Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episode 11 & 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11 & 12
نکاح کے بعد سب لوگ واپس جاچکے تھے. مِنہا اپنے کمرے میں ہی بند تھی. ہشام بھی سب کو رخصت کرکے اپنے کمرے کی جانب چلا گیا تھا. اُسے مِنہا کی دن کی کہی باتوں پر اچھا خاصہ غصہ تھا. اِس لیے وہ اُس سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا. فاریہ سے کہہ کر اُس نے کھانا مِنہا کو کھلوا دیا تھا.
ہشام بیڈ پر لیٹا چینل سرچنگ پر مصروف تھا. جب اُسے دروازے پر ہلکی سی دستک سنائی دی تھی.
” کم اِن. “
ہشام کی آواز سنتے مِنہا مرے مرے قدموں سے آگے بڑھی تھی. ہشام کو بیڈ پر لیٹا دیکھ اُس کی جھکی نظریں مزید جھک گئی تھیں.
” مجھے آپ سے بات کرنی ہے. “
ہشام کے یکسر نظر انداز کرنے پر مِنہا کو خود ہی اُس کی توجہ اپنی جانب دلوانی پڑی تھی.
” بولو میں سن رہا ہوں. “
ہشام اب ٹی وی کے ساتھ ساتھ موبائل پر بھی مصروف ہوچکا تھا.
اُس کے اِس طرح ایٹیچیوڈ دیکھانے پر مِنہا نے نظریں اُٹھا کر اُسے گھورا تھا. وہ اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی بہت شرافت کے ساتھ اور بہت ہی ہمت جمع کرکے ہشام سے اپنی فضول باتوں کی معافی مانگنے آئی تھی. لیکن ہشام کا اِس طرح اگنور کرنا اُسے بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا.
” کوئی بات نہیں کرنی مجھے. “
مِنہا روٹھ کر منہ بنا کر کہتی وہاں سے پلٹی تھی. مِنہا نے آج تک اپنا یہ انداز صرف عائلہ اور اپنے پاپا کو ہی دیکھایا تھا. اب نجانے کیوں وہ ہشام کے ساتھ بھی ایسے ہی بے ہیو کر گئی تھی.
” رُک جاؤ وہیں پر. اور جو بات کہنے آئی ہو وہ پوری کرو. “
ہشام موبائل بیڈ پر پھینکتا سخت لہجے میں مِنہا سے مخاطب ہوا تھا.
” جب آپ میری بات سننا ہی نہیں چاہتے تو میں کیا بولوں. مجھے نہیں کرنی آپ سے کوئی بات. “
اب مِنہا کا موڈ خراب ہوچکا تھا. اِس لیے بنا ہشام کی بات مانے وہ باہر کی جانب بڑھی. جس پر ہشام بیڈ سے اُٹھتا ایک ہی جست میں مِنہا تک پہنچتا. اُس کے دروازہ کھولنے سے پہلے ہی اُس کا بازو پکڑ کر اُس کی بیک دروازے سے ٹکا چکا تھا.
مِنہا نے اِس اچانک افتاد پر گھبراتے ہشام کی جانب دیکھا.
” یہ اتنے نخرے مجھے دیکھانے کی ضرورت بلکل بھی نہیں ہے. جو کہنے آئی تھی وہ بولو گی یا میں اپنے طریقے سے بلواؤں.”
ہشام مِنہا کے اردگرد اپنے دونوں بازو ٹکا کر اُسے مکمل طور پر اپنے حصار میں لیے. اُس پر جھکا ہوا تھا. اُس کے اِس طرح قریب آنے پر مہنا کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں.
” کیا آپ ہر انسان کے ساتھ ایسے ہی روڈ اور سڑیل ہیں. یا میں ہی واحد انسان ہوں یہ رویہ سہنے کے لیے. “
مِنہا بنا اُس کا حصار توڑتی سینے پر بازو باندھے اپنے ڈر کو سائیڈ پر رکھتے بولی.
اُس کے انداز پر ہشام اپنی بے ساختہ اُمڈ آنے والی مسکراہٹ روک گیا تھا. اُسے نکاح کے بعد مِنہا کا یہ بدلہ بدلہ نڈر انداز اچھا لگ رہا تھا.
” نہیں یہ صرف سپیشل تمہارے لیے ہے. “
ہشام کی نظر مِنہا کی ٹھوڑی پر موجود گڑھے پر تھیں. جو اِس وقت اُسے خود سے روٹھا رُوٹھا سا لگ رہا تھا.
منہا اِس وقت ہشام کے ہی لائے گئے. لائٹ پرپل اور پیرٹ کلر میں بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی. اُس کی رونے سے سوجی آنکھوں میں گلابی ڈورے نمایاں تھے.
” میں آپ سے دن میں بولے گئے الفاظ پر معافی مانگنے آئی تھی. مجھے اتنا غلط نہیں بولنا چاہئے تھا. آپ اتنے بُرے بھی نہیں ہیں. “
مِنہا کی نظریں جھکی ہوئی تھیں.
