Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25 & 26

اکرام صاحب اور فاخرہ بیگم عائلہ کہ پاس آئے تھے. تاکہ اپنے کیے کی معافی مانگ سکیں. جس پر عائلہ نے ہمیشہ کی طرح بنا منافق بننے معاف تو کردیا تھا مگر ساتھ یہ

بھی کہا تھا کہ اُس کی پوری زندگی میں جو کچھ بھی اُس کے ساتھ ہوا ہے. وہ اُسے معاف تو کرسکتی ہے مگر بھول کبھی نہیں سکتی. بار بار اپنی باکرادار مری ہوئی ماں کے کردار پر کیچڑ اچھالنا وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی.

اُس کی باتیں سن کر اکرام صاحب اپنی بیٹی کو گلے لگانے کی خواہش دل میں ہی لیے واپس آگئے تھے.

” عائلہ یہ میڈیسن لے لو. “

عائلہ بیوٹیشن کے پاس تیار ہورہی تھی جب مِنہا ہاتھ میں میڈیسن لیے اُس کے پاس آئی تھی.

” مِنہا یہ بہت کڑوی ہیں مجھے نہیں لینی یہ.”

عائلہ بقول اُس کے اتنی ساری کڑوی دوائیاں کھا کھا کر تنگ آچکی تھی.

” اوکے تو میں کال کر دیتی ہوں. زیان بھائی کو وہ خود ہی آکر یہ کڑوی دوائیاں تمہیں کھلائیں گے. “

مِنہا سہولت سے جواب دیتی موبائل کی جانب بڑھی تھی. مگر موبائل پر انجان نمبرز سے آئے اتنے سارے میسجز اور کالز دیکھ مِنہا کو ایک بار پھر خوفزدہ کر گئی تھیں.

” یہ جو تم صبح سے مجھے ایک ہی دھمکی دے کر سارے کام کروائے جارہی ہو نا. اِس کا بدلہ لوں گی میں تم سے کبھی ہشام بھائی کے نام پر. “

عائلہ نے زیان کا نام لیے جانے پر شرافت سے بات مانتے مِنہا کو جواب میں مصنوعی دھمکی بھی دے ڈالی تھی.

جس کا مِنہا مسکرا کر جواب دیتی باہر نکل آئی تھی.

اُس کا موبائل ایک بار پھر بج رہا تھا. مِنہا کسی قسم کی کوئی کال اٹینڈ نہیں کرنا چاہتی تھی. مگر نا چاہتے ہوئے بھی میسج پر دی جانے والی دھمکیوں کے زیرِ اثر اُسے کال اُٹھانی پڑی تھی.

” رفیق نیازی بات کررہا ہوں. کیسی ہیں آپ مسسز ہشام گردیزی. بہت عزت اور محبت مل رہی ہے آپ کو اپنے شوہر سے. میری مانیں تو میرے پاس آجاؤ اِس سے بھی کہیں زیادہ دوں گا. “

رفیق نیازی نے فائقہ سے نمبر لے کر اُسے اپنے طریقے سے بلیک میل کرنے کا سوچا تھا.

” گھٹیا شخص تمہیں شرم نہیں آتی یہ سب حرکتیں کرتے ہوئے. کسی کی بیوی کو اِس طرح فون کرکے حراسہ کرکے کونسی مردانگی دیکھانا چاہتے ہو تم. اگر ہمت ہے تو میرے شوہر کا مقابلہ کرو.”

مِنہا کا دل چاہا تھا کہ اِس گھٹیا شخص کا منہ توڑ دے.

” ہاہاہاہاہا یار میں نے تو سنا تھا تم تو بہت معصوم سی ہو. لیکن لگتا ہے اپنے اُس جلاد شوہر کے ساتھ رہ رہ کر اُس جیسی ہوگئی ہو.”

رفیق نیازی مِنہا کے چلانے پر ہنسا تھا. مِنہا کا دل چاہا تھا کہ فون بند کر دے مگر اُس کی میسج پر دی گئی دھمکیوں کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پارہی تھی.

” تم نے مجھے فون کیوں کیا ہے.”

مِنہا کو اُس کی فضول بکواس میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا. اِس لیے وہ جلد از جلد فون بند کرنا چاہتی تھی.

” میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ تمہیں ہشام گردیزی کے خلاف میڈیا کے آگے بیان دینا ہوگا. جو میں کہوں گا وہ. اُس کے بعد جو تم مرضی چاہو ہشام گردیزی کے ساتھ رہو یا جہاں مرضی تمہیں فُل آزادی ہوگی. “

رفیق نیازی کی بات پر مِنہا چونکی تھی.

رفیق نیازی اچھے سے جانتا تھا کہ اپنی بیوی کے اُٹھائے گئے اتنے بڑے قدم کے بعد وہ اُس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا.

” کیا بولنا ہوگا مجھے ہشام کے خلاف.”

مِنہا کے جواب پر رفیق نیازی کے چہرے پر مکروہ ہنسی پھیل گئی تھی. کیونکہ بیان دے دینے کے بعد وہ مِنہا کے ساتھ کیا کرنے والا تھا. یہ بات وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی.

” تمہیں وہاں یہ کہنا ہوگا. کہ ہشام گردیزی نے تم سے زبردستی نکاح کیا ہے. تم اب مزید اُس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی. تمہیں اُس سے آزادی چاہئے. “

رفیق نیازی نے اُسے اور بھی مزید باتیں کہتے آرام سے دھمکی دے ڈالی. کہ اگر اُس نے یہ بات نہ مانی تو وہ ہشام سمیت اُس کے خاندان والوں کو بھی نہیں چھوڑے گا.

” کیا مطلب ہے تمہارا اگر میں یہ سب نہیں کروں گی تو تم کیا کرو گے. “

مِنہا کا دل چاہا تھا ابھی ہشام کو یہ ساری باتیں بتا کر اِس شخص کی اچھی خاصی چھترول کروا دے.

