Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episode 13 & 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13 & 14
آج زیان کی انگیجنمٹ تھی. ہشام کل اور آج پورا دن آفس میں بزی رہا تھا. اور اب بھی فنکشن میں شرکت کرنے کی وجہ سے مِنہا کے پاس فلیٹ میں نہیں جا پایا تھا.
اُس نے مِنہا کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اُسے کال کی تھی. مِنہا کو اُس نے کچھ دن پہلے ہی موبائل لے کر دیا تھا. تاکہ وہ بور فیل نہ کرے. اور ہشام کسی بھی وقت اُس سے آرام سے کانٹکیٹ کرسکے. مگر ابھی کتنی بار ہشام اُس کا نمبر ڈائل کرچکا تھا. لیکن مِنہا اُس کی کال ہی ریسیو نہیں کررہی تھی.
ہشام کو اب اُس کی فکر ہونے لگی تھی. مِنہا کو فل ٹائٹ سیکیورٹی میں رکھا گیا تھا. جہاں تک پہنچنے کے بارے میں رفیق نیازی سوچ بھی نہیں سکتا تھا. مِنہا کے فلیٹ کے اندر ہشام کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی چاہے وہ لیڈی اہلکار اور یا میل . اِس لیے ہشام کسی سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتا تھا کہ مِنہا اُس کی کال کیوں نہیں اٹینڈ کررہی وہ ٹھیک تو ہے.
” ہشام بھائی چلیں سب لوگ تیار ہیں اور زیان بھائی کے گھر کے لیے نکلنے لگے ہیں. “
رمشا جلدی جلدی ہشام کو آکر بتاتی واپس مُڑ گئی تھی.
” ماما آپ لوگ جائیں مجھے ایک بہت ارجنٹ کام ہے. میں آدھے گھنٹے تک وہاں پہنچ جاؤں گا. “
ہشام سب لوگوں کے قریب آتا شائستہ بیگم سے مخاطب ہوا تھا. جو اُس سے کچھ خفا خفا سی تھیں.
” ہمم جاؤ. ویسے بھی تمہارے لیے فیملی سے زیادہ تمہارے کام اہم ہیں. “
شائستہ بیگم کے روٹھے انداز پر ہشام کو اُن پر بہت پیار آیا تھا. آگے بڑھ کر اُس نے اُن کی پیشانی چوم لی تھی.
” آپ اچھے سے جانتی ہیں. آپ اور میری فیملی کیا ہیں میرے لیے. آپ لوگوں سے بڑھ کر میرے لیے کچھ بھی نہیں ہے. “
ہشام شائستہ بیگم کے ساتھ باہر کی جانب نکل آیا تھا.
” وہ لڑکی بھی نہیں. جس کے پاس ابھی جا رہے ہو. “
شائستہ بیگم نے طنزیا انداز میں اپنے اکلوتے لاڈلے بے حد وجیہہ بیٹے کی جانب دیکھا تھا. جس پر ہشام نے چونک کر اُن کی جانب دیکھا تھا.
“ کیا ہوا ہے ماما. کیا بات ڈسٹرب کررہی ہے آپ کو. جو بھی بات ہے آپ پلیز مجھ سے شیئر کریں.”
ہشام وہی رُکتا اُن کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے مقابل کرتے ہوئے بولا.
شائستہ بیگم کی نظریں اپنے خوبرو بیٹے پر ٹکی ہوئی تھیں. ہشام نے جس دن سے پولیس فورس جوائن کی تھی. اُن کے دل کو ہر وقت دھڑکا لگا رہتا تھا. اور اب اُس کے نکاح کا سن کر جس کی بہت کم مدت تھی. شائستہ بیگم کو اندر ہی اندر یہ بات بہت زیادہ پریشان کی ہوئی تھی. یہ نہیں تھا کہ اُنہیں فائقہ اپنی بہو کے رُوپ میں کوئی بہت زیادہ پسند تھی. مگر اپنے بیٹے کا یہ کاغذی قائم کیے جانے والا رشتہ اُنہیں بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا.
“میری جان میں بس اتنا چاہتی ہوں. تم ہمیشہ خوش رہو. تمہیں میں آگے کی زندگی میں کسی کشمکش اور پریشانی میں اُلجھتا نہیں دیکھنا چاہتی.”
شائستہ بیگم کی فکر پر ہشام مسکرا دیا تھا.
“آپ جانتی ہیں نا مجھے. آج تک میں نے کبھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جس پر مجھے پچھتانا پڑے. آپ مجھ پر یقین رکھیں آگے بھی ایسا کبھی نہیں ہوگا.”
ہشام نے اُنہیں ریلیکس کرنا چاہا تھا.
” بھئی کیا راز و نیاز چل رہے ہیں ماں بیٹے کے درمیان. ہمیں بھی تو کچھ پتا چلے. ویسے بیٹا جی جس سپیڈ میں تم باہر آئے تو مجھے تو لگا تھا. اب تک میری بہو کے پاس پہنچ چکے ہوتے. مگر تم تو ابھی تک یہی کھڑے ہو. “
حمدان گردیزی کے بھی شرارتی انداز سے چوٹ کرنے پر ہشام اُن کی جانب دیکھ کررہ گیا تھا.
” پولیس والا میں ہوں. لیکن لگتا ہے آپ لوگوں نے کوئی ٹریکنگ ڈیوائسز فٹ کر رکھی ہیں مجھ میں.”
ہشام اُن دونوں کے بلکل ٹھیک اندازے پر اچھا خاصہ حیران ہوا تھا.
” ماں باپ ہیں تمہارے. تمہاری رگ رگ سے واقف ہیں. ہم سے کوشش کے باوجود بھی تم کچھ نہیں چھپا سکتے.”
حمدان گردیزی کی بات پر ہشام مسکرائے بنا نہ رک سکا تھا.
” اوکے پھر میں ملتا ہوں کچھ دیر تک آپ لوگوں سے. “
ہشام اُن دونوں کو خدا حافظ کہتا وہاں سے نکل گیا تھا.
