Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episode 17 & 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17 & 18
” میر میں خوش قسمت نہیں ہوں. بلکہ اِس دنیا کی سب سے زیادہ بدقسمت لڑکی ہوں. جس کے نصیب میں شاید پیار کبھی نہیں تھا. “
عائلہ کے آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر نیچے گِر رہے تھے. عائلہ کو پہلے کبھی موت سے ڈر نہیں لگتا تھا. کیونکہ جیسی اُس کی زندگی رہی تھی کئی بار اپنی ماں کے بارے میں غلط باتیں سن کر , اپنے باپ کا رویہ دیکھ اُس کا دل چاہا تھا کہ خود کو ختم کردے. مگر اب جب وہ جینا چاہتی تھی. اپنی محبت اپنے میر کے ساتھ رہنا چاہتی تھی تو اُس سے جینے کا حق ہی چھینا جارہا تھا.
” جو بھی ہے میں تو ہمیشہ سے ہی ایسی درد بھری زندگی گزارنے کی عادی ہوں. مگر میں میر پر اپنی اِس منحوس زندگی کا سایہ نہیں پڑنے دوں گی. میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں کبھی بھی ایسا کہوں گی. کاش کہ میر تم جو بول رہے تھے وہ جھوٹ ہوتا تمہیں مجھ سے محبت نہ ہوئی ہوتی. لیکن جو بھی ہے. مجھے تمہاری اِس محبت کو آگے بڑھنے سے پہلے یہیں ختم کرنا ہوگا. اِس دنیا سے جاتے جاتے میں دوبارہ تمہارے دل میں اپنے لیے اتنی نفرت بھر جاؤں گی کہ تم میرا نام لینا بھی پسند نہیں کرو گے. اور نہ ہی تمہیں میرے مرنے کا دکھ ہوگا.
میں تمہیں کسی صورت دکھی اور ناخوش نہیں دیکھ سکتی میر.”
عائلہ نے اپنے چہرے سے بے دردی سے آنسو پونچھتے سوچ لیا تھا کہ اب اُسے کیا کرنا ہے.
اُس نے خود کو مضبوط کرتے قدم اندر بڑھا دیے تھے.
” عائلہ تم یہاں. “
ڈاکٹر عدیلہ عائلہ کو سامنے دیکھ گڑبڑا سی گئی تھیں. مگر عائلہ کے بے تاثر چہرے سے اُنہیں نہیں لگا تھا کہ عائلہ نے اُن کی باتیں سن لی ہیں.
” آؤ بیٹھو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ابھی. ڈرپ ختم تو ہونے دیتی تم پہلے ہی اُٹھ کر آگئی. کہا تھا میں نے تمہیں آرام نہیں آتا ایک جگہ. “
ڈاکٹر عدیلہ نے مسکرا کر کہتے اُسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا. جس پر عائلہ نے آگے بڑھتے اُن کے سامنے پڑی فائل اُٹھا لی تھی.
” میں آپ کی ساری باتیں سن چکی ہوں. کہ مجھے کیا بیماری ہے اور میری پاس کتنا کم ٹائم رہ گیا ہے. ماما کی بیسٹ فرینڈ ہونے کے ناطے آپ نے ہمیشہ مجھے کہا کہ جب بھی کوئی پرابلم ہو. کسی قسم کی کوئی بھی ہیلپ چاہئے ہو تو میرے پاس آنا. آج تک کبھی میں آپ کے پاس نہیں آئی.
لیکن آج مجھے آپ سے ایک ہیلپ چاہئے. کیا آپ میری مدد کریں گی. “
عائلہ کی بات پر اپنی مرحومہ دوست کا چہرا یاد آتے اُن کی آنکھیں نم ہوئی تھیں.
” بیٹا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے. تم بولو تو سہی میں تمہاری مدد کرنے کی پوری کوشش کروں گی. اور اِس بیماری پر دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم ٹھیک ہوسکتی ہو. “
ڈاکٹر عدیلہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر اُس کے پاس آتے بولیں.
” آپ کو مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا. کہ میری اِس بیماری کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گی. کسی کو بھی نہیں. پلیز “
بہت ضبط کے باوجود بھی عائلہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے.
عائلہ کے بازو پر رکھا ہاتھ اُس کی بات سن کر ڈاکٹر عدیلہ نے واپس کھینچ لیا تھا.
” عائلہ یہ کیا کہہ رہی ہو تم. تم ٹھیک ہوسکتی ہو. تمہارے پاس ابھی بھی سروائیول کے 20% پرسنٹ چانسز موجود ہیں. “
ڈاکٹر عدیلہ کی بات پر عائلہ نے دکھ بھری ہنسی سے اُن کی جانب دیکھا تھا.
” اور 80% چانسز نہیں ہیں. میں جانتی ہوں میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے. جتنا وقت میرے پاس ہے. میں اُسے یوں مشینوں میں جکڑ کر ہاسپٹل میں نہیں گزار سکتی. پلیز ایک مرتے ہوئے انسان کی آخری خواہش پوری کر دیں.”
ڈاکٹر عدیلہ عائلہ کی بات ماننے پر کسی صورت تیار نہیں تھیں.
پورے بیس منٹ اُن کے ساتھ بحث کرتے آخرکار عائلہ اُنہیں اپنی بات ماننے کے لیے راضی کر چکی تھی.
” تھینکیو سو مچ. میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی. “
عائلہ اُن کا شکریہ ادا کرتے فائل اُٹھاتی وہاں سے نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہشام اپنے آفس میں بیٹھا. کیس سے ریلیٹڈ اپنے ماتحت کی بھیجی گئی کچھ تصویریں دیکھ رہا تھا. جب اُس کی نظر واسع کی بھیجی گئی تصویر پر پڑی تھی. یہ اُس کے برتھ ڈے پارٹی والی تصویر تھی.جس میں مِنہا اُس کی بانہوں میں کسی گڑیا کی طرح سمائی ہوئی تھی.
ہشام کتنے ہی لمحے یک ٹک مِنہا کے حسین مکھڑے کو دیکھے گیا تھا. جو خود میں دنیا جہاں کی معصومیت سموئے ہوئے تھا.
” کوئی اتنا پیارا اور کیوٹ کیسے ہوسکتا ہے. “
ہشام نے مسکراتے اپنے دل سے سوال کیا تھا.