” اگر تم نے یہ سب نہ کیا اور اُس ایس پی کو بتانے کی کوشش کی تو اُس کی موت کی ذمہ دار تم ہوگی. تمہارے لیے ہی اُس نے سیکیورٹی کا انتظام کیا ہوا ہے نا. خود تو ہر وقت اِس ملک کا محافظ بنا جان ہتھیلی پر رکھ کر ہیرو بنا اکیلا پھر رہا ہوتا ہے. اُس کے سینے میں پیوست کی گئی میری ایک گولی اُس کا کام تمام کردے گی. آج رات کا ٹائم ہے تمہارے پاس اگر ہاں میں جواب دیا تو ٹھیک اور اگر نہ میں جواب دیا یا ہشام گردیزی کو بتانے کی کوشش کی تو پھر دیکھ لینا کیا انجام ہوگا تمہارا اور تمہارے شوہر کا.”

رفیق نیازی نے سفاکی سے کہتے فون بند کردیا تھا.

مِنہا ہاتھوں میں سر گراتی وہیں بیٹھتی چلی گئی تھی. اُس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ہشام کو بتا کر اُس کی جان کا رسک لے لے. یا میڈیا کے سامنے جھوٹ بول کر اُس پر الزام لگا دے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

مہندی کا شانداز فنکشن شروع ہوچکا تھا. زیان اپنی پوری فیملی کے ساتھ وہاں پہنچ چکا تھا. اور شدت سے عائلہ کا منتظر تھا. جب ایک طرف سے اُسے عائلہ باقی لڑکی کے درمیان پھولوں کے جھرمٹ میں چلتی اپنی جانب آتی دیکھائی دی تھی.

ییلو اور وائٹ کنٹراس کے شرارے فراک میں بہت ہی خوبصورتی سے موتیوں کے پھولوں کے زیورات سے سجی وہ زیان حیدر کو مبہوت کر گئی تھی. مگر زیان کو وہ پہلے سے بہت کمزور لگی رہی تھی. اور یہی بات اُسے پریشانی میں مبتلا کررہی تھی.

بلیک کرتے شلوار میں ملبوس عائلہ کا ڈیشنگ سا میر اُس کے قریب آتے ہی آگے بڑھا تھا. زیان کو فیل ہورہا تھا کہ جیسے عائلہ بہت مشکل سے چل رہی ہو. اِس لیے زیان اُس کے گرد اپنا مضبوط ہاتھ پھیلاتے اُسے سہارا دیتے سٹیج پر لے آیا تھا. جسے دیکھ وہاں موجود ینگ پارٹی نے پورے جوش سے ہوٹنگ کی تھی.

” میر میں بلکل ٹھیک ہوں. “

زیان کو فکرمندی سے اپنی جانب دیکھتا پاکر عائلہ مُسکرا کر بولی تھی.

” پر مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی. پلیز بتاؤں اگر زرا بھی طبیعت خراب ہے تو میں بنا یہ فنکشن ضائع کیے ڈاکٹر کو یہیں بلوا لوں گا. “

زیان اُس کا ہاتھ گرفت میں لیے پریشانی سے بولا. جس پر عائلہ اُسے محبت پاش نظروں سے دیکھ کر رہ گئی تھی.

وہ اِس وقت خود کو بہت ہی خوش قسمت محسوس کررہی تھی. کہ اُسے زیان حیدر جیسا پیارا اور اتنا کیئرنگ شخص ملا تھا.

” پلیز میر پریشان مت ہو. میں بلکل ٹھیک ہوں. “

عائلہ کے کافی دیر یقین دلانے کے بعد کہیں جاکر زیان کی تسلی ہوئی تھی. اور تبھی زیان کے کہنے پر مہندی کی رسم شروع کی جاچکی تھی.

مِنہا جو دل میں پکا ارادہ کرچکی تھی کہ ہشام سے کچھ نہ چھپاتے آج کے فنکشن میں اُسے سب بتا دے گی. مگر ابھی سب لوگوں کے ساتھ ہشام کو نہ دیکھ اچھی خاصی پریشان ہوچکی تھی. وہ کتنی بار ہشام کا فون بھی ٹرائے کرچکی تھی. لیکن کوئی جواب نہیں آیا تھا. یہ بات مِنہا کو بہت زیادہ ٹینشن میں مبتلا کررہی تھیں.

” اسلام و علیکم! بھابھی جان کیسی ہیں آپ. لگتا ہے آپ کافی شدت سے ہشام بھائی کا انتظار کررہی ہیں.”

تیمور کب سے اکیلی اُداس کھڑی اپنی کیوٹ سی بھابھی کے پاس آنے سے خود کو روک نہیں پایا تھا.

” جی. “

منہا نے بنا جھوٹ بولے مسکرا کر جواب دیا تھا.

” اُنہیں اچانک کوئی ضروری کام آگیا تھا اِس لیے وہ لیٹ ہوگئے. مگر بہت جلد ہی وہ پہنچ جائیں گے یہاں. آپ فکر مت کریں. وہ زیان بھائی کی مہندی اور آپ سے ملنا بلکل بھی مِس نہیں کریں گے.”

تیمور کے شرارتی انداز پر مِنہا مسکرائے بنا نہیں رہ سکی تھی.

تیمور اِسی طرح ہلکی پھلکی گفتگو کرتا مِنہا کی اُداسی کم کرنے کی کوشش کررہا تھا. جب اچانک فون آجانے کی وجہ سے تیمور کچھ سائیڈ پر ہوا تھا.

