Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episode 15 & 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15 & 16
” عائلہ کیا ہوا. پلیز آنکھیں کھولو. “
عائلہ کو بے ہوش دیکھ مِنہا کے پیچھے پیچھے بلال بھی سٹیج پر آگیا تھا. زیان نے بھی پریشانی کے عالم میں عائلہ کا گال تھپتپایا تھا. لیکن عائلہ ویسے ہی آنکھیں موندے ہوش سے بے گانہ تھی.
” ایکسکیوزمی پلیز. “
بلال آگے آتا زیان کے بازوؤں سے عائلہ کو لیتے اپنی بانہوں میں اُٹھاتے وہاں سے نکل گیا تھا. بلال کی نظریں زیان کو کچھ جتاتی ہوئی لگی تھیں. زیان کو عائلہ کا اِس طرح لیا جانا زیان کو مزید تپا گیا تھا.
” زیان اگر تم ٹھیک فیل نہیں کررہے تو جاسکتے ہو. میں سب سنبھال لوں گی. “
خود سے دور ہوتی عائلہ کو خاموش نظروں سے دیکھتے زیان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے فاریہ نے اپنی جانب متوجہ کیا تھا. فاریہ کو بھی عائلہ کی فکر ہورہی تھی. اُسے عائلہ کے یوں منگنی روکنے پر خوشی بہت ہوئی تھی. مگر ساتھ میں زیان کی ہونے والی فیانسی کے لیے بُرا بھی لگ رہا تھا. جو عائلہ کا زیان کو رنگ پہناتے دیکھ اپنے پیرنٹس کے ساتھ وہاں سے واک آوٹ کرچکی تھی. لیکن فاریہ اِس بات پر مطمئن تھی کہ جو ہوا تھا. آگے زندگیاں خراب ہونے سے بہت اچھا ہوا تھا.
زیان بھی بنا کسی سے کوئی بات کیے وہاں سے نکل گیا تھا. وہ اپنی جگہ حیران تھا کہ آج اُسے عائلہ کے اتنے بڑے اقدام پر غصہ کیوں نہیں آرہا. بلکہ اُسے عائلہ کی فکر ہورہی تھی.
اُسے ٹینشن ہورہی تھی کہ آخر عائلہ کو ہوا کیا جو وہ اِس طرح بے ہوش ہوگئی.
زیان نے اپنے روم میں آتے بے چینی سے چکر کاٹتے کتنی بار موبائل اُٹھا کر ہشام کا نمبر ملانا چاہا تھا. کیونکہ وہ مِنہا اور ہشام کو عائلہ کے ساتھ جاتے دیکھ چکا تھا. لیکن نمبر ڈائل کرکے وہ بغیر کال ملائے موبائل واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیتا تھا.
اُسی اثناء زیان کا موبائل بجا تھا. سکرین پر ہشام کا نمبر جگمگاتے دیکھ کسی بُری سوچ کے آتے زیان کا دل بُری طرح دھڑک اُٹھا تھا. ہشام بھلا اُسے کال کیوں کررہا ہے. زیان نے فوراً سے پہلے کال ریسیو کی تھی.
” ہاں بولو کیا ہوا سب خیریت ہے.”
زیان نے اپنے لہجے کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کی تھی. جس کے جواب میں دوسری جانب سے ہشام کا قہقہ گؤنجا تھا.
” تم نے اپنی ہنسی سنانے کے لیے کال کی ہے مجھے. “
زیان تپا تھا.
” نہیں یہ بتانے کے لیے کہ عائلہ اکرام بلکل ٹھیک ہے. اور میر زیان حیدر کو اُس کی فکر میں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہے. “
ہشام کے انداز میں شرارت نمایاں تھی.
” میں کیوں فکر مند ہونگا بھلا اُس لڑکی کے لیے. ہشام تمہیں کیا ہوگیا ہے. کچھ ٹائم پہلے تم تیمور کو ڈانٹ رہے تھے اور اب خود کچھ بھی فضول بول رہے ہو. “
زیان جو پہلے ہی اپنی عائلہ کے لیے بدلتی فیلنگز پر اچھا خاصہ چڑا بیٹھا تھا. ہشام کی بات پر مزید بگڑا تھا. لیکن وہیں عائلہ کے ٹھیک ہونے کا سن کر دل کا ایک کونا پرسکون ہوا تھا.
” میرے بھائی تم بھی اچھے سے جانتے ہو کہ یہ بات کس حد تک فضول ہے. میری مانو تو آرام سے بیٹھ کر اِس سب پر غور و فکر کرو. جہاں محبت ہوتی ہے وہاں یہ فضول کی ضد اور انا نہیں دیکھائی جاتی. اور جہاں تک میں جانتا ہوں تم اپنی فیلنگز کے بارے میں کافی حد تک باخبر ہوچکے ہو. تو بے جا کی اکڑ مت دیکھاؤ. وہ لڑکی بہت محبت کرتی ہے تم سے.
اور ویسے بھی اگر تم نہ بھی سمجھے تو مجھے پورا یقین ہے کہ جس طرح وہ لڑکی زبردستی تم سے منگنی کر چکی ہے. جلد ہی شادی بھی کر لے گی. “
اُسے اچھے سے سمجھا کر آخری بات شرارتی لہجے میں کرتے ہشام کا ایک جاندار قہقہ برآمد ہوا تھا. جس پر زیان نے فون ہی آف کردیا تھا. وہ سمجھ گیا تھا کہ اب اُس کی سب کزنز کے ہاتھوں ایسی ہی درگت بننے والی ہے. یہی سوچ کر مسکراتے زیان کی نظر اپنے ہاتھ میں پہنی رنگ پر پڑی تھی. زیان نے فون سائیڈ پر پھینکتے اُسے اپنی اُنگلی سے نکالنا چاہا تھا. مگر آدھے پر لاکر وہ رُک گیا تھا. اُس کا دل اِس بات میں بُری طرح احتجاج کررہا تھا. زیان حیدر کے بہت انکار کے باوجود بھی آج اُس کا دل عائلہ کے حق میں گواہی دیتے بغاوت پر اُتر آیا تھا. عائلہ کی سچی محبت زیان حیدر کے پتھر دل پر اپنا جادو چلا چکی تھی. جس کے اثر سے زیان حیدر ابھی تک خود کو انجان ظاہر کرنے کی کوشش کررہا تھا.
