Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episode 21 & 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21 & 22
” اگر آپ واقعی عائلہ سے سچی محبت کرتے ہیں تو میری یہ بات آپ کی محبت کا بہت بڑا امتحان لینے والی ہے. جس میں سرخرو ہونا شاید آپ کے لیے بہت مشکل ہوجائے. کیونکہ ڈوبتی کشتی پر سواری کرنا کوئی پسند نہیں کرتا.”
ڈاکٹر عدیلہ کی بات پر زیان کی پیشانی پر فکرمندی کی لکیریں مزید گہری ہوئی تھیں. اُس کے دل کو جیسے کسی انہونی کا احساس ہوا تھا.
” آپ پلیز اگر پہیلیاں بجھوانے کے بجائے مجھے پوری بات بتائیں گی تو زیادہ بہتر ہوگا. “
زیان کو اُن کا یہ سسپنس اِس وقت زہر لگا تھا.
” بتاؤں گی ساری بات بتاؤں گی مگر اُس سے پہلے کچھ اور بتانا چاہتی ہوں.”
ڈاکٹر عدیلہ زیان حیدر کو جانتی نہیں تھیں. اِس لیے وہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ ساری حقیقت جان کر یہ بے حد وجیہہ شخص عائلہ کی محبت سے دستبردار ہوجائے گا یا واقعی اُس سے سچی محبت کرتا ہے.
اِس لیے اُنہوں نے پہلے عائلہ کی گزری ساری زندگی اُس کے سامنے رکھ دی تھی. اُس کی ماں کو بدکردار کہہ کر گھر سے نکال دیا جانا. باپ کی دوسری شادی کر لینا اور پھر اُن دونوں کا ہمیشہ عائلہ کے ساتھ توہین اور نفرت آمیز رویہ رکھے جانا. عائلہ کا نشہ کرنا لیٹ نائٹ پارٹیز میں جانا. اُس کے اِس حد تک بگڑنے کی ساری وجہ. اُنہوں نے عائلہ کی زندگی کی ہر حقیقت زیان کے سامنے بیان کر دی تھی.
جسے سنتے زیان کو عائلہ کے دکھ سے اپنا دل پھٹتا محسوس ہورہا تھا. اور اُس کی ہر ملاقات میں کہی جانے والی باتیں یاد آنے لگی تھیں. جس میں روتے ہوئے اُس نے زیان کو بتایا تھا کہ وہ بدکردار نہیں ہے. اور زیان سے محبت کی بھیک مانگتے کیسے اُس نے خود کو اُس کی خاطر پوری طرح سے بدلنے کا یقین دلایا تھا. وہ صرف محبت کی پیاسی تھی. پوری زندگی نفرت سہتے اور کرتے وہ اپنی اصل شخصیت سے نجانے کیا بن چکی تھی.
زیان کی آنکھوں کے گوشوں میں ہلکی سی نمی اٹک گئی تھی. اُس نے سوچ لیا تھا. اُس پیاری لڑکی کو ہمیشہ سینے سے لگا کر رکھے گا. اب کوئی غم اُس کے قریب نہیں آنے دے گا. اُس پر محبتوں کی ایسی برسات کرے گا کہ وہ اپنی پچھلی زندگی کے سارے غم بھول جائے گی. مگر زیان یہ نہیں جانتا تھا کہ اُس پر اِس سے بھی کہیں زیادہ بڑی قیامت ٹوٹنے والی تھی.
” عائلہ بہت مضبوط لڑکی ہے. جس نے اپنی زندگی کا ہر مشکل پل مسکرا کر کاٹا ہے. کبھی کسی کو اپنے اندرونی حالات کا اندازہ نہیں ہونے دیا. مگر ایک چیز نے اُسے توڑ کر رکھ دیا ہے.”
ڈاکٹر کی بات پر زیان نے اُن کی جانب ناسمجھی سے دیکھا. جس پر اُنہوں نے دراز میں پڑی فائل نکال کر زیان کی جانب بڑھا دی تھی.
” یہ کیا ہے. “
زیان نے فائل تھامتے سوالیہ انداز میں اُن کی جانب دیکھا تھا.
” عائلہ کی رپورٹس ہیں یہ. اُسے تھرومبوسس ہے. اُس کے برین میں بلڈ کلاٹ ہے. جو کہ شروع میں علاج نہ کروانے کی وجہ سے بہت زیادہ بڑھ چکا ہے. اور اُس کے برین کو بہت کافی ڈیمیج کر چکا ہے. عائلہ کے پاس سروائیول کے صرف 20% چانسز موجود ہیں.”
ڈاکٹر کی بات سن کر زیان کے ہاتھ سے فائل چھوٹ کر نیچے گری تھی. اُسے لگ رہا تھا ڈاکٹر عدیلہ نے یہ بھیانک خبر نہیں سنائی تھی بلکہ کوئی نوکیلا تیز خنجر اُس کے سینے میں عین دل کے مقام پر کھونپ دیا تھا.
” یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے. عائلہ تو بلکل ٹھیک ہے نا. اُسے کچھ نہیں ہوا. “
زیان نفی میں سر ہلاتے یہ تلخ حقیقت ماننے سے انکاری تھا. ضبط کے چکر میں اُس کی آنکھیں لال انگارہ ہوچکی تھیں.
” افسوس کہ ساتھ مگر یہ بلکل سچ ہے. لیکن اُس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ عائلہ اپنے بچنے کے 20% چانسز کو لینا ہی نہیں چاہتی. اُس نے اپنا علاج کروانے سے صاف صاف انکار کردیا ہے. اور مجھے کسی کو بھی بتانے سے سختی سے منع کیا ہے. “
ڈاکٹر عدیلہ کی بات پر زیان نے غصے بھری نظروں سے اُن کی جانب دیکھا تھا.
” وہ تو ہے ہی پاگل لڑکی مگر آپ بھی اُس کی باتوں میں آگئیں. اینی ویز جو آپ لوگوں نے کرنا تھا کر لیا. ٹائم ضائع کرکے. اب وہ ہوگا جو میں کروں گا. اور عائلہ اکرام کو کچھ نہیں ہونے دوں گا کچھ بھی نہیں.”
زیان نیچے گری فائل اُٹھاتے ایک عزم کے ساتھ کہتے وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
زیان وہاں سے تو ہمت کرکے اُٹھ گیا تھا. مگر اتنا جان لیوا انکشاف سن اُس کا دل دھاڑیں مار مار کر رونے پر کررہا تھا. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا پوری دنیا کو تہس نہس کر ڈالے. خود کو باہر سے مضبوط ظاہر کرتے وہ عائلہ کی تکلیف پر اندر سے ٹوٹ رہا تھا. عائلہ کو بے عزت کیا جانے والا ہر لمحہ یاد کرتے زیان کو خود سے نفرت محسوس ہورہی تھی. وہ اتنا بے حس اور بے رحم کیسے ہو سکتا تھا. وہ کیسے اُس لڑکی کی سچائی نہیں پہچان پایا تھا. اور ہر بار اُسے اپنے قریب آنے پر پہلے سے بھی زیادہ بُرے الزامات لگا کر خود سے دور جھٹک دیتا تھا.
” تو اِس کا مطلب عائلہ کا وہ سر میں شدید درد ہونا. وہ سب اِسی کی علامت تھا. اوہ میرے خدایا میں اُس سے اتنی بڑی لاپرواہی کیسے برت سکتا ہوں. آج صبح بھی تو وہی حالت ہوئی تھی اُس کی. وہ پہلے ہی اتنے بڑے درد سے گزر رہی تھی. اور میں اُسے مزید تڑپاتا رہا.”
زیان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنی کوتاہی اور بے رحمی پر خود کو بہت بُری سزا دے ڈالے. مگر اِس وقت اُس کو جوش سے نہیں بلکہ پورے ہوش سے کام لیتے عائلہ کے ساتھ یہ جنگ لڑنی تھی. اپنی عائلہ اپنی محبت کو ہر حال میں بچانا ہوگا. اُس کو کچھ نہیں ہونے دینا تھا.
زیان نے اپنی آنکھوں سے نجانے کب نکل آنے والے آنسو کو بے دردی سے جھٹکتے موبائل اُٹھاتے لندن میں مقیم اپنے دوست جو کہ ایک بہت ہی قابل نیورولوجسٹ سرجن تھا کو کال ملائی تھی. وہ عائلہ کو بچانے کی خاطر کسی بھی مشکل سے لڑنے کے لیے خود کو تیار کرچکا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہشام کو یہاں دیکھ مِنہا کو بہت خوشی ہورہی تھی. مگر وہ بنا یہ خوشی ظاہر کیے چہرے پر ناراضگی کے تاثرات سجائے مال میں اُس کے ساتھ داخل ہوئی تھی.
اُس کا دل بہت خوش فہم ہوا تھا کہ ہشام گردیزی اپنے امپورٹینٹ کام چھوڑ کر صرف اور صرف اُس کی خاطر یہاں آیا تھا.
” جہاں تک میں جانتا ہوں تم یہاں شاپنگ کرنے آئی ناکہ اِن سب چیزوں کو گھورنے. اگر مجھ پر اتنا ہی غصہ آرہا ہے تو ڈائریکٹ مجھ پر اُتارو نا اِن بچاری چیزوں کا کیا قصور ہے.”
ہشام کب سے اُسے ایک سے دوسری چیز کو غصے سے گھورتے دیکھ آخر کار اُس کے سامنے آکر راستہ روکتے بولا.
” مجھے آپ پر غصہ کیوں ہوگا بھلا. اور آپ پلیز تھوڑا فاصلہ پر ہوکر چلیں یہ آپ کا فلیٹ نہیں پبلک پلیس ہے.”
مِنہا اپنی خود ساختہ سوچوں سے اِس قدر گھبرائی اور جھنجھلائی ہوئی تھی کہ اُس کا بلاوجہ ہشام سے لڑنے کو دل کررہا تھا. اُس کا دل چاہ رہا تھا اپنی ساری بھڑاس اِس شخص پر نکال دے. جو اپنی اِنہیں کج ادائیوں سے نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے اپنا اسیر بنا چکا تھا.
” ہاہاہاہاہا تمہارے ساتھ آخر پرابلم کیا ہے. تمہاری جگہ اگر کوئی اور لڑکی ہوتی نا تو ہشام گردیزی کی اتنی اہمیت اور محبت دینے پر ہواؤں میں اُڑ رہی ہوتی. اور قریب کیوں نہ آؤں. میری ہو تم صرف. جو مرضی چاہے کرسکتا ہوں. کسی کی ہمت ہے کہ مجھے روک کر دکھائے.”
ہشام کو کچھ کچھ مِنہا کا رویہ سمجھ میں آرہا تھا.
ہشام نے سوچ لیا تھا کہ کیسے مِنہا کے اندر پلنے والی احساسِ کمتری کو کم کرنا ہے. اُسے بتانا ہے کہ مِنہا ہی وہ واحد لڑکی ہے جو ہشام گردیزی کے دل کو چھونے میں کامیاب ہوئی ہے. جو اُس کے لیے اُوپر والے کی طرف سے دیا گیا بہت ہی انمول تحفہ ہے.
ہشام نے مزید شوخ ہوتے اُسے مزید چڑھانے کے لیے اُس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا تھا. ہشام کے اِس طرح بنا اردگرد موجود لوگوں کی پرواہ کیے بغیر ہاتھ پکڑنے پر بوکھلا سی گئی تھی.
” بے شرم انسان کہیں پر بھی شروع ہوجاتا ہے.”
مِنہا ہشام کو بول کر اُس کی جانب سے کوئی اور پیشِ قدمی نہیں چاہتی تھی اِس لیے دل میں ہی بڑبڑا کر رہ گئی تھی.
” میڈم آپ کے تو کوئی ارادے نہیں لگ رہے شاپنگ کے. یہاں بھی مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا. “
ہشام مِنہا کی مسلسل خاموشی پر اُس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گیا تھا. اور پھر اُس نے مِنہا کے لیے ڈھیروں چیزیں خرید ڈالی تھیں. منہا اُسے روکتی رہ گئی تھی. مگر ہشام نے پہلے کبھی اُس کی سنی تھی جو اب سنتا.
ہشام وہ شخص تھا جسے شاپنگ کے نام سے بھی چِڑ تھی. اُس ک شاپنگ زیان یا واسع میں سے ہی کوئی کر دیتے تھے. مگر آج صرف مِنہا کے مرجھائے چہرے پر رونق لانے کے لیے وہ اپنا ناپسندیدہ ترین کام کررہا تھا. اُن دونوں میں سے کوئی اگر ہشام کو اِس طرح شاپنگ کرتے دیکھ لیتا تو کچھ وقت کے لیے تو ضرور سکتے میں آجاتے.
” میرے ساتھ کینڈل لائٹ ڈنر کرنا پسند کرو گی سویٹ ہارٹ.”
گاڑی میں بیٹھ کر ہشام نے بہت ہی محبت سے اُسے مخاطب کیا تھا. مِنہا ہشام کے اتنے پیار بھرے رویے پر پوری طرح پگھل چکی تھی. اُس کی بات پر مِنہا خاموش نظروں سے اُس کی جانب دیکھنے لگی تھی.
” کیا ہوا مِنہا اِس طرح بی ہیو کیوں کررہی ہو. کوئی پرابلم ہے. کوئی بات پریشان کررہی ہے تو مجھ سے شیئر کرو نا. “
ہشام نے مِنہا کی جانب مُڑتے اُس کے دونوں ہاتھ گرفت میں لیتے اُن آنسو بھری سیاہ جھیلوں میں جھانکا تھا.
” کیا آپ ہمیشہ ایسے ہی مجھ سے پیار کریں گے. اپنی فیملی کے پریشر میں آکر مجھے چھوڑ تو نہیں دیں گے.”
کوشش کے باوجود بھی دو موٹے موٹے آنسو پلکوں کی باڑ پار کرتے گالوں پر لڑھک گئے تھے.
اُس کی بدگمانی پر ہشام نے گہرا سانس ہوا میں خارج کیا تھا.
” تمہیں کیا لگتا ہے میں کیا کروں گا.”
اُس کی آنسو نرمی سے اپنی پوروں پر چنتے ہشام نے اپنے متعلق اُس کے خیالات جاننے چاہے تھے.
” میں جانتی تھی. آپ مجھے چھوڑ دیں گے.”
مِنہا اُس کے اُلٹا سوال کرنے پر اپنے ہاتھ چھڑواتی غصے سے بولی.
” واٹ ایسا کب کہا میں نے.”
کب سے خود کو کالم اور کمپوز رکھنے کی کوشش کرتے ہشام کا دماغ گھوما تھا. وہ مِنہا کو ڈاٹنا نہیں چاہتا تھا مگر اُس کی حرکتیں ہشام کو غصہ دلا رہی تھیں. اتنے نخرے اُس نے آج تک کبھی اپنے برداشت نہیں کیے تھے. اور اِس لڑکی کے اتنے نخرے اُٹھانے کے بعد ایسے جواب پر ہشام کو بُرا لگا تھا. اُسے اب اپنا صبر ختم ہوتا محسوس ہوا تھا.
” تو آپ نے جواب بھی تو نہیں دیا نا. بات گول مول کرنے کا یہ ہی مطلب ہوا نا. کہ آپ نے ابھی ڈیسائیڈ ہی نہیں کیا. اگر ایسا ہی ہے تو یہ سب ناٹک کرنے کی کیا ضرورت تھی. میں جانتی ہوں آپ کی فیملی آپ کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے. “
مِنہا اتنے دنوں کی ذہنی اذیت کا شکار ہونے کی وجہ سے غصے میں وہ وہ الفاظ بھی بول رہی تھی. جو اُس کی طبیعت کا خاصہ بلکل بھی نہیں تھے.
” مسز مِنہا ہشام میں تمہیں اُس دن کلیئر ورڈز میں بتا چکا ہوں کہ تم ہی میری وائف ہو اور ہمیشہ کے لیے رہو گی بھی. چاہے اُس کے لیے مجھے دنیا کی کسی بھی طاقت سے لڑنا پڑے. تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی تم میری زندگی میں کتنی امپورٹینٹ ہو. تم بلا وجہ کی فضول باتیں سوچ کر خود کو ہلکان کیوں کررہی ہو.”
ہشام اُسے دونوں بازوؤں سے تھام کر اپنے قریب کرتے بولا. منہا کو اُس کی آنکھوں میں اُس کے الفاظ کی سچائی واضح نظر آرہی تھی.
” مگر آپ کی فیملی.”
مِنہا کی سوئی وہی اٹکی دیکھ ہشام مسکرایا تھا.
” یار یہ بات سچ ہے کہ میرے لیے میری فیملی بہت زیادہ اہم ہے. مگر تم. تم تو میری جان ہو میری زندگی ہو. اور اگر اُن میں سے کوئی مجھ سے میری زندگی چھیننے کی کوشش کرے گا. تو میں اُن سے بھی لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا.”
ہشام کی بات پر پہلی بار منہا بھیگی پلکوں کے ساتھ مسکرائی تھی. یہ حسین منظر ہشام کو مبہوت سا کر گیا تھا. اُس نے جھک کر اُس کی لال ہوتی چھوٹی سی ناک پر لب رکھتے اُس کی سانسوں میں انتشار برپا کر دیا تھا. ہشام کا یقین دلاتا انداز مِنہا کے سر سے جیسے بھاری بوجھ سرکا گیا تھا.
وہ ہشام گردیزی کی بات پر دل سے ایمان لے آئی تھی.
” آپ دور رہیں مجھ سے. زرا سا مسکرا کیا دو آپ تو فری ہی ہوجاتے ہیں.”
مِنہا ہشام کے کندھے پر دباؤ ڈال کر اُسے خود سے دور کرتی مصنوعی غصے سے بولی. جس کے جواب میں ہشام کے خونخوار تیور دیکھ وہ کھلکھلاتے ہوئے گاڑی کے دروازے سے جالگی تھی.
مگر ہشام نے آرام سے اپنا بازو لمبا کرتے اُس کے بازو کو گرفت میں لیتے ایک جھٹکے سے اُس اپنی جانب کھینچا تھا. جس پر اگلے ہی لمحے مِنہا تقریباً ہشام کی گود میں سما چکی تھی.
” اچھا جی تو ایک پولیس والے کو دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے. تم جانتی نہیں ہو. تمہاری یہ معصوم دھمکیاں کیسے میرے جذبات بھڑکا دیتی ہیں. اب آرہا ہوں قریب روک کر دیکھاؤ. “
ہشام مِنہا کے چہرے کو بغور دیکھتے اُس کے ہونٹوں کو فوکس میں رکھتے اُن پر جھکا تھا. جس پر مِنہا کے چہرے کا رنگ اُڑ چکا تھا. اُس کی اتنی قربت اُس کے ہوش گم کرنے کے لیے کافی تھی. اُس نے جلدی سے ہشام کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اُسے خود سے کچھ فاصلے پر روک دیا تھا.
” میں تو مذاق کررہی تھی. پلیز اِس طرح مت کریں میری جان نکل جائے گی. “
مِنہا اپنی ہی بات میں اچھی خاصی پھنس چکی تھی. ہشام اُس کی نرم ہتھیلی کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتا آسودگی سے مسکرا دیا تھا. مِنہا کا یہ گھبرایا گھبرایا انداز اُسے گستاخی پر مجبور کررہا تھا. مگر اُس کی غیر ہوتی حالت کو مدنظر رکھتے ہشام نے گہرا سانس لیتے اپنے جذبات پر قابو پایا تھا.
” آج تو بچت ہوگئی. مگر نیکسٹ ٹائم ایسی کسی نرمی کی توقع نہ رکھنا ڈئیر وائف. “
ہشام اُس کی ہتھیلی پر لب رکھتے اُس سے دور ہوتے وارفتگی سے اُس کا لال چہرا دیکھتا وارن کر گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” بیٹا ایک بار پھر کال کرو. کیوں نہیں آیا زیان ابھی تک. پہلے تو اُس نے ایسی لاپرواہی کبھی نہیں کی. اگر لیٹ ہو تو انفارم ضرور کرتا ہے. “
حیدر صاحب پریشانی کے عالم میں صوفے پر بیٹھتے فاریہ سے مخاطب ہوئے تھے. جو خود اتنی رات ہوجانے کے باوجود زیان کے گھر نہ آنے اور موبائل بھی سوئچڈ آف ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان تھی.
” ماموں جان میں بہت بار ٹرائے کر چکی ہوں. اُس کا نمبر آف جارہا ہے. “
فاریہ فکرمندی سے ٹہلتے بولی. ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے. جب زیان کی گاڑی کا ہارن سنتے اُن دونوں کو جیسے سکون کی سانس آئی تھی.
تھوڑی دیر بعد اُنہیں زیان اندر آتا دیکھائی دیا تھا. اُس کا اُلجھا بکھرا حلیہ دیکھ وہ لوگ پہلے سے بھی کہیں زیادہ پریشان ہوئے تھے.
ٹائی ڈھیلی ہوکر بلکل گلے میں لٹک چکی تھی. ہمیشہ سے سیٹ رہنے والے بال اِس وقت چوڑی پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے. کوٹ ندارت تھا. دونوں کلائیوں کے کف کھول کر اُنہیں پیچھے کی جانب بازو پر فولڈ کیے وہ بہت ہی بے چین اور غمزدہ سا لگا تھا.
حیدر صاحب اور فاریہ کا دل اُس کی حالت دیکھ بُری طرح سے دھڑک اُٹھا تھا. اُن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ زیان جیسا انتہائی مضبوط اعصاب کا مالک انسان آخر کس وجہ سے اتنا بکھرا ہوا لگ رہا تھا.
” زیان میری جان کیا ہوا ہے تمہیں.”
حیدر صاحب زیان کے قریب آنے پر پریشانی کے عالم میں بولے. اُن کے دل میں اپنے لاڈلے بیٹے کی یہ حالت دیکھ ہول اُٹھ رہے تھے.
” بابا میں نہیں رہ سکتا اُس کے بغیر بہت محبت کرنے لگا ہوں اُس سے. “
زیان گھٹنوں کے بل اُن کے قدموں میں گرتا اذیت بھرے لہجے میں بولا تھا.
جس پر حیدر صاحب اور فاریہ نے اُلجھ کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا. وہ سمجھ نہیں پارہے تھے زیان کس کی بات کررہا ہے.
” زیان بیٹا آپ کس کی بات کررہے ہو.”
حیدر صاحب سے ایک پل بھی اُسکی یہ حالت نہیں دیکھی جارہی تھی. فاریہ بھی اُن کے پاس آبیٹھی تھی. جو خود سمجھ نہیں پارہی تھی کہ زیان کس کی بات کررہا ہے. جہاں تک اُسے معلوم تھا. زیان تو عائلہ سے اپنی محبت کا اعتراف کر چکا تھا. اور عائلہ تو پہلے سے اُس کی دیوانی تھی. تو پھر آخر آج کیا ہوا تھا.
” عائلہ بابا میں عائلہ کے بغیر نہیں رہ سکتا. اُسے کچھ نہیں ہونا چاہئے بابا. ورنہ میں بھی خود کو ختم کر دوں گا. اِس سب کا ذمہ دار میں ہوں. میں نے اُسے کہا تھا کہ وہ مر بھی جائے تو مجھے فرق نہیں پڑتا. مگر جھوٹ تھا وہ سب. بکواس کی تھی میں نے. فرق پڑتا ہے بہت فرق پڑتا ہے. اتنا کہ اگر اُسے کچھ ہوا تو زندہ میں بھی نہیں رہوں گا. “
زیان کی حالت دیکھ حیدر صاحب کو اپنا کلیجہ پھٹتا محسوس ہوا تھا. اُنہوں نے زیان کو اِس طرح روتے اور ٹوٹتے پہلی اور آخری بار اُس کی ماں کی وفات پر دیکھا تھا. مگر آج پھر اُس کی ویسی حالت اُن کو بھی رُلا گئی تھی.
زیان نے زمین پر ہی بیٹھے حیدر صاحب کی گود میں سر رکھے ڈاکٹر عدیلہ سے ہوئی ساری بات اُن دونوں کو بتا دی تھی. جسے سن کر جہاں حیدر صاحب ساکت ہوئے تھے. وہیں فاریہ کے آنسوؤں میں بھی مزید شدت آئی تھی. اُس کے لیے بھی یہ خبر کسی دھچکے سے کم نہیں تھی. کیونکہ اُس نے اپنی آنکھوں سے زیان کی اُس دیوانی کو زیان کی محبت کی خاطر روتے تڑپتے دیکھا تھا. اور آج جب اُسے اپنی سچی محبت کا پھل ملنے والا تھا. تو زندگی اُس سے دغا کررہی تھی.
” بابا غلط تو میں نے کیا نا. اُس کی سچی محبت کو ٹھکرا کر. تو سزا بھی مجھے ہی ملنی چاہئے نا. اُس معصوم کو کیوں اتنی تکلیف برداشت کرنی پڑ رہی ہے. وہ اِس سب کے قابل نہیں ہے. وہ تو صرف محبتوں اور چاہے جانے کے قابل ہے.”
زیان کی تکلیف , اذیت اور گلٹ کسی صورت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا.
اُن دونوں کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے کہ کیا کہے زیان سے کیا تسلی دیں اُسے وہ تو خود شاک میں آچکے تھے.
” زیان صبر کرو. دیکھو تم اتنا پیار کرتے ہو عائلہ سے اُسے تمہاری یہ محبت کچھ نہیں ہونے دے گی. تم اُس کا ٹریٹمنٹ کروانا. تمہارا کہا وہ کسی صورت نہیں ٹالے گئی. دیکھو انسان کو تو اپنی زندگی کے 1% چانس پر بھی لڑنا چاہیے. یہ تو پھر 20% چانسز ہیں. اُوپر والا بہت غفورورحیم ہے وہ دیکھنا سب ٹھیک کر دے گا.”
فاریہ زیان کے قریب نیچے بیٹھتے اُس کا کندھا سہلاتے ہوئے بولی. جس پر زیان نے بھی اثبات میں سر ہلایا تھا.
” بیٹا تم ہمیشہ اپنی زندگی کے مشکل سے مشکل میٹر میں ڈٹ کر کھڑے رہے ہو اور ہر بار سرخرو ہوئے ہو. اور مجھے پورا یقین ہے کہ اِس بار تو تم پہلے سے کہیں زیادہ ایفرٹ کرو گے. میں تمہارے ہر فیصلے میں ہمیشہ تمہآرے ساتھ کھڑا ہوں “
حیدر صاحب سے اپنے اکلوتے بیٹے جو اُن کی زندگی کا کُل اساسہ تھا اُسے اِس طرح دکھی نہیں دیکھ پارہے تھے.
” میں عائلہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں وہ بھی ایک ہفتے کہ اندر اندر. “
زیان نے بہت دیر کی خاموشی کے بعد کافی حد تک خود کو نارمل کرتے اپنا فیصلہ اُن دونوں کو سنایا تھا. وہ اِن پچھلے چند گھنٹوں میں ڈیسائیڈ کر چکا تھا کہ اُسے اب کیا کرنا ہے. وہ عائلہ کو کچھ نہیں ہونے دے گا. اور اُسے اتنی محبت دے گا کہ اُس کے اندر ختم ہوئی جینے کی امنگ ایک بار پھر جاگ اُٹھے گی.
زیان کا فیصلہ سن کر حیدر صاحب اور فاریہ کے لب مسکرا دیے تھے. وہ ایسا ہی تھا. بڑے سے بڑا فیصلہ اتنے آرام سے کر جانے والا. زیان کی بات سن کر فاریہ کو اپنے بھائی پر فخر محسوس ہوا تھا. جو بولنے سے زیادہ کردیکھانے کا قائل تھا. جو بات اُس کے فیصلے سے جھلک رہی تھی.
” ڈن تم اپنی ہونے والی بیوی کو مناؤ کیونکہ ضد کے معاملے میں وہ تم پر ہی گئی ہے. اور ہم دونوں جاکر کل تمہارے ہونے والے ساس سُسر سے رشتہ پکا کر کے آئیں گے. “
فاریہ کی بات پر اِس دوران پہلی بار زیان کے ہونٹوں کو ہلکی سی مسکراہٹ نے چھوا تھا. حیدر صاحب کے لیے اِس وقت یہی بہت تھی.
” بلکل بھئی ہم تو کب سے تیار ہیں.اپنی بہو کو گھر لانے کے لیے.”
حیدر صاحب اپنے بیٹے کے اُداس چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے.
زیان اُنہیں کچھ دنوں تک لندن سے بلائی گئی نیورولوجسٹ اور سرجنز کی ٹیم کے بارے انفارم کرتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا. اُس نے خود کو اِن دونوں کے سامنے تو نجانے کیسے سنبھال لیا تھا. لیکن اُس کا اپنا دل خون کے آنسو رو رہا تھا. اُس لڑکی کے دکھ پر جو کچھ ہی دنوں میں اُسے اتنی عزیز ہوگئی تھی.
زیان کی پوری رات ریوالونگ چیئر ہر جھولتے اذیت میں گزر گئی تھی. ایک پل کے لیے بھی اُس نے اپنی آنکھیں نہیں ماندی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” واٹ عائلہ گھر پر بھی نہیں ہے تو کہاں ہے پھر. “
زیان عائلہ کے گھر کے گیٹ پر موجود تھا. جب گارڈ کے بتانے پر وہ فکرمند ہوا تھا.
” آپ کو کچھ آئیڈیا ہے عائلہ کہاں کے لیے نکلی ہے. “
زیان گاڑی کی جانب جاتے قدم ایک بار پھر گارڈ کی جانب موڑتے بولا.
” صاحب جی مجھے سہی تو نہیں پتا کہ وہ کہاں گئی ہیں. مگر وہ جاتے ہوئے اپنے ساتھ بہت سارا سامان بھی لے کر گئی ہیں. اور بلال صاحب ہی لینے آئے تھے اُنہیں. شاید کسی ائرپورٹ کا نام لے رہی تھیں وہ. “
گارڈ کی بات سنتے زیان ایک منٹ کی بھی دیر کیے گاڑی کی جانب بھاگا تھا. اگلے ہی لمحے اُس کی گاڑی ہوا سے باتیں کرتی ائرپورٹ کی جانب روانہ تھی.
زیان کو اِس وقت شدید غصہ آرہا تھا عائلہ پر. وہ ایسا کیوں کررہی تھی. کیا اُسے محبت پر اتنا بھی یقین نہیں تھا. کہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بجائے وہ اِس سب سے فرار حاصل کرتی خود کو موت کے منہ میں دھکیل رہی تھی. موسم صبح سے ابر آلود تھا. اب تو ہلکی ہلکی پھوار بھی شروع ہوچکی تھی. مگر کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بنا زیان فل سپیڈ میں روڈ پر موجود تمام گاڑیوں کو کراس کرتا جلد از جلد عائلہ کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا.
آئرپورٹ پہنچ کر زیان دوڑتے قدموں سے بلڈنگ کے اندر داخل ہوا تھا. بہت سے ہال اور کوریڈور چھاننے کے بعد بھی زیان کو عائلہ کہیں نہیں ملی تھی. زیان اِس بات کو سوچتے اپنے دل میں اُمید جگاتے کہ کیا پتا گارڈ کو غلط فہمی ہوئی ہو. عائلہ یہاں آئی ہی نہ ہو واپس پلٹ رہا تھا. جب اُس کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے بلال پر پڑی تھی. بلال کو اکیلا کھڑا دیکھ زیان کا دل زور سے دھڑکا تھا. اُسے لگا تھا وہ دیر کر چکا ہے.
” بلال عائلہ کہاں ہے. جلدی بتاؤ کہاں ہے عائلہ. “
زیان نے بلال کے پاس آکر اُسے بُری طرح جھنجھورتے بوکھلا کر رکھ دیا تھا. زیان کے تیز لہجے اور بے چین انداز پر بلال نے بنا کچھ بولے. دائیں جانب اشارہ کیا تھا. جہاں عائلہ بس چیک اِن کرنے ہی والی تھی.
زیان تیر کی تیزی سے عائلہ کی طرف بھاگا تھا. اور عائلہ جو اپنے دھیان میں کھڑی تھی. کسی کے ایک دم بازو سے پکڑ کر پیچھے کرنے کی وجہ سے گھبرا کر پلٹی تھی. مگر سامنے ہی زیان کو کھڑا دیکھ عائلہ کا رنگ زرد ہوا تھا.
” میر تم یہاں. “
عائلہ بہت دقتوں سے اتنا ہی بول پائی تھی. اور فوراً نظریں جھکا گئی تھی. کیونکہ اُس میں زیان کی شعلے برساتی نظروں میں دیکھنے کی ہمت بلکل بھی نہیں تھی.
زیان اگلے ہی لمحے بنا کچھ بولے عائلہ کو کھینچتے ائرپورٹ کی عمارت سے باہر کی جانب نکلنے لگا تھا.
” میر یہ کیا کررہے ہو تم. چھوڑو مجھے. تم کوئی نہیں ہوتے مجھ سے اِس طرح زبردستی کرنے والے. “
عائلہ زیان کے ساتھ کسی بے جان گڑیا کی طرح کھینچی چلی جارہی تھی. اُس کی بہت کوشش کے باوجود وہ زیان کو روکنے میں ناکام تھی. آئرپورٹ پر موجود سب لوگ حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے. ایک گارڈ بھی یہ سب دیکھتے زیان کو روکنے کے لیے اُس کے سامنے آیا تھا. مگر زیان نے اُسے یہ کہہ کر کہ عائلہ میری بیوی ہے سائیڈ پر کر دیا تھا.
” وہ کوئی ہی تو بننے کے لیے تمہیں اپنے ساتھ لے کر جارہا ہوں. “
زیان بنا رُکے بے نیازی سے بولا.
عائلہ نے بلال کے پاس سے گزرتے مدد طلب نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا. جو ساری سچویشن سمجھ کر بڑے ہی مزے سے کاندھے اُچکا گیا تھا. جیسے کہہ رہا ہو کہ میں جو کل سے منتیں کررہا تھا. وہ غلط تھا کیا. مگر عائلہ اکرام تم ایسے ہی قابو آسکتی ہو.
عائلہ دانت پیس کر بلال سے تو بعد میں نبٹنے کا سوچتی زیان کی جانب متوجہ ہوئی تھی. جو کان بند کیے اُسے اپنے ساتھ کھینچتے ناک کی سیدھ میں چلتا بلڈنگ سے باہر نکل آیا تھا.
” میر زیان حیدر انف از انف. چھوڑو مجھے. “
عائلہ زیان کو گاڑی کی جانب جاتا دیکھ پوری ہمت جمع کرکے اپنا بازو زیان سے چھڑواتی چلائی تھی. زیان عائلہ کو اپنے سامنے دیکھ پرسکون ہوچکا تھا. اِس لیے عائلہ کے چلانے پر بنا کچھ بولے خاموش نظروں سے اُس کی جانب دیکھ رہا تھا.
ہلکی ہلکی بوندا باندی اب آہستہ آہستہ زور پکڑ رہی تھی.
” تم سمجھتے کیا ہو خود کو. جب تم چاہو کہ ٹھکرا دو گے. جب چاہو گے اپنا لو گے. کسی بھی بات میں میری مرضی کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے. میں نے کہا نا نفرت کرنے لگی ہوں میں تم سے. تمہارا چہرا دیکھ مجھے تمہارے ہاتھوں ہوئی اپنی توہین یاد آجاتی ہے. دور ہو جاؤ میری نظروں سے شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی میں تمہاری. آئی ہیٹ یو میر زیان حیدر. “
عائلہ زیان کے خلاف اپنے دل سے بغاوت کرتی جو الفاظ بول سکتی تھی. اُسے خود سے بدظن کرنے کے لیے بول گئی تھی.
مگر آگے سے زیان کا وہی ری ایکشن دیکھ عائلہ کو بہت حیرت ہوئی تھی. اُسے تو لگا تھا کہ زیان حیدر اُس کی بات سنتے ہی غصے سے وہاں سے واک آؤٹ کر جائے گا. مگر اُس کی سوچ کہ بلکل برعکس زیان آرام سے کھڑا مسکرا رہا تھا.
لیکن عائلہ کے چہرے پر گرتے بارش کے قطروں میں چھپے آنسو فیل کرتے زیان کی مسکراہٹ سمٹی تھی.
” عائلہ اکرام پہلی بات زیان حیدر اب کی بار مر جائے گا. مگر تمہیں خود سے دھتکارنے کا خیال تک ذہن میں نہیں لائے گا. دوسری بات وعدہ کرتا ہوں تم جو کہو گی اب سے وہی کروں گا. تمہاری ہر بات مانوں گا مگر صرف اپنے معاملے میں تمہارے حوالے سے ایسی کوئی بات نہیں مانوں گا. جو تمہارے لیے نقصان یا تکلیف کا باعث ہو. اور تیسری بات مجھے اب تمہاری نفرت بھی منظور ہے. میں اپنی محبت سے تمہاری نفرت کو واپس محبت میں بدل دوں گا بلکل تمہاری طرح.”
اپنی ہر بات کا نہایت ہی محبت سے جواب دیتے زیان حیدر کو عائلہ مبہوت سی دیکھے گئی تھی.
” ایسے مت دیکھو جاناں. کہیں تمہاری نفرت اتنی جلدی دوبارہ پیار میں نہ بدل جائے.”
زیان نے آگے بڑھ کر عائلہ کے بھیگتے وجود کو اپنے کوٹ سے کور کرتے کان میں سرگوشی کی تھی. جس پر عائلہ ہوش میں آتے پیچھے ہٹی تھی.
” میر میں نہیں رہنا چاہتی تمہارے ساتھ پلیز جانے دو مجھے. “
عائلہ بے چارگی سے زیان کی جانب دیکھتی منت بھرے لہجے میں بولی تھی.
” مگر مجھے ہمیشہ تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے. نہیں جانے دوں گا تمہیں کبھی بھی کہیں بھی خود سے دور.”
زیان نے عائلہ سے بھی زیادہ جیسے اپنے دل سے عہد کیا تھا. اور عائلہ کو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اُس کے ٹھنڈ سے کپکپاتے وجود کو اپنے بازوؤں میں اُٹھاتے وہ گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا.
عائلہ کی ساری مزاحمت ہر احتجاج میر زیان حیدر کے مضبوط سینے میں دب گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حیدر صاحب اور فاریہ عائلہ کے پیرنٹس سے رشتے کی بات کر آئے تھے. اپنی بیٹی کی بیماری کا اُس کی تکلیف کا کسی اور کہ منہ سے سن کر اکرام صاحب کا سر شرم سے جھک گیا تھا. وہ جو پہلے ہی عائلہ کے ساتھ کی گئی ہر زیادتی پر شرمسار تھے. اِس اتنے بڑے صدمے نے اُنہیں ہلا کر رکھ دیا تھا. وہ عائلہ کے پاس جانا چاہتے تھے. اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگنا چاہتے تھے. مگر وہ جس قدر نفرت اپنی بیٹی کہ دل میں بھر چکے تھے. آج اُن کی اکلوتی بیٹی اُن کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی. وہ اُنہیں اتنا پرایا سمجھتی تھی کہ اتنا بڑا غم اپنے اندر چھپا لیا تھا. سب کچھ اکیلے سہہ رہی تھی.
اکرام صاحب حیدر صاحب سے رشتے کی بات فائنل کر چکے تھے. وہ اب اپنی بیٹی کو خوشیوں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتے تھے.
زیان کی ضد کے مطابق آج رات کو ہی نکاح رکھا گیا تھا. اور اگلے دو دنوں میں شادی تھی. زیان ڈاکٹرز کے آنے سے پہلے عائلہ کے حوالے سے سارے حقوق اپنے نام کروانا چاہتا تھا. تاکہ آگے عائلہ کے علاج کے معاملے میں عائلہ سمیت کوئی اُس کے فیصلوں میں دخل اندازی نہ کر سکے.
زیان عائلہ کو گھر چھوڑ کر جاچکا تھا. اور اب زیان کے آرڈر پر عائلہ کو اپنے ہی گھر سے نکلنے کی پرمیشن نہیں تھی. جس پر عائلہ تلملا کررہ گئی تھی.
عائلہ رشتہ طے ہوجانے اور نکاح والی بات سے بلکل بے خبر تھی. اکرام صاحب اور فاخرہ بیگم نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ عائلہ کبھی نہیں مانے گی نکاح کے لیے جس پر زیان کا کہنا تھا کہ عائلہ کو راضی کرنا میرا کام ہے.
اکرام صاحب اپنے روم میں ہاتھوں میں سر گرائے بیٹھے اپنی ہر ہر زیادتی یاد کرتے رو رہے تھے. جب فاخرہ بیگم اُن کے پاس آبیٹھی تھیں. آج زندگی میں پہلی بار اُن کی آنکھیں بھی عائلہ کی تکلیف پر نم ہوئی تھیں.
” اکرام میں جانتی ہوں یہ موقع ایسا نہیں ہے. لیکن میرے دل پر بھی یہ بوجھ آپڑا ہے کہ آپ کو آپ کی بیٹی سے دور کرنے اور اُس کی زندگی اجیرن کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ تو میرا ہے. میں نے ہی سوتیلی ماں بنتے اُس معصوم پر پہلے دن سے ہی بہت ظلم ڈھائے. میں ہمیشہ یہ کہتی آئی ہوں کہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے بُرا سمجھتی ہے مجھے. مگر ہر جگہ غلط میں ہی تو تھی. میں نے ایسا عمل ہی کب کیا کہ اُس کے دل میں اپنے لیے محبت پیدا کر سکوں. اُس کی ماں کو اُس سے چھین کر اُس کی چھوٹی اور ناکردہ غلطیوں کی سزا دے کر میں یہ چاہتی تھی. وہ مجھ سے پیار کریں مجھے اچھا سمجھے ماں کا درجہ دے. اور اُس کے ساتھ اِسی ضد میں. میں نے آپ کو بھی اُس سے دور کردیا. آپ کے دل میں بھی اُس کے لیے نفرت بھر دی. آپ کسی بات میں قصور وار نہیں ہیں. اصل گناہگار میں ہوں اُس کی.”
فاخرہ بیگم اپنی غلطیوں کا اقرار کرتی رو پڑی تھیں.
” تم تو تھی ہی اُس کی سوتیلی. مگر میں تو سگا تھا نا. میں نے بھی اپنی بیٹی کی معصومیت کو اُس کی محرومیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی. تمہاری ہر بات پر آنکھ بند کرکے یقین کرتا گیا. یہاں تک کہ اُسے بدکردار تک کہہ ڈالا. میں کِس منہ سے جاؤں معافی مانگنے اُس کے پاس.”
اکرام صاحب کا چہرا بھی آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا.
ایک انسان چاہے پوری زندگی اپنے ہونے کا. اپنی تکلیفوں کا احساس دلاتا رہے. مگر اُس کی قدر ہمیشہ تب ہی آتی ہے. جب وہ نہیں رہتا یا پھر دور جارہا ہوتا ہے. شاہد اب پوری زندگی اُن دونوں کو بھی اِسی پچھتاوے کے ساتھ زندہ رہنا تھا کہ کاش وہ اُس پر یہ ظلم نہ کرتے یا اُن کی آنکھیں پہلے کُھل جاتیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” واٹ دا ہیل کیا ہے یہ سب. میرا نکاح ہے اور مجھے ہی پتا نہیں. یہ میر زیان حیدر سمجھتا کیا ہے خود کو. جب جو مرضی چاہے کرے گا. یہاں تک تماشہ لگا دیا بہت اچھی بات ہے. اب میں دیکھتی ہوں مجھ سے نکاح پر سائن کیسے کرواتا ہے. “
عائلہ سجی سنوری فاریہ اور مِنہا کو اپنے سامنے اتنے سارے جیولری باکس اور ڈریسز کے ساتھ دیکھ اور اُوپر سے اُن کے کیے جانے والے انکشاف پر عائلہ کا دماغ گھوم چکا تھا.
مِنہا کو بھی عائلہ کی بیماری کا پتا چل چکا تھا. جسے سننے کے بعد اُس کی آنکھوں کے کنارے خشک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے. ہشام نے بہت مشکل سے اُسے سنبھالا تھا.
اِس وقت بھی زیان کے کہنے پر وہ سب عائلہ کے سامنے یہ ہی ظاہر کر رہے تھے کہ وہ کچھ نہیں جانتے.
” عائلہ مجھے تمہاری بلکل سمجھ نہیں آتی پہلے تم زیان بھائی کے پیچھے مری کا رہی تھی. اور اب جب وہ خود پہل کررہے ہیں. تو تم یہ ڈرامہ لگا رہی ہو.”
مِنہا چہرے پر مصنوعی غصہ سجائے عائلہ کے پاس آبیٹھی تھی. جس پر عائلہ فوراً اُس سے نگاہیں چُرا گئی تھی. کیونکہ مِنہا سے اپنا سچ چھپانا اُس کے لیے بہت مشکل تھا.
” محبت وحبت کچھ نہیں تھی. ایسے ہی اُس کی ظاہری شخصیت دیکھ وقتی طور پر پسند کرنے لگی تھی. جو کہ اب ختم ہوچکی ہے مجھے نہیں کرنی اُس سے شادی”
عائلہ اندر سے جھنجھلائی ہوئی تھی. زیان نے اُس کا ہر پلان چاپٹ کردیا تھا. اب نجانے نکاح کے لیے وہ کیا کرنے والا تھا. عائلہ کسی صورت وہاں کسی کو بھی اپنی بیماری کا نہیں بتانا چاہتی تھی.
” یہ کیا کرنے لگی ہو. “
عائلہ کو الماری سے اپنی پینٹ شرٹ نکالتے دیکھ فاریہ نے حیران ہوتے پوچھا.
” تمہارے بھائی کی پسند کے مطابق تیار ہونے لگی ہوں.”
عائلہ زیان کو غصہ دلانے کے لیے اپنی سی کوشش کرتی بقول زیان کے اپنا وہ بے ہودہ لباس پہنے چل دی تھی. جس پر مِنہا اور فاریہ مُسکرا کر رہ گئی تھیں. مسکراتے ہوئے بھی اُن دونوں کی آنکھوں کے گوشے نم ہوئے تھے.
مِنہا جہاں ایک طرف عائلہ کو اُس کی محبت مل جانے پر خوش تھی. وہیں دوسری جانب عائلہ کی بیماری کی وجہ سے بہت زیادہ دکھی تھی. اُس کا دل شدت سے اپنی پیاری دوست کی ہر مشکل اور تکلیف کی آسانی کے لیے دعا گو تھا.
” زیان کا میسج آیا ہے کہ مولوی صاحب آچکے ہیں تھوڑی دیر میں نکاح شروع ہوجائے گا.”
فاریہ کی بات پر مِنہا نے پیچ کلر کی ٹائٹ پینٹ شرٹ میں ملبوس واش روم سے نکلتی عائلہ کی جانب دیکھا تھا.
” مگر یہ تو کسی صورت ماننے کو تیار نہیں ہے.”
مِنہا کے پریشان ہونے پر فاریہ مسکرائی تھی.
” اُسی لیے ہی تو زیان آریا ہے. “
فاریہ نے مسکراتے ہوئے مِنہا کو باہر چلنے کا اشارہ کیا تھا.
” کیا ہوا نکاح کا ڈرامہ ختم ہوگیا کیا.”
عائلہ اُنہیں باہر کی جانب بڑھتے دیکھ طنزیا مسکراہٹ کے ساتھ بولی.
” نہیں میری جان نکاح کا ڈرامہ ابھی ہی تو شروع ہونے والا ہے.”
مِنہا اُس کی جانب خوبصورت سی مسکراہٹ اُچھالتے فاریہ کے ساتھ باہر نکل گئی تھی.
اُس کی بات پر عائلہ حیران ہوتے بند دروازے کو گھورنے لگی تھی. مگر اُس کی حیرت خوف اور پریشانی میں اُس وقت بدلی جب اُس نے دروازے سے میر زیان حیدر کو اندر داخل ہوتے دیکھا تھا.
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
