Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Last updated: 26 July 2025
Rate this Novel
Teri Galliyon Mein
By Farwa Khalid
میں تمہیں کسی صورت دکھی اور ناخوش نہیں دیکھ سکتی میر."
عائلہ نے اپنے چہرے سے بے دردی سے آنسو پونچھتے سوچ لیا تھا کہ اب اُسے کیا کرنا ہے.
اُس نے خود کو مضبوط کرتے قدم اندر بڑھا دیے تھے.
" عائلہ تم یہاں. "
ڈاکٹر عدیلہ عائلہ کو سامنے دیکھ گڑبڑا سی گئی تھیں. مگر عائلہ کے بے تاثر چہرے سے اُنہیں نہیں لگا تھا کہ عائلہ نے اُن کی باتیں سن لی ہیں.
" آؤ بیٹھو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ابھی. ڈرپ ختم تو ہونے دیتی تم پہلے ہی اُٹھ کر آگئی. کہا تھا میں نے تمہیں آرام نہیں آتا ایک جگہ. "
ڈاکٹر عدیلہ نے مسکرا کر کہتے اُسے اپنے سامنے بیٹھنے
کا اشارہ کیا تھا. جس پر عائلہ نے آگے بڑھتے اُن کے سامنے پڑی فائل اُٹھا لی تھی.
" میں آپ کی ساری باتیں سن چکی ہوں. کہ مجھے
کیا بیماری ہے اور میری پاس کتنا کم ٹائم رہ گیا ہے. ماما کی بیسٹ فرینڈ ہونے
کے ناطے آپ نے ہمیشہ مجھے کہا کہ جب بھی کوئی پرابلم ہو
. کسی قسم کی کوئی بھی ہیلپ چاہئے ہو تو میرے پاس آنا. آج تک کبھی میں آپ کے پاس نہیں آئی.
لیکن آج مجھے آپ سے ایک ہیلپ چاہئے. کیا آپ میری مدد کریں گی. "
عائلہ کی بات پر اپنی مرحومہ دوست کا چہرا یاد آتے اُن کی آنکھیں نم ہوئی تھیں.
" بیٹا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے. تم بولو تو سہی میں تمہاری مدد کرنے کی پوری کوشش کروں گی. اور اِس بیماری پر دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم ٹھیک ہوسکتی ہو. "
ڈاکٹر عدیلہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر اُس کے پاس آتے بولیں.
" آپ کو مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا. کہ میری اِس بیماری کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گی. کسی کو بھی نہیں. پلیز "
بہت ضبط کے باوجود بھی عائلہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے.
عائلہ کے بازو پر رکھا ہاتھ اُس کی بات سن کر ڈاکٹر عدیلہ نے واپس کھینچ لیا تھا.
" عائلہ یہ کیا کہہ رہی ہو تم. تم ٹھیک ہوسکتی ہو. تمہارے پاس ابھی بھی سروائیول کے 20% پرسنٹ چانسز موجود ہیں. "
ڈاکٹر عدیلہ کی بات پر عائلہ نے دکھ بھری ہنسی سے اُن کی جانب دیکھا تھا.
" اور 80% چانسز نہیں ہیں. میں جانتی ہوں میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے. جتنا وقت میرے پاس ہے.
میں اُسے یوں مشینوں میں جکڑ کر ہاسپٹل میں نہیں گزار سکتی. پلیز ایک مرتے ہوئے انسان کی آخری خواہش پوری کر دیں."
ڈاکٹر عدیلہ عائلہ کی بات ماننے پر کسی صورت تیار نہیں تھیں.
پورے بیس منٹ اُن کے ساتھ بحث کرتے آخرکار عائلہ اُنہیں اپنی بات ماننے کے لیے راضی کر چکی تھی.
" تھینکیو سو مچ. میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی. "
عائلہ اُن کا شکریہ ادا کرتے فائل اُٹھاتی وہاں سے نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
