Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

مِنہا خاموشی سے عائلہ کو اُس شخص کی جانب بڑھتا دیکھ رہی تھی. وہ نہیں جانتی تھی کہ عائلہ اب کیا کرنے والی ہے. مگر جو بھی تھا وہ اب عائلہ کی ایسی کسی شرارت میں شامل ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی. کل جو اُس پولیس والے کے سامنے اُس کی انسلٹ ہوئی تھی. وہی اُس کے لیے کافی تھی.

عائلہ کو اچھی خاصی باتیں سنانے کے بعد بھی اُس کی شرمندگی کم نہیں ہورہی تھی. وہ عائلہ سے ناراض بھی تھی. مگر عائلہ ہمیشہ کی طرح بہت ہی لجاجت سے اُسے منا کر پارٹی میں گھسیٹ لائی تھی.

” مِنہا تمہیں عائلہ کو روکنا چاہیے تھا. میری کبھی بات تو نہیں ہوئی میر زیان حیدر سے مگر اتنا سنا ہے کہ اِسے یوں لڑکیوں سے فری ہونا اور ملنا جلنا پسند نہیں ہے. تھوڑے سخت مزاج کا مالک ہے وہ اِس معاملے میں. “

مِنہا کی کامن فرینڈ نمرہ کو عائلہ کا اِس طرح میر زیان کے پاس جانا بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا. میر زیان کے قریب جاتی عائلہ کو گھورتی نظروں سے دیکھتے نمرہ نے اپنی معلومات سے مِنہا کو بھی آگاہ کیا تھا.

” ایکسکیوزمی.”

میر زیان کے پاس پہنچتے عائلہ نے ہلکا سا گلا کھنکھارتے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا. نسوانی آواز پر پاس کھڑے کچھ لوگوں سے بات کرتے زیان نے پلٹ کر عائلہ کی جانب دیکھا تھا. جو اب اُن لوگوں کو ایک خوبصورت سی سمائل کے ساتھ زیان سے بات کرنے کے لیے کچھ وقت مانگتی اُن کو وہاں سے ہٹنے کا بول گئی تھی.

زیان خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا. اُسے عائلہ کچھ دیکھی دیکھی سی لگی تھی. مگر اچانک یاد آتے ہی کہ یہ وہیں ریسٹورنٹ والی لڑکی ہے. زیان کی آنکھوں میں ناگواری کی لہر دوڑ گئی تھی.

” ہائے آئم عائلہ اکرام. “

عائلہ نے ایک ادا سے کہتے اپنا ہاتھ زیان کی جانب بڑھایا تھا. مگر زیان نے اُس کا ہاتھ تھامنے کے بجائے دونوں بازو سینے پر باندھتے بےتاثر نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا.

” میرا نام میر زیان حیدر ہے. جی فرمائے مِس عائلہ اکرام کیا کام ہے آپ کو مجھ سے.”

عائلہ اپنا بڑھا ہوا ہاتھ نظرانداز کیے جانے اور اُس کے اتنے اٹیچوڈ دیکھانے پر بُرا ماننے کے بجائے ہولے سے مسکرا دی تھی. اُسے میر زیان حیدر کا یہ گریز برتتا انداز مزید اپنی جانب متوجہ کررہا تھا. اب تک کی اُس کی لائف میں یہ پہلا ہی ایسا شخص تھا. جو عائلہ اکرام میں انٹرسٹ نہیں لے رہا تھا.

” کام تو کچھ خاص نہیں ہے. میں نے آپ کو دیکھا تو مجھے آپ سے بات کرنے کو دل چاہا. اِس لیے یہاں آگئی. آئی تھنک آئی لائک یو. “

عائلہ کی صاف گوئی پر زیان اُسے دیکھ کر رہ گیا تھا. جس طرح والہانہ نظروں سے یہ لڑکی اُسے دیکھ رہی تھی. میر زیان کے لیے مزید مروت دیکھانا بہت مشکل ہورہا تھا.