کافی دیر اِسی پوزیشن میں بیٹھنے کے بعد آخر کار ہار مانتے زیان نے رنگ کو اپنی اُنگلی میں ہی رہنے دیا تھا. شاید دل اور دماغ کی جنگ میں دل کی جیت ہونے والی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مِنہا اور ہشام دونوں کا ہی کل رات ہوئی جھڑپ پر موڈ آف تھا. ہشام کل رات بہت لیٹ ہوجانے کی وجہ سے گھر نہیں جاسکا تھا. اور وہیں فلیٹ پر رُک گیا تھا.
صبح نو بجے کے قریب اُس کی آنکھ کھلی تھی. ہشام کے روم سے کھٹ پٹ کی آوازیں سن کر مِنہا سمجھ چکی تھی کہ وہ جاگ گیا اِس لیے اُس کے باہر نکلنے سے پہلے ہی. مِنہا اچھی بیویوں کی طرح اُس کا ناشتہ ڈائنگ ٹیبل پر لگا چکی تھی. مِنہا بہت زیادہ کیئرنگ نیچر کی مالک تھی. ہشام سے تھوڑا خفا ہونے کے باوجود بھی اُسے بھوکا جانے دینا مِنہا کو گوارہ نہیں تھا. کیونکہ کل رات بھی مِنہا کی معلومات کے مطابق ہشام نے کچھ نہیں کھایا تھا. اور صرف اُس کی پریشانی دیکھتے اُسے عائلہ کے پیچھے ہاسپٹل بھی لے گیا تھا. مِنہا کے نہ چاہنے کے باوجود بھی اِس شخص کی اتنی التفات پر اُس کا دل اِس کی طرف ہمک رہا تھا. جو کہ مِنہا کے مطابق ٹھیک بات نہیں تھی.
جب اُن کی زندگی کے راستے ہی جدا تھے. تو دل کے راستے ایک کرکے خود کو تکلیف اور اذیت دینے والی بات ہی تھی. لیکن دل پر پہلے کبھی کسی کا زور چلا تھا. جو اُن کا چلتا. جس نکاح کو وہ دونوں ہی ایک کاغذی رشتہ تصور کرتے تھے. اپنی نادانی میں وہ یہ نہیں سمجھ پارہے تھے. کہ اِس رشتے کی کتنی طاقت تھی. نکاح کے بول صرف دو لوگوں کو نہیں دو دلوں کو جوڑتے تھے. اِسی نکاح کی تاثیر ہی تھی کہ شاید کہیں نہ کہیں اُن دونوں کے دل بھی جُڑ چکے تھے. جسے اِس وقت دونوں ہی جھٹلائے ہوئے تھے.
ٹائم آدھے گھنٹے سے اُوپر ہوچکا تھا اُسے ناشتہ لگائے. مگر ہشام کو کمرے سے باہر نہ نکلتا مِنہا کو خود ہی آگے بڑھنا پڑا تھا.
” آپ کا ناشتہ ٹھنڈا ہورہا ہے. آکر کر کرلیں.”
مِنہا بنا اندر جھانکے آدھ کھلے دروازے پر دستک دیتی پلٹی تھی.
” مجھے نہیں کرنا ناشتہ. “
ہشام کے سیدھا انکار کردینے پر مِنہا کو بہت بُرا لگا تھا. جس پر واپس مُڑتے مِنہا نے اُسے گھور کر دیکھا تھا. لیکن اپنے یونیفارم کی شرٹ کے بٹن سے اُلجھتے. وہ مِنہا کی طرف بلکل بھی متوجہ نہیں تھا.
ہشام کی ایک میٹنگ تھی اُسے وہاں جلدی پہنچنا تھا. اِس لیے عجلت میں شرٹ کا بٹن کھینچنے کی وجہ سے شرٹ سے جدا ہوتا ہشام کو ایک اور کوفت میں مبتلا کر گیا تھا. اُسے یہ بٹن وغیرہ لگانے کی الف بے بھی نہیں پتا تھی.
” مے آئی ہیلپ یو. “
ہشام کی اُلجھن سمجھتے مِنہا نے اپنی خدمت پیش کرنی چاہیی تھی. جس کے جواب میں ہشام کا خراب موڈ دیکھتے اُسے صاف انکار ہی نظر آرہا تھا.
” ہممم. پلیز. “
ٹائم کم ہونے کی وجہ سے ہشام نے اپنی ساری خفگی ایک سائیڈ پر رکھتے ہاں میں جواب دیا تھا. وائٹ کڑھائی والے سوٹ میں بڑے سے شیفون کے دوپٹے کو اچھے سے خود پر پھیلائے ہشام کو وہ پاکیزگی اور حُسن کی مورتی لگ رہی تھی.
” آپ مجھے شرٹ دے دیں. “
ہشام کو ویسے ہی شرٹ پہن کر کھڑا دیکھ منہا کو لاچار بولنا پڑا تھا.
” میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے یہیں سے کرو. “
ہشام اپنا چوڑا سینہ لیے اُس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا. آگے کے بٹن کھلے دیکھ مِنہا سُرخ ہوئی تھی. ہشام اُسے ستانے اور رات کی بات والا غصہ نکالنے کے لیے شوخ نظروں سے گھورتا پزل کررہا تھا.
ہشام کو ویسے ہی ڈھیٹ بن کر کھڑا دیکھ ناچار اُسے ہی ہار ماننی پڑی تھی. کیونکہ دوبارہ کہنے پر بھی کونسا اِس سڑیل پولیس والے نے اُس کی بات ماننی تھی.
مِنہا نے کپکپاتے ہاتھوں سے اُس کی شرٹ سینے سے پکڑی تھی. ہشام سے اچھا خاصہ دور کھڑے ہونے کی وجہ سے اُسے مشکل پیش آرہی تھی. وہ ہشام کے زیادہ قریب کھڑے ہوکر اپنی زور پکڑتی دھڑکنوں کو مزید بے قابو نہیں ہونے دینا چاہتی تھی. ہشام نے سپاٹ نظروں سے ایک پل کے لیے اُسے دیکھ کر بازو سے تھام کر اپنے قریب کھڑا کیا تھا. کیونکہ جس طرح وہ میلوں کے فاصلے پر کھڑی ہوکر اُس کا بٹن لگانے کی کوشش کررہی تھی شام یہیں ہوجانی تھی.
ہشام کے ایکدم قریب کرنے پر مِنہا کی سُرخی میں اضافہ ہوا تھا. اُس کی گرم نظروں کی تپیش پر مِنہا کے ماتھے پر پسینے کی بوندے اُبھر آئی تھیں. اُسے خود پر ہی غصہ آرہا تھا کہ اُسے یہاں آنا ہی نہیں چاہئے تھا. اور اگر آبھی گئی تھی تو مدد کی آفر کرنے کی کیا ضرورت تھی.