” واٹ ہشام بھائی کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے. وہ کہاں ہیں اِس وقت. ٹھیک تو ہیں نا. اُنہیں گولی تو نہیں لگی. “

تیمور آواز آہستہ رکھنے کی کوشش کے بعد بھی پریشانی کے عالم میں اُونچا بول گیا تھا. اُس کی بات با آسانی مِنہا کے کانوں تک پہنچتی اُس کے حواس سلب کر چکی تھی. مِنہا فوراً تیمور کی جانب بڑھی تھی.

” تیمور بھائی کیا ہوا ہے ہشام کو. پلیز مجھے بتائیں ہشام ٹھیک ہیں نا. کس نے فائرنگ کی اُن کی گاڑی پر. وہ خود کہاں ہیں. مجھے اُن کے پاس جانا ہے.”

مِنہا منت بھرے لہجے میں تیمور سے بولتے اپنے آنسو نہیں روک پائی تھی.

” بھابھی پلیز کام ڈاؤن. کچھ نہیں ہوا ہشام بھائی کو. اُن کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے. مگر اُنہوں نے اپنی بہادری سے منہ توڑ جوابی فائرنگ کرتے حملہ آوروں کو ہی دھول چٹا دی. وہ بلکل ٹھیک ہیں. اور کچھ ہی دیر میں یہاں پہنچ جائیں گے. اور آپ پلیز روئیں مت. اگر اُنہوں نے آپ کو روتے دیکھ لیا تو میری مفت میں ہی سب کے سامنے چھترول ہوجائے گی.”

کسی حد تک پرسکون ہوتے تیمور کی شرارت میں کہی بات پر مِنہا مسکرائے بنا نہ رہ سکی تھی. مگر جلدی سے مِنہا وہاں سے ہٹتی کچن کی جانب آگئی تھی. جو اِس وقت بلکل خالی تھا.

پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے مِنہا کے کانوں میں رفیق نیازی کی دھمکیاں گونج رہی تھیں. ابھی تو اُس نے کسی کو بتایا ہی نہیں تھا پھر بھی وہ یہ حرکتیں کررہا تھا اگر مِنہا نے ہشام کو بتا دیا تو تب نجانے وہ گھٹیا غنڈہ کیا کرے گا.

یہ ساری سوچیں بار بار مِنہا کے دماغ میں گردش کرتیں اُسے ہشام کو کچھ بھی بتانے سے روک رہی تھیں.

مِنہا اپنی ہی سوچوں میں گم تھی. جب اپنے پیچھے ہونے والی آہٹ پر مِنہا ڈر کر پلٹی تھی. جہاں فائقہ سجی سنوری نفرت کا زہر آنکھوں میں بھرے اُسی کی جانب دیکھ رہی تھی.

” آپ… “

مِنہا نے کچھ بولنا چاہا تھا. جب فائقہ اُس کی بات بیچ میں ہی کاٹتے چلائی تھی.

” ہاں میں وہی ہوں جس کی ساری خوشیاں چھین لی ہیں تم نے. ہشام گردیزی کی فیانسی جس سے تم جیسی آوارہ عورت نے اُس کی محبت چھین کر اپنے نام لکھوا لی. اِس سے پہلے اور کتنی عورتوں سے اُن کے مرد چھین چکی ہو. یا یہ شروعات مجھ سے کی… “

فائقہ اور بھی نجانے کیا کیا بولتی مگر مِنہا اُس کی زہر اُگلتی زبان وہیں روک گئی تھی.

” بس بہت ہوگیا. اگر میں خاموش کھڑی ہوں تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ تم کچھ بھی بولو گی. ہوں گی تم ہشام کی فیانسی مگر میں اب بیوی ہوں ہشام کی. ہمارے دین میں اگر کوئی رشتہ معنی رکھتا ہے تو وہ ہے نکاح کا رشتہ. یہ منگنی وگنی اور فیانسی یہ سب تو انسان کے خود ساختہ بنائی گئے رشتے ہیں. اگر تم نکاح میں ہوتی ہشام کے تو میں یا تو ہشام سے شادی ہی نہ کرتی یا کسی بھی طرح اب تک ان سے طلاق لے چکی ہوتی. مجھے تمہارا سن کر بہت بُرا لگا تھا. مگر میں تب بے بس تھی. چاہ کر بھی تمہارے لیے کچھ نہیں کرپائی. مگر تمہیں مجھ پر اِس طرح کے فضول الزامات لگانے کا کوئی حق نہیں ہے. سو پلیز مائنڈ یور لینگویج.”

مِنہا پہلے کبھی کسی کے سامنے اتنی اونچی آواز میں نہیں چیخی تھی. لیکن آج اِس لڑکی کی اول فول بکواس وہ برداشت نہیں کر پائی تھی.

اور شاید یہ بات سچ تھی کہ ہشام گردیزی کی صحبت نے اُسے غصہ کرنا تو سیکھا ہی دیا تھا.

فائقہ مِنہا کے اتنے آرام سے آئینہ دیکھائے جانے پر اندر تک جل گئی تھی. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہشام کے نام پر اچھلنے والی اِس لڑکی کا ابھی گلا دبا دے.

” میں یہاں تمہاری یہ ساری بکواس سننے نہیں آئی. مجھے رفیق نیازی نے بھیجا ہے تمہارا فیصلہ جاننے کے لیے. کیونکہ تم اُس کا فون تو اُٹھا نہیں رہی. اور ابھی تیمور کے منہ سے ہشام پر ہونے والی فائرنگ کا سن کر اتنا تو اندازہ ہوگیا ہوگا تمہیں کہ رفیق نیازی اگر ہشام پر فائرنگ کروا سکتا ہے تو اُسے مروا بھی سکتا ہے. سو پلیز سوچ سمجھ کر جواب دینا.”

فائقہ کی بات سن کر مِنہا نے بے یقینی سے اُسکی جانب دیکھا تھا. ایک طرف وہ ہشام سے محبت کا دعویٰ کررہی تھی. اور دوسری طرف صرف اُس سے اِس بات کا بدلہ لینے کے لیے مروانے کی دھمکی دے رہی تھی.

” تم رفیق نیازی جیسے شخص کے ساتھ مل کر اپنے ہی ماموں کے بیٹے کو مروانے کی پلاننگ کررہی ہو. تم اتنے عزت دار خاندان کی بیٹی اتنی گھناؤنی اور گھٹیا حرکت کیسے کرسکتی ہو. تمہیں شرم نہیں آرہی یہ سب کرتے اور کہتے ہوئے.”

مِنہا کا دل چاہا تھا ابھی باہر جاکر چیخ چیخ کر اِس لڑکی کی حقیقت سب کو بتا دے.

” جب تم جیسی گھٹیا لڑکی اِس عزت دار خاندان کی بہو بن سکتی ہے تو میں کیوں یہ سب نہیں کرسکتی. اور مجھے تم سے مزید کوئی بحث نہیں کرنی. ہاں یا نہیں میں جواب دو. ہشام کو بچانے والی ڈیل منظور ہے یا نہیں. اور اِس پر عمل تمہیں کل ہی کرنا ہوگا.”

فائقہ نے کھردرے سفاک لہجے میں کہتے مِنہا کو جیسے زندگی اور موت کے امتحان میں ڈال دیا تھا. دونوں صورتوں میں ہی ہشام نے اُس سے دور ہوجانا تھا. مگر دوسری صورت میں وہ زندہ تو رہتا نا. اُسے کوئی نقصان تو نہ پہنچتا. یہی بات سوچتے مِنہا نے آنکھیں بند کرتے اثبات میں سر ہلا دیا تھا.

” میں تم لوگوں کی بات ماننے کو تیار ہوں. کل جس ٹائم بھی تم لوگ کہو گے میں وہاں پہنچ جاؤں گی.”

مِنہا نے بہت ہی دقت سے یہ جملے ادا کیے تھے.

فائقہ اُس کے آنسوؤں پر نخوت سے سر جھٹکتی وہاں سے نکل گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

مہندی کا فنکشن اپنے پورے عروج پر تھا. زیان اور عائلہ سٹیج پر بیٹھے اپنی لائف کے سب سے خوبصورت لمحے انجوائے کررہے تھے. دونوں کے چہروں سے خوشیاں چھلک رہی تھیں.

مِنہا کافی حد تک خود کو کمپوز کرتی ایک بار پھر وہاں آگئی تھی. جہاں آکر اُس کی نظروں نے بے اختیار ہشام کو ڈھونڈا تھا. مگر وہ ابھی تک وہاں نہیں پہنچا تھا.

فاریہ مِنہا کو وہاں کھڑا دیکھ اُس کا ہاتھ پکڑ کر سٹیج کی جانب بڑھ گئی تھی.

” بھئی ہمیں پتا ہے کہ بہت پیار ہے آپ دونوں. مگر اب اتنا بھی کیا کہ سب کے سامنے ہاتھ ہی پکڑ کر بیٹھ جائیں. “

فاریہ نے ہمیشہ کی طرح بنا کوئی لحاظ رکھتے اُن دونوں کو تنگ کرنا چاہا تھا. مگر مقابل بھی زیان اور عائلہ تھے. زیان نے فاریہ کے طنز پر عائلہ کا ہاتھ اور مضبوطی سے تھام لیا تھا. جس پر عائلہ کی ہنسی نکل گئی تھی.

” فاریہ زیان بھائی تو لندن سے آئیں ہیں نا. اِنہیں یہاں کی رسموں کا نہیں پتا لیکن ہم تو جانتے ہیں نا. کہ مہندی والے دن دلہا دلہن یوں جڑ کر نہیں سیپریٹ بیٹھتے ہیں. نیچے بہت سی آنٹیاں اِس بات پر اعتراض بھی کررہی ہیں.”

مِنہا نے آنکھوں میں شرارت لیے فاریہ کو بھی اشارے سے اپنے ساتھ ملاتے اپنی طرف سے ایک نئی رسم نکالی تھی. کیونکہ وہ جانتی تھی عائلہ کو اِن سب باتوں کا کچھ علم نہیں ہے. اور زیان تو ویسے بھی زیادہ تر لندن میں ہی رہا تھا.

مِنہا کی بات پر دونوں نے سوالیہ انداز میں فاریہ کی جانب دیکھا تھا. جس کا جواب اثبات میں پاکر بھی زیان ویسے ہی ریلیکس انداز میں بیٹھا رہا تھا. جیسے اُسے کسی رسم سے کوئی پرواہ ہی نہ ہو.

” یہ کیسی عجیب و غریب رسم ہے. میں نہیں مانتا اِسے.”

” کیا ہوا بھئی کونسی رسم نہیں مانتے تم. “

سٹیج کے اُوپر قدم رکھتے ہشام نے زیان کی بات سن کر جواب دیا تھا. زیان اور عائلہ کو مبارک باد دیتے مِنہا پر ایک بھرپور نظر ڈالتے ہشام زیان کے ساتھ رکھے صوفے پر جا بیٹھا تھا.

مِنہا اِس وقت اورینج کلر کے لانگ فراک میں جس پر سلور کلر سے خوبصورت سی ایمبرائیڈری کی گئی تھی. لائٹ سے میک اپ میں موتیوں کے پھولوں کی ماتھا پٹی لگائے وہ ہشام کو ہمیشہ سے کہیں زیادہ پیاری لگی تھی. مِنہا کو اپنی گرم نگاہوں کے تسلسل سے سُرخ ہوتے دیکھ ہشام نے بہت مشکل سے اپنی نگاہوں کا زاویہ بدلا تھا.

مِنہا ہشام کو سہی سلامت اپنے سامنے دیکھ بہت خوش ہوئی تھی. مگر اب ہشام کی موجودگی میں زیان اور عائلہ کو تنگ کرنے کے لیے فاریہ کا ساتھ اُس سے کسی صورت نہیں دیا جانا تھا.

