Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Na Jani (Episode 07)

Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi

رامین دن بھر انہی الجھنوں میں گم رہی۔

بچوں کو پڑھانے میں بھی اس کا دل نہی لگ رہا تھا۔

مگر کیا کرتی مجبوری جو ٹہری۔

دن بھر بچوں کو پڑھاتی رہی۔

گھر پہنچی تو امی پہلے سے ہی کھانے کا ٹفن تیار کیے بیٹھی تھی۔

رامین کچھ دیر کے لیے بیٹھ گئی۔

اماں مجھے سانس تو لینے دیں۔

بہت تھکی ہوئی ہوں میں۔

دن بھر بچوں کو پڑھانا کوئی آسان کام نہی ہے۔

میں سمجھتی تھی بہت آسان کام ہوتا ہے سکول کے بچوں کو پڑھانا۔

مگر ایسا بلکل بھی نہی ہے۔

سکول کے بچوں کو پڑھانے میں اور ٹیوشن کے بچوں کو پڑھانے میں بہت فرق ہے۔

بہت ہی نہی اماں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

ٹیوشن کے بچوں کو پڑھاتے ہوئے آپ آرام سے بیٹھ سکتے ہیں۔

ساتھ ساتھ گھر کے دوسرے کام بھی نپٹا سکتے ہیں۔

مگر سکول میں آپ بیٹھنے کا سوچیں بھی مت۔

دن بھر بس وائٹ بورڈ پر ہاتھ چلاتے رہنا ہے۔

اور ساتھ ساتھ زور سے گلا بھی پھاڑنا ہوتا ہے۔

اور اگر چند پل کے لیے کرسی پر بیٹھ بھی جاو۔

تو مانو جیسے قیامت ہی آ جاتی ہے۔

فوراً سے میڈم صاحبہ آ جاتی ہیں کلاس روم میں۔

ٹیچر کی کلاس لینے۔

سر پر کیمرہ جو لگا ہوتا ہے ہر ٹیچر کے۔

اور میڈم صاحبہ مانیٹر پر دیکھ رہی ہوتی ہیں سب کچھ۔

اِدھر زرا سا ٹیچر بیٹھتی ہے سانس لینے کو۔

اُدھر سر پر میڈم صاحبہ پہنچ جاتی ہیں۔

ان کا بھی قصور نہی اماں۔۔ان کو اسی کام کے لیے تو رکھا جاتا ہے۔

اور اسی کام کے پیسے دئیے جاتے ہیں ان کو۔

ٹیچرز بچوں کی کلاس لیتی ہیں۔اور میڈم ٹیچرز کی۔

رامین جھنجلاتے ہوئے بول رہی تھی۔

پتہ نہی کیوں وہ چرچڑی سی ہو رہی تھی۔

رامین بیٹا اگر تم نہی جا سکتی تو کوئی بات نہی بیٹا میں خود چلی جاتی ہوں کھانا لے کر۔

تو آرام کر لے میری بچی۔بہت تھک جاتی ہے۔

مجھے نہی پتہ تھا کہ اتنا مشکل کام ہے سکول کے بچوں کو پڑھانا۔

اماں کی بات پر رامین چونکی۔۔۔

نننہیی اماں۔۔۔میں لے جاوں گی کھانا ابا کے لیے۔

میں بس ایسے ہی بول رہی تھی یہ سب۔

رامین کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

اماں آپ کی طبیعت پہلے ٹھیک نہی رہتی۔

زیادہ چلو گی تو پھر سے ٹانگیں درد ہو گی۔

فکر مت کرو میں جاتی ہوں۔

رامین اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

کھانے والا شاپر اٹھایا۔اور باہر کی طرف چل پڑی۔

اماں اس کے جاتے ہی آنسو بہانے لگیں۔میری بہادر بیٹی۔

اللہ تمہیں ثابت قدم رکھے ہمیشہ۔بوڑھے ماں باپ کا سہارا تم ہی ہو اب۔

رامین تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے جا رہی تھی۔

آسمان پر بادل چھائے تھے۔

مگر گرمی کی شدت میں کوئی کمی نہی تھی۔

گرم ہوائیں چل رہیں تھیں۔

لگتا ہے آج بارش ہو گی۔

رامین بادلوں پر نظر ڈالتے ہوئے سوچتی چلی جا رہی تھی۔

کاش کے آج مجھے وہ دونوں لڑکے مل جائیں۔

ان سے مجھے پتہ چل سکتا ہے۔پرنس کے بارے میں۔

انہوں نے کیا کہا تھا۔۔؟

اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ پرنس بھائی کی رشتہ دار ہیں تو ہم کبھی آپ کو تنگ نہی کرتے۔

