Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 09)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 09)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں نے گفٹ نہی کھولا۔۔؟؟؟؟
رامین کو حیرت ہوئی۔
مجھے پتہ ہے بس۔آپ اس گفٹ کو کب کھول رہی ہیں پھر۔۔۔؟؟؟
وہ رامین کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔
کبھی نہی۔۔۔۔بھاڑ میں جائیں آپ۔
اور بھاڑ میں جائے آپ کا گفٹ۔
مجھے کسی گفٹ کی ضرورت نہی ہے۔
کل یاد سے واپس لا دوں گی۔
اب مجھے جانے دیں۔
مجھے اور بھی کام ہیں۔
آپ نے تو بس آفس میں بیٹھنا ہوتا ہے سارا دن۔
وہ بھی سن گلاسز لگا کر۔
لیکن مجھے بہت کام ہیں۔
کبھی ان گلاسز کو اتار کر باہر کی دنیا پر غور کریں۔ تو پتہ چلے آپ کو کیا کیا ہو رہا ہے اس دنیا میں۔
غریب غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
اور امیر پہلے سے زیادہ امیر ہوتا جا رہا ہے۔
صرف اور صرف آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے۔
رامین اس کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولی۔
غریب کی تنخواہ۔۔وہی دس سے بارہ ہزار۔
اور مینیجر کی تنخواہ۔۔۔پچاس ہزار۔
یہ کہاں کا اصول ہے۔
غریب اگر نہی پڑھ سکا۔تو وجہ یقینً غربت رہی ہو گی۔
اس میں اس غریب کا کیا قصور۔۔؟؟
کبھی دیکھا ہے کسی غریب کی آنکھوں میں جھانک کر۔
کتنا درد چھپا ہوتا ہے غریب کی آنکھوں میں۔
چہرے پر جھریاں نہی۔۔غم نمایاں ہوتے ہیں۔
کبھی وقت ملے تو ملنا آپ کسی غریب سے۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا۔
یہ آنکھوں پر جو کالی عینک لگائی ہے نا یہ اتار کر۔
اور آئیندہ کسی لڑکی کو گفٹ دینے سے پہلے ہزار بار سوچئیے گا۔
کیونکہ پانچوں انگلیاں برابر نہی ہوتیں۔
خدا حافظ۔۔۔
رامین خدا حافظ کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔
جتنی تیزی سے رامین دروازے کی طرف بڑھی۔
اس سے کئی گنا تیزی سے وہ رامین کا راستہ کاٹتے ہوئے دروازے تک پہنچا۔
اور دروازہ لاک کر دیا۔
رامین پلٹی۔تو وہ رامین کے بلکل پیچھے کھڑا تھا۔
رامین نے رخ اس کی طرف موڑا تو دروازے سے جا لگی۔
اس نے ایک ہاتھ رامین کے ایک طرف دروازے پر رکھ کر اس کے جانے کا راستہ روکا۔
اور دوسرا ہاتھ اپنے گلاسز کی طرف بڑھایا۔
پھر روک گیا۔
یہ گلاسز تو میں اتار دوں گا۔
مگر میری ایک شرط ہے۔
میں جتنی دیر آپ سے بات کروں گا۔
آپ کی نظر میری آنکھوں سے ہٹنی نہی چاہیے۔
سہی کہا آپ نے۔۔۔اس میں غریب کا کیا قصور۔
ابھی کچھ دن ہی ہوئے ہیں۔مجھے بزنس جوائن کیے ہوئے۔
آپ کی باتوں پر غور و فکر کروں گا میں۔
ویل ابھی جو بات چل رہی ہے۔
کیوں نہ ہم اس کی بات کریں۔
یہ لیکچر پھر کسی دن سن لوں میں۔
خیر اب تو آنا جانا لگا رہے گا ہمارا۔
رامین کے ہاتھ پیر سن ہو گئے۔
اس شخص کی اتنی زیادہ قربت پر۔
یہ کیا بدتمیزی ہے۔
پیچھے ہٹیں آپ۔
میرا راستہ چھوڑیں۔
مجھے جانے دیں۔مسٹر۔۔۔جججو بھی نام ہے آپکا۔
رامین کا چہرہ پسسینے سسے تر ہو چکا تھا۔
رامین کی بات پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ایک تو اس کی اتنی قربت۔۔۔اوپر سے یہ مسسکراہٹ۔رامین نظریں جھکا گئی۔
مممجھے جانے دیں۔
میری اماں انتظار کر رہی ہیں میرا۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر رامین کے ماتھے سے پسینہ صاف کیا۔
رامین نے ایک دم جلدی سے اس کا ہاتھ واپس جھٹکا۔
ہاتھ مت لگائیں مجھے۔پلیز
مجھے جانے دیں۔
رامین رونے کو تھی۔
مگر وہ اس شخص کے سامنے کمزور نہی پڑنا چاہتی تھی۔
بس اتنی ہی بہادر ہیں آپ۔
میری اتنی سی قربت سے ہار گئی آپ۔
ابھی تو میں نے یہ گلاسز بھی اتارنے ہیں۔
میری آنکھوں میں دیکھنا ہے آپ کو۔
ممجھےٙ کچھ نہی دیکھنا۔
مجھے جانے دیں آپ۔۔رامین پھر سے بولی۔
آخر آپ چاہتے کیا ہیں مجھ سے۔
کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں آپ۔
میرے گھر تک پہنچ گئے آپ۔
اور گفٹ۔۔۔
گفٹ۔۔۔یئس۔۔۔اب آئی نہ آپ مدعے کی بات پر۔میں بس اتنا چاہتا ہوں۔
آپ وہ گفٹ کھول لیں۔بس
اور کچھ نہی چاہیے مجھے۔
رامین نے ابھی تک نظریں جھکا رکھی تھیں۔
ٹھیک ہے۔۔۔میں وہ گفٹ کھول لوں گی۔اب تو آپ مجھے جانے دیں۔
رامین جھکی نظروں سے ہی بولی۔
ہمممم گڈ۔۔۔یہ لیں آرام سے گھر جائیں۔اس نے ہاتھ بڑھا کر لاک کھول دیا۔
اور پیچھے ہٹ گیا۔
اس کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
رامین نے دروازہ کھولا اور ایک نظر اس کے مسکراتے چہرے پر ڈالتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئی۔
پھر واپس مڑی۔سنیں۔۔۔
وہ جو واپس اپنی کرسی پر جا رہا تھا۔
رامین کی آواز پر پلٹا۔۔جی فرمائیے۔۔۔نہایت ادب سے بولا۔
آپ بہت بدتمیز انسان ہیں۔بس یہی کہنا تھا مجھے۔
اس سے پہلے کہ وہ رامین کی طرف بڑھتا۔
رامین دروازہ بند کر کے جا چکی تھی۔
جانتا ہوں۔۔۔وہ خود سے ہی بولا۔
گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھے۔
اور مسکرا دیا۔
اب وہ واپس اپنی کرسی سنبھال چکا تھا۔
اور لیپ ٹاپ پر سی سی ٹی وی کی مدد سے رامین کو جاتے دیکھ رہا تھا۔
رامین گیٹ پر پہنچی تو رحیم چچا گیٹ پر نہی تھے۔
رامین جلدی سے گیٹ کھول کر باہر نکل گئی۔
یہ نئی مصیبت گلے پڑ گئی ہے میرے۔
رامین تیز تیز قدم اٹھاتے بڑبڑاتی جا رہی تھی۔
پتہ نہی وہ کونسی منحوس گھڑی تھی۔
جب میں اس سے ٹکرائی تھی۔
اوہو۔۔۔کتنی لیٹ ہو گئی ہوں میں۔
اماں بہت پریشان ہو رہی ہو گی۔
رامین اپنے ہاتھ پر باندھی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے بولی۔
پھر اچانک سے اسے کچھ یاد آیا۔
اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
شریف چور۔۔۔یا پھر پرنس۔۔۔تمہارا شکریہ میری گھڑی واپس لا کر دینے کے لیے۔
ابھی رامین مسکرا ہی رہی تھی کہ اس کی مسکراہٹ سمٹی۔
وہ دونوں لڑکے سامنے سے آ رہے تھے۔
رامین کو دیکھ کر دونوں نظریں چرا گئے۔
رامین ان کے پاس جا رکی۔
کہاں تھے تم دونوں۔۔۔؟؟
کتنے دنوں سے ڈھونڈ رہی تھی میں تم دونوں کو۔
رامین بہت تیزی میں بول رہی تھی۔
رامین کی بات پر دونوں نے حیرت سے پہلے رامین کی طرف اور پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
جیسے ان کو رامین سے اس جواب کی توقع ہی نہ ہو۔
جی آپی۔۔۔کوئی کام تھا۔آخر ایک لڑکا ہمت کر کے بولا۔
ہاں بہت ضروری کام تھا مجھے۔
پرنس کے بارے میں جاننا تھا مجھے۔
اس کا اصل نام کیا ہے۔
رامین جلدی جلدی بول رہی تھی۔
اسے ڈر تھا کہ وہ دونوں یہاں سے چلے نہ جائیں۔
پرنس بھائی کا اصل نام۔۔۔ایک لڑکا سوچتے ہوئے بولا۔
ان کا اصل نام تو ہم نہی جانتے۔
ان کو سب پرنس ہی کہتے ہیں۔
کبھی پوچھا ہی نہی ہم نے ان سے۔
کبھی ضرورت ہی نہی پڑی۔
وہ دونوں باری باری بول رہے تھے۔
تم دونوں ملے ہو کبھی پرنس سے۔۔وہ کیسا دکھتا ہے۔
میرا مطلب اس کا چہرہ کیسا دکھتا ہے۔
رامین یہ بھی نہی سوچ رہی تھی کہ وہ کیا بول رہی ہے۔
ان دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
جیسے وہ سمجھ نہی سکے۔کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہی ہے۔
ان کا چہرہ ویسا ہی ہے جیسے عام انسانوں کا ہوتا ہے۔
وہ بھی انسان ہی ہیں۔وہ دونوں لڑکے مسکرا رہے تھے۔
رامین کو شرمندگی محسوس ہوئی اپنے سوال پر۔
کیا وہ چور ہے۔۔؟؟
رامین نے ایک اور سوال کر ڈالا۔
وہ دونوں حیرت سے رامین کی طرف دیکھنے لگے۔
اور پھر سر نفی میں ہلا دیا۔
آپ سے کس نے کہہ دیا کہ وہ چور ہیں۔
وہ تو بہت اچھے انسان ہیں۔
ہمیشہ سب کی مدد کرتے ہیں۔
آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔
رامین کو حیرانگی ہوئی۔
تو پھر اس نے مجھے کیوں کہا تھا کہ وہ چور ہے۔
خیر وہ رہتا کہاں ہے۔۔۔؟؟
اس کے گھر کا ایڈریس کیا ہے۔۔؟
ان کے گھر کا ایڈریس تو نہی پتہ ہمیں۔وہ ہمیں ہمیشہ یہیں پر اسی محلے میں ملتے ہیں۔
اس کی کوئی تصویر ہے تم دونوں کے پاس۔۔۔رامین نے آخری بار کوشش کی کہ شاید کچھ پتہ چل جائے اسے پرنس کے بارے میں۔
ہاں ہے میرے فون میں۔۔دونوں میں سے ایک نے اپنا فون نکالا۔
تب ہی دوسرے کی نظر رامین کے پیچھے دیوار پر پڑی۔
اس نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے فون کھینچ لیا۔
ابھی ہمیں جانا ہے۔
بہت جلدی میں ہیں ہم۔
تصویر پھر کبھی دکھا دیں گے آپ کو۔
وہ دونوں تیزی سے وہاں سے نکل گئے۔
اور رامین ان دونوں کی اس حرکت کو بس دیکھتی رہ گئی۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا پر کوئی نہی تھا وہاں۔
اس دن بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
یہ دونوں پیچھے کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئے تھے تیزی سے۔
رامین بھی سر جھٹکتے ہوئے وہاں سے چل پڑی۔
گھر پہنچی تو اماں سو رہی تھیں۔
رامین نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
اور اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
________________________
احتسام آج آفس پہنچا تو ایک برقعہ دار عورت آفس میں داخل ہوئی۔
اور سیکرٹری سے بہت دھیمی آواز میں اندر باس کے کمرے میں جانے کے لیے بولنے لگی۔
مگر وہ اسے اندر نہی جانے دے رہی تھی۔
سر ابھی بزی ہیں آپ کچھ دیر بعد آ جائیے گا۔
یا پھر آپ ویٹ کر لیں۔تھوڑی دیر۔
میں نے سر کو کال کی ہے۔
وہ کہہ رہے ہیں کچھ دیر تک ملیں گے۔
وہ مسلسل بول رہی تھی۔
مگر وہ سن ہی نہی رہی تھی۔
وہ اس کی ایک بھی سنے بغیر باس کے کمرے میں داخل ہو گئی۔
پی اے بھی اس کے ساتھ اندر داخل ہو گیا۔
سر میں نے بہت روکنے کی کوشش کی۔
مگر یہ رکی ہی نہیں۔
وہ صفائی پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ٹھیک ہے آپ جائیں۔باس نے پی اے کو جانے کا اشارہ کیا۔
تو وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔
جی میم آئیے بیٹھیں۔
کیا مدد کر سکتا ہوں میں آپ کی۔
وہ نہایت ادب سے مخاطب ہوئے۔
وہ عورت کرسی پر بیٹھ گئی۔
اور چہرے سے نقاب ہٹایا۔
جیسے ہی اس نے نقاب ہٹایا۔باس کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
ارے محترمہ آپ۔۔۔؟؟
اس وقت یہاں۔۔؟؟
میرے غریب خانے میں۔۔۔؟؟
مگر اس طرح چھپ کر آنے کی کیا ضرورت پڑ گئی آپ کو۔۔۔؟؟؟
وہ سوال پر سوال کرتا گیا۔
کیا آپ کے آفس میں مہمانوں کا اس طرح ہی استقبال کیا جاتا ہے ہمیشہ۔
وہ ٹشو سے چہرے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولی۔
اس کی بات پر باس مسکرا دیا۔
ارے نہی نہی میڈم وہ دراصل میری طبیعت تھوڑی خراب تھی۔
تو اسی لیے میں سیکرٹری سے کہا تھا۔
کہ کچھ دیر تک کسی کو اندر نہ آنے دے۔
خیر چھوڑیں جو ہوا اس کے لیے معزرت۔
آپ یہ بتائیں کیسے یاد کیا مجھ غریب کو۔
دراصل مجھے ایک چھوٹا سا کام پڑ گیا ہے آپ سے۔
پہلے سوچا کسی کو بھیج دوں۔
پھر ارادہ ترک کر دیا۔
اور سوچا خود چلی جاتی ہوں۔
ارے یہ تو بہت اچھا کیا آپ نے خود چلی آئی ہمارے غریب خانے پر۔
بتائیے کیا مدد کر سکتا ہوں میں آپ کی۔
جی میری مدد آپ کو کرنی ہی پڑے گی۔
اس نے ایک پیپر باس کی طرف بڑھایا۔
یہ اچھی طرح پڑھ لیں۔
اور مجھے بتا دیں۔
میرا کام ہو سکتا ہے یا نہی۔
باس نے وہ پیپر تھام لیا۔
اور پڑھ کر مسکرا دیا۔
آپ کا کام ہو جائے گا۔
لیکن میری بھی ایک شرط ہے۔وہ ٹیبل پر آگے کی طرف جھکتے ہوئے بولا۔
وہ ہنس دی۔
مجھے آپ کی شرط منظور ہے۔
میرا کام ہونا چاہیے بس۔
اس کے بعد اس نے ایک چیک سائین کر کے باس کی طرف بڑھایا۔
اور نقاب درست کرنے لگی۔
ارے اتنی جلدی چل پڑیں۔
کچھ خدمت کا موقع تو دیتیں آپ مجھے۔
باس مسکراتے ہوئے بولا۔
نہہی نہی خدمت پھر کسی دن۔۔ابھی مجھے جانا ہے۔
خدا حافظ۔۔۔
وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔
اور باس کے چہرے پر نخوست بھری مسکراہٹ ابھری۔
وہ ایک پل کو رکی احتسام کے کیبن کے پاس۔۔پھر تیزی سے باہر نکل گئی۔
احتسام نے اس کی طرف دیکھا ہی نہی۔
وہ تو اپنے کام میں مگن تھا۔
اگر ایک پل کے لیے اس کی طرف دیکھ لیتا۔
تو سیکنڈز میں پہچان لیتا اسے۔
چھٹی سے کچھ دیر پہلے باس نے احتسام کو اپنے کمرے میں بلایا۔
احتسام کمرے میں آیا۔
جی سر۔۔۔آپ نے بلایا مجھے۔۔؟
ارے ہاں احتسام آو بیٹھو یار۔
احتسام کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔
وہ حیران رہ گیا باس کے اتنے دوستانہ روئیے پر۔
وہ مجھے یاد آیا آج۔کہ تم نے قرضے کے لیے بات کی تھی کچھ دن پہلے۔
اس دن میں پریشانی میں تھا۔
تمہیں اگنور کر دیا۔
اب بتاو کتنا قرضہ چاہئیے تمہیں۔۔؟
جی۔۔۔احتسام کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
کل تک تو باس اس کی بات سننے سے بھی انکار کر رہے تھے۔
اور آج پوچھ رہے ہیں۔
کہ کتنا قرضہ چاہیے۔۔
جی سر۔۔پانچ لاکھ چاہیے مجھے۔احتسام اہنی حیرت چھپاتے ہوئے بولا۔
بس پانچ لاکھ۔۔؟؟؟
اور چاہیے تو بتا دو۔
کوئی مسلہ نہی۔
اور تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہی۔
کسی گارنٹی کی ضرورت نہی تمہیں۔
اور نا ہی کچھ گروی رکھوانے کی ضرورت پڑے گی۔
منتھلی تمہاری ساٹھ ہزار سیلری میں سے دس ہزار لیس ہوتا جائے گا۔
احتسام حیرتوں کے سمندر میں ڈوبتا جا رہا تھا۔
تھینک یو سر۔۔بس اتنا ہی بول سکا وہ۔
تھینک یو والی کوئی بات نہی تم نے میری کمپنی کو ٹاپ تک پہنچانے میں بہت مخنت کی ہے۔
احتسام اتنا تو حق بنتا ہے تمہارا۔
یہ لو یہ پیپرز سائن کر دو اچھی طرح پڑھ کر۔
پیسے کل تمہارے اکاونٹ میں پہنچ جائیں گے۔
جا کر بہن کی شادی کی تیاریاں کرو۔
باس مسکراتے ہوئے بولا۔
احتسام نے پیپرز اچھی طرح پڑھ کر سائن کر دئیے بے دلی سے۔
اور وہاں سے چل پڑا۔
پتہ نہی کیوں۔۔وہ خوش نہی ہوا۔
باس کی اچانک سے اتنی مہربانیاں کچھ سمجھ نہی آ رہی مجھے۔
ضرور کوئی کام ہو گا باس کو مجھ سے۔۔۔ورنہ اتنا اچھا رویہ تو کبھی نہی تھا ان کا میرے ساتھ۔۔
خیر جو بھی ہو۔۔۔ہانیہ کی شادی کے لیے پیسوں کا انتظام تو ہو گیا۔
گھر چلتا ہوں۔امی کو بتاتا ہوں۔
بہت خوش ہو گی وہ۔
اپنا فون اور بائیک کی چابی اٹھاتے ہوئے باہر نکل گیا آفس سے۔
________________________
رامین نیچے آئی تو اماں اٹھ چکی تھیں۔
اور بچے بھی آ چکے تھے۔
رامین بچوں کو پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔
اماں نے اس سے کوئی سوال نہی کیا۔
شاید وہ سو رہی تھیں۔
ان کو پتہ ہی نہی چلا میرے دیر سے گھر آنے کا۔
رامین رات کو کھانا کھانے کے بعد اوپر چلی گئی اپنے کمرے میں۔
نماز پڑھنے کے بعد سونےکے لیے لیٹ گئی۔
اچانک اسے یاد آیا۔
گفٹ۔۔وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
اوہ۔۔۔مجھے تو وہ گفٹ کھولنا تھا۔
بے دلی سے اٹھ کر الماری کی طرف بڑھ گئی۔
الماری کھول کر گفٹ اٹھایا۔
اور بیڈ پر آ بیٹھی۔
گفٹ کو کھولنے لگی۔
جیسے ہی اس نے گفٹ کھولا۔
اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
وہ جو سمجھ رہی تھی۔
ویسا کچھ بھی نہی تھا۔
سب کچھ الٹ تھا یہاں۔
رامین وہ سب کچھ سائیڈ پر رکھتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گئی۔
رات کو اسے کمرے میں کسی کے آنے کا احساس ہوا۔
وہ سوئی نہی رات بھر جاگتی رہی۔
وہ سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔
ٹانگ پر ٹانگ جمائے۔۔سر پر کیپ۔۔اور چہرہ رومال سے چھپایا ہوا۔
رامین اٹھ کر بیٹھ گئی۔
میں جانتی تھی آج آپ آو گے۔
رامین بیٹھتے ہوئے بولی۔۔
