Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7 & 8

مِنہا نے کسمساتے آنکھیں کھول دی تھیں. اُس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا. ایک ہاتھ سے سر کو مسلتی وہ اُٹھ بیٹھی. لیکن انجان جگہ دیکھ اُس کا دماغ چکرا گیا تھا. وہ بھاگ کر کمبل ہٹاتی دروازے کی جانب بڑھی. جسے کھلا پاکر اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی تھی. کمرے سے نکل کر آگے بڑا سا لاؤنج تھا. منہا بھاگتے قدموں سے اُسے عبور کرتی مین ڈور کی جانب بڑھی تھی. وہ جلد سے جلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی. لیکن مین ڈور لاک دیکھ اُس کا سارا جوش ہوا ہوا تھا. ہمت نہ ہارتے اُس نے تمام رومز کی کھڑکیاں بھی چیک کی تھیں. مگر وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ پاکر مِنہا روتے ہوئے فرش پر بیٹھتی چلی گئی تھی. پچھلے کچھ گھنٹوں میں گزرے واقعات ایک فلم کی طرح اُس کے ذہن کے پردے پر چلنے لگے تھے.

مِنہا کو یاد آیا تھا کہ آخری بار اُس نے اپنے پاس جس نقاب پوش کو دیکھا تھا. وہ تو وہی پولیس والا تھا. جس سے مِنہا کی پچھلے دنوں دو تین بار تو ملاقات ہو ہی چکی تھی.

” تو کیا مجھے اُس نے کڈنیپ کیا ہے. مگر وہ مجھے کڈنیپ کیوں کرے گا اُس کی مجھ سے کیا دشمنی ہے. اور وہ تو ہے بھی ایک پولیس والا. یا ﷲ جی پلیز یہاں سے نکلنے میں میری مدد کریں. پاپا جانی کہاں ہے آپ. آپ کی بیٹی مشکل میں ہے آپ کیوں نہیں پہنچے ابھی تک میرے پاس. پلیز پاپا جانی جلدی سے آجائیں میرے پاس مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے یہاں. پتا نہیں وہ شخص مجھے یہاں کیوں لایا ہے کیا دشمنی ہے اُس کی مجھ سے. کیا کرنا چاہتا ہے وہ. “

مِنہا مسلسل آنسو بہانے میں مصروف تھی. جب اُس کی نظر اپنی دونوں کلائیوں پر بندھی پٹی پر پڑی تھی. ایک پل کے لیے وہ حیران رہ گئی تھی.

” یہ اتنی عنایت کس نے کی مجھ پر. کہیں وہ شخص میرے قریب تو نہیں آیا. آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے. “

مِنہا اپنی ٹانگیں سینے سے لگائے گھٹنوں کے گرد بازو کا حصار بنا کر خود میں سمٹتی مزید خوفزدہ ہوئی تھی. اُسے یاد تھا جب وہ رسیوں سے باندھی ہوئی تھی تو اُس کی کلائیاں بُری طرح چِھل گئی تھیں. تو پھر اُس کا کوئی دشمن تو اُس کے زخموں پر مرہم نہیں رکھے گا.

اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ہشام کیس میں اِس قدر مصروف ہوگیا تھا کہ اُسے فارغ ہوتے ہوتے رات کے بارہ بج گئے تھے. وہ گھر کی جانب نکل آیا تھا. لیکن اچانک مِنہا کا خیال آتے ہی اُس نے گاڑی اپنے فلیٹ کی جانب موڑ دی تھی.

” اوہ شٹ اُس لڑکی کے بارے میں بھول کیسے گیا میں. کتنا ٹائم ہوچکا ہے ہوش میں تو آچکی ہوگی.”

ہشام تیز تیز ڈرائیونگ کرتا اپنے فلیٹ تک آپہنچا تھا.

فلیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ہشام کو ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا نظر آیا تھا. ہشام لائٹ آن کرتا اندر روم کی جانب بڑھا تھا. جہاں وہ مِنہا کو چھوڑ کر گیا تھا.

بیڈ بلکل خالی دیکھ ہشام کو تشویش ہوئی تھی. لیکن کمرے کے ایک کونے میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے وجود پر نظر پڑتے ہی وہ ریلیکس ہوتے اُس کی جانب بڑھا.

ہشام کو وہ سکڑ سمٹ کر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی بلکل بے سدھ لگی تھی. ایک دو آوازوں پر رسپانس نہ پاکر ہشام نے اُس کے پاس بیٹھتے ہولے سے اُس کا بازو ہلایا تھا.

جس پر مِنہا فوراً نیند سے بیدار ہوئی تھی. اک پل کے لیے اجنبی نظروں سے ہشام کو دیکھنے کے بعد مِنہا آنکھوں میں خوف بڑھے پُھرتی سے اپنی جگہ سے اُٹھتی دور جاکھڑی ہوئی تھی.

ہشام کو اُس کی نظروں میں اپنے لیے یہ خوف بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا.

” آپ.. آپ نے کیوں کڈنیپ کیا ہے مجھے میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا پلیز مجھے جانے دیں. میں تو آپ کو جانتی بھی نہیں ہوں. “

مِنہا دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ڈری اور خوفزدہ سی آنکھوں میں آنسو لیے ہشام سے مخاطب تھی.