ہشام کو اب مِنہا کی بہت زیادہ فکر ہونے لگی تھی. اِس لیے وہ جلد از جلد اُس تک پہنچ جانا چاہتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہشام رش ڈرائیونگ کرکے مِنہا کے پاس فلیٹ میں پہنچا تھا. اُس کا رُخ سیدھا مِنہا کے روم کی جانب تھا. دستک دے کر وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا سامنے ہی وہ محترمہ کمبل اوڑھ کر بیڈ پر لیٹے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی. موبائل بچارہ سائیڈ ٹیبل پر پڑا تھا.
ہشام کو اِس طرح اچانک اندر آتا دیکھ مِنہا جلدی سے کمبل میں سے ٹانگیں پیچھے کرتی سیدھی ہوئی تھی.
” میں شام سے مسلسل کال کررہا ہوں. میری کال اٹینڈ کیوں نہیں کررہی تم. “
ہشام نے سینے پر بازو باندھ کر اُس کے پاس آتے اُسے کڑے تیوروں سے گھورا تھا.
مِنہا کی نگاہیں فارمل سے بلیک کلر کی پینٹ شرٹ میں ملبوس, بالوں کو جیل لگا کر ایک سٹائل سے سیٹ کیے, کشادہ پیشانی پر سلوٹوں کا جال بُنے, مضبوط کلائی میں بیش قیمت گھڑی پہنے ڈیشنگ سے ایس پی ہشام گردیزی پر جم کر رہ گئی تھی. لیکن مِنہا نے فوراً اپنی نگاہوں کا زاویہ بدل دیا تھا. وہ بہت کم ہی ہشام کی طرف دیکھتی تھی. اِس ساحر کی جانب دیکھ کر وہ اُس کے سحر میں قید نہیں ہونا چاہتی تھی. کیونکہ وہ نہ ہی اب اُس کا تھا اور نہ ہی شاید آگے کبھی اُسکا ہوسکتا تھا.
” کیونکہ میرا موڈ نہیں تھا آپ سے بات کرنے کا.”
مِنہا بنا جھوٹ بولے اپنے من کی بات اُسے بول گئی تھی.
” کیوں موڈ نہیں تھا. وجہ جان سکتا ہوں میں.”
ہشام سخت لہجے میں بولا. لیکن اُس کی نظریں مِنہا کی شفاف مانگ پر تھی. بالوں کی چُٹیا کرکے مِنہا نے آگے سے مانگ نکال رکھی تھی.
ہشام جس نے آج تک ہر انسان سے اپنے نخرے ہی اُٹھوائے تھے. اُسے ہی یہ چھوٹی سی معصوم لڑکی اپنے آگے بے بس کررہی تھی
” میں یہاں بند رہ رہ کر تنگ آچکی ہوں. مجھے نہیں رہنا اِس قید میں باہر نکلنا ہے یہاں سے.”
مِنہا منہ پھلائے ہشام کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی. مگر اُس کے گہری نظروں سے دیکھنے پر فوراً نظریں جھکا دی تھیں.
” اوکے تیار ہوجاؤ. تمہیں کہیں لے کر چلتا ہوں آج. “
ہشام کی بات پر مِنہا نے خوش ہوتے اُس کی جانب دیکھا.
” سچی مگر کہاں چلیں گے ہم.”
مِنہا بہت زیادہ ایکسائٹڈ ہورہی تھی.
” میری فیملی میں ایک فنکشن ہے وہاں. “
ہشام کی بات پر مِنہا جلدی سے تیار ہونے کے لیے بڑھی تھی. مگر پھر کچھ سوچتے ہشام کی جانب پلٹی.
” لیکن وہاں آپ مجھے لے کر کیسے جاسکتے ہیں. آپ کی فیملی والے کیا کہیں گے. اُن کو بُرا لگے گا نا کسی انجان لڑکی کو آپ کے ساتھ دیکھ کر. “
یہ بات سوچ کر مِنہا کی ساری ایکسائٹمنٹ ختم ہوئی تھی.
” میری فیملی والوں کو مجھے کیا بولنا ہے. میں اچھی طرح جانتا ہو لیکن اگر تم نہیں آنا چاہتی تو اوکے فائن. “
ہشام مِنہا کے انکار پر کندھے اُچکاتے واپس جانے کے لیے مُڑا تھا.
جس پر مِنہا اِس رُوڈ انسان کی چوڑی پشت کو گھور کر رہ گئی تھی. ایک تو وہ اُس کی مشکل کے خیال سے بول رہی تھی. اُوپر سے وہی اُسے ایٹیچیوڈ بھی دیکھا رہا تھا.
” میں نے یہ کب کہا مجھے نہیں آنا. میں تو آپ کے خیال سے بول رہی تھی. “
مِنہا ہولے سے منمنائی تھی. کیونکہ وہ جانا چاہتی تھی.
” ایک آئیڈیا ہے میرے پاس. میں وہاں جاؤ گی سہی مگر آپ کے ساتھ انٹر نہیں ہوں گی.”
مِنہا کی بات پر ہشام نے گہری سانس بھرتے اُسے گھورا.
” یار تمہیں میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی. میرے ہوتے کوئی کچھ نہیں کہے گا تمہیں. اور میں اچھے سے جانتا ہوں تمیں سب کے سامنے کیسے متعارف کروانا ہے.”
ہشام کے نہ ماننے پر مِنہا کا چہرا اُتر چکا تھا.
” آپ کبھی تو میری بات بھی مان لیا کریں.ہر بات میں آپکو اپنی چلانی ہوتی ہے.”
ہشام کو مِنہا کی لاجک کچھ خاص سمجھ نہیں آرہی تھی. لیکن مِنہا کو کشمکش میں دیکھ ہر ہشام مان گیا تھا.
” اوکے ایسے ہی کر لینا. لیکن صرف پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس جلدی سے تیار ہوکر آؤ. “
ہشام اُسے آرڈر دیتا باہر نکل آیا تھا.
ہشام کو ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر اُس کا انتظار کرتے پندرہ منٹ گزرے تھے. جب اُسے سامنے سے مِنہا تیار ہوکر باہر آتی دیکھائی دی تھی. ہشام کچھ پل کے لیے تو مبہوت ہی رہ گیا تھا.
