Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episode 19 & 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19 & 20
” ہشام تم ہوش میں تو ہو. کیا بول رہے ہو. یہ بھی کوئی بات اور وقت ہے مذاق کرنے والا. “
سب سے پہلے ہوش سلمان صاحب کو ہی آیا تھا.
” میں مذاق نہیں کررہا سچ کہہ رہا ہوں. اگر یہ سب آج سامنے نہ بھی آتا تو میں تب بھی آپ سب لوگوں سے بات کرنے والا تھا. “
ہشام بے لچک انداز میں بولا.
” ہشام لگتا ہے تم بھول رہے ہو. کہ نکاح کے وقت تم نے خود سے اور ہم سب سے کیا باتیں کہی تھیں. تم جیسے انسان کو بلکل زیب نہیں دیتا اپنی باتوں سے پھرنا. فائقہ تمہاری منگیتر ہے. تمہاری شادی اُسی سے ہوگی. اُس لڑکی کو تمہیں ہر حال میں طلاق تو دینی ہی ہوگی. اگر تمہیں اِس سب کے لیے ٹائم چاہئے تو تم ٹائم لے سکتے ہو.”
سلمان صاحب نے دبے دبے غصے میں کہتے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا. شائستہ بیگم کی نظریں ہشام پر ٹکی ہوئی تھیں. وہ اِسی لمحے سے ڈر رہی تھیں. جب اُن کا بیٹا اس لڑکی کی خاطر اپنے خاندان کے مقابل آکھڑا ہوگا
” جی یاد ہے مجھے جو کچھ بھی میں نے کہا تھا. اور جہاں تک بات ہے اپنے کہے سے پلٹنے کی تو میرے خیال میں کسی کو ناحق طلاق دے کر ﷲ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ کام کرنے سے بہتر میں اُس دن بے وقوفی میں کہی اپنی باتوں سے پلٹ جاؤں. وہ لڑکی میرے نکاح میں ہے اور میری غیرت کسی صورت یہ گوارہ نہیں کرتی کہ اُس سے اپنا نام چھین لوں. اور جہاں تک رہی فائقہ کی بات تو بہت اچھی لڑکی ہے وہ اُسے مجھ سے کہیں زیادہ اچھا لڑکا مل جائے گا. میں اپنی بیوی کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا یہ میرا آخری فیصلہ ہے.”
حمدان صاحب بلکل خاموشی سے اپنے بیٹے کو یہ جنگ لڑتے دیکھ رہے تھے. یہ بات تو سب فیملی والے جانتے تھے کہ مزاج اور اپنے فیصلوں کی پختگی اور کسی حد تک ضد میں ہشام اپنے تایا سلمان سے بھی بہت آگے تھا. اِس خاندان میں ہشام ہی تھا جو اُن کے سامنے کھڑا ہوسکتا تھا.
” لیکن مجھے تمہارا یہ فیصلہ کسی صورت منظور نہیں ہے. میں تمہیں کچھ وقت دے رہا ہوں. جس میں اپنے فیصلے پر اچھی طرح سے غوروفکر کر لو. کیونکہ اُس کے بعد جو فیصلہ میں کروں گا. وہ شاید سب پر ہی گراں گزرے. “
سلمان صاحب کو ہشام اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز تھا. اُنہوں نے ہمیشہ ہر بات میں ہشام کی مرضی کؤ ضرور اہمیت دی تھی. یہاں تک کہ اُس دن اُس کے نکاح والی بات بھی آرام سے مان لی تھی. بلکہ اُس کے ساتھ مل کر باقی سب کو بھی راضی کیا تھا.
مگر آج اُنہیں ہشام کے انداز نے بہت ہرٹ کیا تھا. اگر وہ ایسا ہی چاہتا تھا تو آرام سے آکر پہلے اُن سے بات کرلیتا لیکن آج سب کے سامنے ہشام کے اِس طرح اپنے بلکل اُلٹ چلے جانا اُنہیں بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا.
سلمان صاحب وہاں سے اُٹھ کر جا چکے تھے.
” دیکھ لیا بھابھی آپ سب نے جو لڑکی ابھی یہاں آئی ہی نہیں. وہ کیسے پہلے ہی اِس گھر کی بنیاد ہلانے کی کوشش کروا رہی ہے. اُس نے کچھ دنوں میں ہی ہمارے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسا لیا. ایسی بے شرم لڑکیاں گردیزی خاندان کی بہو بننے کے لائق بلکل بھی…..”
سائرہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا. اُس انجان لڑکی کا گلا ہی دبا دیں. لیکن اُن کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ہشام نے اُنہیں ٹوک دیا تھا.
” پھوپھو جان پلیز میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں. اور اُس سے بھی کہیں زیادہ ناپسند ہے مجھے میری بیوی کی ڈس ریسپیکٹ کیے جانا. سو پلیز اب اُس کے خلاف کوئی ایک ورڈ بھی غلط مت بولیئے گا. میں برداشت نہیں کروں گا. “
ہشام دو ٹوک انداز میں اُنہیں اچھے سے باور کرواتا وہاں سے نکل گیا تھا. جس کے بعد سائرہ بیگم بھی منہ میں کچھ بڑبڑاتے وہاں سے چلی گئی تھیں.
باقی سب خاموشی سے سر پکڑ کر وہیں بیٹھے رہ گئے تھے. سب کو ایک ہی پریشانی ستا رہی تھی کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے. کیونکہ اِس بار سلمان صاحب کے فیصلے کے سامنے جو کھڑا تھا. وہ اُن سے بھی کہیں زیادہ ضدی تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہشام کا دماغ اچھا خاصہ خراب ہوچکا تھا. اِس لیے وہ گھر کی بوجھل فضا میں رہنے کے بجائے مِنہا کے پاس آگیا تھا. تاکہ اپنا موڈ بحال کرسکے. اور ایسا ہی ہوا تھا. مِنہا پر نظر پڑتے ہی ہشام کی ساری ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ ختم ہو گئی تھی.
ہشام کے انتظار میں ہی بیٹھے بیٹھے مِنہا وہیں ڈرائنگ روم میں صوفے پر سوچکی تھی. ٹی وی ابھی بھی آن تھا. اور مِنہا کے ہاتھ میں پکڑا ریمورٹ بھی بس چھوٹنے ہی والا تھا. ہشام نے ٹی وی آف کرتے آگے بڑھ کر مِنہا کے ہاتھ سے ریمورٹ لے لیا تھا. قریب آنے پر اُس کی نظریں مِنہا کے سراپے سے اُلجھ کر رہ گئی تھیں.
پنک لباس میں جس کا دوپٹہ مِنہا کی گود میں گر چکا تھا. گلابی نرماہٹوں سے سجے چہرے کے ساتھ گھنیری پلکوں کی باڑ گرائے وہ ہشام کے ہوش ٹھکانے لگا گئی تھی. مِنہا کے کھلے بال اُس کے چہرے کے گرد بکھرے ہشام کی راہ میں رکاوٹ پیدا کررہے تھے. ہشام نے اُس کے بالوں کو اِس بات کی اجازت بلکل بھی نہ دیتے ہاتھ بڑھا کر سیاہ نرم زلفوں کو اُس کے چہرے سے پیچھے کر دیا تھا. جیسے اُنہیں یہ باور کروایا گیا ہو کہ اِس چہرے کو چھونے کا حق صرف اُس کا ہے.
ہشام نہیں چاہتا تھا کہ مِنہا کو روم میں لے کر جانے سے اُس کی نیند خراب ہو اِس لیے کمبل لینے کے لیے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا. واپس آکر ہشام نے پہلے مِنہا کی ایک جانب ڈھلکی گردن سیدھی کی اور پھر اُس پر اچھے سے کمبل اوڑھا دیا تھا. ہشام جیسے ہی مڑنے لگا مِنہا کی گردن پھر صوفے کی بیک سے نیچے ڈھلک گئی تھی. جس پر مسکراتے ہشام اندر جانے کا ارادہ ترک کرتے منہا کے ساتھ جا بیٹھا تھا. مِنہا کے گرد اپنے بازو کا حصار قائم کرتے ہشام نے اُس کا سر اپنے کندھے پر رکھ دیا تھا. مِنہا جو ٹھنڈ کی وجہ سے سکڑی سمٹی پڑی تھی. ہشام کی جانب سے گرمائش ملتے ہی نیند میں مزید اُس کے قریب ہوگئی تھی.
مِنہا کو خود میں چُھپتا دیکھ ہشام کے ہونٹوں کو دلفریب مسکراہٹ چھو گئی تھی. اُسے یوں ہی وارفتگی سے دیکھتے ہشام نے دونوں کے گرد اچھے سے کمبل لپیٹتے مِنہا کے بالوں پر اپنی پیشانی ٹکاتے آنکھیں موند لی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح چھ بجے کے قریب مِنہا نے نیند سے بیدار ہوتے آنکھیں کھول دی تھیں. اپنے ماتھے پر کسی کی گرم سانسیں محسوس کرتے مِنہا کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا. اِتنا تو وہ اچھے سے جان گئی تھی کہ اِس گھر میں ہشام کے علاوہ کوئی اور انٹر نہیں ہوسکتا تھا.
جیسے ہی اُس کے حواس پوری طرح بیدار ہوئے مِنہا نے خود کو پوری طرح سے ہشام کے حصار میں قید پایا تھا. ہشام کے اتنے قریب ہونے پر مِنہا کا چہرا شرم سے سُرخ پڑا تھا. اور زیادہ خجالت تو اُسے اُس وقت محسوس ہوئی جب اُس نے اپنا بازو ہشام کے سینے کے گرد لپٹے دیکھا. مِنہا نے فوراً سے اپنا بازو پیچھے کھینچ لیا تھا. اور آہستگی سے اُس کے حصار سے نکلنا چاہا تھا. لیکن ہشام کا کسرتی بازو اپنے اُوپر سے ہٹانے کی کوشش میں ہی منہا کے پسینے چھوٹ چکے تھے. مِنہا کسی طرح سے بھی ہشام سے دور نہیں ہوپارہی تھی. کیونکہ اُس کے لمبے بال ایک سائیڈ سے ہشام کے پیچھے دبے ہوئے تھے.
مِنہا نے چہرا موڑتے بے بسی سے ہشام کی جانب دیکھا تھا. جو آنکھیں موندے اُسے گہری نیند میں لگا تھا. ہمیشہ اُسے دیکھنے سے اجتناب برتنے والی مِنہا اِس وقت اُس کے بہت زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے اُس کے بے حد وجیہہ چہرے سے اپنی نظریں ہٹا نہیں پائی تھی. ہر وقت اکڑ دیکھانے والا اُس کا سڑیل پولیس والا اِس وقت سویا ہوا اُس کے دل کے تار بُری طرح چھیڑ گیا تھا. مِنہا اپنی ساری شرم و جھجک سائیڈ پر رکھتی اپنے دل کی خواہش پر اُسے والہانہ نظروں سے دیکھے گئی تھی. اُسے ہر بار کی طرح اِس وقت بھی فائقہ کی قسمت پر رشک آیا تھا. کہ جس کی قسمت میں ہشام گردیزی جیسا شاندار مرد تھا. مِنہا اپنی قسمت کی ستم ظریفی پر افسردگی سے مسکرا دی تھی. جو چاہنے کے باوجود اِس شخص کو پانے کی دعا بھی نہیں کرسکتی تھی. کیونکہ محبت کی کونپل دل میں کھلنے کے ساتھ ساتھ وہ اِس کے نہ ملنے کے درد سے بھی آشنا ہوچکی تھی. وہ اپنی خوشی کی خاطر کسی اور لڑکی کی خوشیاں چھیننا نہیں چاہتی تھی. جس کا اُس کے مطابق ہشام پر پہلا حق تھا. مِنہا کا ہشام کے مضبوط حصار سے نکلنے پر زرا برابر بھی دل نہیں چارہا تھا. اُس کا دل کررہا تھا کہ ہشام کے چوڑے مضبوط سینے پر سر رکھ کر اپنی ساری زندگی گزار دے.
” یار اب میں اتنا بھی شریف نہیں ہوں کہ تم مجھے اتنے قریب بیٹھ کر اتنی محبت سے دیکھو گی اور میں کوئی گستاخی نہیں کروں گا. “
مِنہا اپنی سوچوں میں گم یک ٹک ہشام کو تکے جارہی تھی. جب اُس کے اِس طرح اچانک آنکھیں کھول کر مسکرا کر کہنے پر مِنہا کی چیخ نکل گئی تھی.
مِنہا کے یوں سہم جانے پر ہشام کا قہقہ برآمد ہوا تھا.
” اتنے بہادر پولیس والے کی بیوی اتنی ڈرپوک ہے. “
ہشام نے بے اختیار جھک کر اُس کے آدھ کُھلے نچلے ہونٹ کو چوم لیا تھا.
ہشام کے لمس پر مِنہا کا سارا خون اُس کے چہرے پر سمٹ آیا تھا. وہ ہشام کی اتنی جرأت پر بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھے گئی تھی. اُس نے جلدی سے ہشام کے حصار سے نکلنا چاہا تھا. مگر اُس کی اتنی مزاحمت کے باوجود ہشام کا بازو ٹس سے مس بھی نہ ہوا تھا.
” دیکھیں پلیز آپ کو میرے اتنے قریب آنے کا کوئی حق نہیں ہے. اور نہ ہی میں آپ کو ایسی کوئی اجازت دیتی ہوں. سو چھوڑیں مجھے. میں مزید یہ سب برداشت نہیں کروں گی. “
مِنہا اپنے لہجے کو بہت مضبوط بناتے ہوئے غصے سے بولی. اور ہمیشہ کی طرح اُس کا غصہ لہجے سے تو نہیں مگر اُس کے سخت بنانے کی کوشش کیے گئے ایکسپریشنز سے اپنی ہلکی سی جھلک دیکھا رہا تھا.
” اوہ ریئلی مجھے حق نہیں ہے. میڈم تم پر تم سے بھی زیادہ میرا حق ہے. اور تمہارے قریب آنے کی اجازت لوں گا وہ بھی میں اور تم سے. اچھا مذاق ہے. “
ہشام اُس کی بات کا مذاق بناتے شوخی سے بولا.
“میری جان ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے. اور تمہاری برداشت ختم ہوگئی. جب میں نے اپنا حق وصول کرنا چاہا پھر کیا کرو گی تم. “
ہشام نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے بے باکی سے اُسے اپنا حق سمجھانا چاہا تھا. اور ساتھ ہی جھک کر مِنہا کی ٹھوڑی پر موجود گڑھے پر ہونٹ رکھتے اُس کی جان مزید مشکل میں ڈال دی تھی.
مِنہا کے لیے کچھ بھی بولنا بہت دشوار ہوگیا تھا. ہشام کے الفاظ اور ہونٹوں کے لمس کے ساتھ ساتھ اُس کا ہاتھ نرمی سے اپنے بالوں میں رینگتے محسوس کرکے مِنہا کی جان حلق میں اٹک چکی تھی.
” آپ نے نکاح کرنے سے پہلے مجھے کہا تھا کہ ہم دونوں کا ایک دوسرے پر کسی قسم کا کوئی حق نہیں ہوگا. اب آپ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے یہ غلط ہے.”
مِنہا کا کمزور سا احتجاج ایک بار پھر سامنے آیا تھا.
” میں اپنے کہے سے پیچھے ہٹ نہیں رہا بلکہ ہٹ چکا ہوں میری جان. اور اپنے حلال رشتے کو نبھانا غلط بلکل بھی نہیں ہے. “
ہشام نے اپنے انگوٹھے سے اُس کے گال کی نرماہٹ محسوس کرتے خمار آلود لہجے میں کہا تھا.
مِنہا کو تو لگ رہا تھا کہ کل نکاح کی حقیقت سب کے سامنے آجانے پر شاید اپنی فیملی کے پریشر میں آکر اُسے چھوڑ دے مگر یہاں تو کایا ہی پلٹ ہوئی پڑی تھی. ہشام تو پہلے رکھا جانے والا لحاظ بھی ختم کر چکا تھا.
مِنہا ہشام سے کل کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی. لیکن ابھی ہشام کے تیور دیکھ اُسے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کوئی سیدھا جواب دے گا.
” مجھے نماز پڑھنی ہے پلیز جانے دیں. “
مِنہا نے آخر کار ہار مانتے اُس سے ملتجی لہجے میں کہا تھا.
” اوکے مائی کیوٹ وائف. لیکن میری ایک بات اپنے ذہن میں بیٹھا لو. ایس پی ہشام گردیزی تم پر بُری طرح فدا ہوچکا ہے. جس کی قید سے اب تم زندگی بھر آزاد نہیں ہوسکتی. تم صرف میری ہو اور ہمیشہ میری ہی رہو گی.”
ہشام جھک کر ایک استحقاق سے بھرپور لمس اُس کے گال پر چھوڑتا اُس کے پاس سے اُٹھتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
ہشام کو روم میں بند ہوتے دیکھ کر مِنہا نے بے جان ہوتے صوفے کی بیک سے سر ٹکا دیا تھا.
یہ شخص تو اپنے لیے دیے انداز سے پہلے ہی اُسے اپنا اسیر کرچکا تھا. مِنہا کے مسلسل مخالفت کرنے کے باوجود بھی اُس کا دل بغاوت کرتے ہشام گردیزی کو اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ خود میں بسا چکا تھا. اب ہشام کا یہ نیا انداز اُس نازک جان پر الگ ہی قیامت ڈھا گیا تھا.
ہشام کا یوں استحقاق جماتا انداز مِنہا کے دل کے ایک کونے میں خوشیوں کی بہار لے آیا تھا. مگر دوسری طرف بہت سارے خدشات نے بھی سر اُٹھا لیا تھا. جو اُسے پوری طرح خوش نہیں ہونے دے رہے تھے.
مِنہا کو لگ رہا تھا کہ ہشام کے خاندان والے اُسے کبھی قبول نہیں کریں گے. اور ہشام بھی آخر کب تک لڑے کا اُس کی خاطر اپنے گھر والوں سے. ہشام کو اپنی فیملی سے بہت پیار تھا. ایک دن اُن کے پریشر میں آکر وہ اُسے چھوڑ دے گا. اور مِنہا اُس مقام پر خود کو لانا ہی نہیں چاہتی تھی.