کل رات اُس کا موڈ جتنا آف تھا. آج صبح کے واقعہ کے بعد اُس سے کئی گنا زیادہ خوشگوار ہوچکا تھا.
ہشام کو یہ رشتہ جوڑتے کبھی نہیں لگا تھا کہ جس رشتے کی حیثیت وہ اپنی زندگی میں صرف ایک کاغذی حد تک رکھتے شامل کررہا ہے وہ اُس کے لیے اتنا اہم ہوجائے گا. اُس نے نکاح نامے پر سائن کرتے اِس حوالے سے خود اور گھر والوں سے جو بھی باتیں کہی تھیں. اُن سب کا بلکل اُلٹ ہوچکا تھا.
اُسے نہ صرف مِنہا سے پیار ہوگیا تھا. بلکہ وہ اب اُس سے اپنا رشتہ بھی پوری ایمانداری اور سچائی سے نبھانا چاہتا تھا. اور دل میں تو مِنہا کو اپنی بیوی کی حیثیت دے بھی چکا تھا. اب اُسے جلد از جلد فائقہ والا معاملہ کلیئر کرنا تھا.
تاکہ مِنہا کے ہونٹوں پر ہر وقت جو فیانسی کا نام چڑھا ہوا تھا وہ ہٹ جائے. ہشام کو ہر بار مِنہا کے نظریں چُرانے پر اتنا تو اندازہ ہوچکا تھا کہ گڑبڑ اُس طرف سے بھی. لیکن اگر دوسری طرف سے محبت نہ بھی ہوتی تو وہ اُسے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتا کیونکہ وہ بھی ایس پی ہشام گردیزی تھا. جس نے آج تک ایسے کیسز سالو کیے تھے جو تقریباً ناممکن قرار دے دیے گئے تھے. تو پھر یہ تو اُس کے دل کا کیس تھا. اِسے ادھورا کیسے چھوڑ سکتا تھا وہ.
مِنہا کے بارے میں سوچتے ہشام کے ہونٹوں پر بڑی ہی دلفریب مُسکان پھیلی ہوئی تھی.
ہشام کو مِنہا کو ستانے کے لیے ایک شرارت سوجھی تھی. جس پر عمل کرتے ہشام نے موبائل پر کچھ ٹائپنگ کرتے مِنہا کو بھیج دیا تھا. جو مِنہا کو ڈیلیور تو ہوچکا تھا. مگر ابھی اُس نے دیکھا نہیں تھا. مِنہا کے بارے میں سوچتے یا اُس کے ساتھ ہوتے ہشام اپنے دوسرے لوگوں کے لیے بنائے گئے خول سے بلکل باہر ہوتا تھا. اور وہ وہ حرکتیں کر جاتا تھا. جس کے بارے میں وہ اپنی شخصیت کو مدنظر رکھتے کبھی سوچا بھی نہیں سکتا تھا.
مِنہا شاور لینے کے بعد بال خشک کرتی صوفے پر آبیٹھی تھی. فریش پنک کلر کے سوٹ میں اُس کی دودھیا رنگت مزید دھک رہی تھی. واٹس ایپ پر آئے نوٹیفیکیشن دیکھ مِنہا نے میسج اوپن کیے تھے. سکرین پر موجود میسج پڑھتے عائلہ کا چہرا پہلے شرم, اگلا میسج پڑھنے کے بعد غصے اور پھر جلن کی وجہ سے لال ہوا تھا.
ہشام نے بہت ساری کِسنگ اور ہرٹ والی ایموجیز کے ساتھ بہت سے ڈائیلاگ جھاڑے ہوئے تھے کہ آئی مِس یو. میں تم سے ملنا چاہتا ہوں. تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں. اِس وقت تمہاری بہت یاد آرہی ہے مائی لو. اور اِس ٹائپ کے بہت سارے جملے لکھے گئے تھے.
ساتھ ہی کچھ سیکنڈز کے بعد کا اگلا میسج موجود تھا. جس پر لکھا تھا اوہ سوری یہ میسج فائقہ کو کرنے تھے غلطی سے تمہاری طرف سینڈ ہوگئے.
یہ میسج پڑھتے ہی مِنہا کو اچھی خاصی تپ چڑھ گئی تھی.
” واہ امیزنگ ویری گڈ ایس پی صاحب یہاں پر میرے ساتھ فلرٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے. اور وہاں آفس میں بیٹھ کر اپنی فیانسی سے عشق لڑایا جارہا ہے. ہوئے نا پھر تم بھی ٹیپیکل ٹھرکی پولیس والے. “
مِنہا کو نجانے کیوں اُس کا دوسرا میسج دیکھ مزید تپ چڑھ گئی تھی. اُس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد میسج ٹائپ کیا تھا. “اٹس اوکے.”
مِنہا کا دو لفظی میسج پڑھ کر ہشام کی آنکھوں کے پردے پر اُس کا غصے سے سُرخ پھولا پھولا سا چہرا آسمایا تھا.
اِس لمحے منہا کو دیکھنے کی خواہش شدت سے اُس کے دل میں جاگی تھی. جس کو اگنور نہ کرتے ہشام نے ویڈیو کال ملا دی تھی.
اچانک ویڈیو کال دیکھ مِنہا کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا.
” اب کیا پرابلم ہے. اِس پولیس والے کے ساتھ. مجھے کیوں کال کررہا ہے. اپنی فیانسی کو کال کرے نا. “
مِنہا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے. مگر پھر اُس کا ابھی تھوڑی دیر پہلے والا میسج یاد کرکے اُس نے کال کاٹ دی تھی.
” کال کیوں کاٹی. “
ہشام کو فوراً غصے کی ایموجیز کے ساتھ میسج آیا تھا.
” کیونکہ آپ پھر غلطی سے اپنی فیانسی کے بجائے مجھے کال کررہے تھے. “
مِنہا بھی کونسا اُس سے کم تھی.
” نہیں میں نے اِس بار تمہیں ہی کال کی ہے اٹینڈ کرو. “
ہشام نے اُس کے چڑنے پر مسکراتے میسج ٹائپ کیا تھا.