اپنے سینے پر اُس کے ہاتھوں کی واضح کپکپاہٹ محسوس کرتے ہشام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی.
” اتنا گھبرا کیوں رہی ہو. “
ہشام کی جھک کر گھمبیر سرگوشی کرنے پر مِنہا کی سپیڈ سے چلتی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں.
” میں بھلا کیوں گھبراؤ گی. آپ پلیز ہلیں مت ورنہ آپ کو لگ جائے گی. “
مِنہا کے لہجے کی کپکپاہٹ بھی نمایاں تھی. ہشام کے اتنے قریب کھڑا ہونا اور اُس کی پرشوق نظریں برداشت کرنا مِنہا کے لیے قیامت خیز لمحہ تھا. اُس کے بالوں کی آگے کو کٹی لٹیں بار بار اُس کے چہرے پر آجاتی تھیں. جنہیں ہٹاتی وہ اچھی خاصی کوفت کا شکار ہورہی تھی. اُس کی مشکل کو دیکھتے ہشام نے ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کے چہرے سے بال ہٹاتے پیچھے کر کے پکڑ لیے تھے.
ہشام کا لمس اپنے رخساروں پر محسوس کرتے مِنہا کی آدھی جان ہوا ہوئی تھی. اور اِسی گھبراہٹ میں ہاتھ میں پکڑی گئی سوئی سیدھی ہشام کے سینے میں جاکر لگی تھی.
جس پر چیخ ہشام کے بجائے مِنہا کی نکل گئی تھی. جہاں سوئی چبھی تھی. وہاں خون کی بھی چھوٹی چوٹی موندے نکل آئی تھی.
” آپ کو بہت زور سے لگی ہےنا. بہت درد ہورہا ہوگا. آئم سوری میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا. “
مِنہا کی آنکھوں میں نمی واضح تھی. وہ کسی کو تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی.اور ہشام گردیزی تو ویسے بھی اُس کے لیے بہت اہمیت اختیار کرچکا تھا. اِس لیے اپنی طرف سے اُس کو دی جانے والی تکلیف پر آنکھوں میں نمی لیے بے اختیاری میں مِنہا نے اُس کے زخم والی جگہ کو اپنی ہاتھ سے چھوا تھا.
ہشام جو خاموشی سے کھڑا اُس کے تاثرات نوٹ کررہا تھا. اپنے سینے پر اُس کے نرم ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے ہشام کے دلوں دماغ پر ایک سرور سا چھا گیا تھا. اِس سے اچھا مرہم اُس کے مطابق شاید کوئی اور نہیں ہوسکتا تھا.
ہشام کی آنکھوں کے بدلتے رنگ دیکھ کر ایکدم ہوش میں آتے مِنہا نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا تھا. وہ بٹن لگا چکی تھی. ہشام کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے مِنہا وہاں سے نکلنے کے لیے مڑی تھی. مگر اُس کے ایک قدم بھی بڑھانے سے پہلے ہشام اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا ایک جھٹکے میں اُس کا رُخ اپنی جانب موڑ گیا تھا. ہشام کی حرکت پر مِنہا کی سانسیں اتھل پتھل ہورہی تھیں. لیکن اُس نازک جان پر قیامت تو اُس وقت ٹوٹی تھی. جب ہشام نے اُس کے ماتھے پر اپنے دہکتے ہونٹ رکھ دیے تھے.
” تھینکس. “
جھک کر اُس کے کان میں سرگوشی کرتے ہشام وہاں سے نکل گیا تھا. اُس کے جاتے ہی مِنہا دل پر ہاتھ رکھتی ہشام کے بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی تھی. اُس کا دل اتنی شدت سے دھڑک رہا تھا. ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا.
” نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے. یہ سب جو بھی ہورہا ہے غلط ہے. “
مِنہا دل سے اُٹھتے مہکتے جذبات کی نفی کرتے فکرمندی سے بولی تھی. اِس رشتے کا کوئی مستقبل نہیں تھا. اور ایس پی ہشام گردیزی کسی اور کا تھا. وہ اِس طرح اُسے کسی سے چھین نہیں سکتی تھی.
بہت کوشش کے باوجود بھی وہ ہشام گردیزی کی محبت کے سحر میں پھنسنے سے خود کو روک نہیں پائی تھی. شاید وہ اپنے دل میں ہمیشہ کے لیے ایک روگ پال چکی تھی. جس نے ہشام گردیزی سے دوری پر اُسے کبھی چین نہیں لینے دینا تھا. ہمیشہ تڑپانہ ہی تھا. مگر وہ کیا کرتی ہشام گردیزی کی شخصیت کے سحر میں آہستہ آہستہ وہ خود کو جکڑتے محسوس کررہی تھی. وہ ہشام گردیزی کی عادی ہورہی تھی.
جو اُس کا ہوتے ہوئے بھی اُس کا نہیں تھا. جو ناچاہتے ہوئے بھی اُس کے دل کی ایسی خواہش بن بیٹھا تھا جسے پورا ہونے کی دعا بھی وہ نہیں مانگ سکتی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ صبح گیارہ بجے بیدار ہوتی اپنے پورے حواسوں میں لوٹی تھی. مگر جیسے ہی آگے سے بلال نے اُسے کل رات کا اُس کا کارنامہ سنایا تو عائلہ کا دل چاہا تھا اپنا سر پیٹ لے.
” اُف میرے خدا یہ میں نے کیا کردیا. میر کو کتنا غصہ آرہا ہوگا اُسے تو مجھ سے مزید نفرت ہوگئی ہوگی. اور میر کو سب کے سامنے کتنی انسلٹ فیل ہوئی ہوگی. وہ ٹھیک کہتا ہے میں واقعی بہت پاگل ہوں. “
عائلہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھتے خود کو کوسنے لگی تھی. جبکہ بلال حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا.
” آخر کار عائلہ اکرام جیسی لڑکی کو بھی اُس کی محبت نے بدل ڈالا. جو لڑکی اپنے اُٹھائے اقدام چاہے وہ ہوش میں ہوں یا ہوش سے بیگانہ اُن پر پچھتانا تو دور واپس اُن کے بارے میں سوچتی بھی نہیں تھی. آج وہ بیٹھ کر اپنے دل کے کہنے پر کی گئی حرکت پر خو کو کوس رہی ہے. یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے. “
بلال نے ہنستے ہوئے اُس کو مذاق اُڑایا تھا.