” واٹ میں نے تمہیں کڈنیپ کیا ہے. امیزنگ. یہاں محافظ کو ہی لٹیرا سمجھا جارہا ہے. “

ہشام بھی اپنی جگہ سے اُٹھ گیا تھا.

” تو آپ نے مجھے یہاں قید کرکے کیوں رکھا ہوا ہے. اور پلیز آپ میرے قریب مت آئیں. “

ہشام جو اُسے سمجھانے کے لیے چند قدم آگے بڑھا تھا. منہا کی بات پر اُس کا دماغ اچھا خاصہ گھوم گیا تھا. ایک تو وہ اِس لڑکی کی ہیلپ کررہا تھا. اُوپر سے یہی اُسے غلط بھی بول رہی تھی.

” تم ایک دن میں یہاں قید ہوکر اپنے حواس تو نہیں کھو بیٹھی. ہاں میں نے ہی کیا ہے تمہیں کڈنیپ اور اب سوچ لو تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے. “

ہشام مِنہا کی ہرنی جیسی ڈری سہمی آنکھوں میں جھانکتا اُس کے قریب آگیا تھا. جس پر مِنہا کا خوف مزید بڑھ گیا تھا.

” آپ دور رہیں مجھ سے. آپ کو شرم بھی نہیں آتی ایک پولیس آفیسر ہوکر ایسی حرکت کرتے ہوئے. “

مِنہا نے اُس کے دونوں کندھوں پر دباؤ ڈالتے خود سے دور کرنا چاہا تھا. اُس کے الفاظ اور حرکت سے مزید طیش میں آتے ہشام نے اُس کی دونوں کلائیاں پکڑ کر دیوار سے لگا دی تھیں.

” اچھا تو کیا نازیبا حرکت کی ہے میں نے تمہارے ساتھ جو مجھے شرم آنی چاہئے. “

مِنہا بولنا کچھ چاہتی تھی اور بول کچھ رہی تھی. ہمیشہ اِس پولس والے سب سامنا ہوتے ہی وہ اُلٹا سیدھا ہی بولتی اور کرتی تھی. ابھی بھی یہی ہورہا تھا.

” بے وقوف لڑکی میں نے تمہیں کڈنیپ نہیں پروٹیکٹ کیا ہے. جب تک تم اِس فلیٹ کے اندر ہو بلکل محفوظ ہو. اِس سے ایک قدم بھی باہر نکالا تو تمہاری تاک میں بیٹھے درندے چھوڑیں گے نہیں تمہیں. اِس لیے مجھ پر الزام لگانے کے بجائے میری احسان مند ہو. کہ تمہیں وہاں اُن کڈنیپرز کے چنگل سے بچایا کر لایا ہوں. “

ہشام نے غصے سے کہتے مِنہا کے آگے پوری بات کلیئر کر دی تھی. ہشام کا چہرا مِنہا کے چہرے کے بہت قریب تھا. اُس کی دونوں کلائیاں پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگائے ہشام تقریباً اُس کے اُوپر جھکا ہوا تھا. تبھی درد کے احساس سے مِنہا کی آنکھوں میں آنسو اُتر آئے تھے.

وہ ابھی بھی اِسی کشمکش میں تھی. کہ اگر یہ شخص واقعی اُس کا محافظ ہے تو اُسے گھر کیوں نہیں لے کر گیا. یہاں کیوں لے آیا ہے اور اُس کے بابا کو کیوں نہیں لایا اُس کے پاس.

” وائے آر یو کرائنگ. “

ہشام مِنہا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کچھ ڈھیلا پڑا تھا. یہ معصوم لڑکی تو کچھ زیادہ ہی نازک تھی. زرا سا تیز لہجہ بھی برداشت نہیں کر پائی تھی.

ہشام کے سوال پر منہا نے اپنی دکھتی کلائیوں کی جانب دیکھا تھا. جس کا خیال آتے ہی ہشام نے فوراً اُنہیں آزاد کردیا تھا.

” اگر باقی کے الزامات تم بعد کے لیے رکھ لو. اور باہر آکر کچھ کھا لو تو زیادہ بہتر ہوگا. بنا کسی نخرے کے آرام سے آکر کھانا کھا لو. کل سے تم بھوکی ہو. اِس لیے انکار کرکے اپنا مزید نقصان مت کرنا. میں اِس کے بعد کھانے کے لیے نہیں کہوں گا. “

ہشام اُسے سخت لہجے میں وارن کرتا باہر نکل گیا تھا.

مِنہا نے روتی آنکھوں سے دروازے کی جانب دیکھا تھا. جہاں سے ابھی وہ گیا تھا.

کتنا بے مروت اور عجیب انسان ہے یہ. سیدھی طرح بات بتانے کے بجائے پہیلیاں بھجوا رہا ہے. یا ﷲ جی پلیز مجھے جلدی سے یہاں سے نکال دیں. میں اِس روڈ انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی.

مِنہا دل ہی دل میں ہشام کی خوبیاں گنواتے.یہاں سے نکلنے کی دعا کرتے بولی. وہ ہشام کی بات سن کر کسی حد تک ریلیکس ہوچکی تھی. مگر اُس کی یہاں موجودگی اور پرتپیش نظروں سے گھبرائی ہوئی بھی بہت تھی.

ڈائنگ ٹیبل کے قریب پہنچ کر مِنہا کی نظر ہشام پر پڑی تھی. جو شاید باہر سے ہی کھانا لے کر آیا تھا. اور بریانی اپنی پلیٹ میں ڈالے مزے سے کھانے میں مصروف تھا. منہا کو بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی. اور وہ بھوک کی بہت کچی تھی. اِس لیے آرام سے وہ باہر آگئی تھی. مگر سامنے بریانی دیکھ اُس کی ساری بھوک اُڑ چکی تھی.

مِنہا شاید دنیا کی ایسی عجیب مخلوق میں سے تھی جس کو بریانی بلکل بھی پسند نہیں تھی.

” اِس کو دیکھنے سے پیٹ بلکل بھی نہیں بھرے گا. اور نہ ہی یہ خود اُٹھ کر پیٹ میں جائے گی. آگے بڑھ کر خود ہی کھانا پڑے گا اِسے. “

مِنہا کو کتنی ہی دیر ایک جگہ پر ہی جما دیکھ ہشام نے اُسے ٹوکا تھا.

” لگتا ہے اِس بندے نے بنا طنز کیے بات کرنا سیکھا ہی نہیں ہے.”

مِنہا ایک نظر دوبارہ کھانے میں مصروف ہشام کو گھورتے چیئر پر آبیٹھی تھی.

ہشام کھانا کھا چکا تھا. جب اُس کی نظر چمچ میں چار سے پانچ دانے چاول کے رکھ کر منہ تک لے جاتے دیکھا تھا. اُس کی پلیٹ میں تھوڑی سی مقدار میں بریانی موجود تھی. جس کے ساتھ کب سے وہ یہی شغل لگا رہی تھی. ہشام اپنی فیورٹ ڈش کے ساتھ اتنی بے حرمتی ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا. اِس لیے آگے ہوکر ہشام نے دو چمچ بھر کر بریانی کی مِنہا کی پلیٹ میں ڈال دی تھی.

منہا جو پہلے ہی بریانی ختم کرنے میں ہلکان ہورہی تھی. ہشام کی اِس حرکت پر ہکا بکا سی رہ گئی تھی.

” اِس کے ساتھ کھیلنے کے لیے نہیں. اِسے کھانے کے لیے لایا ہوں. جلدی سے اِسے ختم کرو شاباش. جب تک یہ پلیٹ خالی نہیں ہوگی. نہ تم یہاں سے ہلو گی نہ میں.”

ہشام مزے سے کرسی سے ٹیک لگاتا سیدھا ہوکر بیٹھ گیا تھا. مِنہا چند لمحے بے بسی سے اُسے دیکھنے کے بعد بمشکل کھانے لگی تھی.

ہشام کی نظریں اِس دھان پان سی لڑکی پر تھیں. جو کل سے بھوکا ہونے کے باوجود ابھی بھی کھانے سے انکاری تھی. اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی بھی تیر رہی تھی. جس کا ریزن سمجھنے سے وہ قاصر تھا. وہ ایک بار پھر مِنہا کے دلکش نقوش میں کھورہا تھا.

مِنہا نے کچھ سپونز کے بعد ہار مان لی تھی کہ وہ مزید نہیں کھا سکتی. اُس کی کلائیوں میں درد ہورہا ہے. اتنی بریانی کھانا اُس کی ہمت سے کہیں زیادہ تھا.

جس پر بنا مزید فورس کیے کال آجانے کی وجہ سے ہشام وہاں سے اُٹھ گیا تھا.

ہشام کو کمرے کی جانب جاتا دیکھ مِنہا کی نظر مین ڈور کی طرف گئی تھی. اور ایک خیال کے تحت خوش ہوتے وہ جلدی سے اُس جانب بڑھ گئی تھی.

مین ڈور کھلا دیکھ مِنہا کی خوشی کی انتہا نہ رہی تھی. ایک بھی لمحہ ضائع کیے اُس نے وہاں سے نکلنا چاہا تھا. جب پیچھے سے دروازے پر زور دار دباؤ ڈالتے ہشام نے مِنہا کو کلائی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچتے ڈور لاک کردیا تھا.

اپنے پکڑے جانے اور ہشام کی آنکھوں میں غصہ دیکھ مِنہا نظریں جھکا گئی تھی.

” جب میں نے تمہیں بتایا ہے کہ یہاں سے نکلنا تمہارے لیے کتنے خطرے کی بات ہے. پھر بھی یہ حرکت کرنے کی وجہ؟. تم واقعی ہی اتنی بے وقوف ہو یا صرف میرے سامنے شو کرتی ہو. “

ہشام اِس پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اُس کی پوری کوشش تھی ہشام کو غصہ دلوانے کی.

” میں بلکل بھی بے وقوف نہیں ہوں. اِس لیے آپ کی جھوٹی باتوں میں بھی نہیں آرہی. مجھے یہاں اِس طرح آپ کے ساتھ اکیلا نہیں رہنا. اور نہ ہی مجھے آپ کی کسی بات پر ٹرسٹ ہے. اگر میں واقعی خطرے میں ہوتی تو میرے پاپا جانی مجھ تک ضرور پہنچ جاتے. “

مِنہا آخرکار خود میں ہمت پیدا کرتی کب سے دماغ میں چلتی بات بول گئی تھی.

” تو محترمہ مِنہا شہباز صاحبہ تم بھی کان کھول کر سن لو. کہ مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے. کسی غیر لڑکی کو اِس طرح اپنے پاس رکھنے کا. لیکن میں تمہاری طرح بے وقوف بلکل بھی نہیں ہوں. کہ جذباتی ہوکر کچھ بھی بول اور کر دوں. اور جہاں تک رہی تمہارے باپ کی بات تو کیا پتا تمہارے اِس طرح یہاں ہونے کا ریزن بھی وہی ہو. “

ہشام چہرے پر طنزیا مسکراہٹ سجائے بولا.

” میں چاہتا بھی نہیں ہوں. کہ تم مجھ پر ٹرسٹ کرو. کیونکہ تم میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی. اگر مجبوری نہ ہوتی تو میں تمہیں ایک منٹ بھی یہاں نہ رکھتا. لیکن افسوس میں اتنا بے حس بھی نہیں ہوں.

اینی ویز میں ہی اِس بات میں غلط ہوں. کہ اپنی فیملی کو چھوڑ کر. تمہاری تنہائی کا سوچتے انسانیت کے ناطے یہاں آیا مگر تم اِس قابل ہی نہیں ہو. “

ہشام اگلے ہی لمحے مِنہا کی باتوں کا منہ توڑ جواب دیتے اچھی طرح سے اُسے اُس کی اہمیت یاد کروا گیا تھا.

” کچن میں کھانے کا سارا سامان موجود ہے. لاؤنج میں ٹیبل پر پڑی ڈائری میں میرا نمبر لکھا ہے. کسی بھی پرابلم میں تم اُس نمبر پر کال کر دینا. “

ہشام ہدایت دیتا بنا اُس کی جانب دیکھے اُسے سائیڈ پر کرتا دروازے کی جانب بڑھا تھا.

” مجھے یہاں نہیں رہنا باہر نکلنا ہے یہاں سے. “

مِنہا آنکھوں میں آنسو بھرے غصے سے بولتے ہشام کو بہت زیادہ کیوٹ لگی تھی. کیونکہ مِنہا کا غصہ ہشام کے نارمل بات کرنے جیسا تھا.

اُسے لڑکیوں میں ہمیشہ سے کوئی خاص انٹرسٹ نہیں رہا تھا. یہی وجہ تھی کہ اپنی فیانسی فائقہ سے بھی اُس کی بول چال بہت کم تھی. مگر یہ لڑکی زبردستی اُس کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی.

” فلحال ایسا ناممکن ہے. “

ہشام اُس کی بھیگی نم آنکھوں کی جانب ایک بھرپور نظر ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” یہ مِنہا کہاں ہے. کال کیوں نہیں اٹینڈ کررہی.”

عائلہ کو دو دن ہوچکے تھے. منہا سے ملے بات کیے. وہ اُس کے گھر کے نمبر پر بھی کال کرچکی تھی. جس پر ملازمین کا یہی کہنا تھا کہ ہم کچھ نہیں جانتے. لیکن یہ جان کر کہ شہباز انکل بھی گھر نہیں ہیں. عائلہ کو یہی لگ رہا تھا کہ وہ شاید اُن کے ساتھ کسی ٹرپ پر نکل چکی ہے.

” مِنہا کی بچی ایک بار واپس آجاؤ. پوچھ لوں گی تم سے بنا بتا کر جانے پر. “

عائلہ فون بیڈ پر پھینکتی باہر نکلنے لگی تھی. جب فاخرہ بیگم اُس کے کمرے میں داخل ہوئی تھیں.

” تم… تمہیں میں نے کتنی بار کہا ہے. میرے کمرے میں مت آیا کرو. ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کیا. “

عائلہ فاخرہ بیگم کو دیکھنے کے بعد اپنے نفرت پر قابو نہیں رکھ پاتی تھی.

” مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے. تمہارے اِس کمرے میں آنے کا. میں تمہارے باپ کے کہنے پر صرف اتنا بتانے آئی ہوں کہ کل تمہیں لڑکے والے دیکھنے آرہے ہیں. گھر پر ہی ہونا کہیں آوارہ گردی کرنے نہ نکل جانا. “

فاخرہ بیگم بھی اُسی کے انداز میں نفرت بھرے لہجے میں بولیں. جبکہ اُن کی نظریں عائلہ کی ڈریسنگ پر تھیں. ہمیشہ بولڈ ڈریسنگ کرنے والی آج حیرت انگیز طور پر سی بلیک کلر کی بہت ہی خوبصورت سے لانگ شرٹ جس کے دامن گلے اور بازو پر بوتیک سٹائل میں بہت نفیس ایمرائڈری کا کام کیا گیا تھا. بلیک ہی ٹراؤزر پہنے, دوپٹے کو ایک کندھے پر ڈالے وہ بے انتہا حسین لگ رہی تھی. بلیک کلر کے کھسے میں دھمکتے اُس کے دودھیا پیر کسی کو بھی اپنا اسیر بنا سکتے تھے.