” نہیں کروں گی میں اٹینڈ. “
مِنہا کو اب ہشام کی حرکتوں پر غصہ آرہا تھا. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہشام سیریس ہے یا جن بوجھ کر اُسے ستا رہا ہے.
” اگر تم نے اب کی بار اٹینڈ نہیں کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. “
تصور میں اُس کا غصے سے تپا ہوا چہرا دیکھ ہشام کی مسکراہٹ مزید گہری ہورہی تھی.
” ایس پی صاحب یہ دھمکی کسی اور کو دیجئے گا. میں ڈرنے والی نہیں ہوں. “
مِنہا اُس کی پہلے میسج میں کی گئی گستاخی کسی صورت معاف کرنے کو تیار نہیں تھی.
” اچھا تو تم نہیں ڈرتی مجھ سے. یہ بات آج رات فیس ٹو فیس بولنا میرے سامنے تو مانوں گا. اور ساتھ ہی تیار رہنا میری بات نہ ماننے کی سزا کے لیے بھی ڈیر وائف. “
ہشام کی وائس میسج میں دی گئی دھمکی مِنہا کے اچھے خاصے پسینے چُھرا گئی تھی.
ابھی تو وہ بہادر بنی اُسے جواب دے رہی تھی. لیکن ہشام کی پرتپیش نظروں پر ہی اُس کی ساری ہوا نکل جاتی تھی. اُس ساحر کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنا تو بہت مشکل تھا اُس کے لیے.
ہشام شاید آف لائن ہوچکا تھا. مِنہا نے رات کی رات کو دیکھے جانے کا سوچتے ریلیکس ہونا چاہا تھا. مگر اُس کی سوچیں بار بار بھٹک کر ہشام گردیزی کی طرف جاتی اُس کی دھڑکنوں کو معمول پر آنے ہی نہیں دے رہی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ نے فاریہ کو میسیج کردیا تھا کہ وہ لوگ اب ہاسپٹل نہ جائیں. عائلہ اپنے پیرنٹس کے ساتھ گھر آچکی ہے. وہ اِس وقت کسی کا بھی سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی.
عائلہ نے گھر آکر خود کو روم میں بند کرلیا تھا. اور اپنا ضبط کھوتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.
” کیوں ہوتا ہے ہمیشہ میرے ساتھ ایسا. کیوں ہمیشہ میں ہی خالی دامن رہ جاتی ہوں. ﷲ جی کیا میں اتنی بُری ہوں کہ اچھی زندگی گزارنے پر میرا کوئی حق نہیں. پوری زندگی نفرتیں سہتے سہتے گزار دی اور اب جب محبت نے میری زندگی میں قدم رکھا تو مجھ سے یہ زندگی ہی چھینی جا رہی ہے. اگر یہی ہونا تھا میرے ساتھ تو میر کو کیوں بھیجا آپ نے میری زندگی میں. کیوں میری آنکھوں میں حسین خواب سجنے دیے اگر اُنہیں بعد میں نوچ ہی لینا تھا تو. “
عائلہ زارو قطار روتی اپنے رب سے شکوہ کناں تھی. جب اُس کے روم کے دروازے پر دستک کے ساتھ ساتھ ملازمہ کی آواز آئی تھی.
” بی بی جی آپ کی دوست فاریہ اور اُن کے بھائی آئے ہیں. آپ سے ملنا چاہتے ہیں. “
ملازمہ کی بات پر عائلہ نے درد کے احساس سے اپنی آنکھیں زور سے میچی تھیں. جس شخص کی ایک جھلک دیکھنے کو وہ پاگل ہوئی رہتی تھی. آج جب وہ اُس کی دہلیز پر خود چل کر آیا تھا تو عائلہ اُس سے ملنے سے لاچار تھی.
” اُنہیں بول دو. میں میڈیسن لے کر سو رہی ہوں. “
زیان حیدر سے ملنے سے انکار کرتے عائلہ کے دل کے ہزار ٹکڑے ہوئے تھے.
وہ اپنے موبائل پر آئے فاریہ کے میسیج پڑھ چکی تھی. جس میں اُس نے عائلہ کے ایکسیڈنٹ پر زیان کی بے چینی اور بے قراری کی داستان سنائی ہوئی تھی. کہ کیسے زیان حیدر جیسے بے حس شخص نے اُسے خون میں لت پت دیکھ اپنا ضبط کھو دیا تھا.
عائلہ کارپٹ پر بیٹھ کر بیڈ پر بازو فولڈ کرکے رکھے اُن میں سر دیے آنکھیں موندے ہوئی تھی. جب اُس کا موبائل بج اُٹھا تھا. مِنہا کا نمبر سکرین پر جگمگاتا دیکھ عائلہ نے کال کاٹنی چاہی تھی مگر وہ ایسا نہیں کر پائی تھی.
” عائلہ فاریہ سے پتا چلا تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا ہے. اب کیسی طبیعت ہے تمہاری. تم ٹھیک ہونا. “
مِنہا نے چھوٹتے ہی سوال کیا تھا. اُس کے لہجے سے پریشانی و فکر صاف محسوس کی جاسکتی تھی.
” ہاں مِنہا معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا. سر پر ہلکی سی چوٹ آئی ہے. لیکن اب میں بلکل ٹھیک ہوں. “
عائلہ نے اپنی آواز کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کی تھی. لیکن مقابل بھی وہ انسان تھی جو اُس کی رگ رگ سے واقف تھی. جس سے عائلہ چاہ کر بھی کچھ چھپا نہیں پائی تھی.
مگر کسی بھی طرح اُسے یہ بات چھپانی تھی مِنہا سے.
” عائلہ رو رہی ہو. کیا ہوا ہے تمہیں بتاؤ مجھے. “
مِنہا عائلہ کی آواز میں گھلی نمی محسوس کر گئی تھی. اور بہت زیادہ پریشان ہو اُٹھی تھی. وہ عائلہ کو اچھے سے جانتی تھی کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ کبھی نہیں روتی تھی. ضرور کوئی سیریس بات ہوئی تھی.