” جسٹ شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ. میرا پہلے ہی دماغ گھوما ہوا ہے مزید گھمانے کی کوشش مت کرو. “
عائلہ اپنا غصہ بلال پر نکالتے چیختے ہوئے بولی. جس پر بغیر بُرا منائے بلال اُس کی دور سی ہی نظر اُتار کر فلائنگ کِس دیتا اُسے مزید تپاتا وہاں سے جلدی سے نکل گیا تھا. کیونکہ عائلہ کی جانب سے پھینکے جانے والے تکیہ کا رُخ اُس کا منہ شریف ہی تھا.
” یہ میں نے کیا کردیا. میر کے دل میں اپنے لیے زرا سی محبت تو جگا نہیں پائی. بلکہ ہر بار اپنے لیے اُس کی نفرت کو ہی بڑھانے والے کام کیے ہیں. اب کیا کروں معافی مانگنے جاؤ اُس سے. مگر میری شکل دیکھ میر کو پھر غصہ آجائے گا. “
عائلہ اپنی باتوں پر ہی تلخی سے مسکراتی آنکھوں میں نمی لیے اُٹھ گئی تھی.
اگلے پندرہ منٹوں میں تیار ہوتی وہ اپنے روم سے نکل آئی تھی.
” کیسی طبیعت ہے اب تمہاری. بلال بتا رہا تھا کہ رات کو تمہاری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی. “
اکرام صاحب کی آواز نے عائلہ کے باہر کی طرف بڑھتے قدم وہیں روک دیے تھے.
” آپ کے لیے بہت افسوس کی بات ہے کہ پہلے سے بہت بہتر ہوں اب. “
عائلہ نے ہمیشہ کی طرح اُلٹا جواب دیا تھا.
” اور پلیز مجھ سے اتنے آرام سے بات مت کیا کریں. آپ کے اِس لہجے کی عادت نہیں ہے مجھے. میری اِس پر ویسے ہی طبیعت خراب ہونے لگتی ہے. “
عائلہ تلخی سے کہتی وہاں سے نکل گئی تھی. اکرام صاحب نے دکھ بھری نظروں سے اپنی اکلوتی بیٹی کو دیکھا تھا. جسے اُنہوں نے خود سے بہت دور کردیا تھا. اور اب شاید چاہ کر بھی اُسے اپنے قریب نہیں کرسکتے تھے.
اُنہیں لگ رہا تھا کہ شاید اِسی لیے اُوپر والے نے اُنہیں دوبارہ اولاد کی نعمت سے نہیں نوازا تھا. کہ وہ اِس نعمت کی قدر ہی نہیں کر پائے تھے. آج تک اُنہوں نے فاخرہ بیگم کے ساتھ مل کر ہمیشہ عائلہ کو نفرت ہی دی تھی. اور آج جب اُس کے دل میں اپنی ہی بوئی گئی نفرت کاٹنی پررہی تھی. تو اُنہیں یہ چیز بہت تکلیف دہ لگ رہی تھی. وہ آج عائلہ کا درد دل سے محسوس کر پارہے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” زیان کل جو کچھ بھی ہوا وہ بہت غلط تھا. مگر جو بھی تھا گزر گیا. فاریہ اور سلمان بھائی صاحب لوگوں نے میرے ساتھ مل کر وہ سارا معاملہ بہت اچھے سے نبٹا دیا. اور فاریہ نے مجھے اُس لڑکی کے حوالے سے سب کچھ بتا دیا ہے. اُس لڑکی کو کل رات دیکھ کر جہاں تک میں اسے سمجھ پایا ہوں. وہ لڑکی بُری نہیں ہے. “
حیدر صاحب کی بات خاموشی سے سنتے زیان نے اِس بات پر گہرا سانس بھرتے پہلو بدلہ تھا. ہر شخص کو ایسا کیا نظر آتا تھا اُس میں کہ ہر کوئی اُس سے ملنے کے بعد اُس کی وکالت کرتا ہی نظر آیا تھا.
” بابا آئم سوری. کل رات جو کچھ بھی ہوا میں اُس پر بہت شرمندہ ہوں. لیکن میں یہ سمجھ نہیں پارہا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں. “
زیان مزید عائلہ کی تعریف برداشت نہیں کرسکتا تھا. اِس لیے جلدی سے بولا.
” میں یہ کہنا چاہتا ہوں. کہ مجھے اپنے لائق فائق ذہین بیٹے سے اِتنی نادانی کی اُمید نہیں تھی. کہ تم اِس قدر بے حس, انا پرست اور گھمنڈی ہوسکتے ہو. میں اِس سب پر کبھی یقین نہ کرتا اگر فاریہ اور ہشام مجھے تمہارا اُس لڑکی سے رواں رکھا گیا سلوک نہ بتاتے تو. میں نے تمہیں ہمیشہ عورت کی عزت کرنا ہی سیکھایا ہے. پھر تم کسی لڑکی کہ ساتھ اتنا بُرا سلوک کیسے کر سکتے ہو. “
حیدر صاحب کی بات پر زیان نے خونخوار نظروں سے فاریہ کو دیکھا تھا. جو چہرا دوسری طرف موڑے خود کو اِس بات سے بلکل لاتعلق ظاہر کیے ہوئے تھی.
” بابا میرے مطابق میں نے اُس لڑکی کو کبھی ڈس ریسپیکٹ کبھی نہیں کیا. لیکن پھر بھی آپ کو اگر بُرا لگا ہے تو آئم سوری. “
زیان کے ویسے ہی رُوڈ انداز کو دیکھ کر فاریہ کو اب اُس پر اچھی خاصی تپ چڑھ چکی تھی. جو حیدر صاحب کی اتنی کوششوں کے باوجود پٹری پر چڑھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. فاریہ حیدر صاحب کو عائلہ کے حوالے سے ہر بات کلیئر کرتی مطمئن کر چکی تھی. اور اُن سے اِس بات کی ریکویسٹ بھی کی تھی کہ بس کسی طرح وہ زیان کو عائلہ کے لیے راضی کر لیں.
حیدر صاحب نے زیان اور فاریہ کو بہت محبت سے پالا تھا. وہ دونوں حیدر صاحب سے بہت فرینک تھے ہر بات بلکل دوستوں کی طرح شیئر کرتے تھے. اِس لیے آج بھی فاریہ نے بلا جھجھک اُنہیں ساری باتیں بتا دی تھیں.
” تو پھر کیا خیال ہے تمہارا اُس لڑکی کے بارے میں. “
حیدر صاحب کے سوال پر زیان نے فاریہ کو گھورا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سوال بے شک حیدر صاحب نے پوچھا ہے لیکن آیا یہ فاریہ کی جانب سے ہی ہے.
” وہی جو پہلے دن سے تھا. “
زیان کی انا اور ضد ابھی قائم تھی. اِس کی وجہ عائلہ کو کسی اور لڑکے کے قریب کھڑے ہونے کا غصہ تھا. اُس کے لیے دل میں موجود منہ زور جذبوں کے آگے تو وہ رات کو ہی ہار مان چکا تھا. عائلہ کے لیے نفرت کی چادر تو اب اُس کے دل سے اُتر چکی تھی. مگر غصہ ابھی باقی تھا.
” اوکے بابا مجھے آفس میں بہت ضروری کام ہے میں نکلتا ہوں اب. “
زیان حیدر صاحب کو مزید کچھ بولنے کا موقع دیے بغیر بات ختم کرتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
” میر زیان حیدر واقعی عائلہ ٹھیک کہتی ہے تم ایک بہت ہی سنگدل اور ظالم انسان ہو. انسان کو اتنا پتھر دل بھی نہیں ہونا چاہئے. “
زیان کے پیچھے تیز قدموں سے بھاگتی فاریہ جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اُس کے ساتھ آبیٹھی تھی. اور بنا لحاظ کیے تڑخ کر بولی تھی
” فاریہ میں کب سے یہ سب بہت مشکل سے برداشت کررہا ہوں.تم پر بلکل بھی غصہ نہیں کرنا چاہتا. لیکن تم مجھے اِس کے لیے مجبور کررہی ہو. تم اب بھی اُس لڑکی کی وکالت کررہی ہو. تم نے کل دیکھا نہیں کیسے وہ مجھے دیکھانے کے لیے ایک لڑکے کو اپنے ساتھ لے آئی. اور کیسے چپک رہی تھی اُس کے ساتھ. میں وہ سب دیکھنے کے بعد بھی کیسے یقین کر لوں کہ وہ مجھ سے سچی محبت کرتی ہے. “
زیان جس بات کی وجہ سے کل سے اندر ہی اندر غصے سے بھڑک رہا تھا. فاریہ کے طیش دلانے پر وہ زبان پر لے ہی آیا تھا. اُس کی بات سنتے فاریہ کچھ پل تو حیرت سے اُس جانب دیکھنے لگی تھی. لیکن اگلے ہی پل ایک زبردست مسکراہٹ نے اُس کے لبوں کا احاطہ کیا تھا.
” ایک منٹ یہ میرے گنہگار کان کیا سن رہے ہیں. میر زیان حیدر کو عائلہ اکرام کا کسی اور کے قریب جانا بہت ناگوار گزرنے کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی جیلسی میں بھی مبتلا کر گیا ہے. تم نے یہ بات مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی. جس لڑکے کے بارے میں تم بات کررہے ہو. وہ عائلہ کا ماموں زاد بلال ہے. وہ اُس سے پانچ سال چھوٹا ہے.اور عائلہ اُسے بلکل چھوٹے بھائی کی طرح ٹریٹ کرتی ہے. بلال بھی اُسکی تمہارے لیے شدید محبت سے واقف ہے اور اُس کی ضد پر کہ وہ عائلہ کی چوائس دیکھنا چاہتا ہے. صرف اِس وجہ سے عائلہ اُسے ساتھ لائی تھی. “
فاریہ بنا رُکے جلدی جلدی ساری تفصیل بتانے لگی تھی. اُس کی بات سن کر پہلی بار زیان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا. کل رات اُس کی خراب طبیعت کے باوجود اُس نے عائلہ کو اتنی باتیں سنا دی تھیں. ساری بات کلیئر ہوتے ہی جہاں زیان کا اشتعال کم ہوا تھا. وہیں عائلہ کے خلاف دل سے آخری پھانس بھی نکل گئی تھی.
” زیان وہ بہت پیاری لڑکی ہے. دیوانی ہے تمہاری. میں نہیں جانتی اُس کے اتنے بگڑنے کی کیا وجہ ہے. مگر جس طرح بات کرتے اُس آنکھوں میں اذیت نظر آتی ہے. وہ دیکھ کر صاف لگتا ہے کہ ضرور عائلہ کی پچھلی لائف بہت مشکل گزری ہے. وہ محبت کی ترسی ہوئی لڑکی تم سے صرف محبت چاہتی ہے. بہت نفرت سہہ چکی وہ تمہاری اب اپنی محبت سے اُس کی جھولی بھر دو. “
فاریہ کو عائلہ اپنے بھائی کے حوالے سے بہت عزیز تھی لیکن اب تو مِنہا سے سرسری سا اُس کے بارے میں جان کر وہ اُسے کچھ زیادہ ہی پیاری ہوگئی تھی.
زیان فاریہ کی باتوں کے جواب میں کچھ نہیں بولا تھا. فاریہ نے بھی مزید کوئی بات نہیں کی تھی. اُس کے لیے زیان کی یہ مبہم سی خاموشی ہی بہت تھی.
” ایک منٹ زیان اِس سٹور کے سامنے گاڑی روکنا. مجھے کچھ لینا ہے یہاں سے. “
فاریہ کے کہنے پر زیان نے گاڑی سائیڈ پر پارک کردی تھی. اُس کی بھی کال آرہی تھی. اِس لیے ہیڈ فون لگاتے وہ بھی گاڑی سے نکل آیا تھا.
عائلہ سلو ڈرائیونگ کرتے ساتھ اپنے خیالوں میں گم تھی. اُس سے فیصلہ نہیں ہوپارہا تھا کہ زیان سے سوری کرنے جائے کل والے ہنگامے کے لیے یا نہیں. ایک ہفتے بعد کی عائلہ کی ترکی کی فلائیٹ تھی. وہ یہاں سے بہت دور جانا چاہتی تھی. ایسی جگہ جہاں اُس کے میر کی جان لیوا یاد اُس کے ساتھ نہ ہو. اِس لیے دل ایک نظر میر کو دیکھنے کی ضد کررہا تھا.
اپنے خیالوں میں کھوئے اچانک عائلہ کی نظر مخالف روڈ پر پڑی تھی. لیکن سامنے کا منظر دیکھ عائلہ کو اپنے جسم سے روح نکلتی محسوس ہوئی تھی.
زیان دوسری جانب رُخ کیے موبائل پر مصروف تھا. روڈ پر اُس کا بلکل بھی دھیان نہیں تھا. جہاں سے ایک گاڑی بے قابو ہوکر اِدھر اُدھر جھولتی زیان کی جانب ہی بڑھ رہی تھی.
عائلہ ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر گاڑی سے نکلتی دیوانوں کی طرح زیان کو پکارتی اُس کی طرف بھاگی تھی. اُسی لمحے فاریہ بھی سٹور سے باہر نکل آئی تھی. عائلہ کو وہاں بھاگ کر آتا دیکھ فاریہ حیران ہوئی تھی لیکن دوسری طرف نظر پڑتے ہی اُس کے ہاتھ سے شاپر چھوٹ کر نیچے گرے تھے.
