Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 11,12)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 11,12)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
“رامین کی صبح آنکھ کھلی تو وہ لیٹ ہو چکی تھی۔”
“جلدی سے تیار ہو کر نیچے کی طرف بھاگی۔
“آج رامین کا موڈ بہت خوشگوار تھا”
“کیوں’وہ نہی جانتی تھی۔
“آج اتنی لیٹ کیوں اٹھی ہو’رامین تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ؟
“اماں پریشان ہو چکی تھیں’رامین کو اس ٹائم نیچے آتا دیکھ کر۔
جی اماں!
“میری طبیعت بلکل ٹھیک ہے۔
“رات کو نیند نہی آ رہی تھی۔
“بہت دیر تک جاگتی رہی”
“اسی لیے صبح دیر تک سوئی رہی ہوں”
“آپ پریشان نہ ہو”
ابا چلے گئے فیکٹری؟
“رامین چادر اوڑھتے ہوئے بولی۔
“ہاں وہ چلے گئے”
“جانتی تو ہو،جلدی پہنچنا ہوتا ہے ان کو۔
“یہ لو ناشتہ کر لو جلدی سے”
“اماں نے ناشتہ رامین کی طرف بڑھایا”
“نہی نہی اماں۔
“ناشتہ کرنے کا ٹائم نہی ہے میرے پاس،ثوبیہ بس آنے والی ہے۔
“گھر آ کر کھا لوں گی۔
“ابھی اگر ناشتہ کرنے بیٹھ گئی’تو ثوبیہ بھی لیٹ ہو جائے گی۔
“میری وجہ سے”
“ابھی وہ دونوں بات کر ہی رہی تھیں کہ’
“دروازے پر دستک ہوئی”
“رامین اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئی”
“جانتی تھی ثوبیہ ہی ہو گی”
“مگر جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا’اسے حیرت کا جھٹکا لگا”
“ثوبیہ اکیلی نہی تھی آج”
“اسد بھی اس کے ساتھ تھا”
“رامین کے چہرے کے بدلتے رنگ ثوبیہ اور اسد دونوں نے نوٹ کیے”
کیا ہوا رامین؟
جانا نہی کیا؟
“ثوبیہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
“لگتا ہے تم ڈر گئی ہو”
“اس بھوت کو میرے ساتھ دیکھ کر’ثوبیہ اسد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
“اسد نے ثوبیہ کو گھورا”
“نہی ایسی کوئی بات نہی ہے’رامین خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔
“دراصل تم نے کہا تھا کہ اسد ایک مہینے بعد آئے گا واپس’تو اسے اتنی جلدی واپس دیکھ کر میں حیران ہو گئی”
“رامین خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی”
“اگر تم کہو تو واپس چلا جاوں؟
“اسد رامین کی بات پر مسکراتے ہوئے بولا”
“نہی میں نے ایسا تو نہی کہا’رامین تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
“وہ تینوں اب سکول کی طرف جا رہے تھے۔
“یہ تو ہے ہی کام چور”
“ابا سے کہتا ہے کہ میرا دل نہی لگ رہا”
“میں دو دن کے لیے واپس جانا چاہتا ہوں”
“پھر ابا بیچارے کیا کہتے’بھیج دیا اسے واپس۔
“کل شام کو یہ آیا ہے گھر”
“ثوبیہ چلتے ہوئے رامین کو اسد کے واپس آنے کی وجہ بتا رہی تھی”
“مگر رامین سُن ہی کہاں رہی تھی۔
“اس کا دماغ تو کہیں اور الجھا ہوا تھا۔
“پرنس!
“اس نے کہا تھا کہ وہ ایک مہینے کے لیے جا رہا ہے’مگر کل وہ واپس آ گیا۔
اور!
“اسد بھی کل شام واپس آ گیا۔
“کیا کروں اب میں’کچھ سمجھ نہی آ رہا مجھے”
“اگر اسد ہی پرنس ہے’تو کیوں کر رہا ہے یہ سب؟
“کیا مجھے اسد سے بات کرنی چاہیے؟
“رامین خود سے ہی سوال کر رہی تھی”
“یونہی سوچوں میں گُم وہ سکول پہنچی”
“اسد جا چکا تھا”
“رامین کو پتہ ہی نہی چلا’کب وہ سکول پہنچ گئی”
“اس کا خوشگوار موڈ آف ہو چکا تھا”
“وہ نہی سمجھ پا رہی تھی’کہ آخر پرنس ہے کون؟
“یہ پہیلی سلجھ ہی نہی رہی تھی”
“دن بدن مزید الجھتی جا رہی تھی”
“آخر ایسا کیا تھا’جو رامین کے سامنے ہوتے ہوئے بھی وہ سمجھ نہی پا رہی تھی۔
“آج میں یہ پہیلی سلجھا دوں گی’رامین نے خود سے ہی عہد کیا”
“اسد کی آنکھیں”
“اسد کی آنکھوں پر کبھی غور نہی کیا میں نے”
“پرنس کی آنکھیں تو دیکھی ہیں میں نے”
آج مجھے کچھ ایسا کرنا ہو گا’جس سے میں اسد کی آنکھوں میں دیکھ سکوں”
“آج پتہ چل جائے گا’کہ واقعی اسد ہی پرنس ہے’یا پھر بس میرا وہم ہے۔
“ہاں مجھے یہ کرنا ہی پڑے گا”
“کوئی اور راستہ نظر نہی آ رہا مجھے”
“رامین سوچوں میں گُم کلاس میں داخل ہو گئی۔
“ایک تو آج صبح ناشتہ نہی کر کہ آئی’اوپر سے ٹینشن۔
“رامین کا سر درد سے پھٹی جا رہا تھا۔
“سارا دن پریشانی میں ہی گزرا۔
“چھٹی ہوئی تو رامین ثوبیہ کے ساتھ باہر کی طرف بڑھی۔
“اسد پہلے سے ہی دونوں کے انتظار میں باہر کھڑا تھا۔
“مگر وہ موبائل میں مصروف سا تھا’دونوں کو باہر آتے دیکھ وہ چل پڑا۔
“رامین کو کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا’کہ اسد کو کیسے مخاطب کرے۔
“وہ بس چلتی آ رہی تھی’اسد نے ایک بار بھی مڑ کر نہی دیکھا۔
“رامین سے کوئی بات نہی ہو سکی۔
“اسد تیز تیز چلتا جا رہا تھا’اور اس کا دھیان بس موبائل میں ہی تھا۔
“رامین کو جی بھر کر غصہ آیا اسد پر’پہلے تو وہ ایسے نہی کرتا تھا۔
“آخر کار رامین گھر کے دروازے پر پہنچ گئی’مگر اسد کا دھیان ابھی بھی موبائل پر ہی تھا۔
“رامین سر جھٹکتے ہوئے’خدا حافظ کہہ کر گھر میں داخل ہو گئی۔
“رامین سلام کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی۔
“امی اس کے لیے کھانا پہلے ہی تیار رکھے بیٹھی تھیں۔
“امی میں کھانا آ کر کھا لوں گی’پہلے ابا کو کھانا دے آوں۔
“رامین جلدی سے گھر سے باہر نکل گئی’اور اماں آوازیں دیتی رہ گئیں۔
“رامین تیز تیز چلتی فیکٹری پہنچی’جلدی سے اندر داخل ہوئی۔
“راحیم چچا کو سلام کر کے کھانا تھماتے ہوئے واپس باہر آ گئی۔
“رامین کو ڈر تھا کہ کہی پھر سے اس چشمے والے سے ملاقات نہ ہو جائے۔
“وہ تیز تیز چلتی جا رہی تھی’کہ اچانک اس کے سامنے ایک گاڑی آ رکی۔
____________________
“آج صبح سے گھر میں رونق سی لگی ہوئی تھی۔
“رانیہ،ہانیہ اور احتسام کی امی صبح سے گھر کو صاف کرنے اور کھانے بنانے میں لگی ہوئیں تھیں۔
“اگلے ہی دن احتسام کے اکاونٹ میں رقم بھیج دی تھی باس نے۔
“آج سنڈے تھا”
“احتسام کے چاچو اور پھوپھو کی فیملی آنے والی تھیں آج۔
“شادی کی ڈیٹ جو فکس ہونی تھی آج ہانیہ کی”
“چاچو کے دو ہی بیٹے ہیں’بڑا شعیب وہ شادی شدہ ہے۔
“جبکہ چھوٹے بیٹے زوہیب کے ساتھ رانیہ کی منگنی ہو چکی ہے۔
“چاچو کی فیملی پہلے ہی آ گئی”
“سب نے خوشدلی سے ان کا استقبال کیا”
“چاچو کی بہو گڑیا آتے ہی کچن میں چلی گئی’اور ہانیہ کو کمرے میں جا کر تیار ہونے کو کہا۔
“رانیہ نے منہ پھلا لیا”
مجھے بھی جانا ہے تیار ہونے بھابی’آپ نے بس ہانیہ کو بھیج دیا۔مجھے کیوں نہی جانے کو کہا؟
“گڑیا مسکرا دی’تمہاری خیر ہے۔
“تمہاری بھی جب ڈیٹ فکس ہو گی تمہیں بھی بھیج دوں گی۔
“اب چپ چاپ کام کرو’بہانے نہی بناو۔
“جلدی سلاد بناو’پھوپھو لوگ آنے والے ہیں۔
“پتہ نہی وہ دن کب آئے گا’اپنے ایسے نصیب کہاں۔
“رانیہ ایک ہاتھ ماتھے پر رکھتے ہوئے بولی۔
“آج ہی بات کرتی ہوں۔احتسام سے اور چچی جان سے’تمہاری اور زوہیب کی شادی کے بارے میں۔
“بتاتی ہوں ان کو’کہ تم کہہ رہی ہو کہ ہانیہ کے ساتھ ہی میری بھی شادی کی بات شروع کر دی جائے۔
“گڑیا کی بات پر رانیہ کا چہرہ زرد پڑ گیا”
“نہی بھابی میں تو مزاق کر تھی’ابھی بناتی ہوں سلاد۔
“آپ کسی سے کچھ مت کہنا’رانیہ سچ میں ڈر گئی۔
“میں بھی مزاق ہی کر رہی ہوں’اب جلدی جلدی کام کرو ڈرامے باز”
“گڑیا مسکراتے ہوئے بولی’تو رانیہ کی جان میں جان آئی۔
“کیا بھابی آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا’رانیہ پیاز چھیلتے ہوئے بولی۔
“شکر ہے امی کچن میں نہی ہیں’ورنہ ابھی میری کلاس لگ جانی تھی۔
“رانیہ پیاز چھیل رہی تھی’اور آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔
“زوہیب کچن میں داخل ہوا۔
“اسلام و علیکم! رانیہ کو دیکھتے ہی سلام کیا۔
“جبکہ سلام رانیہ کو کرنا چاہیے تھا’وہ اچانک زوہیب کو سامنے دیکھ کر جھینپ گئی۔
“وعلیکم اسلام”
“بہ مشکل رانیہ کے گلے سے آواز نکلی۔
“رانیہ نے ایک نظر اپنے حلیے پر ڈالی’اس کی حالت کام والی ماسی کی طرح تھی اس وقت۔
“خیریت ہے زوہیب تم کچن میں’میرا مطلب کچھ چاہیے تھا۔
“گڑیا مسکراتے ہوئے بولی۔
“نہی بھابی مجھے کچھ نہی چاہیے’بھائی آپ کو یاد کر رہے ہیں۔
“اچھا میں آتی ہوں ان کی بات سن کر’وہ مسکراتے ہوئے کچن سے باہر نکل گئیں۔
“ہمم تو کیسی ہو تم؟
“جناب نے تو باہر تشریف لانا نہی تھا’تو میں نے سوچا خود جا کر آپ کی خدمت میں سلام پیش کر دوں۔
“زوہیب چلتا ہوا رانیہ کے پاس آ رکا۔
“رانیہ کے ہاتھ کانپنے لگے’زوہیب کے اس لہجے میں بات کرنے پر۔
“اچھا مجھے ماسی کے حلیے میں دیکھ کر میرا مزاق بنانے کو دل کر رہا ہو گا جناب کا۔
“رانیہ جلدی سے خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔
“ہر وقت فرفر باتیں کرنے والی رانیہ کے پاس الفاظ کم پڑ چکے تھے’بولنے کو۔
“وہ ہمیشہ ایسی نہی تھی’جب سے زوہیب سے اس کا رشتہ طے ہوا تھا۔
“تب سے زوہیب کے سامنے آنے پر ایسے بے ہیو کرتی تھی”
“مجھے تو تم ہر روپ میں اچھی لگتی ہو”
“اب وہ روپ چاہے ماسی والا ہی کیوں ہو’آخری بات پر زوہیب کی ہنسی چھوٹ گئی”
“رانیہ غصے سے اسے گھورنے لگی’اور چھری اٹھا کر زوہیب کی طرف بڑھی۔
“میں تمہارا خون پی جاوں گی’غصے سے زوہیب کی طرف چھری کا رخ کرتے ہوئے بولی۔
“ہاں وہ تو تم نے پینا ہی ہے شادی کے بعد’ابھی تو بخش دو مجھے۔
“زوہیب آہستہ آواز میں بڑبڑایا”
“کیا کہا تم نے’رانیہ نے اس کی بربراہٹ سن لی؟
“ککچھ نہی’ میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ تم اس حلیے میں بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔
“غصے میں اور بھی پیاری لگتی ہو’رانیہ کی ناک کھینچ کر مسکراتے ہوئے زوہیب کچن سے باہر نکل گیا۔
“رانیہ بس پیر پٹخ کر رہ گئی”
“جلدی سے آ جاو باہر’میں انتظار کر رہا ہوں۔
“زوہیب کچن کے دروازے میں ہی رک کر بولا۔
“رانیِہ چپ چاپ سلاد بنانے میں مصروف ہو گئی۔
“بھابی کچن میں داخل ہوئیں’رانیہ تم نے سلاد نہی بنائی ابھی تک؟
“اچھا چھوڑو تم’میں یہ دیکھ لوں گی۔
“تم جاو تیار ہو جاو’اور ہانیہ کو بھی دیکھو تیار ہوئی یا نہی۔
“نہی بھابی میں بنا دیتی ہوں’رانیہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
“زوہیب پر غصہ آیا اسے جی بھر کر’اس زوہیب کی وجہ سے میرا ٹائم ویسٹ ہو گیا۔
“ورنہ اب تک سلاد بنا لینی تھی میں نے۔
“نہی رانیہ تم جا کر تیار ہو جاو’میں مینیج کر لوں گی۔
“گڑیا کے بار بار کہنے پر رانیہ کو جانا ہی پڑا۔
“احتسام اپنا موبائل کمرے میں ہی بھول آیا تھا۔
“موبائل لینے کمرے میں آیا تو کسی انجان نمبر سے کال آ رہی تھی۔
“احتسام نے کال پِک کی’ موبائل کان سے لگایا۔
“وہ کتنی ہی دیر فون کان سے لگائے بیٹھا رہا’مگر دوسری طرف سے کوئی نہی بولا۔
“ایسا پچھلے دو دن سے ہو رہا تھا”
“کبھی دن کو’تو کبھی رات کو اسی نمبر سے کال آتی۔
“مگر بولتا کوئی بھی نہی تھا۔
“احتسام بول بول کر تھک جاتا’مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہی ملتا تھا۔
“آخر کار تنگ آ کر احتسام کال کاٹ دیتا۔
“آج بھی ایسا ہی ہوا’احتسام نے غصے سے کال کاٹ دی۔
“موبائل جیب میں رکھتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
“احتسام نیچے آیا’تو پھوپھو کی فیملی بھی آ چکی تھی۔سوائے دولہا کے۔
“احتسام بھی سلام کرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
رانیہ اور ہانیہ بھی تیار ہو کر آ گئیں تھیں۔
“خوشگوار ماحول میں سب نے ڈنر کیا۔
“کھانا کھانے کے بعد شادی کی ڈیٹ پر تبادلہ خیال کیا سب نے۔
“اگلے مہینے کی دس تاریخ کو جمعہ کا دن فائنل کیا گیا’نکاح کے لیے۔
“مہندی والے دن نکاح رکھا گیا”
“اور پھر ہفتے کو رخصتی’اور اتوار کو ولیمے کا فنکشن ڈیسائیڈ کر دیا گیا۔
“سب نے رانیہ کو اور ایک دوسرے کو مٹھائی کھلا کر’مبارک باد دی۔
“کچھ دیر بعد سب گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔
“زوہیب نے ہانیہ کو ہاتھ ہلایا’گاڑی میں بیٹھتے ہوئے۔
“بدلے میں رانیہ نے اس کو گھورا۔
“زوہیب نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ بند کر دیا۔
“پتہ نہی یہ لڑکی کب سدھرے گی”
“دل ہی دل میں سوچتے زوہیب نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“چاچو کی فیملی رخصت ہوئی’تو پھوپھو کی فیملی بھی رخصت ہو گئی۔
“سب لوگ چلے گئے’تو وہ سب بھی گیٹ بند کرتے ہوئے اندر کی طرف چل پڑے۔
“بھائی صرف دو ہفتے ہیں ہمارے پاس’اور کتنی زیادہ تیاریاں کرنی ہیں ہمیں۔
“رانیہ اندر آتے ہی بولنا شروع ہو گئی۔
“تم نے کیا کرنا ہے’بس کھاو،پیو اور آرام کرو”
“ہم سب مینیج کر لیں گے”
“امی مسکراتے ہوئے بولیں۔
“احتسام اور ہانیہ بھی مسکرا دئیے’امی کی بات پر۔
“رانیہ نے سب کو مسکراتے دیکھا تو منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔
“ٹھیک ہے مجھے پوچھنا ہی نہی چاہیے تھا’اب میں کسی کام میں مدد نہی کرواوں گی آپ لوگوں کی۔
“خود ہی سارے کام کرنا اب آپ لوگ’رانیہ منہ پھلاتے ہوئے کمرے میں چلی گئی۔
“احتسام اور ہانیہ کی ہنسی کی آواز گونجی گھر میں۔
“امی بھی مسکرا دیں’اب اس کے یہ نخرے تو چلتے ہی رہیں گے۔
“جی امی’یہ نخرے اس لیے دکھاتی ہے’کیونکہ ہم اس کے نخرے اٹھاتے ہیں’ہانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
“ہاں بھئی! چلو ہانیہ منانے چلیں میڈم کو’احتسام مسکراتے ہوئے رانیہ کے کمرے کی طرف بڑھا۔
“لگتا ہے یہ دو ہفتے رانیہ کو مناتے مناتے ہی گزریں گے۔
“احتسام مسکراتے ہوئے بولا’اور دونوں ہانیہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
“رانیہ کھڑکی کے پاس منہ پُھلائے کھڑی تھی’ہانیہ اسے بازو سے کھینچتے ہوئے بیڈ پر لے آئی۔
“چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہونا کب چھوڑو گی تم۔
“ہانیہ یہ ڈریس دیکھا تم نے’میچنگ جوتے اور جیولری بھی ہے اس کے ساتھ۔
“تم دیکھو کیسا لگا تمہے’تا کہ میں آرڈر کروں جلدی سے’احتسام موبائل ہانیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔
“جی بھائی’یہ سارے ڈریس بہت خوبصورت ہیں۔
“رانیہ تم بھی دیکھ لو’اپنے لیے۔
“ہانیہ نے فون رانیہ کی طرف بڑھایا’مگر رانیہ نے منہ موڑ لیا۔
واوو۔۔بھائی یہ کلرز بھی کتنے یونیق ہیں’میں تو آرڈر کرنے لگی ہوں۔
“رانیہ نے جلدی سے ہانیہ کے ہاتھ سے فون کھینچا دکھاو مجھے بھی!
“احتسام اور ہانیہ مسکرا دئیے’پہلے تو رانیہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
“پھر خود ہی مسکرا دی”
“احتسام اور ہانیہ بھی مسکرا دئیے’احتسام نے رانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“میرے ہوتے ہوئے تم دونوں کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔
“سب مینیج کر لوں گا میں’بس تم دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آنی چاہیے مجھے۔
“دونوں بہنیں بھائی کے گلے لگ گئی۔
“تم دقنوں سلیکٹ کرو کپڑے’جب موبائیل فری ہو جائے تو مجھے کمرے میں دے جانا’احتسام دونوں کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
____________________
“رامین کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا”
“وہ تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے’غصے سے دروازہ بند کرتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا۔
“رامین چپ چاپ کھڑی رہی’وہ جانتی تھی یہاں سے بچ کر نکلنا ناممکن ہے۔
“اس کی بات سنے بغیر جانے نہی دے گا یہ مجھے”
“اس وقت رامین فیکٹری کے آخری کونے کے پاس کھڑی تھی۔
“تیز تپتی دھوپ’ویران گلیاں’دور دور تک کوئی دکھائی نہی دے رہا تھا۔
“وہ تیزی سے رامین کی طرف بڑھا’آج بھی آنکھوں پر سن گلاسز لگا رکھے تھے۔
“ہمیشہ کی طرح ویل ڈریسڈ’وائٹ شرٹ،بلیو پینٹ کوٹ،اور بلیو ٹائی،آنکھوں پر بلیو شیڈز سن گلاسز۔
“اتنی میچنگز’رامین دل ہی دل میں سوچنے لگی’اتنی میچنگز تو لڑکیاں بھی نہی کرتی ہو گی۔
“اُفف۔۔خیر مجھے کیا!
“وہ رامین کے سامنے آ رکا”
“میرا فون کہاں ہے؟
“سوالیہ انداز تھا’غصے سے بھر پور”
“ایک پل کے لیے رامین کا دل کیا کہ اس سے پوچھے کونسا فون؟
“کیسا فون؟
کب دیا مجھے فون؟
“مگر وہ ایسا کچھ نہی بولی”
“آپ کا فون کل تک مل جائے گا’ٹھیک کروانے کے لیے بھیجا ہے۔
“رامین نے بے دلی سے جواب دیا۔
“کس کو دیا ہے میرا فون ٹھیک کروانے کے لیے؟
“غصے بھرے انداز میں پوچھا گیا۔
“جس کو بھی دیا ہو آپ کو اس بات سے مطلب نہی ہونا چاہیے۔
“آپ کو بس اپنے فون سے مطلب ہے۔
“وہ میری غلطی کی وجہ سے ٹوٹا۔
“آپ کا نقصان ہوا”
“وہ میں بھرنے کو تیار ہوں”
“حالانکہ آپ کا نقصان اتنا بڑا نہی تھا’کہ آپ مجھے اس طرح سے بلیک میل کرتے۔
“خیر جو بھی ہو’آپ کا فون آپ کو کل مل جائے گا۔
“اس کے بعد آپ کا راستہ الگ اور میرا الگ۔
“دوبارہ میرے راستے میں آنے کی کوشش مت کرئیے گا۔
“ورنہ اچھا نہی ہو گا”
“اپنی بات مکمل کرتے ہوئے رامین وہاں سے چل پڑی۔
“اس نے رامین کو بازو سے کھینچ کر آگے بڑھنے سے روکا۔
“رامین گاڑی کے دروازے کے ساتھ جا لگی۔
“کون ہے وہ لڑکا؟
“غصے سے سوال پوچھا گیا۔
“کون لڑکا؟
“رامین جان بوجھ کر انجان بنی۔
“تم اچھی طرح جانتی ہو’میں کس لڑکے کی بات کر رہا ہوں۔
“وہی جس کو تم میرا فون دیا ہے ٹھیک کروانے کے لیے۔
Episode 12
تمہارا نام کیسے جانتا ہے وہ؟
“مجھ سے کہہ رہا تھا’کہ میں تم سے دور رہوں۔
“کیا بتایا تم نے اسے میرے بارے میں۔
“کیسے جانتی ہو تم اسے؟
“مجھے ان سارے سوالوں کے جواب چاہیے ابھی کے ابھی۔
“وہ ایک ہاتھ گاڑی پر ٹکائے’اور دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے رامین کے پاس کھڑا تھا۔
“اس کا لہجہ بہت عجیب لگا رامین کو۔
“میں ضروری نہی سمجھتی آپ کو ان سارے سوالوں کے جواب دینا۔
“آپ کو آپ کا فون کل مل جائے گا۔
“اب مجھے جانے دیں یہاں سے’مجھے دیر ہو رہی ہے۔
“اس نے غصے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر رامین کو گاڑی میں بٹھا دیا۔
“اور خود جلدی سے گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔
“اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے’رامین چلائی۔
“گاڑی روکیں مجھے جانے دیں۔
“رامین چلا رہی تھی’مگر وہ رامین کی کوئی بات نہی سن رہا تھا۔
“گاڑی کی رفتار بہت تیز تھی۔
“رامین کو لگا آج وہ زندہ گھر نہی جا پائے گی۔
“آخر کار اس نے گاڑی روک دی’ایک سنسان جگہ پر۔
“خالی سڑک’دور دور تک کوئی نظر نہی آ رہا تھا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے’کہاں لے آئے ہیں آپ مجھے؟
“بدتمیزی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔
“رامین بولی جا رہی تھی”
“مگر اس پر رامین کی کسی بات کا کوئی اثر نہی پڑ رہا تھا۔
“وہ سٹیرنگ وہیل پر سر گرائے بیٹھا تھا۔
“ایک دم سر اوپر اٹھایا”
“چُپ۔۔بلکل چُپ۔۔اب اگر تم ایک لفظ بھی بولی تو گلہ دبا دوں گا میں تمہارا۔
“اور کسی کو تمہاری لاش بھی نہی ملنی دفنانے کو۔
“انگلی اٹھا کر وہ رامین کو چپ ہونے کا کہنے لگا۔
“اور دوبارہ سر سٹئیرنگ وہیل پر جھکا دیا۔
“رامین کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔
“وہ بہت بری طرح پھنس چکی تھی۔
“اسے یہاں سے بچ کر نکلنے کی کوئی راہ نہی نظر آ رہی تھی۔
“بے بسی سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
“رامین کی سسکیوں کی آواز گاڑی میں پھیل رہی تھی۔
“اس نے سٹئیرنگ وہیل سے سر اٹھا کر رامین کی طرف دیکھا۔
“اور ہاتھ بڑھا کر رامین کے آنسو صاف کیے۔
“میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے’شادی کرنا چاہتا ہوں۔
“ہمارے درمیان کسی تیسرے کا وجود برداشت نہی کر سکتا میں’رامین کا دایا گال پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اپنے دل کی بات کہہ رہا تھا۔
“رامین بس الجھی الجھی نگاہوں سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھ رہی تھی۔
“گلاسز کے پیچھے چھپی اس کی آنکھوں کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“مگر اس کی آنکھوں کو نہی دیکھ پائی۔
“رامین ہوش میں آئی’اور غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
“رامین کے ہاتھ جھٹکنے پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“واہ۔۔۔کیسی محبت ہے آپ کی’دو دن میں آپ کو مجھ سے محبت بھی ہو گئی۔
“دو دن میں آپ کو اتنا بھی حق مل گیا’کہ آپ مجھے زبردستی کہیں بھی لے جا سکتے ہیں۔
“جب آپ کا دل چاہے آپ میرا ہاتھ تھام سکتے ہیں۔
“رامین کا لہجہ بہت غصے طنزیہ تھا۔
“یہ محبت نہی ہے’یہ غرور ہے۔
“پیسے کی طاقت ہے۔
“آپ امیر ہیں’بہت بڑی فیکٹری کے مالک۔
“اور میں غریب ہوں’آپ کی فیکٹری کے چپڑاسی کی بیٹی۔
“اسی لیے آپ کا حق بنتا ہے’یہ سب کچھ کرنے کا۔
“کیوں؟
“کیا غریب کی بیٹی کی کوئی عزت نہی ہوتی؟
“کیا امیروں کو حق ہے’غریبوں کی عزت کو پامال کرنے کا؟
“بس کر دیں آپ!
“میں ان لڑکیوں میں سے نہی ہوں’جن کو آپ اپنی گاڑی میں بٹھا کر حسین خواب دکھا کر اپنی محبت پر یقین دلوا لیں گے۔
“میں صدیق احمد کی بیٹی ہوں’جو غریب تو ہے مگر بہت غیرت مند ہے۔
“اور اپنے باپ کی عزت کا خیال ہے مجھے’بہتر یہی ہو گا کہ آپ نے مجھے جہاں سے گاڑی میں بٹھایا تھا۔
“وہی پر مجھے واپس چھوڑ آئیں۔
“ہمارے درمیان جو امیری،غریبی کا فرق ہے’اس فرق کو ایسے ہی رہنے دیں۔
“اور رہی بات اس لڑکے کی’تو میں آپ کو بتا دوں۔
“وہ میرا ہونے والا شوہر ہے۔
“بہت جلد ہماری شادی ہونے والی ہے۔
“اور میں بہت خوش ہوں اپنی زندگی میں’اگر آپ کی اس حرکت کے بارے میں پتہ چل گیا’میرے ہونے والے شوہر کو۔
“تو اچھا نہی ہو گا’آپ کے لیے۔
“امید ہے میری بات آپ سمجھ گئے ہو گے۔
“اب بہتر یہی ہو گا’کہ آپ مجھے جہاں سے لے کر آئے تھے’وہی چھوڑ آئے۔
“رامین کی باتیں سُن کر اس کی سٹئیرنگ وہیل پر گرفت مظبوط ہوئی۔
“وہ بہت ظبط سے سُن رہا تھا۔
“رامین خاموش ہوئی’تو وہ رامین کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔
“یہ جو امیری،غریبی کا فرق ہے نہ؟
“یہ میرے لیے کوئی معنی نہی رکھتا۔
“میں بس تمہیں چاہتا ہوں’اور تمہاری خاطر اس فرق کو ختم بھی کر سکتا ہوں۔
“اور رہی بات تمہارے فیوچر ہسبینڈ کی’تو اسے بھول جاو۔
“اور اپنے دل و دماغ میں میرا خیال بسا لو۔
“کیونکہ تمہاری یہ خواہش میں پوری نہی ہونے دوں گا۔
“بتا دینا اسے’اور وارن کر دینا اسے’کہ اب دوبارہ تم سے ملنے کی کوشش نہ کرے۔
“ورنہ اچھا نہی ہو گا۔
“اب تم میری امانت ہو اس گھر میں’بہت جلد اپنی زندگی میں شامل کرنے والا ہوں میں۔
“اُمید ہے میری بات تم اچھی طرح سمجھ گئی ہو گی۔
“آخری بات پر وہ مسکرایا’اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“ایسا ہونے نہی دے گا وہ’وہ پرنس ہے۔
“جیتنے کا عادی ہے وہ’کسی بھول میں مت رہنا تم۔
“رامین کے لہجے میں پختگی سی تھی۔
“اگر وہ پرنس ہے تو میں کنگ ہوں۔
“اور پرنس جتنا بھی طاقتور بن جائے’کنگ سے نہی جیت سکتا۔
“وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولا۔
“اس کے لہجے میں بھی پختگی تھی۔
“کبھی کبھی بادشاہ کو بھی ہار کا مزہ چکھنا پڑ جاتا ہے’رامین اس کی بات پر بدمزہ ہوئی۔
“میں ان بادشاہوں میں سے نہی ہوں’میں نے ہمیشہ جیت کا مزہ چکھا ہے۔
“ہار کیا ہوتی ہے’میں نہی جانتا۔
“میں نے بس جیتنا سیکھا ہے”
“جیت کنگ کی ہو گی یا پرنس کی’یہ تو وقت ہی بتائے گا’رامین کھڑکی سے باہر سڑک پر نظریں گاڑے بولی۔
“ٹھیک ہے یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا’لیکن تم بھی وعدہ کرو۔
“جو جیتا تم اس کو دل سے قبول کرو گی۔
“وعدہ۔۔۔رامین بے بسی سے بولی۔
“وہ بس جلد از جلد اس گاڑی سے باہر نکلنا چاہتی تھی۔
“اس کا دم گھٹ رہا تھا اس گاڑی میں۔
“گاڑی فیکٹری کے پاس وہی لا کر روک دی اس نے جہاں سے چلی تھی۔
“رامین جلدی سے دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلی۔
“اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی’مگر رامین کو اس کی مسکراہٹ زہر لگی۔
“رامین جلدی سے گھر کی طرف چل پڑی’اس نے واپس مڑ کر نہی دیکھا۔
“سامنے سے اسد آ رہا تھا’اور یقینً وہ رامین کو گاڑی سے نکلتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔
“رامین بھاری قدموں کے ساتھ آگے بڑھنے لگی۔
_____________________
“احتسام کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔
“صبح سے کاموں میں لگا تھا تھک چکا تھا۔
“صبح آفس بھی جانا تھا۔
“احتسام کی آنکھ لگ گئی۔
“کچھ دیر بعد ہی رانیہ اسے آوازیں دینا شروع ہو گئی۔
“بھائی آپ کا فون!
“رانیہ کی آواز پر احتسام جلدی سے اٹھ بیٹھا۔
“کس کا فون ہے’جلدی سے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“رانیہ نے مسکراتے ہوئے فون احتسام کی طرف بڑھایا۔
“بھائی فون تو بند ہو گیا’کسی لڑکی کا ہو گا’میرا مطلب ہماری ہونے والی بھابی کا۔
“رانیہ باز آ جاو تم!
“احتسام نے اسے وارن کیا۔
“رانیہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی’پھر پلٹی بھائی دروازہ بند کر لیں۔
“پھر بات کر لیجئیے گا’رانیہ جلدی سے بول کر بھاگ گئی۔
“احتسام کے دماغ میں دھماکا سا ہوا’اس کے ذہن میں رانیہ کی بات گونجی۔
“کسی لڑکی کا ہو گا”
“احتسام کے دل میں صلہ کا خیال آیا۔
“کہی صلہ تو نہی’نہی یہ نہی ہو سکتا۔
“اس کے پاس میرا نمبر کہاں سے آئے گا۔
“ویسے بھی وہ اس دن کے بعد سے گھر نہی آئی۔
“اور نہ ہی مجھے کبھی دوبارہ ملی۔
“مگر یہ ہو بھی سکتا ہے’وہ گھر تک پہنچ گئی ہے۔
“اس کے لیے میرا نمبر حاصل کرنا کوئی مشکل کام تو نہی۔
“ابھی پتہ چل جائے گا’احتسام نے وہی نمبر ڈائل کیا۔
“بہت دیر تک نمبر ملاتا رہا’مگر کال ریسیو نہی کی کسی نے۔
“آخر کار احتسام نے تھک کر فون سائیڈ پر رکھ دیا۔
“اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔
کچھ دیر بعد احتسام کو فون بجنے کی آواز آئی۔
“اس نے کال ریسیو کی’دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔
“جب پتہ ہے میں بات نہی کرنا چاہتا تو کیوں روز روز فون کرتی ہو۔
“اپنا اور میرا وقت ضائع کیوں کرتی ہو۔
“احتسام نے خاموشی توڑی۔
“کیا کروں’دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔
“صلہ کی آواز گونجی احتسام کے کانوں میں۔
“احتسام کے سر میں درد کی ٹھیس اٹھی’وہ ایک ہاتھ سے اپنا ماتھا مسلنے لگا۔
“مگر میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور نہی ہوں۔
“میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہی دیتی تم’احتسام کی آواز تھکی تھکی سی تھی۔
“کیونکہ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو چکی ہوں۔
“میں جتنی بھی کوشش کر لوں’تم سے دور جانے کی۔
“میرا دل تمہاری طرف کھینچتا ہے۔
“کوئی قوت سی ہے’جو مجھے تمہاری طرف کھینچتی ہے۔
“میں نا چاہتے ہوئے بھی تم سے دور نہی جا پاتی۔
“میں نہی جانتی’پتہ نہی کیوں؟
“پر میرا دل مجھے تمہاری طرف جھکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
“میں چاہتی ہوں کہ تم سنواروں’میں زندگی کی رنگینیوں میں کھو سی گئی ہوں۔
“میں چاہتی ہوں تم میرا نصیب بن جاو۔
“میں اپنے نام کے ساتھ تمہارا نام دیکھنا چاہتی ہوں۔
“کیا تم میری یہ خواہش پوری نہی کر سکتے؟
آخر کیوں؟
“احتسام بس خاموشی سے صلہ کی آواز سُن رہا تھا۔
“اب صلہ خاموش ہو چکی تھی’اس کی سسکیاں فون میں گونج رہی تھیں۔
سو جاو’احتسام نے بس اتنا بول کر کال کاٹ دی۔
“صلہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی’وہ بس اتنی بات پر خوش ہو گئی۔
“احتسام نے بس یہ کہا کہ سو جاو’یہ نہی کہا کہ دوبارہ مجھے فون مت کرنا۔
“وہ مسکراتے ہوئے اپنے آنسو صاف کر کے سونے کے لیے لیٹ گئی۔
“احتسام فون سائیڈ پر رکھ کر سوچوں میں گم ہو گیا۔
“آخر کار جب بہت دیر تک بھی نیند نہی آئی’تو اس نے اٹھ کر دراز میں سے نیند کی گولی نکالی۔
“اور پانی کے ساتھ نگل کر’سونے کے لیے لیٹ گیا۔
_____________________
“رامین کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل ہو رہا تھا۔
“اسد وہی کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
اس کے دیکھنے سے تو ایسا لگ رہا تھا’جیسے اس نے سب دیکھ لیا ہو۔
رامین بری طرح پھنس چکی تھی۔
پہلے اس کو یہ ٹینشن تھی’کہ گھر جا کر اماں کو کیا بتائے گی۔
کیوں اتنی دیر گھر آئی ہے۔
ابھی تک اس کے لیے بہانہ نہی سوچ پا رہی تھی وہ۔
کہ سامنے سے ایک اور ٹینشن کھڑی تھی’اسد کی صورت میں۔
رامین اسد کے پاس سے گزر کر آگے بڑھنے ہی لگی تھی’کہ اس کے کانوں میں اسد کی آواز سنائی دی۔
رامین!
اسد نے اسے پکارا۔
رامین کو نا چاہتے ہوئے بھی رکنا پڑا۔
وہ اسد کی طرف پلٹی’مگر نظریں زمین پر ٹکائے بولی۔۔۔جی۔
“رامین کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی۔
اس کے لیے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔
پسینے سے چہرہ تر ہو چکا تھا۔
یہ سوچ سوچ کر کہ اگر اسد نے پوچھ لیا۔
اس گاڑی کے بارے میں تو کیا جواب دوں گی۔
اسد نے رامین کی طرف ایک شاپر بڑھایا۔
جو رامین نے نا سمجھی سے جلدی سے تھام لیا۔
یہ بھی پوچھنا ضروری نہی سمجھا کہ اس میں کیا ہے۔
مجھے کیوں دے رہے ہو۔
گھبراہٹ کی وجہ سے ایسے لگ رہا تھا’جیسے وہ ہوش میں نہی تھی۔
وہ بس جلد از جلد یہاں سے جانا چاہتی تھی۔
وہ اس سیچوایشن میں نہی تھی’کہ اسد کے کسی سوال کا جواب دے سکے۔
وہ یہی چاہتی تھی’کہ اسد اس سے کوئی سوال نا کرے۔
اور ایسا ہی ہوا تھا’اسد نے اس سے کوئی سوال نہی کیا۔
“اسد بغیر کوئی سوال کیے وہاں سے چل پڑا۔۔چند قدم چل کر رکا۔
“یہ پرنس نے دیا تھا’تمہارے لیے”
کسی ضروری کام کی وجہ سے وہ نہی آ سکے گا۔
اس نے مجھ سے کہا تھا کہ تم تک پہنچا دوں۔
اسد پلٹا نہی۔۔رخ دوسری طرف موڑے کھڑا بولا۔
اور بس اتنا ہی بول کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔
“پرنس کے نام پر رامین ہوش میں آئی”
“پرنس”
“یہ پرنس نے دیا ہے میرے لیے”
“اسد تم کیسے جانتے ہو پرنس کو؟
“تمہیں پرنس نے کب بتایا’کہ وہ مجھے جانتا ہے؟
وہ یہ سب سوال اسد سے پوچھنا چاہتی تھی۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
اسد جا چکا تھا۔
اسے حیرانگی کے سمندر میں چھوڑ کر وہ یہاں سے جا چکا تھا۔
رامین کے لیے یہ سب سمجھنا مشکل ہو رہا تھا۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
اسد کیسے جانتا ہے پرنس کو؟
“میرا شک درست تھا شاید’اسد ہی پرنس ہے”
میں تو بھول ہی گئی تھی’مجھے اسد کی آنکھیں دیکھنی تھیں۔
مگر میں نہی دیکھ سکی۔
اگر میں تھوڑی سی ہمت کر کے اسد کی آنکھوں میں دیکھ لیتی تو جان لیتی’کہ وہی پرنس ہے یا نہی۔
“کیا ہو رہا ہے یہ سب میرے ساتھ”
اب اس فون کا کیا کروں؟
اماں میرا انتظار کر رہی ہو گی’اور اگر ابھی انہوں نے میرے ہاتھ میں یہ فون دیکھ لیا تو پتہ نہی کیا سوچیں گی وہ۔
مجھے یہ ابھی واپس کر دینا چاہیے’ابھی میں فیکٹری کے نزدیک ہی تو ہوں۔
ہاں یہ ٹھیک ہے’رامین جلدی سے فیکٹری کی طرف بڑھی۔
رحیم چچا!
اس نے جلدی سے پکارا۔
رامین کی آواز پر وہ تیزی سے رامین کی طرف بڑھے۔
کیا ہوا رامین بیٹا’تم گھر نہی گئی ابھی تک یہی ہو؟
سب خیریت تو ہے نا؟
وہ فکر مندی سے بولے۔
جی رحیم چچا یہ فون ہے آپ کے صاحب جی کا’وہ اس دن مجھ سے ٹوٹ گیا تھا نہ؟
رامین نے ان کو یاد دلانے کی کوشش کی۔
ہاں مجھے یاد ہے بیٹا۔
یہ فون ٹھیک کروا دیا ہےمیں نے’ان کا نقصان جو ہوا تھا میری وجہ سے۔
آپ یہ ان کو دے دیجئے گا’میں خود پہنچا دیتی۔
مگر میں پہلے ہی لیٹ ہو چکی ہوں’اسی لیے آپ ان تک پہنچا دیجیے گا۔
لیکن ابا سے اس بات کا ذکر بھول کر بھی مت کرنا آپ’خوامخواہ پریشان ہو جائیں گے وہ۔
اچھا بیٹا میں یہ دے دوں گا ان کو’تم جاو دھیان سے گھر۔
رامین سر ہلاتے ہوئے جلدی سے فیکٹری کا دروازہ پار کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔
تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے گھر کی طرف چل دی۔
پرنس کا راز اب بھی راز ہی تھا۔
وہ جو سوچ رہی تھی آج اس راز سے پردہ اٹھا لے گی۔
مگر ایسا ممکن نہی ہو سکا۔
انہی سوچوں میں گم رامین گھر پہنچی۔
اماں اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔
رامین کے پیروں تلے جیسے زمین ہی نکل گئی ہو۔
اماں کو کیا جواب دوں میں’سوچ سوچ کر اس کا حلق تک خشک ہو گیا۔
اماں وہ میں تھوڑا لیٹ ہو گئی’بہ مشکل وہ بس اتنا ہی بول پائی۔
ہاں ہاں جانتی ہوں’تم ثوبیہ کے گھر چلی گئی تھی۔
اسد بتا گیا تھا مجھے’کہ تم ان کی طرف ہو۔
کچھ دیر تک آ جاو گی۔
کوئی بات نہی’تم نے صبح سے کچھ نہی کھایا مجھے بس اس بات کی فکر لگی ہوئی تھی۔
آجاو ہاتھ،منہ دھو کر کھانا کھا لو۔
میں گرم کر کے لا رہی ہوں۔
اماں کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
مگر رامین جہاں کھڑی تھی’وہی کھڑی رہ گئی۔
اسد نے جھوٹ کیوں بولا؟
تو کیا اسد مجھے گاڑی میں بیٹھ کر جاتے دیکھ چکا تھا؟
اس نے اگر مجھے دیکھ لیا تھا تو مجھ سے کچھ پوچھا کیوں نہی؟
اور وہ فون اسد کے پاس کیسے آیا؟
یہ سب کچھ اتفاق نہی ہو سکتا’ایسا کچھ تو ہے۔
جو میری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی مجھے نظر نہی آ رہا۔
رامین تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو؟
اماں کی آواز پر رامین چونکی۔
جی اماں’بس جا رہی ہوں۔
رامین جلدی سے ہاتھ منہ دھونے چلی گئی۔