” مگر مجھے آپ سے اور آپ جیسی تمام لڑکیوں سے جنہیں اپنی عزت کا زرا سا بھی خیال نہیں. اُن سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے. سو پلیز آپ یہاں سے جاسکتی ہیں. میں آپ کے ٹائپ کا انسان بلکل بھی نہیں ہوں. “

زیان نے دوٹوک لہجے میں کہتے عائلہ کو اپنے نزدیک موجود اُس کی اوقات بتائی تھی. پارٹی میں موجود سب لوگ عائلہ کو اُس کے پاس کھڑا دیکھ اُن کی طرف متوجہ ہوچکے تھے. جس کی بڑی وجہ عائلہ کا زیان کو والہانہ پسندیدگی کی نظروں سے دیکھنا تھی. اور زیان ایسا تو بلکل بھی نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا نام عائلہ جیسی لڑکی کے ساتھ لیا جائے.

اُسے عائلہ کا بے انتہا حُسن بھی اپنی جانب متوجہ نہیں کرپارہا تھا. اُس کے نزدیک حُسن سے کہیں بڑھ کر لڑکی کی شرم و حیا تھی. جو اُسے عائلہ میں ایک پرسنٹ بھی نظر نہیں آئی تھی.

” اتنے سخت الفاظ بول کر میرا دل تو مت توڑوں میر زیان حیدر. مانتی ہوں تم پر یہ ایٹیچوڈ اور ایگو بہت سوٹ کرتی ہے. مگر تھوڑا سا اگلے بندے کی فیلنگ کا احساس کر لینا بھی بُری بات نہیں ہے. اور کسی انسان کا ظاہر دیکھ کر تو فیصلہ نہیں کیا جاسکتا نا کہ وہ کیسا ہے. “

عائلہ اپنی کیفیت نہیں سمجھ پارہی تھی کہ اُسے زیان کے اتنے سخت الفاظ کا بُرا کیوں نہیں لگ رہا. اور دل کیوں اُس کے پاس کھڑا رہنے اُس سے باتیں کرنے کا متمنی تھا. جو اُس کی جانب دیکھنا بھی پسند نہیں کررہا تھا. اگر میر زیان حیدر کی جگہ یہاں کوئی اور ہوتا تو عائلہ اپنے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرنے پر اب تک اُس کا منہ توڑ چکی ہوتی.

” میرے نزدیک کسی شخص کو جاننے کے لیے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے. تم جیسی لڑکی کبھی مجھے اپنی جانب اٹریکٹ نہیں کرسکتی. اِس لیے مجھ پر اپنا ٹائم ویسٹ مت کرو. اور اپنے ٹائپ کا کوئی اور بندہ ڈھونڈو. “

زیان اتنا رُوڈ کبھی نہیں رہا تھا. مگر نجانے کیوں اُسے اِس لڑکی پر بہت غصہ آرہا تھا. جو اُس کے پاس سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی.

” میر زیان حیدر ابھی پندرہ منٹ پہلے تک میں سمجھتی تھی. کہ محبت جیسی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں. کوئی دوسرا انسان کیسے آپ کو اتنا عزیز ہوسکتا ہے. مگر تمہیں دیکھنے کے بعد مجھے لگ رہا ہے کہ میں اُس انجانے اور اِن دیکھے جذبے میں گرفتار ہورہی ہوں. کیا پتا یہ سب وقتی عمل کو مگر اِس دل کو تم بہت بُری طرح بھا گئے ہو. “

عائلہ بات کرنے کے دوران چند قدموں کا فاصلہ سمیٹتی زیان کے قریب ہوئی تھی. زیان بنا اُسے دُور کیے یا پیچھے ہٹے وہیں کھڑا رہا تھا. لیکن اُس کی آنکھوں سے سرد پن ٹپک رہا تھا.

” عائلہ اکرام کو میر زیان حیدر چاہئے. میں کسی بھی قیمت پر تمہیں حاصل کر کے رہوں گی. تمہیں میری جانب اٹریکٹ ہونا ہوگا. مجھ سے محبت کرنی ہوگی. “

عائلہ کے لہجے اور انداز میں ایک عجیب سی ضد تھی.

اُس کی بات پر زیان طنزیا انداز میں مسکرایا تھا.

” تم بے شرم , بدلحاظ, بد تمیز ہونے کے ساتھ ساتھ پاگل بھی ہو. تم دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوئی تب بھی میر زیان حیدر تمہارا انتخاب نہیں کرے گا. “

زیان زہرخند لہجے میں کہتے اُس کا بازو پکڑ کر سائیڈ پر جھٹکتے وہاں سے نکل گیا تھا. اِس لڑکی نے اُس کا اچھا بھلا موڈ غارت کردیا تھا.

” عائلہ یہ سب کیا تھا. تم اپنے روم میں نہیں کھڑی پبلک پلیس پر ہو. کیا حرکتیں کررہی ہو. “

منہا کو عائلہ کا اِس طرح زیان کے قریب جانا بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا. جو اب بھی مسکراتی نظروں سے انٹرنس کی جانب دیکھ رہی تھی. جہاں سے وہ کب کا جاچکا تھا.

” مِنہا مجھے میر زیان حیدر سے پہلی نظر کی محبت ہوگئی ہے. “

مِنہا کی بات کا جواب دیے بنا عائلہ کھوئے لہجے میں بولی تھی. مِنہا کو اُس کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا تھا.

” عائلہ تم پاگل ہوگئی ہو کیا. اچھا مذاق ہے ویسے آج پہلی بار ملی تم اُسے آج ہی دیکھا اور محبت بھی ہوگئی. امیزنگ. “

مِنہا کو سمجھ نہیں آرہا تھا. عائلہ کی بات پر کیسے ری ایکٹ کرے.

مِنہا کے غصہ ہونے پر عائلہ نے مسکراتے اُس کے دونوں ہاتھ تھامے تھے.

” مِنہا میں سچ کہہ رہی ہوں. میر زیان حیدر میرے دل کو بہت بُری طرح سے بھا گیا ہے. اُس کا غصہ کرنا, چڑھنا یہاں تک کے میری بے عزتی کرنا بھی بُرا نہیں لگا مجھے. “

عائلہ بہت خوش لگ رہی تھی. لیکن مِنہا کو اُس کی باتیں سن کر ڈر لگ رہا تھا. اُس نے میر زیان کی آنکھوں میں عائلہ کے لیے صاف ناپسندیدگی اور ناگواری دیکھی تھی. وہ عائلہ کو سمجھانا چاہتی تھی. یہی روک دینا چاہتی تھی. وہ نہیں چاہتی تھی. عائلہ کا دل ٹوٹے مگر عائلہ اِس وقت اُس کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم نے. گھر ہے یا کوئی کلب. اتنا اُونچا میوزک کون سنتا ہے. “

فاخرہ بیگم ڈرائنگ روم میں داخل ہوکر کانوں پر ہاتھ رکھتے چلائی تھیں.

عائلہ آج اُن سے اُس دن کا بدلہ لینے کے موڈ میں تھی. جب اُنہوں نے اُسے تھپڑ پڑوایا تھا. اُس نے اپنا فیورٹ سانگ فل والیم پر لگا رکھتا تھا. جس کا شور پورے گھر میں پھیلا ہوا تھا. اور وہ مِنہا کے ساتھ کانوں میں روئی ٹھونسے مزے سے بیٹھی باتیں کررہی تھی. فاخرہ بیگم کا چلانا اُس نے ایسے اگنور کیا تھا. جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو.

” عائلہ میں تم سے بات کررہی ہوں. بند کرو اِس شور شرابے کو میری سر میں درد ہورہا ہے. “

فاخرہ بیگم عائلہ کے بلکل سامنے آتے غصے سے تلملاتے ہوئے بولیں. اُن کا دل چاہ رہا تھا کہ اِس نک چڑی بدتمیز لڑکی کو اُٹھا کر اِس گھر سے باہر پھینک دیں. جس نے شروع سے اُن کی زندگی عذاب بنا رکھی تھی. اور اب بھی کان پھاڑتا میوزک لگا کر پلگ کے آگے چیئر رکھے بیٹھی تھی. تاکہ وہ بند نہ کرسکیں.

مِنہا اُسے اشاروں میں بند کرنے کا کہہ کررہی تھی. مگر عائلہ آج کسی صورت فاخرہ بیگم پر ترس کھانے کے موڈ میں نہیں تھی. جس نے اُس سے اُس کی زندگی کی ساری خوشیاں چھین لی تھیں.

” اپنے کان بند کر لو اگر اتنا ہی مسئلہ ہورہا ہے. میں بلکل بھی بند نہیں کرنے والی. میرا موڈ ہے آج سانگ سنے کا.”

عائلہ کے لہجے میں فاخرہ بیگم کے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا.

” تم یہ ٹھیک نہیں کررہی ہے. آج میں اکرام سے تمہاری طبیعت اچھے سے سیٹ کرواتی ہوں. بہت اُونچا اُڑنے لگی ہو تم. اچھے سے جانتی ہوں کیسے تمہارے پر کاٹنے ہیں. “

فاخرہ بیگم اُسے غصے سے وارن کرتیں باہر نکل گئی تھیں. عائلہ کو ہر بات میں سمجھانے والی مِنہا اِس معاملے میں عائلہ کو کبھی کچھ نہیں بولتی تھی. وہ عائلہ کی زندگی کے ہر پہلو سے واقف تھی. اُس کے مطابق عائلہ اپنی جگہ بلکل حق بجانب تھی. فاخرہ بیگم آج تک اُس کے ساتھ جو کچھ کر چکی تھیں. اُس کے آگے عائلہ کا یہ سب تنگ کرنا تو کچھ بھی نہیں تھا.

” اوہ شٹ میں تو بھول ہی گئی تھی. آج تو کشمالہ کا برتھ ڈے ہے. اُس نے کتنی محبت سے انوائٹ کیا ہے. لازمی جانا بنتا ہے. “

مِنہا اچانک یاد آنےپر جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوئے بولی.

” تم آؤ گی نا. “

مِنہا نے سوالیہ نظروں سے عائلہ کی جانب دیکھا تھا.

” نہیں میرا بلکل بھی موڈ نہیں ہے. وہاں جاکر ٹائم ویسٹ کرنے کا. میں آرام سے بیٹھ کر میر زیان حیدر کو سوچنا چاہتی ہوں. میں نے خود کو دو دن دیے ہیں. یہ جاننے کے لیے کہ یہ سب وقتی تھا یا کیا واقعی میں مجھے میر صاحب سے محبت ہوچکی ہے. “

عائلہ کے واپس زیان حیدر کا قصہ چھیڑنے پر منہا نفی میں سر ہلاتے وہاں سے نکل آئی تھی. کیونکہ پچھلے اتنے گھنٹوں سے یہ نام سن کر وہ پک چکی تھی.

مِنہا کے جانے کے بعد عائلہ بھی میوزک آف کرتی وہاں سے اُٹھ گئی تھی.

عائلہ دس سال کی تھی جب یہ عورت اُس کے ماں باپ کی زندگی میں آئی تھی. اُس کی ماما کا آشیانہ تباہ کرکے اِس عورت نے اپنا گھر بسا لیا تھا. اور یہی نہیں فاخرہ بیگم نے عائلہ کی ماما کو اُس کے بابا کی سامنے بدکردار ثابت کرنے کے لیے اُن پر جھوٹا الزام لگادیا تھا. جس پر یقین کرتے اکرام صاحب نے اُس کی ماما کو طلاق دے دی تھی. جنہوں نے اِن سب باتوں کا اتنا صدمہ لیا تھا کہ ایک سال بعد یہ دنیا ہی چھوڑ گئی تھیں.

عائلہ مکمل طور پر فاخرہ بیگم کے رحموں کرم پر تھی. جو اُس کے ساتھ جتنا ہوسکتا تھا. بُرا سلوک کرتیں. اُسے ہر وقت ڈانٹتی رہتیں اور اگر جواب میں عائلہ کچھ کی دیتی تو اکرام صاحب سے بُری طرح اُس کو ڈانٹ پڑواتیں.

اِن سب باتوں نے عائلہ کے اندر اتنا زہر بھر دیا تھا کہ وہ اتنی ہٹ دھرم اور خود سر ہوگئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” واسع سب ریڈی ہے نا. ابھی زیان بھائی کی کال آئی ہے کہ وہ اور ہشام بھائی ہوٹل میں پہنچ چکے ہیں. کسی بھی لمحے اندر آنے والے ہیں. “

زویا جلدی سے اُن سب کے قریب آتے بولی. جس پر ولید نے لائٹس آف کرنے کا اشارہ کردیا تھا. اور اگلے چند سیکنڈز میں مختلف روشنیوں سے جگمگاتا پورا ہال تاریکی میں ڈوب گیا تھا.

اُن سب کزنز نے مل کر ہشام کا سرپرائز برتھ ڈے پلان کیا تھا. اُن کی پوری فیملی, ہشام کے دوست اور خاندان کے باقی کچھ خاص خاص لوگ مدعو تھے. ہشام گھر بھر کا بہت کی چہیتے بیٹا تھا. اُس کا سُلجھا انداز , قابلیت اور بہادری نے اُسے ویسے ہی سب میں ممتاز کردیا تھا.

مِنہا اپنی فرینڈ کشمالہ کے برتھ ڈے میں آئی ہوئی تھی. مگر اُسے یہ نہیں سمجھ آرہا تھا کہ اتنے بڑے ہوٹل کے کِس ہال میں کشمالہ کی برتھ ڈے پارٹی ارینج کی گئی ہے. کشمالہ کا نمبر وہ کتنی بار ٹرائے کرچکا تھا. لیکن کوئی رسپانس نہیں آرہا تھا.

اُسی لمحے مِنہا کی نظر سامنے موجود ہال ہر پڑی تھی. جس کے باہر برتھ ڈے پارٹی لکھا ہوا تھا. وہ بنا اردگرد غور کیے جلدی سے اُس جانب بڑھی تھی. یہ دیکھے بنا کہ اُس سے پیچھے ہال میں انٹر ہونے والا شخص وہی پولیس والا تھا. جس کے ساتھ دو ملاقاتوں میں ہی اُس کا بہت بُرا تجربہ رہ چکا تھا.

مِنہا نے حیرت سے اندر چھائے اندھیرے کی طرف دیکھا تھا.

” باہر تو پارٹی لکھا ہے اور لائٹس بھی آن ہے تو پھر اِدھر اتنا اندھیرا کیوں ہے. “

مِنہا اندھیرے کو گھورتی مڑنے لگی تھی. جب وہ کسی فولادی شے سے بُری طرح ٹکرا گئی تھی. اِس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی مقابل نے اُسے بانہوں میں بھرتے گرنے سے بچایا تھا. ا

اُسی لمحے لائٹس آن ہوئی تھیں اور پورا ہال روشنیوں میں نہا گیا تھا. ہشام کو برتھ ڈے وش کرنے کے لیے کھولے گئے اُن کے منہ اب حیرت کے مارے مزید کھل چکے تھے.

ہشام پرپل کلر کے شارٹ فراک میں ملبوس ایک گڑیا سی نازک لڑکی کو بانہوں میں بھرے کھڑا تھا.

کچھ دیر پہلے والے وہ سب جو ہشام کو سرپرائز دینے والے تھے. ہشام کے اِس سرپرائز پر خود ہی سکتے میں آچکے تھے.

جاری ہے۔۔۔۔