Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Qadar Na Jani (Episode 05,06)

Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi

رامین کا پہلا دن بہت تھکاوٹ بھرا گزرا تھا۔بچوں کو پڑھانا جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہوتا نہی ہے۔پورا دن بس زور زور سے چیختے رہو۔بیٹھنا بھی نہی۔سر پر کیمرہ جو لگا ہے۔زرا سا آپ بیٹھ گئے ریلیکس ہونے کے لیے۔۔اُدھر سے میڈم جی حاظر۔

رامین اور ثوبیہ اسد کے انتظار میں بیٹھی تھکں۔کیونکہ امی کا حکم تھا کہ بھائی کے بغیر نہی آنا۔آنے دو آج اس کو امی کو شکایت لگاوں گی اس کی روز آدھا گھنٹہ لیٹ ہو جاتا ہے۔ابھی ثوبیہ بات ہی کر رہی تھی کہ چوکیدار نے ثوبیہ کا نام پکارا۔

ارے واہ۔۔۔آج تو بڑی جلدی آ گیا۔چلو رامین چلیں۔اس کا کچھ پتہ نہی ابھی واپس پلٹ جائے۔اور پھر ہمیں اس کا انتظار کرنا پڑے۔ثوبیہ نے کہا تو رامین جلدی سے اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے اس کے ساتھ باہر کی طرف چل پڑی۔

رامین نے اسد کی طرف دیکھنے کی غلطی نہی کی دوبارہ۔۔۔نا جانے کیوں اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو اسد کان سے فون لگائے۔اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔رامین کے دیکھنے پر مسکرا دیا۔

رامین جلدی سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔اسے اپنی غلطی پر افسوس ہوا۔مگر کیا کہہ سکتی تھی۔یہ اسد پہلے تو ایسے نہی کرتا تھا۔اب ایسی حرکتیں کیوں کر رہا ہے۔رامین کو اسد کا اس کی طرف دیکھ کر مسکرانا زرا اچھا نہی لگا۔

رامین کا گھر آیا تو رامین خدا حافظ کہتے ہوئے اندر چلی گئی۔اسد کی طرف دیکھنے کی غلطی اب نہی کی تھی اس نے۔مگر اسد کی خود پر جمی نظریں محسوس کر سکتی تھی۔وہ تیزی سے اندر چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا۔

اماں کو سلام کرتے ہوئے فریج سے پانی نکال کر گلاس میں ڈال کر پینے لگی۔اماں کھانے کا ٹفن تیار کیے بیٹھی تھیں۔رامین پانی پی چکی تو اماں نے اس کی طرف شاپر بڑھا دیا۔یہ پہلے اپنے ابا کو دے آو۔پھر آ کر خود بھی کھانا کھا لو۔اور آرام کر لو کچھ دیر۔

رامین مسکرا دی۔جی اماں۔اپنی چادر درست کی اور کھانے والا شاپر اٹھایا۔باہر کی طرف بڑھ گئی۔خوف نے پھر سے آ گھیرا تھا اسے۔وہ ڈرتے ڈرتے قدم اٹھا رہی تھی۔سہی کہا تھا اس نے مجھے ڈرنا نہی چاہیے۔اگر اسی طرح میں ڈرتی رہی تو وہ لوگ مجھے اور ڈرائیں گے۔

مجھے ہمت پیدا کرنی پڑے گی اپنے اندر۔۔مجھے “کامیاب عورت” بننا چاہیے۔بلکل اپنے نام کی طرح۔اب مزید میں کسی کی بدتمیزی برداشت نہی کروں گی۔رامین سوچوں میں ڈوبی کب فیکٹری پہنچ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا۔

رحیم چچا کو سلام کرتے ہوئے کھانے والا شاپر ان کی طرف بڑھایا۔اور واپس مڑ گئی۔اب وہ ڈر تو نہی رہی تھی۔مگر پھر بھی اس کے لیے واپسی کے لیے چلنا مشکل ہو رہا تھا۔رامین تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل رہی تھی۔

جب اس کی نظر سامنے پڑی تو دھنگ رہ گئی۔وہ دونوں لڑکے آج بھی وہیں کھڑے تھے۔جب رامین یہاں سے گزر کر گئی تب تو نہی تھے۔اب اچانک سے آ گئے۔رامین رکی نہی خود کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھی۔جیسے وہ ان کے پاس پہنچی وہ دونوں اس کے راستے میں آ رکے۔

______________________

اس سے پہلے کہ رامین کچھ کہتی ان دونوں نے رامین کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔

وہ دونوں ہاتھ جوڑے معافی مانگنے لگے۔ہمیں معاف کر دیں آپی۔

ہم سے غلطی ہو گئی۔ہم نے آپ کو تنگ کیا۔آج کے بعد ہم دوبارہ کبھی آپ کو تنگ نہی کریں گے۔

صرف آپ کو ہی نہی،کسی اور لڑکی کی طرف بھی کبھی آنکھ اٹھا کر نہی دیکھیں گے۔

رامین حیرانگی کے عالم میں ان دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔

وہ جو سمجھی تھی کہ آج بھی یہ دونوں مجھے پہلے کی طرح تنگ کریں گے۔

حیران رہ گئی ان دونوں کے اس طرح ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے پر۔

رامین سیچوایشن کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ اس لڑکے کی بات چونکی۔

اس لڑکے نے کہا، اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ پرنس بھائی کی رشتہ دار ہیں تو ہم کبھی بھی ایسا نہی کرتے۔

ہمیں معاف کر دیں۔ورنہ پرنس بھائی ہمیں نہی چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جب تک آپ معافی نہ دے دیں۔وہ بھی ہمیں معاف نہی کریں گے۔