وہ بہت ہی نرم دل کی مالک تھی. کسی کو سخت الفاظ بول کر یا ہرٹ کرکے وہ خود ہی بے چین رہتی تھی. ابھی بھی اُسے شام سے یہ بات سکون نہیں لینے دے رہی تھی. کہ اس نے ہشام کا احسان مند ہونے کے بجائے اُس پر اِتنے فضول الزام لگا دیئے تھے.
” مطلب بُرا ہوں. “
ہشام کو اِس صاف گو سی لڑکی سے بات کرنا اچھا لگ رہا تھا.
اِس سے پہلے کے مِنہا کوئی جواب دیتی ہشام کی کال آجانے سے وہ خاموش ہوئی تھی.
ہشام بنا اپنی جگہ سے ہٹا وہیں کھڑا کال پر بات کرتا رہا تھا. شاید وہ ابھی منہا کو جانے دینے کے موڈ میں نہیں تھا. اور مِنہا کو بھی اُس سے ایک بہت اہم بات کرنی تھی. اِس لیے وہ بھی خاموشی سے کھڑی رہی تھی. اور غیر ارادی طور پر اُس کی نظریں ہشام کے خوبرو چہرے پر ٹک گئی تھیں.
کھڑی مغرور ناک, احمری لب , روشن پیشانی جس پر چمکتا ایک بہت ہی خوبصورت سا تل. مِنہا نے فوراً نظریں جھکا لی تھیں. اُسے لگا تھا اگر مزید کچھ دیر اُس نے ایسے ہی اِس پولیس والے کی جانب دیکھا تو کچھ گڑبڑ نہ ہوجائے. کیونکہ آج اِس طرح اِس شخص کے قریب کھڑے ہوکر اُس کا دل جس طرح دھڑک رہا تھا. اُسے کہیں نہ کہیں خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہورہی تھی.
ہشام کی کال کچھ سے زیادہ ہی لمبی ہورہی تھی. شاید کوئی ضروری بات کرنی تھی. جس وجہ سے وہ مِنہا کے آگے سے ہٹ گیا تھا.
ہشام کے ہٹتے ہی مِنہا بھی جلدی سے وہاں سے نکل آئی تھی. اُسے اپنی کیفیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی.
” اُف میرے خدا میں کیوں سوچ رہی ہوں. اِس شخص کے بارے میں. جو میرا کچھ نہیں لگتا. سوائے کاغذی رشتے کے. میں دل اتنا کمزور بھی نہیں ہے کہ اتنی جلدی کوئی شخص اِس میں اُتر جائے. نہیں مجھے کچھ بھی نہیں سوچنا اِس کے بارے میں. “
مِنہا چائے بناتی ساتھ ساتھ بڑبڑانے میں مصروف تھی. جب کچن کے دروازے پر آہٹ محسوس کرتی وہ پلٹی تھی.
” تمہیں مجھ سے کوئی بات کرنی ہے. ؟”
ہشام کو لگا تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے. اِس لیے سوالیہ انداز میں اُس کی جانب دیکھتے بولا.
” مجھے اپنے پاپا جانی سے ملنا ہے. “
مِنہا ہاتھ کی انگلیاں مڑورتی نظریں جھکا کر بولی.
” وہاں جانے میں بہت خطرہ ہے تمہیں. “
ہشام کی بات پر مِنہا نے آنکھوں میں آنسو بھرے ملتجی انداز میں اُس کی جانب دیکھا تھا. اُسے اپنے پاپا سے ہر حال میں ملنا تھا. وہ نہیں چاہتی تھی اُنہیں آخری بار بھی نہ دیکھ پائے.
” اِس میں اب رونے کی کیا ضرورت ہے. ہر بات میں رونا لازم ہے کیا تمہارا. لے جاؤں گا کل میں تمہیں وہاں. میرے ہوتے اب کوئی تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا. “
ہشام مضبوط لہجے میں مِنہا کے چہرے پر خوف کی لہر دیکھ اُس کو بہت کچھ باور کرواتا وہاں سے نکل گیا تھا.
مِنہا آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہشام کی چوڑی پشت کو دیکھا تھا.
” سڑیل تو ہے. مگر اچھا بھی بہت ہے. بہت لکی ہوگی وہ لڑکی جس کی قسمت میں یہ شخص ہوگا. “
مِنہا نے کو اُس لڑکی کی قسمت پر رشک ہوا تھا. جو پورے حق سے ہشام کی زندگی میں داخل ہوگی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ شاور لے کر واش روم سے نکلتی. ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی.
رات کو بہت زیادہ پی لینے کی وجہ سے ابھی تک اُس کا سر چکرا رہا تھا. رات کے بارے میں سوچتے اچانک اُس کے دماغ میں جھماکہ ہوا تھا.
” اوہ گاڈ رات کو میر تھا میرے پاس. اور میں اُسے کیا کیا بولتی رہی. وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہوگا. اُسے تو مجھ سے مزید نفرت ہوگئی ہوگی مجھے اُس حال میں دیکھ کر. “
عائلہ کو صحیح سے ساری باتیں یاد نہیں تھیں. مگر جتنی یاد تھیں. اُنہیں پر اُسے بہت شرمندگی محسوس ہورہی تھی. وہ ایک ایسے انسان کے سامنے جو پہلے ہی اُسے حقارت بھری نظروں سے دیکھتا تھا. کیسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا سکتی تھی.
عائلہ نے خود کو اچھی طرح کوستے ریموٹ اُٹھا کر ٹی وی آن کیا تھا. لیکن سامنے چلتی نیوز دیکھ اُس کے ہاتھ سے ریموٹ چھوٹ کر نیچے گرا تھا.
” اوہ میرے خدا یہ سب کیا ہے. مِنہا پر اتنی بڑی قیامت گزر گئی اور میں سمجھ رہی وہ انکل کے ساتھ کہیں ٹرپ پر گئی ہوئی ہے.”
مِنہا کی تکلیف کا سوچتے عائلہ کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہورہا تھا. وہ کیسے مِنہا کے حوالے سے اتنی بے خبر ہوسکتی تھی.
” دو دن ہو چکے ہیں یہ سب ہوئے اور میں ابھی تک اِس بات سے بے خبر تھی. اگر شہباز انکل کو پولیس نے پکڑ لیا ہے تو مِنہا کہاں ہوگی. یا خدا وہ بچاری کس حال میں ہوگی. اُس پر کیا بیت رہی ہوگی. مجھے ہر حال میں مِنہا سے ملنا ہے. مگر کہاں ڈھونڈوں میں اُسے. “
عائلہ نے جس وقت سے شہباز خان کے حوالے سے نیوز سنی تھی. وہ منہا سے ملنے کے لیے ایسے ہی تڑپ رہی تھی.
” یہ حرامی رفیق نیازی بُڈھا کہیں کا میرے سامنے تو آئے میں اِس کا وہ حال کروں گی. ساری زندگی یاد رکھے گا. میری معصوم دوست پر منکوحہ ہونے کا دعویٰ کرے گا. بے غیرت کہیں کا. “
عائلی کا بس نہیں چل رہا تھا. رفیق نیازی اُس کے سامنے ہو. اور وہ مار مار کر اُس کا حشر بگاڑ دے.
” ایک منٹ یہ پولیس والا یہ تو وہی ہے نا. اور اِسی نے شہباز انکل کو گرفتار کیا ہے. یہ ضرور مِنہا کے بارے میں جانتا ہوگا. ہاں میں اِسی کے پاس جاتی ہوں. یا ﷲ جی پلیز مِنہا جہاں بھی ہو. خیر خیریت سے ہو. “
عائلہ جلدی سے اپنا پرس اُٹھاتی پولیس اسٹیشن جانے کے لیے نکل آئی تھی.
” مجھے ایس پی ہشام گردیزی سے ملنا ہے. اُنہیں کہیں میں مِنہا شہباز کی دوست ہوں مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے اُن سے.”
پولیس اسٹیشن میں داخل ہوکر عائلہ نے سامنے سے آتے اہلکار کو مخاطب کیا تھا. اُس کی بات پر وہ اہلکار ہشام کے آفس کی جانب بڑھ گیا تھا.
” سر باہر ایک لڑکی آئی ہے. جس کا کہنا وہ مِنہا شہباز کی دوست ہے. اور آپ سے ملنا چاہتی ہے. “
زیان سے بات کرتا ہشام اہلکار کی بات سن کر چونکا تھا. مگر پھر کچھ سوچ کر اُس لڑکی کو اندر بھیجنے کا آرڈر دیا تھا. اور زیان کو ایکسکیوز کرتا صوفے سے اُس کے پاس سے اُٹھتے واپس اپنی سیٹ پر آبیٹھا تھا.
” مے آئی کم اِن. “
عائلہ نے بہت ہی تمیز کا مظاہرہ کرتے اجازت مانگی تھی.
” یس.”
ہشام کے سر ہلانے پر وہ اندر داخل ہوئی تھی. لیکن دوسری طرف صوفے پر بیٹھے زیان کو نہیں دیکھ پائی تھی. جو اُس کی آواز پر حیران ہوتا اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا. پیچ کلر کے سادہ سے سوٹ میں بالوں کو جوڑے میں مقید کیے. دوپٹے کو اچھے سے کندھوں پر ڈالے بنا میک اپ کے. وہ سادہ سے حلیے میں زیان کو اچھا خاصہ حیران کر گئی تھی.
عائلہ کا یہ سادگی لیے حسین رُوپ کچھ زیادہ ہی رعنائیاں بکھیر رہا تھا.
عائلہ ہشام کے کہنے پر وہ اُس کے سامنے چیئر پر بیٹھ گئی تھی. زیان کی نظریں عائلہ پر ہی ٹکی ہوئی تھیں.
” مِنہا شہباز میری بیسٹ فرینڈ ہے. کچھ پرسنل ایشوز کی وجہ سے کچھ دنوں سے میری اُس سے ملاقات نہیں ہوسکی. آج ہی مجھے اِس سب کے بارے میں پتا چلا ہے. میرا اُس سے کانٹکیٹ نہیں ہو پارہا. میں آپ سے یہ پوچھنے آئی ہوں کہ آپ تو اُس کے بارے میں ضرور جانتے ہوں گے کہ وہ کہاں ہے. مِنہا اور کہیں نہیں جاسکتی اُس کا اِس دنیا میں اُس کے فادر کے علاوہ کوئی نہیں ہے. پلیز اگر آپ جانتے ہیں تو مجھ اُس کے بارے میں بتا دیں. “
عائلہ نے بہت تفصیل کے ساتھ اپنی بات ہشام کے سامنے رکھی تھی. اُس کے لہجے سے مِنہا کے حوالے سے اُس کی فکر اور پریشانی صاف ظاہر تھی.
زیان کے لیے عائلہ کا یہ رُوپ بلکل نیا تھا. عائلہ نہیں جانتی تھی کہ اِس وقت وہ اپنے میر کی نظروں کے حصار میں ہے.
” میں کیسے یقین کر لوں. آپ سچ کہہ رہی ہیں. آپ نے رفیق نیازی کی ساتھی بھی تو ہوسکتی ہیں نا. “
ہشام کی بات پر عائلہ نے بہت مشکل سے ضبط کیا تھا. کیونکہ یہاں سوال اُس کی دوست کا تھا.
” مِنہا میری زندگی میں دوسری ایسی ہستی ہے. جس کی خاطر میں اپنا سب کچھ قربان کر سکتی ہوں. اور آپ کا کہنا ہے کہ میں اُسے نقصان پہنچاؤں گی. “
عائلہ کی بات میں آنسوؤں کی آمیزش شامل ہوچکی تھی. وہ منہا کے لیے بہت زیادہ پریشان تھی. وہ کمزور بلکل نہیں تھی. مگر اِن پچھلے دنوں میں جو کچھ اُس کے ساتھ ہورہا تھا. وہ بہت حد تک اندر سے ٹوٹ چکی تھی.
وہاں موجود زیان کو ہمیشہ جھوٹی اور دھوکے باز لگنے والی عائلہ آج بلکل سچی لگ رہی تھی.
” آپ کی دوست میرے پاس ہی ہے. اور بلکل محفوظ ہے. یہ میرا نمبر ہے. آپ اِس پر کال کرکے مِنہا سے بات کرسکتی ہیں. لیکن اُس کی سیکیورٹی کی خاطر آپ کچھ دن اُس سے مل نہیں سکتیں. “
ہشام ابھی اُسے مزید بھی کوئی بات کہتا کے باہر سے عجلت میں اہلکار کے بلانے پر وہ باہر کی جانب بڑھ گیا تھا.
ہشام کو عائلہ کے بارے میں مِنہا پہلے ہی سب کچھ بتا چکی تھی. اور اُس سے ملنے کا بھی کہہ چکی تھی. ہشام نے جان بوجھ کر عائلہ کو جانچنے کیلئے یہ سوال کیا تھا.
عائلہ چیئر سے اُٹھ کر جیسے ہی پلٹی سامنے ہی میر زیان حیدر کو ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر صوفے پر بیٹھا دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا.
” میر.. “
عائلہ زیرِ لب بڑبڑائی تھی.
” چلو کسی کے لیے تو تمہارے جذبے خالص ہیں. “
زیان گہری نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا.
” میرے جذبات تمہارے لیے بھی سچے اور خالص ہیں میر. “
عائلہ اِس وقت لڑنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھی. اور کل رات کا سوچتے شرمندہ بھی تھی. اِس لیے بہت ہی تحمل سے جواب دیا تھا.
” جو لڑکی اپنے باپ سے اتنی نفرت کرتی ہے. وہ بھلا مجھ سے محبت کیسے کر سکتی ہے. یہ جھوٹا ڈرامہ تم بند کیوں نہیں کردیتی. تھکی نہیں ہو ابھی تک اِس ناٹک سے. “
زیان عائلہ کے مقابل آتے ہوئے بولا.
” تم تھکے نہیں ہو. بار بار مجھے ریجیکٹ کرتے میرا دل توڑتے. “
عائلہ کی نظروں میں اِس وقت بھی زیان کے لیے والہانہ محبت تھی.
” نہیں میں پوری زندگی کے لیے یہ کام کرسکتا ہوں. “
زیان کی جیسے اب عادت ہوچکی تھی. عائلہ کو تلخ باتیں کہنے کی.
” تو میں اِس زندگی اور مرنے کے بعد بھی تمہیں سے پیار کرتی رہوں گی. اور جب بھی موقع ملے گا اظہار کروں گی. چاہے تم کتنی بھی نفرت کرو مجھ سے میر. عائلہ اکرام کے دل اور روح کے مالک ہمیشہ تم ہی رہو گے. “
عائلہ آج بھی اپنی بات پر قائم تھی.
” لیکن شاید تمہاری یہ بات میری ہونے والی بیوی کو بلکل بھی پسند نہ آئے. سو پلیز جلد از جلد اپنا یہ ناٹک ختم کرو. یہ میری انگیجنمٹ کا کارڈ. ضرور آنا اِس لیے نہیں کہ تمہارے آنے سے مجھے خوشی ہوگی. بلکہ اِس لیے کی شاید تمہیں احساس ہوجائے کہ میری زندگی میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے. “
زیان عائلہ کا ہاتھ پکڑ کر اُس میں اپنی انگیجنمٹ کا کارڈ پکڑاتا وہاں سے پلٹتے پلٹتے رُکا تھا. رُکنے کی وجہ عائلہ کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو تھے. جس کے چہرے پر اذیت کے آثار واضح تھے.
” میر نہیں تم ایسا نہیں کرسکتے میرے ساتھ. میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے. تمہیں کسی اور کا ہوتے دیکھ میں سہہ نہیں پاؤں گی. مر جاؤں گی. اتنا ظلم مت کرو مجھ پر. “
عائلہ کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح ٹوٹ کر گر رہے تھے. لیکن میر زیان حیدر کے پتھر دل کو موم نہیں کرسکے تھے. عائلہ نے زیان کی شرٹ کا گریبان اپنی مٹھی میں جکڑ کر اُس کے بہت قریب آکھڑی ہوئی تھی. اور دوسرے ہاتھ سے اُس کا چہرا تھامتی التجائی لہجے میں بول رہی تھی.
” میر زیان حیدر کو فرق نہیں پڑتا عائلہ اکرام تمہارے ہونے نہ ہونے سے. اِس لیے اپنی یہ ناکام کوششیں کرنا بند کرو. “
زیان عائلہ کو بُری طرح خود سے دور جھٹکتا وہاں نکل گیا تھا. دروازے پر بے یقینی سے یہ سب دیکھتے ہشام پر ایک نظر ڈالتا زیان اُس کی آنکھوں میں موجود سوالوں کو اگنور کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
اگلے لمحے عائلہ بھی وہاں سے نکل گئی تھی.
” زیان یہ سب کیا کررہا ہے. کیا انکل یا فاریہ اِس بارے میں کچھ جانتے ہوں گے. “
ہشام اُن دونوں کی ساری باتیں سن چکا تھا. اور زیان کے کچھ دنوں سے اُلجھا اور ڈسٹرب ہونے کی وجہ بھی سمجھ گیا تھا. زیان کی اچانک منگنی کرنے کی وجہ جس کے بارے میں جاننے کے لیے حیدر انکل کے کہنے پر اُس نے زیان کو یہاں بلایا تھا. اُس بارے میں وہ سب سمجھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مِنہا آج اتنے دنوں بعد پہلی بار ہشام کے فلیٹ سے اُس کے ساتھ ہی باہر نکلی تھی. آج وہ اپنے پاپا جانی سے ملنے جارہی تھی. جو شاید اُس کی اُن سے آخری ملاقات بھی ہوسکتی تھی. یہ بات سوچ سوچ کر بار بار اُس کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں.
” یار میں تمہیں تمہارے کہنے پر وہاں اِس لیے لے کر جارہا ہوں تاکہ تم اپنے فادر سے مل سکو. اِس کا یہ مطلب نہیں کہ تم رو رو کر اپنی آنکھوں کا سارا پانی بہا دو. “
ہشام کو مِنہا کا رو رو کر خود کو ہلکان کرنا اب اچھا خاصہ تپا گیا تھا.
” میری آنکھیں ہیں. میں روؤں یا جو بھی کروں آپ کو کیا پرابلم ہے. “
مِنہا کو بھی ہشام کی ڈانٹ پر غصہ آگیا تھا.
” اوکے تو پھر میں گاڑی واپس کی جانب موڑ رہا ہوں. رونا بند مت کرو تم. “
ہشام سے اُس کے آنسو نہیں دیکھے جارہے تھے. اِس لیے اُس نے مِنہا کو چپ کروانے کے لیے دھمکی دی تھی.
ہشام کو غصے سے گھورتے مِنہا اپنے آنسو صاف کرتی چہرے دوسری جانب موڑ گئی تھی. ہشام اُس کی ناراضگی دیکھانے پر مسکرا دیا تھا.
گیٹ کے اندر گاڑی لے جاکر ہشام پہلے خود اُترا تھا. اور پھر مِنہا کی سائیڈ پر آتے دروازہ کھولتے اُس کی جانب ہاتھ بڑھا دیا تھا. مِنہا خود کو بڑی سی چادر میں اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا.
ہشام کو اِس بات کی اُمید تھی کہ رفیق نیازی کے آدمی آس پاس ہوسکتے ہیں. جن سے مِنہا کو خطرہ تھا. اِس لیے اُس نے مِنہا کے گرد بازو پھیلا کر اُس بلکل اپنے حصار میں لے رکھا تھا.
جیسے مِنہا پر آئی ہر مصیبت وہ خود پر لینے کو تیار ہو.
” پاپا جانی. “
مِنہا کی آواز پر شہباز خان تڑپ کر اپنی جگہ سے اُٹھتا جنگلے کے پاس آیا تھا.
” میری جان میری بیٹی. کیسی ہو تم. تم ٹھیک ہونا. “
مِنہا کے ہاتھوں کو پکڑتے شہباز خان روتے ہوئے بولا.
” پاپا جانی آپ نے یہ سب کیوں کیا. آپ جب مجھے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے تو دوسروں کی اولاد پر اتنے ظلم کیوں کیے. پاپا جانی آپ جانتے تھے نا کہ آپ کے علاوہ اِس دنیا میں میرا ہوئی اپنا نہیں ہے کہاں جاؤ گی میں. دوسروں کو بے آسرا کرتے آج آپکی اپنی بیٹی در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے. “
مِنہا کے رونے کے دوران کہی باتیں اُن کا سر شرم سے جھکا گئی تھیں.
” میں سب سے بڑا گنہگار تمہارا ہوں بیٹا. معاف کردو مجھے. میرا کیا تمہیں بھگتنا پڑ رہا ہے. تم گھٹیا درندوں کی نظروں میں ہو. یہ سب باتیں مجھے دن رات انگاروں پر لوٹا رہی ہیں. تمہیں بھی اپنے پاپا جانی سے نفرت محسوس ہورہی ہوگی نا اب. “
شہباز خان مِنہا کے پیروں میں گرتے زارو قطار رونے لگا تھا. ہشام پہلے ہی اُن دونوں باپ بیٹی کی پرائیویسی کے خیال سے وہاں سے جاچکا تھا.
” پاپا جانی یہ کیا کررہے ہیں آپ. پلیز ایسا مت کریں. آپ دنیا کے لیے بے شک بہت بُرے سہی مگر میرے لیے. میرے پہلے والے پاپا جانی ہی ہیں. میری اب بھی دن رات یہی دعا ہے کہ آپ کو کچھ نہ ہو. میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہو پاپا. “
مِنہا بھی اُن کے سامنے نیچے بیٹھتے اُن کا ہاتھ ہونٹوں سے لگاتے بولی. وہ اُن سے نفرت کبھی بھی نہیں کر سکتی تھی.
” نہیں بیٹا میں چاہتا ہوں. مجھے میرے گناہوں کی سزا ملے. میں اب اتنے بوجھ کے ساتھ مزید نہیں جینا چاہتا.
جب سے ایس پی ہشام کے ساتھ تمہارے نکاح ہوا ہے. اب میں بہت حد تک پرسکون ہوچکا ہوں. جانتا ہوں یہ رشتہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے. مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ بہت اچھا انسان ہے. تمہیں کبھی بھی بے سہارا نہیں چھوڑے گا. تمہیں کبھی غیر محفوظ نہیں ہونے دے گا. “
شہباز خان کی بات سن کر مِنہا صرف آنسو ہی بہاتی رہی تھی.
” شاید ہماری یہ آخری ملاقات ہو بیٹا. اگر ہوسکے تو اپنے اِس باپ کو معاف کردینا. “
شہباز خان ہشام کو قریب آتے دیکھ مِنہا کو جانے کا اشارہ کرتے بولا. جس پر منہا نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے وہاں سے اُٹھنے سے انکار کردیا تھا.
” مِنہا چلو. “
ہشام نے روتی ہوئی مِنہا کو کاندھوں سے تھامتے کھڑا کیا تھا. جس پر مِنہا اُس کے ساتھ کھینچی اُٹھتی چلی گئی تھی. اور ہشام کے سہارا دینے پر اُس کے گلے لگ کر اور زور سے رونے لگی تھی.
شہباز خان کو وہاں سے لے جایا جاچکا تھا.
ہشام مِنہا کے گرد بازوؤں کا حصار قائم کرتا اُس کے کپکپاتے وجود کو اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ہشام کی وائف کتنی کیوٹ اور بیوٹی فل ہے. ویسے فائقہ سے زیادہ تو وہ سوٹ کرے گی ہشام کے ساتھ. میرے خیال میں ہشام کو سوچنا چاہئے اِس بارے میں. “
فاریہ زیان کے پاس لان میں آکر بیٹھتے بولی. جو لیپ ٹاپ کھولے کسی کام میں مصروف تھا.
” میڈم اب ہر انسان آپ کی پسند کے مطابق تو نہیں چل سکتا نا. میری جوڑی اُس لڑکی کے ساتھ ہشام کی اِس لڑکی کے ساتھ….. “
زیان کی بات پر فاریہ اُسے گھورنے لگی تھی.
” جی بلکل اور تم تو جیسے میری بات مان رہے ہو نا. اچھی بھلی لڑکی کو اور اُس کی محبت کو ٹھکرا کر تم اچھا نہیں کررہے. ایسی محبت روز روز نہیں ملتی. پچھتاؤ گے ایک دن تم. ابھی بھی وقت ہے سوچ لو. “
فاریہ کو زیان کا فیصلہ بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا. وہ پچھلے دو دنوں سے اُسے بہت بار سمجھا چکی تھی. مگر زیان ویسے لاپروا بنا ہوا تھا.
” میر زیان حیدر آج تک نہ اپنے کسی فیصلے پر پچھتایا ہے نہ آگے کبھی ایسا ہوگا. اور انویٹیشن دے دیا ہے میں نے تمہاری اُس فیورٹ کو. رو لینا کل اُس کے ساتھ اپنا دکھڑا.”