اس کا مطلب ہے کہ وہ پرنس کو جانتے ہیں۔

اور جانتے ہیں تو یقیناً دیکھا بھی ہو گا اس کو۔

وہی بتا سکتے ہیں۔کہ پرنس ہی اسد ہے۔

رامین دعائیں کرتے چلی جا رہی تھی۔کہ ان دونوں سے ملاقات ہو جائے۔

مگر ایسا نہی ہو سکا۔

وہ دونوں اسے کہیں نظر نہی آئے۔

وہ سر جھٹکتی فیکٹری کی طرف بڑھ گئی۔

وہ فیکٹری پہنچی۔ابھی گیٹ کھولا ہی تھا۔کہ گیٹ کسی کے منہ پر لگا۔

اور اس کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر زمین پر جا گِرا۔

رامین کے تو ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔

رامین بے ساختہ بول اٹھی۔۔آئی ایم۔۔۔سسسوررری۔

سامنے ایک نوجوان۔۔۔بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس۔۔آنکھوں پر سن گلاسز لگائے۔۔اپنی ناک پر ہاتھ رکھے ایک دم پیچھے ہٹا۔

اور جیسے ہی اس کی نظر زمین پر گرے اپنے فون پر پڑی۔

وہ رامین کی طرف بڑھا۔

اس کی آنکھوں پر سن گلاسز ہونے کے باوجود بھی رامین اس کا غصہ محسوس کر سکتی تھی۔

رحیم چچا بھاگتے ہوئے آئے۔وہ شاید کسی کام سے اپنے کوارٹر میں گئے ہوئے تھے۔

کیا ہوا صاحب جی۔۔۔جب اس نے رامین کو بت بنے کھڑی دیکھا تو جلدی سے آگے بڑھے۔

رامین نے فون اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔

اس نے ایک نظر اپنے فون پر اور دوسری رامین پر ڈالی۔

فون کی سکرین پر پڑیں دراڑوں پر جب رامین کی نظر پڑی تو وہ گھبرا گئی۔

وہ میں نے جان بوجھ کر نہی کیا۔

مجھے نہی پتہ تھا کہ آپ دروازے کے پاس کھڑے ہیں۔

آئی ایم سوری۔۔۔رامین پھر سے شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔

اٹس اوکے۔۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔اور اس نے رامین کے ہاتھ سے فون لے لیا۔

اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھا تو رامین جلدی سے رحیم چچا کی طرف بڑھی۔

ان کو کھانے کا شاپر تھمایا اور تیزی سے فیکٹری سے باہر نکل گئی۔

رامین حیران تھی اس کے مسکرانے پر۔

عجیب شخص تھا۔پہلے مجھے غصے سے گھور ریا تھا۔

اور بعد میں خود ہی مسکرا دیا۔

وہ ابھی تک وہی کھڑے مسکرا رہا تھا۔

اپنے ٹوٹے فون کو ہاتھ میں تھامے وہ کہیں کھو سا گیا تھا۔

صاحب جی یہ صدیق احمد کی بیٹی ہے۔روز کھانا دینے آتی ہے اپنے ابا کے لیے۔

اس کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں۔اس نے آپ کو آتے دیکھا نہی ہو گا۔

ورنہ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔کبھی کسی کا برا نہی سوچتی۔

میں نے پوچھا کیا آپ سے۔۔۔؟؟؟

وہ راحیم کی باتوں سے بیزار ہوتے ہوئے پلٹا۔

کہاں تھے آپ۔۔؟؟

آپ کو پتہ ہے کہ آپ ڈیوٹی پر ہیں۔

پھر بھی آپ گیٹ چھوڑ کر اپنے کوارٹر میں آرام فرما رہے تھے۔

نہہی صاحب جی۔۔۔ایسی کوئی بات نہی ہے۔میں اپنا فون کوارٹر میں ہی بھول آیا تھا صبح۔

سوچا جلدی سے جا کر لے آوں۔

اچھا ٹھیک ہے کوئی بات نہی۔میں تو بس اس لیے کہہ رہا تھا کہ حالات ٹھیک نہی ہیں۔

کوئی دشمن گھس آتا اگر فیکٹری میں تو مسلہ بن جاتا۔

اور ڈیڈ کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔

انہوں نے ایک منٹ بھی نہی لگانا اور آپ کو نوکری سے فارغ کر دینا ہے۔

آئِیندہ دھیان رکھئیے گا۔

میں چلتا ہوں اب۔۔مجھے ضروری کام سے جانا ہے۔

وہ ایک نظر اپنے ٹوٹے فون پر ڈالے۔۔چہرے پر مسکراہٹ سجائے گیٹ سے باہر کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