” نہیں میں رو تو نہیں رہی بس تھوڑی ایموشنل ہوگئی تھی. وہ دراصل زیان نے میری محبت پر یقین کرتے مجھے مثبت جواب دے دیا ہے. اب وہ مجھ سے نفرت نہیں کرتا. بلکہ بہت محبت کرتا ہے. “
مِنہا کو اپنے رونے کے بارے میں کوئی معمولی ریزن دے کر وہ بلکل بھی ریلیکس نہیں کر سکتی تھی. اِس لیے اُس نے یہ بات بول دی تھی. جسے بولنے کے دوران آنسو لڑیوں کی طرح اُس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے رہے تھے.
” تو جھلی لڑکی اِس میں رونے کی کیا بات ہے. یہ تو بہت خوشی کی بات ہے. تمہیں تو بہت خوش ہونا چاہئے. “
مِنہا عائلہ کی بات سن کر اُس کے لیے بے پناہ خوش ہوئی تھی.
” ہاں تو میں بہت خوش ہوں. بتایا تو ہے تمہیں. اتنی بڑی خبر سن کر تھوڑی ایموشنل ہوگئی تھی. “
عائلہ نے بہت دقت سے مسکراتے اُسے جواب دیا تھا.
” عائلہ تم سچ کہہ رہی ہو نا. صرف یہی بات ہے نا. “
مِنہا نجانے کیوں مطمئن نہیں ہو پارہی تھی. اُسے عائلہ کی آواز میں سچی خوشی کا عنصر ناپید لگ رہا تھا. اُسے محسوس ہورہا تھا کہ جیسے عائلہ اُس سے کچھ چھپا رہی ہے.
عائلہ کا دل چاہا تھا اپنے اندر کا سارا غم اپنی عزیز دوست کے سامنے رکھ دے. جو اتنے دور سے بھی اُس کا دکھ اور پریشانی سمجھ رہی تھی.
” مِنہا اور کیسے یقین دلاؤں میں تمہیں. سچ میں یہی بات ہی ہے. “
عائلہ کا مخصوص انداز سنتے منہا مسکراتے کسی حد تک مطمئن ہوگئی تھی. اور کچھ دیر باتیں کرکے فون رکھ دیا تھا.
عائلہ کے فون کان سے ہٹاتے جیسے ہی سکرین پر نظر پڑی وہاں زیان کی مِنہا سے کال کے دوران تین مِس بیلز اور ایک میسج آیا ہوا تھا.
” مجھے سمجھ نہیں آرہا تم مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو. مگر جو بھی ہے. میں یہ ایڈریس سینڈ کررہا ہوں. ٹھیک شام سات بجے تمہیں یہاں پہنچنا ہے. مزید اُلٹی سیدھی حرکت کرکے مجھے غصہ دلانے کی کوشش مت کرنا. شرافت سے یہاں پہنچ جانا. تم شاید ابھی ٹھیک سے میرے غصے سے واقف نہیں ہو. مجھے اپنا اگنور کئے جانا بلکل بھی پسند نہیں. اور سپیشلی تمہارا اگنور کرنا تو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا. “
زیان کا میسج پڑھ کر عائلہ نے اپنا سر پکڑ لیا تھا. جس چیز سے وہ بھاگنا چاہ رہی تھی. وہ قیامت خیز لمحہ اُس کے سر پر تھا. کیسے سامنا کرے گی وہ زیان کا. کیا کہے گی اُسے.
مسلسل ٹینشن لینے کی وجہ سے اب عائلہ کا سر ایک بار پھر شدید قسم کے درد سے پھٹنے لگا تھا.
” میں جاؤں گی ضرور جاؤں گی. میر تمہاری محبت میرے نصیب میں نہیں ہے. تمہیں مجھ سے ایک بار پھر نفرت کرنی ہوگی. میں اتنی کمزور نہیں ہوں. اِس طرح ہمت نہیں ہار سکتی. مجھے میر کے سامنے پہلی والی عائلہ کی طرح مضبوط رہنا ہوگا. “
عائلہ اپنے آنسو پونچھتے اپنے آپ کو آنے والے حالات فیس کرنے کی ہمت دلاتی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” کیسے ہو ایس پی صاحب. مجھے ڈبل کراس کرکے اچھا نہیں کیا تم نے. “
ہشام نے انجان نمبر سے کال ریسیو کی تھی. مگر آگے سے رفیق نیازی کی آواز سن کر وہ بد مزہ سا ہوا تھا. اُس کا اشارہ مِنہا سے ہشام کے نکاح کی طرف تھا.
” اتنی جلدی گھبرا گئے. یہ تو ابھی شروعات ہے. اب آگے تمہیں ہر کام میں ایسے ہی منہ کی کھانی پڑیں گی. “
ہشام زہر خند لہجے میں بولا.
” آگے کی بھی دیکھی جائے گی ایس پی صاحب. ابھی فلحال جو میں نے تمہارے لیے سرپرائز تیار کیا ہے. اُس سے تو نبٹ لو.”
رفیق نیازی کی بات پر ہشام کے ماتھے پر بل پڑے تھے.
” کیا بکواس کررہے ہو. کیا کیا ہے تم نے. “
ہشام کا دل چاہا تھا. ابھی جاکر اِس خبیث انسان کو ختم کردے.
“زرا آج کی تازہ نیوز تو دیکھو. اب دیکھتا ہوں میں تمہاری بہادری. جیسے اپنے کام میں میدان مارتے ہو کیا اپنے نجی معاملے میں بھی ایسا کر پاؤ گے. ہاہاہاہاہا تمہارا خاندان ایک بدنام زمانہ شخص کی بیٹی کو بہو بنانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوں گے. اور پھر تمہیں اُس لڑکی کو چھوڑنا ہی پڑے گا میرے لیے. “
رفیق نیازی بہت خوش تھا. کیونکہ وہ ہشام اور مِنہا کا نکاح نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا میڈیا تک پہنچا چکا تھا. تاکہ یہ بات ہر جگہ پھیل جائے اور ہشام کو اپنے گھر والوں کے پریشر میں آتے مِنہا کو چھوڑنا پڑے.
” بکواس بند کرو اپنی. میں نے کہا تھا تمیں اپنی گندی زبان سے میری بیوی کا نام مت لینا. مگر تم نے اب جو حرکت کی ہے. دیکھنا اب میں کیا حال کرتا ہوں تمہارا. میرے قہر کو آواز دے کر اچھا نہیں کیا تم نے. بہت بُرا حشر ہو گا اب تمہارا میرے ہاتھوں. “
ہشام اُس کی بات پر اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ رفیق نیازی کو اپنے کان کا پردہ پھٹتا محسوس ہوا تھا. فون بند کرتے ہشام کی نظریں ٹی وی سکرین پر چلتی خبر پر ٹک گئی تھیں. جہاں اُس کے اور مِنہا کے نکاح کی خبر عام ہوچکی تھی.
اِس کے ساتھ ہی ہشام کو موبائل پر فیملی اور فرینڈز کی جانب سے کالز اور میسجز موصول ہونے لگے تھے.
ہشام کچھ دیر اپنی کنپٹی مسلتے خود کو ریلیکس کرنے کے بعد اُٹھ چکا تھا.
مِنہا عائلہ سے بات کرنے کے بعد لاؤنج میں آبیٹھی تھی. بوریت کے احساس سے بچنے کے لیے اُس نے ٹی وی آن کیا تھا. مگر وہاں چلتی نیوز دیکھ مِنہا کا دماغ چکرا گیا تھا.
” ہشام کے سب گھر والوں کو پتا چل جائے گا اب. وہ کیسے فیس کریں گے اپنی فیملی کو. “
مِنہا کو ہشام کی بہت فکر ہورہی تھی. جسے اُس کی وجہ سے اب نجانے کیا کیا فیس کرنا تھا.
مِنہا نے دو تین بار ہشام کا نمبر ٹرائے کیا تھا. لیکن وہ ریسیو نہیں کررہا تھا. جس وجہ سے مِنہا کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ نے اپنے اندر کا دکھ چھپا کر چہرے پر خوبصورت مُسکان سجائے زیان کے بتائے گئے ریسٹورنٹ میں قدم رکھا تھا. جو عائلہ کا فیورٹ ریسٹورنٹ تھا. ہال کے اندر قدم رکھتے ہی عائلہ کی آنکھیں وہاں کی خوبصورتی دیکھ خیرا ہوئی تھیں.
پورا ہال وائٹ کلر کے فلاورز سے سجا ہوا تھا. ہال کے بلکل سینٹر میں اکلوتے ٹیبل کے پاس عائلہ کو زیان بلیک تھری پیس میں ملبوس اپنی بے پناہ مردانہ وجاہت کے ساتھ کھڑا نظر آیا تھا. جو محبت پاش نظروں سے اُسے دیکھتا عائلہ کا دل دھڑکا گیا تھا. عائلہ اپنے بھاری ہوتے قدم اُٹھاتی بہت مشکل سے اُس تک پہنچی تھی. زیان کے قریب پہنچ کر عائلہ کا دل چاہا تھا. اُس کے چوڑے مضبوط سینے میں سماتے اپنا ہر درد بیان کر دے. اُسے بتائے کہ عائلہ نے دیوانگی کی آخری حدوں تک جاکر اُسے چاہا تھا. شاید اتنا کبھی کسی کو نہیں چاہا گیا ہوگا جتنا اُسے نے اپنے میر سے عشق کیا تھا.
زیان کی نظریں عائلہ پر ہی ٹکی ہوئی تھیں. جو آج پھر پہلے دن کی طرح ہی ٹائٹ پینٹ شرٹ میں ملبوس بنا دوپٹے کے اپنے وجود کی تمام رعنائیاں واضح کیے ہوئے تھی. زیان کو عائلہ کے انداز اور حلیے کو دیکھ عجیب سا غیر معمولی پن محسوس ہوا تھا. یہ عائلہ اُسے صبح اپنے کیے جانے والے اقرار سے کھل اُٹھنے والی عائلہ سے بہت مختلف لگی تھی.
زیان نے بنا عائلہ کو اُس کے حلیے پر جھڑکتے اپنا کوٹ اُتار کر اُس کے گرد اوڑھا دیا تھا. وہ اِس لڑکی کو دل سے اپنا مان چکا تھا. تو اُس کی حفاظت کرنا اُس کی نادانیوں پر پردہ ڈالنا اب اُسی کی ذمہ داری تھی. وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے. زیان کے اِس عمل ہر عائلہ کا دل بے چین ہوا تھا. کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ابھی اُس کے کہے جانے والے الفاظ زیان کو کتنی تکلیف پہنچانے والے تھے.
زیان نے مسکرا کر محبت سے اُسکا نازک ہاتھ تھام لیا تھا.
” عائلہ اکرام میں نے بلکل بھی نہیں سوچا تھا. کہ کبھی مجھے تم سے اتنی شدید محبت بھی ہوسکتی ہے. میرا دل تو نجانے کب سے تمہاری محبت کی صداقت پر ایمان لاچکا تھا. میرے بہت جھٹلانے کے باوجود بھی یہ ہر بار تمہیں دیکھ کر تمہاری جانب ہمکتا تھا. میرا دل تمہاری بے انتہا محبت نے گھائل تو کر ہی دیا تھا. مگر پوری طرف سے اِس بات کا ادراک مجھے کل ہوا. کل تمہیں تکلیف میں دیکھ مجھے زندگی میں پہلی بار ایسا لگا تھا. کہ جسم سے رُوح کا نکلنا کیسا ہوتا ہے. عائلہ اکرام تم میری اندر اُتر کر میرے تن من کو اپنی دیوانہ وار محبت کی خوشبو سے مُعطر کر چکی ہو.
کیا تم عائلہ اکرام سے اپنے میر کی عائلہ زیان حیدر بننا پسند کرو گی. میں نے تمہارے ساتھ پہلے جو بھی نارواں سلوک کیا اُس کے لیے میں تم سے اُس کی معافی نہیں مانگوں گی بلکہ آگے کی زندگی میں اُس ہر بات کی تلافی سود سمیت کروں گا. “
زیان نے اپنی بات مکمل کرتے عائلہ کے ہاتھ کی پُشت پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے.
عائلہ نے زیان کے اتنے خوبصورت اظہار پر خود کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کیا تھا. اتنا حسین لمحہ نہ پہلے کبھی اُس کی زندگی میں آیا تھا.اور نہ ہی کبھی آگے آسکتا تھا. عائلہ کو اپنے وجود میں سکون سا سرایت کرتا محسوس ہوا تھا. اُس کے دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ وقت یہیں تھم جائے اور وہ اپنی آگے کی زندگی اِسی طرح زیان کا ہاتھ تھامے گزار دے. مگر جلد ہی اپنی زندگی کی تلخ حقیقت یاد آتے ہی عائلہ حواسوں میں لوٹ آئی تھی.
عائلہ نے اپنے اندر کے احساسات کو دل میں ہی چھپاتے بے تاثر چہرے کے ساتھ زیان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا.
عائلہ کی حرکت پر زیان نے اُلجھ کر اُس کی جانب دیکھا تھا. عائلہ جس طرح صبح سے اُسے اگنور کررہی تھی.اور اب جیسے آنکھوں میں بے گانگی لیے اُسے دیکھ رہی تھی. زیان کو کچھ غیر معمولی ہونے کا احساس دلا گیا تھا.
” واٹ ہیپنڈ عائلہ. تم اِس طرح سے بی ہیو کیوں کررہی ہو. ایوری تھنگ اِز آل رائٹ. “
زیان نے نا سمجھی سے عائلہ کی جانب دیکھا تھا. جو زیان کی بات پر بے ساختہ ہنسنے لگی تھی.
” میر زیان حیدر بس اتنی ہی تھی تمہاری اکڑ تمہارا غرور. بہت بڑی بڑی باتیں کی تھیں نا اُس دن میرا بڑھایا ہوا ہاتھ بے دردی سے جھٹکتے مجھے سب کے سامنے بے عزت کرتے ہوئے. کہ مجھ جیسی بے باک اور بے حیا لڑکی تمہاری چوائس کبھی نہیں ہوسکتی. میں دنیا کی آخری لڑکی ہوئی تو بھی تم میری طرف دیکھنا پسند نہیں کرو گے. تو پھر کیا ہوا اب وہ ساری باتیں کہاں گئیں. پھنس گئے نا تم بھی اُن عام مردوں کی طرح میری اداؤں کے جال میں.
اچھے لگے تھے تم مجھے. مگر اتنے بھی نہیں کہ تمہاری خاطر عائلہ اکرام پاگل ہوجائے. اُس دن جس طرح تم نے مجھے ریجیکٹ کرتے. مجھے لفظوں کی مار ماری تھی. میں نے سوچ لیا تھا. تمہاری یہ اکڑ ختم کرکے تمہیں اپنے جھوٹے پیار میں پھنسانے کے لیے جس حد تک جانا پڑا جاؤں گی. چاہے اُس کے لیے مجھے اپنی جان بھی داؤ پر لگانی پڑے. تم جسے میری سچی محبت سمجھ رہے ہو. وہ میری محبت نہیں میری ضد تھی. تمہاری ذات کا گھمنڈ توڑنے کا غرور. تو دیکھ لو آج میری ضد پوری ہوچکی ہے. میر زیان حیدر میری جھوٹی محبت کے جال میں پھنس چکا ہے. مجھے بہت مزا آرہا ہے آج. بہت خوش ہوں میں آج. اور جس طرح تم نے مجھے ریجیکٹ کیا تھا. آج میں تمہیں ریجیکٹ کرتی ہوں. جتنا تم نے مجھے بے عزت کیا ہے. محبت تو دوڑ کی بات ہے. مجھے اب تم سے نفرت ہوچکی ہے. آئی ہیٹ یو میر زیان حیدر.”
عائلہ زیان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سرد مہری سے کہتی وہاں سے پلٹی تھی.
یہ سب بولتے اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا. زیان کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی دیکھ عائلہ کو اتنی تکلیف ہورہی تھی کہ جیسے کسی نے اُس کی شہہ رگ پر چھڑی چلا دی ہو.
عائلہ کو وہاں سے مُڑتا دیکھ زیان نے طیش کے عالم میں اُس کا بازو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑتے پاس رکھی کرسی پر گرا دیا تھا. عائلہ نے اُٹھنا چاہا تھا. لیکن اُس سے پہلے ہی زیان نے چیئر کی ایک جانب عائلہ کے قریب اپنا پیر رکھتے عائلہ کا چہرا ٹھوڑی سے تھام کر اپنے قریب کرتے اُس پر جھک آیا تھا.
” کیا بکواس کررہی ہو تم. تم میرے سامنے آکر ہر بار کوئی بھی ڈرامہ کرو گی اور تمہیں لگتا ہے میں اُس ہر یقین کر لوں گا. مانتا ہوں تم سے محبت ہوچکی ہے مجھے. جس کی شدت بہت زیادہ ہے. مگر پیار میں اتنا اندھا نہیں ہوا میں کہ تمہاری ہر بات پر یقین کر لوں گا. جلدی بولو. تمہاری ابھی کی. کی گئی اتنی فضول بکواس کے پیچھے کیا ریزن ہے. “
زیان کا چہرا عائلہ کے اتنے قریب تھا کہ عائلہ کو اُس کی سانسیں اپنی سانسوں سے اُلجھتی محسوس ہورہی تھیں. اُس جیسی بولڈ لڑکی بھی اِس وقت اپنے محبوب ترین شخص کی اتنی قربت پر شرم و حیا کے مارے بُری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی.
شدید غصے میں بھی زیان اُس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ چکا تھا.
عائلہ بہت زیادہ ایکٹنگ کے باوجود بھی اِن رنگوں کو اپنے چہرے پر آنے سے نہیں روک پائی تھی. عائلہ زیان کے آگے بُری طرح بے بس ہورہی تھی. وہ نہ ہی اُس کے آگے سے ہٹ سکتی تھی. اور نہ ہی اپنے آشکار ہوتے جذبات کو چھپا پارہی تھی. زیان اُس کے اتنے قریب تھا. کہ اگر وہ زرا سا بھی ہلتی تو اُس کا چہرا زیان کے چہرے سے ٹکرا جاتا. اور اِس وقت وہ ایسی کوئی قیامت افورڈ نہیں کرسکتی تھی.
” میں اِس بار کوئی ڈرامہ نہیں کررہی. بلکل سچ کہہ رہی ہوں. جانے دو مجھے یہاں سے. میں یہاں صرف یہی بتانے آئی تھی. “
عائلہ زیان کی آنکھوں میں دیکھنے سے اجتناب برتتے بولی. زیان کی گرم سانسوں سے اُسے اپنا چہرا جھلستا ہوا محسوس ہورہا تھا. وہ اُس کی نظروں سے اوجھل ہوجانا چاہتی تھی. اُسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ مزید اِسی پوزیشن میں زیان کے قریب رہی تو ضرور پگھل جائے گی. جو کہ وہ کسی صورت ہونے نہیں دینا چاہتی تھی.