زیان عائلہ کا ذکر کرتے اپنے مخصوص کھردرے لہجے میں بولا. جس پر فاریہ اُسے دیکھ کر رہ گئی تھی.
” تم عائلہ کو اپنی منگنی میں بلا کر ہرٹ کرنا چاہتے ہو. “
فاریہ کو عائلہ سے بہت ہمدردی محسوس ہورہی تھی. اور ترس بھی آرہا تھا. جس نے اُس کے بھائی جیسے سنگدل انسان سے دل لگایا تھا.
” ویری گڈ.اب اِس میں ہرٹ کرنے والی بات کہاں سے آگئی. میں صرف اُسے یہ کلیئر کرنا چاہتا ہوں. کہ میری لائف میں اُس کی نہ ابھی جگہ ہے نہ آگے کبھی ہوسکتی ہے. “
زیان کی بات پر فاریہ کھوجتی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی تھی.
” کہیں تم یہ اتنی جلدی اور بنا لڑکی کے بارے میں کچھ جانے جو منگنی کررہے ہو. اِس کے پیچھے ریزن عائلہ کو نیچا دکھانا ہی تو نہیں ہے. کیونکہ جہاں تک میں تمہیں جانتی ہوں. تم تو اپنی پسند کے بنا کبھی ایک شرٹ تک نہیں پہنتے. تو پھر یہ تو انگیجنمٹ ہے. اوکے ساری بات سمجھ آچکی ہے مجھے. “
فاریہ اب بات کی تہہ تک پہنچی تھی.
” ہاں بس اپنے پاس سے کچھ بھی اُلٹا سیدھا سوچ کر اُسے سچ مانتی جاؤ. میری میٹنگ ہے میں آفس جارہا ہوں. “
زیان کو فاریہ کی عائلہ کے بارے میں کی جانے والی باتوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا. اِس لیے وہ اُس کی باتوں کا جواب دیئے بنا وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
فاریہ مسکراتی نظروں سے اپنے ڈیشنگ پلس گھمنڈی بھائی کو وہاں سے جاتا دیکھ اپنی آگے کی پلاننگ کرنے لگی تھی.
” میں نے یہ بات پہلے کیوں نہیں سوچی. اب تو میں پرسنلی عائلہ کے گھر جاکر اُسے انوائٹ کرکے آؤں گی. اگر اُسے واقعی ہی میرے بھائی سے سچی محبت ہے. تو وہ کبھی بھی اپنی آنکھوں کے سامنے اُسے کسی اور کا ہوتا نہیں دیکھ پائے گی. پھر آئے گا مزا. کوئی بات نہیں چھوٹا موٹا ہنگامہ بعد میں آنے والے بہت بڑے ہنگامے سے بہت بہتر ہے. “
فاریہ عائلہ کی طرف جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی. جس کا نمبر وہ پہلے ہی زیان کے موبائل سے حاصل کر چکی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ زیان کا انگیجنمٹ کارڈ اپنے سامنے رکھے خاموش نظروں سے اُسے گھور رہی تھی. جہاں زیان کے ساتھ کسی اور لڑکی کا نام لکھا گیا تھا. ابھی کچھ دیر پہلے زیان کی کزن سسٹر فاریہ عائلہ کے پاس سے ہوکر گئی تھی. جس کی کہی باتیں سوچ کر عائلہ کو اب ہنسی آرہی تھی. جس میں اذیت کا عنصر نمایاں تھا.
فاریہ نے اُسے کہا تھا کہ
” زیان کے دل میں تمہارے لیے فیلنگز ہیں. وہ کہیں نہ کہیں تمہاری محبت کو ایکسیپٹ کرچکا ہے. بس اِس بات کا اقرار کرنے میں اُس کی انا آڑے آرہی ہے. کیونکہ میرے بھائی میں یہ انا , اکڑ اور ضد کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے. “
عائلہ کو لگ رہا تھا کہ پہلے زیان نے خود اُس کے جذبات کا مذاق اڑایا ہے. اور اب اپنی بہن کو بھیج دیا ہے. اُس کا مذاق بنانے کے لیے. زیان جتنا کچھ اُسے بول چکا تھا. اُس کے بعد عائلہ کی باتوں کو سچ ماننا مِنہا کے لیے تقریباً ناممکن تھا.
عائلہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی. جب دروازے پر دستک ہوئی تھی. نظریں اُٹھا کر دیکھنے پر اُس نے بلال کو دروازے میں کھڑا پایا تھا.
” میرا پہلے ہی دماغ خراب ہے. اِس لیے میں تم سے بات کرکے مزید اپنے دماغ کی دہی نہیں کرنا چاہتی. اِس لیے جن قدموں پر آئے شرافت سے اُنہیں پر پلٹ جاؤ. “
عائلہ اپنے سامنے رکھا کارڈ اُٹھا کر ٹیبل پر پڑی فائل کے اندر رکھتی بگڑے تیوروں سے بولی.
لیکن مقابل بھی فاخرہ بیگم کا ڈھیٹ بھتیجا تھا. اُس نے بھلا کہاں سننی تھی عائلہ کی بات.
” یار یہ کہاں لکھا ہے کہ حسین لوگوں کو ہر وقت غصے میں ہی رہنا چاہئے کبھی وہ آرام سے بھی تو بات کرسکتے ہیں نا. “
بلال عائلہ کے سامنے صوفے پر براجمان ہوتے اُسے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا.
” تمہیں تکلیف کیا ہے. اپنے گھر آرام نہیں آتا کیا. “
عائلہ تڑخ کر بولی.
” میں اپنی پھوپھو کے گھر آیا ہوں. تمہیں کیا تکلیف ہے. “
بلال بھی اُسی کا شاگرد تھا پیچھے کیوں رہتا بھلا.
” تو جاؤ اپنی پھوپھو کے گھر گھوموں پھرو یہ میرا کمرا ہے. یہاں تمہاری پھوپھو اور اُس کے رشتے داروں کی کوئی جگہ نہیں. “
عائلہ بھی بغیر کوئی لحاظ رکھے بولی.
بلال فاخرہ بیگم کے بھائی کا بیٹا تھا. اُس کا شروع سے ہی یہاں بہت زیادہ آنا جانا تھا. وہ عائلہ سے پانچ سال چھوٹا تھا. جب بھی یہاں آتا عائلہ کے پاس ضرور جاتا. لیکن فاخرہ بیگم کی طرح اُن کے فیملی والوں کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی. لیکن بلال کو عائلہ اچھی لگتی تھی. اُسے عائلہ سے ایک اُنسیت سی ہوگئی تھی. عائلہ کی ہر بار کی ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود بھی وہ اُس کے پاس ضرور جاتا تھا. اور یہی وجہ تھی کہ وہ عائلہ کے دل میں اپنے لیے کافی حد تک سافٹ کارنر بنا چکا تھا.
وہ عائلہ کو اپنا استاد مانتا تھا. جب بھی کوئی پرابلم ہوتی وہ اُس کا حل مانگنے عائلہ کے پاس ہی آتا. اکثر عائلہ اُسے جھڑک دیتی تھی. مگر وہ پھر بھی باز نہیں آتا تھا. فاخرہ بیگم کو بھی بلال کا عائلہ سے بات کرنا پسند نہیں تھا. مگر بلال اِس معاملے میں عائلہ پر ہی گیا تھا. اُن کو باتوں کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتا تھا.
” پھوپھو بتا رہی تھیں. کسی محبت وحبت کے چکر میں پڑ چکی ہو. یہ کیا ہے. “
بلال عائلہ کی گھوریوں کو اگنور کرتا. سامنے پڑی فائل سے کارڈ نکالنے میں کامیاب ہوچکا تھا.
” محبت نہیں عشق کے چکر میں پھنس چکی ہوں میں. میر زیان حیدر کے. “
زیان کا ذکر کرتے عائلہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی.
” واٹ اِس زیان حیدر سے. مگر یہاں تو کسی اور کا نام ہے. مطلب یہ تو کسی اور سے منگنی کررہا ہے نا. “
بلال حیران ہوتے کارڈ کو اور غور سے گھورتے بولا. کہ کہیں اُس نے غلط تو نہیں پڑھ لیا.
” ہاں یہی ہے میرا میر زیان حیدر. میں اِس سے عشق کرتی ہوں نا. یہ تو مجھ سے شدید نفرت کرتا ہے. میری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا. “
عائلہ کے چہرے پر اذیت واضع تھی. جس نے بلال کو بھی اذیت میں مبتلا کردیا تھا.
” واہ وہ کونسا بد قسمت انسان ہے. جو عائلہ اکرام کی محبت ٹھکرا رہا ہے. میں بھی ملنا چاہتا ہوں اُس سے. “
بلال کے لہجے میں زیان کے لیے رشک اور افسوس دونوں تھے.
” کل منگنی ہے اُس کی آؤ گے میرے ساتھ. میں وہاں جانا چاہتی ہوں. یہ جانتے ہوئے بھی کہ میر کو کسی اور کا ہوتے دیکھنا میرے لیے قیامت خیز لمحہ ہوگا. مگر میں پھر بھی جانا چاہتی ہوں. میر کی محبت میں اذیت اور درد کی انتہاؤں کو چھونا چاہتی ہوں. “
عائلہ کی آنکھیں ضبط کے احساس سے لال ہوچکی تھیں.
” میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا. “
بلال کو عائلہ جیسی مضبوط لڑکی کی محبت میں یہ حالت دیکھ بہت تکلیف ہورہی تھی. اُسے اِس جذبے سے ہی نفرت ہونے لگی تھی. جو ایک اچھے بھلے انسان کو تباہ کرکے رکھ دیتا تھا. وہ وہاں عائلہ کو اکیلا نہیں جانے دینا چاہتا تھا. کیونکہ عائلہ کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ وہاں اکیلے جانے کے قابل بلکل بھی نہیں تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔
