Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

“کیا لڑکیاں ہیں یار. لگتا ہے حوریں راستہ بھٹک کر اِدھر آگئی ہیں. “

منہا اور عائلہ ریسٹورنٹ میں بیٹھی تھیں. جب ساتھ والے ٹیبل پر موجود چند اوباش لڑکوں کی آواز اُن کے کانوں سے ٹکرائی تھی.

عائلہ نے پلٹ کر جواب دینا چاہا تھا. مگر منہا کے فوراً ہاتھ پکڑ لینے پر وہ رُک گئی تھی.

” اگنور کرو اُنہیں. ایسے کمنٹس ہم فرسٹ ٹائم تو نہیں سن رہی نا. “

مِنہا نے لاپرواہ سے انداز میں کہتے ویٹر کو اشارہ کیا تھا.

” لیکن اگر اِس کے بعد یہ لوگ کچھ بولے تو جو میں اِن کے ساتھ کروں گی وہ بھی فرسٹ ٹائم نہیں ہوگا. “

عائلہ کے دانت پیسنے پر منہا مسکرا کر رہ گئی تھی. جس طرح وہ لڑکے کمنٹ بازی سے باز نہیں آرہے تھے. منہا کو عائلہ کے ہاتھوں اُن کی شامت آتی صاف نظر آرہی تھی.

” مجھے فیصلہ کرنے میں مشکل ہو رہی ہے. کہ اِن دونوں لڑکیوں میں سے زیادہ ہاٹ کون ہے….. “

ابھی اُس لڑکے کا فقرا بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ عائلہ کی طرف سے پڑنے والے زور دار تھپڑ نے اُس کے چودہ طبق روشن کردیے تھے. وہ کرسی سمیٹ اُلٹ کر فرش پر جاگرا تھا.

سب لوگ حیران نظروں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے. اُس لڑکے کے باقی دو دوست بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تھے. یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پائے تھے. اُنہیں اِس لڑکی سے اتنی ہمت کی امید بلکل بھی نہیں تھی.

منہا آرام سے اپنی جگہ پر بیٹھی ابھی بھی مسکرا رہی تھی. اُس کے مطابق بھی یہ لوگ اِسی سلوک کے حقدار تھے.

” اب پتا چل گیا کون زیادہ ہاٹ ہے. گھر میں اپنی ماں بہن کے درمیان اِس بات کا فیصلہ کرنے میں تو زیادہ مشکل پیش آتی ہوگی نا. یو ایڈیٹ اِس تھپڑ کے بعد آئندہ کسی بھی لڑکی کو ایسی کوئی بھی بات کہنے سے پہلے ایک بار سوچو گے تو ضرور. “

عائلہ ایک زور دار ٹھوکر اُن کے ٹیبل کو رسید کرتی واپس منہا کی جانب آگئی تھی. ریسٹورنٹ کے سٹاف سمیت سب لوگ اُس کی جرأت اور بولڈنس دیکھ حیران ہوئے تھے. وہ لڑکے خود منہ چھپاتے شرمندہ سے وہاں سے نکل گئے تھے. وہ تو پہلے بھی نجانے کتنی لڑکیوں کو اِس سے کہیں زیادہ تنگ کرچکے تھے. مگر ایسا شدید ردعمل پہلے کبھی نہیں ملا تھا اُنہیں.

ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے میر زیان حیدر نے بھی یہ سارا منظر دیکھا تھا. نیوی بلو کلر کے بے حد سٹائلش سے ڈریس میں بنا دوپٹے کے بالوں کو کھلا چھوڑے بلاوجہ ہنگامہ کرتی تیکھے نقوش اور گلابی رنگت والی وہ حسین لڑکی میر زیان حیدر کو ایک آنکھ نہیں بھائی تھی. اتنے سال لندن جیسے آزاد ماحول میں رہنے کے باوجود اُسے لڑکیوں میں اتنی بولڈنس بلکل بھی پسند نہیں تھی. یہ نہیں تھا کہ وہ کنزرویٹو مائنڈڈ تھا. مگر اُس کے مطابق لڑکیوں کا حُسن اُن کی شرم اور حیا ہوتی ہے. جس کے بنا صنفِ نازک میں کوئی چارم نہیں رہتا.

” ہاں جی مل گیا سکون اب. “

منہا اُس کے اشارے پر اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوئے بولی.

منہا اس وقت بلیک اور ریڈ کمبینیشن کے ٹراؤزر شرٹ میں اپنے بلیک سلکی بالوں کو ٹیل پونی میں جکڑے پرکشش نقوش اور نازک اندام سی کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ کرنے کی ساری خصوصیت رکھتی تھی. دیکھنے والے اُن دونوں کو چاہنے کے باوجود بھی اگنور نہیں کر پاتے تھے.

” تو اور کیا اتنے دنوں سے کوئی ہنگامہ نہیں کیا میں نے. ڈیڈ اور اُن کی وائف بھی گھر پر نہیں ہیں. اب مجھے اپنے اندر کی بھڑاس کسی پر تو نکالنی تھی نا. “

عائلہ اب مسکراتے بلکل نارمل ہوچکی تھی. جیسے ابھی چند منٹ پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو.

” عائلہ مجھے تو دنیا کے اُس مسکین ترین انسان کے بارے میں سوچ کر افسوس ہورہا ہے. جس بچارے کی تم سے شادی ہوگی. اُس نے تو دو دن کے اندر اندر بھاگ جانا ہے.”

منہا کی بات پر عائلہ مسکرائے بنا نہ رہ سکی تھی.

” ایسا تو تب ہوگا نا. جب مجھے کوئی پسند آئے.میرے ٹائپ کا کوئی بندہ ملے مجھے. اور جہاں تک میرا خیال ہے ایسا ناممکن ہی ہے.”

عائلہ سن گلاسز آنکھوں پر چڑھاتے بولی.

“اکرام انکل اور اُن کی وائف نے کب واپس آنا ہے. کافی لمبا ٹرپ نہیں ہوگیا اُنکا اِس بار کا. “

عائلہ کے چہرے کا رنگ اُن دونوں کا ذکر سنتے بگڑا تھا.

” آج آنا ہے واپس شاید. مگر میں تو چاہتی ہوں نہ ہی آئیں. اچھے بھلے سکون سے گزر رہے ہیں اُن کے بغیر میرے دن. “

عائلہ ہمیشہ کی طرح نخوت سے اُن دونوں کی بات کرتے بولی. مِنہا کا اُسی ٹائم موبائل بجا تھا.

دوسری جانب سے جو بات کہیں گئی تھی. مِنہا خوشی سے کھل اُٹھی تھی.

” عائلہ پاپا جانی کی کال تھی وہ پاکستان واپس آچکے ہیں اور مجھے میرا اتنا شاندار رزلٹ آنے کی خوشی میں ڈنر دے رہے ہیں. آئم سو ہیپی. اوکے کل ملاقات ہوتی ہے تم سے.”

مِنہا کی خوشی اُس کے چہرے سے جھلک رہی تھی. عائلہ سے ملتی وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئی تھی.

عائلہ دل سے اُس کے خوش رہنے کی دعا کرتی ایک حسرت بھری گہری سانس بھر کر رہ گئی تھی.

ایک اُس کے ڈیڈ تھے جو اپنی دوسری بیوی کے ساتھ ٹرپ انجوائے کرتے شاید یہ بھی بھول چکے تھے کہ اُن کی کوئی بیٹی بھی ہے.

جیسے باقی ہر چیز اُن دونوں دوستوں کے پاس وافر مقدار میں تھی. وہیں رشتوں کے معاملے میں وہ بہت ہی غریب تھیں. منہا کی کل کائنات اُس کے پاپا جانی تھے. جن سے وہ بے انتہا محبت کرتی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

عائلہ نے جیسے ہی گھر کے اندر قدم رکھا. اکرام صاحب اور فاخرہ بیگم کی باتوں اور مسکرانے کی آواز اُس کے کانوں میں پڑی. جنہیں وہ یکسر نظر انداز کرتے اپنے روم کی جانب بڑھی تھی.

” عائلہ یہاں آؤ. “

اکرام صاحب کی نظر اُس پر پڑ چکی تھی. اُن کی آواز نے سیڑھیوں کی جانب بڑھتے اُس کے قدم وہیں روک دیے تھے.

” میں تھک چکی ہوں. مجھے آرام کرنا ہے. “

عائلہ اپنی جگہ پر ہی ٹکی بنا رخ موڑے ہٹ دھرم لہجے میں بولی.

” ہونہہ پورا دن آوارہ گردی کے بعد تھکنا ہی ہے نا. ہر جگہ اپنے باپ کا پیسہ ایسے برباد کرتی پھر رہی ہے. جیسے حرام کی کمائی ہو. “

عائلہ کا انداز فاخرہ بیگم کو اندر تک جلا گیا تھا.

” جسٹ شٹ اپ. میں تم جیسی عورت کے منہ نہیں لگنا چاہتی. اِس لیے میرے بارے میں بکواس کرنے کی کوشش مت کرنا. “

عائلہ طیش میں آتے فاخرہ بیگم کے قریب آکر اُنگلی اُٹھا کر اُنہیں وارن کرتے بولی.

” عائلہ تمہاری بدزبانی دن بدن بڑھتی جارہی ہے. “

عائلہ کے اتنے سخت الفاظ پر اکرام صاحب اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر پائے تھے. اُن کا ہاتھ اُٹھا تھا. اور عائلہ کے گال پر اپنا نشان چھوڑ گیا تھا. عائلہ کتنے ہی لمحے اپنے گال پر ہاتھ رکھے سکتے کے عالم میں اپنے ڈیڈ کی جانب دیکھ رہی تھی. جنہوں نے آج تک کبھی بھی اُسے ایک باپ ہونے کا مان نہیں بخشا تھا. ہمیشہ اِس عورت کے آگے ذلیل ہی کیا تھا.

” ایک اِسی بات کی کسر رہ گئی تھی. آپ کی جانب سے آج آپ نے وہ بھی پوری کر دی. یہ بات مجھے ہمیشہ یاد رہے گی کہ آپ نے اِس عورت کی خاطر مجھ پر ہاتھ اُٹھایا.”

عائلہ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو بے دردی سے رگڑتے دکھ بھری نظروں سے اکرام صاحب کی جانب دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی. اِس بار اُس کا رُخ باہر کی جانب تھا.

اکرام صاحب کو ایک دم اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا. اُنہیں عائلہ پر ہاتھ نہیں اُٹھانا چاہا تھا. اِس سے پہلے کے وہ عائلہ کے پیچھے جاتے ہمیشہ کی طرح فاخرہ بیگم نے اُن کے قدموں کو وہیں روک دیا تھا.

” اکرام آپ کیوں پریشان ہورہے ہیں. اِس لڑکی کو تو بنا بات کے ڈرامہ کرنے کی عادت ہے. خود ہی ٹھیک ہوجائے گی. آپ پانی پیئے.”

فاخرہ بیگم اکرام صاحب کا دھیان اُس جانب سے ہٹانے کے لیے دوسرا موضوع چھیڑ چکی تھیں. کیونکہ اِس طرف سے تو ویسے بھی اُن کا مطلب پورا ہوچکا تھا. وہ اُس بدتمیز اور خودسر لڑکی کو اچھا سا جواب دلوا چکی تھیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” شاہد کیا اپ ڈیٹس ہیں. شہباز خان ریسٹورنٹ میں پہنچ چکا ہے یا نہیں. “

ایس پی ہشام ڈرائیونگ کے دوران کان میں لگی ڈیوائس کے ذریعے اپنے ماتحت سے مخاطب تھا. جسے اُس نے اِس وقت ایک بہت اہم کام پر لگا رکھا اور خود بھی اب اُس تک پہنچنے ہی والا تھا.

” یس سر ہمارا ٹارگٹ پہنچ چکا ہے. مگر ایک پرابلم ہوگئی ہے. “

شاہد اپنے دو اہلکاروں کے ساتھ شہباز خان پر نشانہ باندھے ہوئے تھا. مگر ایس پی ہشام کے پہنچنے سے پہلے وہ کوئی ایکشن نہیں لے سکتا تھا.

” کیسی پرابلم. “

ہشام کی کشادہ پیشانی پر سلوٹوں کا جال اُبھرا تھا.

” سر اُس کے ساتھ ایک لڑکی بھی موجود ہے. جو شاید اُس کی بیٹی ہے. وہ شہباز خان کے سامنے اِس طرح بیٹھی ہے کہ اُس کے بلکل آگے موجود ہے. ہم اگر شہباز خان پر فائر کرتے ہیں تو اُس لڑکی کو بھی نقصان پہنچنے کے پورے چانسز ہیں. “

شاہد ہر طرح سے ٹرائے کرچکا تھا. لیکن وہ لڑکی بلکل سامنے آرہی تھی.

” میں بس پہنچنے والا ہوں. میرے آنے تک کچھ مت کرنا. مگر جو بھی ہے آج بہت دونوں بعد ہمیں شہباز خان کو اُس کی اوقات یاد دلانے کا موقع ملا ہے. آج اُسے ہر حال میں بتانا ہوگا کہ ہم اُس کے کتنے قریب پہنچ چکے ہیں. اور یہ جاننے کے بعد ہڑبڑاہٹ میں وہ جو غلطیاں کرے گا. وہ ہمارے لیے ہی فائدہ مند ہوں گی. “

ایس پی ہشام گردیزی کے لہجے میں شہباز خان کے لیے نفرت ہی نفرت تھی.

جس نے پورے ملک میں ناصرف دہشتگردی پھیلا رکھی تھی. بلکہ بہت سے لوگوں کی کڈنیپنگ اور ڈکیتی جیسی وارداتوں میں بھی ملوث تھا. ایس پی ہشام اُس کے خلاف بہت سے ثبوت اکٹھے کر چکا تھا. مگر وہ اتنے زیادہ بھی نہیں تھے. کہ شہباز جیسے شخص پر ہاتھ ڈالا جائے. اِسی لیے اُسے ابھی تھوڑی سی محنت مزید کرنی تھی.

” ہمم تو بھیس بدل کر ہم سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے یہ شخص یہاں اپنی بیٹی کے ساتھ موجود ہے. لیکن اِسے کیا لگا تھا اتنی آسانی سے ہمیں بے وقوف بنا لے گا. “

ہشام نے شاہد کو ہٹا کر جگہ سنبھالتے گن کا فوکس شہباز خان پر سیٹ کیا تھا. مگر شہباز خان کے سامنے بیٹھی لڑکی جس کی ہشام کی جانب بیک تھی وہ اُس کے کام میں رکاوٹ پیدا کررہی تھی. وہ جس طرح بیٹھی تھی اُس کے زرا سے ہلنے پر نشانہ چوک کر اُسے گولی لگ سکتی تھی. لیکن ہشام کسی بے گناہ کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا. اُسے اِس لڑکی کا وہاں سے ہٹنے کا انتظار کرنا تھا. کہ ایک لمحے کے لیے وہ وہاں سے ہٹے تو ہشام اپنا کام پورا کرسکے.

” یہ بے وقوف لڑکی تو ایک ہی جگہ پر جم کررہ گئی ہے. لگتا ہے اپنے باپ کے حصے کی گولی کھانے کا بہت شوق ہورہا ہے اِسے. “

کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی اُس لڑکی کو ڈھیٹ بن کر وہیں بیٹھا دیکھ ایس پی ہشام اب کوفت کا شکار ہونے لگا تھا.

” سر ہمارے پاس ٹائم کم رہ گیا ہے.مجھے نہیں لگتا کہ لڑکی یہاں سے پہلے اُٹھے گی. ہمیں کچھ اور سوچنا ہوگا.”

