No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ہشام پچھلے تین گھنٹوں سے مسلسل مِنہا کو ڈھونڈنے کی کوشش کررہا تھا. مگر رفیق نیازی کے بہت سارے ٹھکانے چھان لینے کے باوجود اُسے ابھی تک مِنہا کا کچھ پتا نہیں چلا تھا.
یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ایک مجرم کی بیٹی ہے. ہشام کو اُس معصوم لڑکی کی بہت زیادہ فکر ہورہی تھی. اُس کا دل عجیب بے چین سا ہوا پڑا تھا. اُس کی پیشانی کی رگیں غصے سے تنی ہوئی تھیں. ہشام کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہورہا تھا کہ شہباز خان کی گرفتاری کے فوراً بعد اُسے اُس کی بیٹی کی حفاظت کا انتظام کرنا چاہیے تھا. کیونکہ مِنہا کسی قسم کی سزا کی حقدار بلکل بھی نہیں تھی.
ہشام سمجھ گیا تھا کہ رفیق نیازی نے بہت سوچ سمجھ کر یہ چال چلی ہے. اُس نے ضرور مِنہا کو کسی بہت خفیہ جگہ پر رکھا ہوا ہے. جہاں سے اتنی جلدی مِنہا کو نکالنا اتنا آسان نہیں تھا. مگر زیان مِنہا کو زیادہ دیر اُن درندوں کے درمیان نہیں رہنے دینا چاہتا تھا.کسی صورت بھی جلد از جلد اُسے وہاں سے نکالنا تھا. اِس لیے اپنے دماغ میں ایک پلان ترتیب دیتے اُس نے رفیق نیازی کے ایک آدمی سے حاصل کیا گیا اُس کا نمبر ملایا تھا.
” ایس پی ہشام سپیکنگ. “
رفیق نیازی کے کال اٹینڈ کرتے ہی ہشام اپنے غصے پر قابو پاتے دبے لہجے میں بولا
” اوہ زہ نصیب آج تو بڑے بڑے لوگوں نے یاد کیا ہم غریبوں کو. آج ہمارے بھاگ کیسے کُھل گئے. “
ہشام کی آواز سنتے ہی رفیق نیازی جوش میں آتے بولا.
” تم جو کررہے ہو وہ بہت غلط ہے. تم ابھی میرے ٹارگٹ پر بلکل بھی نہیں تھے. مگر اُس لڑکی کو کڈنیپ کر کے جو حرکت تم نے کی ہے. وہ کسی صورت قابلے قبول نہیں ہے. “
ہشام نے بہت ہی تحمل کے ساتھ بات کا آغاز کیا تھا.
” ایس پی صاحب میں نے تمہارے خلاف کچھ نہیں کیا. بلکہ صرف اور صرف اپنے دفاع کے لیے اُس لڑکی کو اغوا کیا ہے. جو کہ اِس وقت میرے پاس بلکل سہی سلامت موجود ہے. “
رفیق نیازی بھی جانتا تھا کہ ایس پی ہشام سے اُلجھنا ٹھیک نہیں ہے. ہشام کی بہادری اور قابلیت سے ہر کوئی واقف تھا.
” میں تمہارے خلاف کوئی سخت ایکشن ابھی بلکل بھی نہیں لینا چاہتا. اِس لیے اپنی بھلائی کو مدنظر رکھتے میری بات مان لو. “
ایس پی ہشام اُسے اپنے پلان کے مطابق ہینڈل کرنے میں کامیاب ہورہا تھا.
” تو کیا چاہتے ہیں ایس پی صاحب آپ ہم سے. “
رفیق نیازی نے ہشام کا مقصد جاننا چاہا تھا.
” اُس لڑکی کو میرے حوالے کر دو. “
ایس پی ہشام گردیزی چہرے پر پتھریلے تاثرات سجائے بولا. موبائل پر اُس کی گرفت بہت مضبوط تھی.
” ہاہاہاہا کیا ہوا ایس پی. ایک مجرم کی بیٹی سے اتنی ہمدردی کیوں. “
رفیق نیازی نے ایک بے ہنگم قہقہ لگاتے جیسے ہشام گردیزی کے قہر کو آواز دی تھی. مگر مصلحت کے تحت اِس وقت وہ خود پر بہت زیادہ قابو پائے ہوئے تھا. وہ کسی بے گناہ کے ساتھ غلط نہیں ہونے دے سکتا تھا.