زیان کال کرنے میں مصروف تھا. عائلہ کی آوازیں سن نہیں پارہا تھا. جب اُس کی قریب آتی پُکار پر کچھ محسوس کرتے وہ مُڑ.ا تھا. لیکن زیان کے کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے پہلے عائلہ اُسے پڑے دھکیل گئی تھی. عائلہ نے خود بھی وہاں سے ہٹنا چاہا تھا مگر دیر ہوچکی تھی. گاڑی عائلہ سے ٹکراتے اُسے دور اُچھل چکی تھی.
” عائلہ. “
زیان کی آواز میں عائلہ کے لیے تڑپ تھی بے قراری تھی. لیکن اِس پکار کو سننے کی پیاسی وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوچکی تھی.
عائلہ روڈ کے ساتھ کچی جگہ پر جاگری تھی. جس کی وجہ سے باقی تو شاید بچت ہوچکی تھی. لیکن فُٹ پاتھ پر سر لگنے کی وجہ سے عائلہ کا چہرا اور گردن خون میں نہا گئے تھے.
” عائلہ پاگل لڑکی یہ کیا کیا تم نے. “
زیان عائلہ کو کسی قیمتی متاع کی طرح بازوؤں میں بھرتے چیخا تھا. فاریہ بھی پاس پہنچ چکی تھی. زیان عائلہ کو لیے اپنی گاڑی کی جانب دوڑا تھا. فاریہ کو زیان کے ہر عمل سے عائلہ کی تکلیف پر فکرمندی اور اذیت واضع دکھائی دے رہی تھی. رش ڈرائیونگ کرتے زیان کی آنکھیں ضبط کے احساس سے لال ہوچکی تھیں.
ہاسپٹل پہنچ کر عائلہ کا ٹریٹمنٹ سٹارٹ ہوچکا تھا. اور زیان باہر بے چینی سے ٹہل رہا تھا.
زیان کو خود پر حیرت ہورہی تھی. ہمیشہ جس لڑکی کو وہ دھتکارتا آیا تھا. آج اُسی کی سلامتی کی دعا کرتے اُس کا دل پاگل ہورہا تھا. زیان کو اِس وقت شدت سے احساس ہورہا تھا کہ یہ لڑکی اُس کے لیے کتنی ضروری ہوچکی ہے. جو آج اپنی جان پر کھیل کر اُسے اپنی سچی محبت کا یقین دلا گئی تھی.
ادراک کا یہ تکلیف دہ لمحہ زیان سے یہ اقرار کروا گیا تھا کہ اُس کے پیار میں پاگل یہ حسین اور دل کی پیاری لڑکی اُس کی نس نس میں اُتر کر اپنے پیار کا جادو چلا چکی تھی. اگر کوئی اور لمحہ ہوتا تو فاریہ اپنے بھائی کو عائلہ کے لیے یوں بے چین ہوتے دیکھ بہت خوش ہوتی مگر عائلہ کا خون دیکھ اِس وقت وہ بہت زیادہ پریشان اور فکرمند تھی.
ڈاکٹر کو باہر نکلتا دیکھ وہ دونوں بے قراری سے آگے بڑھے تھے.
” گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے وہ اب بلکل ٹھیک ہیں. ﷲ کا بہت شکر ہے کہ سر پر کوئی اندرونی چوٹ نہیں لگی. لیکن وہ پہلے ہی بہت ویک ہیں اُوپر سے خون بھی بہت بہہ گیا ہے. ہم نے اُن کو ڈرپ لگا دی ہے. اب یہ آپ لوگوں کو میک شور کرنا ہے کہ دو ڈرپس ختم ہونے سے پہلے وہ یہاں سے باہر نہ جا سکیں. کیونکہ آپ کی پیشنٹ کو میں پرسنلی بھی جانتی ہوں کافی اُتاولی سی ہیں. ایک جگہ ٹک کر بیٹھنا بہت مشکل ہے اُن کے لیے. باقی اپنی تسلی کے لیے میں نے کچھ ٹیسٹ کروائے ہیں عائلہ کے جن کی رپورٹ کچھ گھنٹوں تک آجائے گی. آپ لوگ مل سکتے ہیں اُن سے. “
ڈاکٹر اُن دونوں کے فکرمند چہرے دیکھ تفصیل سے ساری بات بتاتی آگے بڑھ گئی تھیں. عائلہ کے ٹھیک ہونے کا سن کر زیان کی رُکی ہوئی سانسیں بحال ہوئی تھیں.
” چلو کیا ہوا. “
فاریہ کو پیچھے ہٹتے دیکھ زیان نے سوالیہ انداز میں اُس کی جانب دیکھا تھا.
” نو. میں بعد میں مِل لوں گی عائلہ سے. ابھی مجھے کباب میں ہڈی بننے کا کوئی شوق نہیں ہے. “
فاریہ شوخی سے بولتے کرسی پر جا بیٹھی تھی. آج پہلی بار زیان کو اُس کا عائلہ کے حوالے سے چھیڑنا اچھا لگا تھا. اُس کی لاجک پر زیان لاپرواہی سے کاندھے اُچکاتے اندر کی جانب بڑھ گیا تھا.
عائلہ آنکھیں موندے لیٹی تھی. وہ شاید غنودگی میں تھی. زیان اُس کے آرام کے خیال سے بنا قدموں کی چاپ پیدا کیے بیڈ کے پاس جاکھڑا ہوا تھا.
عائلہ کا ایک ہاتھ کمبل کے اندر تھا. جبکہ ڈرپ لگا دوسرا ہاتھ اُس کے سینے پر دھڑا تھا. ہر وقت زیان کے لیے دیوانہ وار محبت کے جذبات سجائے رکھنے والی ہیزل گرین آنکھوں پر اِس وقت گھنیری پلکوں کے پردے گرائے وہ اپنے میر کی اپنے اتنے قریب موجودگی سے انجان تھی. اُس کی ستوان ناک سے ہوتیں زیان کی نظریں عائلہ کے اُوپری ہونٹ کے کٹاؤ میں اٹک گئی تھیں. زیان کو لگ رہا تھا کہ جیسے آج پہلی بار وہ عائلہ کو دیکھ رہا ہے. عائلہ کا تیکھے نقوش سے سجا حسین چہرا زیان کو اپنا مزید اسیر بنا رہا تھا.