رحیم چچا نے سکھ کا سانس لیا۔اور اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔

___________________________

احتسام جیسے ہی پلٹا اس کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔

چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ پھر سے اس کے سامنے کھڑی تھی۔

اسی کے گھر میں۔

احتسام ایک دم چونکا۔۔۔!!!

یہ یہاں کیسے آئی۔۔؟

اس نے خود سے ہی سوال کر ڈالا۔

وہ چلتے ہوئے بیڈ پر آ بیٹھی۔

آپ یہاں۔۔؟؟؟

میرے گھر پر۔۔۔؟؟؟

بلکہ میرے کمرے میں۔۔۔؟؟؟

کیا ہے یہ سب۔۔؟؟؟

احتسام غصے سے بولا۔

صلہ مسکراتے ہوئے احتسام کی طرف بڑھی۔

میرے لیے کچھ بھی مشکل نہی ہے۔۔۔مسٹر احتسام۔

اس کے منہ سے اپنا نام سن کر احتسام کو جھٹکا لگا۔

میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو۔۔؟؟؟

احتسام حیران ہوتے ہوئے بولا۔

احتسام کے سوال پر وہ ہنس دی۔

کمال کرتے ہیں آپ بھی ویسے۔

باہر گھر کے باہر جو بورڈ لگا ہے۔

اس پر آپ ہی کا نام درج ہے نا۔

اس طرح میرے گھر آنے کا مقصد۔۔۔؟؟؟

اس کی بات ختم ہوتے ہی احتسام جلدی سے بول پڑا۔

ہمممممم۔۔۔۔یہ ہوئی نہ بات۔

میں سوچ ہی رہی تھی کہ آپ نے ابھی تک پوچھا نہی۔

اور دیکھو آپ نے پوچھ لیا۔

ہماری سوچ کتنی ملتی ہے۔

خیر میں یہاں اپنے سوال کا جواب لینے آئی ہوں۔

جو سوال صبح میں نے آپ سے کیا تھا۔

اور آپ جواب دئیے بغیر ہی وہاں سے واپس چلے آئے تھے۔

مگر اب میں جواب لیے بغیر یہاں سے جانے والی نہی ہوں۔

وہ واپس بیڈ پر بیٹھ گئی۔

احتسام کو صلہ پر جی بھر کر غصہ آیا۔

میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہی ہے۔

اور اگر میں نے کوئی جواب نہی دیا۔

تو اس کا مطلب میرا جواب نفی میں ہے۔

عقلمند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔

صلہ احتسام کے جواب پر مسکرا دی۔

ویسے میرے پاس ایک ڈیل ہے تمہارے لیے۔

تم مجھ سے نکاح کر لو۔

اور میں تمہیں ہانیہ کی شادی کے لیے پیسے دے دوں گی۔

سارا خرچہ اٹھا لوں گی میں ہانیہ کی شادی کا۔

بڑے سے بڑا شادی حال۔

جس پر ہانیہ ہاتھ رکھے گی۔

بُک کروا دوں گی میں۔

اگر تم مجھ سے نکاح کر لو تو۔۔۔!!!!!!!

احتسام بہت دیر سے ظبط کیے اس کی بات سن رہا تھا۔

اس سے پہلے کہ صلہ کچھ کہتی۔۔بس اب اور ایک لفظ نہی۔۔وہ چلایا تھا۔

تیزی سے صلہ کی طرف بڑھا۔

اسے بازو سے کھینچتے ہوئے کمرے کے دروازے کے پاس لایا۔

آج کے بعد کبھی میرے گھر میں،میرے کمرے میں یا پھر میرے راستے میں آنے کی کوشش کی تو انجام اچھا نہی ہو گا۔