شاہد نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا.

” ہمممہ میں سوچ چکا ہوں مجھے اب کیا کرنا ہے. “

ایس پی ہشام نے موبائل پر ایک نمبر ڈائل کرتے مبہم لہجے میں کہا. اُس کی نظریں شہباز خان پر ٹکی ہوئی تھیں.

” شہباز خان کیسے ہو. کیسا چل رہا تمہارا ڈنر. کہیں میں نے ڈسٹرب تو نہیں کر دیا تمہیں. “

فون اٹینڈ کرتے ہی شہباز خان کو جو بات سننے کو ملی تھی. وہ ایک لمحے کے لیے تو اپنی جگہ سے اُچھل پڑا تھا.

” کک کون ہو تم.”

گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ میں اردگرد دیکھتے اُس نے اپنی نم آلود ہوتی پیشانی کو مسلا تھا. اِسی ڈر کی وجہ سے اُس نے آج پورا ریسٹورنٹ ہی بک کروا لیا تھا. اُس کی لاڈلی بیٹی مِنہا کی ضد تھی. کہ اُسے ٹریٹ میں اپنے پاپا جانی کے ساتھ ڈنر کرنا تھا. اور وہ بھی گھر سے باہر کہیں.

” تمہاری موت. اِس وقت تم اور تمہاری بیٹی میرے نشانے پر ہو. اگر چاہوں تو اِسی وقت تم دونوں کو ختم کرسکتا ہوں. مگر میں تمہیں ایک موقع دینا چاہتا ہوں کہ تم خود اپنے تمام جرموں کا اعتراف کرتے خود کو پولیس کے حوالے کردو ورنہ اُس کے بعد جو میں کروں گا. وہ تم پر بہت بھاری پڑ جائے گا. یہی سے اندازہ لگا لو میری پہنچ اور پاور کا کہ تمہارے اتنے چھپنے کے باوجود بھی آرام سے تمہارے سر پر موجود ہوں. “

ایس پی ہشام کی باتیں سنتے شہباز خان کا رنگ ذرد پڑا تھا. اُسے ڈر تھا تو صرف اپنی بیٹی مِنہا کہ حوالے سے جو معصوم اور بے گناہ ہوتے ہوئے صرف اُس کی وجہ سے آج خطرے میں تھی. اگر وہ یہاں اکیلا ہوتا تو کبھی اتنا خوفزدہ نہ ہوتا.

” دیکھو میری بیٹی کا اِس سب میں کوئی قصور نہیں ہے. اُسے تم نقصان نہیں پہنچا سکتے. “

شہباز خان مِنہا کے سامنے ہی چیئر پر بیٹھا تھا. اور منہ پر ہاتھ رکھے نہایت کم آواز میں بول رہا تھا. ہشام نے اُسے کسی قسم کی حرکت سے منع کیا تھا. شہباز خان نہیں چاہتا تھا. مِنہا کے سامنے زرا سا بھی خون خرابا ہو اِس لیے وہ اُس کی بات ماننے پر مجبور تھا. اُس نے ہمیشہ مِنہا کو سب لوگوں سے چھپا کر ہی رکھا تھا. تاکہ اُس کے دشمن مِنہا کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکیں.

” پاپا جانی آپ پھر موبائل پر بزی ہوگئے ہیں. یہ ٹائم صرف میرا ہے سو اِس موبائل کو بند کریں اور میری بات سنیں. “

شہباز خان سے بات کرتے ہشام کے کانوں سے ایک بہت ہی دھیمی مترنم سی نسوانی آواز ٹکرائی تھی.

ہشام کی نگاہیں سامنے کی جانب ہی ٹکی ہوئی تھیں جہاں سے اب وہ لڑکی شہباز خان کا بازو تھامے باہر کی جانب بڑھ رہی تھی. بے بی پنک کلر کے نفیس نگوں سے سجے پیروں تک آتے نیٹ کے فراک میں وہ نازک سی پری ہی لگ رہی تھی. جس کے چہرے کا گلابی پن اور سیاہ چمکتے بالوں کی نرماہٹیں ہشام دور سے ہی محسوس کرسکتا تھا.

ایک سیکنڈ کے اندر ایس پی ہشام نے اُس پری پیکر سے نظریں ہٹاتے سرد تاثرات کے ساتھ شہباز خان کی جانب دیکھا تھا. جو اپنی بیٹی کے گرد غیر محسوس انداز میں بازو پھیلائے اُسے اپنے حصار میں لیتے پروٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتے تیز قدموں سے باہر کی جانب بڑھ رہا تھا.

” شہباز خان دوسروں کی اولاد چھینتے ہوئے. اُنہیں موت کے گھاٹ اتارتے یہ بات بھول گئے تھے کہ تمہاری بھی ایک بیٹی ہے. جسے تمہارے کیے کا بھگتان بھی بھرنا پڑ سکتا ہے. “

ایس پی ہشام گردیزی کے لہجے میں شہباز خان جیسے درندے کو ختم کرنے کا عزم واضح تھا. جسے اب وہ کسی قیمت پر بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” ہشام بھائی کا برتھ ڈے آرہا ہے. کچھ اچھا سا پلان کرنا ہوگا. وہ ہم سب کے لیے کتنا کچھ کرتے ہیں. اِس بار ہم بھی اُنہیں زبردست سا سرپرائز دیں گے. ویسے بھی اِس بار تو زیان بھائی بھی ہیں اور زیادہ مزا آئے گا.”

زویا لاؤنج میں براجمان ینگ پارٹی کو مخاطب کرتے ایکسائٹمنٹ سے بولی.

” واہ زویا زندگی میں پہلی بار کوئی ڈھنگ کی بات کی ہے تم نے. آئیڈیا تو بہت زبردست ہے. “

واسع نے زویا کا مذاق بنانے کے ساتھ ساتھ اُس کی بات کی تائید بھی کی تھی.

” میں ہمیشہ ایسی ہی باتیں کرتی ہوں. مگر تمہارے اِس بھیجے میں گھستی نہیں ہیں. “

زویا نے بھی اُسے منہ چڑایا تھا.

” اچھا بس بس اب تم دونوں پھر شروع مت ہوجانا. ہمم واقعی کچھ دن ہی ہیں ہمارے پاس. کچھ اچھا سا پلان کرنا ہوگا. “

رمشا نے اُن دونوں کو ٹوکتے چونچیں لڑانے سے باز رکھا تھا.

سب لوگ زور و شور سے ہشام کو سرپرائز دینے کے بارے میں ڈسکس کرنے لگے تھے.

وہیں پاس بیٹھی فائقہ ہشام کو ایک خوبصورت سا گفٹ دینے کے بارے میں سوچتے مسکرا کر رہ گئی تھی.

” آہم آہم یہ اکیلے اکیلے کس خوشی میں مسکرایا جارہا ہے. ہمیں بھی تو پتا چلے. ہشام بھائی کو کیا اسپیشل گفٹ دینے کے بارے میں سوچا جارہا ہے. “

فائقہ کو مسکراتے دیکھ صبا چھیڑنے سے باز نہیں آئی تھی.

” جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے. “

سب کو اپنی جانب متوجہ ہوتے دیکھ فائقہ گڑبڑاتے ہوئے بولی. کیونکہ اِن شیطانوں کی ٹولی کے سامنے کوئی بات کہنا اپنی شامت بلانے کے مترادف تھا.

سب لڑکیوں کو دوسری جانب متوجہ دیکھ تیمور نے پاکٹ میں سے آرٹییفشل چھپکلی نکال کر اپنے سامنے بیٹھی بسمہ کے پاؤں کے پاس رکھ دی تھی.

” بسمہ یہ دیکھو تمہارے پاؤں میں کیا ہے. “

تیمور کے بس اتنا کہنے کی دیر تھی. پورا لاؤنج چیخوں سے گونج اُٹھا تھا. سب لڑکیاں جس طرح ڈر کے مارے اُچھل اُچھل کر اپنے کپڑے جھاڑ رہی تھیں. وہاں موجود تیمور , واسع اور احتشام سے اپنی ہنسی روکنا بہت مشکل ہوگیا تھا.

” یار تم لڑکیوں کا کیا بنے گا. ایک بے جان سی چیز سے کوئی کیسے اتنا ڈر سکتا ہے. “

تیمور نے ہنس ہنس کر دوہرے ہوتے دور پھینکی گئی چھپکلی کو اُٹھا کر اُن کے سامنے کیا تھا. جسے دیکھ وہ سب لڑکیاں اپنا اِس طرح بےوقوف بنائے جانے پر خونخوار نظروں سے اُسے گھورتیں مارنے کو لپکی تھیں. اب کی بار چیخیں گونجنے کی باری تیمور کی تھی. کیونکہ وہ سب اُس پر حملہ آور ہوچکی تھیں.

یہ منظر گردیزی ولا کا تھا. جہاں ہر طرف خوشیوں کا ڈیرا تھا. اِس گھر میں رشتوں کے لیے پیار محبت سب کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا.

سلمان گردیزی پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے. اُن کی تین اولادیں تھیں. سب سے بڑی بیٹی امبر, اُس کے بعد احتشام اور سب سے چھوٹی زویا.

سلمان صاحب کے بعد بلقیس بیگم تھیں جن کی شادی حیدر لغاری سے ہوئی تھی. بلقیس بیگم کی کچھ سال پہلے ڈیتھ ہوچکی تھی. اُن کا ایک ہی بیٹا تھا. میر زیان لغاری.

تیسرے نمبر پر حمدان گردیزی تھے جن کا بڑا بیٹا ہشام گردیزی اور اُس سے چھوٹی رمشا تھی.

زاہد گردیزی بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے. اُن کے چار بچے تھے. ولید, تیور , صبا اور بسمہ. ولید اور امبر کی دو سال پہلے شادی ہوچکی تھی. اور ایک بہت پیاری سی بیٹی لائبہ تھی.

آخری نمبر پر سائرہ بیگم تھیں. جن کی شادی طاہر احمد سے ہوئی تھی. اُن کے دو بچے تھے. واسع اور فائقہ.

بڑوں کی رضامندی سے ہشام اور فائقہ کی بات طے ہوچکی تھی. ہشام کی جانب سے تو فائقہ کو کبھی کوئی خاص رسپانس نہیں ملا تھا. مگر فائقہ دل ہی دل میں اُسے بہت پسند کرتی تھی. لیکن ہشام کے ریزرو سے انداز کو دیکھتے وہ کبھی اُس سے اِس بارے میں بات کرنے کی ہمت نہیں کر پائی تھی.

سلمان صاحب نے سب بہن بھائیوں کو بہت ہی محبت اور شفقت کے ساتھ جوڑ کر رکھا ہوا تھا. وہ اُن سب کے لیے باپ کا درجہ رکھتے تھے. جن کا ہر فیصلہ بنا چوں چراں کے ماننا خاندان کے ہر فرد پر جائز تھا. اِس لیے گردیزی ولا اُن سب کے لیے جنت سے کم نہیں تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

منہا چینج کرکے سونے کی تیاریوں میں تھی. جب اُسے عائلہ کی میڈ کی جانب سے میسیج موصول ہوا تھا. جسے پڑھتے منہا بغیر اپنے حلیے کی پرواہ کیے پریشان سی بیڈ پر رکھی شال اُٹھاتے باہر کی جانب بڑھی تھی. اور ساتھ ہی عائلہ کی میڈ کو کال کرکے اُسے عائلہ کے ڈرائیور سے ایڈریس پوچھنے کا کہا تھا. جس کے مطابق عائلہ اِس وقت کسی پارٹی کلب میں موجود تھی.