” وہ مجرم کی بیٹی ہے. مجرم نہیں اور اِس ملک کا محافظ ہونے کے ناطے اُسے بچانا فرض ہے میرا. میں تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہوں. مگر تمہیں اُس لڑکی کو بحفاظت میرے حوالے کرنا ہوگا. “
ہشام گردیزی نے بہت ہوشیاری سے اپنی چال چلی تھی. کیونکہ اِس وقت اُس کے لیے سب سے زیادہ ضروری ایک بے گناہ انسان کو بچانا تھا. جس کے لیے وہ کسی حد تک بھی جاسکتا تھا.
اُس کی آنکھوں کے آگے مِنہا کا حسین چہرا لہرایا تھا. جسے ہشام نے اُس سے ہوئی چند ملاقاتوں میں بے فکری, بھولپن اور معصومیت سے جگمگاتے ہی دیکھا تھا. جس پر آنکھوں کی اُداسی ہمیشہ نمایاں رہتی تھی.
” ایس پی صاحب اب کی نا. سمجھداری کی بات. تو پھر ٹھیک ہے شہباز خان نے میرے خلاف جو بھی ثبوت تمہیں دیے ہیں. اُنہیں میرے حوالے کر دو. یہ لڑکی باحفاظت تمہارے پاس پہنچ جائے گی. “
رفیق نیازی نے اپنی مطلب کی بات کی تھی. جسے سنتے ہشام کے چہرے کے تاثرات مزید بگڑے تھے. اُس کے پاس کھڑا انسپکٹر خرم خاموشی سے اُس کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ نوٹ کررہا تھا.
” بہت بڑی قیمت مانگ رہے ہو تم. “
ایس پی ہشام اتنی آسانی سے اپنی محنت سے اکھٹے کیے گئے ثبوت اُس کے حوالے کرنے کے حق میں بلکل بھی نہیں تھا. جن کی بنیاد پر وہ بہت سے مظلوم لوگوں کو اِن درندوں سے بچا سکتا تھا.
” کیا ہوا ایس پی ہشام گردیزی اُس لڑکی کی اتنی سی بھی قیمت نہیں تمہاری نظر میں. “
زیان کی آنکھوں کے سامنے سے مِنہا کا چہرا ہٹ ہی نہیں رہا تھا. جس نے آخرکار اُسے حامی بھرنے پر مجبور کردیا تھا.
” اوکے ٹھیک ہے میں تیار ہوں. اگلے ایک گھنٹے کے اندر مجھے وہ لڑکی چاہئے.”
ہشام اُسے ہدایت دیتا فون بند کر گیا تھا.
” سر کیا آپ اُس کی بات مان لے گے. “
انسپکٹر خرم اتنا تو اندازہ لگا چکا تھا کہ رفیق نیازی نے کیا ڈیل کی ہے.
” اگر یہ لوگ خود کو بہت بڑا کھلاڑی سمجھتے ہیں تو میں بھی اِس سب میں انکا باپ ہوں. “
ہشام کی ذہین آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ رفیق نیازی کے ساتھ کچھ اُلٹا ہی گیم کھیلنے والا ہے.
اُسی وقت اُس کے نمبر پر رفیق نیازی کی لوکیشن سینڈ کی گئی تھی. جہاں سے ابھی وہ بات کررہا تھا. ہشام کا اُس سے اتنی لمبی بات کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مِنہا کو جیسے ہی ہوش آیا اُس نے خود کو کسی بند کمرے میں رسیوں سے جکڑا پایا تھا. پہلے تو اُس کا ذہن کچھ سمجھ ہی نہیں پارہا تھا کہ اُس کے ساتھ ہوا کیا ہے. وہ یہاں کیسے پہنچی. لیکن پھر بے ہوش ہونے سے پہلے والا واقعہ یاد آتے ہی اُس کا دماغ ماؤف ہوا تھا.
” اوہ مائی گاڈ میرا کڈنیپ ہو چکا ہے.”
ڈر و خوف کی وجہ سے اُسے اپنی جان حلق میں اٹکتی محسوس ہورہی تھی. وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اُس کی بھلا کسی سے کیا دشمنی ہے. اُسے کس نے اور کیوں کڈنیپ کیا ہے.
مِنہا جس کمرے میں بند تھی. وہ بہت زیادہ چھوٹا تھا. جس میں کھڑکی سے آتی روشنی نے اندر کی تاریکی پر کچھ حد تک قابو پایا ہوا تھا. اُس کی نازک کلائیوں پر رسی اتنی سختی سے باندھی گئی تھی کہ وہ زخمی ہوچکی تھیں.
مِنہا نہیں جانتی تھی کہ وہ کتنی دیر بے ہوش رہی ہے. لیکن اب ہوش میں آئے اُسے بہت دیر ہوچکی تھی. ابھی تک کوئی اُس کے کمرے میں نہیں آیا تھا. اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے. اور زبان پر یہاں سے عزت کے ساتھ سہی سلامت نکل جانے کی دعا تھی.
مِنہا کرسی کی بیک سے سر ٹکائے آنکھیں موندے ہوئے تھی. جب اُسے دروازہ پر آہٹ محسوس ہوئی تھی. وہ ڈر کے مارے خود میں سمٹتی سیدھی ہوئی تھی. اُسی لمحے ایک نقاب پوش شخص نے جلدی سے اندر داخل ہوتے دروازہ اندر سے لاک کر دیا تھا. یہ دیکھ مِنہا کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی.
” کک کون ہو تم. کیوں لائے ہو مجھے یہاں. میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا. “
اُس شخص کو اپنے قریب آتا دیکھ مِنہا روتے ہوئے چلائی تھی. جس پر اُس شخص نے مزید قریب ہوتے مِنہا کے ہونٹوں کو اپنی ہتھیلی تلے قید کر لیا تھا. اور دوسرے ہاتھ سے مِنہا کی رسی کھولنے لگا تھا.
مِنہا زور زور سے سر ہلا کر اپنے ہونٹ آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی.لیکن اُس کی مضبوط گرفت کے آگے ناکام رہی تھی. رسیوں کے کھلنے کے ساتھ ساتھ اُس کا خوف بھی بڑھ رہا تھا.
جیسے ہی اُس شخص نے منہا کو آزاد کیا. وہ اُسے دھکا دیتی پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگی تھی. اُس کا وجود ڈر و خوف کے مارے کانپ رہا تھا. اور آنکھیں مسلسل رونے کی وجہ سے لال ہوچکی تھیں. اُس کی یہ حالت نقاب کے اندر موجود ایس پی ہشام گردیزی سے دیکھی نہیں گئی تھی. مِنہا کے بہت قریب آتے ہشام نے اپنے چہرے پر بندھا رومال نیچے سرکا دیا تھا.
مِنہا کا ڈرا سہما سا رویا رویا چہرا ہشام کے بہت قریب تھا. اِس اجنبی لڑکی کے لیے پچھلے چار گھنٹوں میں وہ جتنا خوار اور پریشان ہوا تھا.یہ وہی جانتا تھا. منہا حیرت اور بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے ہشام کی جانب دیکھ رہی تھی. ہشام نے اُس کے گرد دیوار پر اپنا ایک بازو پھیلائے جھک کر سرگوشی کرنی چاہیے تھی. اُسے یہ بتانا چاہا تھا کہ وہ اب بلکل محفوظ ہے. ہشام اُسے اب کچھ نہیں ہونے دے گا. مگر اُس سے پہلے ہی دروازے پر ہونے والی دستک پر ہشام ہوش میں آتے جلدی سے سیدھا ہوا تھا. اور مِنہا کے کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے پہلے اُس کے منہ پر رومال رکھتے اُسے واپس بے ہوش کر دیا تھا. اُنہیں جلد از جلد یہاں سے نکلنا تھا.
بہت احتیاط سے اُسے کندھے پر ڈالے ہشام وہاں سے نکل آیا تھا.
رفیق نیازی سے بات کرنے کے بعد ہشام بنا ٹائم ضائع کیے ٹریس کی گئی جگہ پر پہنچا تھا. رفیق کے ایک بہت خاص آدمی کو تو وہ پہلے ہی اپنے ساتھ ملا چکا تھا. جس کی مدد سے وہ بہت ہی آسانی سے مِنہا کو رکھے جانے والی جگہ پر پہنچ گیا تھا. اور رفیق نیازی کی آنکھوں میں دھول جھونکتے آرام سے منہا کو وہاں سے نکال کر لے گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” اُف میرے خدا یہ کیا مصیبت ہے. ایک تو مِنہا بھی کال اٹینڈ نہیں کر رہی. وہ بتا تو دیتی کہ اِس گز بھر کے دوپٹے کو کیری کیسے کرنا ہے. “
عائلہ شاپنگ کرکے لائے گئے کپڑوں کو پہننے کی پریکٹس کرتے اچھی خاصی جھنجھلا گئی تھی. کتنی بار تو دوپٹہ پیروں میں اٹک جانے کی وجہ سے وہ گرتے گرتے بچی تھی.
اگر میر زیان حیدر عائلہ جیسی لڑکی کو یہ سب اپنے لیے کرتے دیکھ لیتا تو کبھی اُس کی محبت کا انکار نہیں کر پاتا.
عائلہ نے شارٹ مہرون شرٹ کے نیچے مہرون کلر کا ہی پلازؤ پہن رکھا تھا. جس پر وائٹ کلر کی کڑاہی سے بہت نفیس کام کیا گیا تھا. ڈریس کا بڑا سا دوپٹہ شانے پر پھیلائے. کانوں میں مہرون کلر کے ہی ٹاپس پہنے, بالوں کو پنز کی مدد سے ہیئر سٹائل بنا کر چٹیا میں باندھ کر آگے کی جانب کندھے پر ڈالے وہ حُسن کا پیکر ایک مشرقی لڑکی ہی لگ رہی تھی.
عائلہ نے ملازمہ کو بلا کر اپنی چند اچھی اچھی پکچرز بنوائیں اور ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے زیان کے نمبر پر سینڈ کر دی تھیں. ساتھ ہی ایک میسج بھی بھیجا تھا. کہ پلیز بہت ارجنٹ ہے اوپن اِٹ.
میر زیان حیدر جو اپنی ایک بہت امپورٹینٹ میٹنگ میں بزی تھا. بار بار نوٹیفیکیشن آنے کی وجہ سے اُس نے ایک اجنبی نمبر سے میسج دیکھ کر اوپن کیا. مگر سامنے موجود تصویریں دیکھ اُس کا دماغ گھوم گیا تھا. جیسے ہی عائلہ نے دیکھا زیان نے پکچرز سین کر لی ہیں. اُسی وقت اُس نے کال کرنا شروع کردی تھی. لیکن اِس وقت وہ عائلہ کو اِس کا جواب نہیں دے سکتا تھا. اِس لیے فون آف کرکے واپس میٹنگ کی جانب متوجہ ہوا تھا.
” تم جیسی پاگل اور ضدی لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی. جب میں نے تمہیں بولا ہے کہ مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے. تو یہ سب بے وقوفیاں کرنے کا کیا مطلب بنتا ہے. “
میٹنگ کے بعد فون آن کرتے اُسے عائلہ کی بیس مِس بیلز موصول ہوئی تھیں. جس وجہ سے باقی کاموں سے پہلے اُس نے عائلہ کا دماغ ٹھیک کرنے کا سوچا تھا.
” انٹرسٹ پیدا کرنے کے لیے ہی تو کررہی ہوں یہ سب. اتنی محنت سے تیار ہوکر تمہارے لیے تصویریں بنائی. مگر بجائے تعریف کرنے کے تم مجھے ڈانٹ رہے ہو. ویسے اگر کسی نے مجھ سے پوچھا نا کہ سنگدلی کی انتہا کیا ہوتی ہے. تو میں تمہارا نام لوں گی میر زیان حیدر لغاری. میں نے بھی تم جیسا کھٹور اور بے حس انسان آج تک نہیں دیکھا. “
عائلہ حسبِ توقع زیان کا ویسا ہی جواب سن کر بے دلی سے صوفے پر جا بیٹھی تھی.
” جب میرے بارے میں اتنا کچھ جو جان گئی ہو تو پیچھے کیوں نہیں ہٹ جاتی. عائلہ اکرام میں تمہیں ایک بار پھر سمجھا رہا ہوں. یہ سب کرنا چھوڑ دو. اِس طرح کرکے تم میری نظروں میں اپنی ذات کا وقار ہی کھو رہی ہو. “
زیان نے سخت لہجے میں کہتے بنا آگے سے اُسکی سنے کال کاٹ دی تھی.
عائلہ نے دوپٹہ اُتار کر دو اُچھالتے صوفے کی بیک سے سر ٹکا دیا تھا. اور موبائل پر زیان کی اُس کے سوشل اکاؤنٹ سے لی گئی ایک تصویر نکال کر دیکھنے لگی تھی. آج اتنے سالوں بعد عائلہ کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آئی تھی. اپنی ماما کی ڈیتھ کے بعد اُس نے خود کو بہت بے حس اور پتھر دل کر لیا تھا. کسی کو اپنے دل تک رسائی ہی نہیں دی تھی کہ کوئی اُسے ہرٹ کرسکے.
مگر کہتے ہیں نا محبت پر کبھی کسی کا اختیار نہیں ہوتا. کبھی بھی کسی بھی وقت آپ کے دل میں اُتر کر ایسا اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے کہ انسان بے بس ہوجاتا ہے. کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہتا. اور عائلہ اکرام بھی محبت کا وار نہیں سہہ پائی تھی.
