا کیا انفارمینشن لی جا رہی تھی میرے بارے میں
میری تصویر دیکھنا چاہتی ہیں۔
میرا مطلب ہے کہ میرا چہرہ دیکھنا ہیں۔
کیا میں پوچھ سکتا ہوں۔کہ ایسا کیوں چاہتی ہیں محترمہ آپ۔
وہ تو شکر ہے کہ میں وقت پر پہنچ گیا۔
ورنہ اب تک تو آپ مجھے دیکھ چکی ہوتیں۔
رامین ایک بار کہہ چکا ہوں کہ جب تک میں نہی چاہوں گا۔
میرا چہرہ نہی دیکھ سکتی تم۔
تو پھر آج جو بے وقوفی کی اس کی کیا سزا دوں میں تمہیں۔
کیوں نہی دیکھ سکتی میں آپ کا چہرہ۔۔؟؟؟
آپ کا جب دل چاہتا ہے آپ میرے کمرے میں آ جاتے ہیں۔
اور میں چہرہ بھی نہی دیکھ سکتی آپ کا۔۔؟؟
آخر کیوں۔۔۔؟؟؟
باقی سب جانتے ہیں آپ کو۔
سب نے دیکھا ہے آپ کا چہرہ۔
پھر مجھ سے کیوں چھپاتے ہیں۔
کیا میرا حق نہی ہے آپ کا چہرہ دیکھنا۔
رامین کی بات پر وہ کرسی اٹھا کر بیڈ کے پاس لے آیا۔
کیا کہا۔۔۔زرا دوبارہ کہنا۔
کیا۔۔رامین نا سمجھی سے بولی۔
وہی جو ابھی ابھی کہا۔۔حق والی بات۔
رامین تھوڑی شرمندہ سی ہوئی۔
اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ لی اس نے۔
اسی لیے نظریں جھکا گئی۔
اور اپنی بات پر خود ہی افسوس کرنے لگی۔
میرا مطلب تھا۔
کہ مجھے بھی دیکھنا ہے آپ کا چہرہ۔
آپ مجھ سے کیوں چھپاتے ہیں۔اپنا چہرہ۔۔؟؟
آج اس بات کا جواب چاہیے مجھے۔۔۔؟؟
رامین کسی صورت ہار نہی ماننے والی تھی آج۔
تو ٹھیک ہے۔یہ لو ابھی دیکھ لو۔
اس نے نقاب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
رامین بے تابی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
مگر پرنس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
اور مسکرا دیا۔
زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہی ہے۔
ایسا کچھ نہی کر رہا میں۔
سوچنا بھی مت۔
سہی وقت آنے پر دکھا دوں گا۔
رامین نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔
اور وہ سہی وقت کب آئے گا۔۔؟؟
جب ہماری شادی ہو گی۔۔۔پرنس کی آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری۔
رامین ہکا بکا رہ گئی۔پرنس کے جواب پر۔
آپ سے کس نے کہہ دیا کہ میں آپ سے شادی کروں گی۔
یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔
رامین کی بات پر اس کی آنکھوں میں چمک کی جگہ غصے نے لے لی۔
بس۔۔۔اس نے ہاتھ کے اشارے سے رامین کو مزید بولنے سے روکا۔
آئیندہ ایسی بات مت نکالنا منہ سے رامین۔
ورنہ اچھا نہی ہو گا۔
آئِندہ ایسا بھول کر بھی مت بولنا۔
ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا۔
اور اپنی بھی۔
پرنس کے سر پر جنون سوار تھا۔
آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں۔
رامین بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بھاگی۔
پرنس نے پہلے تو سمجھا نہی۔
جب سمجھ آئی تو تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا۔
