Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi NovelR50687 Tu Qadar Na Jani (Episode 28)
Rate this Novel
Tu Qadar Na Jani (Episode 28)
Tu Qadar Na Jani by Khanzaadi
احتسام بھی مسکراتے ہوئے بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔
اچھا اب نہی کرتا’احتسام رامین کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا۔
رامین مسکرا دی’
میری منہ دکھائی’رامین نے احتسام کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔
احتسام نے مسکراتے ہوئے رامین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
یہی ہے تمہاری منہ دکھائی’میرا ساتھ۔
رامین مسکرا دی’مجھے قبول ہے۔
گڈ گرل!
احتسام مسکراتے ہوئے بیڈ سے اتر گیا۔
کھانا لا رہا ہوں میں’بہت بھوک لگ رہی ہے۔
صبح سے کچھ نہی کھایا’اور مجھے یقین ہے کہ تم نے بھی کچھ نہی کھایا ہو گا۔
جی’رامین مسکراتے ہوئے بولی۔
لیکن مجھے بھوک نہی ہے’
رامین کی بات پر احتسام نے اسے گھوری سے نوازا۔
بھوک نا ہو پھر بھی کھانا پڑے گا’احتسام کمرے سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد احتسام کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوا۔
رامین بے ساختہ ہنس پڑی’
احتسام نے مسکراتے ہوئے کھانے کی ٹرے رامین کے سامنے رکھ دی۔
ہنس لو جتنا ہنسنا ہے’اب شادی کی ہے تو بیوی کی خدمت تو کرنی پڑے گی۔
رامین مسکرا دی’
چلیں کھانا شروع کرتے ہیں’دونوں نے کھانا شروع کر دیا۔
کھانا کھانے کے بعد احتسام نے ٹرے اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
بھائی آپ؟
رانیہ پہلے سے ہی کچن میں موجود تھی۔
احتسام نے شرمندہ ہوتے برتن رانیہ کی طرف بڑھائے۔
واوو۔۔۔کیا بات ہے بھائی آپ بھابی کے لیے کھانا کمرے میں لے کر گئے۔
رانیہ برتن سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولی’
ویسے پہلے تو کبھی آپ نے خود کھانا گرم نہی کیا’اور آج نا صرف کھانا گرم کیا’
بلکہ ٹرے میں سجا کر کمرے میں لے کر گئے۔
نائیس چینج!
صلہ نے صبح سے کچھ کھایا نہی تھا’تم نے ہی تو بتایا تھا مجھے۔
اب میں تمہیں ڈسٹرب نہی کرنا چاہتا تھا’بس اسی لیے خود آ گیا کھانا لینے۔
ہممم ٹھیک ہے’خیر جائیں آپ آرام کریں۔
رانیہ مسکراتے ہوئے برتن سمیٹنے لگی۔
احتسام بھی کچن سے باہر نکل گیا۔
احتسام کمرے میں گیا تو رامین ویسے ہی سجی سنوری بیٹھی تھی۔
اپنے ہاتھ میں پہنی چوڑیوں کو چھو رہی تھی۔
احتسام مسکراتے ہوئے رامین کی طرف بڑھا’
تبھی اس کے فون کی رِنگ ٹون بجی!