جتنا وہ اِس جان لیوا جذبے سے دور رہنا چاہتا تھا. اُتنا ہی اب وہ بُری طرح اِس کا شکار ہوچکا تھا. میر زیان حیدر کے عشق میں پور پور ڈوبی عائلہ اکرام اُسے آخر کار گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر گئی تھی.
زیان نے خود کو مزید بہکنے سے بچانے کے لیے نظریں پھیر لی تھیں. کیونکہ وہ ابھی عائلہ پر ایسا کوئی حق نہیں رکھتا تھا. شاید عائلہ بے ہوشی میں بھی زیان کی خود سے توجہ ہٹنا محسوس کر گئی تھی. کسمسا کر آنکھیں کھولتے عائلہ نے جو نام لیا تھا.
اُس پر زیان والہانہ نظروں سے اپنی دیوانی کو دیکھنے لگا تھا. زیان کو عائلہ کی محبت کی اتنی شدت بے چین کرگئی تھی.
کس قدر سچی محبت کی تھی عائلہ نے اُس سے. زیان کے بار بار دھتکارنے پر بھی اُس کی محبت کی شدت میں کمی نہیں آئی تھی. بلکہ ہر بار وہ بڑھتی چلی گئی تھی. زیان کو بہت سی باتوں کے ادراک کے ساتھ ساتھ پہلے پچھتاوے نے بھی آن گھیرا تھا.
” میر کو کچھ نہیں ہونا چاہئے. نہیں اُسے کچھ نہیں ہوسکتا. “
عائلہ ابھی بھی اُسی حادثے کے زیرِ اثر گھبرائی ہوئی تھی.
” عائلہ کچھ نہیں ہوا مجھے میں بلکل ٹھیک ہوں. دیکھو تمہارے سامنے ہوں. “
زیان کی آواز پر عائلہ نے بہت مشکل سے پوری آنکھیں کھولتے زیان کی جانب دیکھا تھا. اُس اپنے سامنے دیکھ عائلہ کی آنکھیں مسکرائی تھیں. لیکن اگلے ہی پل اُن میں اُداسی سی چھا گئی تھی. زیان اُس کی آنکھوں کے اِن بدلتے رنگوں پر حیران ہوا تھا.
” میر بہت ظالم ہو تم. اب اِس طرح مجھے تڑپاؤ گے. ٹھیک کہتے ہو میر تم میں بہت پاگل ہوں. جانتی ہوں اتنی خوش قسمت کبھی نہیں رہی میں. پھر بھی تمہیں سامنے دیکھ حقیقت کا گمان ہونے لگا تھا. “
بات کرنے کے دوران عائلہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر تکیے میں جذب ہوئے تھے. زیان کو اُس لمحے خود پر شدید غصہ آیا تھا. جس نے اِس پیاری سی لڑکی کو اتنا وقت اِسی طرح اذیت میں مبتلا کیے رکھا تھا. سب اُسے ٹھیک الزام دیتے تھے وہ عائلہ کے معاملے میں بہت بے حس رہا تھا.
” عائلہ تمہارا میر حقیقت میں تمہارے پاس آچکا ہے. اور اب کبھی تمیں چھوڑ کر نہیں جائے گا. پہلے کا تو میں نہیں جانتا لیکن اب تم سے زیادہ خوش قسمت لڑکی کوئی نہیں ہوگی. میں تمہیں اتنا پیار دوں گا. کہ تم مجھ سے دور جانے کے لیے میرے آگے ہاتھ جوڑو گی. “
زیان نے آگے ہو کر اُس کا نازک کپکپاتا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیتے ہوئے اُسے اپنے وہاں ہونے کا یقین دلاتے آخری بات شرارتی لہجے میں کہی تھی.
عائلہ بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے زیان کی جانب دیکھ رہی تھی. اُسے لگ رہا تھا یا تو وہ نشے میں ہے یا پھر سامنے کھڑا شخص میر زیان حیدر نہیں.
” میر یہ تم ہی ہونا. لگتا ہے چوٹ میرے سر پر لگی ہے اور اثر تم پر ہوگیا ہے. تم تو کل تک مجھ سے شدید نفرت کرتے تھے نا. پھر آج اچانک یہ سب. کہیں تم میرے تمہاری جان بچانے کی وجہ سے تو احسان مند ہوکر یہ نہیں بول رہے. لیکن نہیں تم ایسے تو بلکل نہیں ہو. پلیز میر .میں مزید پاگل ہوجاؤ گی. “
زیان کے یہ پیار بھرے جملے عائلہ کو اچھا خاصہ ہلا گئے تھے. اُس کے لیے اِن سب باتوں پر یقین کرنا بہت مشکل تھا.
” مجھے جتنی شدید تم سے محبت ہوچکی ہے نا. اِس کے آگے وہ نفرت بہت معمولی تھی. اور یہ محبت اچانک بلکل بھی نہیں ہوئی بہت لمبی کہانی ہے اِس کی بھی. ایک بار تم ٹھیک ہوجاؤ پھر بتاؤں گا. لیکن اِس وقت تمہیں آرام کی ضرورت ہے. ریلیکس رہو بلکل. “
زیان نے عائلہ کے نازک ہاتھ پر اپنے دھکتے لب رکھ دیے تھے. اُس کے لمس نے عائلہ کی پہلے سے تیز چلتی سانسوں میں مزید انتشار پیدا کر دیا تھا.
زیان نے شروعات میں ہی عائلہ کی بولتی بند کروا دی تھی.
عائلہ اِس قدر عنایت پر زیان کی جانب محبت پاش نظروں سے دیکھے گئی تھی. کیا وہ واقعی خوش نصیب تھی. اُسے میر زیان حیدر کا ساتھ ملنے والا تھا.
عائلہ نے بیڈ سے اُٹھنا چاہا تھا. لیکن زیان نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیا تھا.
” خاموشی سے لیٹی رہو. “
عائلہ کو لگ رہا تھا. زیان کا یہ رُوپ دیکھ اُس کے دل اور دماغ مفلوج ہوچکے ہیں. میر زیان حیدر اُس سے پیار کرسکتا ہے کیا. عائلہ کے لیے اِس بات پر یقین کرنا ناممکن ہوجاتا اگر وہ زیان کی آنکھوں میں واقعی اپنے لیے محبت اور فکر نہ دیکھتی.
عائلہ کی آنکھوں میں نمی جبکہ ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی. زیان یہ دلکش نظارہ دیکھتا مبہوت ہوا تھا. دل کا موسم بدلتے ہی اُسے اِس لڑکی کا ہر انداز اچھا لگنے لگا تھا.
اِس سے پہلے کہ زیان کچھ کہتا دروازہ کھول کر فاریہ عائلہ کے پیرنٹس کے ساتھ اندر داخل ہوئی تھی.
” میری بیٹی میری جان تم ٹھیک ہونا. میری تو جان ہی نکل گئی تھی تمہارے ایکسیڈنٹ کی خبر سن کر.”
اکرام صاحب عائلہ کے پاس پہنچ کر اُس کا ماتھا چومتے ہوئے بولے. اُن کے ہر انداز سے پریشانی اور فکر جھلک رہی تھی. فاخرہ بیگم بھی چہرے پر مصنوعی فکر سجائے پاس آکھڑی ہوئی تھیں.
” پلیز یہ جھوٹے ڈرامے مت کریں میرے سامنے. جانتی ہوں کتنی فکر ہے آپ کو میری. اور یہ عورت کیوں آئی ہے یہاں. “
عائلہ اُس دن کی لڑائی کے بعد فاخرہ بیگم کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی. اِس لیے آج اُنہیں یہاں دیکھ واپس بھڑک اُٹھی تھی.
زیان خاموش نظروں سے اپنی شیرنی کو دیکھ رہا تھا. جو اِس حالت میں بھی دھاڑنے سے باز نہیں آرہی تھی. لیکن اکرام صاحب کو اپنے سامنے شرمندہ ہوتا دیکھ زیان فاریہ کو باہر آنے کا اشارہ کرتے وہاں سے نکل آیا تھا. عائلہ کی بے قرار نظروں نے اُس کی چوڑی پشت کو دیکھا تھا. اُسے لگ رہا تھا کہ شاید زیان کو اُس کا اِس طرح بات کرنا پسند نہیں آیا. جس وجہ سے وہ وہاں سے چلا گیا ہے.
” عائلہ بیٹا ہمیں سچ میں تمہاری بہت فکر ہے. اِسی لیے یہ خبر سنتے ہی بھاگے چلے آئے. تم اتنی بدگمان کیوں ہورہی ہو. “
اکرام صاحب کی بات پر عائلہ نے طنزیا انداز میں اُن کی جانب دیکھا تھا.
” حیرت کی بات ہے نا. کہ ایک باپ کو اپنی سگی بیٹی کو اِس بات کا یقین دلانا پڑ رہا ہے. اینی ویز آپ لوگ دیکھ چکے نا مجھے میں بلکل ٹھیک ہوں. اب آپ لوگ جاسکتے ہیں یہاں سے. مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں خود کو سنبھال سکوں. “
عائلہ کی بات پر کب سے خاموش کھڑی فاخرہ بیگم کا صبر جواب دے چکا تھا.
” بہت شوق تھا نا. اپنی اِس بدتمیز بیٹی کے پیار میں پاگل ہوکر یہاں دوڑے چلے آنے کی. اب اگر اتنی بے عزتی سے پیٹ بھرگیا ہے تو واپس چلیں. “
فاخرہ بیگم کے نخوت سے کہہ کر وہاں سے جانے پر اکرام صاحب بھی خاموشی سے وہاں سے نکل گئے تھے. عائلہ ہمیشہ کی طرح اُنہیں اپنی بیوی کے اشاروں پر چلتے دیکھ تلخی سے مسکرا دی تھی.
” اگر آپ کو میری اتنی ہی فکر ہوتی نا بابا تو میری چند باتوں کے جواب میں یوں مجھے بستر پر پڑا چھوڑ کر نہ جاتے. “
عائلہ نے دکھ سے سوچا تھا. مگر پھر زیان کا خیال آتے ہی ایک خوبصورت مُسکان اُس کے لبوں کو چھو گئی تھی.
اُس نے فاریہ کا میسیج دیکھ لیا تھا. جس میں اُس نے بتایا تھا کہ زیان کو ایک بہت امپورٹینٹ کام آگیا ہے. اِس لیے اُنہیں وہاں سے نکلنا پڑا.
زیان یہ سوچ کر مطمئن ہوتے کچھ ٹائم کے لیے چلا گیا تھا کہ عائلہ کے پیرنٹس اُس کے پاس آچکے ہیں. مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ عائلہ کے پیرنٹس کے آگے اُس کی کیا اہمیت تھی.
عائلہ سے اب مزید اتنی دیر ایک جگہ پر ٹک کر بیٹھنا بہت مشکل ہورہا تھا. اِس لیے وہ ہاتھ سے ڈرپ نکالتے بیڈ سے اُٹھ گئی تھی.
ایک بار اُس کے سر میں ٹیسیں اُٹھی تھیں لیکن اُن جلد ہی خود کو سنبھال لیا تھا. روم سے نکل کر عائلہ کا رُخ ڈاکٹر عدیلہ کے آفس کی جانب تھا تاکہ اُنہیں اپنے جانے کا بتا سکے.
آفس کے ڈور پر پہنچ کر عائلہ نے دستک دینی چاہی تھی. لیکن اندر سے اپنا نام سنتے وہ وہیں رُک گئی تھی. ڈاکٹر عدیلہ شاید اُس کی کوئی رپورٹ دیکھ رہی تھیں.جن کے بارے میں نرس نے اُن سے سوال کیا تھا.
” ڈاکٹر صاحبہ کیا ہوا. آپ عائلہ کی یہ رپورٹس دیکھ کر اتنی پریشان کیوں ہوگئی ہیں. ایسا کیا آیا ہے اِن میں. “
نرس کی بات پر ڈاکٹر نے اپنی پیشانی ملتے فائل اُس کے سامنے کر دی تھی.
” زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کب کہاں داغا کر جائے. مجھے تو یقین نہیں آرہا یہ دیکھ کر. عائلہ کو بلڈ کینسر ہے. اور اُس کے پاس سر وائیول کے صرف 30% چانسز موجود ہیں.
اُوپر والا بھی کیسے کیسے معجزے کرتا ہے. آج اگر عائلہ کا ایکسیڈنٹ نہ ہوتا اور وہ یہاں نہ آتی تو یہ بات کیسے پتا چلتی. پھر شاید یہ 30% چانسز بھی ختم ہو جاتے. “
ڈاکٹر اور بھی نجانے کیا کیا کہہ رہی تھی. مگر عائلہ کو لگا تھا کہ ہاسپٹل کی یہ عمارت پورے قد سے اُس پر آگری ہو. آج ہی تو زیان نے اُسے اپنی محبت کا احساس دلا کر زندگی کی نوید سنائی تھی. اور اب کچھ لمحوں بعد اُس سے بہت ہی بے دردی سے وہ چھین لینے کی خبر سنا دی گئی تھی.
جاری ہے۔۔۔۔