منہا ڈرائیور کو وہاں جانے کی ہدایت دیتی گاڑی میں جا بیٹھی تھی. جب بھی عائلہ غصے اور ڈپریشن میں ہوتی تھی. وہ اپنے حواس کھو بیٹھتی تھی. مِنہا ہی اُسے ہر حال میں سنبھالتی تھی. کبھی بھی اُسے اکیلا نہیں چھوڑا تھا. اِس لیے ابھی بھی وہ جلد از جلد عائلہ کے پاس پہنچنا چاہتی تھی. کیونکہ جس کلب کا نام اُسے بتایا گیا تھا وہ کافی بدنام جگہ مشہور تھی.

گاڑی کے رکتے ہی مِنہا باہر نکلتے کلب کی جانب بڑھی تھی. مگر اندر سے پولیس اہلکاروں کو نکلتا دیکھ مِنہا کا دل عائلہ کے حوالے سے بےچین ہوا تھا.

منہا چینج کرکے سونے کی تیاریوں میں تھی. جب اُسے عائلہ کی میڈ کی جانب سے میسیج موصول ہوا تھا. جسے پڑھتے منہا بغیر اپنے حلیے کی پرواہ کیے پریشان سی بیڈ پر رکھی شال اُٹھاتے باہر کی جانب بڑھی تھی. اور ساتھ ہی عائلہ کی میڈ کو کال کرکے اُسے عائلہ کے ڈرائیور سے ایڈریس پوچھنے کا کہا تھا. جس کے مطابق عائلہ اِس وقت کسی پارٹی کلب میں موجود تھی.

منہا ڈرائیور کو وہاں جانے کی ہدایت دیتی گاڑی میں جا بیٹھی تھی. جب بھی عائلہ غصے اور ڈپریشن میں ہوتی تھی. وہ اپنے حواس کھو بیٹھتی تھی. مِنہا ہی اُسے ہر حال میں سنبھالتی تھی. کبھی بھی اُسے اکیلا نہیں چھوڑا تھا. اِس لیے ابھی بھی وہ جلد از جلد عائلہ کے پاس پہنچنا چاہتی تھی. کیونکہ جس کلب کا نام اُسے بتایا گیا تھا وہ کافی بدنام جگہ مشہور تھی.

گاڑی کے رکتے ہی مِنہا باہر نکلتے کلب کی جانب بڑھی تھی. مگر اندر سے پولیس اہلکاروں کو نکلتا دیکھ مِنہا کا دل عائلہ کے حوالے سے بےچین ہوا تھا. وہ پولیس سے نظر بچاتی اندر کی جانب بڑھی تھی. لیکن کچھ فاصلے پر کھڑے ایس پی ہشام گردیزی کی نظروں سے وہ نہیں بچ سکی تھی.

ابھی کچھ دیر پہلے ہی اُس نے اِس کلب میں ریڈ کرتے یہاں موجود نشے میں دھت تمام لوگوں کو گرفتار کرچکا تھا.

ہشام کے اشارے پر ایک لیڈی کانسٹیبل منہا کو روکنے اُس کی جانب بڑھی تھی. مگر منہا ایک بار اندر جانے پر بضد تھی. اور عائلہ کے بارے میں جاننا چاہتی تھی.

” دیکھو بی بی یہاں سے سب لوگوں کو تھانے لے جایا جاچکا ہے. جس کے بارے میں بھی معلوم کرنا ہے وہاں جاؤ. ہمارا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے.”

لیڈی کانسٹیبل مِنہا کو باہر کی جانب دھکا دیتے بولی. جس پر پیچھے کی جانب ہوتے مِنہا لڑکھڑائی تھی. اُسی لمحے ہشام کی نظریں مِنہا کی جانب اُٹھی تھیں. بلیک نائٹ ڈریس کے اُوپر بلیک کلر کی بڑی سی شال کندھوں کے گرد لپیٹے وہ ہشام کو آج شام کا منظر یاد کروا گئی تھی.

ہشام غصے سے اُس کی جانب بڑھا تھا.

جاری ہے ۔۔۔