رامین بھی احتسام کی طرف متوجہ ہوئی’
احتسام فون کان سے لگائے بات کرنے میں مصروف تھا۔
کال کاٹ کر رامین کی طرف بڑھا’
رامین تم چینج کر کے سو جاو’مجھے ایک ضروری کام سے آفس جانا ہے ابھی۔
بہت ضروری فائل پہنچانی ہے باس تک’ان کی فلائٹ ہے ایک گھنٹے بعد۔
اور وہ فائل ان کو چاہیے ابھی’
تم آرام کرو پلیز’میں تھوڑی دیر تک آ جاوں گا۔
احتسام رامین کا گال تھپکتے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
رامین کے چہرے پر اداسی چھا گئی’ایسے کوئی چھوڑ کر جاتا ہے اپنی بیوی کو۔
رامین بستر پر گر گئی’کل سے سو نہی سکی ٹھیک سے۔
جلدی ہی آنکھ لگ گئی’وہ بنا کپڑے چینج کیے ہی سو گئی۔
رامین کی آنکھ کھلی تو کمرے میں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔
احتسام۔۔۔رامین نے احتسام کو آواز دی۔
مگر کوئی جواب نہی ملا’اس کا مطلب تھا کہ احتسام ابھی تک گھر واپس نہی آیا۔
رامین اپنا بھاری بھرکم لہنگا سنبھالتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتری’
سائِیڈ ٹیبل پر موبائل ٹٹولنے لگی’مگر موبائل نہی ملا۔
میرا فون کہاں گیا؟
رامین موبائل ڈھونڈتے ہوئے بولی۔
رامین نے دونوں سائیڈ ٹیبلز پر ڈھونڈ لیا’مگر فون نہی ملا۔
اچانک کمرے میں مدھم سی روشنی ہوئی’کینڈل لائٹ کی روشنی۔
رامین روشنی کی طرف پلٹی!
سامنے ٹیبل پر رکھی موم بتی جل رہی تھی’
اس کے پاس بیٹھا ایک وجود رامین کے قدم لڑکھڑائے۔
اس نے نظریں اٹھا کر رامین کی طرف دیکھا’
مدھم سی روشنی میں بھی اس کی آنکھیں جگمگا رہی تھیں۔
چہرے پر آج بھی نقاب،سر پر کیپ۔
پرنس۔۔۔۔بے ساختہ رامین کے ہونٹوں پر یہ نام آیا۔
وہ اٹھ کر رامین کی طرف بڑھا’
رامین نے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے۔
نہی۔۔۔۔۔۔تم پرنس نہی ہو’
رامین نے سر نفی میں ہلایا۔
میں ضرور کوئی خواب دیکھ رہی ہوں’
رامین کے قدم پیچھے کی طرف بڑھ رہے تھے’جبکہ پرنس رامین کی طرف بڑھ رہا تھا۔
رامین نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو رکنے کا اشارہ کیا’مگر وہ نہی رُکا۔
رامین دیوار سے جا لگی’
اور پرنس رامین کے قریب آ رُکا۔
شادی مبارک ہو’
وہی مدھم سا لہجہ’
خوبصورت آواز،رامین کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔
_______________
پرنس۔۔؟
رامین نے بے ساختہ پکارا’
“ہاں جی پرنس ہی ہوں میں’مسز احتسام،،
رامین چونکی!
یہ کوئی خواب نہی تھا’
پرنس سچ میں یہاں موجود ہے۔
لیکن اظہر نے تو کہا آپ مر۔۔۔!
اس سے آگے رامین نہی بول سکی’
“اگر مر گیا ہوتا تو تمہارے سامنے نا ہوتا’
“اگر مر چکا ہوتا تو تمہارے دل میں زندہ نا ہوتا’اگر میں مر چکا ہوتا تو تمہارے دل میں بھی مر جاتا’
“میری یادیں زندہ نا ہوتی تمہارے دل میں’
رامین حوش میں آئی’
دونوں ہاتھوں سے اسے دھکا دیتے ہوئے خود سے دور کیا’
“کیوں آئے ہیں اب میری زندگی میں’
جب مجھے آپ کی ضرورت تھی تب کہاں تھے آپ؟
میری شادی’میرے شوہر کا نام سب کچھ جان چکے ہیں آپ’
مگر یہ نہی جان سکے آپ کہ پچھلے کئی سالوں سے کن کن ازیتوں سے گزری ہوں میں۔
آپ کا جب دل چاہتا ہے آپ میری زندگی سے چلے جاتے ہیں’اور جب دل چاہتا ہے واپس آ جاتے ہیں۔
آخر کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے؟
جب بھی میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہوں آپ میرے سامنے آ جاتے ہیں۔
بس اب اور نہی!
آپ کو کوئی حق نہی’
آپ میری زندگی میں دخل اندازی بند کریں۔
چلے جائیں ہمیشہ کے لیے میری زندگی سے’
خوش رہنے دیں مجھے!
میں احتسام کے ساتھ خوش ہوں’
مجھے خوش رہنے دیں آپ۔
اب مزید “پرنس نام کا درد میں نہی سہنا چاہتی’
آپ پلیز جائیں یہاں سے!
پرنس کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گیا’
وہی پرانا انداز’
رامین کو حیرت ہوئی’اتنا کچھ سُننے کے بعد بھی بیٹھ گئے۔
اور بیٹھے بھی کیسے ہیں’نواب بن کر۔
ایسے جیسے اپنا گھر ہو’
رامین غصے سے اس کی طرف بڑھی’
آپ نے سُنا نہی میں نے کیا کہا؟
خدا کے لیے یہاں چلے جائیں!
میری زندگی کو مزید آزمائیشوں میں مت ڈالیں۔
“پرنس کی مسکراتی آنکھیں’رامین کو لگا جیسے وہ اس کا مزاق بنا رہا ہے۔
رامین بیڈ کی طرف بڑھی’
تو ٹھیک ہے’آپ آرام سے بیٹھیں یہاں۔
احتسام بس آنے والے ہیں’خود ہی نپٹ لیں گے آپ سے’
رامین اپنا لہنگا سنبھالتے ہوئے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی’
وہ کرسی سے اٹھ کر رامین کی طرف بڑھا’بیڈ پر آ کر آرام سے تکیا سیٹ کرتے ہوئے لیٹ گیا۔
اب تو رامین کے پیروں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی’
وہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری’
یہ کیا بدتمیزی ہے؟
رامین تقریباً چلائی۔
آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب؟
آخر کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے؟
کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا؟
رامین آنسو بہاتے ہوئے بولی۔
آپ سمجھ کیوں نہی رہے’ہمارا ساتھ قسمت میں لکھا ہی نہی۔
آپ نے ہمیشہ کی طرح آج بھی آنے میں دیر کر دی’میں خود کو احتسام کے نام کر چکی ہوں،،
پرنس بیڈ سے اٹھتے ہوئے رامین کے پاس آ رکا’
“تم ابھی بھی وہی ڈری سمہی سی،آنسو بہانے والی رامین ہو’
“کامیاب عورت” کب بنو گی تم؟
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے بولا۔
“میں تو سمجھا تھا تم سنبھل چکی ہو گی’
زندگی میں آگے بڑھ چکی ہو گی’مگر نہی تم تو آج بھی وہیں ہو جہاں میں چھوڑ کر گیا تھا،،
“آج بھی اسی مقام پر ٹہری ہو’کسی اور کے نام کی مہندی ہاتھوں میں سجائے’
“تب میں تمہاری خوشی کے لیے تم سے دور گیا تھا’اور آج تمہاری خوشی کے لیے ہی واپس آیا ہوں،،
“ایک غلطی ہوئی تھی مجھ سے’میں نے پلٹ کر واپس نہی دیکھا۔
یہ سمجھا تھا کہ تم خوش ہی ہو گی’دا سمارٹ کنگ اظہر ملک کے ساتھ”
“میں تم دونوں کی زندگی سے دور چلا جانا چاہتا تھا’
مگر جانتی ہو تمہارے سابقہ شوہر نے کیا کیا تھا میرے ساتھ؟
نہی۔۔۔تم کیسے جانتی ہوگی۔
“میں بتاتا ہوں’اس نے مجھے مارنے کے لیے غنڈے بھیجے۔
اور صرف غنڈے نہی’خود آیا مجھے مارنے کے لیے۔
میری گاڑی کا پیچھا کروایا اظہر نے’
میری گاڑی پر گولیاں برسائی گئیں’مگر مجھے ختم نہی کر سکا وہ۔
“میری قسمت اچھی تھی شاید’رات کا اندھیرے میں جنگل میں اس نے جس پر گولیاں برسائی وہ میں نہی تھا’
بلکہ اسی کا ایک آدمی تھا’شراب کے نشے میں چور”اظہر نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا۔
اسے لا وارثوں کی طرح میری لاش سمجھ کر وہاں سے بھاگ گیا۔
اس کے بعد میں نہی جانتا اسد وہاں کیسے آیا’میرے بازو پر گولی لگ چکی تھی۔
میں بے حس و حرکت ایک درخت کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا۔
میرے بازو سے خون نکل کر میری ساری شرٹ بھگو چکا تھا۔
آنکھیں بند ہو رہی تھیں’اس وقت جو آخری چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا وہ اسد تھا۔
اس کے بعد مجھے ہوش نہی رہا’
جب آنکھ کھلی تو خود کو ہاسپٹل کے بستر پر پایا’
بازو پر پٹیاں لپٹی تھیں’درد نا قابلِ برداشت تھا۔
اسی وقت اسد کے فون پر اظہر کی کال آئی’
وہ بے باقی سے ہنس رہا تھا’
اسد نے فون کا سپیکر آن کر دیا۔
مبارک ہو اسد!
بہت بہت مبارک ہو’پرنس کا کام تمام کر دیا میں نے’
اس سے پہلے کہ تمہارے دوست کی لاش کو جنگلی جانور نوچ ڈالیں۔
جاو جا کر لاش اٹھا لو اپنے جگری دوست کی جنگل سے’
وہ ذہر اُگل رہا تھا’
نفرت کرتا ہوں میں اُس سے’جانتے ہو کیوں؟
کیونکہ رامین کے دل میں ابھی بھی پرنس ہے’وہ بھول نہی پائی اُسے۔
“وہ میرے ساتھ ہو کر بھی میرے ساتھ نہی ہوتی’اس کے دل میں بس “پرنس بسا ہے۔
وہ میری بیوی تو بن چکی ہے’مگر مجھ سے بے وفائی کر رہی ہے۔
صرف اور صرف پرنس کی وجہ سے’اب وہ میرے اور رامین کے درمیان نہی آئے گا۔
“مار ڈالا میں نے پرنس کو”
“اظہر کے الفاظ میرے کانوں میں کانٹوں کی طرح چُب رہے تھے۔
اسد نے کال کاٹ دی’اور وہ میری طرف بڑھا۔
نہی تم ہمت نہی ہار سکتے’
تمہیں جینا ہے اپنوں کے لیے’رامین کے لیے۔
“وہ بہت محبت کرتی ہے تم سے’تمہیں واپس لانا ہو گا رامین کو۔
بچانا ہو گا اسے اس بے حس انسان کے چنگل سے’اسد میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بول رہا تھا۔
مگر میں کچھ بھی سُننے کی کیفیت میں نہی تھا’
“رامین کو تمہاری ضرورت ہے’اس کی مدد کرنی ہو گی تمہیں’
“وہ محبت کرتی ہے تم سے”
تم سُن رہے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں’اسد نے میرا بازو جھنجوڑا۔
“میں سب سُن رہا ہوں اسد!
“تم بھی میری بات کان کھول کر سُن لو!
“پرنس مر چکا ہے!
آج سے پرنس مر چکا ہے’
“اگر میرے مرنے سے رامین کی زندگی کی مشکلات دور ہو سکتی ہیں’تو میں مر چکا ہوں آج سے’
نہی تم ایسے ٹوٹ نہی سکتے’تم بہت بہادر ہو۔
“رامین کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتے ہو تم؟
“محبت کرتی ہے وہ تم سے!
نہی اسد!
“وہ مجھ سے محبت نہی کرتی’اسے بس میری عادت ہو چکی تھی’
“محبت تو بس میں نے ہی کی تھی اس سے’اگر وہ مجھ سے محبت کرتی ہوتی تو میرے ساتھ آ جاتی اس رات،،
اسد کو رامین کی مہندی والی رات یاد آئی’جب پرنس رامین کے گھر سے باہر آیا۔
اس نے اپنے چہرے سے نقاب نوچ کر اتار ڈالا’کیپ اتار کر وہیں پھینک دی۔
آنکھوں میں آنسو تھے’وہ ایک ہارا ہوا شخص لگ رہا تھا۔
اسد جلدی سے اس کی طرف بڑھا’
کیا ہوا؟
رامین نہی آئی تمہارے ساتھ؟
وہ سوال پر سوال کر رہا تھا’مگر پرنس تو جیسے سُن ہی نہی رہا تھا۔
“وہ بس تیزی سے اپنی بائیک کی طرف بڑھا’
اسد نے اسے جھنجوڑا’
کیا ہوا یار؟
کچھ بولو تو سہی!
کیوں نہی آئی رامین؟
اسد راستے سے ہٹو’اسے نہی آنا۔
“مجھے نفرت ہے رامین سے’
“پرنس کی بات پر اسد مسکرا دیا’
جھوٹ مت بولو تم!
“میں اچھی طرح جانتا ہوں کتنی محبت کرتے ہو تم رامین سے’
وہ تمہارے ساتھ نہی آئی’اس کا یہ مطلب ہرگز نہی ہے کہ وہ تم سے محبت نہی کرتی۔
“وہ مجبور ہے یار!
میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا تم سے کہ وہ نہی آئے گی۔
“رامین ان لڑکیوں میں سے نہی ہے جو محبت کی خاطر ماں باپ کی عزت نیلام کر دیں’
“وہ ایک نیک اور پاکیزہ لڑکی ہے’
“ماں باپ سے محبت کرنے والی’
“وہ محبت کو چھوڑ سکتی ہے’ماں باپ کو نہی”
“اپنے ماں باپ کی خوشی کی خاطر وہ اس شادی سے انکار نہی کر سکی۔
“بہتر یہی ہے کہ تم اسے بھول جاو’اور اس کی آنے والی زندگی کے لیے دُعا کرو۔
“میری محبت کا کیا!
“میں نے بھی تو محبت کی ہے اس سے’مجھے کیوں ٹھکرا دیا اس نے’
میرا کیا قصور تھا اسد!
تمہارا کوئی قصور نہی تھا یار’بس وہ تمہاری قسمت میں نہی تھی۔
“اللہ کی یہی مرضی تھی”
ایک خواب سمجھ کر بھول جاو اسے’
“بھول جاوں؟
“کیسے بھول جاوں۔۔۔؟
“نہی بھول سکتا میں رامین کو’نفرت کرتا ہوں میں اس سے۔
وہ بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
“اگر اس کو مجھ سے محبت ہوتی تو میرے ساتھ آ جاتی’مگر وہ نہی آئی۔
اسے بس میری عادت ہو چکی تھی’محبت نہی!
“تم اب بھی غلطی کر رہے ہو یار’وہ محبت کرتی ہے تم سے۔
تم نے سنا نہی اظہر کیا کہہ رہا تھا؟
ہاں سب سُنا ہے میں نے’مگر اب بھی وہ میرا ساتھ نہی دے گی۔
“اگر میں تمہارے کہنے پر اس کا ساتھ دینے چل بھی پڑا’تو کیا تم گارنٹی دیتے ہو اس بات کی کہ وہ میرا ساتھ دے گی،،
اسد خاموش ہو گیا’
مگر تم کوشش تو کر سکتے ہو ناں؟
نہی اسد’میں اب میں ایسی کوئی کوشش نہی کروں گا۔
“میں پہلے ہی ٹوٹ چکا ہوں’بہت مشکل سے سنبھالا ہے خود کو۔
میرے زندہ ہونے سے رامین کی زندگی میں مشکلات تھیں۔
“تو آج سے اس کی ساری مشکلات ختم!
میں یہاں سے بہت دور چلا جاوں گا۔
“تمہارے ساتھ اگر کبھی رابطہ ہو رامین کا یا کبھی ملاقات ہو جائے زندگی میں۔
تو کہہ دینا تم رامین سے’
“پرنس مر چکا ہے۔
نہی۔۔۔اسد نے سر نفی میں ہلایا’
میں ایسا نہی کروں گا۔
میں جاوں گا رامین کے پاس’بتاوں گا اسے کہ اظہر نے کیا کیا ہے تمہارے ساتھ۔
وہ میری بات سنے گی’میں لے کر آوں گا اسے تمہارے پاس۔
تم ایسا کچھ نہی کرو گے’تمہیں میری قسم!
اگر تم نے ایسا کچھ بھی کرنے کی کوشش کی تو میں خود کو ختم کر لوں گا۔
تو ٹھیک ہے پھر!
پڑے رہو یہاں’