اور رامین کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
دونوں سینے پر باندھے رامین کو گھورنے لگا۔
ایسا سوچنا بھی مت رامین۔
اگر تم سمجھتی ہو کہ ایسا کرنے سے مجھ سے بچ جاو گی تو یہ غلط فہمی ہے تمہاری۔
“واپس جاو”
“حکمانہ انداز تھا پرنس کا”
رامین اب ڈرتی کیا کرتی۔
چپ چاپ واپس جا کر بیٹھ گئی بیڈ پر۔
پرنس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ بھی دوبارہ کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔
یہ کیا حرکت تھی رامین؟
کیا مجھ پر اعتبار نہی تمہیں؟
“نہی ہے مجھے اعتبار آپ پر”
“رامین کی آواز بہت دھیمی تھی”
“وہ رو رہی تھی”
پرنس نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئیے۔
“دل سے نہی بول رہی تم”
“میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو رامین”
“مدھم لہجے میں بولتا وہ رامین کے دل کی دھڑکن بڑھا گیا”
“ناچاہتے ہوئے بھی رامین اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے روک نہ پائی خود کو”
“دونوں کی نظریں ملیں”
“رامین نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی”
اور پھر تکیہ اٹھا کر پرنس کی طرف اچھالا۔جسے پرنس نے بڑی آسانی سے کیچ کر لیا۔
“بہت برے ہیں آپ”
رامین نظریں جھکائے مسکراتے ہوئے بولی۔
نہی غلط،بہت اچھا ہوں میں۔
“یہ بھی تم دل سے نہی کہہ رہی”
“ہمت ہے،تو میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو”
پرنس شرارت کے انداز میں بولا۔
“رامین مسکرا دی”
“نہی مجھے نہی دیکھنا”
“آپ کی آنکھیں مجھے ہپنو ٹائز کرتی ہیں،رامین کھوئی کھوئی سی بولی”
کیا کہا زرا پھر سے کہنا،وہ محفوظ ہوا رامین کے جواب پر۔
کچھ نہی کہا میں نے،اب آپ جائیں یہاں سے۔
رات بہت ہو چکی ہے،مجھے صبح سکول بھی جانا ہے۔
یہ کیا ہے؟
وہ رامین کی بات کو نظر انداز کرتے آگے بڑھا۔
اور بیڈ پر پڑا گفٹ باکس اٹھایا۔
رامین کے ہاتھ پیر پھولنے لگے،ڈر سے۔
کککچھ نہی،
رامین نے اس کے ہاتھ سے وہ باکس واپس کھینچ لیا۔
پرنس نے حیرت بھری نظروں سے رامین کی دیکھا۔
کیا ہے اس میں؟
اور مجھ سے کیوں چھپا رہی ہو؟
پرنس کا لہجہ تھوڑا غصے والا ہو گیا۔
کچھ نہی۔۔میں گفٹ پیک کر رہی تھی میری دوست کا کل برتھ ڈے ہے تو اس کے لیے۔
رامین نے جھوٹ بولا۔
اسے ڈر تھا کہ اگر پرنس نے گفٹ باکس کھول لیا،تو کیا جواب دے گی وہ اسے۔
“اچھا دکھاو زرا”
دیکھو تو سہی کیا گفٹ لیا ہے تم نے اپنی دوست کے لیے۔
اس نے ایک سیکنڈ میں رامین کے ہاتھ سے وہ باکس کھینچ لیا۔
“رامین نے التجائی نظروں سے اس کی طرف دیکھا”
“سر نفی میں ہلایا”
مگر پرنس نہی رکا،اس نے وہ گفٹ باکس کھول دیا۔
گفٹ باکس میں سے جو چیز نکلی،پرنس کی آنکھوں میں حیرت ابھر آئی۔
“اتنا مہنگا گفٹ؟؟
کہاں سے آیا تمہارے پاس؟
ویٹ!!
تم نے کہا کہ یہ تم اپنی دوست کے لیے پیک کر رہی ہو۔
اور اس پر تو تمہارا نام لکھا ہے۔
اور یہ فون کی کا پروٹیکٹر بھی ٹوٹا ہوا ہے۔
کہاں سے آیا یہ فون تمہارے پاس؟
“یہ تو بہت مہنگا ہے”
کم ازکم دو سے تین لاکھ قیمت ہو گی اس کی۔
بتاو مجھے رامین کہاں سے آیا،یہ فون تمہارے پاس؟
جواب دو مجھے؟
رامین کچھ نہی بول رہی تھی۔
بس چپ چاپ بیٹھی اپنے ہاتھوں کو گھورے جا رہی تھی۔
رامین کچھ پوچھ رہا ہوں میں تم سے؟
اب کی بار پرنس بولا تو اس کا لہجہ تھوڑا سخت تھا۔
رامین کو ہمت کر کے بولنا ہی پڑا۔
“یہ میرا فون نہی ہے”
کہتے ساتھ ہی رامین نے تکیے کے نیچے سے ایک پیپر پرنس کی طرف بڑھا دیا۔
پرنس نے وہ پیپر کھول کر پڑھا۔
“دو دن میں میرا فون ٹھیک ہو جانا چاہیے”
ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔
مجھے جانتی تو ہو گی۔بھولی تو نہی ہو گی۔
خدا حافظ!
پڑھتے ہی اس نے غصے سے وہ پیپر سختی سے مٹھی میں بند کر لیا۔
کون ہے یہ؟
سختی سے پوچھا گیا۔
کوئی بلیک میل کر رہا ہے تمہیں،اور تم نے مجھے بتانا بھی ضروری نہی سمجھا۔
نام بتاو اس کا،نپٹ لوں گا میں اس سے۔
“نام میں نہی جانتی”
رامین سر جھکائے ہی بولی۔
اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ فون اور پیپر دیکھ کر پرنس اسے غلط نہ سمجھ بیٹھے۔
نا جانے کیوں!
مگر وہ چاہتی تھی کہ وہ مجھ سے بدگمان نہ ہو۔
اور ایسا ہی ہوا تھا۔
“اسے رامین پر یقین تھا”
اسی لیے اس نے رامین کو شک کی نگاہ سے نہی دیکھا۔
ورنہ اگر کوئی اور ہوتا،تو اب تک یہاں سے اٹھ کر جا چکا ہوتا۔
مگر یہ کوئی عام انسان نہی ہے۔
پرنس ہے۔رامین کے دل میں اس کے لیے عزت پیدا ہوئی۔
“ہاں میں اس پر اعتبار کر سکتی ہوں”
“یہ بھروسہ کرنے کے لائق ہے”
رامین دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوئی۔
اور نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا،جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
اس کے جواب کا منتظر،
رامین مسکرائی،
اور ساری بات بتا دی پرنس کو،اس دن فیکٹری میں جو ہوا۔
اور گفٹ گھر پر کیسے آیا،اور یہ بھی کہ وہ گھر تک آیا تھا۔
ساری بات سننے کے بعد پرنس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئیں۔
اس نے ضبط اور غصے سے مٹھیاں بند کی۔
اگر ابھی وہ شخص اس کے سامنے ہوتا،تو شاید جان لے لیتا وہ اس کی۔
اس کی اتنی ہمت،کہ تمہیں اپنے آفس میں بلایا۔
اور گھر تک آیا۔
پرنس نے گن نکال کر لوڈ کی۔
“ختم کر دوں گا میں اسے”
اس کی ہمت کیسے ہوئی،تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی۔
وہ کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھا۔
رامین اس کے پیچھے دوڑی۔
“رک جائیں پلیز”
“آپ ایسا کچھ نہی کریں گے”
“اگر آپ مجھ سے سچی محبت کرتے ہیں،تو آپ کو اس محبت کی قسم”
رامین نے اس کے بڑھتے قدموں میں زنجیر ڈالی۔
اور وہ رک گیا،
رامین کی طرف پلٹا،
تو کیا ایسے ہی چھوڑ دوں اس کو؟
اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی،تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی۔
میں اس کی آنکھیں نوچ ڈالوں گا،جن آنکھوں سے اس نے تمہاری طرف دیکھنے کی ہمت کی۔
“اس کے سر پر تو جیسے جنون سوار تھا،
آپ ایسا کچھ نہی کریں گے،ایسا کرنے سے میری زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔
یہ سوچا آپ نے؟
رامین التجائی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
ٹھیک ہے اس کا نقصان ہوا بہت زیادہ،اسی لیے ایسا کیا اس نے۔
میں فون ٹھیک کروا کے واپس کر دوں گی،بات ختم۔
اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ تنگ نہی کرے گا،فون واپس لینے کے بعد؟
وہ واپس کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
گارنٹی تو کوئی نہی ہے،لیکن اگر اس نے دوبارہ ایسا کچھ کیا۔
“تو آپ ہیں نہ میرے ساتھ”
رامین پورے یقین سے دل سے بولی۔
پرنس نے حیرت سے رامین کی طرف دیکھا،اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
رامین اس پر اعتبار کرنے لگی تھی،یہ احساس بہت خوشگوار تھا اس کے لیے۔
ویسے آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ فون اتنا مہنگا ہے؟رامین نے کمرے میں پھیلی خاموشی کو توڑا۔
رامین کے سوال پر وہ محفوظ ہوا۔
ہمممم۔۔بتایا تو ہے چور ہوں میں،سب پتہ ہوتا ہے چوروں کو،
کون سا فون کتنا مہنگا ہے،
“ہاں جی میں نے مان لیا،آپ چور ہیں،وہ بھی شریف چور،رامین مسکراتے ہوئے بیڈ پر آ بیٹھی بولتے ہوئے۔
اور تم بہت بھولی ہو،اتنا زیادہ نقصان نہی ہوا فون کا بس پروٹیکٹر ٹوٹا ہے۔
“سکرین نہی”
پرنس نے یہ الفاظ دہرائے۔سکرین نہی ٹوٹی۔
“یہ نقصان کوئی زیادہ تو نہی”
“تو پھر اس کا رامین کو بلیک میل کرنے کا مقصد؟
یہ کوئی اور بات ہے،صرف پروٹیکٹر کے لیے وہ رامین کو بلیک میل کرے گا۔
“یہ بات مجھے سمجھ نہی آئی”
وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔
اچھا میں یہ فون ساتھ لے کر جا رہا ہوں،ٹھیک کروا کر لا دوں گا کل،
لیکن پیسے!
پرنس نے گھوری ڈالی،تو رامین کی بات منہ میں ہی رہ گئی۔
“میرے ہوتے ہوئے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے”
خدا حافظ،وہ کھڑکی کے پاس جا رکا۔اور واپس پلٹ کر رامین کی طرف دیکھا۔
“کل آوں گا میں،میرا انتظار کرنا”
رامین مسکرا دی۔اور سر ہلا دیا۔
وہ بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے کھڑکی سے باہر نکل گیا۔
اور رامین مسکراتے ہوئے لیٹ گئی۔
__________________________
احتسام نے گھر جا کر امی کو خوشخبری سنائی،وہ بہت خوش ہوئیں۔
وہ خوشی سے فون کی طرف بڑھیں۔
میں فون کر کے تمہاری پھوپھو کو بتا دوں،ان کو کہہ دوں پھر کہ اس سنڈے آ جائیں گھر۔
ڈیٹ فکس کرنے۔
جی امی ضرور،احتسام مسکرا دیا۔
رانیہ ساری بات سن چکی تھی۔
ابھی کمرے سے باہر نکلی تو امی اور احتسام بھائی کو باتیں کرتے دیکھا،تو پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سننے لگی۔
رانیہ کو جب پتہ چلا تو وہ تیزی سے کمرے میں واپس گئی۔
ہانیہ ایک خوشخبری ہے تمہارے لیے۔
وہ ہانیہ کو تنگ کرنے لگی۔
اپنا سامان پیک کر لو۔
تمہارا ویزہ لگ گیا ہے۔
پھوپھو گھر جانے کا۔
اور ٹکٹ بھی آ گئی ہے۔
بھائی دیکھیں نا یہ رانیہ کو مجھے تنگ کر رہی ہے۔ہانیہ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے بولی۔
کیوں کیا ہوا؟
احتسام نے حیرانگی سے دونوں کی طرف دیکھا۔
بھائی یہ کہہ رہی ہے کہ اپنا سامان پیک کر لو،اور پھوپھو کے گھر جانے کی تیاری کرو۔
ہانیہ رو دینے کو تیار تھی۔
ہاں تو سہی کہہ رہی ہے ناں،احتسام بھی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔
احتسام بھائی آپ بھی اس کے ساتھ مل گئے ہیں۔
ہانیہ روتے ہوئے کمرے میں چلی گئی۔
اور احتسام اور رانیہ دونوں مسکراتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھے۔
ہانیہ کو منانے کے لیے۔
پھوپھو کو جب اس بات کا پتہ چلا،تو وہ تو خوشی سے نڈھال ہو گئیں۔
ان کا تو بس چلتا ،تو ابھی آ جاتیں،ڈیٹ فکس کرنے۔
ان کو بہت جلدی تھی،
اپنے بیٹے کو دولہا بنا دیکھنے کی۔
کیا ہوتا اگر وہ کہتیں،جہیز میں کچھ نہی چاہیے مجھے۔
بس ہانیہ کو بیٹی بنا کر لے جانا چاہتی ہوں میں۔
مگر پھر وہی بہانے،
میرے سسرال والے کیا سوچیں گے،
بہو جہیز میں کیا لائی ہے،
کیا بس ایک جوڑے میں رخصت کر دیا،ماں باپ نے،
لوگ کیا کہیں گے۔
پھوپھو کا سر تو اونچا ہو جائے گا،اپنے محلے میں خاندان میں،
کہ بہو ٹرک بھر بھر کر جہیز لائی ہے۔
محلے والے آئیں گے،دیکھیں گے،
تعریفیں کریں گے،
ہر طرف چرچے ہو گے،
مگر کوئی یہ نہی سوچے گا،کہ اس جہیز کا بہو کے باپ،یا بھائی کے کندھوں پر کتنا وزن پڑا ہو گا۔
مگر نہی!
ایسا کوئی نہی سوچتا،ہمارے اپنے سگے رشتہ دار وہی خالہ،وہی پھوپھو،وہی چچی،وہی تائی،جو بیٹی کرتی نہی تھکتیں۔
وہِی۔۔جہیز کا مطالبہ کرتی ہیں۔
ارے بھئی اگر تم نے بیٹی کو جہیز نہی دیا،تو میں کیا منہ دکھاوں گی،محلے والوں کو،رشتہ داروں کو۔
نہ بھئی ناں!
جہیز کا انتظام ہو جائے تو ہمیں بتا دینا۔
ورنہ کوئی اور لڑکی دیکھ لیں گے ہم۔
یہ کسی ایک گھر کی نہی،گھر گھر کی کہانی ہے۔
ہر کسی کو وہ بہو چاہیے،جو ٹرک بھر بھر کر جہیز لائے۔
اپنے رشتہ دار ہی منہ موڑ جاتے ہیں،غریب بھائی کی بیٹی چھوڑ کر باہر رشتے تلاش کیے جاتے ہیں۔
کس کی خاطر!
“اس نا مراد جہیز کی خاطر”
غریب کی بیٹی کی ماں باپ کے گھر بیٹھے بیٹھے ہی بوڑھی ہونے لگتی ہے۔
خوبصورت ہو بھی تو کوئی رشتہ نہی لینے کو تیار،کیونکہ باپ غریب ہے،جہیز میں کچھ نہی دے سکے گا۔
اور امیر کی بیٹی۔۔۔چالیس سال کی بھی ہو گی۔تو پچیس سالہ لڑکا اس سے شادی کرنے کو راضی ہو جائے گا۔
وجہ؟
وجہ ہے جہیز میں ملنے والی گاڑی،بزنس اور ٹرک بھر بھر کر جہیز۔
اللہ پاک سب لوگوں کو ہدایت دے۔اور لوگوں کے دلوں سے جہیز کا لالچ ختم کر دے آمین۔
آمین کہتے ہوئے احتسام کی امی کمرے سے باہر نکل آئیں۔
پیسہ بہت کچھ بدل دیتا ہے۔وہی پھوپھو جو کل تک بار بار فون کر شادی کی ڈیٹ مانگ رہی تھیں۔
اور کہہ دیتی تھیں کہ ہمیں جواب دو۔
اب وہی ہانیہ کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھیں۔
کیوں کہ جہیز کا انتظام ہو گیا تھا۔