” اگر یہ سب ڈرامہ نہیں ہے. تو یوں چوروں کی طرح یہاں وہاں دیکھتے نظریں کیوں چُرا رہی ہو. جیسے ہمیشہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محبت کا اظہار کیا ہے ویسے ہی اِن میں دیکھ کر اب اپنی نفرت کا اظہار کرنے کی ہمت نہیں ہے تم میں. مجھے پاگل بنانے کی کوشش مت کرو. کوئی بھی انسان صرف اپنی ضد پوری کرنے کے لیے. کسی اور کی موت اپنے سر کبھی نہیں لے سکتا. “
زیان نے اب کی بار عائلہ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اُسے اپنی آنکھوں میں دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا.
جہاں نمی کا ہلکا سا شائبہ موجود تھا. جیسے وہ اپنے آنسوؤں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہو.
” مجھ میں ہمت ہے تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی. میں ڈرامہ نہیں کررہی میر زیان حیدر میں سچ میں تم سے محبت نہیں کرتی. اور میں باقی انسانوں کی طرح بلکل نہیں ہوں. میرے لیے میری ضد پوری کرنا زندگی اور موت سے بھی کہیں اُوپر ہے. اور تمہیں اپنی جھوٹی محبت کا یقین دلانے کے لیے میں نے وہ سب کیا. “
عائلہ نے اندر سے کمزور پڑنے کے باوجود بھی اپنے لہجے کو پختہ اور اٹل رکھا تھا.
مگر عائلہ کی بات کی نفی کرتی اُس کی آنکھیں زیان کو اُس کا جواب دے گئی تھیں.
” میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ پاگل لڑکی ہو تم. میں نہیں جانتا یہ فضول قسم کا کونسا نیا فتور تمہارے دماغ میں سما گیا ہے. مگر جو بھی ہے. تمہیں میں تین دن کا ٹائم دے رہا ہوں. اپنے اِس پاگل دماغ کا علاج کرو. ورنہ بعد میں میرا طریقہ شاید تمہیں پسند نہ آئے. “
زیان عائلہ کو آزاد کرتا اُس کے اُوپر سے ہٹ گیا تھا. جس پر عائلہ ایک لمحے کی بھی دیر کیے بنا وہاں سے اُٹھتی باہر کی جانب بڑھی تھی. وہ جلد از جلد زیان کی بولتی نظروں سے غائب ہوجانا چاہتی تھی.
لیکن چند قدم چل کر ہی اُسے پھر رُکنا پر گیا تھا. جس کی وجہ اپنا ہاتھ ایک بار پھر اُس دشمنِ جاں کی گرفت میں آجانا تھی. زیان کی جان لیوا قربت اور شدت بھرے لمس پر اُس کی سانسیں بکھری ہوئی تھیں. اور دھڑکنوں کی رفتار کا شمار لگانا ہی مشکل ہورہا تھا. اب ایک بار پھر زیان کی گرفت پر عائلہ کو اپنی جان مشکل میں پڑتی محسوس ہورہی تھی. جب وہ اُس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا. تو اُس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے وہ نجانے کیا کیا حرکتیں کر جاتی تھی. اور آج جب وہ خود قریب آرہا تھا. تو عائلہ کے لیے اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنا مشکل ہورہا تھا.
اِس سے پہلے کے عائلہ پلٹتی زیان نے ایک جھٹکے سے اُسے اپنی جانب کھینچا تھا. جس کے نتیجے میں عائلہ سیدھی زیان کے مضبوط سینے سے جا ٹکرائی تھی. اُس کے دور ہونے سے پہلے ہی زیان اُن کے گرد بازو حمائل کر چکا تھا.
” میں ہر جذبہ بہت ہی ایمانداری سے نبھانے کا عادی ہوں. پہلے جب تم سے نفرت تھی تو اُسے بھی پورے دل سے نبھایا. اور اب محبت جس کی شدت باقی سب جذبوں سے کئی گنا زیادہ ہے. سوچ لو اُس کو نبھانے کے لیے میں کس حد تک جاؤں گا. پہلے تمہارے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا. مگر اب تمہیں خود سے دور کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا. اور نہ ہی تمہیں ایسا کرنے دوں گا. میری معمولی سی نفرت کی جھلک دیکھ کر تم کچھ حد تک تو میرے مزاج سے واقف ہو گئی ہوگی. لیکن یوں سمجھ لو وہ صرف ایک ٹریلر تھا. میری محبت کی پوری پکچڑ دیکھنا ابھی باقی ہے. مجھے پورا یقین ہے تم جھوٹ بول رہی ہو. لیکن پھر بھی اگر یہ صرف محبت کا ناٹک بھی تھا. تو اب تم میرے دل میں محبت کا بیج بو چکی ہو. اب تم مجھ سے نفرت کرو یا محبت رہنا تو تمہیں میرے ساتھ ہی ہوگا. کیونکہ ضد میں میں تم سے بھی کہیں زیادہ آگے ہوں. ہاں یہ بعد میں ڈیسائیڈ کروں گا کہ اگر تم واقعی جھوٹ بول رہی ہو تو تمہارے اِس دھوکے کی کیا سزا تجویز کروں.
اینی ویز تم جتنا مرضی ناٹک کرو تمہاری آنکھیں ساری سچائی بیان کررہی ہیں. اِن ہیزل گرین آنکھوں کی یہ بات بہت اچھی ہے کہ یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتیں.”
زیان نے اپنی بات ختم کرتے جھک کر عائلہ کی دونوں آنکھیں چوم لی تھیں.
” اب تمہارے قریب تب ہی آؤں گا. جب تم مکمل طور پر میری ملکیت میں آجاؤ گی. اور ہاں اگر آج کے بعد میں نے تمہیں اِس بے ہودہ لباس میں دیکھا تو اچھا نہیں ہوگا.”