مِنہا کے دماغ میں یہ بات بھی چل رہی تھی کہ فائقہ اور ہشام کی منگنی اتنے ٹائم سے رہی تھی. ہشام کے دل میں فائقہ کا کوئی مقام تو ضرور ہوگا. اور فائقہ کی آنکھوں میں تو خود اُس نے ہشام کے لیے والہانہ چاہت دیکھی تھی. یہ سب باتیں مل کر مِنہا کو عجیب سے احساسات کا شکار کررہی تھیں. اور یہی سارے خدشات مل کر اُسے ہشام کا بڑھایا گیا محبت بھرا ہاتھ تھامنے سے روک رہے تھے. مِنہا اپنے پاپا جانی جو کبھی اُس کا فخر ہوا کرتے تھے. آج اُن کے حوالے کی وجہ سے ہی احساسِ کمتری کا شکار تھی. خود میں کوئی خامی نہ ہونے کے باوجود وہ خود کو ہشام جیسے عزت دار خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کے قابل نہیں سمجھ رہی تھی.
مِنہا کو یوں محسوس ہورہا تھا کہ ہشام صرف وقتی جذبات کے تحت اُس کے قریب آرہا ہے. جس کی بڑی وجہ رفیق نیازی ہے. ہشام جیسے انسان کی غیرت کبھی گوارہ نہیں کرے گی کہ وہ اپنے نکاح میں موجود لڑکی کو چھوڑ کر کسی اور کے حوالے کر دے. منہا اپنی ہی سوچوں پر اچھی خاصی جھنجھلا چکی تھی.
ہشام اِس بات سے بلکل بے خبر تھا کہ جس لڑکی کی خاطر وہ اپنے پورے خاندان سے لڑ کر آرہا ہے. وہ اُس کے حوالے سے کس قدر بدگمان ہے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” بلال مجھے تمہارے اِن فالتو سوالوں کا کوئی جواب نہیں دینا. جو پوچھا ہے وہ بتاؤ. مجھے کل آئر پورٹ چھوڑنے آؤ گے یا میں خود ہی کچھ مینج کروں. “
عائلہ اپنے مخصوص انداز میں اُس کی باتوں پر غصے سے دانت پیستی تڑخ کر بولی. عائلہ نے اُس دن زیان سے ملنے کے بعد ہفتے کے بجائے تین دن بعد کی ٹکٹس بک کروا لی تھیں. کل اُس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاکستان چھوڑ کر چلا جانا تھا.
” عائلہ وہ تو میں ضرور آؤں گا. مگر آخر ہوا کیا ہے. تم اِس طرح اچانک کیوں جارہی ہو. کیا بات ہے. اگر کوئی پرابلم ہے تو پلیز مجھ سے شیئر کرو. “
بلال کو عائلہ کی اِس طرح اچانک بنا کسی کو بتائے بغیر پاکستان چھوڑ کر جانے والی بات ہضم بلکل بھی نہیں ہورہی تھی.
” زیادہ میرے دادا ابا بننے کی ضرورت نہیں ہے. جتنا کہا ہے اُتنا کرو. اور خبردار جو کسی کے آگے بھی اپنا منہ کھولا تو میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں. “
عائلہ بلال سے بات کرتی گاڑی میں آبیٹھی تھی. اور کچھ دیر مزید اُس سے بات کرنے کے بعد عائلہ نے کال بند کردی تھی. جب ایک بار پھر اُس کے موبائل پر زیان کا نام جگمگایا تھا. مگر اپنے دل پر پتھر رکھتے مِنہا نے موبائل ساتھ والی سیٹ پر اُچھال دیا تھا.
زیان صبح سے نجانے کتنی بار کال کرچکا تھا. مگر ہر بار عائلہ ایسے ہی جواب دے رہی تھی.
اُس نے بہت مشکل سے خود سے لڑ کے اتنی ساری ہمت جمع کی تھی. زیان سے بات کرکے اُسے دیکھ کے وہ ایک بار پھر کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی. اِس لیے اُس نے سوچ لیا تھا کچھ بھی ہوجائے وہ کسی صورت زیان کا سامنا نہیں کرے گی. اور جلد از جلد یہاں سے نکل جائے گی.
عائلہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب اچانک اُسے محسوس ہوا تھا کہ کوئی گاڑی اُس کا پیچھا کر رہی ہے. عائلہ نے مرر سیٹ کرتے جیسے ہی غور سے پچھلی گاڑی میں بیٹھے نفوس کو دیکھا اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا. زیان غصے بھرے سخت تاثرات چہرے پر سجائے گاڑی ڈرائیو کررہا تھا. روڈ پر ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ قریب نہیں آپا رہا تھا.
عائلہ نے ٹریفک والے ایریے سے نکلتے ہی گاڑی کی سپیڈ تیز کرتے آگے بڑھا دی تھی. زیان نے مزید غصے سے بھڑکتے اپنی گاڑی کی سپیڈ اُس سے بھی ڈبل کر دی تھی.
اور کچھ ہی لمحوں میں اُسے کراس کرتے زیان نے ایک جھٹکے سے گاڑی عائلہ کا راستہ روکتے بلکل سامنے آکھڑی کی تھی. جس پر عائلہ نے فوراً سپیڈ کنٹرول کرتے بروقت بریک لگائی تھی. کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو اُس کی گاڑی زیان سے ٹکرا جاتی اور ایسا تو وہ مر کر بھی نہیں ہونے دے سکتی تھی.
زیان اپنے پورے غیض و غضب کے ساتھ طیش کے عالم میں عائلہ کی جانب بڑھا تھا. جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھولتے زیان نے اُس کا بازو پکڑ کر گھسیٹ کر باہر نکالا تھا. اور گاڑی کی بونٹ پر پٹختے زیان اُس کے اردگرد بازوؤں ٹکاتے اُسے اپنے حصار میں لیا تھا.
عائلہ زیان کی جانب دیکھنے سے اجتناب کرتے بلکل نظریں جھکائے ہوئے تھی.
” تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی تھی کیا. میں نے کہا تھا نا. کہ مجھے تمہارا اگنور کیا جانا سخت ناپسند ہے. اور دو دن سے میں نجانے کتنی بار کال کر چکا ہوں. کیوں نہیں ریسیو کی تم نے میری کال.”
عائلہ کو ابھی بھی نظریں نہ ملاتے دیکھ زیان کا دماغ خراب ہوا تھا.
” میں نے ضروری نہیں سمجھا اِس لیے. “
عائلہ کی نظریں پیروں پر ٹکی ہوئی تھیں.
” عائلہ اکرام یہ سب مت کرو. بہت بھاری پڑ سکتا ہے. یہ سب تم پر. “
زیان کی نظریں اُس کے خوبصورت نقوش پر پھسل رہی تھیں. اُس کا حلیہ دیکھ زیان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی. عائلہ اُس کی دی جانے والی وارنگ کے زیرِ اثر آج اپنے بے باک لباس کے بجائے ڈھیلی ڈھالی لائٹ براؤن لانگ شرٹ اور پلازو میں ملبوس تھی. اور حیرت انگیز طور پر آج تو اُس نے دوپٹہ بھی لے رکھا تھا.
زیان کو اب احساس ہورہا تھا. کہ یہ لڑکی واقعی پیار کی بھوکی تھی. جو پیار کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کرسکتی تھی.
” میر زیان حیدر جتنا بُرا میرے ساتھ ہوچکا ہے. اُس سے زیادہ بُرا اور کچھ نہیں ہوسکتا. اور تمہیں میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ تم میرے لیے بلکل بھی ضروری نہیں ہو. وہ صرف ایک ضد تھی جو کہ میں پوری کر چکی ہوں. اب مجھے تم سے اور اُس برائے نام محبت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے. اور تمہارے الفاظ میں تمہیں ہی لوٹاتی ہوں. جیسے کچھ ٹائم پہلے تمہیں میرے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا. ویسے ہی میں بھی کہنا چاہتی ہوں کہ مجھے بھی میر زیان حیدر کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا.”
عائلہ اپنی مُٹھیاں بھینچ کر خود پر قابو پاتے زیان کی آنکھوں میں جھانک کر بولی تھی.
اُس کی بات پر بنا کچھ بولے زیان خاموشی سے اُسے دیکھی گیا تھا.
زیان دو دن سے یہ سوچ سوچ کر تھک گیا تھا. کہ آخر عائلہ ایسا کیوں کررہی ہے. اتنا تو اُسے یقین تھا کہ عائلہ جو بھی بول رہی ہے وہ سب جھوٹ ہے. وہ آج بھی اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے وہ ہی والہانہ چاہت دیکھ سکتا تھا جو پہلے دن سے دیکھی تھی. جو دھوکہ اور فریب تو کسی قیمت پر نہیں ہوسکتی تھی.
وہاں کھڑے کھڑے اچانک عائلہ کو اپنے سر میں درد کی ٹیسیں اُٹھتی محسوس ہوئی تھیں.
لڑکھڑا کر گرنے سے بچنے کے لیے عائلہ نے زیان کا بازو تھام لیا تھا. مگر اُس کو اتنا شدید سر درد تھا کہ کچھ نہ سمجھتے عائلہ نے آگے بڑھ کر زیان کے چوڑے سینے پر اپنا سر رکھ دیا تھا.
اُس کے سینے سے لگ کر کھڑی دونوں ہاتھوں سے اس کی شرٹ سینے سے جکڑے وہ زیان کو کوئی معصوم سی چھوٹی بچی لگی تھی. جو اِسی طرح اُس کے سینے سے لگ کر رہنا چاہتی تھی. مگر کوئی چیز اُسے زیان سے دور جانے پر مجبور کررہی تھی. زیان کو اُسی بات کا پتا لگوانا تھا. اُس نے عائلہ کے گرد اپنے مضبوط بازوؤں کا حصار باندھتے اُسے اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا.
” اپنے اندر کا ہر دکھ , درد اور تکلیف بیان کرسکتی ہو تم. آئی پرامس تمہیں ایسے ہی ہمیشہ سینے سے لگا کر رکھوں گا. “
زیان نے جھک کر اُس کے کان میں سرگوشی کی تھی. عائلہ نے زیان کی قربت میں خود کو پگھلتا محسوس کیا تھا.
” میں نفرت کرتی ہوں تم سے میر. تم بھی کرو نا مجھ سے ویسی ہی نفرت. میں بہت بُری لڑکی ہوں. جو صرف نفرت کے قابل ہے. محبت مجھے راس نہیں آتی. “
زیان کو سینے سے اپنی شرٹ پر نمی سی محسوس ہوئی تھی. عائلہ کے الفاظ اور اس طرح رونا زیان کو گہری فکر میں مبتلا کررہے تھے.
” میں غلط تھا. نہیں ہو تم نفرت کے قابل. تم سے زیادہ پیاری لڑکی اِس پوری دنیا میں نہیں ہے. جو سچے دل کی مالک منافقت سے پاک ہے. تمہارے میر کو تم سے بے پناہ محبت ہوچکی ہے. جو کبھی نفرت میں نہیں بدل سکتی.”
زیان کو عائلہ کا وجود ہچکیوں کی وجہ سے ہولے ہولے لرزتا محسوس ہوا تھا. عائلہ کی کی یہ حالت زیان کو تکلیف دے رہی تھی. اور ستم یہ تھا کہ وہ اصل بات سے ناواقف تھا اور یہ پاگل لڑکی اُسے کچھ بتانے کو بھی تیار نہیں تھی.
زیان کی محبت پر عائلہ کا دل بے اختیار چاہا تھا کہ کاش وہ تلخ حقیقت اُن کے بیچ نہ آتی تو وہ کبھی اپنے میر سے دور ہونے کا سوچتی بھی نہیں. مگر اب اُسے ایسا کرنا تھا. اِس کے علاوہ اُس کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا.
عائلہ زیان کی بانہوں کا حصار توڑتی اُس سے دور ہوئی تھی.
” مجھے ایک دن کی اور مہلت چاہئے. پھر میں ساری بات کلیئر کر دوں گی. صرف ایک دن کی مہلت. “
عائلہ اپنی بھیگی نم پلکیں اُٹھا کر زیان کے وجیہہ چہرے کو آخری بار اپنی آنکھوں میں بساتے ہوئے بولی.
” ٹھیک ہے مگر اِس بار اگر تم نے کوئی اُلٹی سیدھی حرکت کی تو پھر میری سزا سے تمہیں کوئی نہیں بچا پائے گا. “
زیان نے نرم نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے محبت سے وارن کیا تھا. جس پر عائلہ اثبات میں سر ہلاتی جلدی سے اُس کی نگاہوں سے اوجھل ہوئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
میں نے کہا تھا نا. کہ ہشام بھائی فائقہ سے شادی نہیں کریں گے. وہ اُنہیں پسند نہیں ہے. “
بسمہ اپنا کالر پکڑ کر سب کو اپنی بات یاد دلاتی فخر سے بولی.
” بات یہ نہیں ہے بسمہ. ہشام نے فائقہ سے منگنی کرلی تھی. تو اُس سے شادی بھی کر لیتا. اگر ہشام کی زندگی میں وہ دوسری لڑکی نہ آتی. جس سے ہشام کا نکاح ہوا ہے. اور فائقہ سے بھی کئی گناہ مضبوط تعلق جُڑا ہے. نکاح کی بہت طاقت ہوتی ہے. جو آرام سے دو بلکل اجنبی دلوں کو آپس میں جوڑ دیتی ہے. منگنی تو اُس رشتے کے آگے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی. “
امبر بسمہ کی بات کاٹتے ہوئے بولی.
اُس دن ہشام اور سلمان صاحب کی بحث کے بعد گردیزی ولا میں عجیب سی فضا پھیل گئی تھی. سائرہ بیگم نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اگر ہشام نے اُس لڑکی کو طلاق دے کر فائقہ سے شادی نہ کی تو وہ پورے خاندان سے تعلق توڑ دیں گی. سب نے اُنہیں منانے اور ٹھنڈا کرنے کی بہت کوشش کی تھی. مگر وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھیں.
سلمان گردیزی بھی ہشام سے بہت سخت ناراض تھے. جس نے اُن کو پہلے اعتماد میں لینے کے بجائے ہوں سب کے سامنے شرمندہ کرتے ہوئے بلکل سائیڈ پر کردیا تھا. ہشام تو ایسے اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا. کہ اگر پوری دنیا بھی اُس کے خلاف ہوجائے تو وہ پھر بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹے گا.
حمدان گردیزی اور شائستہ بیگم اِس معاملے میں بلکل خاموش تھے. اُن کی خاموشی اِس بات کا ثبوت دے رہی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے اِس فیصلے میں اُس کے ساتھ کھڑے ہیں. اگر شائستہ بیگم نے مِنہا کو اُس رات پارٹی میں نہ دیکھا ہوتا تو شاید وہ بھی باقی گھر والوں کی طرح ہشام کی بیوی کے متعلق عجیب سے خدشات کا شکار ہوتی. مگر اُنہیں کہیں نہ کہیں مِنہا کی معصومیت اٹریکٹ کر چکی تھی. اور اُنہیں وہ اپنے سخت مزاج اور ٹف پرسنیلٹی کے مالک بیٹے کے لیے پسند بھی آئی تھی.
” جو بھی ہے مجھے اِس ساری سچویشن پر مزا بہت آرہا ہے.”
کب سے خاموش بیٹھی زویا نے بھی گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا تھا. زویا کو اپنی بات کے جواب میں سب کی جانب سے زبردست قسم کی گھوری موصول ہوئی تھی.
آج وہ ساری کزنز اپنی فیورٹ جگہ ٹیرس پر بیٹھ کر گھر کے موجود حالات پر تبادلہ خیال کررہی تھیں. کیونکہ سب ہی یہ جاننے کے لیے بے چین تھے. کہ آخر یہ اُونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا تھا. کون اپنی بات سے پیچھے ہٹے گا ہشام یا پھر سلمان گردیزی. دونوں ایک جیسے مزاج اور طبیعت کے مالک تھے.
” ویسے کیا لگتا ہے تم سب کو. تایا جان اور ہشام بھائی میں سے کون ہار مانے گا. اور پیچھے ہٹے گا اپنی بات سے. “
صبا نے سب کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھتے پوچھا تھا.
” تایا جان کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے تو یہی لگتا ہے کہ وہ کسی قیمت پر ہار نہیں مانیں گے. مگر دوسری طرف ہشام بھائی جس طرح اُس لڑکی کا مضبوط لہجے میں ذکر کرتے سب کے سامنے کسی بھی طرح کے انجام سے بے پرواہ ڈٹ کر کھڑے تھے. وہ یہی ثابت کررہا تھا. کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ اپنی بات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے. اور اُس لڑکی کو پوری عزت کے ساتھ اِس گھر کی بہو بنا کر رہیں گے. “
رمشا کی بات پر سب نے اُس کی تائید کی تھی. کہ معاملہ ابھی ففٹی ففٹی تھا. مگر ہشام کے یہ مقدمہ جیتنے کے چانسز زیادہ تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ڈائیلاگ مارنے میں سب سے آگے ہے یہ سڑیل پولیس والا. اُس دن تو بڑی بڑی باتیں کررہا تھا نا. اور اب دو دن ہوچکے ہیں. آنا تو دور کی بات ایک کال تک نہیں کی.”
مِنہا غصے سے یہاں وہاں ٹہلتی بھناتی پھر رہی تھی. اگر ایک دن بھی ہشام اُس کے پاس نہ آتا اور کال نہیں کرتا تو منہا نجانے کتنے ہی وسوسوں میں گِر کر نجانے کیا کیا سوچ کر اپنے سر میں درد کر دیتی تھی.
اِن دو دنوں میں اُس نے نجانے کیا کیا سوچ لیا تھا. اُسے یہی لگ رہا تھا کہ ہشام شاید اُسے بھول کر اپنی فیملی والوں کی بات مان چکا ہے. اب کبھی اُس کے پاس واپس نہیں آئے گا. اِس سوچ کے آتے ہی ہشام کے سامنے بڑی بڑی باتیں کر جانے والی مِنہا کو اپنی سانسیں رُکتی محسوس ہورہی تھیں.
مِنہا ابھی نجانے اور بھی کیا کیا سوچتی جب اُس کا موبائل بج اُٹھا تھا. فاریہ کا نمبر دیکھ مِنہا مسکرائی تھی. اُس کی فاریہ سے بہت اچھی دوستی ہوچکی تھی. فاریہ اُس کی بوریت کے خیال سے دن میں تقریباً روز ہی اُسے کال کرتی تھی.
” میں بلکل ٹھیک ہوں. مگر بہت زیادہ بور ہورہی ہوں. تنگ آگئی ہوں یہاں اکیلا بیٹھ بیٹھ کر. “
فاریہ کی آواز سنتے ہی مِنہا پھٹ پڑی تھی. اُس کی جھنجھلائی آواز سن کر فاریہ ہنس دی تھی.
” تو چلو پھر شاپنگ پر چلتے ہیں. اپنے مجازی خدا سے اجازت لو. میں تو پوری طرح سے ریڈی ہوں تمہاری بوریت ختم کرنے کے لیے. مگر تمہارے اُس پولیس والے کو تمہارے حوالے سے خود کے علاوہ کسی پر ٹرسٹ ہی نہیں. نہ ہی کسی کو تمہارے پاس آنے دیتے ہیں. نہ ہی اپنے علاوہ کسی کے ساتھ باہر جانے کی اجازت. مگر پھر بھی تم ایک بار پوچھ لو.”
فاریہ نے فوراً اپنی خدمات پیش کی تھیں. مگر ساتھ ہی ہشام کی شان میں پورا قصیدہ بھی سنا دیا تھا. فاریہ کے مطابق ہشام مِنہا سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا. تبھی اُس کے معاملے میں اتنا پوزیسو تھا.
” ہممہ اجازت دے ہی نہ دیں. رہنے دیں اُن سے پوچھنے سے بہتر میں یہاں پر ہی ٹھیک ہوں.”
مِنہا جو شاپنگ کے نام پر ایکسائٹڈ ہوئی تھی. مگر پھر ہشام کے سیدھے دو ٹوک انکار کا سوچ اُداس ہوئی تھی.
” یار تم ایک بار پوچھو تو سہی. کیا پتا مان ہی جائے. اتنا کھڑوس بھی نہیں ہے میرا بھائی. “
فاریہ نے اُسے اچھی طرح سے ہمت دلا کر ہشام سے بات کرنے پر راضی کرتے فون بند کردیا تھا.
پہلے تو مِنہا کی انا اُسے بلکل بھی اجازت نہیں دے رہی تھی کہ اُس بندے کو کال کرے جس نے پچھلے دو دن سے اُس کی خبر بھی نہیں لی تھی. مگر پھر اِسی بہانے ہشام کی آواز سننے اور اُس سے بات کرنے کی خاطر مِنہا نے دل آگے ہار مانتے ہشام کو کال ملا دی تھی.
ہشام جو کسی میٹنگ میں بزی تھا. مِنہا کی کال دیکھتے فکرمند ہوتے کال ریسیو کی تھی. کیونکہ آج سے پہلے وہ ہی اُسے میسج اور کال کرتا تھا. منہا کی جانب سے تو کبھی پہل میں ایک میسج تک نہیں آیا تھا. اِس وقت کال دیکھ اُس کا پریشان ہونا بنتا تھا.
” مِنہا کیا ہوا تم ٹھیک ہو. سب ٹھیک ہے وہاں. “
ہشام نے مِنہا کے کچھ بولنے سے پہلے ہی بے چینی سے بولا تھا.
” میں بلکل ٹھیک ہوں. جتنی آپ کو میری فکر ہے سب پتا ہے مجھے. یہ سب ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے. میں نے صرف یہ کہنے کے لیے کال کی ہے کہ مجھے فاریہ کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے. اپنے باہر کھڑے کیے اِن ّمُشٹنڈوں کو بولیں مجھے جانے دیں.”
مِنہا کی نروٹھی آواز سنتے ہشام کا بے ساختہ قہقہہ گونجا تھا. جس پر میٹنگ میں بیٹھے سب لوگ حیرت سے اُس کی جانب دیکھنے لگے تھے. ہشام اُن سب کو باہر جانے کا کہتے چیئر پر ریلیکس انداز میں بیٹھ گیا تھا.
دو دن سے وہ رفیق نیازی کے خلاف کیس پر کام کرتے اُس کے خلاف ثبوت اکٹھے کرتے اِس قدر بڑی تھا. کہ ایک منٹ سو بھی نہیں پایا تھا. اور اب تھکاوٹ سے اُس کا بُرا حال تھا. مگر اپنی لاڈلی بیوی کی آواز سنتے وہ ایک دم ریلیکس ہوا تھا. وہ اُس کی خود سے برتے جانے والی لاپرواہی کی طرف دھیان دلاتی اُسے اپنے اندرونی حالات سے کافی حد تک آگاہ کر گئی تھی.
” میری جان جتنی مجھے تمہاری فکر ہے اُتنی کسی کی بھی نہیں ہے. اور کاش تم یہ بات میرے سامنے بولتی تو اِس کا یقین میں تمہیں عملی طور پر بھی کرکے دلاتا.”
ہشام کے جواب پر مِنہا نے اپنا سر پیٹ لیا تھا. کیا تھا یہ شخص ہر بات میں سے کیے اپنی مطلب کی بات ڈھونڈ لیتا تھا.
” مجھے کسی بات کا ثبوت نہیں چاہئے. میں نے جو کہا ہے اُس کا جواب دیں. “
مِنہا کے تپے تپے لہجے پر ہشام کو دور بیٹھے ہی اُس پر بہت پیار آرہا تھا.
” اوکے مادام آپ کا حکم سر آنکھوں پر. آپ جاسکتی ہیں شاپنگ پر. میرے اُن باہر کھڑے مُشٹنڈوں کی بھلا اتنی جرأت کہاں کہ وہ آپ کو روک سکیں.”
مِنہا سے بات کرتے ہشام کے دو دن کی تھکن جیسے اُڑنچھو ہوچکی تھی. وہ خود کو ایکدم فریش محسوس کررہا تھا.
ہشام کی بات پر مِنہا نے حیرت سے آنکھیں پھاڑے موبائل کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا تھا کہ کیا یہ واقعی ہشام ہی ہے نا. وہ اُسے اتنی آسانی سے کیسے اجازت دے سکتا ہے. مگر یقین آتے ہی مِنہا نے مزید ہشام کی کوئی بات سنیں بغیر ہی کال کاٹ دی تھی. اور خوشی سے فاریہ کو میسج کرتی چینج کرنے کے لیے روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
اگلے پندرہ منٹ میں مِنہا ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی. فاریہ نے اُسے شاپنگ مال میں ہی ملنے کا میسج کیا تھا.
گاڑی مال کے پارکنگ میں رکی تھی. جب اُسے فاریہ کا ایک اور میسج ملا تھا.
” ہیو آ نائس اور رومینٹک ڈے ود یور ڈیشنگ ہبی.”
فاریہ کے میسج پر مِنہا نے ناسمجھی سے سکرین کو گھورا تھا. اِس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی اُس کی سائیڈ کا دروازہ کھولتے ہشام نے آگے کو جھکتے ہاتھ بڑھایا تھا. ہشام کو دیکھ مِنہا کے دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں. اُس نے آنکھیں پھاڑے بے یقینی سے ہشام کی جانب دیکھا تھا. اُس کی خاطر وہ اپنا کام چھوڑ کر یہاں پہنچ گیا تھا.
” آپ.؟”
مِنہا نے اُس کا بڑھا ہاتھ اگنور کرتے حیرانی سے اُس کی جانب دیکھا تھا.
” میری پیاری وائف کا اگر شاپنگ کا موڈ ہوگا تو میں کیسے اُسے نظر انداز کر سکتا ہوں.”
ہشام نے مِنہا کو مسکرا کر جواب دیتے اپنے بڑھے ہاتھ کو تھامنے کی جانب اشارہ کیا تھا. جس میں مِنہا کو جھجھک محسوس ہورہی تھی. مگر پھر بہت دقتوں سے ہمت جمع کرتے مِنہا اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھ چکی تھی. جس پر ہشام نے بہت ہی نرمی سے اپنے لب رکھتے اُسے باہر نکالا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زیان اپنے ایک دوست کی عیادت کے لیے ہاسپٹل آیا ہوا تھا. وہ اُس سے مل کر جیسے ہی اُس کے روم سے نکلا اُسے عائلہ روتے ہوئے ڈاکٹر کے روم سے نکل کر باہر کی جانب تیز قدموں سے جاتی نظر آئی تھی.
زیان عائلہ کو وہاں دیکھ بہت حیران ہوا تھا. جہاں تک وہ جانتا تھا عائلہ کو ایکسیڈنٹ سے سر پہ معمولی سی چوٹ ہی آئی تو جو کافی حد تک ٹھیک ہوچکی تھی. ہاں خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے کمزوری اُسے کافی زیادہ ہوگئی تھی. مگر اُس کو بھی ٹریٹمنٹ ہوچکا تھا.
تو عائلہ اب ہاسپٹل میں کیا کررہی تھی. اور رو کیوں رہی تھی. زیان کو لگ رہا تھا کوئی ایسی بات ہے جو وہ مِس کررہا ہے. ہاسپٹل سے جانے کے بعد ہی تو عائلہ کا رویہ چینج ہوا تھا. اُسی کو سوچتے زیان اُسی ڈاکٹر کے آفس کی جانب بڑھ گیا تھا. جہاں سے عائلہ نکل کر گئی تھی.
” مے آئی کم اِن. “
زیان نے ڈور ناک کرتے ڈاکٹر عدیلہ کو متوجہ کیا تھا. جو سر ہاتھوں میں گرائے کسی بہت گہری سوچ میں گم تھیں.
” یس پلیز. “
زیان کو دیکھ ڈاکٹر عدیلہ چونک کر سیدھی ہوئی تھیں.
” آئیں پلیز تشریف رکھیں. “
ڈاکٹر عدیلہ نے چہرے پر مسکراہٹ لاتے کرسی کی جانب اشارہ کیا تھا. وہ اُسے پہچان چکی تھیں. یہ وہی شخص تھا جو اُس دن عائلہ کو ہاسپٹل لایا تھا.
جس پر زیان گہرا سانس بھرتے اُن کے سامنے آبیٹھا تھا.
” ابھی ابھی جو لڑکی یہاں سے نکل کر گئی ہے. عائلہ اکرام مجھے اُس کے متعلق جاننا ہے. وہ کیوں آئی تھی یہاں اور یوں روتے ہوئے کیوں نکل کر گئی ہے. کیا پرابلم ہے اُس کے ساتھ. “
زیان کی بات پر ڈاکٹر عدیلہ نے گہری نظروں سے اُس کا جائزہ لیا تھا. مگر زیان کے چہرے پر عائلہ کے لیے واضح فکر اُنہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئی تھی.
” کیا میں جان سکتی ہوں. آپ کیوں پوچھ رہے ہیں یہ. کیا لگتے ہیں آپ عائلہ کے جس کی بنا پر میں آپ کو عائلہ کے پرسنلز میٹر کے متعلق کچھ بھی بتاؤ. “
ڈاکٹر کی بات پر زیان ہولے سے مسکرایا تھا.
” ابھی تو کچھ نہیں لگتا لیکن بہت جلد اُس کے شوہر کے عہدے پر فائز ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں. بہت محبت کرتے ہیں ہم دونوں ایک دوسرے سے.”
ڈاکٹر عدیلہ نے زیان کی بات پر جھٹکے سے سر اُٹھاتے اُس کی جانب دیکھا تھا.
“آئی تھنک میری اتنی بڑی بات سے آپ کو اتنا اندازہ تو ہوگیا ہوگا کہ وہ میری لائف میں کیا مقام رکھتی ہے. اور اُس کی پرسنلز جاننے کا حق رکھتا ہوں میں. “
زیان کی بات پر ڈاکٹر عدیلہ کو اُس کی شکل میں ایک امید کی کرن نظر آئی تھی. وہ جو عائلہ کی ضد کے آگے ہمت ہار کر بیٹھ گئی تھیں. اور یہ شرمندگی کہ روز محشر وہ اپنی عزیز دوست کو کیا منہ دکھائیں گی اُن کو سکون نہیں لینے دے رہی تھی. زیان کا پر یقین انداز دیکھ اُنہیں اپنے سر سے ایک بہت بڑا بوجھ سرکتا ہوا محسوس ہورہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے ۔۔۔۔