ہشام کے پوچھنے پر زیان نے اُسے مِنہا کی بنائی گئی رسم کے بارے میں بتایا تھا. جسے سن کر ہشام اپنا بے ساختہ اُبھر آنے والا قہقہ نہیں روک پایا تھا.

” مجھے سچ میں نہیں معلوم تھا کہ میری معصوم سی بیوی اتنی ظالم بھی ہوسکتی ہے.”

ہشام کے انداز پر مِنہا جو اچھی خاصی پزل ہورہی تھی. اور کچھ نہ سوجھتے خاموشی سے وہاں سے واک آوٹ کر گئی تھی.

” آپ دونوں نے میری فرینڈ کو ناراض کردیا ہے. “

عائلہ نے اُن دونوں کے قہقہ لگانے پر اُنہیں گھورتے ہوئے کہا تھا. جس پر مسکراتے ہشام بھی مِنہا کے پیچھے سٹیج سے اُتر آیا تھا.

” مِنہا کیا ہوا ہے یار میں صرف مذاق کررہا تھا. “

روم کی جانب بڑھتی مِنہا کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہشام نرمی سے بولا تھا.

” آپ مجھ پر ہنسے کیوں. “

مِنہا اپنے اندر کی پریشانی اور بے چینی چھپانے کی کوشش کرتی فضول بات پر ہشام سے لڑنے کی کوشش کررہی تھی.

” مِنہا میری طرف دیکھو تم رو کیوں رہی ہو. یہ صرف ایک مذاق تھا. آئم ریلی سوری میری جان اگر تم اتنا پرٹ ہوئی تو. “

ہشام مِنہا کی آنکھوں سے اُمڈ آنے والے آنسوؤں کو اپنے پوروں پر چنتے محبت سے بولا. جس پر مِنہا بنا اُس سے کچھ کہے اُس کے سینے میں اپنا چہرا چھپا گئی تھی. وہ اپنے اندر حال ہشام کے آگے بیان نہیں کرسکتی تھی.

” آپ اتنا لیٹ کیوں آئے. میں کتنی دیر سے آپ کا ویٹ کررہی تھی.”

مِنہا ہشام کے سینے پر سر رکھے اُس کی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی شکوہ کرتے بولی

” مجھے ٹائم پر ہی آنا تھا. مگر ایک بہت ضروری کام آگیا اِس لیے تھوڑا لیٹ ہوگیا. “

ہشام نے مِنہا کا ماتھا چومتے اُس سے اُٹھتی مہندی اور موتیے کی رچی بسی خوشبو اپنی سانسوں میں اُتارتی اُنہیں معطر کیا تھا.

” مِنہا. “

کافی دیر خاموشی سے کھڑے ایک دوسرے کو محسوس کرتے ہشام کی گھمبیر سرگوشی میں لیا گیا نام مِنہا کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا.

مِنہا اُس کی پکار پر دل و جان سے متوجہ ہوئی تھی.

” کیا تمہارے رونے کی وجہ یہی تھی. اگر کوئی اور بات تمہیں پریشان کررہی ہے تو مجھے بتاؤ. مگر خود کو کسی بات کے لیے بھی پریشان مت کرنا. “

ہشام کی بات پر مِنہا کی آنکھیں ایک بار پھر نم ہوئی تھیں. کتنا پیار کرتا تھا وہ اُس سے. بن کہیں اُس کی پریشانی سمجھ گیا تھا. اور وہ اِس اتنے پیارے انسان کو اتنا بڑا دھوکہ دینے جارہی تھی. مگر اُس کے پاس بھی تو اِس کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں بچا تھا. وہ کیا کرتی.

” نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے. وہ تو میں تب مجھے بُرا لگا تھا اِسی وجہ سے آنکھوں میں آنسو آگئے تھے.”

مِنہا نے مسکرا کر ہشام کی جانب دیکھتے اُسے اپنی طرف سے بلکل مطمئن کرنا چاہا تھا.

جبکہ کچھ فاصلے پر کھڑی فائقہ نفرت اور حسد سے اُن دونوں کے محبت سے جگمگاتے چہرے دیکھ اُن کی زندگی میں آنے والے طوفان پر مسکرا کر رہ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ہشام سلمان صاحب کے روم میں اُن کے سامنے صوفے پر براجمان تھا.

” ہشام تم نے مجھے اِس بار بہت مایوس کیا ہے. میں اِس بات کی امید اِس خاندان کے ہر بچے سے کر سکتا ہوں مگر مجھے تم سے اِس بات کی اُمید بلکل بھی نہیں تھی. “

سلمان صاحب کی ایک بار پھر یہی بات دوہرانے پر ہشام مُٹھیاں بھینچ کر اپنا غصہ ضبط کرنے لگا تھا.

” تایا جان اِس کا مطلب ہے کہ آپ کے نزدیک بھی یہ بات بلکل ٹھیک ہے. اور آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ میں صرف اور صرف آپ بڑوں کے سرسری سے طے کئے گئے اُس رشتے کی بنیاد پر اپنی بیوی کو طلاق دے کر اِس خاندان کی لڑکی سے شادی کروں.”

ہشام ایک ایک لفظ پر زور دیتے بولا.

جس پر سلمان صاحب اپنے لاڈلے اور غصے کے تیز بھتیجے کو گھور کر رہ گئے تھے.

” یہی تو افسوس ہے کہ تم مجھے بھی سمجھ نہیں پائے. اور اُس دن میری غصے میں کہی بات پر بجائے میرے پاس آکر سب کچھ کلیئر کرنے کے اتنا وقت ناراض رہے. شاید یہ سب کرتے تم بھول گئے کہ آج تک ہمیشہ تمہاری ہر خواہش کو پورا کرنے کے لیے پورے خاندان کی مخالفت مول لینے والا تمہارا تایا تم سے تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خوشی کیسے چھین سکتا ہے. “

سلمان صاحب کی بات پر ہشام نے جھٹکے سے سر اُٹھاتے اُن کی جانب دیکھا تھا. جو اُس کے رویے سے بہت زیادہ ہرٹ لگ رہے تھے.

” میں نے تمہیں طلاق دینے کی بات صرف غصے میں کہی تھی. اُس وقت سچویشن ہی ایسی تھی. جس طرح اچانک تم نے سب کے سامنے آکر میری بات کی نفی کرتے مجھے سب کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کردیا. اُس بات نے مجھے بہت دکھ پہنچایا. کیونکہ میں تمہارے آنے سے پہلے ہی پورے یقین سے سب کو تمہارا معاملہ کلیئر کررہا تھا. اگر تم ایک بار اپنے بدلے جانے والے فیصلے کے بارے میں مجھے بتاتے تو سب سے پہلے اپنے حق میں مجھے ہی پاتے. “

سلمان صاحب کی پوری بات سن کر ہشام کو شدت سے ندامت کا احساس ہوا تھا. واقعی وہ سچ ہی تو کہہ رہے تھے. آج تک ہمیشہ اُنہوں نے اُس کے ہر کام میں ساتھ دیا تھا. جتنا پیار اُنہوں نے اُس سے کیا تھا اُتنا پیار شاید اُنہوں نے اپنی سگی اولاد سے بھی نہیں کیا تھا.

ہشام اپنی جگہ سے اُٹھتا اُن کے قدموں میں جا بیٹھا تھا.

” مجھے معاف کرتے دیں تایا جان. میں نے بہت غلط کیا. فضول کے غصے میں آکر میں نے اپنے سب سے پیاری دوست کو خفا کردیا. اُس وقت رفیق نیازی کی کہی باتوں کا اتنا غصہ تھا مجھے. کہ آپ کی بات سمجھ ہی نہیں پایا. پلیز معاف کر دیں مجھے. آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا.”

ہشام کان پکڑ کر کہتا اپنی ندامت کا اظہار کرتے معافی مانگنے لگا تھا.

سلمان صاحب کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اُس کی سمجھ میں اصل بات آچکی تھی. اور اب اُن دونوں کے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں تھی.

سلمان صاحب نے مُسکراتے ہشام کو اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا.

” میں نے دیکھا کل رات اپنی بہو کو بہت پیاری ہے. تیمور نے دیکھایا مجھے. تم جیسے اُلٹی کھونپڑی کے بندے کے لیے بلکل پرفیکٹ ہے. کیونکہ اُس بچی کی معصوم صورت دیکھ تم چاہنے کے باوجود اُس پر غصہ نہیں کر پاؤ گے. “

سلمان صاحب کی بات پر ہشام کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ پھیل گئی تھی.

” اتنی بھی معصوم نہیں ہے آپ کی بہو. کچھ ہی دنوں میں آپ کے بھتیجے کو اچھا خاصہ نچا کر رکھ دیا ہے. “

ہشام نے مِنہا کی لڑائیاں یاد کرتے قہقہ لگایا تھا. جس میں سلمان صاحب نے بھی اُس کا ساتھ دیا تھا.

” بہت رہ لی ہماری بہو اپنے اصل گھر سے دور. آج ہی زیان کی شادی ختم ہوتے ہی اُسے اپنے ساتھ یہاں لے کر آنا ہے. ہماری بہو کا بہت ہی شاندار طریقے سے استقبال کیا جائے گا. اور میں اچھے سے جانتا ہوں یہ جو سب گھر والے اُس سے ملنے کے لیے اُتاولے ہو رہے ہیں. صرف میرے ڈر اور لحاظ کی وجہ سے کچھ بول ہی نہیں رہے. “

ہشام اُن کی بات سن کر مسکرایا تھا. جو بظاہر تو بہت ہی سٹریکٹ بنے ہوئے تھے. مگر اندر سے سب کے دلوں کا حال جانتے تھے. اور ہمیشہ اُن کی اِنہیں باتوں اور سمجھداری نے پورے گھر کو جوڑ کر رکھا ہوا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آج زیان اور عائلہ کی برات تھی ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں پھیلی ہوئی تھیں.

زیان اور عائلہ دونوں اِس وقت سٹیج پر بیٹھے اپنی محبت مل جانے پر اپنے پروردگار کے بہت زیادہ شکرگزار تھے. جس نے اتنی آزمائشوں اور کھٹنائیوں کے بعد آخر کار اُن کی محبت کو امر کر دیا تھا. اب وہ دونوں پوری ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنے سامنے موجود سب سے بڑی آزمائش سے لڑنے کے لیے دلوں جان سے تیار تھے.

ایک بہت ہی خوشیوں اور محبت بھرے فنکشن کے اختتام کے بعد عائلہ کو زیان اپنے وعدے کے مطابق عزت اور محبت کے ساتھ اپنے گھر لے آیا تھا. اور چند ایک رسموں کے بعد زیان پوری احتیاط اور نرمی کے ساتھ اُٹھائے اپنے روم میں داخل ہوا تھا.

عائلہ کو زیان بلکل گلاب کی کلی کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا. کہ زرا سی بے احتیاطی کی وجہ سے کہیں یہ بکھر نہ جائے.

عائلہ کو بیڈ پر بیٹھاتے زیان نے سب سے پہلے اپنی پاکٹ سے کچھ میڈیسن نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر پانی کے گلاس کے ساتھ اُس کی جانب بڑھایا تھا.

جنہیں دیکھتے عائلہ زیان کو گھورنے لگی تھی.

” دنیا میں پہلا دلہا ہوگا جو اپنی دلہن کو منہ دیکھائی میں یہ اتنی کڑوی دوائیاں پیش کررہا ہے. “

عائلہ کے منہ بسور کر کہنے پر زیان اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا.

” مائی لو اِس وقت اِن کی میرے نزدیک کیا قیمت ہے میں بتا نہیں سکتا. کیونکہ اِن کی وجہ سے ہی ہم آگے کی زندگی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں.”

زیان نے اُس کا ماتھا چومتے محبت سے چور لہجے میں کہا تھا.

جو سُرخ عروسی لباس میں اُس کے لیے پور پور سجی اُس کا ضبط آزما رہی تھی.

ہمیشہ کی طرح زیان کی بات نہ ٹال سکتے عائلہ کو بہت مشکل سے وہ کڑوی دوائیاں نگلنی پڑی تھیں.

اُس کے ہاتھ سے گلاس پکڑ کر سائیڈ پر رکھتے زیان نے عقیدت سے اُس کا نازک ہاتھ تھامتے اُس کی پشت پر لب رکھ دیئے تھے.

” عائلہ زیان حیدر تم سے زیادہ خوبصورت اور خوب سیرت لڑکی اِس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے. اور تمہاری اہمیت میر زیان حیدر کے دل میں کیا ہے اِس بات کا اندازہ تمہیں میرے ساتھ رہتے بہت اچھے سے ہوجائے گا. میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں کبھی خود سے جدا نہیں ہونے دوں گا. “

زیان کی بے پناہ محبت پر عائلہ کا دل اپنی قسمت پر نازاں ہو اُٹھا تھا.

اُس نے اثبات میں سر ہلاتے آگے کو ہوتے زیان کے کندھے پر سر ٹکا دیا تھا. جو اب اُس کی کُل کائنات تھا. جس کے بغیر اب عائلہ کے لیے ایک پل بھی سانس لینا مشکل تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

مِنہا دل میں ہزاروں خدشات لیے مگر چہرے پر وہاں موجود ہر نفوس اور خاص طور پر ہشام گردیزی کی خاطر ہونٹوں پر بہت ہی پیاری مُسکان سجائے اُس کا ہاتھ تھامے گردیزی پیلس کے اندر داخل ہوئی تھی.

جس کے مکینوں نے آخرکار آج اُسے پورے دل سے قبول کر لیا تھا. مِنہا وہاں موجود ہر شخص کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ رہی تھی. سوائے چند ایک افراد کے جن میں فائقہ نمایاں تھی. جس طرح پھولوں اور محبتوں کے سائے میں مِنہا ہشام کے مضبوط حصار میں اُس کی بیوی کی حیثیت سے اُس گھر میں داخل ہوئی تھی. یہ منظر فائقہ کے دل پر چھڑیاں چلا گیا تھا.

اُس نے ہمیشہ اِس سب کے خواب دیکھے تھے. مگر صرف اور صرف مِنہا کی وجہ سے وہ چکنا چور ہوچکے تھے. مِنہا کے لیے اتنی محبتیں دیکھ فائقہ پاگل ہو اُٹھی تھی. اگر رفیق نیازی بیچ میں نہ پڑتا تو اُس کا دل چاہ رہا تھا. اپنے ہاتھوں سے اِس لڑکی کا گلا گھونٹ دے.

” فائقہ بیٹا تم ٹھیک ہو. “

سائرہ بیگم فائقہ کے پاس آتیں اُس کے چہرے پر موجود پتھریلے تاثرات دیکھتیں فکرمندی سے بولیں.

سائرہ بیگم ہشام کے انکار پر اُسی دن اپنے میکے والوں سے سب تعلق توڑ کر جاچکی تھیں. جس کے بعد ہشام کے علاوہ گھر کا تقریباً ہر فرد اُنہیں منانے گیا تھا. مگر وہ کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں تھیں. واسع نے بھی اُنہیں اصل بات سمجھاتے ہشام کی پوزیشن کلیئر کرنا چاہی تھی. مگر اُنہوں نے اُس کی بھی ایک نہیں سنی تھی.

فائقہ کو سائرہ بیگم کی ناراضگی اپنے بنائے گئے پلان کے آڑے آتے دیکھائی دے رہی تھی. اِس لیے ناچاہتے ہوئے بھی اُسے سائرہ بیگم کو ہشام کی سائیڈ لیتے اپنے طریقے سے منانے کی کوشش کی تھی. اور اِس سب کو اپنی قسمت کا لکھا جان کر بھول جانے کو کہا تھا. جسے سمجھتے سائرہ بیگم کافی حد تک نرم پڑ چکی تھیں. مگر پوری طرح ناراضگی اُن کی آج صبح ہشام کے اُن کے پاس جاکر منانے پر ختم ہوئی تھی. اور اِس وقت وہ ہر بات بھلائے محبت کے ساتھ ہشام کی بیوی کو ویلکم کرنے کے لیے وہاں موجود تھی.

” جی مما میں بلکل ٹھیک ہوں. اور بہت خوش بھی ہوں.”

فائقہ نے مُسکرا کر اُنہیں تسلی دی تھی. جس پر وہ پرسکون ہوتی مسکرا دی تھیں. اُنہیں اپنی بیٹی کی سمجھداری پر بہت خوشی ہوئی تھی.

” بھابھی میں نے سنا ہے. آپ نے ہمارے اِس بگڑے بھائی کو کافی حد تک سیدھا کر لیا ہے.”

ڈرائنگ روم میں کافی دیر کی گیڈرنگ کے بعد اب وہ ساری ینگ پارٹی ہشام کے بیڈ روم میں موجود تھی.

” کیا اِس بات کا ثبوت یہ نہیں ہے کہ تم سب لوگ اِس وقت میرے روم میں موجود ہو. “

ہشام جس کو زیادہ لوگوں کا اپنے روم میں آنا بلکل بھی پسند نہیں تھا. اِس لیے شائستہ بیگم ہمیشہ اِس بات کا خیال رکھتی تھیں. مگر آج مِنہا کی بدولت وہ سب بڑے ہی شہانہ انداز میں اُس کے بیڈ روم میں موجود تھے.

