Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episodd 23 & 24
No Download Link
Rate this Novel
Episodd 23 & 24
” میر تم. تم میرے روم میں کیوں آئے ہو. جاؤ یہاں سے.”
عائلہ زیان کو اپنے حلیے کی وجہ سے کڑے تیوروں کے ساتھ وہاں کھڑا دیکھ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے بولی.
” میں بس اتنا کہنے آیا ہوں. کہ تم جو بھی لڑائی جھگڑا کرنا چاہتی ہو اُسے بعد کے لیے رکھ لو. ابھی خاموشی سے نکاح نامے پر سائن کردو.”
زیان پورے تحمل کے ساتھ عائلہ سے کافی فاصلے پر کھڑے بولا.
” میں نے نہیں کرنا تم سے نکاح میں کتنی بار کہہ چکی ہوں میر. تم لوگوں کو میری بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی.”
عائلہ آخر کار تنگ آتے چلائی تھی. اُس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہورہی تھی. مگر وہ ضبط کرتی وہاں بہت ہی نارمل حالت میں ہی کھڑی ہوئی تھی.
” اور میں نے بھی کہا ہے کہ میں نکاح کروں گا تو تم سے اور وہ بھی ابھی اور اِسی وقت. اُس کے لیے مجھے جو کرنا پڑا میں کروں گا. “
زیان چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے عائلہ کے قریب آتے بولا.
” میر زیان حیدر تم کیا سمجھتے ہو. تمہارے کسی بھی عمل سے مجھے فرق پڑتا ہے. اپنی یہ غلط فہمی دور کردو. کیونکہ مجھے تمہارے کسی بھی عمل سے کوئی فرق نہیں پڑتا. تم جو چاہے مرضی کر لو. میں یہ نکاح کبھی نہیں کروں گی. “
عائلہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے کے زیان اُس سے بدگمان ہوکر اِس نکاح سے پیچھے ہٹ جائے.
” ریئلی تمہیں فرق نہیں پڑتا. “
زیان نے عائلہ سے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑے ہوتے چیلنجنگ انداز میں پوچھا.
اُس کی بات کے جواب میں عائلہ نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا. لیکن زیان کے کیے جانے والے اگلے عمل پر عائلہ کی آنکھیں حیرت اور بے یقینی کے مارے ناقابلے یقین حد تک کھل گئی تھیں.
زیان کو پاکٹ سے پسٹل نکالتے دیکھ عائلہ شاک ہوئی تھی مگر اگلے ہی لمحے یہ سوچ کر کہ زیان یہ اُسے اِس سے مارنے کی دھمکی دے کر شادی کے لیے راضی کرنا چاہتا ہے. عائلہ کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ پھیل گئی تھی. اِس طرح تو زیان اُس کی مشکل مزید آسان کردے گا.
” ہاہاہاہا میر تمہیں کیا لگتا ہے میں اِس سے ڈر کر نکاح کے لیے مان جاؤں گی. کبھی نہیں میر تم بے شک اِسے مجھ پر چلادو. میں تم سے نکاح کے لیے پھر بھی نہیں مانوں گی.”
عائلہ سینے پر ہاتھ باندھی مسکراتے ہوئے بولی. لیکن اُس کی مسکراہٹ اُس وقت سمٹی جب زیان نے پسٹل کا رُخ اُس کی جانب موڑنے کے بجائے اپنی کنپٹی پر رکھ دیا. عائلہ کو اُس کے عمل سے ایک بار پھر شدید جھٹکا لگا تھا.
” میر کیا ہے یہ سب. ہٹاؤ اِسے یہاں سے گولی چل جائے گی. “
زیان کو عین اپنی کنپٹی پر پستول رکھا دیکھ عائلہ اندر تک کانپ اُٹھی تھی.
زیان کے پاس زیادہ ٹائم نہیں تھا. اِس ضدی لڑکی کو ساری باتیں کلیئر کرکے منانے کا. کیونکہ سب بتانے کے باوجود اُس کے مان جانے کے چانسز بہت کم تھے. اِس لیے زیان نے اپنی اِس پاگل دیوانی کو منانے کی خاطر اپنا سوچا حربہ آزمایا تھا. جس پر عائلہ کے ایکسپریشن دیکھ زیان کو لگ رہا تھا کہ وہ کامیاب ہوسکتا ہے.
” تم نے ہی تو کہا کہ تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا. تو پھر ٹھیک ہے تم نکاح سے انکار کردو. میں یہ گولی چلا دوں گا. مگر میری موت کی ذمہ دار تم ہوگی. “
زیان نے اتنے ریلیکس انداز میں پسٹل اپنی کنپٹی پر رکھا ہوا تھا کہ جیسے وہ اصل نہ ہو کوئی کھلونا ہو. مگر وہیں عائلہ کی جان نکلی جارہی تھی. زیان کی جان خطرے میں دیکھ.
” میر یہ کیا حرکت ہوئی. مجھے تم سے ایسے بچپنے کی اُمید نہیں تھی. ہٹاؤ اِسے اپنے سر سے. یہ کونسا پاگل پن ہوا بھلا.”
عائلہ کا باس نہیں چل رہا تھا کیسے زیان کو سمجھائے جو ایک ہی ضد پر اڑا ہوا تھا. وہ ڈر کے مارے آگے ہوکر زیان سے پسٹل چھین بھی نہیں سکتی تھی کہ کہیں غلطی سے زیان پر گولی نہ چل جائے.
” نکاح کے لیے مان جاؤ میں یہ ہٹا دوں گا. ورنہ تمہارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں. اگر تم نے ہاں نہ کی تو انجام کی ذمہ دار تم ہوگی. “
زیان کی گرفت پسٹل پر مضبوط تھی.
” میر پلیز مت کرو ایسا. پلیز میں تم سے نکاح نہیں کرسکتی میں مجبور ہوں.”
عائلہ بھیگی آنکھوں سے زیان کی جانب دیکھتے بےبسی اور بےچارگی سے بولی. جو کسی صورت اپنی ضد سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہیں تھا.
” میں بھی مجبور ہوں عائلہ بہت پیار کرنے لگا ہوں تم سے. اب نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر اگر تم اِس نکاح کے لیے راضی نہ ہوئی تو میں خود کو شوٹ کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا. “
زیان کی دھمکی کے ساتھ ساتھ اتنے خوبصورت اظہار پر عائلہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے.
” میر میں تمہارے قابل نہیں ہوں پلیز ایسا مت کرو. مجھے ایک بیمار………. ….”
” عائلہ تمہارے پاِس صرف ایک منٹ ہے ہاں یا نہ میں جواب دو.”
زیان عائلہ کی بات وہی کاٹتا جلدی سے بولا.
” میر میری بات تو سن لو…. “
” مجھے کچھ نہیں سننا ہاں یا نہ میں جواب دو ورنہ میں گولی چلا دوں گا. “
زیان جیسے اِس وقت عائلہ سے کوئی بھی کنفیشن سننے کے موڈ میں نہیں تھا. اِس لیے ایک بار پھر اُس کی بات کاٹتے اُسے چپ کروا گیا تھا.
جس پر عائلہ نے بے بسی سے زیان کی جانب دیکھتے اُس کی ضد کے آگے ہار مانتے اثبات میں سر ہلا دیا تھا.
” پلیز اِسے ہٹا دو. میں تیار ہوں نکاح کے لیے.”
عائلہ روتے ہوئے چہرا ہاتھوں میں چھپائے صوفے پر جابیٹھی تھی. کیونکہ یہ اُس سے بھی کہیں زیادہ ضدی شخص ہمیشہ اپنی کرنے والا اُس کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا.
زیان بنا ایک لفظ بولے آگے بڑھا تھا. ٹیبل پر رکھے بہت سے ڈریسز میں سے اُس نے ایک ڈریس کا لال دوپٹہ اُٹھاتے عائلہ پر اوڑھا دیا تھا. جس کی وجہ سے وہ بلکل اُس میں چھپ گئی تھی.
” جاناں ایک بار میری ہو جاؤ. پھر تمہاری ایک بار پھر کی جانے والی اِس گستاخی کا بدلہ ضرور لوں گا. “
زیان عائلہ کے کان کے قریب سرگوشی کرتے اُسے اُس کے اپنی ضد میں پہنے گئے لباس کے بارے میں وارن کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ایس پی ہشام گردیزی تم نے پورے خاندان کے سامنے مجھ سے رشتہ توڑ کر مجھے ٹُھکرا کر بہت بُرا کیا ہے. کبھی معاف نہیں کروں گی میں تمہیں. بہت محبت پیدا ہوگئی ہے نا تمہیں اپنی بیوی سے. دیکھتی ہوں کیسے تم اُس کے ساتھ اپنی خوشحال زندگی گزارو گے. تم اگر میرے نہیں ہوسکے تو میں بھی اُس لڑکی کو تمہارا نہیں ہونے دوں گی.”
فائقہ کو جس دن سے ہشام کے نکاح اور منگنی توڑنے والی بات پتا چلی تھی. اُس دن سے اُس کا سکون و چین برباد ہوچکا تھا. محبت چھن جانے کے ساتھ ساتھ پورے خاندان میں اپنی ہونے والی بےعزتی اور آہانت وہ کسی صورت بھولنے کو تیار نہیں تھی. مگر اُس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب ہشام گردیزی کو بھی سکون سے نہیں رہنے دے گی.
اتنے دنوں سے اپنی یہی پلاننگ کرتے اُس نے خود کو کمرے میں بند کر رکھا تھا. اِسی وجہ سے آج وہ زیان کے نکاح میں بھی نہیں گئی تھی. کیونکہ اُس کے مطابق وہاں ہشام گردیزی کو دیکھ اُس کے زخم پھر سے تازہ ہوجانے تھے.
فائقہ نے کچھ سوچتے صبا کو کال ملائی تھی.
” ہاں صبا بولو. جو کام دیا تھا میں نے وہ ہوا.”
فائقہ اور صبا بہت اچھی دوستیں تھیں. جس وجہ سے فائقہ نے اُسے اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی پر ایموشنل بلیک میل کرتے اپنی تھوڑی سی مدد کرنے کے لیے راضی کر لیا تھا. اور اِس وقت کسی طرح بھی اُسے ہشام کے موبائل سے اُس کی بیوی کا نمبر لینے کو کہا تھا.
” فائقہ میں پوری کوشش کررہی ہوں. مگر ہشام بھائی کے موبائل تک پہنچنا ناممکن ہے. اور اگر میں پکڑی گئی تو میری خیر بلکل بھی نہیں ہوگی. “
صبا فائقہ کی وجہ سے عجیب کشمکش کا شکار تھی. جو اُسے نجانے کون کون سے واسطے دے کر اور پچھلی باتوں پر بلیک میل کرکے اِس کام کے لیے راضی کر چکی تھی.
” صبا آج زیان کا نکاح ہے. جس میں ہشام سب سے زیادہ انوالو ہوگا. وہ کسی ٹائم تو اپنے موبائل سے توجہ ہٹائے گا ہی سہی. تم نکال لینا نمبر اُس ٹائم.”
فائقہ اُسے اور بھی بہت سارے آئیڈیاز دیتی فون بند کرچکی تھی.
صبا نے فون بند کرتے نظر پورے ڈرائنگ روم میں گھمائی تھیں جب اُسے ایک سائیڈ پر ہشام اور زیان باتیں کرتے نظر آئے تھے. ہشام کے ہاتھ میں موبائل تھا. جس کے ساتھ زیان سے باتوں کے درمیان وہ کھیلنے میں مصروف تھا. کبھی پاس پڑے ٹیبل پر رکھتا تھا کبھی پھر اُٹھا لیتا تھا.
آخر کار بہت دیر کے بعد ہشام موبائل وہیں رکھتا زیان کے ساتھ آگے بڑھ گیا تھا. صبا جو کب سے اِسی لمحے کے انتظار میں تھی. اُن دونوں کو ڈرائنگ روم سے باہر نکلتے دیکھ موقع ملتے ہی ہشام کے موبائل کے پاس پہنچی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی زیان اور عائلہ کا نکاح ہوچکا تھا. اُس کے بعد سے مِنہا اُس کو سنبھالنے کے لیے اُس کے پاس ہی تھی. لیکن ابھی زیان کے کہنے پر کہ اُسے اپنی نئی نویلی بیوی سے ملنا ہے وہ نیچے آگئی تھی.
جہاں سامنے ہی اُس نے ہشام کو اردگرد موجود لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی جانب پرشوق نظروں سے دیکھتا پایا تھا. مِنہا نے وہاں سے ہٹنا چاہا تھا. مگر فاریہ مِنہا کا ارادہ بھانپ کر اُس کا ہاتھ پکڑ کر پاس بیٹھا چکی تھی.
وہاں ہشام کی تقریباً ساری فیملی ہی موجود تھی. اِس لیے مِنہا کچھ زیادہ ہی گھبرا رہی تھی. مگر ہشام بنا کسی کی پرواہ کیے پورے حق سے اپنی حسین بیوی کے دلفریب رُوپ کو آنکھوں کے راستے دل میں بسانے میں مصروف تھا. اور مِنہا اِس سب سے مسلسل پزل ہورہی تھی.
وہ اِس وقت ٹی پنک اور گرے کنڑانس کے لانگ فراک کے نیچے پلازو زیب تن کیے. اپنے کھلے سیاہ لمبے بالوں کو نیچے سے کرل کرکے آگے کی جانب کیے کوئی حسین پری لگ رہی تھی. سیاہ زلفوں کی حسین آبشاروں سے جھانکتے اُس کے چہرے کی معصومیت اور الوہی مُسکان اُسے باقی سب سے منفرد اور نمایاں بنارہی تھی. میک کے نام پر آج بھی اُس نے پنک لپسٹک, مسکارا , بلش آن اور ہلکی پھلکی میچنگ جیولری نے اُس کے حُسن کو مزید نکھار دیا تھا. ڈریس کا ہم رنگ دوپٹہ گلے میں ڈالے ٹھنڈ کی وجہ سے کندھوں پر ڈارک پنک کلر کی ویلوٹ کی شال اوڑھے وہ بہت ہی پُروقار سی لگ رہی تھی. اُوپر سے ہشام کی نظروں سے کنفیوز ہوکر مزید سُرخ ہوتی وہ سیدھی ہشام کے دل میں اُتر رہی تھی.
وہ نجانے اور کتنی دیر ایسے ہی بے خود سا مِنہا کو گھورتا رہتا جب تیمور اُس کے پاس آبیٹھا تھا.
” ہشام بھائی بچاری ہماری بھابھی کو اور کتنا پزل کریں گے. بچاری کیوٹ سی میری بھابھی پہلے ہی اچھی خاصی گھبرا چکی ہیں.”
تیمور کو لگا تھا ہشام اُس کی بھابھی والی بات کی نفی کرے گا مگر اپنی بات کے جواب میں ہشام کو قہقہ لگاتے دیکھ تیمور حیران ہوا تھا.
” یار کیا کروں دل کے ہاتھوں مجبور اور بےبس ہوں.”
ہشام کے مسکرا کر دیئے جانے والے جواب پر تیمور نے آنکھیں پھاڑے ایک نظر مِنہا پر ڈال کر پھر ہشام کی جانب دیکھا تھا.
” اِس کا مطلب یہ فاریہ آپی کی دوست ہی ہماری وہ والی بھابھی ہیں.”
تیمور کا حیرت سے کھلا منہ بند ہی نہیں ہورہا تھا. اُسے یقین ہی نہیں آرہا تھا. کہ جس لڑکی کی وجہ سے اُن کے گھر میں ایک سرد جنگ چھڑی ہوئی ہے. وہ لڑکی یہ ہے. جسے دیکھ کر یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کبھی اِس نے اُونچی آواز میں بات بھی کی ہو.
” ہشام بھائی یہ تو اِتنی معصوم اور کیوٹ سی ہیں. آپ ابھی اِن کو گھر والوں سے ملوا دیں دیکھ لیجئے گا سب مان جائیں گے. “
تیمور ایک دم خوش ہوتے ایکسائٹڈ ہوا تھا.
” ہممہ بہت جلد ملوانے کا ارادہ رکھتا ہوں. مگر آج نہیں. میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی وجہ سے زیان کی شادی کا فنکشن خراب نہیں کرنا چاہتا. یہ شادی ختم ہوتے ہی میں اپنی وائف کو سب سے ملوا دوں گا. “
ہشام پرعزم لہجے میں کہتا مسکرایا تھا. اُس کی نظریں ابھی بھی مِنہا پر ٹکی ہوئی تھیں.
ہشام نے اُس کی جانب دیکھتے میسج ٹائپ کیا تھا.
” مائی بیوٹیفل لیڈی اِس وقت تم جتنی خوبصورت لگ رہی ہو نا. میرا بے ایمان ہوتا دل یہ چاہ رہا ہے کہ ابھی سب کو ساری حقیقت بتاکر تمہیں آج اپنے ساتھ پورے حق سے اپنے گھر لے جاؤں.”
ہشام کو میسج پڑھ کر مِنہا کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا. اُس نے نفی میں سر ہلاتے جواب لکھا تھا.
” نہیں ہشام پلیز آپ ایسا کبھی نہیں کریں گے. “
مِنہا کے چہرے کے ایکسپریشن ملاحظہ کرنے کے ساتھ ساتھ میسج پڑھ کر ہشام کو بہت مزا آیا تھا.
” تو ٹھیک ہے ابھی مجھے ملنا ہے تم سے. جہاں میں بلاؤں گا وہاں آجاؤ. “
ہشام میسج ٹائپ کرتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
” نہیں میں نہیں آؤں گی. آپ کو زیادہ پھیلنے اور فری ہونے کی ضرورت بلکل بھی نہیں ہے. “
مِنہا ہشام کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی نڈر ہوئی تھی.
لیکن اُس کے بعد ہشام کا کوئی رپلائی نہیں آیا تھا. جس پر مِنہا ہشام کی ناراضگی کا سوچ کر بے چین ہوئی تھی. مگر دوبارہ میسج کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوئی تھی. اُسے ویسے ہی ہشام سے ایک جھجک سی محسوس ہوتی تھی. اور اب تو اُس کے سرعام اظہار کے بعد تو ہشام اور اُس کی شوخ نظروں کا مقابلہ کرنا مِنہا کے لیے کچھ زیادہ ہی مشکل ہوگیا تھا.
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب فاریہ مِنہا کی جانب متوجہ ہوئی تھی.
” مِنہا تم تو اِس گھر کے ہر ایریے سے واقف ہو. فاخرہ آنٹی کہہ رہی تھیں کہ اُوپر سٹور روم کے ساتھ والے روم میں عائلہ کے کچھ ڈریسز رکھے ہیں وہ تو پلیز لے آؤ.”
فاریہ کی بات پر مِنہا خاموشی سے سر ہلاتی اُٹھ گئی تھی.
جسے جاتا دیکھ فاریہ ہشام کو ڈن کا میسج کرتی مسکرا دی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
میر زیان حیدر نے سرشاری کے عالم میں عائلہ کے روم میں قدم رکھا تھا. وہ بہت خوش تھا کیونکہ محبت کے پہلے میدان میں بہت اچھے سے کامیاب ہوچکا تھا. عائلہ کے تمام حقوق وہ اپنے نام لکھوا چکا تھا.
زیان کے اندر داخل ہوتے ہی سامنے سے اُس پر تکیوں جیولری کے باکسز اور جو جو چیز عائلہ کے ہاتھ میں آرہی تھیں. وہ اُسے زیان پر برسات کیے جارہی تھی.
” ظالم لڑکی کون اپنے نئے نویلے دلہے کا اِس طرح استقبال کرتا ہے. “
زیان دونوں ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرتے اُس تک پہنچا تھا. جو اُسے کسی صورت بخشنے کے موڈ میں نہیں لگ رہی تھی.
زیان نے اُس کے دونوں ہاتھ پکڑنے چاہے تھے. جنہیں عائلہ فوراً جھٹکتے پیچھے ہوئی تھی.
” میر تمہیں زرا شرم نہیں آئی مجھے اتنی گھٹیا دھمکی دیتے ہوئے. اگر خدانخواستہ غلطی سے بھی گولی چل جاتی تو. تم سوچ بھی کیسے سکتے ہو. خود کو نقصان پہنچانے کے بارے میں. “
عائلہ سُرخ ہوتی آنکھوں میں آنسو لیے اُسے خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے بولی. جو محبت پاش نظروں سے اپنی دیوانی کو دیکھ رہا تھا. جو صرف اِس بات اتنا رو رو کر خود کو ہلکان کررہی تھی کہ اُس نے اپنی کنپٹی پر پستول کیوں رکھا.
زیان نے اُسے دونوں کندھوں سے تھام کر قریب کرتے اپنے حصار میں لیا تھا.
” جب اتنا پیار کرتی ہو تو دور جانے کی کوشش کیوں کررہی ہو. اور میری زندگی! میرا اتنی جلدی مرنے کا کوئی موڈ نہیں ہے. ابھی تو مجھے تمہارے ساتھ مل کر اپنی خوبصورت لائف جینی ہے. بہت سارا انجوائے کرنا ہے. تم سے بے پناہ محبت کرنی ہے. جو گن میں نے اپنی کنپٹی پر رکھی تھی اُس میں بلٹس تھی ہی نہیں وہ خالی تھی. میں نے وہ سب صرف تمہیں منانے کے لیے کیا کیونکہ میں جانتا تھا. تم میرے پسٹل رکھنے پر ہی مان جاؤ گی. گولی چلانے کی نوبت ہی نہ آتی.
تم سیدھی طرح تو ماننے والی تھی ہی نہیں. اِس لیے تمہیں تمہارے طریقے سے منانے کے لیے مجھے یہ سارا ڈرامہ کرنا پڑا. “
زیان کی پوری بات سنتے عائلہ نے اپنے بے وقوف بنائے جانے پر اُسے غصے سے گھورتے اُس کے حصار سے نکلنا چاہا تھا. جبکہ زیان قہقہ لگاتے اُس کی کوشش ناکام بنا چکا تھا.
” میر زیان حیدر تمہیں جتنا سیدھا انسان میں نے سمجھا تھا تم اُتنے ہو نہیں. مجھے نہ ہی تم سے پیار ہے , نہ تم سے بات کرنی ہے اور نہ ہی تمہارے ساتھ رہنا ہے. “
عائلہ عجیب سی بے چینی کا شکار تھی کیونکہ وہ سمجھ رہی تھی کہ زیان اُس کی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا. جب اُسے پتا چلے گا تو اُس پر کیا بیتے گی. وہ زیان کے سامنے آنے والے ردعمل سے بہت زیادہ خوفزدہ تھی.
” مگر میں نے جتنا پاگل تمہیں سمجھا تھا تم اُتنی ہی پاگل ہو. لیکن جتنی بھی کوشش کر لو اب پوری زندگی میری محبت کے مضبوط حصار سے نکل نہیں پاؤ گی. “
زیان اُسے اپنی بانہوں میں بھینچتے محبت سے بولا. جس پر عائلہ کی آنکھوں کے کٹورے آنسو سے بھر گئے تھے.
” اور اگر میں کہوں میری زندگی ہے ہی بہت کم ہے تو.”
ایک بار پھر عائلہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوچکے تھے. جنہیں اِس بار بے مول ہونے سے پہلے ہی زیان نے اپنے ہونٹوں سے چن لیے تھے.
زیان کی بے اختیار حرکت پر عائلہ اِس سچویشن میں بھی شرم سے سُرخ ہوئی تھی.
” میر مجھے…. “
عائلہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی زیان نے اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے اُسے خاموش کروا دیا تھا.
” میں سب جانتا ہوں. ڈاکٹر عدیلہ مجھے سب بتا چکی ہیں. “
عائلہ نے بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے زیان کی جانب دیکھا تھا. جس پر زیان نے اثبات میں سر ہلاتے اُس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اپنے قریب کیا تھا.
” تمہیں مجھ پر اور میری محبت پر زرا سا بھروسہ بھی نہیں تھا. تم ایک بار مجھ سے بات کرکے تو دیکھتی. تم نے کیسے مجھ سے دور جانے کا فیصلہ کرلیا. اور تمہیں کیا لگا تھا میں تمہیں خود سے دور جانے دوں گا. “
عائلہ بنا کچھ بولے خاموشی سے اپنے میر کی جانب دیکھ رہی تھی. جو اُس سے بھی کئی گنا زیادہ پیار پیار عائلہ سے کرنے لگا تھا. جتنا وہ اُس سے چاہتی تھی.
” پرسوں لندن سے تمہارے ٹریٹمنٹ کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم یہاں پہنچ جائے گی. اور تمہارا پراپر ٹریٹمنٹ سٹارٹ ہوجائے گا. میری اُن سے تفصیل سے بات ہوچکی ہے. اُن کے مطابق 70% لوگ آرام سے اِس بیماری سے سروائیو کرچکے ہیں. اور مجھے پورا یقین ہے میرا دل کہتا ہے تم کچھ دنوں تک بلکل سہی سلامت میرے سامنے کھڑی ہوگی. “
زیان کی بات پر پہلی بار عائلہ کی مایوس آنکھوں میں اُمید کی کرن جاگی تھی.
” کیا تم میری خاطر میرے ہر فیصلے میں میرا ساتھ دو گی. “
زیان نے عائلہ کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلاتے پریقین لہجے میں پوچھا تھا. جس کے جواب میں عائلہ نے سر اثبات میں ہلاتے اپنا نازک ہاتھ اُس کے مضبوط ہاتھ میں دے دیا تھا.
وہ تو پہلے ہی اِس شخص کی اسیر تھی. اب تو وہ اُس کا محرم بھی بن چکا تھا. اور جس طرح اپنے کہے کے مطابق وہ واقعی اُس کی زندگی کے دکھ ختم کرنے کے لیے پہلا قدم اُٹھا چکا تھا. عائلہ تو مزید اُس کی دیوانی بن چکی تھی.
” مگر مجھے ہاسپٹل پر اُن مشینوں اور دوائیوں میں جکڑا رہ کر اپنی لائف کے یہ حسین ترین دن نہیں گزارنے. وہ کڑوی دوائیاں اور انجکشن نہیں لگوانے مجھے. مجھے بہت ڈر لگتا ہے اِن سب چیزوں سے. پلیز کیا اِن سب کے علاوہ کوئی ٹریٹمنٹ نہیں ہوسکتا. “
عائلہ بچوں کی طرح منہ بسورتے بولتی زیان کو اتنی پیاری لگی تھی کہ کب سے اپنے جذبات پر قابو کیے کھڑے زیان کا خود پر کنٹرول ختم ہوا تھا.
زیان عائلہ کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنے بے انتہا قریب کرتے اُس کے چہرے پر جھکا تھا.
” کڑوی دوائیاں نہیں مگر یہ محبت بھرا لمس تو چلے گا نا. “
زیان نے باری باری اُس کی دونوں گالوں پر محبت بھرا لمس چھوڑتے پوچھا تھا. جس پر عائلہ نے گھبرا کر اُس کے حصار سے نکلنا چاہا تھا.
” کیا ہوا یار پہلے تو تم بڑی شیرنی بنی رہتی تھی. میرے منع کرنے کے باوجود خود ہی میرے قریب آنے کی کوشش کرتی تھی. بس اتنی سی ہی ہمت تھی. اب میرے میدان میں آتے ہی سب ختم.”
زیان اِس بار عائلہ کے ہونٹوں کو فوکس کرتے ایک بار پھر اُس پر جھکا تھا.
” میر پلیز میں بیمار ہوں. “
عائلہ نے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اُسے روکنا چاہا تھا. جب کہ اور کچھ سمجھ نہ آتے وہ جو دماغ میں آیا تھا زیان کو روکنے کے لیے بول گئی تھی. جسے سن کر زیان نے اُس کا ہاتھ ہٹاتے ایک جاندار قہقہ لگایا تھا.
” میں بھی بیمار ہوں تمہارا. اور ٹرسٹ می میری بیماری زیادہ خطرناک ہے. “
زیان بنا کوئی لحاظ کرتے عائلہ کی سانسوں میں اپنی سانسیں اتارنے لگا تھا.
اپنی محبت کا ایک مہکتا احساس اُس کی رگ و پے میں اُتارتے زیان کافی دیر بعد عائلہ سے جدا ہوا تھا. جس پر عائلہ پھولی سانسوں اور بے ترتیب دھڑکنوں کے ساتھ بُری طرح شرم سے چور زیان سے نظریں چراتے اُس کے مضبوط سینے میں سر ٹکا گئی تھی.
زیان نے بھی جواب میں اُسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا.
” میر میں تمہیں عشق کی حد تک چاہنے لگی ہوں. اپنی بہت ساری زندگی تمہارے ساتھ جینا چاہتی ہوں. “
زیان کے اتنے یقین دلانے پر بھی عائلہ کے اندر کا ڈر کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. زیان اُسے جتنا اِس ذہنی ٹینشن سے نکالنا چاہتا تھا وہ اُتنا ہی اُس سب کے بارے میں سوچ کر خود کو پریشان کررہی تھی.
” تو میری جان میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں نا. ہم اب ہمیشہ ساتھ رہیں گے. تم کیوں فضول باتیں سوچ کر خود کو پریشان کررہی ہو. میرے بارے میں سوچو کل سے ہماری شادی ہے اُس کے بارے میں سوچو. تم اپنی اِن خوبصورت آنکھوں میں حسین خواب سجاؤ میں وعدہ کرتا ہوں اُن سب کو پورا میں کروں گا. “
زیان بہت ہی صبر و تحمل سے عائلہ کی ہر پریشانی دور کررہا تھا. جب اُس کی نظریں عائلہ کی ڈریسنگ پر گئی تھیں.
ریڈ دوپٹے کے نیچے ٹائٹ پینٹ اور شرٹ میں اُس کا متناسب سراپا مزید نمایاں ہورہا تھا. جوڑے میں مقید بالوں کی بہت سی لٹیں چہرے کے گرد پھیلی بادلوں سے جھانکتے چاند کا سا دلفریب نظارہ پیش کررہی تھیں. زیان تو اِس دلکش منظر میں کھو سا گیا تھا. اُس نے بنا کچھ بولے عائلہ کا دوپٹہ اُتار دیا تھا.
” میر یہ کیا کر رہے ہو. “
عائلہ زیان کی نظروں اور حرکت پر ایک دم بوکھلا گئی تھی. اُسے آج زیان کی شوخ نظریں بنا دوپٹے کے اپنے سراپے پر محسوس ہوتے پہلی بار دوپٹے اور مناسب کپڑوں کی اہمیت کا احساس ہوا تھا.
” میر کیا ہے پلیز ایسے مت دیکھو. “
ہر جگہ اپنی بولڈنس اور کانفیڈنس کی وجہ سے جانے جانی والی عائلہ اکرام اِس وقت میر زیان حیدر کے سامنے شرم و حیا کا مکمل پیکر لگ رہی تھی. جس سے زیان کی نگاہیں برداشت کرنا بہت مشکل ہورہا تھا.
” یہ ہی کہ واقعی تم اِن کپڑوں میں لگتی تو بہت ہاٹ ہو. اگر تمہیں یہ اتنے ہی پسند ہیں تو تم اِنہیں پہن سکتی ہو.”
زیان کی بات پر عائلہ نے کچھ بے یقین اور کچھ مشکوک نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا. جس کا اگلا جملہ عائلہ کو واپس نظریں جھکانے پر مجبور کرگیا تھا.
” لیکن باہر نہیں. صرف بیڈ روم میں رات کو میرے سامنے.”
زیان کی آنکھوں میں چھپی شرارت پر عائلہ نے ایک مکہ سیدھا اُس کے سینے پر رسید کیا تھا.
” میر تم تو بہت زیادہ بے شرم ہو. میں تو تمہیں اچھا بھلا شریف انسان سمجھتی تھی. میں آج سے پکی توبہ کرتی ہوں ایسے کپڑے کبھی نہیں پہنوں گی. اور نہ ہی کچھ لوگوں کو بلاوجہ خود ہر لائن مارنے کا موقع دوں گی. “
عائلہ اُس کے ہاتھ سے اپنا دوپٹہ لیتے بیڈ پر رکھے کپڑے اُٹھاتی اُسے کو جتاتی نظروں سے دیکھتی واش روم کی جانب بڑھی تھی.
مگر اُس سے پہلے ہی زیان کی گرفت میں ایک بار پھر عائلہ کے دوپٹے کا پلو آچکا تھا. جس پر ہلکا سا دباؤ ڈالتے زیان نے عائلہ کو ایک بار پھر اپنے قریب کھینچ لیا تھا.
” میری جان ایک بار مکمل طور پر میری دسترس میں آؤ تو سہی پھر بتاؤں گا تمہیں کہ کس حد تک اور کتنا شریف ہوں میں.”
زیان عائلہ کی سرخ ہوتی کان کی لوح کو چامتا نرمی سے اپنے حصار سے آزاد کرواتا باہر نکل گیا تھا. جبکہ پیچھے کھڑی عائلہ دل پر ہاتھ رکھے اپنی احتجاج کرتی دھڑکنیں کنٹرول کرنے لگی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مِنہا اُوپر جانے کے لیے سیڑھیوں کی جانب بڑھ ہی رہی تھی. جب اچانک دوسری طرف سے سامنے آتی شائستہ بیگم سے ٹکرا گئی تھی. جس کے نتیجے میں اُن کے ہاتھ میں پکڑی جیولری باکس اور ڈریسز سے بھری ٹوکری نیچے جاگری تھی.
” آئم ریلی سوری آنٹی آئم ویری سوری. میں نے دیکھا ہی نہیں آپ کو. “
مِنہا بنا اُن کی جانب غور کیے نیچے گری ٹوکری میں چیزیں واپس سے رکھ کر سیٹ کرتی سیدھی ہوئی تھی. مگر سامنے کھڑی ہشام کی ماما کو دیکھ وہ اُن کی نظروں سے تھوڑی نروس ہوگئی تھی.
اُن کی نظروں سے اُسے لگ رہا تھا کہ وہ اُس کے بارے میں سارا سچ جانتی ہیں.
” اٹس اوکے بیٹا. آپ فاریہ کی دوست ہونا. اُس دن پارٹی میں دیکھا تھا آپ کو. “
شائستہ بیگم کی بات پر کہ یہ اُس کا وہم تھا. وہ ریلیکس ہوئی تھی.
” جی آنٹی میں فاریہ اور عائلہ دونوں کی فرینڈ ہوں. “
منہا نے اپنی مخصوص نرم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا.
شائستہ بیگم کو مِنہا تو پہلے دن ہی بہت پسند آئی تھی.
” مجھے آپ سے مل کر بہت اچھا لگا بیٹا. ایسے ہی ہنستی مسکراتی سدا سہاگن رہو. اور میرے بیٹے کو ہمیشہ خوش رکھنا. جب سے آپ اُس کی زندگی میں آئی ہو. میرے بیٹے کے چہرے کی خوشی اور آنکھوں کی چمک بڑھ گئی ہے. اُسے کبھی خود سے کسی بھی صورت دور مت ہونے دینا. ہمیشہ اُس کے ہر فیصلے میں قدم ملا کر اُس کے ساتھ کھڑی رہنا. بہت محبت کرتا ہے وہ تم سے.”
شائستہ بیگم اُس کا ماتھا چوم کر اُسے بلکل ماؤں کی طرح سمجھاتیں آگے بڑھ گئی تھیں. مِنہا نجانے کتنے ہی لمحے وہاں کھڑی اُن کے لہجے اور الفاظ کی خوبصورتی محسوس کرتی رہی تھی.
سیڑھیاں چڑھتے بھی اُس کے مائنڈ میں شائستہ بیگم کے الفاظ گردش کررہے تھے. اُسے وہ بہت اچھی لگی تھیں. اُس نے آج تک ماں کا لمس محسوس نہیں کیا تھا. شائستہ بیگم کے لمس نے آج اُسے ایک ممتا کے لمس سے روشناس کروایا تھا.
مِنہا اپنی ہی سوچوں میں گم فاریہ کے بتائے گئے روم میں داخل ہوئی تھی. جیسے ہی وہ ڈریسز اُٹھانے کے لیے آگے بڑھی اُسے اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تھی. مِنہا ایک دم خوفزدہ ہوتی واپس مُڑی تھی. مگر دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہشام کو دیکھ مِنہا کے چہرے سے خوف کے آثار کچھ کم ہوئے تھے. اور ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
” آپ راستے سے ہٹیں مجھے نیچے لے کر جانا ہے یہ سب. دیر ہوگئی تو سب کیا سوچیں گے.”
مِنہا ہشام کی جانب دیکھنے سے گریز کرتی اِدھر اُدھر دیکھتے بولی.
” یار یہ تمہیں پوری دنیا کی پرواہ ہے. مگر اپنے اِس بچارے شوہر کی زرا بھی پرواہ نہیں. “
ہشام مِنہا کے قریب آتے لوح دیتی والہانہ نظروں سے اُس کے چہرے پر بکھرے رنگوں کی جانب دیکھتے ہوئے بولا.
” بچارہ شوہر آپ بچارے کہاں سے لگتے ہیں. “
مِنہا اُس کی بات کا مذاق اُڑاتے اُسے قریب آتا دیکھ پیچھے کی جانب قدم بڑھاتے بولی.
” جس شوہر کو اُس کی بیوی منہ نہ لگائے وہ بچارا ہی ہوا نا. جتنا تم مجھے اگنور کررہی ہو. ایک ایک چیز سود سمیت لوٹاؤں گا.”
ہشام کے کافی زیادہ قریب آجانے پر اپنے پیچھے دیوار دیکھ منہا نے سائیڈ سے نکلنا چاہا تھا. مگر اُس سے پہلے ہی ہشام ہاتھ بڑھا کر اُسے اپنی قید میں لے چکا تھا.
مِنہا کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہشام نے اُسے اپنے قریب کیا تھا.
” اب مجھ سے کسی قسم کا فرار ممکن نہیں ہے سویٹ ہارٹ. تمہارا ہر راستہ اب مجھ پر ہی آکر ختم ہوتا ہے.”
ہشام کی نظریں مِنہا کی ٹھوڑی پر موجود گڑھے پر ٹکی ہوئی تھیں. جس پر نظریں جمائے آخر کار خود پر کنٹرول نہ رکھ پاتے ہشام نے اُس پر اپنے ہونٹوں کا شدت سے بھرپور لمس چھوڑا تھا.
مِنہا نے کسمسا کر خود میں سمٹتے ہشام کی شدتوں سے بچنے کے لیے اُسی کے سینے میں سر چھپا لیا تھا.
” آپ کی ماما مجھے ملی تھیں ابھی. آپ نے اُنہیں بتا دیا میرے بارے میں. بہت پیاری ہیں وہ. مجھے بہت اچھی لگیں. بلکل سگی ماں کی طرح پیار کیا اُنہوں نے مجھے.”
مِنہا نے ہشام کے سینے سے لگے اپنی فیلنگز بیان کی تھیں. اُسے حقیقت میں اُن سے مل کر بہت خوشی ہورہی تھی.
” اچھا جی. اُن کے تھوڑی دیر پیار کرنے پر وہ اتنی پیاری لگیں. اور اُن کا بیٹا جو اتنے دنوں سے پیار کررہا ہے .اُس پر زرا پیار نہیں آتا کیا تمہیں.”
ہشام کے مصنوعی غصہ دلانے پر مِنہا اُس کے سینے سے سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھتی نفی میں سرہلاتی کھلکھلا کر ہنسی تھی.
ہشام مبہوت سا اُس کی جانب دیکھا گیا تھا. جو اُس کے سامنے پہلی بار اِس طرح خوش اور ہنس رہی تھی. مِنہا کا یہ حسین روپ ہشام کے دل کی دنیا تہس نہس کر گیا تھا.
ہشام نے ایک جھٹکے سے مِنہا کو اپنے قریب تر کیا تھا. اتنا کے دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے ایک انچ کی دوری پر تھے.
” آئی لو یو سو مچ. میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں. تم بہت ضروری ہوچکی ہو میرے لیے. کبھی کسی قیمت پر بھی تمہیں خود سے دور نہیں ہونے دوں گا. وعدہ کرو کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گی.”
ہشام نے مِنہا کی آنکھوں میں جھانکتے محبت سے چور لہجے میں کہا تھا. جس پر اب کی بار مِنہا اتنی محبت پر پیار بھری نظروں سے ہشام کی جانب دیکھے گئی تھی.
” اگر آپ کو اپنی بات کا جواب چاہئے تو کچھ دیر کے لیے آپ کو سٹیچو بننا پڑے گا.”
مِنہا کی معصوم سی خواہش پر مسکراتے ہشام فوراً مان اُس کی بات مان گیا تھا.
مِنہا نے شرارتی نظروں سے ہشام کی جانب دیکھتے ہاتھ بڑھا کر اُس کی آنکھوں پر رکھ دیا تھا. تاکہ اُس کی نگاہوں سے بچ سکے. اور پھر ہشام کے پیروں پر اپنے پیر رکھتے پنجوں کے بل اُوپر ہوتے وہ ہشام کے کان کے قریب ہوئی تھی.
” آئی لو یو ٹو ڈیئر ہزبینڈ. آپ میرے لیے میری سانسوں سے بھی زیادہ ضروری ہوچکے ہیں. اور میں جانتی ہوں. آپ ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ایسے ہی میرے ساتھ کھڑے رہیں گے. میں بھی وعدہ کرتی ہوں کبھی بھی آپ سے دور جانے کا خیال دل میں نہیں لاؤں گا.”
مِنہا بلکل ہشام کے کان میں گھسی سرگوشیانہ لہجے میں بولتی ہشام کو اپنے مسحورکن انداز سے ہپنوٹائز کر گئی تھی.
” آپ ایسے ہی یہاں آنکھیں بند کرکے کھڑے رہیں. مجھے آپ کو کچھ دیکھانا ہے. جب تک میں نہ کہوں آپ آنکھیں نہیں کھولیں گے. “
مِنہا ہشام سے دور ہوتی آنکھوں میں شرارت بھرے دبے قدموں سے دروازے کی جانب بڑھ گئی تھی. وہ جانتی تھی کہ ہشام کے آنکھیں کھولنے کے بعد اُس کے کیے گئے اظہار کا انعام سہنے کی ہمت نہیں تھی اُس میں. اِس لیے وہ اپنی چالاکی سے پہلے ہی فرار ہونا چاہتی تھی.
” اب کھول دیں آنکھیں. “
مِنہا آرام سے دروازے کا لاک کھول کر دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی ہوتی مسکرا کر بولی. بند آنکھوں سے ہی اُس کی آواز کی سمت کا تعین کرتے مِنہا کی چالاکی پر ہشام کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” مِنہا شرافت سے واپس آجاؤ. ورنہ اچھا نہیں ہوگا.”
ہشام وارن کرتا اُس کی جانب بڑھا تھا.
” نہیں اگر میں واپس آگئی تو میرے ساتھ اچھا تب نہیں ہوگا.”
مِنہا کھلکھلا کر ہنستی اُسے ٹھینگا دیکھاتی باہر کی جانب بھاگ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مِنہا نے ہشام سے اجازت لے لی تھی کہ وہ دو دن تک عائلہ کی رخصتی تک اُس کے پاس ہی رہے گی. جس پر کچھ دیر کی بحث کے بعد ہشام مان گیا تھا.
مِنہا عائلہ کے پاس ہی بیٹھی تھی جب اچانک اُس کی نظر بار بار روشن ہوتی موبائل سکرین پر پڑی تھی. اُسے لگا تھا کہ شاید ہشام کے میسجز ہوں.
منہا نے مسکراتے ہوئے جیسے ہی نوٹیفیکیشن اوپن کیے انجان نمبر سے آئے میسج دیکھ وہ حیران ہوئی تھی. مگر میسج پڑھ کر اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ چکا تھا.
” اگر اپنے شوہر ایس پی ہشام گردیزی کی سلامتی چاہتی ہوتو اُس کی زندگی سے نکل جاؤ. ورنہ اُس کی موت کی ذمہ دار تم ہوگی. اور خبردار جو اِس بارے میں اُسے کچھ بھی بتانے کی کوشش کی تو. اگر اُس کی اتنی سیکیورٹی کے باوجود ہم تم تک پہنچ سکتے ہیں تو سوچ لو کہ تمہاری ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے بھی ہوں گے. اگر زرا بھی ہوشیاری دیکھانے کی کوشش کی تو ہشام گردیزی کے نقصان کی ذمہ دار تم ہوگی.”
مِنہا جلدی سے عائلہ کے پاس سے اُٹھتی ٹیرس پر آگئی تھی. اُسے یہ اور اِس طرح کے تین چار مزید دھمکیوں بھرے میسج پڑھ کر اپنی سانس اٹکتی محسوس ہورہی تھی.
مِنہا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے تھے. اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے. ہشام کو بتانے کا رسک لے یا نہ لے. اور اگر اُس کے بتانے سے سچ میں اُن لوگوں نے ہشام یا اُس کی فیملی میں سے کسی کا نقصان پہنچا دیا تو.
مِنہا کو یہ سب سوچتے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہورہا تھا. ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ کتنی خوش تھی. کیا اُس کی خوشیوں کی مدت اتنی کم تھی. کیا ہشام کا ساتھ واقعی اُس کو نہیں ملنا تھا. مِنہا کو لگ رہا تھا کہ اُس کے دل کے تمام خدشات سچ ہورہے ہیں. منہا نے ہشام کو بتانا چاہا تھا. مگر پھر وہ دھمکی یاد آتے ہی اُس نے سختی سے خود کو اِس سب سے باز رکھا تھا. وہ کسی قیمت پر ہشام کو کچھ نہیں ہونے دے سکتی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فائقہ نے صبا کے نمبر بھیجنے کے فوراً بعد ہی بہت سوچ سوچ کر میسج لکھ کر مِنہا کو سینڈ کردیئے تھے. لیکن وہ یہ سب نہیں اِس سے بھی بہت بڑا کرنا چاہتی تھی. وہ جانتی تھی کہ زیادہ دیر تک وہ مِنہا کو اِن خالی خولی دھمکیوں سے روک کر ڈرا کر نہیں رکھ سکتی تھی. فائقہ کا بس ایک ہی مقصد تھا ہشام گردیزی سے بدلہ لینا. اُسے برباد کرنا تاکہ وہ بھی کبھی خوش نہ رہ سکے. اُسے بھی پتا چلے کہ کسی سے اُس کی محبت کو چھیننا کیسا ہوتا ہے.
فائقہ اِس وقت انتقام میں اِس قدر اندھی ہوچکی تھی کہ وہ یہ بھول گئی تھی کہ ہشام گردیزی کوئی اور نہیں بلکہ اُس کے سگے ماموں کا اکلوتا بیٹا ہے. اور کبھی اُس کے دل کے بہت قریب رہ چکا ہے. وہ تو بس ہشام گردیزی کو ویسے ہی روتا دیکھنا چاہتی تھی. جیسے ہشام نے اُس کے جذبات کا خون کرتے اُسے رُلایا تھا.
اُس کا دھیان بار بار رفیق نیازی کی جانب جارہا تھا. جو اِس سب میں اُس کی بہت زیادہ مدد کرسکتا تھا. فائقہ کل رات سے کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈنے کی کوشش کررہی تھی. کہ جس سے وہ رفیق نیازی سے رابطہ کرسکے. اور رفیق نیازی بقول فائقہ کے اپنی بھیجی گئی آفت کو خود ہی آکر لے جائے.
فائقہ اِنہیں سوچوں میں گم تھی جب اُس کے موبائل پر ایک انجان نمبر سے فون آنے لگا تھا.
” جی آپ کون بول رہے ہیں. “
ایک اجنبی شخص سے اپنا بلکل ٹھیک نام سن کر فائقہ کافی حیران ہوئی تھی. جب اُس کے سوال پر دوسری جانب سے ایک بے ہنگم قہقہہ گونجا تھا.
” دیکھیں چاہے اِس وقت میں آپ کے لیے انجان سہی مگر آپ کا بہت بڑا خیر خواہ ثابت ہوسکتا ہوں. اِس وقت ہم دونوں کا دکھ سانجھا ہے. اور دشمن بھی ایک ہی. تو کیوں نہ کچھ ٹائم کے لیے ایک دوسرے کی مدد لے لی جائے. “
رفیق نیازی نے ہمیشہ کی طرح ہشام کو سامنے سے وار کرنے کے بجائے پیٹھ پیچھے سے گھٹیا چال چلنے کی پلیننگ کی تھی. جس میں اُسے ہشام کے ہی کسی گھر کے فرد کی ضرورت تھی. اور اُس کی معلوم اور مخبر کے مطابق اِس وقت اِس لڑکی سے زیادہ بہتر آپشن کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا.
” میں سمجھی نہیں تم کون بات کررہے ہو. اور مجھے فون کیوں کیا. کیا چاہتے ہو مجھ سے.”
فائقہ کچھ کچھ سمجھ چکی تھی. مگر پوری تسلی کیے بغیر کچھ نہیں بول سکتی تھی.
” رفیق نیازی بات کررہا ہوں میں. ایس پی ہشام گردیزی اور اُس کی بیوی کا سب سے بڑا دشمن. اور تمہارے مشکل وقت میں سب سے بڑا مددگار. جس وقت میں تمہارے ماں باپ اور بھائی نے بھی تمہارا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے. اور مجھ سے کوئی بھی بات چھپانے کی ضرورت بلکل بھی نہیں ہے. میں تمہارے بارے میں ساری معلومات حاصل کرچکا ہوں. “
رفیق نیازی نے تفصیل بتاتے ساری بات کلیئر کر دی تھی. جس پر فائقہ خوش ہوتے مسکرائی تھی.اُس کی ابھی مانگی جانے والی دعا اتنی جلدی قبول ہوجائے گی اُس نے سوچا ہی نہیں تھا. فائقہ کو یقین ہوچکا تھا کہ اب اُس کی چال کسی صورت ناکام ہونے والی نہیں تھی.
” مگر تمہارا ساتھ دینے میں میرا کیا فائدہ ہوگا. “
فائقہ پوری طرح تسلی کرلینے کے بعد اُس کا ساتھ دینے کی حامی بھرنا چاہتی تھی.
” وہ لڑکی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہشام گردیزی کی زندگی سے نکل جائے گی. اور ہشام گردیزی پہلے کی طرح تمہارا ہوجائے گا. تمہیں بس وہی کرنا ہوگا جو میں کہوں گا. اِسی میں ہی ہم دونوں کا فائدہ ہے.”
رفیق نیازی اِس لڑکی کے اتنی جلدی مان جانے پر خوش ہوتا جلدی جلدی بولا.
” ٹھیک ہے میں تمہاری بات ماننے کو تیار ہوں. مجھے کیا کرنا ہوگا. “
فائقہ بھی جلد از جلد ہشام کی بیوی کو اُس کی زندگی سے نکالنا چاہتی تھی. رفیق نیازی نے اُسے اِس بات پر یقین دلایا تھا. کہ مِنہا سے اُس کا سچ میں پہلے سے نکاح ہوچکا ہے. وہ ہشام کی نہیں اُس کی بیوی ہے. اور ہشام نے صرف ضد میں اُس سے نکاح پر نکاح کیا ہے. جسے سن کر فائقہ آرام سے اُس کے بتائے گئے پلان پر ایگری ہوتی پوری طرح سے حامی بھر چکی تھی.
” لیکن میں تو جانتی ہی نہیں ہوں اُس کی بیوی کو. میں کیسے اُس تک پہنچوں گی. “
فائقہ نے اپنی ایک اور پریشانی کا اظہار کیا تھا.
” تم جانتی بھی ہو اور مل بھی چکی ہو اُس سے. مِنہا شہباز نام ہے اُس کا. ہشام گردیزی کی سخت سیکیورٹی کی وجہ سے میں اور میرے آدمی کسی صورت اُس تک نہیں پہنچ سکتے. اِس لیے مجھے تمہاری مدد درکار ہے. اِن دو دنوں میں تمہارے خاندان میں ہونے والی شادی میں وہ لڑکی موجود رہے گی. اِس دوران تم میرے بتائے گئے پلان پر آرام سے عمل کرسکتی ہو. مگر بہت ہوشیاری کے ساتھ. کیونکہ اگر ہشام گردیزی کی نظروں میں تم آگئی. تو اُس سے میں بھی تمہیں نہیں بچا پاؤں گا. “
رفیق نیازی کی بات پر فائقہ کی آنکھوں میں نفرت چمکی تھی.
” جتنی آگ میرے اندر لگی ہوئی ہے نا. میں کسی صورت بھی یہ پلان فیل نہیں ہونے دوں گی. اور نہ ہی اُس کی نظروں میں آؤں گی. “
فائقہ نے اُس سے مزید کچھ باتیں کلیئر کرتے فون بند کردیا تھا.
” مِنہا شہباز یہی نام ہے نا تمہارا. چہرے سے کتنی معصوم لگتی ہو. اور اندر سے اُتنی ہی مکار ہو تم. اب میں تمہیں بتاؤں گی کہ کسی سے اُس کا پیار چھیننا کیسا ہوتا ہے.”
فائقہ وہ پارٹی والی رات یاد آئی تھی. جس رات فاریہ نے ہشام کی بیوی کو اپنی دوست کہہ کر مخاطب کیا تھا.
فائقہ نفرت سے مِنہا کے بارے میں سوچتی آج کے فنکشن کے لیے تیار ہونے اُٹھ گئی تھی. جس میں وہ آج دلوں جان سے شرکت کرنے کے لیے تیار تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ کی طبیعت صبح سے کچھ گڑبڑ تھی. اُسے صبح سے تین بار خون کی اُلٹیا آچکی تھیں. عائلہ کو ایسا فیل ہورہا تھا کہ جیسے اُسے دیکھنے میں پرابلم ہورہی ہے. کبھی کبھی اُسے دھندلا سا نظر آنے لگتا تھا. مگر اِس سب کو اپنا وہم سمجھتے اُس نے کسی پر ظاہر نہ کرتے یہ بات چھپا رکھی تھی. وہ کسی صورت اپنی مہندی کا فنکشن خراب کرکے ہاسپٹل کے بیڈ پر نہیں پڑنا چاہتی تھی. اِس لیے ہر آدھے گھنٹے بعد آنے والے زیان کے فون پر وہ بہت ہی نارمل انداز میں مُسکرا کر اُسے بول دیتی تھی کہ وہ بلکل ٹھیک ہے.
عائلہ کا ٹریٹمنٹ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق شروع ہوچکا تھا. جو کہ فلحال میڈیکیشن تک ہی محدود تھا.
جاری ہے