بلیک کلر کے لانگ فراک پہنے جس پر بلیک کلر کی ہی ایمبرائیڈری کی گئی تھی. مِنہا شہباز ہشام گردیزی کو اچھا خاصہ ڈسٹرب کر گئی تھی. سیاہ لمبے بالوں کو جوڑے کی شکل دے کر کیچڑ میں قید کیا گیا تھا. جس کی وجہ سے مِنہا کی صراحی دار نازک گردن نمایاں تھی.جسے مہرون کلر کی شال سے کور کرنے کی کوشش کی گئی تھی. کانوں نفیس سے ٹاپس پہنے میک اپ کے نام پر لائٹ ریڈ کلر کی لپسٹک, مسکارا اور ہلکا ہلکا بلش آن لگا رکھا تھا. مِنہا جو سادگی میں بھی ہشام کے لیے اچھی خاصی مشکل پیدا کر دیتی تھی. آپ ہتھیاروں سے لیس ہوکر ہشام پر بھرپور انداز میں قیامت ڈھا رہی تھی. ہشام نے بہت مشکل سے نظروں کا زاویہ بدلہ تھا. لیکن شاید اب اِس فائدہ نہیں تھا کیونکہ اُس کا دل بُری طرح گھائل ہوچکا تھا.
ہشام مِنہا کو اپنے پیچھے آنے کا کہتا عجلت میں وہاں سے نکل گیا تھا.
” آپ سے ایک پرسنل سوال پوچھوں کیا آپ مجھے اُس کا جواب دیں گے. “
ہشام کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی مِنہا نے اُس سے وہ سوال پوچھنا چاہا تھا جو نجانے کتنے دنوں سے اُس کے دماغ میں گھوم رہا تھا.
” اگر جواب دینے والا ہوا تو ضرور دوں گا. “
ڈرائیونگ کرتے ہشام کی نظریں سامنے روڈ پر جمی ہوئی تھیں.
” کیا آپ انگیجڈ ہیں. “
مِنہا کی بات پر ہشام نے نظریں موڑ کر اُس کی جانب دیکھا تھا. لیکن بنا کچھ بولے اثبات میں سر ہلاتے واپس سامنے کی جانب مرکوز کر دی تھیں. اُس کے جواب پر مِنہا کو لگا تھا جیسے اُس کا دل بُجھ سا گیا ہو.
” تو کیا آپ اپنی فیانسی سے بہت پیار کرتے ہیں.”
مِنہا کے اگلے سوال نے اب کی بار نہ چاہتے ہوئے بھی ہشام کو اُس کی جانب دیکھنے پر مجبور کردیا تھا. ہشام نے گہری نظروں سے مِنہا کے چہرے پر کچھ کھوجنا چاہا تھا. مِنہا ہشام کے انداز پر اچھی خاصی گڑبڑا گئی تھی.
ہشام جتنا اُس کی جانب نہیں دیکھنا چاہتا تھا وہ اُتنی ہی اُوٹ پٹانگ باتوں سے اُسے اپنی جانب متوجہ کررہی تھی.
” میں اِس بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا. “
ہشام کے روڈ انداز پر مِنہا اِس بار اُسے گھور بھی نا سکی تھی. لیکن اُسے خود ہی احساس ہوگیا تھا کہ شاید وہ کچھ زیادہ ہی فری ہورہی ہے. اِس لیے اُس کے بعد مِنہا نے کوئی بات نہیں کی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ نے بلال کے ساتھ زیان کے گھر میں قدم رکھا تھا. زیان کے شاندار بنگلے کے شاندار لان کو بہت ہی خوبصورت سے سجایا گیا تھا. عائلہ نے مسکراتی نظروں سے اپنے میر کی جگمگاتی خوشیوں کو دیکھا تھا.
کچھ فاصلے پر کھڑی فاریہ کی نظر جیسے ہی عائلہ پر پڑی تو وہ جلدی سے اُس کی جانب بڑھی تھی.
” ویلکم جی. کیسی ہو. بہت خوشی ہورہی تمہیں یہاں دیکھ کر. “
فاریہ بہت ہی گرم جوشی سے اُس سے ملی تھی. فاریہ کی بات پر اُس کی جانب اپنی دلکش مسکراہٹ اُچھالتے عائلہ کی متلاشی نظریں اُس دشمنِ جاں کی تلاش میں اردگرد گھومنے لگی تھیں.
” وہ رہا. جس کو دیکھنے کے لیے کب سے تمہاری نگاہیں اِدھر اُدھر بھٹک رہی ہیں. “
دور کھڑے زیان کی جانب اشارہ کرتے فاریہ شرارتی لہجے میں بولی. جس پر بنا فاریہ اور بلال کا خیال کیے عائلہ والہانہ نظروں سے زیان کی طرف دیکھنے لگی تھی.
ڈارک بلیو کلر کے پینٹ کوٹ میں ملبوس کسی بات پر ہنستے عائلہ کو وہ پورے ماحول پر چھاپا ہوا لگا تھا. ایسے ہی عائلہ اُس سنگدل کی دیوانی نہیں تھی. وہ شاندار انسان کسی کو بھی اپنا اسیر بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا. پہلی بار جب عائلہ نے اُسے دیکھا تھا. تو زیان کے اِسی انداز نے اُسے اپنا دیوانہ بنا لیا تھا. لیکن اُس دن سے لے کر آج تک عائلہ اُس کی یہ مسکراہٹ دیکھنے کو ترس گئی تھی.
” حیرت ہورہی ہے مجھے اب تمہیں دیکھ کر عائلہ. اُس دن ریسٹورنٹ میں اپنے جذبات کا اظہار کرتی لڑکی کو دیکھ کر مجھے نہیں لگا تھا کہ وہ اتنی جلدی ہار مان جائے گی. اور آرام سے اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتا دیکھے گی. “
فاریہ نے آج بھی عائلہ کی آنکھوں میں زیان کے لیے ویسی ہی بے پناہ محبت دیکھ اپنی طرف سے اُسے اُکسانا چاہا تھا.
فاریہ کی بات سن کر عائلہ پھیکا سا مسکرائی تھی.
” میں نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ عائلہ اکرام ہار مان سکتی ہے. لیکن تمہارا بھائی بہت سنگدل اور ظالم ہے فاریہ. “
عائلہ کی بے قرار نظریں ابھی بھی زیان پر ٹکی ہوئی تھیں. فاریہ دکھ سے اُسے دیکھ کر رہ گئی تھی. اُس نے عائلہ کو مزید کچھ کہنا چاہا تھا لیکن ملازمہ کے بلانے پر بنا کچھ کہے وہ وہاں سے ہٹ گئی تھی.
” تمہیں ایک کوشش اور کرنی چاہیے. بعد میں کسی قسم کا کوئی پچھتاوا نہ رہ جائے. “
بلال کو عائلہ کی آنکھوں میں اذیت دیکھنا بہت تکلیف دے رہا تھا.
” اُس کی نفرت کی شدت دیکھ کر نہیں لگتا کہ کبھی وہ مجھ سے محبت کرے گا. ناممکن ہے یہ. “
بلال کی بات پر عائلہ تلخی سے مسکرائی تھی.
جب اچانک عائلہ کے سر میں درد کی شدید ٹیسیں اُٹھی تھیں. جن کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اُس کا سر چکرانے لگا تھا.اور اُس سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہوگیا تھا. عائلہ نے گرنے سے بچنے کے لیے اپنا درد سے پھٹتا سر بلال کے کندھے پر ٹکا دیا تھا.
اور یہی وہ لمحہ تھا جب زیان کی نظریں عائلہ کی جانب اُٹھی تھیں. لیکن عائلہ کو کسی اور شخص کے اتنے قریب دیکھ زیان کے اندر جیسے آگ بھڑک اُٹھی تھی. اُس کے آبرو غصے سے تن گئے تھے. مُٹھیاں بھینچتا وہ عائلہ کی جانب بڑھا تھا.
بلال عائلہ کی اچانک طبیعت خراب ہوتے دیکھ گھبرا سا گیا تھا. اور جلدی سے اُسے پاس پڑی چیئر پر بیٹھاتے پانی لینے کے لیے دوسری طرف بڑھ گیا تھا.
” واہ عائلہ اکرام. محبت کے تو بڑے بڑے دعوے تھے تمہیں. میری انگیجنمٹ تو ہو لینے دیتی ایک دن بھی اپنی جھوٹی بات پر قائم نہ رہ سکی. اور ڈھونڈ بھی لی. اپنی نئی سچی محبت.”
زیان عائلہ کے سر پر پہنچتا مشتعل انداز میں بولا. سچی محبت اُس نے کافی چبھا چبھا کر بولا تھا. اُس سے عائلہ کی کسی سے اتنی قربت کسی صورت ہضم نہیں ہورہی تھی. اتنا غصہ اُسے کیوں آرہا تھا یہ بات وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا.
” میر پلیز اب بس بھی کر دو مجھ پر الزام لگانا. میری طبیعت ویسے بھی ٹھیک نہیں ہے. تمہارے الزاموں کے جواب دینے کی ہمت نہیں ہے ابھی مجھ میں. “
عائلہ زیان کی آواز پر کرسی سے اُٹھتی اُس کے پاس آکھڑی ہوئی تھی. لیکن بُری طرح چکراتے سر کی وجہ سے وہ لڑکھڑا گئی تھی.
” کیا ہوا ہے تمہیں تم ٹھیک ہو. “
پیچھے کی جانب گرتی عائلہ کو کلائی سے پکڑ کر زیان نے سہارا دے کر کھڑا کیا تھا. اُس کے زرد پڑتے چہرے کو اب زیان تشویش بھرے انداز میں دیکھ رہا تھا.
” چلو شکر ہے میر تمہیں میری کوئی بات تو جھوٹ نہیں لگی. کچھ نہیں ہوا مجھے. پوری رات تمہاری منگنی کے غم میں سوئی نہیں نا اِس لیے یہ حال ہورہا. “
عائلہ نے لمحہ بہ لمحہ جان لیوا ہوتے درد کے باوجود مسکراتی نظروں سے زیان کی جانب دیکھا تھا.
” عائلہ یہاں بیٹھو اور میڈیسن لو. “
بلال نے جلدی سے پاس آتے زیان کو صاف اگنور کرکے عائلہ کا دوسرا بازو پکڑ کر واپس کرسی پر بیٹھا دیا تھا.
زیان خاموش نظروں سے اُسی جگہ پر ساکر اپنے خالی ہاتھ کی جانب دیکھا تھا. جہاں کچھ دیر پہلے عائلہ کی کلائی تھی.
زیان کو بلال کے اِس طرح عائلہ کو خود سے دور کیے جانے پر بہت غصہ آرہا تھا. اُس کا دل چاہ رہا تھا عائلہ کے آس پاس منڈلاتے اِس لڑکے کو یہاں سے غائب کردے.
لیکن بنا کچھ بولے زیان خاموشی سے وہاں سے ہٹ گیا تھا.
وہ اب اچھا خاصہ جھنجھلایا ہوا تھا. جس لڑکی کی اُس کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں تھی. آج اُس کے قریب کسی اور کو دیکھ اُسے فرق کیوں پڑ رہا تھا. عائلہ کے خود سے دورکیے جانے پر دل میں آگ کیوں بھڑک اٹھی تھی. اُس کی تکلیف پر دل کیوں بے چین ہورہا تھا.
کافی دیر تک خود سے اُلجھتے آخر کار زیان نے دل کی آواز کو جھٹکتے واپس اُس کے اُوپر وہی انا اور سنگدلی کا خول چڑھا دیا تھا.
عائلہ نے پرس میں سے میڈیسن نکالتے ایک افسردہ نظر خود سے دور جاتے زیان حیدر پر ڈالی تھی. جسے واقعی اُس کے جینے مرنے سے کوئی پرواہ نہیں تھی. زیان کی جانب دیکھتے عائلہ یہ نہیں دیکھ پائی تھی کہ وہ بے دھیانی میں اپنے ڈپریشن والے کیپسول کھانے کے بجائے کبھی کبھی سکون حاصل کرنے کی خاطر لی جانے والی نشہ آور گولی نگل چکی ہے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہشام گاڑی پارک کررہا تھا. جب مِنہا اپنے کہے کے مطابق اُس سے پہلے ہی اکیلی فنکشن میں داخل ہوگئی تھی. ہشام نے اِسی وجہ سے فاریہ کو مِنہا کے آنے کے بارے بتا دیا تھا. تاکہ وہ مِنہا کو کمپنی دے سکے. کیونکہ وہ پاگل لڑکی تو اُسے سب کے سامنے اپنے پاس بھی کھڑا نہیں ہونے دینا چاہتی تھی.
فاریہ ہی ہشام کی فیملی میں وہ واحد انسان تھی. جس نے مِنہا کو نکاح پر دیکھا تھا. ورنہ نکاح میں شرکت کرنے والے سارے میل بائے فیس مِنہا کو نہیں جانتے تھے.
مِنہا کو اندر آتا دیکھ فاریہ مسکراتے ہوئے اُس کے پاس آئی تھی.
” واہ بہت اچھی ارینجمنٹ کی ہوئی ہے آپ نے. اتنے ٹائم بعد اتنے لوگوں کو سامنے دیکھ بہت اچھا لگ رہا.”
سلام دعا کے بعد مِنہا اردگرد دیکھتے مسکراتے ہوئے بولی.
” تم بھی بہت خوبصورت لگ رہی ہو. کہیں میرے بھائی کو اپنے حُسن سے گھائل کرنے کا ارادہ تو نہیں کرلیا.”
ہشام کو فون کان سے لگائے انٹرنس سے اندر کی جانب آتا دیکھ فاریہ شرارتی انداز میں بولی. مِنہا نے بھی پلٹ کر ہشام کی جانب دیکھا تھا. جو اندر داخل ہوتے ہی اپنی چارمنگ پرسنیلٹی کے ساتھ وہاں موجود بہت سی لڑکیوں کو اپنی متوجہ کرگیا تھا.
” نہیں بلکل بھی نہیں. میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے. یہ جن کے ہیں اُنہیں کو مبارک ہوں. “
مِنہا فاریہ کی بات پر گھبراتے جلدی سے بولی تھی. مِنہا کے معصومیت سے نفی میں سر ہلانے پر فاریہ کو اُس پر بہت پیار آیا تھا.
” ویسے ہشام کی فیانسی کیا موجود ہے یہاں. “
مِنہا کے لہجے میں اُس لڑکی سے ملنے کا اشتیاق تھا.
” ہاں موجود ہے یہیں. آؤ ملواتی ہوں میں تمہیں.اُس سے بھی اور ہشام کے باقی فیملی ممبرز سے بھی. “
فاریہ مِنہا کا ہاتھ تھامے اُس طرف بڑھ گئی تھی. جہاں سب سے پہلے ہشام کے کزنز کا پورا ٹولہ موجود تھا.
فاریہ نے اُن سب سے مِنہا کا تعارف اپنی فرینڈ کے طور پر کروایا تھا. مِنہا کو سب سے مل کر بہت اچھا لگا تھا. واقعی ہشام کے کہے کے مطابق اُس کے فیملی ممبرز بہت اچھے تھے. مِنہا کو فائقہ بھی اچھی لگی تھی. لیکن وہ اُسے تھوڑی رُوڈ سی لگی تھی. جس بات کو دیکھتے مِنہا نے ہشام اور اُس کی جوڑی پرفیکٹ قرار دی تھی.
” دونوں ایک جیسے سڑیل. “
مِنہا اپنی ہی سوچ پر مسکرا دی تھی.
” مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے. “
تیمور کی نظریں مِنہا پر ٹکی ہوئی تھیں. جب فاریہ کے بلانے پر زیان کے ساتھ اُن سب کے پاس آکر کھڑے ہوتے ہشام کی گھورتی نظریں تیمور پر تھیں. اپنی بیوی کو اِس طرح گھورے جانا ہشام سے برداشت نہیں ہورہا تھا.
” ہم ایک ہی شہر میں رہتے ہیں. کئی بار آمنا سامنا متوقع ہوسکتا ہے. “
مِنہا نے اپنے مخصوص نرم لہجے میں جواب دیا تھا. ہشام کی گہری نظریں مِنہا کے مسکراتے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں. جو اتنے دن ایک ہی جگہ پر قید رہنے کی وجہ سے مُرجھا گیا تھا. لیکن آج پہلے کی طرح کھلا کھلا لگ رہا تھا. جبکہ خود پر ہشام کی پرتپیش نظریں محسوس کرتی مِنہا بہت کنفیوز ہورہی تھی.
جب اُسی لمحے تیمور کے دماغ میں جھماکہ ہوا تھا.
” اوہ سچ یاد آگیا. میں بھلا آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں. آپ تو وہی حسینہ ہیں نا. جو ہشام بھائی کی برتھ ڈے پارٹی میں غلطی سے آگئی تھیں. اور لائٹ آن ہوتے ہی ہشام بھائی کی بانہوں میں پائی گئی تھیں. “
تیمور کے منہ پھٹ انداز پر مِنہا شرم کے مارے پانی پانی ہوئی تھی. زیادہ شرمندگی اُسے ہشام کے سامنے یہ سب کہے جانے پر ہورہی تھی. جس کے انداز آج اُسے پہلے بدلے بدلے سے لگ رہے تھے. لیکن مِنہا اُسے کیا کہتی اُس کی اپنی کیفیت بھی اِس سب سے کچھ کم نہیں تھی.
تیمور کی بات پر جہاں باقی سب لوگ اُسے گھورنے لگے تھے. وہیں زیان اور فاریہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی بکھری تھی.
” شٹ اپ تیمور کبھی تو سوچ سمجھ کر بول لیا کرو. “
ہشام مزید برداشت نہ کر پاتے سب کے سامنے تیمور پر دھاڑا تھا. ہشام کی جھڑک پر فوراً تیمور کو کچھ غلط بول جانے کا احساس ہوا تھا.
ہشام کے اُسے غصہ ہونے پر فائقہ کا چہرا کھل اُٹھا تھا.
” آئم ریلی سوری پلیز آپ مائنڈ مت کیجئے گا. میں تو صرف مذاق کررہا تھا. ویسے آپ مجھے بہت اچھی لگی ہیں. آپ بہت کیوٹ اور بیوٹی فل ہیں. میں نے آپ جیسی اتنے کمبینیشن والی لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی. “
تیمور اپنی پہلی والی بات کو کور کرتا ایک بار پھر پٹری سے اُترا تھا. اور ایک بار پھر ہشام کو تپا گیا تھا. بے شک تیمور کی انٹینشنز غلط نہیں تھیں. مگر اپنے عزیز کزن کا اِس طرح اپنی بیوی پر لائن مارے جانا اُس کی غیرت کو بلکل بھی گوارہ نہیں ہوا تھا.
بسمہ نے تیمور کو کہنی مارتے اپنی زبان بند رکھنے کا اشارہ کیا تھا.
” اٹس اوکے بھائی مجھے آپ کی بات کا بُرا نہیں لگا. “
اِس سے پہلے کہ ہشام پھر اُسے ڈانٹتا مِنہا خود ہی بول پڑی تھی. جس کے الفاظ ہشام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئے تھے.
جبکہ تیمور کا اتنی حسین لڑکی کے منہ سے بھائی سن کر چہرا اُتر چکا تھا.
” تیمور زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرو تم. تمہاری انفارمیشن کے لیے بتا دوں کہ مِنہا میرڈ ہے اور اِس کے شوہر مِنہا سے بہت محبت کرنے کے ساتھ ساتھ اِس کے معاملے میں بہت پوزیسو بھی ہیں.”
فاریہ جو کب سے خاموش کھڑی ہشام کے فیس ایکسپریشن نوٹ کررہی تھی. لہجے میں شرارت سموئے ہشام کے ساتھ ساتھ مِنہا کو بھی چھیڑتے ہوئے بولی.
” واٹ آپ میرڈ ہیں کیا. لگتا نہیں ہے دیکھ کر. آپ بہت نازک اور معصوم سی ہیں. “
رمشا کو اُس کے میرڈ ہونے کا سن کر سب سے زیادہ صدمہ ہوا تھا.
مِنہا سے اب وہاں کھڑے ہوکر ہشام کی گرم نظریں برداشت کرنا بہت مشکل ہورہا تھا. جس وجہ سے وہ سب سے معذرت کرتے وہاں سے ہٹ گئی تھی.
” اُف ماما جی. ہشام بھائی پلیز بہت درد ہورہا ہے. یہ کان میرا اپنا ہے کسی سی رینٹ پر نہیں لیا ہوا. “
ہشام تیمور کو کان پکڑ کر کھینچتے ایک سائیڈ پر لے آیا تھا. جس پر تیمور درد سے بلبلاتے ہوئے بولا.
” کیا بکواس کررہے تھے وہاں. شرم نہیں آتی کسی لڑکی کو اِس طرح چھیڑتے ہوئے. “
ہشام نے اُس کا کان چھوڑتے غصے سے کہا تھا. جس پر تیمور مشکوک نظروں سے اُس کی جانب دیکھنے لگا تھا.
” ایک منٹ یہ آپ کو اتنا غصہ کس بات پر آرہا ہے. میں تو پہلے بھی ایسی حرکتیں کرتا رہتا ہوں. تب تو آپ نے کبھی مجھے نہیں ڈانٹا. کہیں اُس دن یہ لڑکی آپ کا دل بھی چُرا کر تو نہیں لے گئی تھی. “
تیمور شکی بیویوں کی طرح ہشام کو گھورنے لگا تھا.
” بس تم ہر وقت فضول ہی بولتے رہنا. میرے پاس تمہارے اِن فضول سوالوں کے کوئی جواب نہیں ہیں. لیکن اب اِس کے بعد مجھے تم اُس لڑکی کے آس پاس بھی نظر نہیں آنے چاہئے.”
ہشام نے بنا اُس کی بات کا جواب دیے لہجے کو سخت رکھتے وارن کیا تھا. جس پر تیمور ڈرنے کے بجائے شوخی سے مسکرا دیا تھا. لیکن ہشام کی گھوری پر فوراً سرجھکاتے ایک بار پھر شرارتی انداز میں گویا ہوا.
” اِس کا مطلب میرا شک بلکل ٹھیک نکلا. اب میری کیا مجال کے میں اُن کی جانب نظریں اُٹھا کر بھی دیکھوں. آج سے وہ حسینہ اوہ سوری میرا مطلب وہ محترمہ میرے لیے بہت قابلے احترام ہیں. بلکہ یوں سمجھ لیں. میرے لیے ہونے والی بھابھی کا درجہ رکھتی ہیں.”
تیمور بھرپور شوخی اپنے لہجے میں سموئے آخری بات آہستہ سے کہتا وہاں سے نکل گیا تھا. لیکن اُس کی بات پھر بھی ہشام کے کانوں تک پہنچ چکی تھی. جس کو ہشام نے بھی انجوائے کیا تھا. وہ مسکراتے کچھ فاصلے پر کھڑی مِنہا کی جانب بڑھ گیا تھا.
” تمہیں اُس کی بات بُری لگی. وہ غلط لڑکا بلکل بھی نہیں ہے. بس تھوڑا شوخ اور شرارتی سا ہے. لیکن میں نے اُسے منع کر دیا ہے. اب وہ تمہیں تنگ نہیں کرے گا. “
ہشام کے لیے آج مِنہا کے حسین مُکھرے سے نگاہیں اُٹھانا بہت مشکل ہورہا تھا. جبکہ ہشام کو اپنے پاس دیکھ منہا گھبرا گئی تھی.
” نہیں مجھے بُرا نہیں لگا بلکل بھی. لیکن آپ یہاں کیوں آئے ہیں. سب لوگ کیا سوچیں گے. آپ پلیز جائیں یہاں سے. “
مِنہا کو اُس کا اِس طرح اپنے پاس آکر کھڑا ہونا اچھا تو لگا تھا. لیکن وہ اُس کی فیملی کی وجہ سے گھبرا رہی تھی.
” واٹ. کیا مطلب ہے تمہاری اِس بات کا. کیوں نہیں کھڑا ہوسکتا میں تمہارے ساتھ. اور کیا سوچیں گے سب. تم آج کچھ زیادہ ہی اُوٹ پٹانگ نہیں بولی جارہی.اب اگر اِس کے بعد تم نے ایسی کوئی فضول بات کی تو میں نے اُس بات کا جس انداز میں جواب دینا ہے. وہ سب کے برداشت کرنا تمہارے لیے ہی مشکل ہوگا.”
مِنہا کی بات پر سچ میں اب ہشام کا دماغ گھوم چکا تھا.
منہا ہشام کو پھر غصے میں آتا دیکھ بے چارگی سے اُسے دیکھ کر رہ گئی تھی. جو اتنا سڑیل اور اکڑو انسان تھا. کہ اُسے سیدھی بات بھی اُلٹی لگتی تھی.
” میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی فیملی کے سامنے آپ کے ساتھ میرا جو اُس رات ٹکراؤ ہوا اُس کی وجہ سے سب کے مائنڈز میں میرا کچھ عجیب سا امیج بنا ہوا ہے. اِس لیے اب اگر آپکی فیانسی مجھے آپ کے ساتھ یوں دیکھے گی تو اُسے بُرا لگے گا. “
مِنہا نے اُسے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی تھی.
” مجھے فرق نہیں پڑتا. “
ہشام کے دو ٹوک انداز پر مِنہا گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی.
جب اُسی ٹائم سب کی طرح وہ بھی سٹیج کی جانب متوجہ ہوئے تھے. جہاں انگیجنمٹ سیرمنی سٹارٹ ہوچکی تھی. سٹیج پر زیان کو دلہن بنی لڑکی کے ساتھ کھڑا دیکھ منہا کا منہ بے یقینی سے کُھل چکا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زیان کو کسی اور لڑکی کے ساتھ کھڑا دیکھ کر عائلہ کا دل کوئلوں پر لوٹ رہا تھا. اُس کی آنکھوں میں اذیت واضع دیکھائی دی رہی تھی. جس کی وجہ سے اُس کی آنکھوں سے آنسو کی لڑی جاری ہوچکی تھی. اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی. بلال اُسے کتنی بار گھر چلنے کو کہہ چکا تھا. مگر وہ وہاں سے ہلنے کو بھی تیار نہیں تھی.
سٹیج پر کھڑے زیان کی نظریں بھی عائلہ پر جمی ہوئی تھیں. جو گر جانے کے ڈر سے بلال کا بازو تھام کر کھڑی تھی. اور یہی بات دور کھڑے زیان کے اشتعال کو بڑھا رہی تھی. وہ نہیں جانتا تھا کہ اچانک اُسے کیا ہوگیا ہے. جس لڑکی کی وجہ شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا. آج وہ کیوں مکمل طور پر اُس کے حواسوں پر سوار تھی. اُسے کسی اور کے ساتھ دیکھ زیان کو اپنا دل کیوں جلتا محسوس ہورہا تھا.
زیان نجانے اور بھی کتنی دیر اُسی میں کھویا رہتا. جب تالیوں کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا تھا. فاریہ اُس کے برابر میں کھڑی سجے سجائے تھال میں رنگ رکھے ہوئے تھی.
زیان ظاہری طور پر تو وہاں موجود تھا. لیکن اِس وقت اُس کا دل اُسے دغا دے کر دور کھڑی میر کی دیوانی کے پاس پہنچ چکا تھا.
حیدر صاحب کے کہنے پر زیان نے رسم کا آغاز کیا تھا.
” رُک جاؤ میر.”
ابھی اُس نے رنگ اپنے ساتھ کھڑی لڑکی کی جانب بڑھائی ہی تھی. جب عائلہ کی آواز نے اُس کا ہاتھ وہیں ساکت کردیا تھا.
عائلہ جس نے یہاں آنے سے پہلے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ زیان کو کچھ نہیں بولے گی. اور نہ ہی کوئی ہنگامہ کھڑا کرے گی. ابھی بھی اپنی بات پر قائم رہتی اگر وہ اپنے حواسوں میں ہوتی تو.
غلط میڈیسن لے لینے کی وجہ سے عائلہ کے حواس ساتھ چھوڑ چکے تھے. اور اب وہ اپنے چکراتے سر کو تھامتی زیان کی جانب بڑھ رہی تھی. راستے میں وہ ایک دو بار لڑکھڑائی بھی تھی.
مِنہا عائلہ کو وہاں دیکھ جلدی سے آگے بڑھی تھی. مگر اُس سے پہلے ہی ہشام اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک چکا تھا.
” یہ کیا کررہے ہیں آپ. کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے. “
مِنہا نے اُس کی مضبوط گرفت سے اپنی کلائی چھڑاوانی چاہی تھی.
” شاید تم بھول رہی ہو بیوی ہو تم میری. “
ہشام کو بار بار اُس کی ایک بات کی رٹ بہت بُری لگ رہی تھی. اِس لیے وہ غصے سے اُس کی یاددہانی کرواتے بولا.
” لیکن میں نہیں مانتی آپ کو شوہر. وہ صرف ایک کاغذی رشتہ ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے. آپ اچھے سے جانتے ہیں یہ بات. “
اب کی بار مِنہا بھی تپ گئی تھی. سب لوگ سٹیج پر ہوتے ڈرامے کی جانب متوجہ تھے. اُن کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں تھا.
” بہت بڑی باتیں مت کرو مِنہا. مجھے زیادہ ٹائم نہیں لگے گا یہ ثابت کرنے کے لیے. “
ہشام نے ہلکا سا جھٹکا دیتے اُسے اپنے پاس کیا تھا. جس پر مِنہا کا دل بہت زور سے دھڑک اُٹھا تھا. اور ہشام کے تیور اُسے اچھا خاصہ خوف ذدہ بھی کر گئے تھے. وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ اِس بندے سے جتنی اکڑ سے بات کریں گی وہ ڈبل اکڑ دیکھائے گا. اِس لیے مِنہا کچھ ڈھیلی پڑی تھی.
” میں رشتوں کی بہت قدر کرتی ہوں. آپ میرے محسن ہیں. میں نہیں چاہتی میری وجہ سے آپ کا کوئی رشتہ خراب ہو. اور آپ کی اپنی فیملی کے ساتھ میری وجہ سے پرابلمز آئیں. آپ کی فیملی بہت پیاری ہے. سب بہت اچھے لوگ ہیں. میں نہیں چاہتی کہ کوئی بھی ہرٹ ہو اور آپ کے رشتوں میں دوریاں آئیں.”
مِنہا بہت ہی نرمی سے کہتی ہشام کی ڈھیلی پڑتی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر جاتی اُسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئی تھی.
وہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ یہ سارا منظر وہاں موجود دو نفوس دیکھ چکے. شائستہ بیگم اور حمدان گردیزی اپنی جگہ پر بلکل ساکت ہوچکے تھے. شائستہ بیگم کی نظریں ابھی بھی وہیں تھیں. جہاں سے ابھی وہ لڑکی جو شاید اُن کی بہو تھی. اُن کے بیٹے کا ہاتھ چھوڑ کر گئی تھی.
” میں نے آپ سے کہا تھا نا. مجھے جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا. “
شائستہ بیگم حمدان گردیزی کی جانب دیکھتی مخاطب ہوئی تھیں.
ہشام شروع سے ہی بہت ریزرو نیچر کا تھا. زیادہ لوگوں سے گُھلنا ملنا اُسے پسند نہیں تھا. وہ صرف اُن لوگوں سی ہی ملتا بات کرتا تھا. جو اُس کے دل کے بہت قریب ہوتے تھے. یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی فیملی والوں کے ساتھ بہت ہی محبت سے ملتا تھا. شائستہ بیگم اور حمدان صاحب نے ہشام کا رشتہ طے کرنے سے پہلے اُس کی مرضی جاننا چاہی تھی. لیکن ہشام کے مطابق وہ شادی ہی نہیں کرنا چاہتا تھا. کیونکہ اُس کے مطابق کسی کو اپنی اتنی پرائیویسی میں شامل کرنا اُس کو تو بلکل بھی پسند نہیں تھا.
لیکن وہ اپنے پیرنٹس کا اکلوتا بیٹا تھا. وہ اُس کی خوشیاں دیکھنا چاہتے تھے. اِس لیے ہشام نے اُن کی بات پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھایا تھا. اُن دونوں نے ہی اپنی مرضی سے اُس کی بات فائقہ سے طے کر دی تھی. مگر شائستہ بیگم اتنا تو سمجھ گئی تھیں کہ اُن کا بیٹا اِس منگنی سے خوش بلکل بھی نہیں ہے. اور نہ ہی فائقہ کوشش کے باوجود اُس کے دل کے تار چھو پائی تھی.
لیکن آج اِس انجان لڑکی کے لیے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں محبت دیکھ جہاں حمدان گردیزی بہت خوش ہوئے تھے. وہیں شائستہ بیگم بہت سے خدشات میں گھِر گئی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فاریہ عائلہ کو ایکشن میں آتا دیکھ اندر سے بہت خوش ہوئی تھی. فاریہ عائلہ کی طرح بہت بولڈ تو نہیں تھی. لیکن اُس کو بھی عائلہ کی طرح لوگوں کی پرواہ کبھی نہیں رہی تھی. اِسی وجہ سے وہ چاہتی تھی. کہ عائلہ زیان کو روک لے. کیونکہ اُس کے مطابق یہ چھوٹا سا ہنگامہ آگے جاکر تین زندگیاں خراب ہونے سے بہتر تھا.
عائلہ زیان کی آنکھوں میں جھانکتی سٹیج پر قدم رکھ چکی تھی. اُس کے سر کا درد لمحے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا تھا. لیکن اِس وقت دل کا درد زیادہ بڑا تھا.
” میر پلیز ایسا مت کرو. بہت کوشش کے باوجود میں تمہیں کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی. تم صرف میرے ہو. میں کسی کو بھی تمہارے ساتھ برداشت نہیں کرسکتی. تم کیسے کسی اور کو اپنا آپ سونپ سکتے ہو. تم میرے دل اور روح کے مالک ہو. تم مجھ پر اتنا بڑا ظلم نہیں کرسکتے. “
عائلہ زیان کے بلکل پاس کھڑے ہوتے اُس کا بازو تھامتے بولی.
وہاں موجود سب لوگ حیرت سے آنکھیں پھاڑے یہ سب دیکھ رہے تھے. کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے.
” یہ کیا حرکت ہے. عائلہ تم پاگل ہوگئی ہو کیا. جاؤ یہاں سے. “
زیان جو پہلے ہی عائلہ پر اچھا خاصہ تپا ہوا تھا. اُس کی اِس حرکت پر مزید غصے میں آتے زیان نے اُسے خود سے دور جھٹکا تھا.
عائلہ زیان کے دھکا دینے پر سٹیج سے نیچے جاگرتی اگر فاریہ بروقت اُسے تھام نہ لیتی.
” ہاں زیان حیدر پاگل ہوگئی ہوں. میں تمہارے پیار میں. نہیں ہونے دوں گی تمیں کسی اور کا. تم صرف میرے ہو.”
عائلہ بھی غصے میں آتے فاریہ سے اپنے ہاتھ چھڑواتی زیان کی جانب بڑھی تھی. اور اُس لڑکی کے سامنے پڑی رنگ اُٹھاتے اُس نے زیان سمیت کسی کو بھی کچھ سمجھنے کو موقع دیے بغیر زیان کا ہاتھ تھام کر اُس میں پہنا دی تھی. اپنا پلان کامیاب ہوتے دیکھ فاریہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” تم صرف میرے ہو میر.”
عائلہ سر کی تکلیف کے باوجود مسکراتے بولی تھی. اِس سے پہلے کہ زیان اُس کو واپس بے عزت کرتے انگوٹھی اُتار کر واپس پھینکتا. عائلہ درد برداشت نہ کرتے حواس کھوتی زیان کی بانہوں میں جھول گئی تھی.
جاری ہے۔۔۔۔