بسمہ کی بات کے جواب میں ہشام کے کیے جانے والے گہری طنز پر سب لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی. جن میں مِنہا بھی شامل تھی.

” ویسے یار تم لوگ ہمارے سر پر سوار ہوکر کس بات کی دشمنی نکال رہے ہو. آج تو تم سب کو زیان کے گھر پر موجود رہ کر اُس کے ناک میں ایسے ہی دم کرنا تھا. شادی تو آج اُس کی ہوئی ہے. ہم تو اب پرانا کپل بن چکے ہیں. “

ہشام آج کے دن اُن سب کو ڈانٹنا نہیں چاہتا تھا. اِس لیے بہت ہی پیار سے پچکارتے دبے لفظوں میں وہاں سے نکل جانے کی طرف اشارہ کیا تھا.

” اُن کو بھی دیکھ لیں گے. مگر اِس وقت جو یہاں بیٹھنے کا مزا ہے وہ وہاں نہیں ہے. “

ہشام کی اِس بات کا جواب تیمور کی جانب سے ہی آیا تھا. جس پر ہشام اُسے صرف گھور ہی سکا تھا. کیونکہ اِس وقت سب لوگوں کے درمیان بیٹھے وہ کچھ زیادہ ہی شیر ہورہا تھا.

مِنہا ہشام کا اپنے کزنز کے ساتھ ایک الگ روپ دیکھ کر مُسکرا دی تھی. جس کے جواب نے ہشام نے آنکھوں ہی آنکھوں سے اُسے یہاں سے فرار ہوجانے کا اشارہ کیا تھا. جس پر مِنہا اُسے چڑھاتے نفی میں جواب دے رمشا لوگوں کی طرف متوجہ ہو گئی تھی. ہشام سسرالیوں کے بیچ آتے ہء اتنی جلدی اپنی بیوی کے بدلتے تیور دیکھ مسکرا دیا تھا.

مِنہا جو ہشام کی فیملی والوں کے رویے سے اتنا ڈر رہی تھی. مگر اُن سب سے مل کر اُن کا اتنا پیار پاکر مِنہا کو لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ لوگ اُس کے لیے انجان تھے. اُس گھر کے بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ہر ایک ساری بے تکلفی سائیڈ پر رکھتے اجنبیت کی دیوار بلکل ختم کرچکے تھے.

مِنہا کو ہمیشہ ایسی ہی محبت بھری بڑی فیملی کی خواہش تھی. جو ہشام نے اُس کی باقی بہت سی خواہشوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی پوری کر دی تھی. اتنا سب کچھ مل جانے کے بعد مِنہا اِس وقت خود کو بہت خوش نصیب لڑکی تصور کرتی اگر اُس کے سر پر وہ خطرے بھری تلوار نہ لٹک رہی ہوتی. جس سے وہ کچھ وقت بعد اِن خوشی بھرے چہروں کی ہنسی چھیننے والی تھی. خاص کر ہشام گردیزی جو اُس کا محسن تھا.اُس کی زندگی بن چکا تھا. اُسے ایک شرمناک اور اذیت بھری زندگی گزارنے سے بچا کر اتنی عزت اور محبت بخش رہا تھا. اُسے تکلیف دینے کے بارے میں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی. مگر ابھی کچھ پلوں میں وہ اُسے بہت بڑی تکلیف دینے جارہی تھی. جسے سوچتے مِنہا کا اپنا دل درد سے پھٹ رہا تھا.

وہاں موجود ہشام کے سب کزنز کی مستیاں عروج پر تھیں. ہشام کوئی امپورٹینٹ کال آجانے کی وجہ سے باہر نکل گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” میر اب تک کتنی گرل فرینڈز رہ چکی ہیں تمہاری.”

عائلہ زیان کے بازو پر سر رکھ کر اُس کے قریب لیٹی پرسوچ انداز میں بولی تھی.

جبکہ اُس کے سُندر مُکھرے کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے زیان ایسے سوال پر بد مزا سا ہوا تھا.

” آج کی رات تمہیں یہ اُلٹی سیدھی باتیں ہی پوچھنی ہیں کیا. میری کبھی کوئی گرل فرینڈ نہیں رہی.”

زیان عائلہ کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹیں نرمی سے پیچھے کرتا بولا.

” یہ فضول نہیں بہت امپورٹینٹ سوال ہے اور میر پلیز جھوٹ بول کر میرے سامنے زیادہ شریف بننے کی ضرورت بلکل بھی نہیں ہے. تم اتنے ہینڈسم , گڈ لکنگ ہو وہاں کی لڑکیاں پاگل تو ہوں گی تمہارے پیچھے. جن میں سے کوئی ایک تمہیں بھی پسند آئی ہوگی.”

زیان نے خاموش نظروں سے اپنی کی جانب دیکھا تھا. جو کسی بھی حالت میں اُس کی گرل فرینڈ چاہتی تھی. جسے دیکھتے زیان کو شرارت سوجھی.

” ہممہ مطلب تم سچ جانے بغیر جان نہیں چھوڑو گی. اور جس طرح تم بلکل ٹھیک اندازے لگا رہی ہو. لگتا ہے فاریہ تمہیں میرے اور جیسما کے بارے میں سب کچھ بتا چکی ہے.”

زیان کی سوچ کے عین مطابق اُس کی بات سنتے عائلہ کو جھٹکا لگا تھا. اُس کی آنکھوں میں صاف نظر آتی جیلسی اور غصہ دیکھ زیان نے بہت مشکل سے اپنے اُمڈ آنے والی ہنسی پر قابو پایا تھا.

جاری ہے ۔۔۔