زیان عائلہ کو اپنے کوٹ سے اچھی طرح کور کرتے اُس کو اپنے حصار سے آزاد کرتا دو قدم پیچھے ہٹ گیا تھا. زیان کی بات سن کر اور اُس کے ہونٹوں کا مرہم اپنی آنکھوں پر محسوس کرتے عائلہ سے چند قدم چلنا بھی دشوار ہوچکا تھا.
نجانے کتنی ہمت جمع کرتے وہ جلدی سے اُس کی آنکھوں سے اوجھل ہوئی تھی.
” پاگل لڑکی.”
زیان اُسے دور جاتا دیکھ ہولے سے بڑبڑاتے وہیں چیئر پر ڈھیر ہوا تھا. اُسے یہ بات اچھا خاصہ الجھنے پر مجبور کررہی تھی کہ آخر عائلہ کو ہوا کیا ہے. وہ ایسا بی ہیو کیوں کررہی ہے. اُس نے اپنے لیے اِس لڑکی کا جو پاگل پن دیکھا تھا. وہ جھوٹ یا دھوکہ بلکل نہیں تھا. جس طرح وہ حواسوں میں نہ ہوتے ہوئے بھی اُس کا نام پُکارتی تھی. وہ سب جھٹلائے جانے کے قابل بلکل بھی نہیں تھا.
اِس سب کے پیچھے جو ریزن بھی تھا. زیان اُسے جلد از جلد معلوم کرنے کا سوچتے وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” وہ دیکھیں زیان بھی آگیا. اب خود اُسی سے پوچھ لیں ساری بات. یہی آپ لوگوں کو مطمئن کرے گا.”
ہشام کو اندر داخل ہوتا دیکھ سلمان صاحب نے ڈرائنگ روم میں موجود سب گھر والوں کو مخاطب کرتے اُس کی جانب اشارہ کیا تھا. جو سب اِس وقت عجیب سی سچویشن کا شکار تھے. ہشام کے نکاح کی خبر نے اُن سب کو ہی اپنی جگہ ہلا کر رکھ دیا تھا. سائرہ بیگم شدید غصے اور پریشانی کے عالم میں واسع کے ساتھ گردیزی وِلا میں پہنچ چکی تھیں.
ہشام سب کو باآواز بلند سلام کرتا حمدان صاحب کے ساتھ صوفے پر آبیٹھا تھا. شائستہ بیگم پریشانی کے عالم میں اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں. جس کے فیصلے سے وہ بھی ناواقف تھیں.
” ہشام کیا ہے یہ سب. ہم سب جانتے ہیں تمہارے لیے تمہاری جاب تمہارا پیشن ہے. لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اپنے ایک معمولی سے کیس کی خاطر اپنی زندگی کا اتنا اہم فیصلہ کر جاؤ گے. “
سائرہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کر ڈالیں. ہشام گردیزی خاندان کا سب سے قابل , فرمانبردار اور لاڈلا بیٹا تھا. جس سے رشتہ جوڑنے کی خواہش بہت سی فیملیز کی تھی. ہمیشہ سے وہ پورے خاندان میں ہر ایک کے سامنے اِس فخر کے ساتھ سر اُٹھا کر رہی تھیں. کہ ایس پی ہشام گردیزی اُن کا ہونے والا داماد ہے. مگر آج اتنی بڑی خبر سن کر اُن کا اطمینان چِھن چکا تھا.
” پھوپھو جان یہ کوئی معمولی کیس نہیں ہے. اِس سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں اُن کی خوشیاں جڑی ہیں. اور یہ اہم فیصلہ میں نے بہت ہی سوچ سمجھ کر کیا ہے.”
ہشام نے بہت ہی تحمل سے جواب دیا تھا. باقی سب خاموشی سے اُن کی باتیں سن رہے تھے.
” لیکن مجھے تو نہیں لگتا کہ یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے. ایک دہشت گرد کی بیٹی جسے کوئی اپنے گھر میں ملازمہ بھی نہ رکھے تم نے کچھ وقت کے لیے ہی لیکن اُسے گردیزی خاندان کی بہو کا درجہ دے دیا. بھائی ہشام سے تو میں پھر بھی اُمید کرسکتی ہوں کہ وہ جوش میں آکر ایسا کوئی فیصلہ کرسکتا ہے. مگر آپ سب لوگ ہی کچھ سوچ سمجھ کر کام لیتے. “
سائرہ بیگم نے اپنی بات کی لپیٹ میں سب کو لیا تھا. جو جو ہشام کے نکاح میں شریک تھے. واسع کی تو وہ پہلے ہی اچھی خاصی درگت بنا چکی تھیں.
مِنہا کے بارے میں غلط بولنے پر ہشام کے ماتھے پر سلوٹیں اُبھری تھیں.
” سائرہ تم اتنی ٹینشن کیوں لے رہی ہو. ہشام نے اُس لڑکی سے نکاح اُسے اِس گھر کی بہو بنانے کے لیے نہیں کیا بلکہ صرف اُس کی حفاظت کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے. وہ جلد ہی یہ معاملہ حل ہوتے ہی اُسے چھوڑ دے گا.”
سلمان صاحب نے اُنہیں مطمئن کرنا چاہا تھا. ہشام خاموشی سے اُن کی باتیں سن رہا تھا. شائستہ بیگم کو اپنے بیٹے کی خاموشی کسی بہت بڑے طوفان کی نوید دے رہی تھی.
” میں کچھ نہیں جانتی. ہشام کو آج ہی اُس لڑکی کو طلاق دینی ہوگی. میں اپنی بیٹی کے ساتھ اتنی بڑی نا انصافی نہیں ہونے دوں گی. “
سائرہ بیگم کی بات پر سب کی نظریں ہشام پر اُٹھی تھیں. جس پر کب سے خاموش بیٹھے ہشام نے اپنی چُپ توڑتے وہاں موجود سب نفوس کو ساکت کر دیا تھا.
” میں ایسا کبھی نہیں کروں گا. اُس لڑکی کو میں اپنا نام دے چکا ہوں. اور بہت جلد بیوی کی حیثیت بھی دوں گا. آپ سب کو بھی اُسے میری بیوی اور اِس گھر کی بہو کی حیثیت سے قبول کرنا ہوگا. “
ہشام کی بات پر سب لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا.
جاری ہے۔۔۔
