Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 15)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 15)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
تم کون ہو’وہ احتسام کے چہرے پر نظریں گاڑے بولی؟
کیا رشتہ ہے تمہارا اس لڑکی کے ساتھ؟
جواب چاہیے ہمیں۔
احتسام کے چہرے پر ناگواری پھیلی’میرا اس سے کوئی رشتہ نہی ہے۔
بس انسانیت کا رشتہ ہے۔
احتسام چہرے پر گہری سنجیدگی لیے بول رہا تھا۔
اس نے گرجدار قہقہ لگایا’نہی برخوردار۔
ہمیں تو تم عشق زادے لگ رہے ہو۔
انسانیت کے رشتے پر آنسو کون بہاتا ہے۔
یہ کوٹھا ہے’یہاں انسانیت کا نام مت لو۔
یہاں آنے والوں کی انسانیت مردہ ہوتی ہے۔
اب تم بتانا نہی چاہتے تو کوئی بات نہی۔
ہم بتاتے ہیں تمہیں’یہ لڑکی تمہارے عشق میں گرفتار ہے۔
تمہیں دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں جو درد جاگا ہے’آج سے پہلے تو کبھی ایسا درد نہی دیکھا ہم نے اس کی آنکھوں میں۔
اور آج سے پہلے اس نے شراب کو کبھی ہاتھ تک نہی لگایا تھا۔
تمہیں دیکھتے ہی پوری بوتل حلق میں اتار گئی۔
اور تم کہتے ہو کہ’انسانیت کا رشتہ ہے۔
اس رشتے کو انسانیت کا نہی’دل کا رشتہ کہتے ہیں۔
اب تم مانتے نہی ہو’تو وہ الگ بات ہے۔
تم اس لڑکی سے بدگمان لگ رہے ہو مجھے تو لگتا ہے۔
ایک بات میں تمہیں بتا دیتی ہوں’یہ طوائف تو ہے۔
ناچتی ضرور ہے مگر’جسم کی سودا نہی کرتی۔
آج تک کوئی ہاتھ نہی لگا سکا اسے’سوائے تمہارے۔
اس نے خود کو تمہیں چھونے کا حق دیا’اسی لیے تم یہ ہمت کر پائے۔
ورنہ خدا قسم!
اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا’تو اب تک ہاتھ کاٹ چکی ہوتی یہ تمہارے۔
احتسام نے نظریں اٹھا کر اس عورت کی طرف دیکھا۔
ایک طوائف دوسری طوائف کی پاکیزگی کی گواہی دے رہی تھی۔
مجھے اس کی گاڑی کی چابیاں اور باقی سامان چاہیے۔
میں اسے یہاں سے لے کر جانا چاہتا ہوں’وہ اس کی باتوں کا جواب دئیے بغیر بولا۔
ٹھیک ہے برخوردار’وہ الماری کی طرف بڑھی۔
صلہ کا بیگ احتسام کی طرف بڑھا دیا۔
احتسام نے بیگ میں سے گاڑی کی چابی نکالی۔
صلہ کو بازووں میں اٹھائے بنا کسی کی پرواہ کیے کمرے سے باہر نکل آیا۔
پیچھے لوگوں کی سرگوشیاں،ہنسی کی آوازیں،مزاق اڑاتے الفاظ اس کا پیچھا کر رہے تھے۔
مگر وہ نہی رکا،اس نے کسی کی پرواہ نہی کی۔
اسے پرواہ تھی’تو بس اس کے بازووں میں سمائے اس وجود کی۔
گاڑی کے پاس پہنچ کر’پاس کھڑے ایک لڑکے کی طرف گاڑی کی چابی بڑھا کر اسے دروازہ کھولنے کو کہا۔
اس لڑکے نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
احتسام نے صلہ کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا۔
اس کے پاوں میں گھنگرو ابھی تک بندھے ہوئے تھے۔
احتسام نے اس کے نازک پاوں ان گھنگھروں سے آزاد کر دئیے۔
اور گھنگھرو وہیں سڑک پر پھینک دئیے۔
گاڑی کے دروازہ بند کیا’اس لڑکے سے گاڑی کی چابی پکڑی۔
اور ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا’ایک نظر صلہ کے حوش و حواس سے بیگانے وجود پر ڈالی’اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
________________
رامین کے دل میں خوشی کی لہر سی اٹھی’پرنس کے نام پر۔
وہ نہی سمجھ پا رہی تھی’کہ وہ کیوں خوش ہو رہی ہے۔
دل میں پرنس کا تصور سا بننے لگی تھی وہ۔
یہ احساس بہت خوشگوار تھا اس کے لیے’کہ وہ بہت اہم ہے کسی کے لیے۔
کوئی ہے جو اسے اپنی ذات سے بھی زیادہ چاہتا ہے اسے۔
جس کے ساتھ وہ ایک خوبصورت بندھن میں بندھنے والی ہے’بہت جلد۔
ایک احساس سا تھا’جو اس کے دل میں پیدا ہو رہا تھا’پرنس کے نام کا۔
اس نے نکاح کا پیغام جو بھیجا ہے۔
یہی تو ہوتی ہے'”حقیقی محبت کی پہچان””
جو مرد سچی محبت کرتا ہے نا!
“”اس سچی محبت کی تکمیل نکاح ہوتا ہے””
“نکاح’ایک خوبصورت بندھن”
“سچے اور خالص رشتے کی پہچان ہوتا ہے”
“دو دلوں کے سچے ملن کی تکمیل ہے نکاح”
بہت طاقت ہوتی ہے’نکاح کے تین لفظوں میں’دو اجنبی رشتے کو زندگی بھر کے لیے جوڑ دیتا ہے یہ۔
“عورت کے لیے نکاح’ایک تحفظ ہے”
پہلے رامین پریشان ہو گئی تھی’پرنس کے پریشان ہونے کی وجہ سے۔
مگر اگلی صبح بہت روشن صبح محسوس ہو رہی تھی رامین کو۔
اُمید کی نئی کرن لیے’ایک خوبصورت صبح۔
اسے اُمید تھی اپنے اللہ سے’کہ وہ ساری پریشانیاں ختم کر دے گا۔
اسی لیے وہ مطمئن تھی۔
وہ آنے والی خوشیاں کی منتظر سی ہونے لگی تھی۔
نماز پڑھ کر نیچے آئی’اماں ناشتہ بنا رہی تھیں۔
جبکہ ابا جو پہلے روز اس وقت فیکٹری جانے کو تیار بیٹھے ہوتے تھے۔
آج چارپائی پر اداس سے بیٹھے تھے’سوچوں میں گُم۔
رامین ان کے لیے ناشتہ لے کر گئی۔
ابا ناشتہ کر لیں’اس نے مسکراتے ہوئے ناشتہ ان کے سامنے رکھ دیا۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے رامین کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
بیٹھو میرے پاس’انہوں نے رامین کو چارپائی پر بیٹھنے کو کہا۔
ایک ضروری بات کرنی ہے اپنی بیٹی سے’وہ مسکراتے ہوئے بولے۔
جی ابا’بتائیں کیا بات کرنی ہے’رامین چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی۔
ایک رشتہ آیا ہے تمہارے لیے بیٹا’وہ تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولے۔
لڑکا پڑھا لکھا ہے’خاندانی ہے۔
ثوبیہ کے امی،ابو لے کر آئے ہیں یہ رشتہ۔
وہ لڑکا اسد کا دوست ہے’لڑکا دیکھا بھالا ہے ان کا۔
ابھی میں نے ان کو کوئی تسلی بخش جواب نہی دیا۔
سوچا ایک بار اپنی بیٹی سے بات کر لوں’تمہیں کوئی اعتراض تو نہی ہے نا؟
لڑکے کی تصویر بھی دکھائی تھی اسد نے مجھے’دیکھنے میں تو ٹھیک لگ رہا ہے مجھے۔
تم بھی ایک بار دیکھنا چاہو اس کی تصویر تو دیکھ سکتی ہو’مجھے کوئی اعتراض نہی۔
رامین کو حیرت ہوئی’اگر اسد کے پاس تصویر تھی پرنس کی۔
تو اس نے مجھے کیوں نہی دکھائی’رامین کو جیسے صدمہ لگا۔
کیا ہوا رامین تم خوش نہی ہو بیٹا؟
ابا کی آواز پر وہ چونکی۔
نہی ابا ایسا کچھ نہی ہے’میری خوشی تو آپ دونوں کی خوشی میں ہے۔
اگر آپ کو مناسب لگے’تو آپ ہاں کر دیں۔
مجھے کوئی اعتراض نہی’آپ کے فیصلے پر میں آنکھیں بند کر کے یقین کر سکتی ہوں۔
آپ پر پورا بھروسہ ہے مجھے’رامین کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
رامین کی مسکراہٹ دیکھ کر اماں،ابا دونوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔
لیکن میری بھی ایک شرط ہے ابا!
کیا شرط ہے تمہاری’وہ حیران ہوئے۔
وہ یہ کہ میں شادی کے بعد بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہی رہوں گی۔
آپ دونوں سے دور جانے کا میں تصور بھی نہی کر سکتی۔
کہہ دیجئیے ان سے’اگر گھر جوائی بننا ہے تو ٹھیک ہے۔
رامین کی بات پر اماں،ابا دونوں نے حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
اور پھر دونوں ہنس دئیے’کملی نا ہو تو ایسا تھوڑی نا ہوتا ہے۔
ہر لڑکی کو ماں باپ کا گھر چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔
تیری امی بھی تو آئی ہے’اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر ہمارے گھر کو بسایا اس نے۔
اگر ماں باپ کے بس میں ہو تو’وہ بیٹیوں کو کبھی خود سے دور نہ کریں۔
مگر یہی دستور ہے زندگی کا۔
صدیوں سے ایسا ہی چل رہا ہے۔
پہلے ماں باپ کے آنگن کو مہکاتی ہے بیٹی۔
اور پھر اپنے شوہر کا گھر سجاتی ہے۔
اپنی پوری زندگی اس کے نام کر دیتی ہے۔
ایک انجان شخص’جس کو وہ ٹھیک سے جانتی بھی نہی۔
نکاح ہوتے ہی اس انجان شخص کے نام ہو جاتی ہے پوری زندگی کے لیے۔
وہی شوہر اس کا سب کچھ بن جاتا ہے’حتیٰ کہ بیٹی ماں،باپ سے ملنے کا بھی وقت نہی ملتا اس کو۔
خود کو پوری طرح بدل دیتی ہے’شوہر کی خاطر۔
اب اپنی اماں کو ہی دیکھ لو’ساری زندگی گزار دی میرے ساتھ۔
آج سے پچیس سال بیاہ کے لایا تھا میں تمہاری اماں کو۔
خود ہی دیکھ لو’تمہاری اماں نے خود کو بس ہم دونوں تک محدود کر لیا ہے۔
ماں،باپ تو رہے نہی’مگر بہن بھائی تو ہیں۔
کتنی بار کہتا رہتا ہوں’چلی جایا کرو۔
اپنے بہن،بھائیوں سے ملنے’مگر یہ سنتی ہی نہی۔
اگر وہ لوگ بھول گئے ہیں’تو کیا ہوا۔
اس کو تو ملنا چاہیے نا۔
ہاں نہ اماں’ٹھیک تو کہہ رہے ہیں ابا۔
کیوں نہی جاتی آپ ملنے ماموں سے۔
رامین تب سے خاموشی سے ابا کی باتیں سُن رہی تھی۔
اب جا کر بولی تھی۔
بس بیٹا اب دل ہی نہی کرتا’جب ہم رشتوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
تو ہم ایک دوسرے کے بغیر جینے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔
شہر میں آ کر میری زندگی بہت مصروف ہو گئی تھی۔
تم دو سال کی تھی جب ہم شہر آئے تھے۔
تمہارے ابا کو چھٹی ہی نہہی ملتی تھی کبھی۔
جب تک ماں،باپ زندہ تھے’بہن بھائی آتے رہتے تھے ملنے۔
ان کے گزرنے کے بعد سب نے آنا جانا چھوڑ دیا۔
اگر کبھی کبھار میں ملنے چلی بھی جاتی تھی’تو بھاببیوں کے منہ ہی نہی سیدھے ہوتے تھے۔
جب کبھی بھی میں ملنے جاتی تو ان کے گھر میں لڑائیاں شروع ہو جاتی تھیں۔
اور وہ لڑائی جھگڑے مجھے دیکھ کر ہی شروع ہوتے تھے۔
عزتِ نفس کس کو پیاری نہی ہوتی بیٹا’آہستہ آہستہ مجھے اس بات کا احساس ہونے لگا کہ میری موجودگی دونوں بھابیوں کو کھٹکنے لگی ہے۔
تو میں نے بھی آنا جانا کم کر دیا۔
دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی میں’وہی بھائی جو لاڈ اٹھاتے نہی تھکتے تھے۔
ماں باپ کے گزرنے کے بعد بیویوں کے غلام بن کر رہ گئے تھے۔
وہی گھر وہی صحن’جس میں ہم تینوں بہن بھائیوں کا بچپن گزرا تھا۔
ماں باپ کے گزرنے کے بعد وہ گھر خالی سا ہو گیا تھا۔
اب وہاں وہ ماں نہی تھی’جس کو بیٹی کے آنے کا انتظار ہوتا تھا۔
نا ہی وہ ابا رہے تھے’جو بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھنے چلے آتے تھے۔
اماں کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں’ماں باپ کو یاد کرتے ہوئے۔
رامین کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل رہے تھے۔
رامین اٹھ کر اماں کے پاس جا بیٹھی اور ان کے آنسو صاف کرنے لگی۔
اب اس گھر میں کوئی منتظر نہی رہا تھا میرا۔
ایک دو بار بھائی آئے تھے ملنے’اس کے بعد دوبارہ کبھی نہی آئے وہ لوگ۔
ایک بات مجھے سمجھ آ چکی تھی’مائیکہ بس ماں باپ کے دم سے ہی ہوتا ہے۔
ماں باپ کے بعد کوئی نہی پوچھتا بیٹیوں کو۔
زندگی اتنی تیزی سے گزری کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہی چلا۔
دوریاں بڑھتے بڑھتے سالوں میں بدل گئیں۔سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے تھے۔
خیر چھوڑو تم’ناشتہ کرو جلدی سے ثوبیہ آنے والی ہو گی۔
پھر ناشتہ کیے بغیر ہی چلی جاو گی۔وہ آنسو صاف کر کے مسکراتے ہوئے بولیں۔
رامین مسکرا دی’اور اس کے ابا بھی مسکرا دئیے۔
مگر اماں،ابا آپ دونوں سُن لیں۔
میں آپ دونوں کو اتنی جلدی چھوڑ کر کہی نہی جانے والی۔
رامین کی سوئی وہی کی وہی اٹکی ہوئی تھی ابھی تک۔
وہ دونوں ہنس دئیے’لو کر لو بات یہ لڑکی نہی سدھرنے والی۔اماں مسکراتے ہوئے بولیں۔
رامین نے جلدی جلدی ناشتہ ختم کیا’اور ثوبیہ کا انتظار کرنے لگی۔
جیسے ہی ثوبیہ آئی’رامین جلدی سے اس کے ساتھ چل پڑی۔
اسد نہی آیا آج’رامین کو جب اسد نظر نہی آیا تو بول پڑی۔
ہاں وہ چلا گیا ہے صبح صبح’اس کی نوکری جو لگ گئی ہے۔
مہینے بعد آئے گا اب۔
ہممم اچھا’یہ تو اچھی بات ہے۔
دونوں مسکراتے ہوئے سکول میں داخل ہو گئیں۔__________________
احتسام سوچوں میں گُم گاڑی چلا رہا تھا’تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک نظر صلہ پر ڈال لیتا۔
کہ شاید ہوش میں آ جائے وہ۔
مگر صلہ ویسے کی ویسے ہی پڑی تھی۔
آخر ایسا کیا ہوا جو صلہ کو ایسا قدم اٹھانا پڑا۔
وہ تھوڑی بولڈ ہے’بس یہی وجہ تھی۔
جو میں اُس سے دور بھاگتا تھا۔
مگر یہ لڑکی’اس کے اس بولڈ چہرے کے پیچھے ایک دکھ بھرا چہرہ چھپائے رکھتی ہے۔
یہ میں سوچ بھی نہی سکتا تھا۔
اور میرے لیے کیوں باس سے بات کی اس نے۔
آخر کیوں؟
احتسام نے ایک نظر صلہ پر ڈالی’تم مجھے پاگل کر دو گی عنقریب۔
گاڑی صلہ کے گھر کے باہر جا روکی’اس دن جب صلہ اس کا پیچھا کر رہی تھی۔
تو احتسام نے بھی اس کا پیچھا کیا تھا’صلہ کے گھر پہچان ہو چکی تھی اسے۔
اس نے ایسا کیوں کیا تھا’وہ خود بھی نہی جانتا تھا۔
گاڑی سے باہر نکل کر بیل پر ہاتھ رکھا’پہلی بیل پر ہی گیٹ کھل چکا تھا۔
وہ ایک کم عمر لڑکی تھی’جس نے دروازہ کھولا تھا۔
مگر احتسام کو سامنے دیکھ کر وہ ٹھٹکی۔
آپ کون ہیں’اور صلہ باجی کہاں ہے؟
وہ گھبراتے ہوئے بولی۔
وہ وہاں گاڑی میں ہے’احتسام نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔
کیوں وہ گاڑی میں کیوں ہیں’کیا ہوا ہے ان کو۔پہلے تو کبھی ایسا نہی ہوا۔
وہ ہمیشہ خود گاڑی چلا کر آتی ہیں’اور آپ نے بیل کیوں دی۔
اگر کوئی جاگ گیا تو’
احتسام کو حیرانگی ہوئی اس کم عمر لڑکی کی باتوں پر۔
وہ صلہ کی ہم راز تھی شاید’اسے یقین تھا کہ اس وقت صلہ ہی آتی ہے گھر۔
اسی لیے دروازہ کھول دیا اس نے پہلی ہی بیل پر۔
تم تھوڑی دیر کے لیے چپ نہی رہ سکتی’ساری باتیں ادھر ہی پوچھ لو گی۔
احتسام نے اسے ٹوکا’گیٹ کھولو جلدی’میں گاڑی اندر لاوں۔
احتسام تھوڑا غصے میں بولا’تو وہ جلدی سے گیٹ کی طرف بڑھی۔
احتسام گاڑی کی طرف بڑھا’گاڑی گھر کے اندر لے آیا وہ۔
اس لڑکی نے جلدی سے گیٹ بند کر دیا۔
احتسام نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور صلہ کے بے حوش وجود کو اپنی مظبوط بانہوں میں اٹھا لیا۔
مجھے صلہ کے کمرے میں لے چلو جلدی’احتسام رازدانہ آواز میں بولا۔
اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی دیکھ نا لے اسے۔
اسے اپنی فکر نہی تھی’فکر تھی تو صلہ کی۔
وہ نہی چاہتا تھا کہ کوئی اس کی وجہ سے صلہ کے کردار پر انگلی اٹھائے۔
احتسام اندر کی طرف بڑھا’مگر اندر داخل ہوتے ہی اس میں آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہی رہی۔
احتسام گھبرایا تھا’مگر اس نے ہمت نہی ہاری’وہ صلہ کے کمرے کی طرف بڑھا۔
یہ صلہ آپی کے بابا ہیں’پتہ نہی اب کیا ہو گا۔
وہ لڑکی بہت گھبرا چکی تھی۔
کچھ نہی ہو گا’جو ہو گا میں سنبھال لوں گا۔
تم اس کے پاس ہی رہو گی’جب تک اسے ہوش نہ آ جائے۔
احتسام اسے وارن کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
وہ کمرے سے باہر نکلا تو صلہ کے بابا سنجیدہ نظروں سے احتسام کو گھورتے ہوئے اس کی طرف بڑھے۔
رات کے اس پل،صلہ کا یہ حلیہ’وہ تمہارے ساتھ کیسے آئی۔
یا پھر یہ کہوں’کہ تم اس کے ساتھ کیوں ہو؟
ان کے چہرے پر درد واضح تھا۔
احتسام جو باہر کی طرف قدم بڑھا چکا تھا’واپس پلٹا۔
کیوں آپ کو نہی پتہ’آپ کی بیٹی روز رات کوٹھے پر ناچتی ہے۔
احتسام کا لہجہ طنزیہ تھا۔
وہ وہاں کیوں تھی میں نہی جانتا’باقی آپ اسی سے کیوں نہی پوچھ لیتے صبح۔
احتسام بس اتنا کہہ کر وہاں سے چل پڑا تھا۔
وہ مزید یہاں رکنا نہی چاہتا تھا۔
گھر پہنچا تو سب سو چکے تھے’وہ تیزی سے اپنے کمرے میں پہنچا۔
بیڈ پر گر سا گیا’سر میں درد کی ایک لہر سی اٹھی تھی۔
اچانک اس کا سر چکرانے لگا’وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
جب اس کی نظر شیشے پر پڑی’تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
اس کے ناک سے خون بہہ رہا تھا’اس نے ہاتھ بڑھا کر خون کو چھوا۔
اپنی شرٹ اتار کر پھینکی’اور جلدی سے شاور چلایا۔
اور اپنا سر پانی کے نیچے کر دیا۔
سر بہت بھاری ہو رہا تھا’وہ سمجھ نہی پا رہا تھا۔
آخر ہو کیا رہا ہے اس کے ساتھ۔
کچھ دیر تک وہ یونہی بھیگتا رہا’جب خون رک گیا تو تولیے سے چہرہ صاف کرتے ہوئے باہر نکل آیا۔
الماری سے کپڑے نکال کر چینج کرنے چلا گیا۔
اب طبیعت پہلے سے کچھ بہتر لگ رہی تھی اسے۔
وہ سونے کی کوشش کر رہا تھا’مگر نیند نہی آ رہی تھی۔
اس نے دراز کھول کر نیند کی گولی نکالی’مگر نہی کھائی۔
نا جانے کیوں!
مگر آج کی رات وہ اسی ازیت میں گزارنا چاہتا تھا۔
وہ خود کو درد دینا چاہتا تھا’کیونکہ اس نے صلہ کو بہت غلط سمجھ لیا تھا۔
مگر وہ ویسی نہی تھی جیسا وہ سمجھ رہا تھا’وہ تو دکھوں کو چھپا کر جی رہی تھی۔
احتسام کو بہت افسوس ہو رہا تھا اپنی سوچ پر۔
_________________
رامین گھر میں داخل ہوئی تو کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔
جو اندر کمرے میں بیٹھے تھے’رامین کمرے میں جانے ہی لگی تھی’اماں نے اسے روک دیا۔
رامین اپنے کمرے میں جاو تم’میں اوپر ہی آ رہی ہوں۔
رامین جلدی سے اوپر چلی گئی’اس نے سوچا شاید ابا کے کوئی دوست آئے ہو گے ملنے۔
رامین ابھی کمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی کہ اماں اوپر آ گئیں۔
رامین چادر اوڑھ لو اچھی طرح’رامین نے ابھی چادر اتار کر رکھی تھی بیڈ پر۔
اماں نے چادر اس کی طرف بڑھائی’رامین نے جلدی سے چادر اوڑھ لی۔
اور سوالیہ نظروں سے اماں کی طرف دیکھنے لگی۔
اماں کمرے سے باہر چلی گئی۔
اور تھوڑی دیر بعد واپس پلٹیں’مگر وہ اکیلی نہی تھیں۔
ان کے ساتھ رامین کے ابا بھی تھے’اور دو آدمی بھی تھے۔
ایک آدمی نے آگے بڑھ کر رامین کے سر پر ہاتھ رکھا’ماشااللہ بہت پیاری بیٹی ہے ہماری۔
اللہ پاک دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔
نکاح شروع کروائیں مولوی صاحب!
وہ بولے تو رامین کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ہو۔
تو کیا پرنس نے اتنی جلدی بھیج دیا اپنے گھر والوں کو’اور اتنی جلدی نکاح۔
رامین نے ابا کی طرف دیکھا’انہوں نے مسکراتے ہوئے رامین کے سر پر ہاتھ رکھا۔
نکاح شروع ہوا’رامین نے نکاح نامے پر سائن کیے۔
سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔
رامین نے اماں کو آنسو پونچھتے ہوئے دیکھا۔وہ نا ہی رو رہی تھی’اور نہ ہی ہنس رہی تھی۔
وہ تو بس حیران سی بیٹھی ہوئی تھی۔
آہستہ آہستہ سب کمرے سے باہر نکلتے گئے۔
وہ کمرے میں اکیلی رہ گئی تھی۔
تبھی کمرے کا دروازہ ناک ہوا’رامین پلٹی۔
مگر اپنے سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر رامین ساکت رہ گئی۔