” میر آج تک میری زندگی میں کبھی کوئی خواہش کوئی چاہت نہیں رہی. تم میری پہلی اور آخری خواہش اور میری اولین چاہت ہو. پلیز اتنی بے دردی سے مت ٹھکراؤ مجھے. آگر اِس بار ٹوٹی تو شاید پھر کبھی نہ جُڑ پاؤں. “
عائلہ کی آنکھ سے ایک آنسو اُس کی گال پر پھسل آیا تھا. مگر گرنے سے پہلے ہی عائلہ نے اُسے بے دردی سے رگڑ دیا تھا.
” نہیں میں ایسے ہمت بلکل بھی نہیں ہار سکتی. میں میر کو اپنی محبت پرو کر کے ضرور دیکھاؤ گی. وہ مجھ سے محبت بھی کرے گا اور میری محبت پر یقین بھی. “
عائلہ پورے دل سے خود سے عزم کرتی بھیگی آنکھوں کے ساتھ مسکرا دی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہشام مِنہا کو اپنے ایک خفیہ فلیٹ پر لے آیا تھا. جس کے بارے میں اُس کے چند ایک فیملی ممبرز کے علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا. ہشام نے مِنہا کو بلیک چادر میں لپیٹ کر کندھے پر ڈال رکھا تھا. مین ڈور لاک کرتے وہ ایک روم کی جانب بڑھا تھا. بیڈ پر مِنہا کو لٹا کر وہ جیسے ہی پلٹنے لگا اچانک اُس کی نظر مِنہا کی گلابی کلائیوں پر پڑی تھی. جو رسیوں کی وجہ سے بُری طرح چِھل چکی تھیں. کلائیوں سے ہوتے ہشام کی نظر مِنہا کے چہرے کی جانب اُٹھی تھیں. گھنی خم دار سیاہ پلکیں اُس کی بند آنکھوں پر سایہ کیے ہوئے تھیں. چھوٹی سی ٹھنڈ سے لال ہوتی ستواں ناک, کٹاؤ دار گلابی ہونٹ جن کی نرماہٹ کا احساس دیکھنے سے ہی ہورہا تھا. پھولے پھولے گلابی رُخسار اُس کے حسین چہرے کو مزید دلکش بنا رہے تھے. اور ایک چیز جس نے اُس کے حُسن کو مزید چار چاند لگا دیے تھے. وہ تھا مِنہا کی ٹھوڑی پر موجود چھوٹا سا ننھا منا سا گڑھا. ہشام کی نظریں بھی بلا ارادہ وہاں اٹک کر رہ گئی تھیں.
مگر فوراً ہی خود کو سرزنش کرتے ہشام نے الماری کی جانب بڑھتے وہاں سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا تھا. بیڈ کے قریب چیئر رکھتے وہ مِنہا کے پاس آبیٹھا تھا. اور اُس کی کلائی تھام کر زخم صاف کرنے لگا تھا. اِس دوران ہشام نے ایک نظر بھی منہا کی جانب نہیں دیکھا تھا. اُس نے ایک ہاتھ سے منہا کی کلائی تھامی ہوئی تھی. اور حیران بھی ہورہا تھا. کہ کسی کی جلد اتنی سافٹ کیسے ہوسکتی ہے. ہشام نے بہت ہی نرم ہاتھوں سے اُسے پکڑا ہوا تھا کہ کہیں زور سے پکڑنے پر بھی نشان نہ پڑ جائیں.
دونوں کلائیوں پر پٹی باندھ کر اُس نے مِنہا کے اُوپر کمبل پھیلا دیا تھا. اور گھڑی کی جانب دیکھا تھا اِس کام میں اُس کے پورے دس منٹ ضائع ہوچکے تھے. جو اُس کے لیے بہت قیمتی تھے. وہ ایک پل کے لیے حیران ہوا تھا کہ اتنی کیئر کیوں کررہا ہے وہ اِس لڑکی کی. مگر پھر انسانیت کے احساس کے تحت یہ سب کرنے کا خود کو ریزن دیتے وہ ریلیکس ہوا تھا.
اچھے سے ڈور لاک کرتے وہ وہاں سے نکل آیا تھا. اُسے بہت ارجنٹ کام تھا. وہ منہا کے ہوش میں آنے کا ویٹ بلکل بھی نہیں کرسکتا تھا. ڈرائیونگ کرتے بھی اُس کا دماغ مِنہا کی جانب بھٹک رہا تھا. کہ آخر وہ اِس لڑکی کو کب تک پروٹیکٹ کرے گا. جس کی آگے کی زندگی بہت زیادہ ٹف ہونے والی تھی. جس کا بہت سے درندے گھات لگائے اُس کے باپ کا بدلہ لینے بیٹھے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔
