Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

زیان بھاگتے قدموں سے مسجد سے نکلتے گاڑی میں بیٹھتے ہاسپٹل کی جانب بڑھا تھا. عائلہ کی سرجری ہوچکی تھی. مگر ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ جب تک عائلہ کو ہوش نہیں آجاتا وہ لوگ کچھ نہیں کہہ سکتے تھے.
اگلے چودہ گھنٹے عائلہ کے لیے بہت کریٹیکل تھے. خطرے سے باہر عائلہ تب ہی ہوتی اگر اِس دوران اُس کو ہوش آجاتا اور وہ ذہنی اور جسمانی طور پر نارمل ہوتی. گردیزی ولا سے بھی سب وہاں پہنچ چکے تھے. زیان اور ہشام ایک ساتھ وہاں داخل ہوئے تھے. زیان کے چہرے سے اُس کی پریشانی اور تکلیف صاف نظر آرہی تھی. وہ کسی سے بھی بنا کوئی بات کیے ڈاکٹرز کی جانب بڑھا تھا.

فاریہ کے ساتھ کھڑی مِنہا پہلے ہی عائلہ کی وجہ سے رو رو کر ہلکان ہوچکی تھی اور اب ہشام کی بے رخی دیکھ اُسے مزید رونا آگیا تھا. جس نے مِنہا کو ایسے نظر انداز کیا جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو. مِنہا کی نظریں مسلسل ہشام پر ٹکی ہوئی تھیں. جو حیدر صاحب کے پاس کھڑا فل یونیفارم میں ملبوس مِنہا کو کافی تھکا تھکا اور خفا خفا سا لگا تھا. مگر یہ خیال کہ وہ دشمنِ جاں صرف اُس کا ہے مِنہا کو دل تک پرسکون کر گیا تھا. زیان ڈاکٹرز سے پوچھ کر عائلہ کے روم میں داخل ہوا تھا. سرجری کے بعد عائلہ کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا. جہاں وہ مشینوں میں جکڑی اِس وقت اپنے میر سے بلکل غافل تھی.

زیان نے عائلہ کے پاس بیٹھتے اُس کے بے جان پڑے نازک سرد ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیتے اُس پر اپنے ہونٹ ٹکا دیئے دے. عائلہ کے پورے سر پر پٹی بندھی تھی. زیان یک ٹک سا آنکھیں موندے لیٹی عائلہ کی جانب دیکھتا رہا تھا.

” میں نے تمہیں بہت تڑپایا تھا نا اپنی محبت میں. بدلہ لے رہی ہونا مجھ سے اُس بات کا. ظالم اور سنگدل تو میں تھا. تم تو ہمیشہ میرے حوالے سے بہت نرم دل رہی ہو. پھر اب کیوں تڑپا رہی ہو اپنے میر کو اتنا. نہیں ہوں میں تمہاری طرح اتنا صابر نہیں ہورہا مجھ سے یہ سب برداشت. “

زیان کو عائلہ کی تزلیل کیا ایک ایک لمحہ یاد آتے اُس کی تکلیف میں مزید اضافہ کررہا تھا.

زیان کو عائلہ کے پاس ویسے ہی بیٹھے آٹھ گھنٹوں سے اُوپر ہوچکے تھے. اِس دوران مِنہا سمیت باقی سب بھی باری باری عائلہ کو دیکھ کر جاچکے تھے.

عائلہ کو ہوش میں نہ آتا دیکھ اکرام صاحب کی اپنی حالت کافی خراب ہوچکی تھی.

مگر زیان کو پوری اُمید تھی کہ اُس کی عائلہ کو جلد ہی ہوش آجائے گا. اور وہ بلکل ٹھیک ہوجائے گی.

اُس کے اِسی کامل یقین اور سب کی دعاؤں کی وجہ سے ٹھیک دس گھنٹے بعد عائلہ کو ہوش آگیا تھا. عائلہ کو ہوش میں آتا دیکھ زیان اپنے پروردگار کا شکر بجا لایا تھا. جس نے آج اُسے اپنی رحمت سے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا تھا.

ڈاکٹرز عائلہ کا چیک اپ کرکے جاچکے تھے. اُن کے مطابق اب وہ خطرے سے تو باہر تھی. لیکن ابھی دوائیوں کے اثر کی وجہ سے وہ پوری طرح حواسوں میں نہیں لوٹی تھی. اُس کے مکمل طور پر ہوش آنے کے بعد ہی پتا چلنا تھا کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بھی ٹھیک ہے کہیں اِس سرجری کے کوئی سائیڈ افیکٹس تو نہیں پڑے.

سب لوگ اِس وقت بہت خوش تھے. ڈاکٹرز نے اُن سب کو روم میں جانے کی اجازت دے دی تھی. مگر وہاں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں تھی. مگر احتیاط کے تحت اس وقت عائلہ کے پاس صرف زیان ,مِنہا اور فاریہ موجود تھے. محبت بھری نظروں سے عائلہ کو دیکھتے مِنہا کی نظر اُس کا ہاتھ تھام کر بلکل اُس کے پاس بیٹھے زیان پر پڑی تھی.

مِنہا کو اتنا تو پتا چلا تھا کہ زیان عائلہ کو چاہنے لگا ہے. مگر یہ نہیں پتا تھا کہ اِس حد تک دیوانوں کی طرح محبت کرتا ہے وہ عائلہ سے. فاریہ نے اُسے بتایا تھا کہ پچھلے آٹھاراں گھنٹوں سے زیان بنا کھائے پئے عائلہ کی فکر میں اپنا ہوش بلکل بھلائے ہوئے تھا.

زیان کی اپنی دوست کے لیے اتنی محبت دیکھ مِنہا بہت خوش تھی. اُس کا دل مسلسل یہی دعا کررہا تھا. کہ عائلہ ہوش میں آکر بلکل ٹھیک ہو. اور اب اُس کی پیاری دوست بھی ساری آزمائشیں پیچھے چھوڑ کر ایک پرسکون اور محبت بھری زندگی گزار سکے. جس کے لیے وہ ساری زندگی ترستی رہی تھی جس پر اُس کا حق ہے.

عائلہ نے کافی دیر اپنے میر کو تڑپانے کے بعد آخر کار مکمل ہوش میں آتے آنکھیں کھول دی تھیں. زیان کی بے تاب نظریں عائلہ پر جمی ہوئی تھیں.

ڈاکٹرز کے متعلق عائلہ کی بینائی بلکل ختم ہوسکتی تھی. یا وہ دماغی طور پر مفلوج ہوسکتی تھی. عائلہ کو ہوش میں آتے بلکل چت لیٹ کر چھت کی جانب دیکھتا پاکر زیان کا دل سکڑا تھا.

“میر میں زندہ ہوں. “

عائلہ خوشی اور بے یقینی کے ملے جلے تاثرات سمیت چہرا موڑ کر اپنے وعدے کے مطابق زیان کو بلکل اپنے پاس موجود دیکھ کر مسکرائی تھی.

” عائلہ تم ٹھیک ہو. تمہیں سب کچھ ٹھیک سے دیکھائی دے رہا ہے تم ٹھیک ہو نا. “

زیان اُٹھ کر عائلہ کے پاس بیڈ پر بیٹھتا اُس کا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیے بے تابی سے بولا تھا.

جس کے جواب میں عائلہ کا اثبات میں جواب سنتے زیان کی ساری ٹینشن اور پریشانی ختم ہوگئی تھی. وہ خود کو ایک دم پرسکون محسوس کرنے لگا تھا.

” میں بلکل ٹھیک ہوں میر. اب ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے. میر مجھے یقین ہی نہیں آرہا یہ سب سچ ہوسکتا ہے. مجھے تو یہ سب کوئی حسین خواب لگ رہا ہے. عائلہ خود اپنے ٹھیک بلکل ٹھیک ہونے اور زیان کو اپنے پاس دیکھ بے انتہا خوش تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

مِنہا ہشام کی تلاش میں عائلہ کے روم سے نکل آئی تھی. کیونکہ اندر سب موجود تھے سوائے ہشام کے. وہ دس منٹ کے لیے ہی اندر آیا تھا. اور عائلہ سے حال احوال پوچھ کر واپس باہر نکل گیا تھا.

مِنہا کا دل اپنے روٹھے پیا کو دیکھ کر بہت بوجھل ہورہا تھا. ایسا آج تک کبھی نہیں ہوا تھا. کہ مِنہا ہشام کے سامنے موجود ہو اور وہ اُس پر ایک نظر ڈالنا بھی گوارہ نہ کرے. یہ بات مِنہا کی آنکھیں بار بار نم کررہی تھی. لیکن وہ جانتی تھی اُس نے بہت بڑی غلطی کی تھی. اور ہشام کی دی گئی یہ سزا تو بہت چھوٹی تھی.

مِنہا ہشام کی تلاش میں آگے بڑھ رہی تھی. جب اُسے دائیں طرف سے ہشام فون کان سے لگائے باہر کی جانب جاتا نظر آیا تھا.

مِنہا تیز قدموں سے چلتے ہشام کے پیچھے بڑھی تھی. ہشام فون بند کرتا اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتا پلٹا تھا. مگر اپنے پیچھے موجود مِنہا پر ایک نظر ڈال کر ہشام اُسے نظر انداز کرتا ہاسپٹل کی بلڈنگ سے باہر نکلتا پارکنگ کی جانب آگیا تھا.

” پلیز ہشام ایک بار میری بات تو سنیں. “

مِنہا تیز تیز چل کر ہشام کے بلکل سامنے آتے پھولی سانسوں کے ساتھ بولی.

” مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی. ہٹو میرے راستے سے. “

ہشام نے مِنہا کو بازو سے پکڑ کر سائیڈ پر کر دیا تھا. ہشام کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی دیکھ مِنہا خوفزدہ ہوئی تھی.

ہمیشہ ہشام نے اُس کے ساتھ نرم رویہ ہی رکھا تھا. اِس لیے وہ ہشام کے اِس روپ سے ناواقف تھی.

” ہشام میری بات تو سنیں پلیز. میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا یہ سب. مجھے اُنہوں نے بلیک میل کیا تھا. میں مجبور تھی اُس ٹائم. “

مِنہا ایک بار پھر ہشام کے سامنے آتے بے چارگی سے بولی.

” اتنی مجبور تھی تم. کہ سمجھ لیا تمہارا شوہر انتہا کا کمزور اور بزدل انسان ہے. کہ کوئی بھی آئے اور اُسے نقصان پہنچا کر چلا جائے گا.

کل کو آگر کوئی اور اِسی طرح آکر تمہیں دھمکی دے گا. تو تب بھی تم ایسے ہی چوری چھپے گھر سے نکل کر خود کو اُس کے بھی حوالے کردو گی. تمہیں میرے زورِ بازو پر زرا بھی یقین نہیں ہے. “

ہشام مِنہا کی بات کے جواب میں غصے سے پھٹ چکا تھا.

” کسی کے کہنے پر تم یہ سب کیسے بول سکتی ہو. “

ہشام نے اپنے موبائل میں موجود مِنہا کی ریکارڈ کروائی گئی ویڈیو اُس کے سامنے کرتے کہا. جو ہشام کو رفیق نیازی کو گرفتار کرتے ملی تھی.

ویڈیو میں بولے جانے والے اپنے ہی الفاظ پر مِنہا نے سرجھکا لیا تھا.

” میں بھی کتنی خوش فہمی میں جی رہا تھا نا. کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو. مجھ پر اعتماد اور بھروسہ ہے تمہیں. مگر اچھا ہوا تمہاری کل والی حرکت نہ ہر بار کلیئر کر دی. “

ہشام مِنہا پر ایک بے تاثر نظر ڈالتا سائیڈ سے ہوتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا.

ہشام کے الفاظ پر مِنہا کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی. اُس نے غلطی ہی شاید اتنی بڑی کی تھی. کہ اُس کی سزا تو بنتی تھی.

مِنہا کو ہشام اِس وقت خود سے کوسوں دوری پر محسوس ہوا تھا. جسے منانا اُسے دنیا کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا.

وہ آنکھوں میں نمی لیے وہاں سے ہٹ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

عائلہ نے اگلے ہی دن اچھا خاصہ شور ڈال دیا تھا کہ اُسے ہاسپٹل میں نہیں رہنا بلکہ گھر جانا ہے. جس پر زیان نے اُس کی ضد کے آگے ہار مانتے ڈاکٹرز سے بات کی تھی.

جن کا کہنا تھا کہ اِس سرجری کے بعد عائلہ کی ریکوری کافی جلدی ہوجانی تھی.

مگر ایک ہفتہ عائلہ کو مکمل بیڈ ریسٹ کی ضرورت تھی. زرا سی بھی بے احتیاطی بھاری پڑ سکتی تھی. بہت ساری ہدایات کے ساتھ ڈاکٹرز نے عائلہ کو ڈسچارج کرنے کی اجازت دے دی تھی.

عائلہ زیان کا یہ محبت بھرا رُوپ دیکھ خوشی سے پاگل ہورہی تھی. جو اُسے بلکل کسی کانچ کی گڑیا کی طرح ٹریٹ کررہا تھا.

” میری بیٹی ہمیشہ خوش اور سلامت رہو. دنیا کی ہر خوشی نصیب ہو تمہیں. “

اکرام صاحب طبیعت خراب ہونے کے باوجود بھی کل سے عائلہ کے پاس ہاسپٹل میں ہی موجود تھے. اِس وقت بھی وہ زیان کو عائلہ کو گھر لے جاتا دیکھ واپس اپنے گھر جانے کے لیے راضی ہوئے تھے.

عائلہ کل سے یہ بات نوٹ کررہی تھی کہ وہ فل ٹائم اُس کے پاس موجود ہیں اور اُس کے سامنے نہیں آرہے شاید اِس کی وجہ یہی تھی کہ عائلہ اُنہیں دیکھ کر زرا سی بھی کسی بات کی ٹینشن لے کر اپنی طبیعت خراب نہ کردے.

عائلہ کی پیشانی چوم کر اکرام صاحب اُسے دعا دیتے پلٹے تھے. عائلہ اُن کا زرد بیمار چہرا آرام سے نوٹ کرسکتی تھی. عائلہ کو خود پر غصہ آنے لگا تھا. جیسے بھی تھے. جو بھی سلوک اُس کے ساتھ رواں رکھا تھا. مگر تھے تو اس کے ڈیڈ ہی نا. جن کے ساتھ اِس طرح بے رُخی اور لاتعلقی دیکھانا عائلہ کو بہت غلط لگا تھا.

جب اُوپر والے نے اُس کی زندگی کی تمام مشکلات اور آزمائشیں ختم کر دی تھیں. اُسے زیان کی شکل میں دنیا کی سب سے بڑی نعمت سے نوازا تھا تو وہ کیوں پچھلے بغض اور نفرتیں دل میں رکھے. وہ اب اپنی آگے کی زندگی بہت پرسکون ہوکر جینا چاہتی تھی. جہاں نفرتوں کا نام و نشاں نہ ہو.

اِس لیے آج اُس نے پیچھلی ساری باتوں کو بھلا کر کھلے دل سے اکرام صاحب اور فاخرہ بیگم کو معاف کر دیا تھا.

” ڈیڈ کچھ دیر بیٹھ کر اپنی بیٹی سے بات نہیں کریں گے. “

عائلہ نے اُن کا ہاتھ تھام کر روکتے اپنے پاس بیٹھا لیا تھا. اور فاخرہ بیگم کو بھی باہر سے اپنے پاس بلوا لیا تھا.

زیان جو عائلہ کے ڈسچارج کی کچھ فارمیلٹیز پوری کرنے گیا تھا. واپس آتے ہی اندر کا خوبصورت منظر دیکھ وہ دل سے مُسکرا دیا تھا.

عائلہ اکرام صاحب اور فاخرہ بیگم کے پاس بیٹھی کوئی بات کرتے مُسکرا رہی تھی.

زیان فخریہ انداز میں اپنی محبت کی جانب دیکھتے بنا اُن لوگوں کو ڈسٹرب کیے دبے قدموں روم سے نکل آیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ہاسپٹل میں اُس دن ملاقات کے بعد ہشام سے مِنہا کا ایک بار بھی سامنا نہیں ہوا تھا. مِنہا تین دنوں سے ہشام کا انتظار کررہی تھی. مگر آج تیسرا دن بھی آدھے سے زیادہ گزر چکا تھا. اُس کے آنے کے کوئی آثار نہیں لگ رہے تھے.

مِنہا کے چہرے سے اُس کی فکر اور اُداسی سب گھر والوں کو صاف دیکھائی دے رہی تھی.

” بھابھی جان اِس طرح اُداس رہنے سے کچھ نہیں ہوگا. ہشام بھائی کو منانے کی کوشش تو کریں نا. “

مِنہا پریشانی کے عالم میں لان میں ٹہل رہی تھی. جب امبر ,رمشا اور بسمہ اُس کے پاس آتے بولیں.

” کوشش کی تھی میں نے اُس دن مگر وہ بہت سخت ناراض ہیں. “

ہشام کا اُس دن والا رویہ یاد آتے ہی مِنہا کی آنکھوں میں آنسو نکل آئے تھے.

” اوہ مائی کیوٹ بھابھی آپ اتنا پریشان مت ہوں نا. ہشام بھائی آپ جیسی اتنی پیاری بیوی سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتے. امبر آپی آپ تو ویسے ہی اتنی ایکسپرٹ ہیں کبھی ولید بھائی کو زیادہ دیر ناراض نہیں رہنے دیتیں آپ ہی بتا دیں بھابھی کو اچھے اچھے آئیڈیاز.”

بسمہ مِنہا کو دلاسہ دیتی امبر سے مخاطب ہوئی تھی.

” ہشام کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھے. اُس کے کہنے سے پہلے ہی اُس کا ہر کام کردے. اچھے سے تیار ہوکر اُس کے سامنے جائے. بہت سارا پیار جتائے. لکھ کر دیتی ہوں ہشام تو کیا کوئی پتھر سے پتھر دل انسان بھی پگھل سکتا ہے. ہشام تو تم سے محبت بھی بہت کرتا ہے. زیادہ دیر اپنا غصہ اور ناراضگی برقرار نہیں رکھ پائے گا. “

امبر نے مسکراتے اُسے مفت مشورے سے نوازا تھا.

” مگر وہ تو گھر آہی نہیں رہے میں یہ سب کیسے کروں.”

مِنہا کے معصوم سے جواب پر وہ تینوں مسکرا دی تھیں. جو ہشام کی منانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی.

اتنے میں ہی گیٹ پر ہشام کی گاڑی کا ہارن بجا تھا. اور کچھ ہی سیکنڈز میں اُس کی گاڑی پورچ میں آکر رکی تھی.

ہشام کو دیکھ کر مِنہا کے اندر خوشی کی لہر دوڑنے کے ساتھ ساتھ اُس کا دل بھی بہت بُری طرح دھڑکا گئی تھی.

” وہ دیکھو ادھر تم نے اپنے پیا کو یاد کیا اُدھر وہ پہنچ بھی گئے. اب جاؤ اور منا لو اپنے روٹھے محبوب کو. “

ہشام اندر جا چکا تھا. جبک ہشام کو دور سے ہی دیکھ کر ڈر اور گھبراہٹ کے مارے مِنہا کی ہتھیلیاں بھیگ چکی تھیں.

امبر نے چند مزید ہدایات کرنے کے بعد مِنہا کو اپنے روم کی جانب جانے کا اشارہ کیا تھا.

” مجھے اُن سے بہت ڈر لگ رہا ہے. “

ہشام کے غصے سے تنے نقوش دیکھ کر مِنہا کی گھبراہٹ مزید بڑھ گئی تھی.

مِنہا کی بات پر اُن تینوں نے اپنا ماتھا پیٹ لیا تھا. جو پہلے اُس کہ نہ آنے پر پریشان ہورہی تھی. اب اُس کے سامنے جانے سے ڈر رہی تھی. مِنہا کو کنفیوژن کا شکار دیکھ وہ لوگ خود ہی جا کر اُسے بیڈروم تک چھوڑ آئی تھیں.

مِنہا نے کانپتی ٹانگوں سے کمرے میں قدم رکھا تھا.

ہشام ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے فون پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کف لنکس کھولنے میں بھی بزی تھا. جس میں فون پر بات کرنے کی وجہ سے اُسے تھوڑی پرابلم ہورہی تھی.

مِنہا اپنی ڈھیر ساری ہمت اکھٹی کرتے ہشام کی جانب بڑھی تھی. ہشام اُس کے قریب آنے پر بھی اُس کی جانب متوجہ نہیں ہوا تھا. مِنہا نے جیسے ہی ہاتھ آگے بڑھائے ہشام اُنہیں فوراً جھٹکتا رُخ موڑ گیا تھا. ہشام کے اتنے روڈ انداز پر مِنہا کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسل گیا تھا.

مگر پھر بھی ہمت نہ ہارتے مِنہا وارڈ روب کہ جانب بڑھی تھی. اور اپنی پسند سے ہشام کے لیے ایک ڈریس سلیکٹ کرکے بیڈ پر رکھ دیا تھا.

ہشام فون بند کرتے مِنہا کے نکالے گئے ڈریس کو صاف نظر انداز کرتے وارڈروب سے اپنا دوسرا ڈریس نکالتا واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا.

یہ سب یہی ختم نہیں ہوا تھا. بلکہ اِس کے بعد بھی پورا دن ایسے ہی چلتا رہا تھا. مِنہا ہشام کا جو کام بھی کرتی وہ اُسے صاف اگنور کرتے یا جھٹکتے آگے بڑھ جاتا.

مِنہا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے جو ہشام اُسے معاف کردے. کیونکہ نہ وہ اُس سے بات کرنے کو تیار تھا نہ اُس کے ہاتھ سے کوئی کام کروا رہا تھا. اُوپر سے اُس کی جانب دیکھنے سے بھی صاف گریزاں تھا.

مِنہا کو کسی کو بھی منانے کی عادت نہیں رہی تھی. اُسکی لائف میں ہمیشہ صرف اُس کے بابا اور عائلہ تک ہی محدود رہی تھی. جو دونوں ہی کبھی اُس سے ناراض نہیں ہوئے تھے. ہمیشہ وہ ہی اُن دونوں سے ناراض ہوکر اپنے نخرے اُٹھواتی تھی. اِس لیے اُسے یہ منانے ٹائپ کا ایسا کوئی تجربہ نہیں تھا.

ہشام کے مسلسل اگنور کرنے پر اب مِنہا بھی دل ہی دل میں اُس سے ناراض ہوچکی تھی. وہ جانتی تھی کہ اُس کی غلطی ہے. مگر جس طرح ہشام اُس کی جانب ایک نگاہ غلط بھی نہیں ڈال رہا تھا. یہ بات مِنہا کے لیے زیادہ تکلیف کا باعث تھی.

لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ہشام گردیزی کا دھیان اُس کی جانب نہ ہو کر بھی اُس پر تھا. وہ بس اُسے اُس کی سنگین غلطی کا احساس دلانے کے لئے یہ سب کررہا تھا. ورنہ مِنہا سے دور رہنا اُس کے لئے ممکن نہیں تھا.

ڈنر کے بعد سب لوگ ڈرائنگ روم میں موجود خوش گپیوں کے دوران چائے سے لُطف اندوز ہورہے تھے. مِنہا نوٹ کررہی تھی کہ ہشام سب سے ہنس کر بات کررہا ہے. صرف اُسی کی جانب نہیں دیکھ رہا.

یہ بات مِنہا جیسی حساس لڑکی کو اچھا خاصہ ہرٹ کررہی تھی. وہ پوری دنیا کی اگنورینس برداشت کر سکتی تھی سوائے اِس ایک شخص کے. کیونکہ اُس کے لیے ہشام ہی اُس کی پوری دنیا تھا. مِنہا مزید یہ سب برداشت نہ کرتے وہاں سے اُٹھ گئی تھی. ڈرائنگ روم سے نکلتے ہشام کی نظروں نے دور تک مِنہا کا پیچھا کیا تھا.

” بس بہت ہوگیا. اب مزید میری بیٹی کو ستانے کی ضرورت نہیں ہے. اُسے اچھی طرح سے اپنی غلطی کو احساس ہوچکا ہے. تمہاری چند دنوں کی ناراضگی سے دیکھو کتنا سا منہ نکل آیا ہے اُس کا. “

شائستہ بیگم ہشام کو اُس کے رویے پر سرزنش کرتے بولیں. جس پر ہشام صرف مُسکرا دیا تھا. اور کچھ دیر مزید وہاں بیٹھنے کے بعد وہ بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا. مگر کمرہ اُسے بلکل خالی ملا تھا. مِنہا کہیں موجود نہیں تھی.

ہشام کچھ دیر خاموشی سے اُس کا ویٹ کرنے لگا. جب مزید ایک گھنٹہ گزر جانے کے باوجود بھی وہ نہ آئی تو ہشام نے موبائل اُٹھا کر اُس کو میسج کرتے فوراً روم میں آنے کو کہا تھا. لیکن حیرانی کی بات یہ تھی کہ پندرہ منٹ گزر جانے کے باوجود بھی کوئی جواب نہیں آیا تھا. ہشام نے کچھ سوچتے ایک بار پھر میسج کیا تھا. جس میں ساتھ چھوٹی سی دھمکی بھی دی گئی تھی.

” اگلے دس منٹ میں تم مجھے روم میں چاہئے ہو. ورنہ میرا طریقہ تمہیں بلکل بھی پسند نہیں آئے گا. “

ہشام کا نیکسٹ میسج دیکھ مِنہا کا دل زور سے دھڑکنے لگا تھا.

اب کیا پرابلم ہے تین دنوں سے جب میں پیچھے بھاگ رہی ہوں. تو مسلسل اگنور کررہے ہیں مجھے اور اب اچانک پھر کیا ہو گیا ہے. اِس سڑیل پولیس والے کو. نہیں جاؤں گی میں بھی اب. ویسے بھی میں رمشا لوگوں کے ساتھ موجود ہوں کچھ نہیں کریں گے وہ.

مِنہا نے اپنے دل کو اچھے سے سمجھاتے جواب بھیج دیا تھا.

” مجھے آپ کے روم میں نہیں آنا اور نہ ہی آپ سے بات کرنی ہے. جو مرضی کرنا ہے آپ کر لیں. “

مِنہا اُس کے رواں رکھے گئے رویے کا بدلہ لینے کے لیے مکمل تیار تھی. اور ہشام کی سب کزنز کے درمیان بیٹھی خود کو بہت سیکیور فیل کررہی تھی.

مِنہا کو لگا تھا کہ اُس کا میسج دیکھ ضرور آگے سے ہشام کا کوئی غصے بھرا میسج آئے گا مگر پندرہ منٹ گزر جانے کے باوجود اُس طرف سے خاموشی چھائی دیکھ مِنہا کافی حیران ہوئی تھی.

اُس کی حیرت گھبراہٹ میں اُس وقت بدلی جب ہشام دھاڑ سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا.

ہشام کو غصے سے مِنہا کی جانب بڑھتا دیکھ سب نے شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا. مِنہا اُن سب کی حرکت پر ٹھیک سے حیران بھی نہیں ہوپائی تھی. کہ اگلے ہی لمحے ہشام اُس کو بانہوں میں بھرتا وہاں سے نکل آیا تھا. ہشام کے اِس عمل پر مِنہا شرم کے مارے اتنی لال ہوچکی تھی. ایسے لگتا تھا کہ اُس کے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا ہو.

” ہشام یہ کیا کررہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے.”

مِنہا نے خود کو ہشام کے مضبوط حصار سے چھڑوانے کی پوری کوشش کی تھی مگر اُس کی مضبوط گرفت کے آگے ناکام رہی تھی.

” آرام سے سمجھ نہیں آتی تمہیں میری بات. روم میں کیوں نہیں آرہی تھی تم. “

ہشام مِنہا کو روم کے وسعت میں لاکر اُتارتے شعلہ بار نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا.

” جب آپ نے میری طرف دیکھنا بھی نہیں ہے. مجھ سے بات بھی نہیں کرنی تو میں کیا کروں یہاں آکر. “

ہشام کو وہ سر جھکائے بولی اتنی پیاری لگی تھی کہ دل چاہا تھا کہ اُسے کھینچ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں قید کرلے.

لیکن اِس وقت وہ اتنی جلدی مِنہا کو معاف کرنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا. وہ اگر خود پر اُس کا اعتبار نہ کرنے اور ویڈیو میں بولی ہر بات معاف کر بھی دیتا لیکن مِنہا کا خود کو خطرے کے منہ میں دھکیلنے والی بات نہیں بھول سکتا تھا.

مگر جو بھی تھا شدید ناراضگی کے باوجود بھی اُسے اِس وقت صرف اور صرف مِنہا کی طلب ہورہی تھی. وہ اُسے اپنے پاس دیکھنا چاہتا تھا اپنے قریب.

” بات نہیں کرنی مگر تم میری بیوی ہو. خدمت تو کرسکتی ہو نا میری. سر دباؤ میرا. مجھے بہت درد ہورہا ہے سر میں. “

مِنہا جو ہشام کی نظروں سے گھبرا کر بیڈ پر جا بیٹھی تھی. ہشام اُس کے پاس آکر اُس کی گود میں سر رکھتے بیڈ پر لیٹ گیا تھا. اتنے دن مسلسل رفیق نیازی کے کیس میں بزی ہوکر وہ پچھلی کئی راتیں سو بھی نہیں پایا تھا. اِس لیے آج اپنی جانِ عزیز بیوی کے قریب رہ کر پرسکون نیند لینا چاہتا تھا

ہشام کی حرکت پر مِنہا کا دل اُچھل کر حلق میں آگیا تھا. مگر ہشام کو اِس طرح واپس اپنے ساتھ نارمل ہوتے دیکھ مِنہا خوش ہوتی اپنے نرم و نازک ملائم ہاتھوں سے ہشام کے سر کا مساج کرنے لگی تھی.

مِنہا جس مہارت کے ساتھ اُس کا مساج کرتی اپنے ہاتھوں کی نرماہٹوں سے اُسے سکون پہنچا رہی تھی. ہشام کے سر پر ایک سرور سا چھانے لگا تھا. جو اُس کے بہت مشکل سے سلائے جذبات میں ایک بار پھر چنگاری بھڑکا چکا تھا.

ہشام اپنے جذبات پر قابو پاتے نجانے کتنی ہی دیر ایک جگہ پر ساکت لیٹا رہا تھا.

مِنہا کافی دیر سے ہشام کو ایک ہی جگہ ساکت لیٹا دیکھ سمجھی تھی کہ شاید وہ سو چکا ہے. اِس لیے اب وہ فرصت اور آرام سے ہشام کے دلکش نقوش کو وارفتگی سے دیکھتی اپنی آنکھوں میں بسانے لگی تھی.

ہشام مِنہا کا ہاتھ رُکتا اور اپنے چہرے پر اُس کی نظروں کی تپیش محسوس کرچکا تھا. مگر جان بوجھ کر ویسے ہی لیٹا رہا تھا.

ہشام کی جانب دیکھتے ایک پیاری سی مُسکان نے مِنہا کے ہونٹوں کا احاطہ کیا ہوا تھا. مِنہا کو ہشام کی کشادہ پیشانی اور کھڑی مغرور ناک بہت پسند تھی. آج جب ہشام ہر ڈر اور خوف کو پیچھے چھوڑتا مکمل طور پر اُس کا ہوچکا تھا تو مِنہا بھی اُس پر مکمل اپنا حق سمجھتے ہاتھ بڑھا کر بہت ہی محتاط اور محبت بھرے انداز میں پہلے اُس کی پیشانی اور پھر اُس کے ناک کو چھونے لگی تھی. اُسے ہشام کے چہرے پر یہ دونوں چیزیں بہت پسند تھیں. ساتھ ہی اُس کو اِس بات کا بھی ڈر تھا کہ کہیں ہشام جاگ نہ جائے.

مِنہا نجانے کتنے ہی لمحے ہشام کو ایسے ہی دیکھنے کے بعد اپنے دل کے ہاتھوں مجبور اُس کی مغرور ناک پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑنے جھکی تھی. اُس سے بھی زیادہ پُھرتی سے ہشام نے اپنا سر مِنہا کی گود میں ہلکا سا اُوپر کی جانب سرکا دیا تھا. جس کے نتیجے میں مِنہا کے ہونٹوں نے ناک کے بجائے سیدھا ہشام کے ہونٹوں کو چھوا تھا. مِنہا اِس اچانک رونما ہونے والی افتاد پر کرنٹ کھاتی پیچھے ہٹی تھی. لیکن اُس کی یہ کوشش ناکام بناتے ہشام اُسے واپس اپنے اُوپر جھکا چکا تھا. اور کچھ ہی پلوں میں مِنہا کو اپنے جذبات کی شدت سے اچھی طرح روشناس کرواتے چکرانے پر مجبور کردیا تھا.

مِنہا بہت مشکل سے اپنا آپ اُس کی مضبوط گرفت سے چھوڑواتی پیچھے ہٹی تھی.

” آپ بہت بڑے چیٹر ہیں مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی. “

مِنہا اپنا حلیہ درست کرتی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو کنٹرول کرتی کھڑکی کے پاس جاکھڑی ہوئی تھی. ہشام کی چند سیکنڈز کی قربت نے ہی اُس کے ہوش اُڑا کر رکھ دیئے تھے.

ہشام مہرون فراک میں ملبوس بلیک شال کندھوں کے گرد لپٹے بالوں کو جوڑے میں قید کیے شرم اور حیا سے سُرخ ہوتی مِنہا کی حالت دیکھ چاہنے کے باوجود بھی اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا.

” تو میری نازک ہرنی تمہیں کہا کس نے تھا. سوئے شیر کے اتنے قریب آکر اُسے پچھاڑنے کی. “

ہشام بھی اپنی جگہ سے اُٹھتا مِنہا کی جانب بڑھا تھا.

” ایس پی صاحب پلیز وہیں رک جائیں. میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے. آپ پہلے ہی بلاوجہ مجھ سے اچھا خاصہ فری ہو چکے ہیں. اب کی بار اچھا نہیں ہوگا.”

اُنگلی اُٹھا کر دھمکی دیتی وہ ہشام کو اتنی پیاری لگی تھی کہ ہشام خود کو اُس کے قریب جانے سے نہیں روک پایا تھا.

ہشام کھڑکی کے ساتھ چپک کر سکڑی سمٹی کھڑی مِنہا کے اردگرد اپنے بازو کی آہنی باڑ بنا کر اُسے اپنے مضبوط حصار میں مقید کرتے اُس کے کان کے قریب جھکا تھا.

” سویٹ ہارٹ ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں. یہ تو صرف تمہارے پیار کا جواب دیا میں نے. ابھی سے گھبرا گئی. جب میں واقعی پیار کرنے پر آیا تب کیا ہوگا تمہارا.”

ہشام کی بات پر مِنہا کی سانسوں کا شور بڑھا تھا.

” مِنہا تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے. تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ کتنا گھٹیا شخص ہے. تم بنا سوچے سمجھے اُسے کے پاس چلی گئی. اگر میں وہاں ٹائم پر نہ پہنچتا اور وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیتا تو. “

ہشام کی بات پر مِنہا نے نظریں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا. جو اُس سے چند قدموں کے فاصلے پر موجود جذبے لُٹاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا.

” جب اُن لوگوں نے مجھے آپ کے حوالے سے دھمکی دی تو میں کچھ سوچ ہی نہیں پائی. جیسے انسان کو زندہ رہنے کے لیے سانسوں کی ضرورت ہے اُسی طرح میرے زندہ رہنے کے لیے آپ ضروری ہیں مجھے. میں بہت ڈر گئی تھی.

اُس وقت میرے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں ختم ہوچکی تھیں. میں اپنی غلطی پر بہت زیادہ شرمندہ ہوں مجھے آپ سے کچھ بھی نہیں چھپانا چاہیئے تھا. کیا آپ اِسے میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کرسکتے ہیں. میں وعدہ کرتی ہوں آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا. “

مِنہا درمیان میں موجود فاصلہ طے کرتے ہشام کے قریب آتے اُس کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتی ندامت سے چور لہجے میں بولی تھی.

ہشام چاہنے کے باوجود بھی اپنے دل کو مزید کھٹور نہیں رکھ پایا تھا. اور کھلے دل سے مِنہا کو معاف کرتے اُسے اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” عائلہ میں تم سے بات کررہا ہوں. جواب کیوں نہیں دے رہی تم مجھے. “

زیان عائلہ کو منہ پھلا کر دوسری جانب رخ موڑ کر بیٹھے دیکھ تھوڑے تیز لہجے میں بولا تھا. کیونکہ وہ اُس کی پوچھی کسی بھی بات کا جواب ہی نہیں دے رہی تھی.

” کیونکہ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی میر. تم جاؤ اپنی میٹنگز اٹینڈ کرو. میری کیا پرواہ ہے تمہیں. میں پڑی رہوں یہاں بستر پر. تم وہاں جاکر دیکھو خوبصورت لڑکیوں کو. “

زیان پچھلے چار دنوں سے سائے کی طرح عائلہ کے ساتھ رہا تھا. اب عائلہ کافی حد تک ریکور کر چکی تھی. مگر زیان کی جانب سے اُسے ابھی بھی بستر سے پیر نیچے رکھنے کی اجازت بلکل بھی نہیں تھی.

آج کسی بہت ہی امپورٹینٹ میٹنگ کے سلسلے میں زیان کچھ گھنٹوں کے لیے عائلہ سے اجازت لے کر ہی آفس گیا تھا. مگر اُس کے تھوڑی دیر لیٹ ہوجانے کی وجہ سے اب عائلہ کا موڈ اچھا خاصہ بگڑ چکا تھا.

عائلہ کی بات سنتے زیان قہقہ لگاتے اُس کے پاس آبیٹھا تھا.

” ہاہاہاہاہا یار مجھے لگتا ہے اگر میں بوڑھا بھی ہو جاؤں گا. تم تب بھی مجھے ایسے ہی لڑکیوں کے طعنے دو گی. اب اگر خوبصورت لڑکیاں میری دیوانی ہوجاتی ہیں تو اِس میں میرا کیا قصور ہے. “

زیان عائلہ کی پھولی ہوئی گال کھینچتے اُسے مزید چڑھاتے ہوئے بولا.

” اور خبردار جو اِس خوبصورت لڑکی کے علاوہ کسی اور کی جانب دیکھا تو. “

عائلہ زیان کی ٹائی کھینچ کر اپنے قریب کرتی وارنگ دیتے ہوئے بولی.

” اِس حسین لڑکی نے ہی مجھے اپنی اداؤں سے اتنا گھائل کردیا ہے. کہ میں اِسے ہی نظریں ہٹانے کے قابل نہیں رہا.”

زیان نے لیمن کلر کے شیفون کے نفیس سے ڈریس کے اُوپر پرپل دوپٹہ اوڑھے بیٹھی اپنے دل میں بستی لڑکی کی جانب محبت بھری نظروں سے دیکھتے کہا.

جو اُسکی محبت میں مکمل طور پر اُس کی پسند کے مطابق خود کو ڈھال چکی تھی.

” تمہارے لیے ایک گڈ نیوز ہے. “

زیان نے عائلہ کے دونوں ہاتھ تھامے اُس کی آنکھوں میں جھانکا تھا. جہاں اُس کی بات پر چمک واضح ہوئی تھی.

” ابھی ڈاکٹرز سے ہی مل کر آرہا ہوں. تمہاری رپورٹ کے مطابق تم 80% ریکور کر چکی ہو. اور اِن میڈیسن کی مدد سے کچھ ہی دنوں تک مکمل ٹھیک ہو جاؤ گی. اب تم اپنی مرضی سے چل پھر سکتی ہو. “

زیان کی بات پر عائلہ کا چہرا خوشی سے جگمگا اُٹھا تھا. اُس نے اُچھل کر بیڈ سے اُترنا چاہا تھا. مگر زیان کی گھوری اُسے وہی روک گئی تھی.

” اتنی بے احتیاطی بھی نہیں کرنی. آرام سے چلو گی تم وہ بھی میرے ساتھ. اگر تمہاری اِن حرکتوں کی وجہ سے دوبارہ تمہیں تھکاوٹ ہوئی یا زرا سا بھی تمہارے سر میں درد ہوا تو میں نے تمہیں واپس بیڈ سے ہلنے نہیں دینا.”

زیان کے غصہ کرنے پر عائلہ فوراً شریف بنی تھی جانتی تھی کہ زیان جو کہہ رہا تھا وہ کر بھی سکتا تھا.

” اوکے سوری میر. تم غصہ کرو گے تب بھی میرے سر میں درد ہوسکتا ہے. “

عائلہ زیان کے قریب ہوتی اُس کے گلے میں بانہیں ڈالے بولی.

” رئلی تو کوئی پرابلم نہیں. میں بے پناہ پیار دینے کے لیے بھی تیار ہوں. “

زیان نرمی سے اُسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیے اُس کے دونوں گال چومتے ہوئے بولا.

” میر تم بھول رہے ہو. ہم باہر جا رہے ہیں. “

عائلہ زیان کو پٹری سے اُترتا دیکھ کر فوراً اُس سے دور ہوئی تھی.

” میری جان کچھ دیر مزید موجیں کر لو. کچھ دنوں تک آنا تو تمہیں اِن بانہوں میں ہی ہے. “

زیان کی معنی خیزی سے کہی بات کا مطلب سمجھتے عائلہ کے گال تپ اُٹھے تھے. زیان کی ایسی چھوٹی موٹی شوخیاں ہی عائلہ کا سارا کانفیڈنس بھگا دیتی تھیں. اِس وقت بھی اُس کی بولتی بند ہوچکی تھی.

زیان نے والہانہ نظروں سے عائلہ کی جانب دیکھتے اُس کو حصار میں لیے روم سے باہر نکل آیا تھا. لان میں بیٹھے فاریہ اور حیدر صاحب اُنہیں ایک ساتھ باہر آتا دیکھ مُسکرا دیئے تھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ہمیشہ سے جیسے کہا جاتا ہے کہ بُرے کاموں کا نتیجہ ہمیشہ بُرا ہی ہوتا. شہباز خان اور رفیق نیازی کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا تھا. شہباز خان کی طرح رفیق نیازی بھی بہت ہاتھ پیر مارنے کے باوجود اُوپر والے کی پکڑ سے خود کو بچا نہیں پائے تھے. وہ ظلم و ستم کا بازار گرم رکھنے والے زمینی خدا اپنے آپ کو فرعون سمجھ بیٹھے تھے. لیکن اپنی طاقت کے زعم میں فرعون کا انجام بھول بیٹھے تھے. لیکن جب اُوپر بیٹھی ہستی ایسے ظالموں کی رسی کھینچنے پر آتی ہے تو وہ تکلیف سے بلبلا اٹھتے ہیں. مگر تب اُن کے پاس خود کو بچانے کا کوئی راستہ نہیں بچتا.

شہباز خان کے کیے کی سزا اُس کی بے گناہ بیٹی کو بھی مل سکتی تھی. مگر ﷲ تعالٰی نے ہشام کو کسی فرشتے کی طرح مِنہا کی زندگی میں بھیج دیا تھا. جس نے مِنہا کو ہر خطرے سے بچا کر محبتوں اور خوشیوں بھری زندگی دی تھی.

شہباز خان اور رفیق نیازی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی. مِنہا اپنے بابا کے حوالے سے ایسی خبر سن کر بہت روئی تھی. لیکن ہشام نے ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی اُسے بہت محبت سے سمیٹ لیا تھا.

عائلہ اور زیان بھی اپنی اپنی جگہ محبت کی جنگ جیت کر ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھے.

زیان کی بے پناہ محبت نے عائلہ کی ہر محرومی دور کردی تھی. جس پر وہ دل سے اپنے رب کی شکرگزار تھی. جس نے اُسے غلط راستوں پر بھٹکنے سے بچا کر میر زیان حیدر جیسے شخص کو اُس کی زندگی میں بھیج کر اُس کی زندگی کو مہکا دیا تھا.

وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اِس نئی حسین زندگی کے سفر میں بہت خوش تھے. اور آگے زندگی میں آنے والی کسی بھی مشکل سے مل کر لڑنے کے لیے تیار تھے. کیونکہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں بڑی سے بڑی آزمائش کا وجود زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا.

ختم شد