کون پرنس بھائی؟؟؟؟

رامین اس کی بات پر چونکی۔کس کی بات کر رہے ہو تم دونوں۔رامین تب سے لے کر اب اس بات پر بولی تھی۔

وہ دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔پرنس بھائی کو نہی جانتی آپ۔۔؟؟

انہوں نے الٹا اسی سے سوال کر ڈالا۔

نہی۔۔میں کسی پرنس کو نہی جانتی۔جو بھی ہو خیر ہٹو تم دونوں میرے راستے سے۔

معاف کیا میں نے تم دونوں کو۔آئیندہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو اچھا نہی ہو گا۔

اور آج کے بعد میرا راستہ روکنے کی کوشش بھی مت کرنا تم دونوں ورنہ انجام اچھا نہی ہو گا۔

رامین بول رہی تھی۔اور وہ دونوں اس کی بات پر سر ہلا رہے تھے۔تب ہی ان دونوں کو کسی نے رامین کے پچھلی طرف دیوار سے ٹیک لگائے کھڑے شخص نے وہاں سے جانے کا اشارہ دیا۔

وہ دونوں جلدی سے وہاں سے ہٹ گئے۔رامین نے ان کو پیچھے کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

وہ مڑی مگر وہاں کوئی نہی تھا۔

وہ جب دوبارہ آگے کی طرف مڑی تو وہ دونوں لڑکے بھی وہاں سے جا چکے تھے۔

رامین بھی سر جھٹکتے ہوئے آگے کی طرف بڑھ گئی۔

اس کی نظر سامنے پڑی تو اسد سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

یہ اسد یہاں کیا کر رہا ہے۔رامین کو لگا اس نے سب دیکھ لیا ہے۔

وہ جلدی سے وہاں سے نکلنے لگی۔تیز تیز قدم اٹھاتے آگے بڑھی۔

رامین۔۔۔۔اسد نے جب اسے پاس سے گزرتے دیکھا تو بول پڑا۔

رامین جی بھر کر بد مزہ ہوئی اسد کے پکارنے پر ضبط سے آنکھیں بھینچتے ہوئے واپس پلٹی۔

جی۔۔۔بس اتنا ہی بول سکی رامین۔

کون تھے وہ لڑکے؟؟؟

اسد ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بولا۔

کون لڑکے؟؟؟

رامین انجان بنتے ہوئے بولی۔

تم اچھی طرح جانتی ہو رامین میں کن لڑکوں کی بات کر رہا ہوں۔

وہ دونوں تمہارے سامنے ہاتھ کیوں جوڑ رہے تھے۔کیا کوئی مسلہ ہے۔؟؟

اگر کوئی پرابلم ہے تو تم بلا جھجک مجھ سے شئیر کر سکتی ہو۔

رامین نے حیرانگی سے اسد کی طرف دیکھا۔اوہ۔۔تو اس نے سب کچھ دیکھ لیا۔

اب کیا جواب دوں میں اس کو۔۔؟؟

اگر میں نے اس کو سب کچھ بتا دیا تو یہ ثوبیہ کو بتا دے گا گھر جا کر۔

اور اگر ثوبیہ نے امی کو بتا دیا تو وہ بہت پریشان ہو جائیں گی۔

لیکن اب اس کو کیا جواب دوں؟؟؟

رامین پریشان ہو چکی تھی۔سمجھ میں نہی آ رہا تھا۔کہ اسد کو کیا جواب دوں۔

رامین۔۔؟؟؟؟

اسد نے رامین کے سامنے ہاتھ ہلایا۔کیا ہوا کہاں کھو گئی۔سب خیریت تو ہے نا۔۔۔؟؟

کوئی بات نہی اگر تم نہی بتانا چاہتی تو۔آو تمہیں گھر تک چھوڑ دوں۔

اسد کی بات پر رامین نے سکھ کا سانس لیا۔نہی میں چلی جاوں گی۔رامین جلدی سے بولی۔

اسد مسکرا دیا۔رامین مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو تم۔میں جانتا ہوں۔وہ لڑکے تمہیں پریشان کر رہے تھے۔

تم نہی بتانا چاہتی ہو تو کوئی بات نہی۔

خیر آوو گھر چھوڑ دوں تمہیں۔

میں بھی گھر ہی جا رہا ہوں۔

مناسب نہی ہے ہمارا اس طرح یہاں رکنا۔اچھا نہی لگتا۔

کسی محلے والے نے دیکھ لیا تو بات کا بھتنگڑ بنا دے گا۔

رامین سر جھکائے چل پڑی۔ایسا نہی ہے کہ مجھے تم پر بھروسہ نہی ہے۔

بات بھروسے کی نہی ہے۔

میں بس گھر والوں کو پریشان نہی کرنا چاہتی۔

تم وعدہ کرو کہ یہ بات کسی سے نہی کرو گے۔

رامین اسد سے تھوڑے فاصلے پر چلتے ہوئے بول رہی تھی۔

دراصل یہ لڑکے پچھلے کئی دنوں سے مجھے پریشان کر رہے تھے۔

جب بھی یہاں سے گزرتی تھی تو میرا راستہ روک لیتے تھے یہ دونوں۔

مگر آج انہوں نے خود ہی معافی مانگ لی۔

شاید کسی نے دیکھ لیا تھا ان دونوں کو مجھے تنگ کرتے ہوئے۔

کسی نے سمجھایا ہو گا ان کو شاید اسی لیے مجھ سے معافی مانگ رہے تھے اپنے رویوں کے لیے۔

رامین نے آدھی ادھوری بات اسد کو بتا دی۔گھر کے دروازے کے پاس پہنچ کر رک گئی۔

پلٹ کر اسد کی طرف دیکھا۔امید ہے میرا بھروسہ نہی توڑوں گے تم۔

یہ بات ہمارے درمیان ہی رکھو گے۔

شکریہ مجھ پر بھروسہ کرنے کے لیے۔میں تمہارا بھروسہ کبھی نہی توڑوں گا۔

اسد مسکراتے ہوئے بولا۔

اسد کو مسکراتے دیکھ رامین نظریں جھکا گئی۔خدا حافظ۔۔جھکی نظروں سے بولی اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔

خدا حافظ۔۔۔اسد بھی مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

رامین گھر میں داخل ہوئی تو اماں اسی کا انتظار کر رہی تھیں۔

کہاں تھی تم؟؟

آج بہت دیر لگا دی۔پہلے تو کبھی اتنی دیر نہی ہوئی کبھی تمہیں۔اماں پریشانی سے اس کی طرف آتے ہوئے بولیں۔

کچھ نہی اماں وہ میری سکول ٹیچر مل گئیں تھیں راستے میں۔ان کا گھر اسی طرف ہے تو مجھے کچھ دیر ان کے پاس بیٹھنا پڑا۔

وہ آنے ہی نہی دے رہی تھیں مجھے۔جب میں نے کہا کہ اماں کو بتا کر آوں گی کسی دن۔اماں پریشان ہو رہی ہو گی۔

تو وہ مانیں۔اور مجھے گھر آنے دیا انہوں نے۔رامین چہرے پر مسکراہٹ سجائے بڑی آسانی سے جھوٹ بول گئی۔

اچھا یہ بات تھی۔اماں اس کی بات پر یقین کر گئیں تھیں۔

چلو آ جاو منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھا لو۔

جی رامین مسکراتے ہوئے ہاتھ دھونے چلی گئی۔

کھانا کھانے کے بعد اماں سے یہ کہتے ہوئے کہ جب بچے آ جائیں پڑھنے تو مجھے آواز دے دینا۔بولتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔آج بہت دنوں بعد وہ پرسکون تھی۔

ان دو لڑکوں نے بہت پریشان کر رکھا تھا.آخر کار اس کی پریشانی ختم ہو ہی گئی تھی۔

پرنس۔۔یا پھر شریف چور۔۔۔وہ جو بھی تھا بہت بڑی پریشانی حل کر دی ہے.اس نے میری۔

“شریف چور” رامین زیرِلب بولتے مسکرا کر آنکھیں بند کر گئی۔

_________________________

اگلی صبح احتسام نماز پڑھنے کے بعد قریبی پارک میں واک کرنے چلا گیا۔

وہی پارک جہاں اس کی صلہ سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی۔

وہ کچھ دیر پارک کا چکر لگانے کے بعد بینچ پر بیٹھ گیا۔

ابھی وہ بیٹھا ہی تھا۔کہ کسی نے اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھائی۔

تھینکس۔۔۔بے ساختہ احتسام بولا۔

پانی کی بوتل پکڑنے لگا ہی تھا۔کہ جلدی سے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

وہی ہوا جس بات کا ڈر تھا۔

احتسام یہاں آتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کہی اس لڑکی سے پھر سے ملاقات نہ ہو جائے۔

اور اس کی سوچ سہی ثابت ہوئی۔سامنے صلہ کھڑی تھی۔

ٹریکنگ سوٹ میں ملبوس،اونچی پونی میں بال باندھے، پانی کی بوتل پکڑے،چہرے پر مسکراہٹ سجائے۔

ایک پل کے لیے احتسام اس کے معصوم چہرے کو دیکھتا رہ گیا۔

مگر اگلے ہی پل خود کو سنبھال لیا۔اور ایک نفرت بھری نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔

صلہ بھی اس کے پیچھے چل پڑی۔

احتسام کی نظر جب ساتھ چلتی صلہ پر پڑی۔تو اس نے پلٹ کر ایک غصیلی نظر صلہ پر ڈالی۔

صلہ نے اس کے غصے کی پرواہ کیے بغیر مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئیے۔

احتسام آگے بڑھ گیا۔اس نے اپنے چلنے کی رفتار تیز کر دی۔

صلہ نے بھی اپنی رفتار تیز کر دی۔

احتسام نے جب صلہ کو قریب آتے دیکھا۔تو اس نے اپنی رفتار مزید تیز کر دی۔

احتسام اب دوڑ رہا تھا۔

وہ بھاگ جانا چاہتا تھا یہاں سے۔

اس لڑکی سے دور بھاگنا چاہتا تھا۔

مگر صلہ ہار نہی مانی۔وہ بھی دوڑنے لگی احتسام کے ساتھ ساتھ۔

احتسام رک گیا۔سانس پھول چکا تھا۔دوڑ دوڑ کر۔

احتسام کے رکنے پر صلہ بھی رک گئی۔

پانِی کی بوتل کا ڈھکن کھولا۔اور پانی پینے لگی۔

خود پانی پینے کے بعد پانی احتسام کی طرف بڑھایا۔

احتسام نے بدلے میں اسے گھوری سے نوازا۔

صلہ نے کندھے اچکا دئیے۔اور بوتل بند کر دی۔

کیوں دور بھاگ رہے تھے مجھ سے۔جب بھی میں تمہارے پاس آنے کی کوشش کرتی ہوں تو تم دور بھاگتے ہو مجھ سے۔

اب اتنی بری شکل بھی نہی ہے میری۔

وجہ پوچھ سکتی ہوں۔تمہارے اس رویے کی؟

صلہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی۔

وجہ جانتی ہیں آپ۔۔۔اور اگر نہی جانتیں۔پا پھر بھول چکی ہیں تو جاننے کی کوشش کریں۔

میرے اس رویے کا مطلب خود ہی پتہ چل جائے گا۔

میں نے پہلے بھی منع کیا تھا آپ کو کہ میرا پیچھا مت کرنا۔

مگر میری بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی آپ نے۔

میری زندگی میں دخل اندازی کرنے کی کوشش مت کریں۔

آگ میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کریں گی تو جل جائیں گی۔

احتسام چہرہ دوسری طرف موڑے بول رہا تھا۔ایسے لگ رہا تھا۔جیسے درختوں سے بات کر رہا ہو۔

صلہ مسکرا دی۔میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔!!!!

صلہ کی بات پر احتسام پلٹا۔اور شاک سی کیفیت میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔سآپ ہی تو کہا ہے میں نے۔نامحرم لڑکی ہوں۔یہی وجہ ہے جو آپ دور بھاگتے ہیں مجھ سے۔

اگر آپ مجھ سے نکاح کر لیں گے۔پھر تو کوئی مسلہ نہی رہے گا۔

پھر تو آپ کی بیوی بن جاوں گی میں۔صلہ مسکراتے ہوئے بولتی جا رہی تھی۔

احتسام بس حیران سا اس کی باتیں سن رہا تھا۔جب ہوش آیا کہ وہ شادی کی بات کر رہی ہے تو احتسام بنا کچھ بولے وہاں سے چل پڑا۔

واپس پلٹ کر نہی دیکھا اس نے۔

صلہ وہیں قریبی بینچ پر بیٹھ گئی۔

کوئی بات نہی بھاگ لو جتنا بھاگ سکتے ہو۔

میں تمہارا پیچھا نہی چھوڑنے والی۔مسکراتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چل دی۔

____________________________

رامین سو رہی تھی کہ اچانک اسے کھڑکی پر ہلکی سی دستک سنائی دی۔

رامین کو تھوڑا خوف محسوس ہوا۔

وہ ڈرتے ڈرتے اٹھ کر بیٹھ گئی۔

کچھ دیر دستک ہوتی رہی۔پھر رک گئی۔

رامین نے اللہ کا شکر ادا کیا۔اور پھر سے لیٹ گئی۔شاید بلی ہو گی۔لیٹ کر سوچنے لگی۔

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے کھڑکی کھلنے کی آواز آئی۔

رامین ڈر کر اٹھ بیٹھی۔چچچچچچورررر۔۔۔۔بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلا۔

چور نہی۔۔۔۔۔شریف چور۔۔۔وہ کھڑکی بند کرتے ہوئے رامین کی طرف پلٹتے ہوئے بولا۔

شریف چور۔۔۔رامین نے دہرایا۔

جی شریف چور۔۔۔میں ہی ہوں۔وہ سامنے پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

وہی آواز،سر پر کیپ۔۔اور چہرہ آج بھی رومال سے چھپایے ہوئے۔وہ بڑی شان سے ٹانگ پر ٹانگ جمائے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

رامین حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

چور تو چور ہی ہوتا ہے۔چور کے ساتھ شریف لگانے سے کوئی چور شریف نہی بن جاتا۔

رامین تلخ لہجے میں بولی۔

وہ کرسی بیڈ کے قریب لا کر بیٹھ گیا۔

سہی کہا۔۔لیکن میں شریف چور ہوں۔اسی لیے شریف چور کہتا ہوں خود کو۔

آپ اندر کیسے آئے؟

کھڑکی تو اندر سے بند تھی۔رامین کو یاد آیا تو حیرانگی سے بولی۔

رامین کی بات پر وہ مسکرایا۔

بتایا تو ہے میں شریف چور ہوں۔

شریف ہوں۔مگر ہوں تو چور۔

میرے لیے کھڑکی کھولنا کوئی مشکل کام نہی۔

کھڑکی اسی لیے بند کی تھی تم نے۔کہ میں اندر نہ آ سکوں۔

مگر میں تو پھر بھی آ گیا۔اب کیا کریں گی آپ۔۔؟

رامین نے غصے سے اس کو گھورا۔اگر ابھی میں نے شور مچایا تو سارا محلہ اکٹھا ہو جائے گا۔

رامین تلخی سے بولی۔

اچھا۔۔۔۔۔تو روکا کس نے ہے مچاو شور۔

دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے۔جب محلے والے آدھی رات کو تمہیں ایک غیر مرد کے ساتھ دیکھیں گے۔

رامین اس کی بات پر بے بسی اسے دیکھنے لگی۔اور پھر سر گھٹنوں پر رکھے رونے لگ گئی۔

رونے کی کیا ضرورت ہے۔اس بات پر مجھے تھپڑ بھی مار سکتی تھی تم۔

کوئی چیز اٹھا کر میرے سر میں مار سکتی تھی۔

مگر نہی۔تم تو بس رونا جانتی ہو۔

کہا تھا نا۔اپنے نام جیسی بلکل بھی نہی ہو تم۔

رامین نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔

کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب؟

کیوں آئے ہیں آپ پھر سے؟

آخر آپ کیوں میرا پیچھے پڑ گئے ہیں؟

آپ کے پاس اور کوئی کام نہی کرنے کو؟

کیوں آپ آدھی رات کو میرے کمرے میں آئے ہیں۔چوروں کی طرح؟

کیا آپ کو ڈر نہی لگتا۔کہ اگر کسی نے آپ کو آتے جاتے دیکھ لیا۔تو میری زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔رامین نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔

لگتا ہے ڈر۔۔۔پر میں کوئی عام چور نہی شریف چور ہوں۔کبھی تمہاری عزت پر آنچ نہی آنے دوں گا۔وہ بہت مدھم لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا۔

رامین نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔

اچھا چھوڑوں یہ سب۔۔ان دونوں نے معافی مانگی تم سے۔۔۔؟؟؟

وہ رامین کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔

جی بہت شکریہ آپ کا۔آپ نے میری بہت مدد کی۔مسٹر پرنس۔۔!!!!!!

یہ تو میرا فرض تھا۔پرنس جو ہوں میں۔رامین کے پرنس کہنے پر وہ مسکرایا۔

بہت شکریہ آپ نے میری مدد کی۔مگر اب آپ دوبارہ یہاں مت آئیے گا۔میں مانتی ہوں کہ آپ نے میری مدد کی ہے۔آپ کی احسان مند رہوں گی میں۔لیکن میں نہی چاہتی کہ کسی مشکل میں پڑوں۔

وہ اٹھا۔۔۔اور رامین کی بات کا جواب دئیے بغیر۔کھڑکی کھول کر باہر نکل گیا۔

اور رامین بس ہکا بکا رہ گئی۔اس کے اس طرح اچانک چلے جانے سے۔مجھے نہی پتہ تھا کہ میری بات اتنی آسانی سے مان لے گا وہ۔

رامین چند پل کھلی کھڑکی کو دیکھتی رہی اور پھر اٹھ کر کھڑکی بند کر کے سونے کے لیے لیٹ گئی..

Episode 6

رامین نے اس کو جانے کا تو کہہ دیا تھا۔اور وہ اس کی بات مان کر چلا بھی گیا تھا۔

مگر اب رامین کو عجیب سی بے چینی نے آن گھیرا تھا۔

اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔

شاید وہ میری بات کا برا مان گیا۔

بنا کچھ بولے ہی چلا گیا۔

مجھے اس طریقے سے بات نہی کرنی چاہیے تھی اس سے۔

آخر کار اس نے میری مدد کی تھی۔

میں کتنی پریشان تھی۔ان دونوں لڑکوں کی وجہ سے۔

اس نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

میں نے شکریہ بھی بہت غلط انداز میں ادا کیا ہے۔ایسے جیسے جان چھڑوانے والا انداز ہو۔

ٹھیک ہے میں مانتی ہوں۔بہت مدد کی ہے اس نے میری۔

مگر یہ کوئی طریقہ تو نہی ہے کہ آدھی رات کو میرے کمرے میں چلا آئے۔

میری بھی کوئی عزت ہے۔

اس کو سوچنا چاہیے۔کہ اگر کسی نے دیکھ لیا اس کو میرے کمرے میں آتے جاتے تو کیا نتیجہ ہو گا اس کا۔

خیر یہ تو اچھا ہوا کہ چلا گیا۔یہ بھی کسی پریشانی سے کم نہی ہے۔

میں سو جاتی ہوں۔صبح سکول جانا ہے مجھے۔پھر صبح آنکھ نہی کھلتی۔

رامین نے اٹھ کر کھڑکی کھول دی۔اسے گھبراہٹ سی ہو رہی تھی۔

گرمی کی وجہ سے۔۔۔۔یا پھر شاید کسی اور وجہ سے وہ سمجھ نہی پائی۔

کھڑکی کھول کر ادھر اُدھر گلی میں نظر دوڑائی۔دور دور تک کوئی نظر نہی آیا۔

رامین چھت پر نظریں جمائے بیڈ پر بیٹھی تھی۔نیند نہی آ رہی تھی۔

میرے بارے میں سوچ رہی ہو؟؟؟؟

اسے پھر سے وہی آواز سنائی دی۔رامین جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔

کھڑکی کے پاس سینے پر ہاتھ باندھے وہ کھڑا تھا۔

رامین کو لگا شاید میرا وہم ہے۔

مگر جب وہ چلتے ہوئے اس کے پاس آیا تو یقین ہوا رامین کو کہ وہ پھر سے واپس آ گیا ہے۔

افففف۔۔۔۔بے ساختہ رامین کے لبوں سے نکلا۔

عجیب شخص ہے یہ میں تو سمجھی تھی ناراض ہو کر چلا گیا ہے۔

دوبارہ کبھی نہی آئے گا۔

مگر رامین کے تمام خیالات غلط ثابت ہوئے۔

وہ چلتے ہوئے رامین کے پاس آیا۔اور ایک شاپر رامین کی طرف بڑھایا۔

رامین سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو یہ کیا ہے۔

یہ آئیسکریم ہے۔۔۔تمہارے لیے لایا ہوں۔

اس کی بات پر رامین نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔

میں نے اتنی باتیں سنائی اس کو۔اور میں سمجھی کہ یہ اب دوبارہ نہی آئے گا۔

ناراض ہو کر چلا گیا ہے۔

مگر یہ میرے لیے آئیسکریم لینے گیا تھا۔

آخر کیسا انسان ہے یہ۔۔۔رامین جھنجلا گئی۔

مجھے نہی کھانی آئسکریم۔۔۔آپ لے جائیں یہ۔اور خود بھی چلے جائیں یہاں سے۔۔رامین غصے میں مگر آہستہ آواز میں بولی۔

آئیسکریم تو کھانی پڑے گی۔۔۔

میں بہت محنت سے لایا ہوں۔۔

اور۔۔۔

بہت دور سے بھی۔۔۔

اب تم یہ بتاو پیار سے کھا لو گی۔یا پھر دوسرا طریقہ آزماوں میں؟؟۔۔سوالیہ نظروں سے رامین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

اگر میں کہوں کی مجھے نہی کھانی تو۔۔؟؟

رامین ضد پر اٹک چکی تھی۔

وہ چلتا ہوا رامین کی طرف آیا۔اور پاکٹ میں سے گن نکال کر رامین کے سامنے لہرائی۔

یہ کھلونا نہی ہے۔

اصل ہے۔۔کہو تو چلا کر دکھاوں۔۔۔؟؟

رامین کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔۔آنکھوں کے سامنے لہراتی گن دیکھ کر۔

وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائی۔

یہ واقعی چچچچور ہے۔

اس کے پاس گن بھی ہے۔

رامین جو اب تک اندازہ لگا رہی تھی۔کہ یہ خود کو بس ایسے ہی چور کہتا ہے۔

حقیقت میں ایسا کچھ نہی ہے۔

مگر اب اس کے ہاتھ میں گن دیکھ کر اس کو اندازہ ہو چکا تھا۔یہ چور ہے۔اور وہ بھی خطرناک۔

تم کھا رہی ہو یا نہی؟۔۔آخری بار پوچھ رہا ہوں۔

رامین کو سوچ میں پڑتے دیکھ وہ پھر سے بول پڑا۔

رامین کچھ نہی بولی۔چپ چاپ شاپر کھولا۔اور آئیسکریم نکال کر کھانی شروع کر دی۔

رامین آئیسکریم کھا رہی تھی۔

مگر ساتھ ہی ساتھ آنسو بھی بہا رہی تھی۔

پرنس مسکرا دیا۔رامین کے آئیسکریم کھانے کے انداز پر۔پہلی بار دیکھ رہا تھا کسی لڑکی کو روتے روتے آئیسکریم کھاتے ہوئے۔

وہ اس منظر کو آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہا تھا۔

رامین نے آئیسکریم کھا کر خالی کپ اور چمچ شاپر میں ڈال کر رکھ دیا۔

پرنس نے وہ شاپر اٹھا کر باسکٹ میں پھینک دیا۔اور کرسی اٹھاتے ہوئے بیڈ کے قریب لے آیا۔

رامین ابھی بھی آنسو بہا رہی تھی۔

پرنس کا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر رامین کے آنسو صاف کر دے۔

مگر ایسا نہی کر سکا۔

ابھی ان کے درمیان کوئی جائز رشتہ جو نہی تھا۔

جو وہ ابھی کر رہا تھا۔

یوں چوری چھپکے آدھی رات کو رامین کے کمرے میں آنا۔

اچھی طرح جانتا تھا۔یہ بھی غلط ہے۔

مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو چکا تھا۔

نا چاہتے ہوئے بھی وہ ایسا کر رہا تھا۔

وہ رامین کو ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔

مگر اس سے پہلے رامین کے دل میں اپنے لیے تھوڑی محبت پیدا کرنا چاہتا تھا۔

اب تم ساری رات رو کر گزاروں گی کیا۔۔؟؟؟

اس کی بات پر رامین نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔رامین نظریں جھکا گئی۔

ہمممم تو کیا کہہ رہی تھی تم۔۔؟؟؟

میں یہاں سے چلا جاوں اور دوبارہ کبھی نہ آوں۔وہ رامین کے چہرے پر نظریں جمائے مدھم لہجے میں بولا۔

تو ایک بات میں صاف صاف بتا دوں۔

اب تمہارا مجھ سے پیچھا نہی چھوٹنے والا۔

میرا جب کب تمہیں دیکھنے کو دل چاہے گا۔

میں تم سے ملنے آوں گا۔

تم مجھے روک نہی سکتی۔

میں ایک بار جو فیصلہ کر لوں۔پھر قدم پیچھے نہی ہٹاتا۔یہ اصول ہے میری زندگی کا۔

اوہ۔۔۔تو اس لیے میری مدد کی تھی آپ نے۔

تا کہ میرے کمرے تک رسائی حاصل ہو سکے آپ کو۔

اس سے تو اچھا تھا کہ آپ میری مدد نہ ہی کرتے۔

وہ دونوں میرا راستہ روکتے رہتے۔

میں ان سے ڈر کر بھاگتی رہتی۔

کم ازکم وہ میرے کمرے میں تو نہی آتے تھے۔چوروں کی طرح۔۔۔رامین تلخ لہجے میں اسے اس کی غلطیاں باور کروا گئی تھی۔

اس کمرے میں میرے علاوہ کوئی اور آ بھی نہی سکتا۔

تم پر اور اس کمرے پر بس میرا حق ہے۔اور میرا ہی رہے گا۔

اور رہی بات میرے مدد کرنے کی۔تو جو میں نے کیا میرا فرض تھا۔

تمہاری حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔اور میں یہ فرض نبھاتا رہوں گا۔

فرض،حق۔۔۔رامین نے ان دو الفاظوں پر غور کیا۔

پہلی بات تو یہ کہ آپ کا مجھ پر کوئی حق نہی ہے۔اور

دوسری بات یہ کہ۔۔۔فرض وہ رشتے ہوتے ہیں جن پر کوئی حق ہو ہمارا۔

نہ تو آپ کا مجھ سے کوئی رشتہ ہے۔اور نہ ہی آپ کا مجھ پر کوئی حق ہے۔

اسی لیے بہتر ہے کہ آپ اس فرض سے غفلت اختیار کریں۔

اپنی زندگی میں خوش رہیں۔

اور آئیندہ یہاں مت آئیے گا۔

میں غریب ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہوں۔

ان کے لیے کسی پریشانی کا سبب نہی بننا چاہتی میں۔

مانتی ہوں آپ نے میری مدد کی ہے۔آپ کی شکر گزار ہوں میں۔

اور آپ نے بہت بڑا احسان کیا ہے مجھ پر۔

مگر میرے پاس عزت کے سوا کچھ بھی نہی ہے۔

ایسا کچھ مت کریں کہ میری عزت مٹی میں مل جائے۔

رامین اس کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑے نظریں جھکائے بول رہی تھی۔

اس نے گن بیڈ پر رکھ دی۔اور رامین کے اس کے سامنے جوڑے ہاتھ تھام لیے۔

رامین ایک دم پیچھے ہٹی۔

اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی۔

مگر اس کی گرفت مظبوط تھی۔

رامین کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔

ان ہاتھوں کو زندگی بھر تھامنا چاہتا ہوں میں۔وہ رامین کے نازک ہاتھوں پر نظریں جمائے بولا۔

میں بہت برا انسان ہوں۔

جانتا ہوں میں بہت غلط کر رہا ہوں۔

مگر میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو چکا ہے۔

حق کی بات کر رہی ہو نہ تم؟؟؟

تو سنو میرے دل پر تم حق جمائے جو بیٹھی ہو اس میں میرا کیا قصور ہے۔

جب سے تمہیں دیکھا ہے۔یہ دل میرا نہی رہا۔

تمہارے معصوم چہرے کو بار بار دیکھنے کی ضد کرتا ہے یہ مجھ سے۔

اور میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہاں چلا آتا ہوں۔

تم میری کمزوری بن چکی ہو۔آج سے نہی۔پچھلے کئی مہینوں سے تم میرے دل پر راج کر رہی ہو۔

بس میں تمہیں کھونا نہی چاہتا۔

بہت ڈرتا ہوں۔تمہیں کھونے سے۔

تمہیں اپنی بنانا چاہتا ہوں۔

مگر کیسے یہ سمجھ نہی آتا۔

اب تم ہی بتاو کہ میں کیا کروں۔۔۔؟؟

ہے کوئی علاج تمہارے پاس۔۔۔۔؟؟؟؟

ایک مہینے کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہوں میں۔سوچا جانے سے پہلے تم سے مل لوں۔

کیا پتہ پھر موقع ملے یا نہ ملے۔رامین کے ہاتھ اب چھوڑ دئیے اس نے۔

رامین کے آنسو اب رک چکے تھے۔وہ تو بس اس کے اقرار پر حیران سی رہ گئی۔

چلتا ہوں۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی۔وہ اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھا۔

سنیں۔۔۔۔وہ ابھی کھڑکی کی طرف بڑھا ہی تھا۔کہ رامین کی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔

اور لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

وہ پلٹ کر رامین کی طرف دیکھنے لگا۔

آپ کے مرض کا علاج ہے میرے پاس۔

اگر آپ واقعی مجھے اپنانا چاہتے ہیں دل سے۔

تو آپ کو میرے والدین سے بات کرنی پڑے گی۔اگر وہ مان گئے۔

تو میں دل سے آپ کی محبت قبول کر لوں لوں گی۔رامین نظریں جھکائے بولی۔

اور اگر وہ نہ مانیں تو۔۔۔۔وہ جلدی سے بولا۔۔۔۔۔؟؟؟

اگر وہ نہ مانیں تو میں دل سے ان کے فیصلے کو قبول کر لوں گی۔

رامین مسکراتے ہوئے بولی۔

رامین کو مسکراتے دیکھ اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔

آپ چہرہ کیوں چھپاتے ہیں مجھ سے۔رامین نے سوال کر ڈالا۔

کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے چہرے کو اس وقت دیکھو جب میرا تم پر پورا حق ہو۔

تب تک کے لیے یہ راز میں ہی رہنے دو۔

خدا حافظ۔ایک نظر رامین پر ڈالتے وہ کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔

اور رامین وہی لیٹ گئی۔اس نے کھڑکی بند نہی کی۔جانتی تھی اب نہی آئے گا واپس۔

_______________________

احتسام گھر جا کر فریش ہونے چلا گیا۔تیار ہو کر نیچے ناشتہ کرنے چلا گیا۔

وہ سب کے ساتھ بیٹھے ہوئے بھی ان سب سے بہت دور کھویا ہوا تھا۔

اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔

صلہ کے الفاظ اس کے دماغ میں رقص کر رہے تھے۔

میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔

مجھ سے نکاح کر لیں۔پھر تو کوئی مسلہ نہی ہو گا۔میں آپ کی بیوی بن جاوں گی۔

وہ کتنی ہی دیر اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھا رہا۔

ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گیا۔

بھائی پھوپھو کا فون ہے۔

رانیہ نے فون اس کی طرف بڑھایا۔

اپنا فون وہ ٹیبل پر ہی بھول آیا تھا۔

بے دلی سے رانیہ سے فون لیا۔اور کان سے لگا لیا۔

اسلام و علیکم۔۔۔

پھوپھو کیسی ہیں آپ۔۔۔؟؟

میں ٹھیک ہوں۔احتسام تم کیسے ہو۔؟؟

میں بھی ٹھیک ہوں۔الحمدللہ

آپ کی دعاوں سے۔

اللہ پاک تمہیں سلامت رکھے میرے بیٹے۔پھوپھو نے اسے دعا دی۔

میں نے یہی پوچھنے کے لیے فون کیا تھا۔کہ کب کی ڈیٹ رکھنی ہے پھر شادی کی۔

اب بھائی کے بعد تم ہی تو بڑے ہو گھر کے۔

اب ساری باتیں تم سے ہی تو کرنی ہیں۔

ہانیہ اور شاذر کا رشتہ تو بھائی صاحب نے اپنی زندگی میں طے کیا تھا۔

ان کو اس دنیا سے گئے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔

ویسے تو ایسے ہی لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔

وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے۔

وقت کہاں رکتا ہے۔

پھوپھو افسردہ ہو چکی تھیں۔

جی پھوپھو صحیح کہا آپ نے۔خیر میں جلدی بتاتا ہوں آپ کو۔۔امی سے مشورہ کر لوں پھر۔

اس نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی۔

ہاں ہاں ٹھیک ہے کر لو مشورہ۔

اور بتاو مجھے جلدی۔میں تمہارے فون کا انتظار کروں گی۔

خدا حافظ۔۔۔انہوں نے فون بند کر دیا۔

احتسام بھول چکا تھا اس بارے میں۔پچھلے چند دنوں سے وہ بس صلہ کے بارے میں سوچتا رہا۔

فون اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔

آفس پہنچ کر بھی اس کا ذہن وہیں الجھا رہا۔

سارا دن یونہی پریشانی میں گزرا۔

پھوپھو تاریخ دینے کا کہہ رہی تھیں۔

اور اس کے پاس تو پیسے ہی نہی تھے۔

اب کیا جواب دیتا پھوپھو کو۔

اب کیا بتاوں پھوپھو کو۔

پیسے نہی ہے میرے پاس۔

اگر انہوں نے رشتہ توڑ دیا۔۔تو۔۔؟؟

نہہیی۔۔۔ایسا نہی ہونے دوں گا میں۔

کل پھر سے بات کر کے دیکھتا ہوں باس سے۔

شاید کوئی حل نکل آئے۔

یونہی سوچوں میں ڈوبا وہ گھر پہنچا۔

اپنے کمرے میں جا کر پریشان سا بیڈ پر بیٹھ گیا۔

ابھی بیٹھا ہی تھا کہ امی آ گئیں۔

احتسام بیٹا تمہاری پھوپھو صبح سے کال کر رہی ہیں۔

پوچھ رہی ہیں کیا فیصلہ کیا احتسام نے۔

بیٹا کیا بنا تم نے بات کی اپنے باس سے۔لون کے بارے میں۔۔؟؟؟؟

جی امی میں نے کی تھی بات۔۔۔مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔

مگر امی آپ فکر مت کریں۔

میں کل دوبارہ بات کروں گا ان سے۔

امید ہے وہ مان جائیں گے۔

آپ فکر مت کریں۔میں ہوں نہ۔۔سب سنبھال لوں گا۔

ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں۔

احتسام نے ان کو تسلی تو دے دی تھی۔

مگر خود بھی نہی جانتا تھا کہ کل کیا ہو گا۔

دروازہ ناک ہوا۔۔وہ الماری سے کپڑے نکال رہا تھا۔

کم ان۔۔۔تم دونوں کو کب سے ضرورت پڑ گئی بھائی کے کمرے میں آنے سے پہلے دروازہ ناک کرنے کی۔

احتسام پلٹا۔۔اور اس کی مسکراہٹ ایک پل میں غائب ہوئی۔

_____________________________

رامین اس کے جانے کے بعد باقی کی رات سو نہ سکی۔

اسے عجیب سی بے چینی نے آن گھیرا تھا۔

پتہ نہی کیوں اسے ڈر سا لگ رہا تھا۔ کہ واقعی ہی پرنس مجھ سے محبت کرتا ہے۔

یا پھر میرے ساتھ کوئی گیم کھیل رہا ہے وہ۔

ساری رات یونہی سوچتے ہوئے گزری اس کی۔

سمجھ میں نہی آ رہا کس کو بتاوں یہ سب۔

ایسا کوئی بھی نہی جس سے اس بات کو شئیر کر سکوں میں۔

اففف۔۔۔۔کس مصیبت میں پڑ گئی ہوں میں۔

یہ تو وہی ہوا۔۔۔آسمان سے گرا۔کھجور میں اٹکا۔

اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو رامین وضو کرنے چلی گئی۔

نماز پڑھنے کے بعد نیچے چلی گئی۔

ناشتہ کیا۔اور واپس اوپر آ گئی۔

تیار ہو کر نیچے گئی۔تو ثوبیہ آ چکی تھی۔

ثوبیہ کے ساتھ باہر گئی۔تو اسد نہی آیا تھا آج۔

رامین کو حیرانگی ہوئی۔

اسد نہی آیا۔۔؟؟؟

اس نے پوچھ ہی لیا۔ثوبیہ سے۔

اچھا ہوا نہی آیا۔بہت تنگ کرتا ہے مجھے روز

۔ابا کے ساتھ گیا ہے۔دوسرے شہر۔کچھ پتہ نہی کب آئے۔

شاید ابا اس کو نوکری دلا دیں وہاں۔ثوبیہ مسکراتے ہوئے بتا رہی تھی۔

یا پھر ہو سکتا ہے ایک مہینے بعد ہی واپس آ جائے وہاں سے۔۔۔کیونکہ نوکری پر ایک مہینے سے زیادہ نہی ٹکنے والا وہ۔۔۔

دیکھ لینا تم۔۔۔

ثوبیہ بولی جا رہی تھی۔مگر رامین کا ذہن تو کہیں اور ہی الجھ کر رہ گیا تھا۔

ایک مہینے کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہوں۔سوچا جانے سے پہلے تمہیں مل لوں۔

اسد بھی ایک مہینے بعد واپس آئے گا۔

کہی اسد ہی پرنس تو نہی۔۔۔رامین حیران رہ گئی۔

اور پرنس نے کہا تھا کہ وہ مجھے کئی مہینوں سے جانتا ہے۔

اور اس دن جب وہ دونوں لڑکے مجھ سے معافی مانگ رہے تھے۔

اس دن اسد بھی وہیں پر تھا۔۔۔

نہہی۔۔۔یہ سب اتفاق نہی ہو سکتا۔

اس کا مطلب اسد ہی پرنس ہے۔

اسی لیے مجھ سے چہرہ چھپاتا ہے۔

یہ تم نے ٹھیک نہی کیا اسد۔۔واپس آ جاو ایک بار پھر تم سے نپٹتی ہوں۔تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے۔

رامین الجھنوں میں ڈوبی سکول میں داخل ہو گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *