No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
کیا پرابلم ہے. “
ہشام مِنہا کی جانب کڑے تیوروں سے دیکھتا لیڈی کانسٹیبل سے مخاطب ہوا تھا.
” سر یہ لڑکی اندر جانے کی ضد کررہی ہے. اِس کا کہنا ہے کہ اِس کی دوست اندر تھی. اب پتا نہیں وہ دوست لڑکی ہے یا لڑکا جس کی وجہ سے یہ اتنی بے چین ہورہی ہے. “
لیڈی کانسٹیبل کی بات پر منہا کا صبر ختم ہوا تھا.
” دیکھئے میں بہت عزت سے بات کررہی ہوں آپ سے. اور آپ کچھ بھی بولی جارہی ہیں. “
منہا بہت ہی نرم دل اور دھیمے مزاج کی مالک تھی. اُسے لڑنا جھگڑنا یہاں تک کہ اُونچی آواز میں بات کرنا بھی پسند نہیں تھا. عائلہ اور منہا بہت گہری دوستیں تھیں. مگر اُن دونوں کی شخصیت میں بہت تضاد تھا. اگر وہ کبھی غصے میں بھی مخاطب ہوتی تھی تو سامنے والے کو ایسے لگتا تھا کہ وہ معمول کے مطابق بات کررہی ہے. ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا. اپنی طرف سے اُس نے لیڈی کانسٹیبل کو غصے سے جواب دیا تھا. مگر اُس کی پیاری سی سریلی آواز اور منفرد لہجے نے جہاں ہشام کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا. وہیں لیڈی کانسٹیبل بھی اُسے مزید کچھ سخت الفاظ کہنے سے رُک گئی تھی.
” سر میری فرینڈ غلط لڑکی بلکل بھی نہیں ہے. بس کچھ ڈپریشن کا شکار ہے. اِس لیے وہ آج یہاں آگئی. پلیز آپ ایک بار مجھے اُس سے ملوا دیں. “
مِنہا ہشام کی جانب مڑتی ملتجی لہجے میں بولی تھی.
بلیک شال میں اُس نے اپنے دلنشیں سراپے کو چھپا رکھا تھا. باریک شیفون کی سلیوز میں سے اُس کی دودھیا بازو اپنی جھلک دیکھا رہے تھے. جنہیں چھپانے کی وہ حتی الامکان کوشش کررہی تھی.
اُس نے اپنے گھنے سیاہ بال کیچڑ میں مقید کرکے جوڑے کی شکل میں باندھ رکھے تھے. جس سے کچھ شریر لٹیں نکل کر اُس کے حسین چہرے کا طواف کررہیں تھیں. بات کرنے کے دوران منہا بار بار بہت ہی نزاکت سے اُن کو چہرے سے ہٹا کر کانوں کے پیچھے اڑستی تھی. مگر وہ پھر پھسل کر باہر نکل آتی تھیں.
اگر سامنے کھڑا شخص ہشام گردیزی نہ ہوتا تو ضرور اِس جان لیوا منظر میں ڈوب جاتا مگر وہ ایس پی ہشام گردیزی تھا. جس کے مطابق اُسے فتح کرنا اُس کے دل تک رسائی حاصل کرنا شاید کسی کے بس میں نہیں تھا. ایک نظر کے بعد ہشام نے دوبارہ اُس کی جانب نہیں دیکھا تھا. ” اِس جگہ پر شریف لوگ بھول کر بھی نہیں آتے. پکڑے جانے کے بعد ہر کوئی یہی کہتا ہے. آدھے گھنٹے تک سب لوگوں کو پولیس اسٹیشن پہنچا دیا جائے گا. وہی آکر اپنی فرینڈ سے مل لیجئے گا. ہمارے پاس اتنا فارغ وقت نہیں کہ یہاں روڈ پر کھڑے ہوکر ملاقاتیں کرواتے رہیں. “
ہشام کھردرے لہجے میں کہتا آنکھوں کو بلیک گاگلز سے کور کرتا بنا اُسے مزید کچھ بولنے کا موقع د اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا. جبکہ منہا اُس کے ٹکے سے جواب اور سخت لہجے پر اُس کی چوڑی پشت کو گھور کررہی گئی تھی.
” اُف ﷲ جی یہ لوگ عائلہ کو پولیس اسٹیشن لے کر جارہے ہیں. پتا نہیں وہ کس حال میں ہوگی اور اگر انکل یا فاخرہ آنٹی کو پتا چلا گیا تو ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا. “
منہا پریشانی کی حالت میں سر پکڑ کر وہیں کھڑی تھی. جب پیچھے سے کسی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” اسلام و علیکم! بابا. “
زیان ڈرائنگ میں میں داخل ہوتے بآواز بلند حیدر لغاری کو سلام کرتے بولا. جو ٹیبل پر اپنے سامنے کچھ تصویریں پھیلائے بیٹھے تھے. زیان کو مسکرا کر جواب دیتے اُنہوں نے اُسے اپنے پاس بلایا تھا.
” بابا اِس کا مطلب آپ میری بات مان گئے ہیں. اور اپنے لیے لڑکیاں پسند کررہے ہیں. “
زیان اُن کے سامنے پڑی لڑکیوں کی تصویروں کو دیکھتے شرارتی لہجے میں بولا. جس پر حیدر صاحب نے اُسے گھوری سے نوازا تھا.
” برخوردار بات بدلنے کی کوشش بلکل بھی مت کرو. یہ سب بہت ہی اچھے گھرانے کی لڑکیاں ہیں. میں نے ذکیہ بی سے کہہ کر منگوائی ہیں. یہ لوگ دیکھو اِنہیں اور مجھے جلد از جلد تمہارا کوئی فائنل فیصلہ چاہئے. میں اب مزید اپنا گھر اِس طرح سونا نہیں دیکھ سکتا. مجھے بہو اور پوتے پوتیاں چاہیں. “
حیدر صاحب کی سنجیدہ لہجے پر پوری پلاننگ بتانے پر زیان اپنی بے ساختہ اُمڈ آنے والی مسکراہٹ نہیں روک پایا تھا.
” یعنی کہ میری آزادی ختم کرنے کی پوری تیاری کر چکے ہیں آپ.”
اُن کے ہاتھ سے تصویریں پکڑتے زیان مسکراتے ہوئے بولا.
” جی بلکل. اب مزید تمہاری ایک نہیں چلے گی. اگر تمہیں کوئی پسند ہے. تو میں اُس کے لیے بھی تیار ہوں. اور اگر ایسا نہیں ہے تو اِن میں سے کوئی ایک لڑکی سلیکٹ کرو. “
زیان کو تصویریں دیکھ کر منہ چڑانے پر حیدر صاحب اپنی بات پر زور دیتے بولے.
” بابا اِن میں سے کوئی بھی لڑکی میرے ٹائپ کی نہیں ہے. آپ اچھے سے جانتے ہیں. مجھے یہ اتنی ماڈرن اور آزاد خیال لڑکیاں نہیں پسند. “
زیان کی ہمیشہ کی طرح آج بھی وہی رٹ تھی.
حیدر صاحب نے اپنے بے حد وجیہہ شاندار پرسنیلٹی کے مالک لاڈلے بیٹے کی جانب دیکھا تھا. جو ہر معاملے میں اُن کا فرمانبردار رہا تھا. مگر اِس معاملے میں ایک ہی ضد پر اڑ چکا تھا.
” اور اگر تمہیں اپنے ٹائپ کی لڑکی کبھی ملی ہی نہیں تو. “
حیدر صاحب آج اُس سے ہر بات کلیئر کرنے کے موڈ میں تھے.
” تو آپ مجھے دو منتھ کا ٹائم دے دیں. اُس کے بعد آپ جس لڑکی سے کہیں گے. میں شادی کرنے کو تیار ہوں. “
زیان کی بات پر نہ چاہتے ہوئے بھی اُنہیں حامی بھرنی ہی پڑی تھی. کہ چلو وہ شادی کرنے کے لیے تیار تو ہوا تھا.
” زیان بیٹا کل سعود صاحب کی طرف کوئی پارٹی ہے. میری کچھ اور مصروفیات ہیں کل تو تم وہ اٹینڈ کر لینا. اُنہوں نے بہت اسرار کیا ہے شرکت کرنے کے لیے. “
کافی دیر بعد زیان کو اُٹھتا دیکھ حیدر صاحب نے اُسے ہدایت کی تھی. جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
زیان ابھی کچھ سال شادی کرنے کے حق میں نہیں تھا. مگر وہ حیدر صاحب کی خواہش کو بھی نہیں ٹال سکتا تھا. جو اپنے گھر کو ہنستا بستا آزاد دیکھنا چاہتے تھے. جو گھر میں بہو کے آنے سے ہی ممکن ہوسکتا تھا. اِس لیے ناچار زیان کو اُن کی ماننی ہی پڑی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” تم….تم کہاں تھی. بدتمیز لڑکی میری جان نکال کررکھ دی تھی تم نے. “
منہا جیسے ہی پلٹی اپنے بلکل پیچھے عائلہ کو کھڑے دیکھ وہ حیرانی اور خوشی سے چیخ پڑی تھی. اُس نے ایک تھپڑ عائلہ کے بازو پر رسید کرتے اُسے اپنے ساتھ لپٹا لیا تھا. عائلہ اُس کی اتنی فکر اور پریشانی پر مسکرا دی تھی. اور جواب میں اُس کے گرد اپنا بازو پھیلا دیا تھا. پوری دنیا میں ایک یہی خالص رشتہ تو تھا اُس کے پاس جو ہر طرح کی لالچ اور غرض سے پاک تھا. جس کے لیے وہ بہت اہم تھی.
” پولیس والوں نے تو تمہیں اریسٹ کرلیا تھا نا. پھر تم یہاں کیسے. کہیں بھاگ تو نہیں آئی. “
منہا کے مشکوک انداز پر عائلہ مسکرائے بنا نہیں رہ پائی تھی.
” نہیں میں اریسٹ ہوئی ہی نہیں. اِن لوگوں کے آنے سے پہلے ہی میں یہاں سے نکل گئی تھی. ابھی رضیہ کے بتانے پر تمہارے پیچھے دوبارہ یہاں آئی ہوں. “
عائلہ کے جواب پر مِنہا نے نروٹھے لہجے میں اُس کی جانب دیکھا تھا.
“تم نے پرامس کیا تھا نا مجھ سے. ایسی جگہوں پہ نہیں جاؤ گی. پھر کیوں آئی یہاں. تم اگر پریشان تھی تو میرے پاس آسکتی تھی یا مجھے اپنے پاس بلا لیتی. کیا تم نے پھر ڈرنک بھی کی ہے. “
مِنہا کے فکرمند انداز پر عائلہ کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا. جو بنا کسی بات کی پرواہ کیے رات کے وقت صرف اُس کی خاطر یہاں پہنچ گئی تھی.
” قسم لے لو. ہاتھ بھی نہیں لگایا میں نے ڈرنک کو. اور اُس ٹائم میں اتنے غصے میں تھی کہ کچھ سمجھ ہی نہیں آیا. لیکن جیسے ہی مجھ احساس ہوا میں فوراً یہاں سے نکل آئی. آخری بار معاف کردو آئندہ ایسا بلکل بھی نہیں ہوگا.”
عائلہ کان پکڑتے بچارہ سا منہ بناتے بولی. جسے دیکھ کر مِنہا بھی اپنا غصہ برقرار نہیں رکھ پائی تھی.
” ویسے یہ پولیس والا کیا کہہ رہا تھا تمہیں. “
گاڑی کی جانب بڑھتے عائلہ نے پوچھا.
” کتنے عجیب ہوتے یہ پولیس والے ﷲ بچائے اِن سے. مجھے تو لگتا تھا کہ بلاوجہ اِن کے بارے میں مشہور ہوتا
کہ یہ سڑیل ہوتے ہیں. مگر آج مل کر یقین ہوگیا. آرام سے کسی بات کا جواب دیتے تو لگتا جیسے گناہ مل گا اِنہیں.”
مِنہا ایس پی ہشام کا انداز یاد کرتے جھڑجھڑی لیتے بولی.
” مطلب وہ پولیس والا تمہیں. اچھا خاصہ سنا کر گیا ہے.”
عائلہ مِنہا کی اُتری شکل دیکھ اندازہ لگاتے بولی.
” ہاں کچھ ایسا ہی ہے.باقی سب تو پھر بھی. مگر اُس کا انداز بہت بُرا تھا. بات تو ایسے کررہا تھا جیسے میں اُس کی کوئی مجرم ہوں. “
مِنہا کو ہمیشہ اُس کے پاپا نے بہت پیار سے رکھا تھا. اِس لیے اُسے ایسے لہجوں کی عادت بلکل بھی نہیں تھی.
” تو پھر کیوں نہ اُس پولیس والے کو سبق سکھایا جائے.”
عائلہ نے گاڑی پولیس اسٹیشن والے روڈ پر ڈال دی تھی.
” عائلہ پاگل ہوگئی ہو کیا. واپس موڑو گاڑی ویسے ہی بہت رات ہوگئی ہے. اور وہ کوئی عام بندہ نہیں ہے. پولیس آفیسر ہے اگر پکڑے گئے تو اُس نے سیدھا حوالات میں بند کر دینا ہے. “
مِنہا عائلہ کے انداز پر گھبراتے ہوئے بولی. مگر وہ عائلہ ہی کیا جو کسی کی سن لے. عائلہ کو اپنی بات نہ مانتے دیکھ مِنہا خاموشی سے بیٹھ گئی تھی.
” چلو باہر. “
پولیس اسٹیشن پہنچ کر مِنہا کے بہت منع کرنے کے باوجود بھی عائلہ اُسے ساتھ گھسیٹ لائی تھی. وہ لوگ ایس پی ہشام کو گاڑی سے نکل کر اندر جاتا دیکھ چکی تھیں.
” تم کرنے کیا والی ہو. “
مِنہا کے پوچھنے پر ہشام کی شاندار گاڑی پر ٹکی عائلہ کی نظریں شرارت سے چمکی تھیں.
” ایس پی صاحب بہت اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ نکل کے گئے ہیں نا اِس گاڑی سے. اب بتاتے ہیں اِسے.”
عائلہ منہا کا ہاتھ پکڑ کر اُسے جھکنے کا اشارہ کرتے گاڑیوں کے پیچھے سے ہوتے ہشام کی گاڑی تک آئی تھی.
” عائلہ کی بچی آج تو پکا مروانے کا ارادہ ہے تمہارا. پولیس والے کی چوری کرنے لگی ہو تم.”
عائلہ کو ہاتھ میں پکڑے تھیلے سے اوزار نکال کر ہشام کی گاڑی کے ٹائر کی جانب بڑھاتے دیکھ کر مِنہا ڈرتے ہوئے بولی.
” اگر اِسی طرح ڈرنے کی بجائے تم میری مدد کرو تو ہمارا کام جلدی ختم ہوسکتا ہے. “
عائلہ کی پکار پر مِنہا نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کے پاس ہوئی تھی.
” اوہ شٹ کال بھی ابھی آنی تھی. “
عائلہ گاڑی کا ٹائر کھول رہی تھی. جب اُس کا فون بج پڑا تھا. مِنہا کو ٹائر نکالنے کا طریقہ بتاتے وہ کال اٹینڈ کرتی ایک جانب ہوئی تھی. کال ارجنٹ تھی اس لیے چاہنے کے باوجود وہ اگنور نہیں کر سکتی تھی.
” یہ کس مصیبت میں ڈال کر چلی گئی ہے یہ لڑکی مجھے.”
منہا کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اِسے کیسے کھولے. اور اکیلے رہ جانے پر ڈر مزید بڑھ گیا تھا. اپنے پیچھے قدموں کی آواز محسوس کرتے اُس کی جان میں کچھ جان آئی تھی.
” عائلہ رینچ پکڑاؤ مجھے. ٹائر بس کھلنے ہی و….. “
منہا نے ہلکا سا سر موڑتے عائلہ سے رینچ مانگا تھا. مگر پیچھے عائلہ کی جگہ کسی اور کو کھڑا دیکھ اُس کا سر وہیں ساکت ہوا تھا.
ایس پی ہشام چہرے پر پتھریلے تاثرات سجائے سینے پر ہاتھ باندھے خاموشی سے اُس کی حرکت ملاحظہ کر رہا تھا. جو بڑی ہی دیدہ دلیری سے اُس کے تھانے کے سامنے کھڑء اُسی کی گاڑی کا ٹائر نکال رہی تھی.
مِنہا بنا پلٹے ہاتھ میں پکڑے اوزار وہیں پھینکتے کھڑی ہوئی تھی. وہ پہلے کبھی عائلہ کے ایسے کارناموں میں شریک نہیں ہوتی تھی. آج پہلی بار ہی ہوئی تھی. اور پکڑی بھی گئی تھی.
” آپ میری جانب دیکھنا پسند کریں گی. “
ہشام کا خوشمگی لہجہ سنتے منہا کے پسینے چھوٹ چکے تھے. گاڑی کے ساتھ لگے لگے وہ ہشام کی جانب پلٹی تھی.
پچھلے چند گھنٹوں میں اِس لڑکی سے ہشام کا اب تیسری بار سامنا ہورہا تھا. اور ہر بار سچویشن عجیب سے عجیب تر تھی. جس نے اب ہشام گردیزی کو اچھا خاصہ تپا دیا تھا. شرمندگی اور خجالت کے مارے مِنہا کا گلابی چہرا بلکل لال ہوچکا تھا. وہ دل میں مان چکی تھی کہ اِس پولیس آفیسر کے ہاتھوں اُس کا بچنا اب مشکل تھا.
” لیٹ نائٹ کلب جانا, دوسروں کی گاڑی کے ٹائرز چرانا اِس کے علاوہ اور کیا کیا کرتی ہو تم. “
ہشام نے تیز نظروں سے اُسے گھورتے قدم آگے بڑھائے تھے. منہا نے پیچھے ہونا چاہا تھا مگر عین پیچھے گاڑی ہونے کی وجہ سے وہ ہل بھی نہیں پائی تھی. ہشام اُس کے سر پر پہنچ چکا تھا. اور اُس کے گرد گاڑی پر اپنا بازو ٹکاتے ہلکا سا جھکا تھا. اُس کی گرم سانسوں کی تپیش پر منہا کو اپنی پیشانی جھلستی ہوئی محسوس ہورہی تھی.
” یہ سب کیا اور کیوں ہورہا تھا. مجھے سچ سچ بتاؤ. “
اپنے کان کے بلکل قریب ہشام کی آواز سنتے منہا نے آنکھیں موند لی تھیں. اب وہ اُسے کیا بتاتی کہ اُس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا. چاہے جیسی بھی صورتحال ہو وہ ہمیشہ سچ ہی بولتی تھی. اور اب بھی یہی ہوا تھا.
” وہ آپ نے جس طرح کچھ ٹائم پہلے مجھ سے بات کی وہ مجھے اور میری فرینڈ کو بلکل بھی پسند نہیں آیا. اِس لیے آپ سے بدلہ لینے کے لیے ہم نے یہ کرنے کو سوچا. پر آئم ریلی سوری اِس کے علاوہ ہماری کوئی غلط اِنٹینشن نہیں تھی.”
ہشام کی پرسنیلٹی ویسے ہی بہت رعب دار تھی. اُوپر سے وردی میں ملبوس وہ چہرے پر سخت تاثرات سجائے اُس کی جان نکالے ہوئے تھا.
منہا کے رٹو طوطے کی طرح بات بتانے پر ہشام کچھ لمحوں کے لیے اُس کی معصومیت یا بے وقوفی پر اُسے دیکھ کر رہ گیا تھا. مگر اتنی آسانی سے معاف کرنا بھی ہشام گردیزی کی عادت نہیں تھی.
” لیکن میں نے تو تمہیں رنگے ہاتھوں پکڑا ہے. اور تمہاری طرف سے تو ویسے بھی میرا ایک حساب نکلتا. “
ہشام سپاٹ سے انداز میں گاڑی پر بازو ٹکائے پہلے سے خوفزدہ مِنہا کو مزید ڈراتے بولا. اُس کی پیشانی پر پسینے کے ننھے قطرے واضح تھے.
” کک کیا مطلب میں تو آج فرسٹ ٹائم ہی ملی ہوں آپ سے کچھ نہیں جانتی آپ کے بارے میں. “
منہا کو ہشام کی چھبہتی نظریں بہت زیادہ کنفیوز کررہی تھیں. جنہیں وہ سمجھنے سے قاصر تھی.
اِس سے پہلے کے ہشام اُسے اُسکی بات کا جواب دیتا اُسکا موبائل بج اُٹھا تھا.
” سر شہباز خان کے خاص رفیق نیازی دوست جس سے ابھی کچھ دن پہلے ہی اُس کا جھگڑا ہوا تھا نے اُس پر حملہ کر دیا ہے. مگر ہمارے آدمیوں نے بروقت مداخلت کرتے دونوں جانب سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہونے دیا. “
کال سنتے ہی ہشام کی نظریں منہا کی جانب اُٹھی تھیں. جو نہیں جانتی تھی کہ وہ آنے والے دنوں میں کتنے بڑے خطروں میں گِھرنے والی ہے.
کال کاٹتے ہشام نے منہا کو مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے اُسے واپس جانے کو کہا تھا. اور اپنے کچھ اہلکاروں کو غیر محسوس انداز میں اُس کو بحفاظت گھر پہنچانے کا آرڈر دیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” واؤ مِنہا یہ ہیرو کون ہے. آج سے پہلے تو میں نے اِسے کبھی کسی پارٹی میں نہیں دیکھا. “
عائلہ ایک ادا سے اپنے کندھے پر گرے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے بولی. جس کی ہیزل گرین آنکھیں کچھ دور کھڑے میر زیان حیدر پر جم کررہ گئی تھیں.
وائٹ ڈھیلی ڈھالی سی گھٹنوں سے اُوپر تک آتی شرٹ کے نیچے بلیک کلر کی فٹنگ والی پینٹ پہنے حسین لیئر کٹ بالوں کو اپنے رعنائیاں بکھیرتے وجود کے گرد پھیلائے وہ وہاں موجود ہر شخص کی نگاہوں کا مرکز تھی.
” یہ اِس وقت کے کامیاب ترین بزنس مین میں شمار حیدر لاغاری کا بیٹا ہے. کچھ مہینے پہلے ہی لندن سے واپس لوٹا ہے. “
مِنہا کے بجائے اِس بات کا جواب نمرہ کی جانب سے آیا تھا. جو خود میر زیان کی جانب والہانہ نظروں سے دیکھ رہی تھی. ڈارک بلو کلر کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس کسی بات پر مسکراتا وہ عائلہ کو بے خود سا کر گیا تھا.
” اتنے مہینے میری اِس پر نظر کیسے نہیں پڑی. یہ شخص نظرانداز کیے جانے کے قابل تو بلکل بھی نہیں ہے. اور مس نمرہ جس طرح تم اُسے گھور رہی ہو. اگر مزید کچھ سیکنڈز بھی تم نے اُسے ایسے ہی دیکھا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. یہ شخص عائلہ اکرام کو پسند آچکا ہے. تو آج سے یہ صرف اور صرف میرا ہے. “
عائلہ نمرہ کو دبے دبے لہجے میں وارن کرتی نظریں گھمانے پر مجبور کر گئی تھی. نمرہ میں عائلہ جیسی لڑکی سے اُلجھنے کا سٹیمنا بلکل نہیں تھا. جبکہ پاس کھڑی عائلہ کی بیسٹ فرینڈ مِنہا حیرت سے یہ سب دیکھ رہی تھی.
” یہ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی. محترمہ عائلہ اکرام جن کو کوئی شخص اِس دنیا میں اپنے لیے پرفیکٹ لگتا ہی نہیں. وہ ایک نظر میں ہی کسی شخص کی دیوانی ہوچکی ہیں. اَن بیلیوایبل.”
مِنہا نے ہنستے عائلہ کا مذاق اڑایا تھا. وہ اپنی دوست کی نیچر سے اچھی طرح واقف تھی.
عائلہ اُس کی حیرت پر صرف ہولے سے مسکرائی تھی.
” میری جان اتنا بھی حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے. ابھی تو تمہیں بہت کچھ دیکھنا باقی ہے. کیونکہ یہ شخص واقعی تمہاری دوست کو بُری طرح اپنی جانب متوجہ کر چکا ہے. “
عائلہ بنا میر زیان سے نگاہیں ہٹائے مِنہا کو جواب دیتی اُس کی جانب بڑھ چکی تھی. جو ابھی بھی اُس کی جانب بلکل بھی متوجہ نہیں تھا.
جاری ہے