” تو جیسے میرے باپ کا پیغام لے کر آئی ہو. ویسے ہی میرا بھی اُن تک پہنچا دو کہ میں اُن کی مرضی سے شادی بلکل بھی نہیں کروں گی. جب اور جس کے ساتھ میرا دل چاہے گا میں اُسی کے ساتھ کروں گی شادی. “

عائلہ اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی. اِس لیے مزید کوئی بھی بات سنے وہاں سے نکل آئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ہشام اپنے آفس میں تھا جب اُس کے سیل پر ایک انجان نمبر سے کال آنے لگی تھی.

” ایس پی ہشام گردیزی سپیکنگ. “

ہشام کی گھمبیر آواز سپیکر پر اُبھری تھی.

” ایس پی ہشام گردیزی بہت غلط کیا ہے تم نے مجھے دھوکا دے کر. اِس کا انجام بہت بُرا ہوگا. “

رفیق نیازی کی پھنکارتی آواز ہشام کے کانوں سے ٹکرائی.

” ہاہاہاہاہا یہی تو فرق ہے مجھ میں اور تم ضمیر فروشوں میں. تم لوگ دھمکی دیتے ہو. اور میں کرکے دیکھاتا ہوں. کیا یہی خالی خولی دھمکیاں دینے کے لیے فون کیا ہے مجھے.”

ہشام گردیزی نے اُس کا مذاق اُڑایا تھا.

” نہیں ایک ایسی بات بتانے کے لیے فون کیا ہے. کہ جسے سن کر تمہارے ہوش اُڑ جائیں گے. اور اُس لڑکی کو تم خود میرے حوالے کرو گے. “

رفیق نیازی اپنی نئی چال چلنے کو تیار تھا.

” کیا مطلب کیا کہنا چاہتے ہو تم. “

ہشام مِنہا کا نام سن کر الرٹ ہوا تھا. جب اُسی ٹائم دروازہ ناک کرتے پین اُس کے آگے ایک اینویلیوپ رکھ گیا تھا.

” میرا تحفہ پہنچ تو گیا ہوگا تم تک. نکاح نامہ ہے یہ میرا اور شہباز خان کی بیٹی مِنہا شہباز کا. یہ نکاح شہباز خان کی سرپرستی میں ہوا تھا. اِس لیے جلد از جلد میری بیوی کو میرے حوالے کردو ورنہ ایس پی صاحب کیس ڈالوانے تو تھوڑے بہت مجھے بھی آتے ہیں. “

رفیق نیازی کی بات پر ہشام نے فوراً لفافہ چاک کیا تھا. جس میں سے مِنہا اور رفیق نیازی کا نکاح نامہ برآمد ہوا تھا. جسے دیکھ ہشام کے واقعی ہوش اُڑ گئے تھے.

” کیا بکواس کررہے ہو تم. تم اُس کے باپ کی عمر کے ہو. شہباز خان کبھی بھی اپنی بیٹی کا نکاح تم سے نہیں کروائے گا. اور اگر یہ سچ ہے تو یہ بات پہلے کیوں سامنے نہیں آئی. فیک ہے یہ سب میں نہیں مانتا. “

ہشام کسی صورت یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھا. مِنہا کا روتا سہما سا حسین چہرا بار بار اُس کی نظروں میں سما رہا تھا.

” کیا ہو گیا ہے ایس پی صاحب آپ کو. ایک مجرم کے بارے میں کوئی بات اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں. جو شخص اپنا ضمیر بیچ سکتا ہے. کیا وہ اپنے کسی مفاد کی خاطر اپنی بیٹی کو نہیں بیچ سکتا. بہت وقت ہے تمہارے پاس ایس پی اچھے سے سوچ لو اِس بارے میں. اتنے بڑے عزت دار خاندان سے تعلق رکھتے ہو. اِس سب میں آکر کیوں اپنا نام خراب کرنا چاہتے ہو.

اور جہاں تک رہی نکاح کی سچائی کی بات تو. تمہارے ہاتھ میں موجود نکاح نامہ اِسی بات کا گواہ ہے. “

اچھی طرح سے اپنی بات ہشام کو سمجھاتے رفیق نیازی فون بند کرچکا تھا. جبکہ ہشام کی نظریں نکاح نامہ پر موجود مِنہا کے سائن پر ٹکی ہوئی تھیں.

نجانے کیوں اُسے بے حد غصہ آرہا تھا. اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ ہر چیز تہس نہس کردے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

گاڑی ڈرائیو کرتے ساتھ ہی عائلہ نے میوزک بھی لگا رکھا تھا. جو اُس کے دل پر اثر کرتا آج پھر میر زیان حیدر سے ملنے کی خواہش کررہا تھا. عائلہ کا شدت سے دل چاہ رہا تھا اپنے کھٹور صنم سے ملنے کا جس نے اپنے آفس گھر ہر جگہ نو انٹری کا بورڈ لگوا رکھا تھا. اور اب تو فون پر بھی اُسے بلاک کر چکا تھا.

سگنل پر گاڑی رکی ہوئی تھی. عائلہ اِنہیں سوچوں میں گم تھی. جب بے اختیاری میں اُس کی نظر دو گاڑیاں چھوڑ کر تیسری گاڑی پر پڑی. جس میں بیٹھے زیان کو دیکھ کر عائلہ کا چہرا کھل اُٹھا تھا. لیکن اُس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی لڑکی کو دیکھ عائلہ بے چین ہوئی تھی.

” کون ہے یہ لڑکی اور میرے میر کے ساتھ کیا کررہی ہے. “

عائلہ تو جیسے زیان کو کسی اور کہ ساتھ دیکھ پاگل ہو اُٹھی تھی. سگنل کھلتے ہی عائلہ نے اپنی گاڑی زیان کی گاڑی کے پیچھے موڑ دی تھی.

جو آگے جاکر اُسے ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے نظر آئے تھے. عائلہ بھی جلدی سے ریسٹورنٹ کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرتے اُن کے پیچھے اندر داخل ہوئی تھی. زیان کو کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھ عائلہ کے اندر آگ لگی ہوئی تھی.

ریسٹورنٹ میں داخل ہوکر ہر طرف نظر دوڑاتے اُسے ایک جانب زیان اُس لڑکی کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھا نظر آیا تھا. زیان کے چہرے پر مسکراہٹ نمایاں تھی. جو عائلہ نے پہلے ایک بار بھی نہیں دیکھی تھی. کوئی اور لمحہ ہوتا تو وہ گھنٹوں کھڑے ہوکر یہ مسکراہٹ اپنے دل میں اُتارنے پر لگا دیتی مگر اِس لمحے اُس کا دل خود ہی اُس کے کنٹرول سے باہر ہوا پڑا تھا. جس طرح زیان اُس لڑکی سے باتیں کررہا تھا. اُن پر مسکرا رہا تھا وہ لڑکی اُس کے لیے کوئی بہت خاص معلوم ہوتی تھی.

عائلہ دور کھڑے ہوکر مزید اپنے جذبات کا خون ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی. اپنے دل کی سدا پر سر خم کرتی وہ زیان کی جانب بڑھی تھی.

” ہائے میر زیان حیدر کیسے ہو تم. جانتے ہو آج کتنی شدت سے میرا دل چاہ رہا تھا. تم سے ملنے کا. اور دیکھو اُوپر والے نے میری یہ خواہش پوری کر دی. “

زیان جو بہت خوش سا فاریہ سے بات کرنے میں مصروف تھا. عائلہ کی آواز پر اُس کی مسکراہٹ سمٹی تھی. جو غیر اخلاقی حرکت کرتے اُن دونوں کے پاس جا بیٹھی تھی.

” یہ کیا بدتمیزی ہے عائلہ. ابھی اور اِسی وقت اُٹھو یہاں سے. تم میں زرا عقل نہیں کسی کے پرسنلز میں ایسے نہیں گھستے. “

عائلہ کی حرکت پر زیان کا چہرا غصے سے لال ہوا تھا. جبکہ فاریہ خاموشی سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی.

” کسی غیر کے پرسنلز میں کہاں گھس رہی ہوں. تم تو میرے ہو میر. تم پر پورا حق مانتی ہوں میں اپنا. اور کون ہے یہ لڑکی کیا کررہی ہے یہ تمہارے ساتھ. “

عائلہ بنا زیان کے غصے سے ڈرے ایک تیز نظر فاریہ پر ڈال کر ہٹ دھرمی سے بولی.

” کیا میں یہ سوال پوچھ سکتی ہوں کہ تم کون ہو. “

اب کی بار فاریہ سے بھی خاموش نہیں رہا گیا تھا.

” میں عائلہ اکرام ہوں. جو میر زیان حیدر کے عشق میں پوری طرح سے ڈوب چکی ہے. اور میر پر صرف اور صرف میرا حق ہے. تم دور رہو میرے میر سے. “

عائلہ کی بات پر جہاں زیان کا غصے سے بُرا حال ہوا تھا. وہیں فاریہ ہکا بکا سی کبھی زیان کو اور کبھی عائلہ کی جانب دیکھ رہی تھی. جہاں پر ایک کی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا جہاں آباد تھا. لیکن دوسرے کی آنکھوں میں نفرت, سرد مہری اور غصہ ہلکورے لے رہا تھا.

” زیان کون ہے یہ. “

فاریہ نے اب کی بار وہی سوال زیان سے کیا تھا. زیان یہاں کوئی ہنگامہ نہیں کرنا چاہتا تھا. اِس لیے اپنی جگہ سے اُٹھتے عائلہ کی آنکھوں کے سامنے فاریہ کا ہاتھ تھام لیا تھا.

” یہ کچھ بھی نہیں ہے میرے لیے. میرے دل میں اِس کے لیے محبت تو کیا نفرت بھی نہیں ہے. تو سوچ لو کیا اوقات ہوسکتی میری نظروں میں اِسکی. “

زیان ایک بار پھر نفرت کے تیر عائلہ کے دل پر چلاتا بہت ہی نرمی سے فاریہ کا ہاتھ تھامتے وہاں سے نکل گیا تھا.

اُس کے اتنے سخت الفاظ پر آنکھوں میں آنسو بھرے عائلہ کی نظریں زیان کے ہاتھ میں موجود فاریہ کے ہاتھ پر ٹک گئی تھیں.

” یہ کچھ بھی نہیں ہے میرے لیے.”

یہ الفاظ بار بار عائلہ کے کانوں میں گونج رہی تھیں. نجانے کتنے ہی آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نکل آئے تھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” زیان کیا تھا یہ سب. کون تھی وہ لڑکی اور تم اُس کے ساتھ اتنے روڈ کیوں تھے. کیا تم مجھے بتانا پسند کرو گے. “

فاریہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا. کہ آخر اندر یہ سب ہوا کیا ہے.

” چھوڑو یہ اتنی اہم بات نہیں ہے کہ ہم ڈسکس کریں. “

زیان گاڑی ڈرائیو کرتے ایسے لاپرواہ سے انداز میں بولا تھا. حیسے ابھی کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہیں.

” مگر مجھے جاننا ہے. میں نے اُس لڑکی کی آنکھوں میں تمہارے لیے بے انتہا محبت دیکھی ہے. جو کہ مجھے عام بات بلکل بھی نہیں لگی. “

فاریہ اپنی بات پر بضد تھی.

جس پر ہار مانتے زیان نے اُسے عائلہ سے ہوئی اپنی پہلی ملاقات سے لے کر آج تک کی ساری سٹوری سنا دی تھی. جسے سن کر فاریہ کچھ پل تو بول ہی نہیں پائی تھی.

” زیان تم اتنی روڈ کیسے ہوسکتے ہو. وہ بچاری تم سے اتنی محبت کرتی ہے. یہاں تک کہ خود کو بدلنے کے لیے بھی تیار ہوگئی ہے. اور کافی حد تک تمہاری پسند میں ڈھل بھی چکی ہے. پھر بھی تم اُس کے ساتھ ایسا کیوں کررہے ہو. “

فاریہ کو ساری بات سن کر زیان پر بہت غصہ آیا تھا.

” ویری گڈ فاریہ تم تو بہت دعوا کرتی ہو نا کہ بہت اچھے سے پہچانتی ہو تم لوگوں کو. تو اتنی آسانی سے اُس لڑکی کے دھوکے میں آرہی ہو. “

زیان کی بات پر فاریہ اُسے گھور کر رہ گئی تھی.

” میں بلکل ٹھیک دعوا کرتی ہوں. مجھے اچھے سے پہچان ہے لوگوں کی. اور ایک نظر میں ہی دیکھ کر سمجھ گئی ہوں کہ وہ لڑکی تم سے بہت پیار کرتی ہے. مگر شاید تم یہ سب دیکھنا اور سمجھنا ہی نہیں چاہتے. “

فاریہ کو اب زیان پر غصہ آرہا تھا.

” تم اُس لڑکی کی خاطر جسے تم جانتی تک نہیں ہو. مجھ سے لڑائی کررہی ہو. “

زیان کو فاریہ کی عائلہ کے لیے وکالت بلکل بھی پسند نہیں آئی تھی.

” ہاں کیونکہ مجھے وہ لڑکی بہت پسند آئی ہے اور مجھے اپنے بھائی کے لیے ایسی ہی لڑکی چاہئے جو اُسے دیوانوں کی طرح چاہتی ہو. اور جب تم نے میرا ہاتھ پکڑا اُس کی آنکھوں میں اُمڈ آنے والے آنسو صاف اِس بات کے گواہ تھے کہ وہ تم سے کتنا پیار کرتی ہے. “

فاریہ کو وہ پیاری سی لڑکی بہت پسند آئی ہے. اُس نے سوچ لیا تھا اب اگر دوبارہ کہیں ملی تو ضرور اُس سے دوستی کرے گی. اور اُسے اپنے اِس سڑیل بھائی کی زندگی میں ضرور لائے گی.

فاریہ زیان کی پھپھو کی بیٹی تھی. ابھی وہ ایک سال کی ہی تھی. جب ایک ایکسیڈنٹ میں اُس کے پیرنٹس کی ڈیڑھ ہوگئی تھی. فاریہ کو بلقیس بیگم نے گود لے لیا تھا. اور دودھ پلانے کی وجہ سے فاریہ زیان کی رضاعی بہن بھی تھی.

فاریہ کی شادی اُس کے کزن نعیم سے ہوچکی تھی. اور یہ لوگ لندن میں ہی رہتے تھے. فاریہ دو دن پہلے ہی پاکستان آئی تھی. جسے آج زیان کے ساتھ دیکھ عائلہ کچھ اور ہی سمجھ بیٹھی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” ماموں جان اِس کی شادی آپ اِس کے بڑھاپے میں جاکر کریں گے کیا. “

فاریہ جب سے آئی تھی زیان کی شادی کے پیچھے ہی پڑی ہوئی تھی. جیسے سوچ کر آئی ہو کہ اِس دفعہ زیان کی شادی کروا کر ہی جائے گی. اور اُوپر سے اب تو عائلہ سے ملنے کے بعد اُس کا ارادہ مزید پختہ ہوچکا تھا.

” یار تم نے کر لی ہے کافی نہیں ہے. پہلے ہی اتنی مشکل سے بابا سے میں نے دو مہینوں کی آزادی مانگی ہے. تم کیوں میرے پیچھے پڑ گئی ہو. “

زیان کو فارہ کی ایک یہی بات نا پسند تھی.

” فاریہ بیٹا تم ہی سمجھاؤ کچھ اِس لڑکے کو. میری تو سنتا ہی نہیں ہے. جب بھی کہوں کچھ نہ کچھ بول کو ٹال دیتا ہے. “

حیدر صاحب کی تو جیسے دل کی بات کی تھی فاریہ نے.

” ویسے ماموں جان ایک بہت پیاری سی لڑکی ہے میری نظر میں. آج ہی ملی ہوں میں اُس سے. بہت جچے گی وہ زیان کے ساتھ. “

فاریہ کی آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی.

جس پر زیان نے اُسے ایک زبردست گھوری سے نوازا تھا.

” اچھا تو بیٹا ملواؤ نا اُسے مجھ سے. ویسے بھی زیان نے دو مہینوں کا ٹائم دیا ہے ہمیں. اتنے ٹائم تک ہم کوئی اچھی سی لڑکی تو ڈوھونڈ رکھیں ہم. “

حیدر صاحب تو پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے.

” بابا میں نے بھی دیکھی ہے وہ لڑکی. مجھے بلکل بھی پسند نہیں آئی. “

زیان کو عائلہ کی زرا سی تعریف ہضم نہیں ہوئی تھی. وہ موبائل صوفے پر ہی رکھتا کچھ فاصلے پر ٹیبل پر پڑی فائل لینے کے لیے اُٹھا تھا. جب فاریہ کی نظر زیان کے موبائل پر کھلی گیلری پر پڑی تھی. بہت سی آفس ورک کی تصویروں کے درمیان اُسے ایک لڑکی کی تصویر سی نظر آرہی تھی. اپنی جگہ پر ہی بیٹھے فاریہ نے ہاتھ بڑھا کر اُس تصویر کو ہلکا سا ٹچ کیا تھا.

عائلہ اکرام کی دلکشی سے بھرپور تصویر دیکھ کر فاریہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.

” آہم آہم… “

زیان کے قریب آنے پر فاریہ نے کھانستے اُس کا دھیان موبائل ہر جگمگاتی عائلہ کی تصویر کی جانب دلوایا تھا.

حیدر صاحب کال آجانے کی وجہ سے اُٹھ گئے تھے. اِس لیے فاریہ کی شرارتیں جاری تھیں.

” بظاہر نفرت کا اظہار اور موبائل میں اُسی لڑکی کی تصویریں لے کر گھوم رہے ہو بھائی امیزنگ. “

فاریہ کے چھیڑنے پر زیان نے موبائل اُس کے سامنے کرتے عائلہ کی پکچرز ڈیلیٹ کردی تھیں.

” اب خوش. غلطی کی ہے تمہیں ساری بات بتا کر. پہلے وہ ایک چڑیل نے تنگ کرکے رکھا ہوا تھا. اب تم نے بھی اُس کی اسسٹنٹ کی جاب سنبھال لی ہے. “

زیان فاریہ کی حرکتوں پر اچھا خاصہ چڑتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا. وہ جتنا اِس عائلہ نامے سے دور جانا چاہتا تھا فاریہ اُتنا ہی بار بار اُس کا ذکر کرکے زیان کی ناک میں دم کررہی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

شہباز خان کو دو ہفتوں سے اُوپر ہوچکے تھے. قید ہوئے اور ٹارچر سہتے. اُس سے بہت سارے راز اُگلوا لیے گئے تھے. لیکن بہت سارے راز اِس ڈر سے کے کہیں اُن کی وجہ سے مِنہا کو نقصان نہ پہنچایا جائے وہ نہیں بتا رہا تھا.

ابھی تک تو ہشام نے اُسے یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ اُس کی بیٹی بلکل سہی سلامت ہشام کے پاس ہے. وہ اُسے ایسے ہی تڑپانہ چاہتا تھا جیسے شہباز خان نے اِس ملک کے مظلوم اور بے بس لوگوں کو تڑپایہ تھا. مگر اب رفیق نیازی کی اتنی بڑی چال پر شہباز خان سے اِس بات کی تصدیق کرنے ہشام کو اُسے بتانا ہی تھا کہ مِنہا اس کے پاس ہی ہے. جسے اب رفیق اپنی منکوحہ ہونے کا دعویٰ کرتے حاصل کرنا چاہتا ہے.

” کیا ہے یہ سب شہباز خان. “

ہشام نے حوالات کے اندر آتے نکاح نامہ شہباز خان کے منہ پر دے مارا تھا.

شہباز خان نے ہشام کے ایسے جلالی انداز پر حیران ہوتے جیسے ہی وہ کاغذات اُٹھا کر پڑھے اُسے اپنے پیرو تلے سے زمین نکلتی محسوس ہوئی تھی.

” میں نے انسانیت کے ناطے تمہاری بیٹی کو اُس رفیق کے چنگل سے نکال کر محفوظ کیا. اور تم نے یہ بات چھپا کر ایک بار پھر مجھے دھوکا دیا. “

ہشام کا غصہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا تھا. وہ جلد از جلد شہباز خان کا جواب سننا چاہتا تھا.

جاری ہے۔۔۔