آخری بار سمجھا رہا ہوں۔

صلہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

مگر اسے کہا پرواہ تھی۔

اس کا دل تو شاید پتھر کا تھا۔

یہ آنسو مجھے پگلا نہی سکتے۔۔۔صلہ کے بہتے آنسو دیکھ کر حقارت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔

نفرت ہے مجھے تم سے۔

اور تمہارے ان جھوٹے آنسووں سے۔

چلی جاو یہاں سے۔۔۔رامین کو دروازے سے باہر لا کھڑا کیا۔اور دروازہ بند کر دیا احتسام نے۔

دروازہ بند کرتے ہی سر دونوں ہاتھوں میں تھامے وہیں دروازے کے پاس بیٹھ گیا۔

کبھی معاف نہی کروں گا میں تمہیں۔۔۔کبھی نہی۔۔۔!!!!!

__________________________

رامین جب گھر کے پاس پہنچی تو گلی میں عجیب ساشور مچا ہوا تھا۔

سامنے ایک کالے رنگ کی کار کھڑی تھی۔

اور بچے کار کو دیکھ کر بہت متاثر لگ رہے تھے۔

بچے کار کے اردگرد کھیل رہے تھے۔

یہ گاڑی کس کی ہے۔

ہمارے محلے میں گاڑی تو کسی کے پاس نہی ہے۔

رامین گاڑی کی سائیڈ سے نکلتے ہوئے سوچ رہی تھی۔

گاڑی کی وجہ سے گزرنے والوں کا راستہ تقریباً بند ہو چکا تھا۔

رامین آگے بڑھی ہی تھی کہ اسے عورتوں کی باتوں کی آواز آئی۔

رامین رک کر ان کی باتیں سننے لگی۔

ارے یہ رانی کے سسرال والوں کی گاڑی ہے۔

بڑے امیر لوگ ہیں۔

لڑکا بھی ساتھ ہی آیا ہے رانی کو دیکھنے۔

ارے چھوڑو بہن دیکھ تو پہلے ہی چکا تھا۔دوسری عورت بولی۔

اپنی کسی امیر سہیلی کی شادی پر گئی تھی رانی۔

وہِیں نظر پڑ گئی اس لڑکے کی رانی پر۔

آنکھ مٹکا شروع ہو گیا۔

بات فون تک پہنچی۔

اور پھر کیا۔۔۔آ گیا وہ لڑکا ماں باپ کو ساتھ لے کر رانی کا رشتہ مانگنے۔

ارے واہ۔۔۔رانی کی تو قسمت ہی کھل گئی ہے۔

وہ بس نام کی ہی رانی نہی ہے۔

قسمت کی بھی رانی نکلی۔

سنا ہے لڑکا اکلوتی اولاد ہے ماں باپ کی۔

وہ دونوں عورتوں نے اپنی باتیں جاری رکھی۔

وہ گھر کے دروازے کے پاس پردے کے پیچھے کھڑیں بول رہی تھیں۔

رامین سر جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

محلے کی عورتوں کو تو بس کوئی کہانی مل جائے۔

آگے مرچ مصالحے لگا کر پیش کرنا ان کو بہت اچھی طرح آتا ہے۔

کیوں کسی کی بیٹی پر الزام لگاتے ہوئے ڈر نہی لگتا ان لوگوں کو۔

جب کہ ان کے اپنے گھروں میں بھی بیٹیاں ہیں۔

کوئی ان کی بیٹی کے بارے میں بھی بات کر سکتا ہے۔

مگر نہی۔۔ان کو کون سمجھائے۔

وہ اپنی ہی پریشانی میں تھی۔

ویسے تو وہ دونوں لڑکے وہاں ہی ہوتے تھے روز۔

مگر آج نہی تھے۔

رامین جھنجلاتے ہوئے گھر پہنیچی۔

سارا راستہ دیکھ لیا اس نے۔

مگر وہ دونوں لڑکے اسے کہیں نظر نہی آئے۔

گھر آئی تو اماں اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔

اماں کو دیکھ کر رامین مسکرا دی۔

اماں کھانا نہی کھایا آپ نے ابھی تک۔

میرے انتظار میں بیٹھی ہیں۔

اماں مسکرا دیں۔

میں نے سوچا ساتھ مل کر کھا لیتے ہیں۔

گلی میں پتہ نہی کس بات کا شور پھیلا ہوا ہے۔

میں نے دیکھا گاڑی کھڑی ہے باہر۔۔

جی اماں۔۔۔رانی کا رشتہ آیا ہے۔

بہت امیر ہیں وہ لوگ۔

وہ کار ان ہی کی ہے۔

اچھا۔۔۔۔تمہیں کس نے بتایا۔اماں کو حیرت ہوئی۔

کسی سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے اماں۔

ہمارے محلے کی عورتیں ہیں نہ بات پھیلانے کے لیے۔

حمیدہ خالہ اور شمیم خالہ باتیں کر رہی پردے کی اوٹ میں کھڑیں۔

میرے کانوں نےبھی سن لیں وہ آوازیں۔

رامین مسکرا دی۔

چھوڑو نہ اماں آو کھانا کھاتے ہیں۔بہت بھوک لگی ہے۔

اماں کسی سوچ میں گم ہو چکی تھیں۔رامین نے آواز دی تو کھانا لینے چلی گئیں۔

وہ کھانا لینے گئیں تو رامین بھی ہاتھ منہ دھونے چلی گئی۔

رامین نے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا۔

ایسا تو کچھ نہی میرے چہرے پر۔

تو پھر وہ کیوں مسکرا رہا تھا۔

رامین کو وہ فیکٹری والا لڑکا یاد آیا۔جس سے وہ ٹکرائی تھی۔

عجیب انسان تھا۔

پچھلے کئی دنوں سے میں عجیب غریب انسانوں سے سامنہ کر رہی ہوں۔

پہلے وہ دونوں لڑکے۔

پھر نقاب پوش۔۔۔عرف پرنس۔

پھر اسد۔۔

اور اب یہ پتہ نہی کونسی مخلوق تھی۔فون ٹوٹنے پر غصہ کرنے کی بجائے مسکرا رہا تھا۔

اففففف۔۔رامین جھنجلا گئی۔

جلدی سے پانی کے چھینٹے مارے منہ پر۔اور کھانا کھانے چلی گئی۔

___________________

رامین کی آنکھ کھلی تو بچے آ چکے تھے۔

وہ اٹھی۔منہ ہاتھ دھو کر نیچے چلی آئی۔

اماں کپڑے سلائی کر رہی تھیں۔اماں یا تو گھر کے کاموں میں لگی رہتیں۔

یا پھر کپڑے سلائی کرنے میں۔

رامین ان کو کتنی دفعہ منع کر چکی تھی۔

کہ اماں نہ کیا کرو گھر کے کام۔

میں خود سنبھال لوں گی سب کچھ۔

آپ کی طبیعت ٹھیک نہی رہتی۔

آرام سے بیٹھ جایا کرو آپ۔

کام میں دیکھ لوں گی۔

مگر وہ رامین کی بات کبھی نہی سنتیں۔

کہتی اگر میں بیٹھ گئی چارپائی پر۔

تو پھر اٹھ نہی سکوں گی۔

کام کرتی رہتی ہوں تو ٹھیک رہتی ہوں۔

اگر بلکل کام کرنا چھوڑ دیا۔تو اور زیادہ بیمار ہو جاوں گی۔

اسی لیے تم چپ کر کے بیٹھو۔

مجھے ٹوکا نہ کرو کام کرنے سے۔

میں چارپائی پر بیٹھ کر بیمار نہی ہونا چاہتی۔

چارپائی پر بیٹھ کر بیمار ہو گئی تو مریضہ بن جاوں گی۔

حسبِ عادت وہ اب بھی کام میں ہی لگی تھیں۔

رامین بچوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔

ان کو پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔

تب ہی دروازہ ناک ہوا۔

رامین دروازے کی طرف بڑھی۔

دروازے پر ایک بچہ کھڑا تھا۔

اور اس کے ہاتھ میں ایک گفٹ پیک تھا۔

رامین نا سمجھی سے اس بچے کی طرف دیکھنے لگی۔

بچے نے وہ گفٹ رامین کی طرف بڑھا دیا۔

یہ کس لیے بیٹا۔

شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔

آپ کسی اور کا گفٹ مجھے دے رہے ہو۔

نہی آپی یہ آپ کے لیے ہی ہے۔

میرے لیے۔۔۔کس نے بھیجا ہے یہ۔۔؟؟؟

رامین کو حیرت ہوئی۔

مجھے کون گفٹ بھیج سکتا ہے۔

وہ انکل نے کہا ہے آپ کو دینے کو۔بچہ دوسری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *